مجاہدِ جنگ آزادی، حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: مجاہدِ جنگ آزادی، امام الصرف، جامع العلوم ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی بن منشی محمد بخش بن منشی غلام محمد بن منشی لطف اللہ علیہم الرحمہ ۔
آپ کے آباؤ اجداد میں امیر حسام نامی ایک بزرگ بغداد سے ہندوستان آئے ۔ دیوہ ضلع بارہ بنکی اودھ میں مقیم ہو گئے ۔ امیر حسام کے صاحبزادے ضیاء الدین دیوہ کے قاضی مقرر ہوئے ۔ آپ کا خاندان علم و فضل اور دینی و دنیاوی وجاہت میں معروف تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1228ھ مطابق اوائل ماہ اکتوبر 1813ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں ہوئی ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے والد گرامی نے کاکوروی ضلع لکھنؤ اپنے سسرال منتقل ہوئے تو آپ بھی اپنی ننھیال میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ جس کی نسبت سے آپ کو ’’کاکوروی‘‘ کہا جانے لگا ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم دیوہ اور کاکوری میں ہوئی ۔ مزید تعلیم کے لئے آپ نے رام پور سفر کیا ۔ جہاں مولانا سید محمد رام پوری سے صرف و نحو اور مولانا نور الاسلام اور مولوی حیدر علی سے دیگر علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں ۔ پھر دہلی آکر مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی سے درس حدیث و سند حدیث حاصل کی ۔ دہلی کے بعد علی گڑھ پہنچے وہاں پر مولانا بزگ علی مارہروی (شاگر مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی) سے ریاضی پڑھی ۔فراغت کے بعد علی گڑھ میں ہی مفتی و منصف (جج) مقرر کیے گئے ۔ جامع مسجد علی گڑھ میں مدرس ہو گئے ۔ علی گڑھ کے تلامذہ میں مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا سید حسین شاہ بخاری وغیرہ ہیں ۔
سیرت و خصائص:
غریق بحرِ رحمت، امامِ عزیمت، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، مجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور عظیم داعی تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں، محبت و خلوص اور درس و افتا میں مہارتِ تامہ کے سبب آپ کی شہرت اور نیک نامی دور دور تک پھیلتی گئی ۔ آپ عوام و خواص کے مرجع بنتے گئے ۔ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کو درس و تدریس سے بے پناہ لگاؤ اور شغف تھا ۔ آپ عدالت میں جاری اجلاس کے دوران بھی اپنے طلبہ کو مقدمے سے فرصت ملتے ہی پڑھانے لگتے تھے ۔
علم بانٹنے اور پھیلانے کی جو اُمنگ اور جوش و ولولہ آپ کے اندر تھا نیز آپ کے تدریسی ذوق و شوق، طریقۂ تعلیم و تربیت، طلبہ سے محبت و مروت اور تقسیم علم کے جذبۂ خیر کا اندازہ پروفیسر ایوب قادری بدایونی کی تحریر کردہ اس روایت سے ہوتا ہے:
مولانا سید حسین شاہ بخاری فرمایا کرتے تھے کہ مفتی صاحب مجھ کو ہدایہ اجلاس میں پڑھایا کرتے تھے ۔ جیسے ہی کسی مقدمہ سے فرصت ہوئی اشارہ ہوتا ۔ میں پڑھنا شروع کر دیتا ۔ پھر کوئی سرکاری کام آ جاتا تو اس میں مصروف ہو جاتے ۔ اس دو گونہ مصروفیت کے باوجود مسائل اس طرح ذہن نشین کرا دِیئے کہ کبھی فراموش نہ ہوئے ۔ آپ طلبہ سے خاص تعلق رکھتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب کی تعلیم کے زمانہ میں ہی مفتی صاحب کا تبادلہ علی گڑھ سے بریلی ہو گیا تھا ۔ مولوی لطف اللہ صاحب بریلی ساتھ گئے ۔ وہاں جملہ کتبِ درسیہ ختم کیں ۔ صبح کی نماز کے بعد مفتی عنایت احمد صاحب تلاوت کرتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب خدمت میں حاضر رہتے ۔ دورانِ تلاوت کوئی مشکل صیغہ آتا تو مفتی صاحب خود حل کرکے بتاتے ۔ مفتی عنایت احمد صاحب نے فراغت کے بعد مولوی لطف اللہ صاحب کو اپنے ہی اجلاس کا سر رشتہ دار مقرر کر لیا ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب ص:118)
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: مجاہدِ جنگ آزادی، امام الصرف، جامع العلوم ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی بن منشی محمد بخش بن منشی غلام محمد بن منشی لطف اللہ علیہم الرحمہ ۔
آپ کے آباؤ اجداد میں امیر حسام نامی ایک بزرگ بغداد سے ہندوستان آئے ۔ دیوہ ضلع بارہ بنکی اودھ میں مقیم ہو گئے ۔ امیر حسام کے صاحبزادے ضیاء الدین دیوہ کے قاضی مقرر ہوئے ۔ آپ کا خاندان علم و فضل اور دینی و دنیاوی وجاہت میں معروف تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1228ھ مطابق اوائل ماہ اکتوبر 1813ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں ہوئی ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے والد گرامی نے کاکوروی ضلع لکھنؤ اپنے سسرال منتقل ہوئے تو آپ بھی اپنی ننھیال میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ جس کی نسبت سے آپ کو ’’کاکوروی‘‘ کہا جانے لگا ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم دیوہ اور کاکوری میں ہوئی ۔ مزید تعلیم کے لئے آپ نے رام پور سفر کیا ۔ جہاں مولانا سید محمد رام پوری سے صرف و نحو اور مولانا نور الاسلام اور مولوی حیدر علی سے دیگر علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں ۔ پھر دہلی آکر مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی سے درس حدیث و سند حدیث حاصل کی ۔ دہلی کے بعد علی گڑھ پہنچے وہاں پر مولانا بزگ علی مارہروی (شاگر مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی) سے ریاضی پڑھی ۔فراغت کے بعد علی گڑھ میں ہی مفتی و منصف (جج) مقرر کیے گئے ۔ جامع مسجد علی گڑھ میں مدرس ہو گئے ۔ علی گڑھ کے تلامذہ میں مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا سید حسین شاہ بخاری وغیرہ ہیں ۔
سیرت و خصائص:
غریق بحرِ رحمت، امامِ عزیمت، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، مجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور عظیم داعی تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں، محبت و خلوص اور درس و افتا میں مہارتِ تامہ کے سبب آپ کی شہرت اور نیک نامی دور دور تک پھیلتی گئی ۔ آپ عوام و خواص کے مرجع بنتے گئے ۔ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کو درس و تدریس سے بے پناہ لگاؤ اور شغف تھا ۔ آپ عدالت میں جاری اجلاس کے دوران بھی اپنے طلبہ کو مقدمے سے فرصت ملتے ہی پڑھانے لگتے تھے ۔
علم بانٹنے اور پھیلانے کی جو اُمنگ اور جوش و ولولہ آپ کے اندر تھا نیز آپ کے تدریسی ذوق و شوق، طریقۂ تعلیم و تربیت، طلبہ سے محبت و مروت اور تقسیم علم کے جذبۂ خیر کا اندازہ پروفیسر ایوب قادری بدایونی کی تحریر کردہ اس روایت سے ہوتا ہے:
مولانا سید حسین شاہ بخاری فرمایا کرتے تھے کہ مفتی صاحب مجھ کو ہدایہ اجلاس میں پڑھایا کرتے تھے ۔ جیسے ہی کسی مقدمہ سے فرصت ہوئی اشارہ ہوتا ۔ میں پڑھنا شروع کر دیتا ۔ پھر کوئی سرکاری کام آ جاتا تو اس میں مصروف ہو جاتے ۔ اس دو گونہ مصروفیت کے باوجود مسائل اس طرح ذہن نشین کرا دِیئے کہ کبھی فراموش نہ ہوئے ۔ آپ طلبہ سے خاص تعلق رکھتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب کی تعلیم کے زمانہ میں ہی مفتی صاحب کا تبادلہ علی گڑھ سے بریلی ہو گیا تھا ۔ مولوی لطف اللہ صاحب بریلی ساتھ گئے ۔ وہاں جملہ کتبِ درسیہ ختم کیں ۔ صبح کی نماز کے بعد مفتی عنایت احمد صاحب تلاوت کرتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب خدمت میں حاضر رہتے ۔ دورانِ تلاوت کوئی مشکل صیغہ آتا تو مفتی صاحب خود حل کرکے بتاتے ۔ مفتی عنایت احمد صاحب نے فراغت کے بعد مولوی لطف اللہ صاحب کو اپنے ہی اجلاس کا سر رشتہ دار مقرر کر لیا ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب ص:118)
👍1
جنگ آزادی میں کردار:
1857ء میں جب انگریزوں کے خلاف انقلاب کی دستک ہوئی تو اس میں مفتی عنایت احمد کاکوروی نے نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ آپ جہادِ آزادی کی تنظیم و تشکیل کے لیے شب و روز مصروف رہے ۔ بریلی ان دنوں آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور آپ تحریکِ آزادی کے قائد و رہنما تھے ۔میاں عبد الرشید کالم نگار روز نامہ نوائے وقت لاہور کے بہ قول: ’’آپ بریلی میں نواب خان بہادر خاں روہیلہ کی زیرِ قیادت جہادِ حریت کی تنظیم کے لیے سرگرمِ عمل رہے ۔
ان دنوں روہیل کھنڈ بریلی مجاہدینِ آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ کے جد امجد مولانا رضا علی خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ اس تحریک کے قائدین میں سے تھے ۔ مفتی عنایت احمد علیہ الرحمہ نے مجاہدین کی تنظیم پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ نواب خان بہادر خاں روہیلہ کے دستِ راست کی حیثیت سے مختلف معرکوں میں عملی حصہ بھی لیا ۔ ‘‘ (جنگِ آزادی نمبر ، ترجمانِ اہل سنت کراچی ، شمارہ جولائی 1975ء)
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی علمی صلاحیتوں اور لیاقتوں کی بنیاد پر اُن کو 1273ھ میں آگرہ کا صدر الصدور بنایا گیا ۔ آپ ابھی بریلی سے آگرہ جانے کی تیاریوں میں مصروف ہی تھے کہ 1857ء کی جنگ کا آغاز ہو گیا اور آپ نے آگرہ جانا ترک کر دیا اور بریلی و رام پور میں جنگِ آزادی کے لیے متحرک و فعال ہو گئے ۔ لوگوں کے اندر جذبۂ حریت کو بیدار کیا ۔
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ آپ نے بریلی میں قیام کے دوران ’’ جلسۂ تائیدِ دینِ متین ‘‘ کے نام سے ایک تبلیغی و اصلاحی انجمن کی بنیاد ڈالی تھی ۔ جس کے تحت آپ نے دینی لٹریچر کی نشر و اشاعت کی ۔ اس انجمن کو بر صغیر کے مسلمانوں کا پہلا اصلاحی ادارہ کہا جاتا ہے ۔ اس انجمن سے شائع ہونے والی کتب زیادہ تر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی تالیف کردہ ہوتی تھیں ۔ یہ کتابیں اصلاحی اور تبلیغی موضوعات پر تھیں ۔
جب ہندوستان میں پہلی جنگِ آزادی کی روح بیدار ہونا شروع ہوئی تو اس وقت انگریزوں کے خلاف علَمِ جہاد بلند کرنے اور مجاہدین کے لیے مالی امداد و اعانت پر ایک اہم فتویٰ بریلی میں جاری ہوا تو اس پر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ نے اپنے دستخط ثبت کیے اور عوام و خواص میں روحِ آزادی پھونکنے میں عملی کردار ادا کیا ۔
1857ء میں جب انگریزوں کے خلاف انقلاب کی دستک ہوئی تو اس میں مفتی عنایت احمد کاکوروی نے نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ آپ جہادِ آزادی کی تنظیم و تشکیل کے لیے شب و روز مصروف رہے ۔ بریلی ان دنوں آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور آپ تحریکِ آزادی کے قائد و رہنما تھے ۔میاں عبد الرشید کالم نگار روز نامہ نوائے وقت لاہور کے بہ قول: ’’آپ بریلی میں نواب خان بہادر خاں روہیلہ کی زیرِ قیادت جہادِ حریت کی تنظیم کے لیے سرگرمِ عمل رہے ۔
ان دنوں روہیل کھنڈ بریلی مجاہدینِ آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ کے جد امجد مولانا رضا علی خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ اس تحریک کے قائدین میں سے تھے ۔ مفتی عنایت احمد علیہ الرحمہ نے مجاہدین کی تنظیم پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ نواب خان بہادر خاں روہیلہ کے دستِ راست کی حیثیت سے مختلف معرکوں میں عملی حصہ بھی لیا ۔ ‘‘ (جنگِ آزادی نمبر ، ترجمانِ اہل سنت کراچی ، شمارہ جولائی 1975ء)
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی علمی صلاحیتوں اور لیاقتوں کی بنیاد پر اُن کو 1273ھ میں آگرہ کا صدر الصدور بنایا گیا ۔ آپ ابھی بریلی سے آگرہ جانے کی تیاریوں میں مصروف ہی تھے کہ 1857ء کی جنگ کا آغاز ہو گیا اور آپ نے آگرہ جانا ترک کر دیا اور بریلی و رام پور میں جنگِ آزادی کے لیے متحرک و فعال ہو گئے ۔ لوگوں کے اندر جذبۂ حریت کو بیدار کیا ۔
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ آپ نے بریلی میں قیام کے دوران ’’ جلسۂ تائیدِ دینِ متین ‘‘ کے نام سے ایک تبلیغی و اصلاحی انجمن کی بنیاد ڈالی تھی ۔ جس کے تحت آپ نے دینی لٹریچر کی نشر و اشاعت کی ۔ اس انجمن کو بر صغیر کے مسلمانوں کا پہلا اصلاحی ادارہ کہا جاتا ہے ۔ اس انجمن سے شائع ہونے والی کتب زیادہ تر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی تالیف کردہ ہوتی تھیں ۔ یہ کتابیں اصلاحی اور تبلیغی موضوعات پر تھیں ۔
جب ہندوستان میں پہلی جنگِ آزادی کی روح بیدار ہونا شروع ہوئی تو اس وقت انگریزوں کے خلاف علَمِ جہاد بلند کرنے اور مجاہدین کے لیے مالی امداد و اعانت پر ایک اہم فتویٰ بریلی میں جاری ہوا تو اس پر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ نے اپنے دستخط ثبت کیے اور عوام و خواص میں روحِ آزادی پھونکنے میں عملی کردار ادا کیا ۔
❤1
انگریزوں نے جب انقلاب 1857ء کو نا کام بنانے کے بعد علمائےکرام اور قائدینِ انقلاب کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنا شروع کیا تو اس دوران بریلی کے اسی اہم فتویٰ کی بنیاد پر مفتی عنایت احمد کاکوروی کے خلاف بھی مقدمہ چلایا گیا دکھاوے کی خاطر معمولی سی سطحی عدالتی کارروائی کے بعد آپ کو سزائے کالا پانی کے طور پر جزیرۂ انڈیمان بھیج دیا گیا ۔ جہاں آپ نے چار سال تک قید و بند کی سخت مشقتیں جھیلیں ۔
انگریزوں کی طرف سے دیگر علماء و قائدین کی طرح آپ پر بھی طرح طرح سے مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ۔ حالتِ اسیری میں ابھی دو سال ہوئے تھے کہ ایک انگریز نے آپ سے مشہورِ زمانہ کتاب ’’ تقویم البلدان ‘‘ کے ترجمہ کی خواہش ظاہر کی جسے آپ نے قبول فرما کر دو سال میں مکمل کر دیا ۔ اس اہم علمی کام سے متاثر ہو کر اُسی انگریز نے آپ کی رہائی کی راہیں ہموار کیں اور آپ 1277ھ / 1860ء میں جزیرۂ اینڈ و مان سے آزاد ہو کر ہندوستان واپس آئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں سزاے کالا پانی کے دوران مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی طرح قائدِ تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ بھی محبوس تھے ۔
ان دو عظیم المرتبت علمائے کرام کی موجودگی سے انڈمان کا قید خانہ بھی علم و فضل اور دین و دانش کا ایک مرکز بن گیا ۔
ہمارے ان مقتدر اسلافِ کرام نے بہ حالتِ اسیری دین و ادب کی خوب خوب خدمت انجام دی ۔ تصنیف و تالیف اور تحقیق و تفحص کا سلسلۂ خیر جاری رکھا جس کے نتیجے میں کئی اہم کتب و رسائل منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں مفتی عنایت احمد کوروی اور علامہ فضل حق خیرآبادی علیہم الرحمہ کی تاریخی و علمی خدمات کے بارے میں مولانا عبد الشاہد شیروانی رقم طراز ہیں:
علامہ فضل حق جزیرۂ انڈمان پہنچے ـ مفتی عنایت احمد کاکوروی، مفتی مظہر کریم دریا بادی اور دوسرے مجاہدین علماء وہاں پہنچ چکے تھے ۔ ان علماء کی برکت سے یہ جزیرہ دار العلوم بَن گیا تھا ۔
ان حضرات نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ وہاں بھی قائم رکھا ۔ خرابیِ آب و ہوا، تکالیف شاقہ و جدائی احباب و اعزہ کے باوجود علمی مشاغل جاری رہے ۔
مفتی صاحب (مفتی عنایت احمد کاکوروی) نے ’’ علم الصیغہ ‘‘ جیسی صَرف کی مفید کتاب جو آج تک داخلِ نصاب ہے وہیں لکھی ۔ ’’ تواریخِ حبیبِ الٰہ ‘‘ بھی تالیف کی ۔ ان دونوں کتابوں کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان حضرات کے سینے علم کے سفینے بَن گئے تھے ۔ تاریخی یاد داشت، ترتیبِ واقعات، قواعدِ فنون، ضوابطِ علوم سبھی حیرت انگیز کرشمے دِکھا رہے ہیں ‘‘ ۔ قرآن مجید بھی وہیں پر حفظ کیا ۔ (باغیِ ہندوستان ص:225)
سفرِ حج و زیارت کے دوران حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ اپنی ایک اہم ترین بے نقطہ کتاب ’’ لوامع العلوم و اسرار العلوم ‘‘ کا مسودہ ساتھ لے کر گئے تھے ۔ راستے میں نہایت عالمانہ و محققانہ انداز میں بڑی عرق ریزی اور جانفشانی اس کو مرتب فرما رہے تھے ۔ افسوس! کہ جہاز ٹکرانے سے یہ نہایت اہم ذخیرۂ علوم و فنون غرقِ سمندر ہو گیا اور دنیا ایک بڑے خزانے سے محروم رہ گئی ۔ اس میں چالیس علوم کا خلاصہ لکھنا پیشِ نظر تھا ۔ ہر علم کا نام بھی بے نقطہ تھا ۔ مثلاً علوم التفسیر کا نام علم کلام اللہ ۔ علم حدیث کا نام علم کلام الرسول ۔ علم فقہ کا نام علم الاحکام ۔ وغیرہ ۔
حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے پیکر با عمل عالمِ دین تھے ۔ آپ نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ دینِ متین کی خدمت اور تعلیم و تعلم میں بسر فرمائی ۔ علوم و فنون کے جامع اور ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع المطالعہ اور ژرف نگاہ محقق و مصنف تھے ۔ قوم و ملت کا درد اور انقلابِ امت کا جذبۂ خیر آپ کے سینے میں موجز ن تھا ۔ آپ کی اصلاحی و تبلیغی تڑپ بھی نمایاں تھی ۔ جس کے لیے آپ ہمہ دم ہمہ تن عملی کوششوں میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ آپ جہاں بھی رہے عوام و خواص کی توجہ کا مرکز رہے اور دینی و علمی کاموں میں نہایت فعال اور متحرک رہے ۔ اسی طرح آپ نے متنازعہ ترین کتاب تقویۃ الایمان کا مختلف طریقوں سے رد کیا ۔ (الحق المبین ص:9)
تاریخِ وصال:
آپ علیہ الرحمہ نے 1279ھ کو بذریعہ بحری جہاز حج کا سفر کیا ۔ جہاز جدہ پہنچ کر پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوب گیا ۔ مفتی صاحب بحالتِ نماز احرام باندھے ہوئے 17 شوال 1279ھ مطابق 7 اپریل 1663ء کو غریقِ بحرِ رحمت ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ چند ممتاز علمائے انقلاب ۔ باغی ہندوستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-inayat-ahmed-kakorwi
انگریزوں کی طرف سے دیگر علماء و قائدین کی طرح آپ پر بھی طرح طرح سے مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ۔ حالتِ اسیری میں ابھی دو سال ہوئے تھے کہ ایک انگریز نے آپ سے مشہورِ زمانہ کتاب ’’ تقویم البلدان ‘‘ کے ترجمہ کی خواہش ظاہر کی جسے آپ نے قبول فرما کر دو سال میں مکمل کر دیا ۔ اس اہم علمی کام سے متاثر ہو کر اُسی انگریز نے آپ کی رہائی کی راہیں ہموار کیں اور آپ 1277ھ / 1860ء میں جزیرۂ اینڈ و مان سے آزاد ہو کر ہندوستان واپس آئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں سزاے کالا پانی کے دوران مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی طرح قائدِ تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ بھی محبوس تھے ۔
ان دو عظیم المرتبت علمائے کرام کی موجودگی سے انڈمان کا قید خانہ بھی علم و فضل اور دین و دانش کا ایک مرکز بن گیا ۔
ہمارے ان مقتدر اسلافِ کرام نے بہ حالتِ اسیری دین و ادب کی خوب خوب خدمت انجام دی ۔ تصنیف و تالیف اور تحقیق و تفحص کا سلسلۂ خیر جاری رکھا جس کے نتیجے میں کئی اہم کتب و رسائل منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں مفتی عنایت احمد کوروی اور علامہ فضل حق خیرآبادی علیہم الرحمہ کی تاریخی و علمی خدمات کے بارے میں مولانا عبد الشاہد شیروانی رقم طراز ہیں:
علامہ فضل حق جزیرۂ انڈمان پہنچے ـ مفتی عنایت احمد کاکوروی، مفتی مظہر کریم دریا بادی اور دوسرے مجاہدین علماء وہاں پہنچ چکے تھے ۔ ان علماء کی برکت سے یہ جزیرہ دار العلوم بَن گیا تھا ۔
ان حضرات نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ وہاں بھی قائم رکھا ۔ خرابیِ آب و ہوا، تکالیف شاقہ و جدائی احباب و اعزہ کے باوجود علمی مشاغل جاری رہے ۔
مفتی صاحب (مفتی عنایت احمد کاکوروی) نے ’’ علم الصیغہ ‘‘ جیسی صَرف کی مفید کتاب جو آج تک داخلِ نصاب ہے وہیں لکھی ۔ ’’ تواریخِ حبیبِ الٰہ ‘‘ بھی تالیف کی ۔ ان دونوں کتابوں کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان حضرات کے سینے علم کے سفینے بَن گئے تھے ۔ تاریخی یاد داشت، ترتیبِ واقعات، قواعدِ فنون، ضوابطِ علوم سبھی حیرت انگیز کرشمے دِکھا رہے ہیں ‘‘ ۔ قرآن مجید بھی وہیں پر حفظ کیا ۔ (باغیِ ہندوستان ص:225)
سفرِ حج و زیارت کے دوران حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ اپنی ایک اہم ترین بے نقطہ کتاب ’’ لوامع العلوم و اسرار العلوم ‘‘ کا مسودہ ساتھ لے کر گئے تھے ۔ راستے میں نہایت عالمانہ و محققانہ انداز میں بڑی عرق ریزی اور جانفشانی اس کو مرتب فرما رہے تھے ۔ افسوس! کہ جہاز ٹکرانے سے یہ نہایت اہم ذخیرۂ علوم و فنون غرقِ سمندر ہو گیا اور دنیا ایک بڑے خزانے سے محروم رہ گئی ۔ اس میں چالیس علوم کا خلاصہ لکھنا پیشِ نظر تھا ۔ ہر علم کا نام بھی بے نقطہ تھا ۔ مثلاً علوم التفسیر کا نام علم کلام اللہ ۔ علم حدیث کا نام علم کلام الرسول ۔ علم فقہ کا نام علم الاحکام ۔ وغیرہ ۔
حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے پیکر با عمل عالمِ دین تھے ۔ آپ نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ دینِ متین کی خدمت اور تعلیم و تعلم میں بسر فرمائی ۔ علوم و فنون کے جامع اور ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع المطالعہ اور ژرف نگاہ محقق و مصنف تھے ۔ قوم و ملت کا درد اور انقلابِ امت کا جذبۂ خیر آپ کے سینے میں موجز ن تھا ۔ آپ کی اصلاحی و تبلیغی تڑپ بھی نمایاں تھی ۔ جس کے لیے آپ ہمہ دم ہمہ تن عملی کوششوں میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ آپ جہاں بھی رہے عوام و خواص کی توجہ کا مرکز رہے اور دینی و علمی کاموں میں نہایت فعال اور متحرک رہے ۔ اسی طرح آپ نے متنازعہ ترین کتاب تقویۃ الایمان کا مختلف طریقوں سے رد کیا ۔ (الحق المبین ص:9)
تاریخِ وصال:
آپ علیہ الرحمہ نے 1279ھ کو بذریعہ بحری جہاز حج کا سفر کیا ۔ جہاز جدہ پہنچ کر پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوب گیا ۔ مفتی صاحب بحالتِ نماز احرام باندھے ہوئے 17 شوال 1279ھ مطابق 7 اپریل 1663ء کو غریقِ بحرِ رحمت ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ چند ممتاز علمائے انقلاب ۔ باغی ہندوستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-inayat-ahmed-kakorwi
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Inayat Ahmed Kakorwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سراج الہند شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی :شاہ عبد العزیز ۔ لقب: سراج الہند ۔ تاریخی نام: غلام حلیم ۔
سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
شاہ عبد العزیز بن شاہ ولی اللہ بن شاہ عبد الرحیم بن شاہ وجیہ الدین شہید ۔ (علیہم الرحمہ)
آپ کاسلسلہ نسب 34 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
25 رمضان المبارک1159ھ بمطابق10 اکتوبر1746ء بروز جمعۃ المبارک بوقتِ سحر،دہلی میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے گھرپیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
جمیع علومِ عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والدِ ماجد اور انکے خلفاء سے ہوئی۔ان میں سے باالخصوص شیخ اجل شاہ محمد عاشق پھلتی اور مولانا محمد امین سے استفادہ کیا۔بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کرلیا تھا،اورپندرہ سال کی عمر میں جمیع علوم سے فراغت حاصل کرلی تھی۔
ختمِ قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی آمد: ختمِ قرآن کے بعد جب آپ نے پہلی مرتبہ تراویح میں قرآن میں سنایا ۔تراویح کی نماز مکمل ہوئی توایک شخص عربی لباس میں تشریف لائے اورفرمایا:رسول اللہ ﷺکہاں تشریف فرماہیں؟جولوگ وہاں موجود تھے سب دوڑتےہوئے آئے اور اس شخص کو گھیرلیااور پوچھاحضرت آپ کیافرمارہے ہیں اور آپ کانام کیا ہے؟،انہوں نے فرمایا!میرانام ابوہریرہ ہے۔جناب ِ سیدالمرسلین ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھاکہ عبدالعزیز دہلوی کا قرآن ِمجید سننے چلیں گےاورپھرمجھے کسی کام کیلئے بھیج دیا اس لئے مجھے دیر ہوگئی۔یہ فرمایا اور تشریف لے گئے۔(کمالتِ عزیزی ص:19)
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت وخلافت حاصل تھی۔ سترہ سال کی عمر میں والد کے جانشین مقرر ہوئے۔شاہ ولی ا للہ علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد ان کے سوئم میں حضرت مولانا شاہ محمد فخرالدین دہلوی چشتی علیہ الرحمہ نے آپ کی دستاربندی کی اوربطوربزرگانہ ارشادفرمایا:"آپ کے والد سے بعض مقامات پر جوتسامحات واقع ہوئے ہیں انکو مٹانے کی کوشش کیجئے گا۔"(تذکرہ علمائے اہل سنت ص:140)
سیرت و خصائص:
خطۂ ہند میں استاذ الاساتذہ ، امام جہابذہ ،بقیۃ السلف،حجۃ الخلف،خاتم المفسرین والمحدثین ،جامع علومِ نقلیہ وعقلیہ ،مرجع الفریقین،مجمع الطریقین،حبرِ شریعت،بحرِ طریقت۔حضرت شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ۔آپ داراز قد ،لاغر جسم ، گندمی رنگ ،وجیہ شکل، خوبصورت سنت کے مطابق گول داڑھی ، اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔آپ ظاہری اورباطنی علوم کے جامع، علم وعمل کے پیکر اور زہد وتقویٰ کے سچے نمونہ تھے۔آپ نرم طبیعت ، خوش اخلاق ،اورہر چیز میں ستھرا مذاق رکھتے تھے۔ اپنے وقت کے علماء ومشائخ آپ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ تمام علوم متداولہ اور غیر متداولہ کے علاوہ بہت سے فنون عقلیہ ونقلیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ حافظہ آپ کا بہت قوی تھا۔ ہزاروں احادیث اور عربی اشعار ازبر تھے۔ تعبیر الرؤیا میں بڑا ملکہ تھا۔ آپ کا وعظ بڑا پر مغزاورپراثر ہوتا تھا۔ فقہ وحدیث اور علم تفسیر میں یکتائے زمانہ تھے۔ سب لوگ کیا موافق اورکیامخالف آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ تفسیر عزیزی کے نام سے ان کی تفسیر کا کچھ حصہ آج موجود ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اہل تشیع کے رد میں تحفہ اثناعشریہ ایسی کتاب لکھی کہ آج تک شیعہ علماء اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ تمام عمر درس وتدریس اوردینی خدمات میں گزاری۔خصوصاً حدیث کا فیض ہندوستان میں عام کیا۔ہندوستان کے اکثر محدثین کا سلسلہ اسناد آپ تک اور آپ کے ذریعے شاہ ولی اللہ تک پہنچتا ہے۔کوئی علم اور فن ایسا نہ تھا جس میں آپ کو ملکہ حاصل نہ ہو۔
مولانا ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب ۱۱۵۹ھ تا ۱۲۳۹ھ میں اس لیے کہ مجد د کی صفات ان میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ آپ بارہویں صدی کے آخر میں صاحب علم و فضل و زہد و تقویٰ مشہور دیار و اطراف تھے۔ اور تیرہویں صدی کے آغاز میں ان کا طوطی ہندوستان میں بولتا تھا اور ساری عمر دینی خدمت درس و تدریس افتاء تصنیف وعظ و سند، حمایت دین اورردمفسدین میں صرف اوقات فرماتے رہے۔ (مجدد اعظم ص:42)
نام و نسب:
اسمِ گرامی :شاہ عبد العزیز ۔ لقب: سراج الہند ۔ تاریخی نام: غلام حلیم ۔
سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
شاہ عبد العزیز بن شاہ ولی اللہ بن شاہ عبد الرحیم بن شاہ وجیہ الدین شہید ۔ (علیہم الرحمہ)
آپ کاسلسلہ نسب 34 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
25 رمضان المبارک1159ھ بمطابق10 اکتوبر1746ء بروز جمعۃ المبارک بوقتِ سحر،دہلی میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے گھرپیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
جمیع علومِ عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والدِ ماجد اور انکے خلفاء سے ہوئی۔ان میں سے باالخصوص شیخ اجل شاہ محمد عاشق پھلتی اور مولانا محمد امین سے استفادہ کیا۔بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کرلیا تھا،اورپندرہ سال کی عمر میں جمیع علوم سے فراغت حاصل کرلی تھی۔
ختمِ قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی آمد: ختمِ قرآن کے بعد جب آپ نے پہلی مرتبہ تراویح میں قرآن میں سنایا ۔تراویح کی نماز مکمل ہوئی توایک شخص عربی لباس میں تشریف لائے اورفرمایا:رسول اللہ ﷺکہاں تشریف فرماہیں؟جولوگ وہاں موجود تھے سب دوڑتےہوئے آئے اور اس شخص کو گھیرلیااور پوچھاحضرت آپ کیافرمارہے ہیں اور آپ کانام کیا ہے؟،انہوں نے فرمایا!میرانام ابوہریرہ ہے۔جناب ِ سیدالمرسلین ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھاکہ عبدالعزیز دہلوی کا قرآن ِمجید سننے چلیں گےاورپھرمجھے کسی کام کیلئے بھیج دیا اس لئے مجھے دیر ہوگئی۔یہ فرمایا اور تشریف لے گئے۔(کمالتِ عزیزی ص:19)
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت وخلافت حاصل تھی۔ سترہ سال کی عمر میں والد کے جانشین مقرر ہوئے۔شاہ ولی ا للہ علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد ان کے سوئم میں حضرت مولانا شاہ محمد فخرالدین دہلوی چشتی علیہ الرحمہ نے آپ کی دستاربندی کی اوربطوربزرگانہ ارشادفرمایا:"آپ کے والد سے بعض مقامات پر جوتسامحات واقع ہوئے ہیں انکو مٹانے کی کوشش کیجئے گا۔"(تذکرہ علمائے اہل سنت ص:140)
سیرت و خصائص:
خطۂ ہند میں استاذ الاساتذہ ، امام جہابذہ ،بقیۃ السلف،حجۃ الخلف،خاتم المفسرین والمحدثین ،جامع علومِ نقلیہ وعقلیہ ،مرجع الفریقین،مجمع الطریقین،حبرِ شریعت،بحرِ طریقت۔حضرت شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ۔آپ داراز قد ،لاغر جسم ، گندمی رنگ ،وجیہ شکل، خوبصورت سنت کے مطابق گول داڑھی ، اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔آپ ظاہری اورباطنی علوم کے جامع، علم وعمل کے پیکر اور زہد وتقویٰ کے سچے نمونہ تھے۔آپ نرم طبیعت ، خوش اخلاق ،اورہر چیز میں ستھرا مذاق رکھتے تھے۔ اپنے وقت کے علماء ومشائخ آپ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ تمام علوم متداولہ اور غیر متداولہ کے علاوہ بہت سے فنون عقلیہ ونقلیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ حافظہ آپ کا بہت قوی تھا۔ ہزاروں احادیث اور عربی اشعار ازبر تھے۔ تعبیر الرؤیا میں بڑا ملکہ تھا۔ آپ کا وعظ بڑا پر مغزاورپراثر ہوتا تھا۔ فقہ وحدیث اور علم تفسیر میں یکتائے زمانہ تھے۔ سب لوگ کیا موافق اورکیامخالف آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ تفسیر عزیزی کے نام سے ان کی تفسیر کا کچھ حصہ آج موجود ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اہل تشیع کے رد میں تحفہ اثناعشریہ ایسی کتاب لکھی کہ آج تک شیعہ علماء اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ تمام عمر درس وتدریس اوردینی خدمات میں گزاری۔خصوصاً حدیث کا فیض ہندوستان میں عام کیا۔ہندوستان کے اکثر محدثین کا سلسلہ اسناد آپ تک اور آپ کے ذریعے شاہ ولی اللہ تک پہنچتا ہے۔کوئی علم اور فن ایسا نہ تھا جس میں آپ کو ملکہ حاصل نہ ہو۔
مولانا ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب ۱۱۵۹ھ تا ۱۲۳۹ھ میں اس لیے کہ مجد د کی صفات ان میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ آپ بارہویں صدی کے آخر میں صاحب علم و فضل و زہد و تقویٰ مشہور دیار و اطراف تھے۔ اور تیرہویں صدی کے آغاز میں ان کا طوطی ہندوستان میں بولتا تھا اور ساری عمر دینی خدمت درس و تدریس افتاء تصنیف وعظ و سند، حمایت دین اورردمفسدین میں صرف اوقات فرماتے رہے۔ (مجدد اعظم ص:42)
❤1
رسول اللہ ﷺ حاضر و ناظر ہیں:
شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی "ویکون الرسول علیکم شہیدا" کے تحت تفسیرعزیزی میں فرماتےہیں:
ترجمہ:یعنی رسول تم پر گواہ ہیں۔کیونکہ حضور ﷺ نورِ نبوت سے ہردین دار کے اس رتبہ پر مطلع ہیں،کہ جس تک وہ پہنچاہواہے۔اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے،اور اس حجاب سے بھی واقف ہیں کی جو اس کے ترقیِ درجات میں رکاوٹ ہے۔سو حضور ﷺ تمہارے گناہوں اور تمہارے ایمان کے درجات کو،اور تمہارے نیک اور بد اعمال کواور تمہاتے خلوص ونفاق کوجانتے اور پہنچانتے ہیں ۔اسی لئے حضور ﷺ کی شہادت دنیا وآخرت میں بحکمِ شرع امت کے حق میں مقبول اور واجب العمل ہیں۔(تفسیرِ عزیزی،پارہ 2)
نوٹ:
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی تصنیفات میں اسلام دشمن قوتیں ، روافض، خوارج،غیر مقلدین نے بہت تحریفات کردی ہیں،اور تحریفات کا سلسلہ قبلہ شاہ صاحب کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ جیساکہ بہت سی کتب میں اس بات کو علماء حق بیان کر دیا ہے ۔ (شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان)
وصال:
اسی سال کی عمر میں 9 شوال المکرم 1239ھ بمطابق 5 جون 1823ء بروز ہفتہ کو وصال فرمایا ۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-aziz-muhaddis-dehlvi
شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی "ویکون الرسول علیکم شہیدا" کے تحت تفسیرعزیزی میں فرماتےہیں:
ترجمہ:یعنی رسول تم پر گواہ ہیں۔کیونکہ حضور ﷺ نورِ نبوت سے ہردین دار کے اس رتبہ پر مطلع ہیں،کہ جس تک وہ پہنچاہواہے۔اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے،اور اس حجاب سے بھی واقف ہیں کی جو اس کے ترقیِ درجات میں رکاوٹ ہے۔سو حضور ﷺ تمہارے گناہوں اور تمہارے ایمان کے درجات کو،اور تمہارے نیک اور بد اعمال کواور تمہاتے خلوص ونفاق کوجانتے اور پہنچانتے ہیں ۔اسی لئے حضور ﷺ کی شہادت دنیا وآخرت میں بحکمِ شرع امت کے حق میں مقبول اور واجب العمل ہیں۔(تفسیرِ عزیزی،پارہ 2)
نوٹ:
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی تصنیفات میں اسلام دشمن قوتیں ، روافض، خوارج،غیر مقلدین نے بہت تحریفات کردی ہیں،اور تحریفات کا سلسلہ قبلہ شاہ صاحب کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ جیساکہ بہت سی کتب میں اس بات کو علماء حق بیان کر دیا ہے ۔ (شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان)
وصال:
اسی سال کی عمر میں 9 شوال المکرم 1239ھ بمطابق 5 جون 1823ء بروز ہفتہ کو وصال فرمایا ۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-aziz-muhaddis-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Aziz Muhaddis Dehelvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت ابراہیم بن رسول اللہ ﷺ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت ابراہیم رضی الله عنه
سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بن سید المرسلین خاتم النبین حضرت محمد ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک ۔(رضی اللہ عنہم اجمعین)
یہ حضورِ اکرم ﷺ کی اولاد مبارکہ میں سب سے آخری فرزند ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 ذوالقعدہ 8ھ، مطابق 17 مارچ 630ء بروز بدھ، مدینہ منورہ کے قریب مقام عالیہ کے اندر حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے ۔ اس لیے مقام عالیہ کا دوسرا نام '' مشربۂ ابراہیم '' بھی ہے ۔
ان کی ولادت کی خبر حضورِ اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع رضی الله عنه نے مقام عالیہ سے مدینہ آ کر بارگاہِ اقدس ﷺ میں سنائی ۔ یہ خوش خبری سُن کر حضورِ اکرم ﷺ نے انعام کے طور پر حضرت ابو رافع رضی الله عنه کو ایک غلام عطا فرمایا ۔ اس کے بعد فوراً ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ ﷺ کو ’’ یا ابا ابراہیم ‘‘ کہہ کر پکارا ۔
حضور ﷺ بے حد خوش ہوئے اور ان کے عقیقہ میں دو مینڈھے آپ نے ذبح فرمائے اور ان کے سر کے بال کے وزن کے برابر چاندی خیرات فرمائی اور ان کے بالوں کو دفن کرادیا اور ’’ ابراہیم ‘‘ نام رکھا ۔
پھر ان کو دودھ پلانے کے لیے حضرت ام سیف رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمایا ۔ ان کے شوہر حضرت ابو سیف رضی الله تعالیٰ عنه لوہار کا پیشہ کرتے تھے ۔
آپ ﷺ کو حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه سے بہت زیادہ محبت تھی اور کبھی کبھی آپ ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے ۔
چنانچہ حضرت انس رضی الله تعالیٰ عنه کا بیان ہے کہ ہم رسول ﷲ ﷺ کے ساتھ حضرت ابو سیف رضی الله تعالیٰ عنه کے مکان پر گئے تو یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم جان کنی کے عالم میں تھے ۔ یہ منظر دیکھ کر رحمتِ عالم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔
اس وقت عبد الرحمن بن عوف رضی الله تعالیٰ عنه نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! ﷺ کیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے! یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے ۔
اس کے بعد پھر دوبارہ جب چشمان مبارک سے آنسو بہنے لگے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ کلمات جاری ہو گئے:
کہ
’’ اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ ‘‘
آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلا شبہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں ۔
جس دن حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کا انتقال ہوا اتفاق سے اسی دن سورج گرہن لگا ۔ عربوں کے دلوں میں زمانۂ جاہلیت کا یہ عقیدہ جما ہوا تھا کہ کسی بڑے آدمی کی موت سے چاند اور سورج میں گرہن لگتا ہے ۔ چنانچہ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کی وفات کی و جہ سے ہوا ہے ۔
حضورِ اقدس ﷺ نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا جس میں جاہلیت کے اس عقیدہ کا رد فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
کہ
’’ اِنَّ اْلشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰیَتَانِ مِنْ اٰیٰاتِ اﷲِ لَایَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھَا فَادْعُوا اللہَ وَصَلُّوْا حَتّٰی یَنْجَلِیْ‘‘۔(بخاری جلد 1 ص145 باب الدعاء فی الکسوف) ـ
یقیناً چاند اور سورج ﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ کسی کے مرنے یا جینے سے ان دونوں میں گرہن نہیں لگتا جب تم لوگ گرہن دیکھو تو دعائیں مانگو اور نماز کسوف پڑھو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے ۔
حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے فرزند ابراہیم نے دودھ پینے کی مدت پوری نہیں کی اور دنیا سے چلا گیا ۔ اس لیے ﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے بہشت میں ایک دودھ پلانے والی کو مقرر فرما دیا ہے جو مدت رضاعت بھر اس کو دودھ پلاتی رہے گی ۔ (مدارج النبوۃ جلد: 2، ص: 254)
تاریخِ وصال:
جیسا کہ گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کے وصال کے دن عرب میں سورج گرہن لگا ۔ جدید ریاضی حساب کے مطابق وہ دن 7 جنوری 632ء کو 8:30 لگا تھا ۔ اس حساب سے قمری تاریخ 9 شوال المکرم 10ھ ۔ تو بحسابِ شمسی ان کی عمر ایک سال 9 ماہ، 20 دن، اور بحساب قمری ایک سال، 10 ماہ، اور چھ دن ہوتی ہے ۔ ( اللہ و رسولہ اعلم باالصواب) ۔
روایت ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کو جنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون رضی الله تعالیٰ عنه کی قبر کے پاس دفن فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے ان کی قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ۔ (مدارج النبوۃ جلد: 2، ص: 453)
ماخذ و مراجع:
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ۔ مدارج النبوت ۔ اسد الغابہ ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ibrahim-son-of-holy-prophet-muhammad
Copyright © Zia-e-Taiba
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت ابراہیم رضی الله عنه
سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بن سید المرسلین خاتم النبین حضرت محمد ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک ۔(رضی اللہ عنہم اجمعین)
یہ حضورِ اکرم ﷺ کی اولاد مبارکہ میں سب سے آخری فرزند ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 ذوالقعدہ 8ھ، مطابق 17 مارچ 630ء بروز بدھ، مدینہ منورہ کے قریب مقام عالیہ کے اندر حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے ۔ اس لیے مقام عالیہ کا دوسرا نام '' مشربۂ ابراہیم '' بھی ہے ۔
ان کی ولادت کی خبر حضورِ اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع رضی الله عنه نے مقام عالیہ سے مدینہ آ کر بارگاہِ اقدس ﷺ میں سنائی ۔ یہ خوش خبری سُن کر حضورِ اکرم ﷺ نے انعام کے طور پر حضرت ابو رافع رضی الله عنه کو ایک غلام عطا فرمایا ۔ اس کے بعد فوراً ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ ﷺ کو ’’ یا ابا ابراہیم ‘‘ کہہ کر پکارا ۔
حضور ﷺ بے حد خوش ہوئے اور ان کے عقیقہ میں دو مینڈھے آپ نے ذبح فرمائے اور ان کے سر کے بال کے وزن کے برابر چاندی خیرات فرمائی اور ان کے بالوں کو دفن کرادیا اور ’’ ابراہیم ‘‘ نام رکھا ۔
پھر ان کو دودھ پلانے کے لیے حضرت ام سیف رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمایا ۔ ان کے شوہر حضرت ابو سیف رضی الله تعالیٰ عنه لوہار کا پیشہ کرتے تھے ۔
آپ ﷺ کو حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه سے بہت زیادہ محبت تھی اور کبھی کبھی آپ ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے ۔
چنانچہ حضرت انس رضی الله تعالیٰ عنه کا بیان ہے کہ ہم رسول ﷲ ﷺ کے ساتھ حضرت ابو سیف رضی الله تعالیٰ عنه کے مکان پر گئے تو یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم جان کنی کے عالم میں تھے ۔ یہ منظر دیکھ کر رحمتِ عالم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔
اس وقت عبد الرحمن بن عوف رضی الله تعالیٰ عنه نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! ﷺ کیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے! یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے ۔
اس کے بعد پھر دوبارہ جب چشمان مبارک سے آنسو بہنے لگے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ کلمات جاری ہو گئے:
کہ
’’ اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ ‘‘
آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلا شبہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں ۔
جس دن حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کا انتقال ہوا اتفاق سے اسی دن سورج گرہن لگا ۔ عربوں کے دلوں میں زمانۂ جاہلیت کا یہ عقیدہ جما ہوا تھا کہ کسی بڑے آدمی کی موت سے چاند اور سورج میں گرہن لگتا ہے ۔ چنانچہ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کی وفات کی و جہ سے ہوا ہے ۔
حضورِ اقدس ﷺ نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا جس میں جاہلیت کے اس عقیدہ کا رد فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
کہ
’’ اِنَّ اْلشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰیَتَانِ مِنْ اٰیٰاتِ اﷲِ لَایَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھَا فَادْعُوا اللہَ وَصَلُّوْا حَتّٰی یَنْجَلِیْ‘‘۔(بخاری جلد 1 ص145 باب الدعاء فی الکسوف) ـ
یقیناً چاند اور سورج ﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ کسی کے مرنے یا جینے سے ان دونوں میں گرہن نہیں لگتا جب تم لوگ گرہن دیکھو تو دعائیں مانگو اور نماز کسوف پڑھو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے ۔
حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے فرزند ابراہیم نے دودھ پینے کی مدت پوری نہیں کی اور دنیا سے چلا گیا ۔ اس لیے ﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے بہشت میں ایک دودھ پلانے والی کو مقرر فرما دیا ہے جو مدت رضاعت بھر اس کو دودھ پلاتی رہے گی ۔ (مدارج النبوۃ جلد: 2، ص: 254)
تاریخِ وصال:
جیسا کہ گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کے وصال کے دن عرب میں سورج گرہن لگا ۔ جدید ریاضی حساب کے مطابق وہ دن 7 جنوری 632ء کو 8:30 لگا تھا ۔ اس حساب سے قمری تاریخ 9 شوال المکرم 10ھ ۔ تو بحسابِ شمسی ان کی عمر ایک سال 9 ماہ، 20 دن، اور بحساب قمری ایک سال، 10 ماہ، اور چھ دن ہوتی ہے ۔ ( اللہ و رسولہ اعلم باالصواب) ۔
روایت ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابراہیم رضی الله تعالیٰ عنه کو جنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون رضی الله تعالیٰ عنه کی قبر کے پاس دفن فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے ان کی قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ۔ (مدارج النبوۃ جلد: 2، ص: 453)
ماخذ و مراجع:
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ۔ مدارج النبوت ۔ اسد الغابہ ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ibrahim-son-of-holy-prophet-muhammad
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-10-1444 ᴴ | 30-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2