🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
مریم بنت عبدالقادر رحمة الله عليها چھٹی صدی ہجری کی عالمہ ہیں "الصحاح للجوھری" کا ایک نسخہ ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے اس کے مقدمہ میں انہوں نے لکھا ہے
"اگر کوئی اس میں سہو پائے تو میری خطا کو معاف کردے کیونکہ میں اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتی تھی اور بائیں ہاتھ سے اپنے بچے کو جھولا جھلاتی تھی"
(مجلة لغة العرب العراقية للكرملي 6/718 ناشر مطبعة الادب بغداد)
"اگر کوئی اس میں سہو پائے تو میری خطا کو معاف کردے کیونکہ میں اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتی تھی اور بائیں ہاتھ سے اپنے بچے کو جھولا جھلاتی تھی"
(مجلة لغة العرب العراقية للكرملي 6/718 ناشر مطبعة الادب بغداد)
❤1
مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیرپوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا خواجہ محمد اکبر رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خواجہ محمد اکبر بن مولانا خواجہ محمد مقیم بن مولانا خواجہ محمد عظیم بن خواجہ محمد یار المعروف بہ حافظ بڈھا ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1282ھ، مطابق 25 فروری 1866ء، بروز اتوار بوقتِ تہجد بصیر پور میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم کے علاوہ شرح جامی تک کتب درسیہ کی تحصیل والد ماجد سے کی، مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہند کے مدارس کا قصد کیا، شملہ اور ڈلہوزی وغیرہ مقامات پر ممتاز علماء سے تکمیل کی، ڈلہوزی میں ایک قادری سہر وَردِی بزرگ سے علم الاخلاق حاصل کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اپنے والد گرامی سے بیعت ہوئے، اور پھر حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب نےآپ کو " غریب نواز " کا لقب عطا کیا ۔
سیرت و خصائص:
صوفیِ باصفا، عالم علم الہدیٰ، جامع شریعت و طریقت، حضرت مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ صاحب علم و عمل، اور سراپا خلوص و تقویٰ تھے ۔ آپ تین مرتبہ حج و زیارت کے شرف سے بہرہ ور ہوئے اور کئی کئی ماہ مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔ جب حصول علم کے لئے گھر سے روانہ ہوئے تو تقریباً بائیس سال کے بعد واپس بصیر پور آئے ۔
حضرت خواجہ تونسوی علیہ الرحمہ نے آپ کو بصیر پور علاقے کی ذمہ داری تفویض فرمائی، آپ نے بصیر پور میں جامع مسجد برنے والی (جو اَب مسجد خواجہ محمد اکبر کے نام سے مشہور ہے) میں مدرسہ قائم کیا، جہاں علم و تدریس کے علاوہ عرصۂ دراز تک افتاء کے فرائض بھی انجام دیتے رہے، آپ کی بہت سی عالمانہ تصانیف فی الحال طبع نہیں ہو سکیں ۔ آپ کے تلامذہ اور خلفاء کثیر تعداد میں ہوئے، آپ کی برکت سے اس علاقے میں دین اسلام کی خوب ترویج و اشاعت ہوئی، اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کا فروغ ہوا ۔ آپ کی ساری زندگی ان علاقوں میں دین اسلام کی ترقی و فروغ میں صرف ہوئی ۔ آپ کی درس گاہ سے ایک جہاں علم کی لا زوال دولت سے فیض یاب ہوا اور ہو رہا ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 16 رجب المرجب 1335ھ، مطابق 8 مئی 1917ء، برومنگل ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصیر پور میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-akbar-chishti-baseerpuri
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا خواجہ محمد اکبر رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خواجہ محمد اکبر بن مولانا خواجہ محمد مقیم بن مولانا خواجہ محمد عظیم بن خواجہ محمد یار المعروف بہ حافظ بڈھا ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1282ھ، مطابق 25 فروری 1866ء، بروز اتوار بوقتِ تہجد بصیر پور میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم کے علاوہ شرح جامی تک کتب درسیہ کی تحصیل والد ماجد سے کی، مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہند کے مدارس کا قصد کیا، شملہ اور ڈلہوزی وغیرہ مقامات پر ممتاز علماء سے تکمیل کی، ڈلہوزی میں ایک قادری سہر وَردِی بزرگ سے علم الاخلاق حاصل کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اپنے والد گرامی سے بیعت ہوئے، اور پھر حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب نےآپ کو " غریب نواز " کا لقب عطا کیا ۔
سیرت و خصائص:
صوفیِ باصفا، عالم علم الہدیٰ، جامع شریعت و طریقت، حضرت مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ صاحب علم و عمل، اور سراپا خلوص و تقویٰ تھے ۔ آپ تین مرتبہ حج و زیارت کے شرف سے بہرہ ور ہوئے اور کئی کئی ماہ مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔ جب حصول علم کے لئے گھر سے روانہ ہوئے تو تقریباً بائیس سال کے بعد واپس بصیر پور آئے ۔
حضرت خواجہ تونسوی علیہ الرحمہ نے آپ کو بصیر پور علاقے کی ذمہ داری تفویض فرمائی، آپ نے بصیر پور میں جامع مسجد برنے والی (جو اَب مسجد خواجہ محمد اکبر کے نام سے مشہور ہے) میں مدرسہ قائم کیا، جہاں علم و تدریس کے علاوہ عرصۂ دراز تک افتاء کے فرائض بھی انجام دیتے رہے، آپ کی بہت سی عالمانہ تصانیف فی الحال طبع نہیں ہو سکیں ۔ آپ کے تلامذہ اور خلفاء کثیر تعداد میں ہوئے، آپ کی برکت سے اس علاقے میں دین اسلام کی خوب ترویج و اشاعت ہوئی، اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کا فروغ ہوا ۔ آپ کی ساری زندگی ان علاقوں میں دین اسلام کی ترقی و فروغ میں صرف ہوئی ۔ آپ کی درس گاہ سے ایک جہاں علم کی لا زوال دولت سے فیض یاب ہوا اور ہو رہا ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 16 رجب المرجب 1335ھ، مطابق 8 مئی 1917ء، برومنگل ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصیر پور میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-akbar-chishti-baseerpuri
scholars.pk
Hazrat Molana Akbar Chishti Baseerpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مجاہدِ جنگ آزادی، حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: مجاہدِ جنگ آزادی، امام الصرف، جامع العلوم ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی بن منشی محمد بخش بن منشی غلام محمد بن منشی لطف اللہ علیہم الرحمہ ۔
آپ کے آباؤ اجداد میں امیر حسام نامی ایک بزرگ بغداد سے ہندوستان آئے ۔ دیوہ ضلع بارہ بنکی اودھ میں مقیم ہو گئے ۔ امیر حسام کے صاحبزادے ضیاء الدین دیوہ کے قاضی مقرر ہوئے ۔ آپ کا خاندان علم و فضل اور دینی و دنیاوی وجاہت میں معروف تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1228ھ مطابق اوائل ماہ اکتوبر 1813ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں ہوئی ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے والد گرامی نے کاکوروی ضلع لکھنؤ اپنے سسرال منتقل ہوئے تو آپ بھی اپنی ننھیال میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ جس کی نسبت سے آپ کو ’’کاکوروی‘‘ کہا جانے لگا ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم دیوہ اور کاکوری میں ہوئی ۔ مزید تعلیم کے لئے آپ نے رام پور سفر کیا ۔ جہاں مولانا سید محمد رام پوری سے صرف و نحو اور مولانا نور الاسلام اور مولوی حیدر علی سے دیگر علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں ۔ پھر دہلی آکر مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی سے درس حدیث و سند حدیث حاصل کی ۔ دہلی کے بعد علی گڑھ پہنچے وہاں پر مولانا بزگ علی مارہروی (شاگر مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی) سے ریاضی پڑھی ۔فراغت کے بعد علی گڑھ میں ہی مفتی و منصف (جج) مقرر کیے گئے ۔ جامع مسجد علی گڑھ میں مدرس ہو گئے ۔ علی گڑھ کے تلامذہ میں مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا سید حسین شاہ بخاری وغیرہ ہیں ۔
سیرت و خصائص:
غریق بحرِ رحمت، امامِ عزیمت، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، مجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور عظیم داعی تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں، محبت و خلوص اور درس و افتا میں مہارتِ تامہ کے سبب آپ کی شہرت اور نیک نامی دور دور تک پھیلتی گئی ۔ آپ عوام و خواص کے مرجع بنتے گئے ۔ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کو درس و تدریس سے بے پناہ لگاؤ اور شغف تھا ۔ آپ عدالت میں جاری اجلاس کے دوران بھی اپنے طلبہ کو مقدمے سے فرصت ملتے ہی پڑھانے لگتے تھے ۔
علم بانٹنے اور پھیلانے کی جو اُمنگ اور جوش و ولولہ آپ کے اندر تھا نیز آپ کے تدریسی ذوق و شوق، طریقۂ تعلیم و تربیت، طلبہ سے محبت و مروت اور تقسیم علم کے جذبۂ خیر کا اندازہ پروفیسر ایوب قادری بدایونی کی تحریر کردہ اس روایت سے ہوتا ہے:
مولانا سید حسین شاہ بخاری فرمایا کرتے تھے کہ مفتی صاحب مجھ کو ہدایہ اجلاس میں پڑھایا کرتے تھے ۔ جیسے ہی کسی مقدمہ سے فرصت ہوئی اشارہ ہوتا ۔ میں پڑھنا شروع کر دیتا ۔ پھر کوئی سرکاری کام آ جاتا تو اس میں مصروف ہو جاتے ۔ اس دو گونہ مصروفیت کے باوجود مسائل اس طرح ذہن نشین کرا دِیئے کہ کبھی فراموش نہ ہوئے ۔ آپ طلبہ سے خاص تعلق رکھتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب کی تعلیم کے زمانہ میں ہی مفتی صاحب کا تبادلہ علی گڑھ سے بریلی ہو گیا تھا ۔ مولوی لطف اللہ صاحب بریلی ساتھ گئے ۔ وہاں جملہ کتبِ درسیہ ختم کیں ۔ صبح کی نماز کے بعد مفتی عنایت احمد صاحب تلاوت کرتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب خدمت میں حاضر رہتے ۔ دورانِ تلاوت کوئی مشکل صیغہ آتا تو مفتی صاحب خود حل کرکے بتاتے ۔ مفتی عنایت احمد صاحب نے فراغت کے بعد مولوی لطف اللہ صاحب کو اپنے ہی اجلاس کا سر رشتہ دار مقرر کر لیا ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب ص:118)
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: مجاہدِ جنگ آزادی، امام الصرف، جامع العلوم ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی بن منشی محمد بخش بن منشی غلام محمد بن منشی لطف اللہ علیہم الرحمہ ۔
آپ کے آباؤ اجداد میں امیر حسام نامی ایک بزرگ بغداد سے ہندوستان آئے ۔ دیوہ ضلع بارہ بنکی اودھ میں مقیم ہو گئے ۔ امیر حسام کے صاحبزادے ضیاء الدین دیوہ کے قاضی مقرر ہوئے ۔ آپ کا خاندان علم و فضل اور دینی و دنیاوی وجاہت میں معروف تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1228ھ مطابق اوائل ماہ اکتوبر 1813ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں ہوئی ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے والد گرامی نے کاکوروی ضلع لکھنؤ اپنے سسرال منتقل ہوئے تو آپ بھی اپنی ننھیال میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ جس کی نسبت سے آپ کو ’’کاکوروی‘‘ کہا جانے لگا ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم دیوہ اور کاکوری میں ہوئی ۔ مزید تعلیم کے لئے آپ نے رام پور سفر کیا ۔ جہاں مولانا سید محمد رام پوری سے صرف و نحو اور مولانا نور الاسلام اور مولوی حیدر علی سے دیگر علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں ۔ پھر دہلی آکر مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی سے درس حدیث و سند حدیث حاصل کی ۔ دہلی کے بعد علی گڑھ پہنچے وہاں پر مولانا بزگ علی مارہروی (شاگر مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی) سے ریاضی پڑھی ۔فراغت کے بعد علی گڑھ میں ہی مفتی و منصف (جج) مقرر کیے گئے ۔ جامع مسجد علی گڑھ میں مدرس ہو گئے ۔ علی گڑھ کے تلامذہ میں مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا سید حسین شاہ بخاری وغیرہ ہیں ۔
سیرت و خصائص:
غریق بحرِ رحمت، امامِ عزیمت، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، مجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور عظیم داعی تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں، محبت و خلوص اور درس و افتا میں مہارتِ تامہ کے سبب آپ کی شہرت اور نیک نامی دور دور تک پھیلتی گئی ۔ آپ عوام و خواص کے مرجع بنتے گئے ۔ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کو درس و تدریس سے بے پناہ لگاؤ اور شغف تھا ۔ آپ عدالت میں جاری اجلاس کے دوران بھی اپنے طلبہ کو مقدمے سے فرصت ملتے ہی پڑھانے لگتے تھے ۔
علم بانٹنے اور پھیلانے کی جو اُمنگ اور جوش و ولولہ آپ کے اندر تھا نیز آپ کے تدریسی ذوق و شوق، طریقۂ تعلیم و تربیت، طلبہ سے محبت و مروت اور تقسیم علم کے جذبۂ خیر کا اندازہ پروفیسر ایوب قادری بدایونی کی تحریر کردہ اس روایت سے ہوتا ہے:
مولانا سید حسین شاہ بخاری فرمایا کرتے تھے کہ مفتی صاحب مجھ کو ہدایہ اجلاس میں پڑھایا کرتے تھے ۔ جیسے ہی کسی مقدمہ سے فرصت ہوئی اشارہ ہوتا ۔ میں پڑھنا شروع کر دیتا ۔ پھر کوئی سرکاری کام آ جاتا تو اس میں مصروف ہو جاتے ۔ اس دو گونہ مصروفیت کے باوجود مسائل اس طرح ذہن نشین کرا دِیئے کہ کبھی فراموش نہ ہوئے ۔ آپ طلبہ سے خاص تعلق رکھتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب کی تعلیم کے زمانہ میں ہی مفتی صاحب کا تبادلہ علی گڑھ سے بریلی ہو گیا تھا ۔ مولوی لطف اللہ صاحب بریلی ساتھ گئے ۔ وہاں جملہ کتبِ درسیہ ختم کیں ۔ صبح کی نماز کے بعد مفتی عنایت احمد صاحب تلاوت کرتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب خدمت میں حاضر رہتے ۔ دورانِ تلاوت کوئی مشکل صیغہ آتا تو مفتی صاحب خود حل کرکے بتاتے ۔ مفتی عنایت احمد صاحب نے فراغت کے بعد مولوی لطف اللہ صاحب کو اپنے ہی اجلاس کا سر رشتہ دار مقرر کر لیا ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب ص:118)
👍1
جنگ آزادی میں کردار:
1857ء میں جب انگریزوں کے خلاف انقلاب کی دستک ہوئی تو اس میں مفتی عنایت احمد کاکوروی نے نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ آپ جہادِ آزادی کی تنظیم و تشکیل کے لیے شب و روز مصروف رہے ۔ بریلی ان دنوں آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور آپ تحریکِ آزادی کے قائد و رہنما تھے ۔میاں عبد الرشید کالم نگار روز نامہ نوائے وقت لاہور کے بہ قول: ’’آپ بریلی میں نواب خان بہادر خاں روہیلہ کی زیرِ قیادت جہادِ حریت کی تنظیم کے لیے سرگرمِ عمل رہے ۔
ان دنوں روہیل کھنڈ بریلی مجاہدینِ آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ کے جد امجد مولانا رضا علی خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ اس تحریک کے قائدین میں سے تھے ۔ مفتی عنایت احمد علیہ الرحمہ نے مجاہدین کی تنظیم پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ نواب خان بہادر خاں روہیلہ کے دستِ راست کی حیثیت سے مختلف معرکوں میں عملی حصہ بھی لیا ۔ ‘‘ (جنگِ آزادی نمبر ، ترجمانِ اہل سنت کراچی ، شمارہ جولائی 1975ء)
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی علمی صلاحیتوں اور لیاقتوں کی بنیاد پر اُن کو 1273ھ میں آگرہ کا صدر الصدور بنایا گیا ۔ آپ ابھی بریلی سے آگرہ جانے کی تیاریوں میں مصروف ہی تھے کہ 1857ء کی جنگ کا آغاز ہو گیا اور آپ نے آگرہ جانا ترک کر دیا اور بریلی و رام پور میں جنگِ آزادی کے لیے متحرک و فعال ہو گئے ۔ لوگوں کے اندر جذبۂ حریت کو بیدار کیا ۔
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ آپ نے بریلی میں قیام کے دوران ’’ جلسۂ تائیدِ دینِ متین ‘‘ کے نام سے ایک تبلیغی و اصلاحی انجمن کی بنیاد ڈالی تھی ۔ جس کے تحت آپ نے دینی لٹریچر کی نشر و اشاعت کی ۔ اس انجمن کو بر صغیر کے مسلمانوں کا پہلا اصلاحی ادارہ کہا جاتا ہے ۔ اس انجمن سے شائع ہونے والی کتب زیادہ تر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی تالیف کردہ ہوتی تھیں ۔ یہ کتابیں اصلاحی اور تبلیغی موضوعات پر تھیں ۔
جب ہندوستان میں پہلی جنگِ آزادی کی روح بیدار ہونا شروع ہوئی تو اس وقت انگریزوں کے خلاف علَمِ جہاد بلند کرنے اور مجاہدین کے لیے مالی امداد و اعانت پر ایک اہم فتویٰ بریلی میں جاری ہوا تو اس پر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ نے اپنے دستخط ثبت کیے اور عوام و خواص میں روحِ آزادی پھونکنے میں عملی کردار ادا کیا ۔
1857ء میں جب انگریزوں کے خلاف انقلاب کی دستک ہوئی تو اس میں مفتی عنایت احمد کاکوروی نے نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ آپ جہادِ آزادی کی تنظیم و تشکیل کے لیے شب و روز مصروف رہے ۔ بریلی ان دنوں آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور آپ تحریکِ آزادی کے قائد و رہنما تھے ۔میاں عبد الرشید کالم نگار روز نامہ نوائے وقت لاہور کے بہ قول: ’’آپ بریلی میں نواب خان بہادر خاں روہیلہ کی زیرِ قیادت جہادِ حریت کی تنظیم کے لیے سرگرمِ عمل رہے ۔
ان دنوں روہیل کھنڈ بریلی مجاہدینِ آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ کے جد امجد مولانا رضا علی خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ اس تحریک کے قائدین میں سے تھے ۔ مفتی عنایت احمد علیہ الرحمہ نے مجاہدین کی تنظیم پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ نواب خان بہادر خاں روہیلہ کے دستِ راست کی حیثیت سے مختلف معرکوں میں عملی حصہ بھی لیا ۔ ‘‘ (جنگِ آزادی نمبر ، ترجمانِ اہل سنت کراچی ، شمارہ جولائی 1975ء)
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی علمی صلاحیتوں اور لیاقتوں کی بنیاد پر اُن کو 1273ھ میں آگرہ کا صدر الصدور بنایا گیا ۔ آپ ابھی بریلی سے آگرہ جانے کی تیاریوں میں مصروف ہی تھے کہ 1857ء کی جنگ کا آغاز ہو گیا اور آپ نے آگرہ جانا ترک کر دیا اور بریلی و رام پور میں جنگِ آزادی کے لیے متحرک و فعال ہو گئے ۔ لوگوں کے اندر جذبۂ حریت کو بیدار کیا ۔
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ آپ نے بریلی میں قیام کے دوران ’’ جلسۂ تائیدِ دینِ متین ‘‘ کے نام سے ایک تبلیغی و اصلاحی انجمن کی بنیاد ڈالی تھی ۔ جس کے تحت آپ نے دینی لٹریچر کی نشر و اشاعت کی ۔ اس انجمن کو بر صغیر کے مسلمانوں کا پہلا اصلاحی ادارہ کہا جاتا ہے ۔ اس انجمن سے شائع ہونے والی کتب زیادہ تر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی تالیف کردہ ہوتی تھیں ۔ یہ کتابیں اصلاحی اور تبلیغی موضوعات پر تھیں ۔
جب ہندوستان میں پہلی جنگِ آزادی کی روح بیدار ہونا شروع ہوئی تو اس وقت انگریزوں کے خلاف علَمِ جہاد بلند کرنے اور مجاہدین کے لیے مالی امداد و اعانت پر ایک اہم فتویٰ بریلی میں جاری ہوا تو اس پر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ نے اپنے دستخط ثبت کیے اور عوام و خواص میں روحِ آزادی پھونکنے میں عملی کردار ادا کیا ۔
❤1