🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو المصطفی شیخ طیب رفیقی علیہ الرحمہ

شیخ طیب بن احمد بن مصطفیٰ بن معین الحق والملۃ والدین رفیقی:

کنیت:
آپ کی کنیت ابو المصطفیٰ تھی ۔

ولادت:
۱۱۹۱ھ میں پیدا ہوئے ـ

سیرت و خصائص:
اپنے زمانہ کے شیخ الاسلام والمسلمین، قطب العارفین، غوث المحققین، فقیہ محدث، بحر زخار علوم تھے ـ

تعلیم:
قرآن کو اخوند خیر الدین بن اخوندابی البقاء بانڈے سے پڑھا اور علوم و فنون و فقہ وحدیث و تفسیر و کلام و معارف وحقائق و دقائق و تصووف و سلوک کو اپنے باپ اور تایا اور تایا کے بیٹون اور شیخ ابی یوسف عبد الغفور سے حاصل کیا ـ

بیعت:
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے والد گرامی سے بیت کی اور مشائخ عظام و اولیائے کرام کی صحبت سے مستفید ہوئے اور میاں عبد المجید سے طریقہ قادریہ و کبرویہ اور شطاریہ اخذ کیا ۔ اخیر عمر میں مسجد میں معتکف ہو کر قائم اللیل اور صائم النہار ہوئے ۔

آپ علیہ الرحمہ سے ایک جم غفیر علماء و فضلاء نے استفادہ کیا ۔ حدیث و فقہ و سلوک اور معرفت میں تصنیفات معتبرہ کیں اور حنفی مذہب کے بڑے حامی رہے، کرامات و خوارق عادات بھی آپ سے صادر ہوئے ۔

وصال:
پیر کے روز ۱۰ شوال ۱۲۹۶ھ میں وفات پائی اور ایک لاکھ سے زیادہ آدمی آپ کے جنازہ پر حاضر ہوئے ۔ ’’ ماہع علم حدیث و قرآن ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-mustafa-sheikh-taib-rafiqui
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی

نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ محمد معصوم سرہندی۔ کنیت: ابوالخیر۔لقب: قیوم ثانی،عروۃ الوثقیٰ،مجددالدین۔سلسلہ نسب: اس طرح ہے:خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی بن شیخ عبدالاحدبن شیخ زین العابدین بن شیخ عبدالحی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ رفیع الدین بن شیخ نصیرالدین بن شیخ سلیمان۔آپ کاشجرۂ نسب امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمرفاروق اعظم ﷜ سےجاکر ملتا ہے۔الیٰ آخرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 10/شوال المکرم 1007ھ مطابق اوائل مئی 1599ء کوہوئی۔کیونکہ ان کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہم حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کی ملازمت سے مشرف ہوئے اور ان کی خدمت میں دیکھا جو کچھ دیکھا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبند: 344)

ایام طفولیت: لڑکپن ہی میں آپ کے والد بزرگوار آپ کی بلند استعداد کی تعریف کیا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ یہ لڑکا محمدی المشرب ہے۔ چنانچہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں :از فرزندی محمد معصوم چہ نویسد کہ وے بالذات قابل ایں دولت است یعنی ولایت خاصہ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے قابل ہے۔ اور یہ بھی فرماتے تھے کہ محمد معصوم کی بلند استعداد کی وجہ یہ تھی کہ تین سال کی عمر میں حرف توحید آپ کی زبان سے نکلا۔ اور یوں کہنے لگے کہ میں آسمان ہوں، میں زمین ہوں، میں یہ ہوں، میں وہ ہوں،دیوار حق ہے۔ حضرت شیخ نے اُس وقت فرمایا کہ اس طریق میں پیر و جوان برابر ہیں۔ اور انوار فیوض کے وصول میں عورتیں اور بچے مساوی ہیں۔

تحصیلِ علم: حضرت مجدد ﷫ آثارِ رشد کو دیکھ کر آپ پرنظر ِعنایت رکھتے، اور فرماتے تھے کہ چونکہ علم مبدءِ حال ہے۔ا س کا حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے حضرت نے آپ کو علوم معقول و منقول کی تحصیل کی ہدایت کی۔ اکثر علوم آپ نے اپنے والد بزرگوار سے اور کچھ اپنے بڑے بھائی خواجہ محمد صادق اور شیخ محمد طاہر لاہوری سے پڑھے۔چودہ سال کی عمر میں آپ نے واقعہ میں دیکھا کہ میرے بدن سے ایک نور نکلتا ہے کہ اُس سے تمام عالم منور ہے۔ اور وہ نور عالم کے ہر ذرہ میں ساری ہے۔ مثل آفتاب کے کہ اگر وہ غروب ہوجائے تو عالم تاریک ہے۔ آپ نے یہ واقعہ اپنے والد بزرگوار کی خدمت میں عرض کیا۔ تو حضرت نے آ پ کو بدیں الفاظ بشارت دی۔ تو قطب وقت خویش مے شوی و ایں سخن از من یاد دار (مکتوبات معصومیہ۔ جلد اول۔ مکتوب ۸۶)

چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا کہ ایک جہان آپ کے انوار و برکات سے معمور ہوگیا۔ حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے۔ کہ بابا! تحصیل علوم سے جلدی فارغ التحصیل ہوجاؤ۔ کیونکہ ہم کو تم سے بڑے بڑے کام لینے ہیں۔ غرض حضرت کی توجہ سے آپ سولہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔بعد ازاں ہمہ تن متوجہ باطن ہوئے۔ اور عنایت الٰہی سے اپنے والد بزرگوار کے احوال و اسرار خاصہ سے حظ وافر حاصل کیا۔صاحب زبدۃ المقامات نے لکھا ہے کہ ایک روز میں نے خود حضرت مجدد ﷫ سے سنا کہ فرماتے تھے کہ محمد معصوم کا حال روز بروز میری نسبتوں کے حاصل کرنے میں صاحب شرح وقایہ (صدرالشریعہ عبیداللہ) کا سا ہے۔ جو شرح وقایہ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ میرے دادا (تاج الشریعہ محمود) بمقدار سبق تصنیف کرتے تھے۔ میں اُسی قدر حفظ کرلیتا تھا۔ یہاں تک کہ جس روز وقایہ کی تصنیف ختم ہوئی اسی روز میرا حفظ کرنا ختم ہوا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:345)

بیعت وخلافت: آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے والدِ گرامی امام ربانی مجدد الفِ ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی﷫ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔آپ کی تربیت وتوجہ سے قیومِ زمان اور غوث دوراں کے منصب پر فائز ہوئے۔

سیرت وخصائص: قیومِ ثانی،غوثِ صمدانی،عارفِ اسرار رحمانی،جانشینِ امام ربانی،جگر گوشۂ مجدد الفِ ثانی، ابوالخیر حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی نقشبندی مجددی﷫۔ آپ ﷫ اپنے والد ِ گرامی حضرت امام ربانی کےجانشین کامل اور عُلُوِّمرتبہ میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ﷫ نے

حضرت مجدد الفِ ثانی کی جانشینی اور دینِ اسلام کی خدمت اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی کی ترویج واشاعت کا حق ادا کردیا۔آپ کی برکت سے سلسلہ عالیہ ہند سندھ،ایران،افغانستان،اور مشرق ِ وُسطیٰ،حجاز ویمن اور روم وغیرہ تک جا پہنچا۔

فضائل و مناقب:آپ کے والد بزرگوار نے آپ کو خلعت قیومیت کی بشارت دی۔ چنانچہ ایک مکتوب میں آپ کو اور خواجہ محمد سعید رحمہا اللہ تعالیٰ کو یوں تحریر فرماتے ہیں: ’’کل نماز فجر کے بعد میں خاموش بیٹھا تھا کہ ظاہر ہوا کہ جو خلعت مجھ پر تھی وہ مجھ سے جدا ہوگئی۔ اور یہ آرزو ہوئی کہ اگر وہ دی جائے تو میرے فرزند ارشد محمد معصوم کو دی جائے۔ ایک لمحہ کے بعد دیکھا کہ میرے بیٹے کو عطا کی گئی۔ اور اُسے پوری پوری پہنادی گئی۔ اس خلعت زائلہ سے مراد معاملہ قیومیت تھا۔ جس کا تعلق تربیت و ارشاد سے تھا۔ اور اس مجمع گاہ سے تعلق کا سبب یہی معاملہ قیومیت تھا۔ا ور اس نئی خلعت کا معاملہ جب انجام کو پہنچے گا اور اتارنے کے لائق ہوجائے
گی تو امید ہے کہ کمال کرم سے وہ میرے فرزند عزیز محمد سعید کو عطا کی جائے گی۔ یہ فقیر ہمیشہ تضرع سے یہ دعا کرتا ہے اور قبولیت کا اثر دیکھتا ہے اور اپنے فرزند محمد سعید کو اس دولت کا مستحق پاتا ہے۔(ایضاً:349)

عروۃ الوثقیٰ: حق تعالیٰ نے آ کو عروۃالوثقیٰ کا خطاب دیا۔ چنانچہ ۱1035ھ میں ایک ر وز آپ نے فرمایا کہ آج میں صبح کے حلقہ میں بیٹھا تھا کہ جناب سرور کائنات ﷺ تشریف فرما ہوکر مجھ سے بغل گیر ہوئے۔ اور فرمایا کہ حق تعالیٰ نے آپ کو عروۃ الوثقیٰ کا خطاب دیا ہے۔ اس نعمت عظمیٰ کا شکر بجالاؤ۔ اسی اثناء میں کیا دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام مقرب فرشتوں اور انبیاء و اولیا نے آکر میرے گرد حلقہ بنایا اور کہتے ہیں۔ السلام علیکم یا محمد معصوم عروۃ الوثقیٰ۔ پھر ہر ایک نے مجھ سے مصافحہ کیا۔ میں نے سنہری خط سے عرش مجید کے گرد محمد معصوم عروۃ الوثقیٰ لکھا ہوا دیکھا ۔

کعبے کا ملاقات کےلئے آنا: حضرت مروج الشریعت رحمۃ اللہ علیہ یا قوت احمر میں لکھتے ہیں کہ ایک روز حضرت قیوم ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آج فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے میں مراقبہ میں بیٹھا تھا کہ مجھ پر ظاہر ہوا کہ تمام جہان اہل جہان آدم وغیرہ ساری مخلوقات مجھے سجدہ کر رہے ہیں میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ آخر یہ بھید کھال کہ کعبہ میری ملاقات کو آیا جس نے مجھے گھیر لیا۔ اس واسطے جو شخص کعبہ کو سجدہ کرتا تھا مجھے ظاہر میں ایسے معلوم ہوتا تھا کہ مجھے سجدہ کر رہا ہے ان کے علاوہ اور فضائل ہیں جن میں سے بعضے آئندہ مذکور ہوں گے۔(ایضا:349)

حرمین شریفین کی زیارت: آپ اپنی قیومیت کے چونتیسویں سال حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے وہاں کے بعض معاملات آپ کے فرزند ثانی مروج الشریعت خواجہ عبیداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک رسالہ میں لکھے ہیں جس کا نام یاقوت احمر ہے۔ اس میں سے چند واقعات یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔

حج کی قبولیت کا پروانہ: حضرت قیوم ثانی فرماتے ہیں کہ جب ہم ایام تشریق میں منیٰ سے شہر میں آئے تو طواف سے فارغ ہونے پر ظاہر ہوا کہ فرشتہ نے محض ادائے ارکان پر حج کی قبولیت اور اجر کا مہر شدہ کاغذ ہمیں عطا کیا ۔ ایام قیام مکہ میں آپ اکثر طواف میں مشغول رہا کرتے۔ اس وقت اس عبادت کو بہترین عبادت جانتے تھے۔ اور فرماتے کہ عجیب و غریب باتوں کا انکشاف ہوتا ہے۔ اکثر اوقات دیکھتا ہوں کہ کعبہ ہم سے گلے ملتا ہے اور بڑے اشتیاق سے چومتا ہے۔ انہیں دنوں میں ایک روز ظاہر ہوا کہ مجھ سے انوار و برکات اس کثرت سے نکلتے ہیں کہ انہوں نے تمام چیزوں کو گھیرلیا ہے اور جنگل و بیابان ان سے پر ہوگیا ہے۔ اور ان کے مقابلہ میں تمام دیگر انوار چھپ گئے ہیں۔ جب میں اس کی حقیقت کے دریافت کے واسطے متوجہ ہوا تو معلوم ہو اکہ مجھ سے میری حقیقت دور کرکے کعبہ کی حقیقت سے مشرف فرمایا گیا ہے۔

ایک رات آپ وتر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ فرمایا رکن یمانی کے نزدیک بہت سے فرشتے موجود ہیں۔ چنانچہ حدیث میں بھی وارد ہے کہ ستر ہزار فرشتے رکن یمانی کے نزدیک رہتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا کہ وہ اپنی جگہ سے سرک کر میرے گرد اگرد جمع ہوگئے۔ اور ان کے ہاتھوں میں قلم دوات ہے۔ میری حقیقت لکھ کر چلے گئے۔ فرمایا کہ ایک روز بعد نماز فجر حلقہ میں دیکھا کہ مجھے ایک خلعت عالی عطا ہوا ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ یہ خلعت عبودیت ہے۔ ایک روز آپ حلقہ ذکر میں بیٹھے تھے۔ مراقبہ کے بعد فرمایا قلم دوات عنایت ہوئی۔ گویا مجھے منصب وزارت عطا ہوا ہے۔ اور جناب پیغمبرِ خدا ﷺکی عنایت سے مجھے تمام مخلوقات پر وزیرِ اعظم بنایا گیا ہے۔(ایضا:350)جب حرم شریف سے رخصت ہونے کے دن قریب آئے تو الطاف عظیمہ اور انعامات جلیلہ مرحمت ہوئے اور معلوم ہوا کہ ایک خلعت عالی سبز رنگ مکلل بجواہر عنایت ہوا جو خلعت وداع تھا اور بعضے صاحبزادگان جو رفیق سفر تھے اُن کو بھی عنایت ہوا۔

مدینہ منورہ میں حاضری:مکہ مشرفہ سے روانہ ہوکر آپ مدینہ منورہ میں پہنچے۔ اور روضہ منورہ پر حاضر ہوکر آداب زیارت بجالائے ۔آپ نے بپاس ادب اس معاملہ میں جناب رسول خدا ﷺ سے دریافت کیا اورمواجہہ شریفہ میں کھڑے ہوکر مراقبہ کیا۔ چنانچہ کمال رضا اس معاملہ میں معلوم ہوئی۔ اور خلوت اورارشاد عنایت ہوا۔ اور انوار و عنایات حضرت شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما ظاہر ہوئے۔آپ نے فرمایا کہ اگرچہ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مزار بقیع میں ہے۔ مگر حجرہ شریفہ ان کا گھر ہے۔ اکثر اوقات ام المومنین کو حجرہ شریفہ میں حضرت نبوی کے پاس پاتا ہوں اور مسجد شریف کو ان کے انوار سے پُر دیکھتا ہوں۔آپ کو مسجد نبوی میں دو روز کے اعتکاف کی اجازت ہوئی۔ رات کے وقت جب سب کو وہاں سے حسب معمول علیحدہ کردیا گیا۔ تو آپ مواجہہ شریف میں جاکر مراقب ہوئے، فرمایا کہ جناب رسالت مآبﷺحجرہ خاص سے باہر تشریف لائے اور بکمال عنایت مجھ سے بغل گیر ہوئے۔ اُس وقت مجھ کو الحاق خاص آنحضرت ﷺ کی حقیقت سے حاصل ہوا۔

فرمایا کہ محسوس ہوتا ہے کہ حضرت ﷺ کا وجود مقدس مرکز ج
میع عالمیان ہے۔ عرش سے فرش تک تمام مخلوقات آپ کی محتاج ہے۔ اور آپ سے فیض یاب ہے۔ اگرچہ وہاب مطلق اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن افاضہ آپ کے توسل شریف سے ہوتا ہے۔ اورمہمات ملک و ملکوت آپ کے اہتمام سے سرانجام پاتی ہیں۔ شب و روز کافہ مخلوقات پر روضہ مطہرہ سے انعام ہوتا رہتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ آپ وما ارسلنک الا رحمۃ للعٰلمین ہیں۔ ایک روز فرمایا کہ کل سے ظہور اسرار و تلاطم امواج انوار معلوم ہوتا تھا اور آج ایک سا معاملہ اضافہ کیا گیا ہے کہ اشارہ سے بھی ظاہر نہیں کرسکتا۔ اور اگر ظاہر ہو۔ قطع البلعوم و ذبح الحلقوم کا سزاوار ہوجاؤں۔ مگر بعض مقامات رمز سے کہتا ہوں اور وہ معاملہ کمون و بروز ہے۔

پھر فرمایا کہ جس وقت میں مدینہ منورہ سے روانہ ہونے لگا۔مسجد شریف میں رخصت کے واسطے حاضر ہوا۔ جدائی کے غم و الم کے سبب سے بے اختیار بار بار رونے لگا۔ اسی حالت میں حضرت رسالت خاتمیت کمال عظمت سے روضۃ مطہرہ سے حاضر ہوئے۔ اور نہایت کرم سے خلعت تاج سلاطین بکمال علو و رفعت کہ ہرگز ایسا نہیں دیکھا گیا تھا احقر کو پہنایا اور محسوس ہوا کہ اس تاج پر ایک شہپر کا طرہ لگا ہوا ہے اور اُس پر ایک لعل جڑا ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوا کہ یہ خلعت خاص جسمِ اطہر آنحضرت ﷺ سے اترا ہوا ہے اور دیگر خلعتوں کی طرح نہیں۔ اور فرمایاکہ خلعت عطا کرنے سے نظر کشفی میں نسبت خاصہ مرحمت فرمانا مراد ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ جناب رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے وطن کو واپس ہوئے۔قصہ کوتاہ حضرت قیوم ثانی کی کثرت ارشاد و مشیخت بیان سے باہر ہے۔ جناب پیغمبر خدا ﷺکے زمانے کے بعد کسی ولی اللہ کو اس قدر ارشاد مشیخت نصیب نہیں ہوئی۔ چنانچہ تاریخ مرأت العالم و جہاں نماز میں جو عالمگیر کے حکم سے لکھی گئی ہیں یوں لکھا ہے کہ مشیخت کی مسند پر کوئی ایسا شیخ نہیں بیٹھا جیسا کہ شیخ محمد معصوم ﷺ جہان کے تمام اطراف و جوانب کے بادشاہ علماء مشائخ چھوٹے بڑے وضیع و شریف مشرق سے مغرب اور جنوب سے شمال تک کے آنحضرت کے مرید تھے۔ لا انتہا خاص و عام بندگان خدا صبح و شام پر وانوں کی طرح آنجناب پر جان فدا کرتے۔

ہندوستان، توران، ترکستان، بدخشان، دشت قبچاق، کا شغر، خطا، روم، شام اور یمن کے بادشاہ آنجناب کے مرید ہوئے۔ اُس وقت کے بڑے بڑے شیخ اور علماء اور گروہا گروہ اپنی اپنی مشیخت ترک کرے کے آنجناب کے مرید ہوئے۔ روئے زمین کے مختلف حصوں کے لوگ آنحضرت کو خواب میں دیکھ کر اور انبیاء اولیا سے خوشخبری پاکر حاضر خدمت ہوکر شرف بیعت سے مشرف ہوتے۔ مختلف ملکوں میں آنجناب کے خلفا کی خدمت میں ہزارہا آدمیوں کا مجمع رہتا۔ ہر روز سینکڑوں نئے مرید حاضر خدمت ہوتے اور فنا و بقا اور پروردگار کا پورا پورا قرب حاصل کرتے۔ حضرت کی مجلس کا رعب اور دبدبہ اس قدر تھا کہ مجلس اقدس میں بڑے بڑے بادشاہ آپس میں گفتگو نہ کرسکتے تھے۔ بغیر اجازت بات نہ کرتے۔ اگر بڑا ضروری کام ہوتا تو کاغذ پر لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کرتے۔ عالمگیر بادشاہ پر اگرچہ آپ بدرجہ غایت مہربان تھے لیکن پھر بھی بسبب غایت ادب اُس نے آنجناب کے حضور میں کسی سے کبھی گفتگو نہ کی اور بغیر اذن نہ بیٹھا۔کہتے ہیں کہ خلفاء اور فرزندوں کی وساطت کے بغیر براہِ راست نو لاکھ آدمی حضرت قیومِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے۔ آپ کے خلفاء کی تعداد سات ہزار تھی جو سب کے سب صاحب کمالات تھے۔

وصال مُبارک:
وفات سے ایک روز پیشتر جمعہ کے دن آپ مسجد میں تشریف لے گئے اور فرمایا کہ امید نہیں کہ کل اس وقت تک دنیا میں رہوں۔ اور سب کو پند و نصائح فرما کر خلوت میں تشریف لے گئے۔ صبح کو آپ نے نماز فجر کمال ارکان تعدیل کے ساتھ ادا کی۔ مراقبہ معمولہ کے بعد اشراق پڑھی۔ بعد ازاں سکرات موت آپ پر شروع ہوگئے۔ اس وقت آپ کی زبان مبارک جلد جلد چلتی تھی۔ صاحبزادوں نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ آپ یٰسین شریف پڑھتے تھے۔ غرض کہ شنبہ کے دن دوپہر کے وقت 9/ ربیع الاول 1079ھ کو آپ نے وصال فرمایا۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-masoom-sirhindi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ علیہ صاحبِ در مختار

نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ فقیہ محمد بن علی حصکفی ـ لقب: علاؤالدین حصکفی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد بن علی بن محمد بن علی بن عبد الرحمٰن بن محمد بن جمال الدین بن حسن بن زین العابدین ۔ (علیہم الرحمہ)

حصکفی نسبت کی وجہ تسمیہ:
دیارِ بکر میں ایک چھوٹا سا قصبہ " حصن کیفا " ہے ۔ جسے آجکل " شر ناخ " کہا جاتا ہے، کی نسبت سے آپ علیہ الرحمہ کو حصکفی کہا جاتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 1025ھ بمطابق 1616ء کو دمشق میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی، آپ کے والدِ گرامی اپنے وقت کے جید عالمِ دین تھے ۔ علامۂ زمان امام محمد محاسنی خطیب دمشق سے درسِ حدیث لیا ۔ اس کے بعد " رملہ " کی طرف تشریف لے گئے، وہاں شیخ الحنفیہ فقیہ خیر الدین رملی سے فقہ حاصل کی، ان کے علاوہ شیخ فخر بن زکریا مقدسی حنفی، شیخ صفی قشاشی، شیخ منصور بن علی السطوحی، شیخ ایوب خلوتی، شیخ عبد الباقی حنبلی (علیہم الرحمہ) سے استفادہ کیا ۔

سیرت و خصائص:
جامع معقول و منقول، فقیہ، محدث، عالم، حضرت شیخ محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ حصنی اثری المعروف بہ حصکفی: فقیہ محدث، عالم، فاضل، نحوی، حافظ الاحادیث و مرویات، طلیق اللسان، فصیح البیان، جید التقریر والتحریر، جامع معقول و منقول صاحبِ تصانیف کثیرہ اور مصنفِ کتبِ مفیدہ تھے ۔

تصنیفات:
فقہ میں: در مختار ، اور شرح ملتقی الابحر ۔ اصول میں: شرح منار ۔ نحو میں: شرح قطر ۔ فتاویٰ میں: مختصر فتاویٰ صوفیہ ۔ حدیث میں: تعلیقات بخاری تیس حصوں میں، اور تفسیر میں: تفسیر بیضاوی کا حاشیہ سورۂ بقرہ سے سورۂ اسرائیل تک اور حواشی درر وغیرہ رسائل انیقہ اور کتبِ نمیقہ تصنیف فرمائیں ـ اور فتاویٰ ابن نجیم کو جو اس کے بیٹے اور تمر تاشی نے جمع کیا ـ

آپ علیہ الرحمہ کی فضیلت و تحقیق کا خود آپ کے مشائخ اور ہمعصروں نے اقرار کیا یہاں تک کہ شیخ خیر الدین رملی آپ کے استاد نے آپ کی سند اجازت میں یوں لکھا ہے کہ محمد بن علی نے پہلے مجھ سے ایسے لطیف اور پاکیزہ سوال کیے جن سے میں ان کے کمال روایت اور وسعت ملکہ پر واقف ہوا اور ان کو ان کے جواب مختصر طور پر دِیے پھر انہوں نے مجھ سے اعلیٰ درجہ کے نکات پوچھے چنانچہ میں نے ان کے جوابات بھی ویسے ہی دِیے، پھر انہوں نے ان سے بھی اعلیٰ درجہ کے سوال کیے پس میں نے ان کے علم و فضل کے تو سن کو مضمار کمال میں نہایت سبقت لے جاتا ہوا اور وہاں سے نہایت راحت و آرام سے بغیر کسی طرح کے اضطراب و اضطرار کے لوٹتا ہوا دیکھا پس نوبت یہاں تک پہنچی کہ میں نے ان سے اور انہوں نے مجھ سے حدیث کی روایت کی ۔ (مقدمہ حاشیہ ابنِ عابدین، ص:53)

وصال:
آپ علیہ الرحمہ 63 سال کی عمر میں 10 شوال المکرم 1088ھ بمطابق 1677ء کو دمشق میں وصال فرمایا ـ اور مقبرہ بابِ صغیر میں دفن کیے گئے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/muhaddis-e-alim-sheikh-muhammad-bin-ali-haskafi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، مجدد دین و ملت، امام اہلِ سنّت، امام عشق و محبت، امام احمد رضا خان قادری برکاتی محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ تاریخی نام: المختار ۔ جدِّ امجد حضرت مولانا رضا علی خاں علیہ الرحمہ نے ’’ احمد رضا ‘‘ نام رکھا، اور اسی نام سے مشہور ہوئے ـ اَلقاب: اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین و ملّت، شیخ الاسلام، حامیِ سنّت، ماحیِ بدعت وغیرہ ۔

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ محمد احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا تعلّق افغانستان کے معزز قبیلہ ’’ بڑھیچ پٹھان ‘‘ سے ہے ۔

سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں بن حافظ کاظم علی خاں بن محمد اعظم خاں بن محمد سعادت یار خاں بن محمد سعید ﷲ خاں ـ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔

ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت بروز ہفتہ 10 شوّال المکرم 1272ھ مطابق 14 جون 1856ء، بوقتِ ظہر، محلہ جسولی، بریلی شریف (انڈیا) میں ہوئی ۔

سنِ ولادت قرآن سے:
خود امامِ اہلِ سنّت نے اپنی ولادت کا سن ہجری 1272ھ اس آیتِ مبارکہ سے اخذ کیا ہے:

اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْاِیۡمٰنَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنْہُ ـ (پارہ: ۲۸، سورۃ المجادلۃ آیت:22)

ترجمہ:
یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی ۔ ترجمۂ قرآن کنز الایمان ـ

تحصیلِ علم اور اَساتذۂ کرام:
اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنه کی رسمِ بِسْمِ اللہ کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔ آپ نے چار برس کی ننھی سی عمر میں ناظرہ قرآنِ مجید ختم کر لیا ۔

چھ سال کی عمر میں ماہِ ربیع الاوّل شریف کی تقریب میں ایک بہت بڑے اجتماع کے سامنے ’’ میلاد شریف ‘‘ کے موضوع پر ایک پُر مغز اور جامع بیان کرکے علمائے کرام اور مشائخ عظام سے تحسین و آفرین کی داد وصول کی ـ

ابتدائی اردو اور فارسی کی کتب پڑھنے کے بعد ’’ میزان ‘‘ و ’’ منشعب ‘‘ حضرت مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔ پھر آپ نے اپنے والدِ ماجد سند المحققین حضرت مولانا شاہ نقی علی خان علیہ الرحمہ سے اکیس 21 علوم حاصل کیے ۔ ’’ شرحِ چغمینی ‘‘ کا بعض حصّہ حضرت علامہ مولانا عبد العلی رام پوری علیہ الرحمہ سے پڑھا ۔ ابتدائی علمِ ’’ تکسیر ‘‘ و ’’ جفر ‘‘ شیخ المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل کیے ۔

علمِ تصوّف کی تعلیم استاذ العارفین مولانا سیّد آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل فرمائی ۔ تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر میں 14 شعبان المعظّم 1286ھ، مطابق 19 نومبر 1869ء کو فارغ التحصیل ہوئے اور دستارِ فضیلت سے نوازے گئے ۔

قوتِ حافظہ:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوتِ حافظہ سے خوب نوازا تھا ۔ صرف مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت میں ایک پارہ حفظ کر لیتے تھے، اور ایک ماہ میں مکمل قرآنِ مجید حفظ کر لیا ۔ اعلیٰ حضرت کے اساتذہ کی فہرست تو بہت مختصر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے حبیب ﷺ کی عطا سے آپ کا سینہ علم و معرفت کا خزینہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ بہت سے علوم کے بانی و موجد ہیں ۔ ذَالِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ۔

بیعت و خلافت:
آپ 1294ھ، مطابق 1877ء کو شیخ المشائخ حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
آپ کے خلیفۂ اجل مبلغ اعظم حضرت علامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اُس سے سوا تم ہو
قسیمِ جامِ عرفاں، اے شہِ احمد رضا تم ہو

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانۂ شمعِ رسالت، حامیِ سنّت، ماحیِ بدعت، شیخ الاسلام، مجددِ مأۃ ماضیہ، حالیہ، آتیہ، مفسرِ عدیم النظیر، محدثِ باکمال، فقیہِ عَلَی الْاِطْلاق شاہ امام احمد رضا خاں قادری برکاتی محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه

ایک فرد نہیں بلکہ ایک جامعہ ہیں ۔ آپ کی سیرتِ مبارکہ اور کارہائے نمایاں سے قرونِ اولیٰ کے اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ آپ رضی الله تعالیٰ عنه کی شخصیت ایسی جامع و کامل و عالی مرتبت ہے، جن کی علمی سطوت و شوکت اور مخالفین و دشمنانِ اسلام پر ہیبت دبدبہ اِن شآء اللہ العزیز آئندہ تا قیامِ قیامت اپنی پوری آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ آفتابِ نصف النہار کی طرح مطلعِ علم و شریعت پر چھائی رہے گی ۔

آپ کی پھیلائی ہوئی شمعِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی شعاع پورے عالم کو روشن کرتی رہے گی اور ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی ضیاء اور فیض رسانی میں اضافہ ہوتا رہےگا ۔ اِن شآء الله تعالیٰ ﷻ ـ
👍1
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه مروجہ علوم دینیہ کے علاوہ ایسے علوم پر بھی مہارت رکھتے تھے جن سے عام طور پر علماء تعلق نہیں رکھتے، اور کچھ علوم کے تو بانی و موجد ہیں، ہر فن میں قیمتی تحقیقات و تعلیقات کا اضافہ کیا ۔

آپ نے پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں تصانیف کا یادگار ذخیرہ چھوڑا ۔جدید حساب سے ان کی تعداد ایک سو بیس کے قریب ہے ۔ اسی طرح مختلف علوم و فنون پر ایک ہزار سے زیادہ یادگار تصانیف چھوڑی ہیں ۔

صرف فتاوٰی رضویہ کی جدید طباعت تیس جلدوں میں ہے ۔ بہت سی کتب طباعت کے مراحل میں ہیں۔ آپ کی تصانیف، اور آپ پر تحقیق کی جدید انداز میں طباعت و اشاعت ’’انجمن ضیائے طیبہ‘‘ کی اوّلین ترجیح ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اس پیکرِ حق وصداقت، حاملِ علم ومعرفت کانام ہے جسے ’’ علمناہ من لدنا ‘‘ کی تعبیر اور ’’ انما یخشی الله من عبادہ العلمآء ‘‘ کی تصویر اور ’’ والراسخون فی العلم ‘‘ کی تفسیر کہیں تو بےجا نہ ہوگا ۔ مدح و ثنا خوانی میں حافظ شیرازی، امام بوصیری و جامی بلکہ حسان الہند کہیں تو مبالغہ نہ ہوگا ۔

صرف ’’ ترجمۂ قرآن کنز الایمان ‘‘ دیکھ لیں حقائق و معرفت کا خزینہ ہے، اس ترجمے میں رازی کی موشگافیاں، غزالی کا تصوف، جامی کی وارفتگی، حضرت بلال کا عشق، نعمان بن ثابت کا تفقہ ہے۔

اگر یقین نہ آئے تو اِس آیت کا ترجمہ پڑھ لیں:

وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾

ترجمہ: ’’اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی راہ دی ۔ ‘‘ (کنز الایمان)

مجھے حیرت ہے ان نام نہاد موحدین پر جو یہود و نصاریٰ کےظلم و ستم اور فواحش پر تو خاموش رہیں اور عظمتِ خدا و عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے ترجمے پر پابندی لگا دیں ۔

مزید ستم ظریفی دیکھیں کہ جس امام نے رد و بدعات، بے حیائی و خرافات، جاہلانہ رسوم و رواج کے خلاف ساری زندگی جہاد فرمایا اور سب سے زیادہ ان جہال کے خلاف لکھا اس کی نظیر نہیں ملتی ۔

جس نے شریعتِ مصطفیٰ ﷺ کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر، دن رات دین کی خدمت کی اسے ’’ حامیِ بدعات ‘‘ بنا دیا، اور دینِ اسلام میں تحریف کرنے والے، عظمتِ خدا اور عزتِ مصطفیٰ ﷺ پر حملے کرنے والے، کفار و مشرکین سے دوستی کرنے والے، اور ان کے لیے مر مٹنے والے، ان کو منبروں پر بٹھانے والے، اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والوں کو ’’ شیخ الاسلام ‘‘ اور ” توحید کا ٹھیکیدار ‘‘ بنا دیا ۔

حق کے آگے جتنے پروپیگنڈے کِیے جائیں، پردہ ڈالنے کی کوششیں کی جائیں، حق چھپانے سے چھپ نہیں سکتا، بلکہ حق ہوتا ہی وہ جو ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ چاہے مخالفین کچھ بھی کر لیں ۔

جآء الحق و زہق البطل ؕ ان البطل کان زھوقا ۔ (پارہ: ۱۵، سورۃ بنی اسرائیل آیت: ۸۱)

ترجمہ: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا؛ بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا ـ (کنزالایمان)

یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام کی آواز قلوب و اذہان کو منوّر کر رہی ہے ۔ پوری دنیا میں عزتِ مصطفیٰ ﷺ کی بدولت عظمتِ احمد رضا کے ڈنکے بج رہے ہیں ۔ آج پوری دنیا کی یونیور سِٹیز میں مختلف زبانوں میں آپ کی سیرت و تصانیف پر متعدد افراد ڈاکٹریٹ کر چکے ہیں اور کئی افراد کر رہے ہیں، اور یہ علمی سفر جاری و ساری ہے ۔ ( الحمد للہ علٰی ذالک )

آپ کی ذات کی پہچان اور پوری حیات کا عرفان عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہے ۔ آپ فنا فی الرسول ﷺ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے دمِ آخریں اپنے عقیدت مندوں، وارثوں، اور تمام اہلِ سنّت کو جو وصیت فرمائی اس کو حرزِ جاں بنانے کی ضرورت ہے ۔

آپ فرماتے ہیں:
جس سے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں ادنیٰ توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو، فوراً اُس سے جدا ہو جاؤ، جس کو بارگاہِ رسالت مآِب ﷺ میں ذرا بھی گستاخ دیکھو، پھر وہ کیسا ہی بزرگ و معظّم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو ۔ وصایا شریف ـ

وصال:
بروز جمعۃ المبارکہ 25 صفر المظفر 1340ھ ، مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو ہندوستان کے وقت کے مطابق دوپہر  دو بَج کر 38 منٹ پر عین اذانِ جمعہ میں اُدھر ’’ حی علی الفلاح ‘‘ کی پکار سُنی اِدھر روحِ پُر فُتوح نے ’’ دَاعِیْ الی اللہ ‘‘ کو لبیک کہا ۔

مزارِ پُر اَنوار:
آپ کا مزارِ پُر انوار بریلی شریف (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔

مآخذ و مراجع:
حیات اعلیٰ حضرت ۔ سوانح امام احمد رضا المعروف سوانح اعلیٰ حضرت ۔ سیرت اعلیٰ حضرت ۔ تاجدار بریلی نمبر ۔

انجمن ضیاء طیبہ:
اَلْحَمْدُ للہ! انجمن ضیائے طیبہ کے زیرِ اہتمام عرسِ اعلیٰ حضرت تقریباً 1970ء سے بڑے احتشام و اہتمام سے منعقد ہوتا ہے، اور اعلیٰ حضرت کی پچیسویں شریف کی ماہانہ محفل بھی پابندی کے ساتھ ہوتی ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/ala-hazrat-imam-ahmed-raza-khan-barelvi
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-10-1444 ᴴ | 30-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-10-1444 ᴴ | 01-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1