🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-10-1444 ᴴ | 30-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-10-1444 ᴴ | 30-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-10-1444 ᴴ | 30-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-10-1444 ᴴ | 30-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
استاذ العلماء مفتی محمد عبد اللہ بلوچ نعیمی شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد عبد اللہ ۔ اپنے قبیلہ کی نسبت سے " بلوچ " کہلائے ۔ والد کا اسمِ گرامی: محمد رمضان بلوچ مرحوم تھا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 1344ھ، بمطابق 1925 ایرانی " مکران " کے محلہ ریکسرادارہ پل، مقام چاہ بہار ،مکران ایران میں پیدا ہوئے ۔ 1935 میں آپ کے والد ماجد نقل مکانی کر کے بلوچستان کے راستے سے سندھ آگئے، اور ملیر (کراچی ) میں مستقل آباد ہو گئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم کا آغاز کراچی میں ہوا ۔ آپ نے مندرجہ ذیل علماءِ کرام سے علوم عقلیہ و نقلیہ میں تحصیل و تکمیل فرمائی: مولانا حکیم اللہ بخش سندھی، مولانا حافظ محمد بخش جہلمی ، مولانا محمد عثمان مکرانی، تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی (علیہم الرحمہ) ۔ آپ نے تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی علیہ الرحمہ کے زیر سایہ دارالعلوم مخزن عربیہ کراچی سے دورہ حدیث کیا اور 1960ء میں سند فراغت اور دستار فضیلت حاصل کی ۔ آپ کے ساتھ جمیل العلماء مولانا جمیل احمد نعیمی صاحب اطال اللہ عمرہ (استاذ الحدیث جامعہ نعیمیہ کراچی) کی بھی دستار بندی ہوئی تھی ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ میں حضرت الحاج سید عبد الخالق شاہ مکرانی سے اور سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت الحاج عبد اللہ سولنگی سندھی سے بیعت ہوئے اور ان ہی سے خلافت بھی حاصل ہوئی ۔

سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ کتب تفسیر و حدیث اور فقہ پر کامل عبور رکھتے تھے ۔ آپ کے فتاویٰ سے بصیرت و تبحر علمی کے ساتھ ساتھ اخلاص اور بے نفسی کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔ آپ حلیم الطبع ، نرم دل ،سادہ مزاج ، سادہ لباس ، سادہ گفتار ، خلیق و ملنسار ، عاجزو منکسر المزاج تھے۔ بڑے مہمان نواز تھے آدھی رات کو بھی مہمان آجاتا تو خندہ پیشانی سے پذیرائی کرتے اور گرم گرم روٹیاں پکواکر مہمان کو کھلاتے ۔ صاحب تقویٰ و طہارت تھے، ہر وقت باوضو رہتے تھے۔ غرض یہ کہ ظاہر و باطن میں عاملِ سنت تھے ۔ آپ کتابوں کے عاشق تھے، سندھ کے قدیمی کتب خانوں سے بڑی تگ و دو ست قلمی مخطوطات کی نقل یا اصل حاصل کر کے اپنے کتب خانہ کی زینت بناتے اس طرح سندھ کے نادر و نایاب قلمی علمی خزانہ کو ایک جگہ پر جمع کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ زندگی بھر ایسی کتابوں کو تلاش کرتے رہے ، تلاش و جمع کا سلسلہ آخر تک جاری رہا ۔

1971ء میں آپ حج بیت اللہ شریف اور زیارت مدینہ منورہ کی سعادت سے بہر ہ در ہوئے ، یہ حج ،حجِ اکبر تھا۔ اس سال بریلی شریف سے حضور مفتی اعظم ہند شاہ محمد مصطفیٰ رضا خان قادری نوری علیہ الرحمہ بھی حج کرنے آئے تھے ان سے بھی اکتساب فیض کیا ۔

مفتی صاحب نے کئی بار عمرہ اور زیارت حرمین شریفین کی سعادت حاصل کی۔ 1977ءمیں آپ ایران کے دورے پر تشریف لے گئے اور وہاں ایک ماہ کا طویل تبلیغی دورہ کر کے اہل سنت و جماعت کے مسلک کی اشاعت کی ۔ آپ ساری زندگی خلوص کیساتھ دین کی خدمت میں مجاہد انہ سرگرم عمل رہے ۔تبلیغ دین متین اور درس و تدریس کے علاوہ انہوں نے فتویٰ نویسی کے ذریعہ بڑی خدمت کی ۔

پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد صاحب رقمطراز ہیں: فتویٰ نویسی اتنی آسان نہیں جتنی لوگ سمجھتے ہیں ۔ اس کیلئے سالوں کے مطالعے ، مشاہدے ، محنت ، تحقیق و تدقیق کے ذوق تنقید و تنقیح کے ملکہ ، خداداد صلاحیت و قابلیت ،تحمل و تدبر، سائل کی غرض و غایت کے ادراک ، حالات اور ماحول کے تقاضوں کو سمجھنے کی لیاقت اور بہت سے دیگر امور کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائل کو کتابوں اور فتاویٰ کے مجموعوں کی روشنی میں فتویٰ دینے والا مفتی نہیں بلکہ مفتی ناقل ہے ۔ جس کے پاس صرف نقل کرنے کے لئے عقل ہوتی ہے کیوں کہ نقل کے لئے بھی عقل چاہئے اور اب تو عقل بھی عنقا ہوتی جا رہی ہے ۔

دارالعلوم مجددیہ نعیمیہ کا قیام:
آپ نے 1955 سے ہی صاحبداد گوٹھ (ملیر ) کی اس مسجد میں تعلیم القران کے نام سے مدرسہ قائم کیا جہاں اب دار العلوم قائم ہے اور خود درس دیتے رہے ۔ سند فراغت حاصل کر نے کے بعد 1961ء میں یہاں دار العلوم مجددیہ نعیمیہ کی بنیاد رکھی ۔ جب دار العلوم تعمیر ہوا تو مفتی صاحب نے خود مزدوروں کے ساتھ کام کیا۔ اس سے آپ کے اخلاص اور بے نفسی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

وصال:
آپ علیہ الرحمہ سیہون شریف جاتے ہوئے، کار حادثے میں شدید زخمی ہو گئے تھے ۔ بالآخر یہ محسنِ اہلِ سنت،57 سال کی عمر میں 10 شوال المکرم، 1402ھ بمطابق 30 جولائی 1982ء کو رات 3 بجکر 15منٹ پر کلمۂ طیبہ پڑھا اور آخری ہچکی لی ۔ روح پرواز کرنے کے باوجود قلب، ذکر الہی میں بیس منٹ تک جاری رہا ۔ یہ دیکھ کر ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے ۔ علامہ عبد المصطفیٰ الازہری نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ شام کو دار العلوم مجددیہ نعیمہ ملیر (کراچی) کے احاطے میں مدفون ہوئے ۔

( انوار علمائے اہلِ سنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-abdullah-baloch-naeemi-shaheed
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ محمد حسین نقشبندی پسروی علیہ الرحمہ

حضرت علامہ محمد حسین نقشبندی پسروری بن میاں فضل دین﷫ ۱۸۷۰ء/ ۱۲۸۷ھ میں پسرور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ـ

بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ نور محمد تیراہی قدس سرہ متوفّی ۱۲۸۲ھ/ ۱۸۶۵ء چورہ شریف ضلع اٹک کے خلیفۂ اوّل٭ اور حضرت حافظ خواجہ فتح الدین نقشبندی﷫ متوفّی ۱۳۱۴ھ/ ۱۸۹۶ء جامع مسجد اعوانان رنگ پورہ سیالکوٹ والے کے مرید و خلیفہ تھے ـ

سیرت و خصائص:
آپ نہایت خوش اخلاق، شیریں زبان اور پرتاثیر مردِ خدا تھے، طبیعت میں انکساری اور رحم دلی کمال درجے کی تھی، قطبِ مدینہ﷫ فرمایا کرتے کہ مولانا نور احمد پسروری (آپ کے بڑے بھائی اور استاد) پر علم کا غلبہ اور مولانا محمد حسین پسروری پر تصوّف کا غلبہ تھا۔

وصال:
۱۰/ ۱۱ شوّال ۱۳۷۰ھ/ ۱۵ جولائی ۱۹۵۱ء بروز اتوار بوقت عصر ۸۰ برس کی عمر میں رحلت فرمائی ۔

٭ انوارِ قطب مدینہ ص۱۵۰ پر مولانا محمد حسین پسروری کی بیعت خواجہ فقیر محمد تیراہی قدس سرہ کی جانب منسوب ہے جو غلط ہے آپ کا وصال مولانا محمد حسین پسروری کی ولادت سے ۵ سال قبل ہوا تھا۔ سیّدی ضیاء الدین جلد۱ ص۱۵ پر بھی آپ کو خواجہ نور محمد تیراہی سے خلیفہ اول ہونے کا لکھا گیا ہے، جبکہ یہ بھی غلط ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-hussain-naqshbandi-pisrori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو المصطفی شیخ طیب رفیقی علیہ الرحمہ

شیخ طیب بن احمد بن مصطفیٰ بن معین الحق والملۃ والدین رفیقی:

کنیت:
آپ کی کنیت ابو المصطفیٰ تھی ۔

ولادت:
۱۱۹۱ھ میں پیدا ہوئے ـ

سیرت و خصائص:
اپنے زمانہ کے شیخ الاسلام والمسلمین، قطب العارفین، غوث المحققین، فقیہ محدث، بحر زخار علوم تھے ـ

تعلیم:
قرآن کو اخوند خیر الدین بن اخوندابی البقاء بانڈے سے پڑھا اور علوم و فنون و فقہ وحدیث و تفسیر و کلام و معارف وحقائق و دقائق و تصووف و سلوک کو اپنے باپ اور تایا اور تایا کے بیٹون اور شیخ ابی یوسف عبد الغفور سے حاصل کیا ـ

بیعت:
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے والد گرامی سے بیت کی اور مشائخ عظام و اولیائے کرام کی صحبت سے مستفید ہوئے اور میاں عبد المجید سے طریقہ قادریہ و کبرویہ اور شطاریہ اخذ کیا ۔ اخیر عمر میں مسجد میں معتکف ہو کر قائم اللیل اور صائم النہار ہوئے ۔

آپ علیہ الرحمہ سے ایک جم غفیر علماء و فضلاء نے استفادہ کیا ۔ حدیث و فقہ و سلوک اور معرفت میں تصنیفات معتبرہ کیں اور حنفی مذہب کے بڑے حامی رہے، کرامات و خوارق عادات بھی آپ سے صادر ہوئے ۔

وصال:
پیر کے روز ۱۰ شوال ۱۲۹۶ھ میں وفات پائی اور ایک لاکھ سے زیادہ آدمی آپ کے جنازہ پر حاضر ہوئے ۔ ’’ ماہع علم حدیث و قرآن ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-mustafa-sheikh-taib-rafiqui
1