🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-10-1444 ᴴ | 01-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-10-1444 ᴴ | 01-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ امیر کاتب اتقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
امیر کاتب العمید بن امیر عمرو بن [1] امیر غازی اتفاقی:
جائے پیدائش:
آپ کا مولد قصبہ اتقان تھا جو ملک ترکستان میں نہر سیحون کے پار کی طرف واقع ہے ۔
نام کنیت اور لقب:
آپ کی کنیت ابو حنیفہ اور قوام الدین لقب رکھتے تھے ۔ بعض نے کہا ہے کہ نام آپ کا لطف اللہ تھا ۔
ولادت:
ماہِ شوال ۶۸۵ھ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم اور اساتذۂ کرام:
احمد بن اسعد خرلفینی شاگرد حمید الدین علی ضریر بخاری تلمیذ شمس الائمہ کردری اور اپنے ملک کے دیگر علماء کرام و فضلائے عظام سے متعدد علوم حاصل کئے اور نیشا پور میں جاکر مصنف کتاب کافی سے فخر الاسلام کا اصول پڑھا یہاں تک کہ علمائے حنفیہ کے سردار اور فقہ و حدیث، لغت عربی وغیرہ میں اعلیٰ درجہ کے لائق فائق ہوئے ـ
آپ ہلیلہ سیز اور اور لہسن خام اکثر کھایا کرتے تھے ۔ ۷۱۶ھ میں جبکہ آپ حجاز کے سفر میں تھے تو کتاب منتخب سنامی کی شرح تبیین نام تصنیف کرنی شروع کی اور لیلۃ البراءۃ میں اس کو ختم کیا ۔
۷۲۰ھ میں مشق میں تشریف لائے ۔ یہاں آپ کو ایک دن امیر نائب سلطنت کے ساتھ نماز مغرب پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ امام نماز نے رفع الیدین کیا ۔ آپ نے اس کو کہا کہ امامِ اعظم کے مذہب کے رُو سے آپ کی نماز باطل ہوئی ۔ رفقہ رفتہ یہ خبر قاضی تقی الدین سبکی شافعی المذہب کو پہنچی، انہوں نے آپ کی تردید کی پس آپ نے ایک مستقل رسالہ رفع الیدین کے بطلان میں لکھا اور اس کو مکحول نسفی کی روایت سے جنہوں نے امامِ اعظم سے بطلان رفع الیدین کی روایت کی ہے، مستند کیا ۔ اس بات سے آپ اور امیر مذکور کے درمیان شکر رنجی ہو گئی اس لیے آپ مصر کو چلے گئے جہاں ماہِ محرم ۷۲۱ھ میں پہنچے اور لوگوں کی درخواست پر آپ نے ہدایہ کی شرح مسمیٰ بہ غایۃ البیان و نادرۃ الاقران تصنیف کی اور دیباچہ میں لکھا کہ میں ہدایہ کی روایت کو پانچ طریق سے صاحبِ ہدایہ تک پہنچاتا ہوں ۔
علاوہ اس کے ایک رسالہ شہر میں دو جگہ جمعہ کے پڑھنے کے عدم جواز میں تصنیف کیا پھر مصر سے بغداد میں واپس آئے اور یہاں مدت تک مشہد امام ابو حنیفہ کے مدرف مقرر رہے اور قضاء و افتاء کا کام کرتے رہے ۔
۷۴۷ھ میں پھر دمشق میں تشریف لائے اور زہبی کی وفت پر ظاہر یہ میں مدرسہ دار الحدیث کے مدرس مقرر ہوئے اور شافعیوں سے ہمیشہ مشاجرات معارضات رکھا کرتے تھے پھر ۷۵۱ھ کو مصر میں گئے جہاں امیر صرغتمش نے آپ کی بڑی تعظیم و تکریم کی اور ۷۵۷ھ میں اپنے مدرسہ صر عتمشیہ کا جو آپ کی خاطر اس نے بنوایا تھا، مدرس مقرر کیا۔آپ نے اپنی عمر کا اندازہ کیا کہ میں اب ایک سال سے زیادہ زندگیانی نہ کروں گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ۱۱ شوال ۷۵۸ھ میں آپ نے وفات پائی’’عالی مرتبہ‘‘ تاریخ وفات ہے۔
آپ میں کوئی کسی طرح کا عیب نہ تھا بجز اس کے کہ آپ بڑے معتصب و خود پسند تھے چنانچہ اپنی کتاب تبیین کے آخر میں لکھتے ہیں کہ اگر اسلاف میری زندگانی میں ہوتے تو البتہ مجھ کو مصنف ٹھہراتے چنانچہ امام ابو حنیفہ اجتہدت اور امام ابو یوسف نار البیان اوقدت اور امام محمد احسنت اور امام زفراتقنت اور حسن امعنت اور ابو حفص انعمت فی مانظرت اور ابو منصور حققت اور طحطاوی صدقت اور کرخی بورک فی ما نطقت اور جصاس احکمت اور ابو زید اصبت اور شمس الائمہ و جدت ما طلبت اور فخر الاسلام مہرت اور نجم الدین نسفی بہرت اور صاحبِ ہدایہ غواص البحر عبرت اور صاحبِ محیط فقت فی ما اعلنت اور متنبی انت من الفصحاء کا خطاب دیتے۔
1۔ امیر عمر ’’ دستور الاعلام ‘‘ (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ameer-katib-itqani
امیر کاتب العمید بن امیر عمرو بن [1] امیر غازی اتفاقی:
جائے پیدائش:
آپ کا مولد قصبہ اتقان تھا جو ملک ترکستان میں نہر سیحون کے پار کی طرف واقع ہے ۔
نام کنیت اور لقب:
آپ کی کنیت ابو حنیفہ اور قوام الدین لقب رکھتے تھے ۔ بعض نے کہا ہے کہ نام آپ کا لطف اللہ تھا ۔
ولادت:
ماہِ شوال ۶۸۵ھ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم اور اساتذۂ کرام:
احمد بن اسعد خرلفینی شاگرد حمید الدین علی ضریر بخاری تلمیذ شمس الائمہ کردری اور اپنے ملک کے دیگر علماء کرام و فضلائے عظام سے متعدد علوم حاصل کئے اور نیشا پور میں جاکر مصنف کتاب کافی سے فخر الاسلام کا اصول پڑھا یہاں تک کہ علمائے حنفیہ کے سردار اور فقہ و حدیث، لغت عربی وغیرہ میں اعلیٰ درجہ کے لائق فائق ہوئے ـ
آپ ہلیلہ سیز اور اور لہسن خام اکثر کھایا کرتے تھے ۔ ۷۱۶ھ میں جبکہ آپ حجاز کے سفر میں تھے تو کتاب منتخب سنامی کی شرح تبیین نام تصنیف کرنی شروع کی اور لیلۃ البراءۃ میں اس کو ختم کیا ۔
۷۲۰ھ میں مشق میں تشریف لائے ۔ یہاں آپ کو ایک دن امیر نائب سلطنت کے ساتھ نماز مغرب پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ امام نماز نے رفع الیدین کیا ۔ آپ نے اس کو کہا کہ امامِ اعظم کے مذہب کے رُو سے آپ کی نماز باطل ہوئی ۔ رفقہ رفتہ یہ خبر قاضی تقی الدین سبکی شافعی المذہب کو پہنچی، انہوں نے آپ کی تردید کی پس آپ نے ایک مستقل رسالہ رفع الیدین کے بطلان میں لکھا اور اس کو مکحول نسفی کی روایت سے جنہوں نے امامِ اعظم سے بطلان رفع الیدین کی روایت کی ہے، مستند کیا ۔ اس بات سے آپ اور امیر مذکور کے درمیان شکر رنجی ہو گئی اس لیے آپ مصر کو چلے گئے جہاں ماہِ محرم ۷۲۱ھ میں پہنچے اور لوگوں کی درخواست پر آپ نے ہدایہ کی شرح مسمیٰ بہ غایۃ البیان و نادرۃ الاقران تصنیف کی اور دیباچہ میں لکھا کہ میں ہدایہ کی روایت کو پانچ طریق سے صاحبِ ہدایہ تک پہنچاتا ہوں ۔
علاوہ اس کے ایک رسالہ شہر میں دو جگہ جمعہ کے پڑھنے کے عدم جواز میں تصنیف کیا پھر مصر سے بغداد میں واپس آئے اور یہاں مدت تک مشہد امام ابو حنیفہ کے مدرف مقرر رہے اور قضاء و افتاء کا کام کرتے رہے ۔
۷۴۷ھ میں پھر دمشق میں تشریف لائے اور زہبی کی وفت پر ظاہر یہ میں مدرسہ دار الحدیث کے مدرس مقرر ہوئے اور شافعیوں سے ہمیشہ مشاجرات معارضات رکھا کرتے تھے پھر ۷۵۱ھ کو مصر میں گئے جہاں امیر صرغتمش نے آپ کی بڑی تعظیم و تکریم کی اور ۷۵۷ھ میں اپنے مدرسہ صر عتمشیہ کا جو آپ کی خاطر اس نے بنوایا تھا، مدرس مقرر کیا۔آپ نے اپنی عمر کا اندازہ کیا کہ میں اب ایک سال سے زیادہ زندگیانی نہ کروں گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ۱۱ شوال ۷۵۸ھ میں آپ نے وفات پائی’’عالی مرتبہ‘‘ تاریخ وفات ہے۔
آپ میں کوئی کسی طرح کا عیب نہ تھا بجز اس کے کہ آپ بڑے معتصب و خود پسند تھے چنانچہ اپنی کتاب تبیین کے آخر میں لکھتے ہیں کہ اگر اسلاف میری زندگانی میں ہوتے تو البتہ مجھ کو مصنف ٹھہراتے چنانچہ امام ابو حنیفہ اجتہدت اور امام ابو یوسف نار البیان اوقدت اور امام محمد احسنت اور امام زفراتقنت اور حسن امعنت اور ابو حفص انعمت فی مانظرت اور ابو منصور حققت اور طحطاوی صدقت اور کرخی بورک فی ما نطقت اور جصاس احکمت اور ابو زید اصبت اور شمس الائمہ و جدت ما طلبت اور فخر الاسلام مہرت اور نجم الدین نسفی بہرت اور صاحبِ ہدایہ غواص البحر عبرت اور صاحبِ محیط فقت فی ما اعلنت اور متنبی انت من الفصحاء کا خطاب دیتے۔
1۔ امیر عمر ’’ دستور الاعلام ‘‘ (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ameer-katib-itqani
scholars.pk
Hazrat Molana Ameer Katib Itqani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
شاہ محمد اجمل الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
شاہ محمد اجمل بن شاہ محمد ناصر بن شاہ محمد یحیٰ ـ
ولادتِ باسعادت:
مولانا شاہ محمد اجمل رحمۃ اللہ علیہ 1160 ھ جمعرات کی نصف شب کے بعد 11 شوال المکر کو پیدا ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد حضرت شاہ محمد ناصر افضلی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور آپ کو خلافت کی سند واجازتآپ کے چچا مولانا شاہ محمد فاخر کے صاحبزادے شاہ غلام قطب الدین نے دی ۔
سیرت و خصائص:
آپ دوسال آٹھ ماہ کے تھے کہ آپ کے والدِ ماجد حضرت مولانا شاہ محمد ناصر افضلی نے داغِ یتیمی دیا، اسی دن والد نے آپ کو اپنا مرید بھی کیا تھا۔ والدۂ ماجدہ کے زیرِ سایہ مکتب کی تعلیم پائی اور حفظِ قرآن پاک کیا، دس برس کے ہوئے تو والدہ نے بھی انتقال کیا، بعدہ اپنے چچا مولانا شاہ محمد فاخر کے صاحبزادے شاہ غلام قطب الدین کے زیرِ تربیت آئے ۔ اور تکمیلِ علوم کے بعد سلوک طے کیااور خلافت کی سند و اجازت پائی ۔ نہایت فیاض، سخی تھے ۔ صبح سے شام تک حاجت مندوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا۔آپ کی طبیعت بہت نفاست پسند واقع ہوئی تھی، تعمیرات کا خاص شوق تھا،دائرہ کا پھاٹک آپ کے ذوقِ تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ علم و فضل میں آپ کا پایہ بہت بلند تھا۔ شاہ و گدا سبھی آپ کے عقیدت مند تھے۔شاہ عالم، شاہ دہلی اور نواب آصف الدولہ کو خصوصی عقیدت تھی، حضرت سراج الہند شاہ عبد العزیز محدث سے آپ کی خط وکتابت رہتی تھی، علامہ تفضل حسین خاں کشمیری آپ کے بے حد مداح تھے۔ آپ فارسی وریختہ کے بلند پایہ شاعر بھی تھے۔
وصال:
پچھتر سال دو ماہ کی عمر میں یکم ذو الحجہ 1236 ھ بمطابق 29 اگست 1821 ء قبلِ ظہر بروز جمعرات انتقال کیا۔ حسبِ وصیت حضرت شیخ محمد افضل کے روضہ میں دائیں جانب دفن کئے گئے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علمائے اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shah-muhammad-ajmal-alah-abadi
نام و نسب:
شاہ محمد اجمل بن شاہ محمد ناصر بن شاہ محمد یحیٰ ـ
ولادتِ باسعادت:
مولانا شاہ محمد اجمل رحمۃ اللہ علیہ 1160 ھ جمعرات کی نصف شب کے بعد 11 شوال المکر کو پیدا ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد حضرت شاہ محمد ناصر افضلی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور آپ کو خلافت کی سند واجازتآپ کے چچا مولانا شاہ محمد فاخر کے صاحبزادے شاہ غلام قطب الدین نے دی ۔
سیرت و خصائص:
آپ دوسال آٹھ ماہ کے تھے کہ آپ کے والدِ ماجد حضرت مولانا شاہ محمد ناصر افضلی نے داغِ یتیمی دیا، اسی دن والد نے آپ کو اپنا مرید بھی کیا تھا۔ والدۂ ماجدہ کے زیرِ سایہ مکتب کی تعلیم پائی اور حفظِ قرآن پاک کیا، دس برس کے ہوئے تو والدہ نے بھی انتقال کیا، بعدہ اپنے چچا مولانا شاہ محمد فاخر کے صاحبزادے شاہ غلام قطب الدین کے زیرِ تربیت آئے ۔ اور تکمیلِ علوم کے بعد سلوک طے کیااور خلافت کی سند و اجازت پائی ۔ نہایت فیاض، سخی تھے ۔ صبح سے شام تک حاجت مندوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا۔آپ کی طبیعت بہت نفاست پسند واقع ہوئی تھی، تعمیرات کا خاص شوق تھا،دائرہ کا پھاٹک آپ کے ذوقِ تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ علم و فضل میں آپ کا پایہ بہت بلند تھا۔ شاہ و گدا سبھی آپ کے عقیدت مند تھے۔شاہ عالم، شاہ دہلی اور نواب آصف الدولہ کو خصوصی عقیدت تھی، حضرت سراج الہند شاہ عبد العزیز محدث سے آپ کی خط وکتابت رہتی تھی، علامہ تفضل حسین خاں کشمیری آپ کے بے حد مداح تھے۔ آپ فارسی وریختہ کے بلند پایہ شاعر بھی تھے۔
وصال:
پچھتر سال دو ماہ کی عمر میں یکم ذو الحجہ 1236 ھ بمطابق 29 اگست 1821 ء قبلِ ظہر بروز جمعرات انتقال کیا۔ حسبِ وصیت حضرت شیخ محمد افضل کے روضہ میں دائیں جانب دفن کئے گئے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علمائے اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shah-muhammad-ajmal-alah-abadi
www.scholars.pk
Hazrat Molana Shah Muhammad Ajmal Alah Abadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الاسلام حضرت مولانا شاہ عبد القدیر قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ عبد القدیر بدایونی ۔ کنیت: ابو السالم ۔ لقب: شیخ الاسلام، عاشق رسول ﷺ، ظہورِ حق ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا شاہ عبد القدیر بدایونی بن تاج الفحول محب رسول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی بن سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل ِرسول بدایونی بن عین الحق شاہ عبد المجید بدایونی، بن شاہ عبد الحمید بدایونی ۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔
سلسلۂ نسب حضرت عثمان غنی رضی الله تعالیٰ عنه تک منتہی ہوتا ہے ۔ (اکمل التاریخ ص:33)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 شوال المکرم 1311ھ، مطابق وسط اپریل 1894ء کو بدایوں شریف (انڈیا) میں ہوئی ۔
ولادت سے قبل بشارت:
آپ کی ولادت سے قبل ہی جد کریم سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ نے 1283ھ / 1866ء میں ہی بشارت دے دی تھی کہ اس وقت تشریف لانے والے عبد المقتدر ہیں، اور دوسرے صاحبزادے تشریف لائیں گے تو ان کا نام عبد القدیر ہوگا ۔ اسی وقت دونوں صاحبزادوں کے لئے تعویذ بھی عنایت فرمائے ۔ یعنی آپ پر حضرت سیف اللہ المسلول علیہ الرحمہ کی پہلے سے ہی توجہات و عنایات کی بارش ہونے لگی تھی (تذکار محبوب ص:9)
تحصیلِ علم:
مولانا شاہ مطیع الرسول عبد المقتدر قدس سرہٗ کی آغوش میں پرورش پائی، ابتدائی تعلیم حافظ غوثی شاہ، مولوی سید الطاف علی، مولوی سید عبد الحی سے پائی ۔ درس نظامی کی کتب متداولہ مولانا فضل احمد قادری، مولانا محب احمد قادری، مولانا حافظ بخش قادری اور برادر بزرگ سے پڑھیں، مولانا حبیب الرحمٰن قادری بدایونی سے بھی کسب علم کیا، 1331ھ میں فراغت کے بعد متواتر ” کابوس “ کا دورہ پڑا، علاج کے لیے حضرت العلامہ حکیم سید برکات ٹونکی کے پاس گئے، تین ماہ تک اُن کی خدمت میں رہ کر علوم عقلیہ کی کتابوں کا درس لیا، اور رام پور میں مولانا سید عبد العزیز انبیٹھوی تلمیذ مولانا عبد الحق خیر آبادی سے قدماء کی کتابیں پڑھیں، درس و تدریس کی لیاقت ورثہ میں پائی تھی، مُدتوں مدرسہ عالیہ قادریہ میں طلبہ کو پورے انہماک کے ساتھ تعلیم دی ۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اپنے برادر بزرگوار جامع شریعت و طریقت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد المقتدر قادری بدایونی علیہ الرحمہ سے بیعت و مجاز ہوئے ۔ اسی طرح نقیب الاشراف خانقاہ قادریہ بغداد معلی کے مسند نشین حضرت شیخ حسام الدین کی طرف سے اجازت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، محسن اہل اسلام، مجاہد کبیر، جامع العلوم، محبوب حضرت محبوب سبحانی، عاشقِ رسول ﷺ، مفتی اعظم ریاست حیدر آباد دکن، حضرت علامہ مولانا شاہ عبدالقدیر قادری بدایونی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ خاندان عثمانیہ کے فرد وحید اور حضرت سیف اللہ المسلول، اور حضرت تاج الفحول علیہماالرحمہ کے سچے جانشین، اور ملت اسلامیہ کے صحیح نقیب تھے ۔ آپکی ذات گرامی عجیب وغریب جامعیت کی حامل تھی ۔معقولی سلسلہ خیر آباد کے روشن چراغ، پچاسوں علماء کے استاذ، ہزاروں کے شیخ طریقت، ریاست حیدر آباد کے مفتیِ اعظم، خانقاہ قادریہ کے سجادہ نشین، اپنے اکابر کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث و امین، قومی اور ملی قائد، تحریک آزادی کے مرد مجاہد، بیک وقت حیدر آباد حجاز اور عراق کے شاہی خاندانوں کے اور فقراء و درویشوں سے یکساں تعلقات و روابط، حرمین شریفین، مسجد اقصیٰ، اور جامع قادریہ بغداد شریف میں امامت و خطابت، ایسے کمالات و اوصاف فرد واحد میں جمع ہونا نا ممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہے ۔
جذبۂ حریت:
فرنگی تاجوں کے ہاتھوں جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت زوال پذیر ہوئی تو آخری جد و جہد کے منظم کرنے والوں میں اکابر علماء اہل سنت ہی تھے ۔جن کے سرخیل و روح رواں حضرت علامۃ الدہر علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ، حضرت مفتی کفایت علی کافی، مفتی عنایت علی کاکوروی، مولانا رضا علی خان بریلوی، حضرت سیف اللہ المسلول اور حضرت تاج الفحول، حضرت مولانا کیرانوی علیہم الرحمہ کے اسماء نمایاں ہیں ۔
بِالخصوص حضرت کے جد امجد حضرت سیف اللہ المسلول ، مولانا فضل حق خیر آبادی علیہم الرحمہ کے معاصر تھے، اور فرنگی دشمنی میں ان کے شریک حال، یہی وجہ ہے کہ اس خانوادے کو ہمیشہ سے انگریز سرکار سے نفرت رہی ۔ حضرت مولانا شاہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمہ نے انھیں جذبات کو اپنے سینے میں موجزن پایا اور علمی طور پر ہر اس تحریک کے روح رواں رہے جو فرنگیوں کے خلاف ہوتی تھی ۔ آپ کے رفقاء خاص میں حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن پھپھوندی، رئیس الاحرار حضرت مولانا حسرت موہانی، مولانا عبد الباری فرنگی محلی یہ حضرات انگریز کے خلاف اور ان کو نقصان پہنچانے کے ہر طریقے کو صحیح سمجھتے تھے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ عبد القدیر بدایونی ۔ کنیت: ابو السالم ۔ لقب: شیخ الاسلام، عاشق رسول ﷺ، ظہورِ حق ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا شاہ عبد القدیر بدایونی بن تاج الفحول محب رسول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی بن سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل ِرسول بدایونی بن عین الحق شاہ عبد المجید بدایونی، بن شاہ عبد الحمید بدایونی ۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔
سلسلۂ نسب حضرت عثمان غنی رضی الله تعالیٰ عنه تک منتہی ہوتا ہے ۔ (اکمل التاریخ ص:33)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 شوال المکرم 1311ھ، مطابق وسط اپریل 1894ء کو بدایوں شریف (انڈیا) میں ہوئی ۔
ولادت سے قبل بشارت:
آپ کی ولادت سے قبل ہی جد کریم سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ نے 1283ھ / 1866ء میں ہی بشارت دے دی تھی کہ اس وقت تشریف لانے والے عبد المقتدر ہیں، اور دوسرے صاحبزادے تشریف لائیں گے تو ان کا نام عبد القدیر ہوگا ۔ اسی وقت دونوں صاحبزادوں کے لئے تعویذ بھی عنایت فرمائے ۔ یعنی آپ پر حضرت سیف اللہ المسلول علیہ الرحمہ کی پہلے سے ہی توجہات و عنایات کی بارش ہونے لگی تھی (تذکار محبوب ص:9)
تحصیلِ علم:
مولانا شاہ مطیع الرسول عبد المقتدر قدس سرہٗ کی آغوش میں پرورش پائی، ابتدائی تعلیم حافظ غوثی شاہ، مولوی سید الطاف علی، مولوی سید عبد الحی سے پائی ۔ درس نظامی کی کتب متداولہ مولانا فضل احمد قادری، مولانا محب احمد قادری، مولانا حافظ بخش قادری اور برادر بزرگ سے پڑھیں، مولانا حبیب الرحمٰن قادری بدایونی سے بھی کسب علم کیا، 1331ھ میں فراغت کے بعد متواتر ” کابوس “ کا دورہ پڑا، علاج کے لیے حضرت العلامہ حکیم سید برکات ٹونکی کے پاس گئے، تین ماہ تک اُن کی خدمت میں رہ کر علوم عقلیہ کی کتابوں کا درس لیا، اور رام پور میں مولانا سید عبد العزیز انبیٹھوی تلمیذ مولانا عبد الحق خیر آبادی سے قدماء کی کتابیں پڑھیں، درس و تدریس کی لیاقت ورثہ میں پائی تھی، مُدتوں مدرسہ عالیہ قادریہ میں طلبہ کو پورے انہماک کے ساتھ تعلیم دی ۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اپنے برادر بزرگوار جامع شریعت و طریقت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد المقتدر قادری بدایونی علیہ الرحمہ سے بیعت و مجاز ہوئے ۔ اسی طرح نقیب الاشراف خانقاہ قادریہ بغداد معلی کے مسند نشین حضرت شیخ حسام الدین کی طرف سے اجازت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، محسن اہل اسلام، مجاہد کبیر، جامع العلوم، محبوب حضرت محبوب سبحانی، عاشقِ رسول ﷺ، مفتی اعظم ریاست حیدر آباد دکن، حضرت علامہ مولانا شاہ عبدالقدیر قادری بدایونی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ خاندان عثمانیہ کے فرد وحید اور حضرت سیف اللہ المسلول، اور حضرت تاج الفحول علیہماالرحمہ کے سچے جانشین، اور ملت اسلامیہ کے صحیح نقیب تھے ۔ آپکی ذات گرامی عجیب وغریب جامعیت کی حامل تھی ۔معقولی سلسلہ خیر آباد کے روشن چراغ، پچاسوں علماء کے استاذ، ہزاروں کے شیخ طریقت، ریاست حیدر آباد کے مفتیِ اعظم، خانقاہ قادریہ کے سجادہ نشین، اپنے اکابر کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث و امین، قومی اور ملی قائد، تحریک آزادی کے مرد مجاہد، بیک وقت حیدر آباد حجاز اور عراق کے شاہی خاندانوں کے اور فقراء و درویشوں سے یکساں تعلقات و روابط، حرمین شریفین، مسجد اقصیٰ، اور جامع قادریہ بغداد شریف میں امامت و خطابت، ایسے کمالات و اوصاف فرد واحد میں جمع ہونا نا ممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہے ۔
جذبۂ حریت:
فرنگی تاجوں کے ہاتھوں جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت زوال پذیر ہوئی تو آخری جد و جہد کے منظم کرنے والوں میں اکابر علماء اہل سنت ہی تھے ۔جن کے سرخیل و روح رواں حضرت علامۃ الدہر علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ، حضرت مفتی کفایت علی کافی، مفتی عنایت علی کاکوروی، مولانا رضا علی خان بریلوی، حضرت سیف اللہ المسلول اور حضرت تاج الفحول، حضرت مولانا کیرانوی علیہم الرحمہ کے اسماء نمایاں ہیں ۔
بِالخصوص حضرت کے جد امجد حضرت سیف اللہ المسلول ، مولانا فضل حق خیر آبادی علیہم الرحمہ کے معاصر تھے، اور فرنگی دشمنی میں ان کے شریک حال، یہی وجہ ہے کہ اس خانوادے کو ہمیشہ سے انگریز سرکار سے نفرت رہی ۔ حضرت مولانا شاہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمہ نے انھیں جذبات کو اپنے سینے میں موجزن پایا اور علمی طور پر ہر اس تحریک کے روح رواں رہے جو فرنگیوں کے خلاف ہوتی تھی ۔ آپ کے رفقاء خاص میں حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن پھپھوندی، رئیس الاحرار حضرت مولانا حسرت موہانی، مولانا عبد الباری فرنگی محلی یہ حضرات انگریز کے خلاف اور ان کو نقصان پہنچانے کے ہر طریقے کو صحیح سمجھتے تھے ۔
❤1👍1
آپ نے عرب میں انگریز کی کارستانیاں اور بالخصوص حجاز مقدس میں سعودیوں کے غصب اور ارض مقدس فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری پر کانفرنسیں منعقد کیں، اور ان علاقوں کے دورے کرکے مسلمانوں کو بیدار کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ حجاز مقدس میں سعودیوں اور ارض مقدس فلسطین میں یہودیوں کی حکومت کو بیسویں صدی کا انگریز کا سب سے بڑا فتنہ تصور کرتے تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ کی عالمی امور پر اور مسلمانوں کے معاملات پر گہری نظر ہوتی تھی ۔ آپ مسلمانوں کی کامیابی و ترقی کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے ۔ دنیا کے کسی کونے میں اگر مسلمانوں پر کوئی ظلم و جبر ہوتا، یا ان کے علاقوں میں فرنگیوں کی طرف سے شورش برپا ہوتی تو آپ ماہی بے آب کی طرح بے قرار ہو جاتے ۔ جنگِ بلقان میں مسلمانوں کی کامیابی کے لئےآپ کی دعا ایسی رقت انگیز تھی کہ بے خودی میں آپ کے عمامے شریف کے پیچ کھل گئے مجلس دعا میں ایک کیفیت طاری ہو گئی تھی ۔
مولانا قطب الدین عبد الوالی کے ساتھ صوبہ سرحد کا دورہ کیا، انگریزی حکومت کی دست درازی سے ریاستوں کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لیے لاہور میں کل ہند کانفرنس بلائی، اور خطبہ صدارت پڑھا ۔ مسجد شہید گنج کی واپسی کے لیے حضرت مولانا پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری علیہ الرحمہ نے جد و جہد کی تو آپ نے اُن کی پوری مدد کی ۔
انگریزوں نے عرب اکثریت کا توازن برباد کرنے کے لیے ارض مقدس میں باہر سے یہودیوں کو لاکر آباد کرنا شروع کیا اور عربوں نے اُن کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تو حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے آپ نے ہندوستان کے نمائندہ کی حیثیت سے فلسطین کا سفر کیا ۔ مفتئ اعظم فلسطین سید امین الحسینی علیہ الرحمہ نے عربی یونیورسٹی کے لیے ہندوستان کا دورہ کیا تو اُس کے ترجمان اور سیکرٹری کا کام کیا ۔
اسی زمانے میں میر عثمان علی آصف جاہ سادس والیِ سلطنت آصفیہ نے محکمہ امور مذہبی کے صدر الصدور کے لیے آپ کا انتخاب کے لیے آپ کا انتخاب کیا، مگر سابقہ انگریز دشمن سیاسی زندگی کی بناء پر انگریزی حکومت نے اس عہدہ پر آپ کا تقرر مناسب نہ سمجھا، اور عدالت عالیہ (ہائیکورٹ) میں منصف اعظم مقرر کیا گیا ۔ دو بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے اندرون خانۂ کعبہ غسل میں شرکت کی، حرم نبوی اور روضۂ مطہرہ کی خلوت خاص میں باریاب ہوئے ۔ دربار غوث اعظم کی حاضری معمولات سے تھی، آپ سب سے پہلے عالم و بزرگ تھے جن کو دربار شریف میں امامت و خطابت کا اعزاز ملا، اسی طرح مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی علیہ الرحمہ کے بے حد اصرار پر آپ نے مسجد اقصی میں جمعہ کی نماز اور فصیح عربی زبان میں خطبہ دیا ۔
ایک مرتبہ گیارہویں شریف کی محفل میں آپ بغداد معلی میں صاحبزادگان غوث الاعظم کے ہمراہ تشریف فرما تھے کہ جنرل فوجی حاضر ہوئے اور اپنا خواب بیان کیا کہ سرکار بغداد تشریف لائے اور فرمایا: ’’مولوی کی طرف سے گیارہویں ہے اس میں شرکت کرو اور ان کو ہمارا سلام پہنچاؤ‘‘ ۔ پھر جنرل صاحب نے آپ سے سلسلۂ عالیہ میں داخل کرنے کی درخواست کی آپ نے اسے سلسلہ عالیہ میں داخلِ بیعت فرمایا ۔
آپ کا قوت حافظہ بہت قوی تھا ۔ اقوال فقہاء و محدثین و صوفیاء ازبر تھے ہزارہا اشعار یاد تھے خود بھی شعر موزوں فرماتے تھے ۔ حضرت علامہ مولانا عبد الحامد بدایونی آپ کے ابتدائی تلامذہ میں سے ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 شوال المکرم 1379ھ مطابق 31 مارچ 1960ء کو بوقتِ عصر 5:00 بجے ہوا ۔ درگاہ قادری بدایوں میں سپرد خاک ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ تذکار المحبوب ۔ خیر آبادیات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-qadeer-badayuni
آپ علیہ الرحمہ کی عالمی امور پر اور مسلمانوں کے معاملات پر گہری نظر ہوتی تھی ۔ آپ مسلمانوں کی کامیابی و ترقی کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے ۔ دنیا کے کسی کونے میں اگر مسلمانوں پر کوئی ظلم و جبر ہوتا، یا ان کے علاقوں میں فرنگیوں کی طرف سے شورش برپا ہوتی تو آپ ماہی بے آب کی طرح بے قرار ہو جاتے ۔ جنگِ بلقان میں مسلمانوں کی کامیابی کے لئےآپ کی دعا ایسی رقت انگیز تھی کہ بے خودی میں آپ کے عمامے شریف کے پیچ کھل گئے مجلس دعا میں ایک کیفیت طاری ہو گئی تھی ۔
مولانا قطب الدین عبد الوالی کے ساتھ صوبہ سرحد کا دورہ کیا، انگریزی حکومت کی دست درازی سے ریاستوں کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لیے لاہور میں کل ہند کانفرنس بلائی، اور خطبہ صدارت پڑھا ۔ مسجد شہید گنج کی واپسی کے لیے حضرت مولانا پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری علیہ الرحمہ نے جد و جہد کی تو آپ نے اُن کی پوری مدد کی ۔
انگریزوں نے عرب اکثریت کا توازن برباد کرنے کے لیے ارض مقدس میں باہر سے یہودیوں کو لاکر آباد کرنا شروع کیا اور عربوں نے اُن کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تو حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے آپ نے ہندوستان کے نمائندہ کی حیثیت سے فلسطین کا سفر کیا ۔ مفتئ اعظم فلسطین سید امین الحسینی علیہ الرحمہ نے عربی یونیورسٹی کے لیے ہندوستان کا دورہ کیا تو اُس کے ترجمان اور سیکرٹری کا کام کیا ۔
اسی زمانے میں میر عثمان علی آصف جاہ سادس والیِ سلطنت آصفیہ نے محکمہ امور مذہبی کے صدر الصدور کے لیے آپ کا انتخاب کے لیے آپ کا انتخاب کیا، مگر سابقہ انگریز دشمن سیاسی زندگی کی بناء پر انگریزی حکومت نے اس عہدہ پر آپ کا تقرر مناسب نہ سمجھا، اور عدالت عالیہ (ہائیکورٹ) میں منصف اعظم مقرر کیا گیا ۔ دو بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے اندرون خانۂ کعبہ غسل میں شرکت کی، حرم نبوی اور روضۂ مطہرہ کی خلوت خاص میں باریاب ہوئے ۔ دربار غوث اعظم کی حاضری معمولات سے تھی، آپ سب سے پہلے عالم و بزرگ تھے جن کو دربار شریف میں امامت و خطابت کا اعزاز ملا، اسی طرح مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی علیہ الرحمہ کے بے حد اصرار پر آپ نے مسجد اقصی میں جمعہ کی نماز اور فصیح عربی زبان میں خطبہ دیا ۔
ایک مرتبہ گیارہویں شریف کی محفل میں آپ بغداد معلی میں صاحبزادگان غوث الاعظم کے ہمراہ تشریف فرما تھے کہ جنرل فوجی حاضر ہوئے اور اپنا خواب بیان کیا کہ سرکار بغداد تشریف لائے اور فرمایا: ’’مولوی کی طرف سے گیارہویں ہے اس میں شرکت کرو اور ان کو ہمارا سلام پہنچاؤ‘‘ ۔ پھر جنرل صاحب نے آپ سے سلسلۂ عالیہ میں داخل کرنے کی درخواست کی آپ نے اسے سلسلہ عالیہ میں داخلِ بیعت فرمایا ۔
آپ کا قوت حافظہ بہت قوی تھا ۔ اقوال فقہاء و محدثین و صوفیاء ازبر تھے ہزارہا اشعار یاد تھے خود بھی شعر موزوں فرماتے تھے ۔ حضرت علامہ مولانا عبد الحامد بدایونی آپ کے ابتدائی تلامذہ میں سے ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 شوال المکرم 1379ھ مطابق 31 مارچ 1960ء کو بوقتِ عصر 5:00 بجے ہوا ۔ درگاہ قادری بدایوں میں سپرد خاک ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ تذکار المحبوب ۔ خیر آبادیات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-qadeer-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Abdul Qadeer Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی ۔ لقب: جامع العلوم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی بن مولانا امین اللہ بن مولانا محمد اکبر بن مولانا مفتی ابو الرحم بن مولانا مفتی محمد یعقوب بن مولانا عبد العزیز بن مولانا محمد سعید بن مولانا قطب الدین شہید سہالوی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔ (تذکرۂ علمائے ہند ، ص:251)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 شوال المکرم 1209ھ، مطابق مارچ 1795ء کو فرنگی محل لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔ (تذکرۂ علمائے اہلسنت، ص:114)
تحصیل علم:
دس برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا، صرف ونحو اپنے والد مولانا محمد امین اللہ فرنگی محلی سے پڑھ کر کتبِ متداولہ کا درس علماء فرنگی محل مولانا مفتی ظہور اللہ، مولانا مفتی محمد اصغر اور مولانا مفتی محمد یوسف علیہم الرحمۃ سے لیا، سولہ سال کی قلیل عمر میں متداولہ علوم درسیہ سے فراغت پائی ۔ آپ دانش مند، متبحر، جامع علوم عقلی و نقلی، اور حاوی فنون و فروعی اصلی ہوئے ۔ تکمیل کے بعد درس و تدریس میں مشغول ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
1276ھ میں سلسلۂ عالیہ قادریہ میں مولانا عبد الوالی قادری فرنگی محلی سے بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
بحر العلوم، جامع العلوم، امام العلماء، سند الاصفیاء، سید الاولیاء، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، حضرت علامہ مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے امام المناطقہ، رئیس الفضلاء، مرجع العلماء والصلحاء تھے ۔ تمام علوم پر مکمل دسترس حاصل تھی ۔ اکثر علوم چاہے وہ معقولی ہوں یا منقولی اس پر آپ کی کوئی نہ کوئی تصنیف، شرح، یا حاشیہ ضرور ہوگا ۔
1360ھ کو شہر باندہ تشریف لے گئے اور وہاں ریاست کے مدرسے میں صدر مدرس مقرر ہوئے کافی عرصے تک وہاں تدریس کرتےرہے ۔ پھر جون پور میں نو سال تک تدریس فرمائی کافی طلباء آپ سے فیض یاب ہوئے ۔
1279ھ، میں حرمین شریفین کا قصد کیا ۔ وہاں کے علماء و مشائخ کی صحبت با برکت سے فیض یاب ہوئے، مکہ معظمہ میں شیخ احمد بن زینی دحلان مفتیِ مکہ، شیخ جمال حنفی، سے علم حدیث کیا، اور ان سے اجازت و سند حدیث حاصل کی ۔
1280ھ مدینۃ المنورہ میں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے، مولانا علی مدنی، شیخ الدلائل سے سند دلائل الخیرات شریف کی سند حاصل کی، شیخ محمد بن محمد عرب الشافعی مدرس مسجد نبوی سے حدیث و تفسیر کی سند، اور مولانا شاہ عبد الغنی بن مولانا شاہ ابو سعید مجددی دہلوی، حدیث و تفسیر و فقہ کی اسناد، مولانا عبد الرشید بن مولانا شاہ احمد سعید دہلوی مجددی سے قصیدہ بردہ شریف اور حزب البحر کی اجازت حاصل کی اور حرمین شریفین کے فیوضات و برکات سے مالا مال ہوئے ۔
1282ھ میں وطن واپس آئے اور ریاست حیدر آباد میں عدالتِ نظامیہ سے منسلک ہو گئے ۔
تصنیفات:
آپ نے بہت کتب پر حاشیات و شروحات قلم بند فرمائے ۔ جو افادیت و معنویت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں ۔ ان میں سے چند معروف مندرجہ ذیل ہیں ۔
قمر الاقمار حاشیہ نور الانوار، التحقیقات المرضیہ علی حاشیہ میر زاہد، حاشیہ شرح سلم ملا حسن، کشف المکتوم علی حاشیہ بحر العلوم، حل العاقد فی شر ح العقائد، حاشیہ شرح تہذیب، نظم الدرر، نور الایمان فی آثار حبیب الرحمان، برکات الحرمین، وغیرہ ۔ معروف ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 29 شعبان 1285ھ، مطابق 14 دسمبر 1868 بروز پیر کو حیدر آباد دکن میں ہوا ۔
مزار شریف:
آپ کی وصیت کے مطابق حضرت شاہ یوسف قادری علیہ الرحمہ کے قدموں میں سپرد خاک کیا گیا ۔ شاہ یوسف قادری دکن کے اولیاء کبار میں سے ہیں ۔ بزرگوں کے قرب سے فیض اور برکتیں حاصل ہوتی ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-abdul-hakeem-farangi-mahalli
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی ۔ لقب: جامع العلوم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی بن مولانا امین اللہ بن مولانا محمد اکبر بن مولانا مفتی ابو الرحم بن مولانا مفتی محمد یعقوب بن مولانا عبد العزیز بن مولانا محمد سعید بن مولانا قطب الدین شہید سہالوی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔ (تذکرۂ علمائے ہند ، ص:251)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 شوال المکرم 1209ھ، مطابق مارچ 1795ء کو فرنگی محل لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔ (تذکرۂ علمائے اہلسنت، ص:114)
تحصیل علم:
دس برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا، صرف ونحو اپنے والد مولانا محمد امین اللہ فرنگی محلی سے پڑھ کر کتبِ متداولہ کا درس علماء فرنگی محل مولانا مفتی ظہور اللہ، مولانا مفتی محمد اصغر اور مولانا مفتی محمد یوسف علیہم الرحمۃ سے لیا، سولہ سال کی قلیل عمر میں متداولہ علوم درسیہ سے فراغت پائی ۔ آپ دانش مند، متبحر، جامع علوم عقلی و نقلی، اور حاوی فنون و فروعی اصلی ہوئے ۔ تکمیل کے بعد درس و تدریس میں مشغول ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
1276ھ میں سلسلۂ عالیہ قادریہ میں مولانا عبد الوالی قادری فرنگی محلی سے بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
بحر العلوم، جامع العلوم، امام العلماء، سند الاصفیاء، سید الاولیاء، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، حضرت علامہ مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے امام المناطقہ، رئیس الفضلاء، مرجع العلماء والصلحاء تھے ۔ تمام علوم پر مکمل دسترس حاصل تھی ۔ اکثر علوم چاہے وہ معقولی ہوں یا منقولی اس پر آپ کی کوئی نہ کوئی تصنیف، شرح، یا حاشیہ ضرور ہوگا ۔
1360ھ کو شہر باندہ تشریف لے گئے اور وہاں ریاست کے مدرسے میں صدر مدرس مقرر ہوئے کافی عرصے تک وہاں تدریس کرتےرہے ۔ پھر جون پور میں نو سال تک تدریس فرمائی کافی طلباء آپ سے فیض یاب ہوئے ۔
1279ھ، میں حرمین شریفین کا قصد کیا ۔ وہاں کے علماء و مشائخ کی صحبت با برکت سے فیض یاب ہوئے، مکہ معظمہ میں شیخ احمد بن زینی دحلان مفتیِ مکہ، شیخ جمال حنفی، سے علم حدیث کیا، اور ان سے اجازت و سند حدیث حاصل کی ۔
1280ھ مدینۃ المنورہ میں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے، مولانا علی مدنی، شیخ الدلائل سے سند دلائل الخیرات شریف کی سند حاصل کی، شیخ محمد بن محمد عرب الشافعی مدرس مسجد نبوی سے حدیث و تفسیر کی سند، اور مولانا شاہ عبد الغنی بن مولانا شاہ ابو سعید مجددی دہلوی، حدیث و تفسیر و فقہ کی اسناد، مولانا عبد الرشید بن مولانا شاہ احمد سعید دہلوی مجددی سے قصیدہ بردہ شریف اور حزب البحر کی اجازت حاصل کی اور حرمین شریفین کے فیوضات و برکات سے مالا مال ہوئے ۔
1282ھ میں وطن واپس آئے اور ریاست حیدر آباد میں عدالتِ نظامیہ سے منسلک ہو گئے ۔
تصنیفات:
آپ نے بہت کتب پر حاشیات و شروحات قلم بند فرمائے ۔ جو افادیت و معنویت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں ۔ ان میں سے چند معروف مندرجہ ذیل ہیں ۔
قمر الاقمار حاشیہ نور الانوار، التحقیقات المرضیہ علی حاشیہ میر زاہد، حاشیہ شرح سلم ملا حسن، کشف المکتوم علی حاشیہ بحر العلوم، حل العاقد فی شر ح العقائد، حاشیہ شرح تہذیب، نظم الدرر، نور الایمان فی آثار حبیب الرحمان، برکات الحرمین، وغیرہ ۔ معروف ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 29 شعبان 1285ھ، مطابق 14 دسمبر 1868 بروز پیر کو حیدر آباد دکن میں ہوا ۔
مزار شریف:
آپ کی وصیت کے مطابق حضرت شاہ یوسف قادری علیہ الرحمہ کے قدموں میں سپرد خاک کیا گیا ۔ شاہ یوسف قادری دکن کے اولیاء کبار میں سے ہیں ۔ بزرگوں کے قرب سے فیض اور برکتیں حاصل ہوتی ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-abdul-hakeem-farangi-mahalli
scholars.pk
Hazrat Allama Abdul Haleem Farangi Mahalli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-10-1444 ᴴ | 01-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-10-1444 ᴴ | 02-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1