🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
مریم بنت عبدالقادر رحمة الله عليها چھٹی صدی ہجری کی عالمہ ہیں "الصحاح للجوھری" کا ایک نسخہ ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے اس کے مقدمہ میں انہوں نے لکھا ہے
"اگر کوئی اس میں سہو پائے تو میری خطا کو معاف کردے کیونکہ میں اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتی تھی اور بائیں ہاتھ سے اپنے بچے کو جھولا جھلاتی تھی"
(مجلة لغة العرب العراقية للكرملي 6/718 ناشر مطبعة الادب بغداد)
"اگر کوئی اس میں سہو پائے تو میری خطا کو معاف کردے کیونکہ میں اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتی تھی اور بائیں ہاتھ سے اپنے بچے کو جھولا جھلاتی تھی"
(مجلة لغة العرب العراقية للكرملي 6/718 ناشر مطبعة الادب بغداد)
❤1
مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیرپوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا خواجہ محمد اکبر رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خواجہ محمد اکبر بن مولانا خواجہ محمد مقیم بن مولانا خواجہ محمد عظیم بن خواجہ محمد یار المعروف بہ حافظ بڈھا ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1282ھ، مطابق 25 فروری 1866ء، بروز اتوار بوقتِ تہجد بصیر پور میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم کے علاوہ شرح جامی تک کتب درسیہ کی تحصیل والد ماجد سے کی، مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہند کے مدارس کا قصد کیا، شملہ اور ڈلہوزی وغیرہ مقامات پر ممتاز علماء سے تکمیل کی، ڈلہوزی میں ایک قادری سہر وَردِی بزرگ سے علم الاخلاق حاصل کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اپنے والد گرامی سے بیعت ہوئے، اور پھر حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب نےآپ کو " غریب نواز " کا لقب عطا کیا ۔
سیرت و خصائص:
صوفیِ باصفا، عالم علم الہدیٰ، جامع شریعت و طریقت، حضرت مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ صاحب علم و عمل، اور سراپا خلوص و تقویٰ تھے ۔ آپ تین مرتبہ حج و زیارت کے شرف سے بہرہ ور ہوئے اور کئی کئی ماہ مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔ جب حصول علم کے لئے گھر سے روانہ ہوئے تو تقریباً بائیس سال کے بعد واپس بصیر پور آئے ۔
حضرت خواجہ تونسوی علیہ الرحمہ نے آپ کو بصیر پور علاقے کی ذمہ داری تفویض فرمائی، آپ نے بصیر پور میں جامع مسجد برنے والی (جو اَب مسجد خواجہ محمد اکبر کے نام سے مشہور ہے) میں مدرسہ قائم کیا، جہاں علم و تدریس کے علاوہ عرصۂ دراز تک افتاء کے فرائض بھی انجام دیتے رہے، آپ کی بہت سی عالمانہ تصانیف فی الحال طبع نہیں ہو سکیں ۔ آپ کے تلامذہ اور خلفاء کثیر تعداد میں ہوئے، آپ کی برکت سے اس علاقے میں دین اسلام کی خوب ترویج و اشاعت ہوئی، اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کا فروغ ہوا ۔ آپ کی ساری زندگی ان علاقوں میں دین اسلام کی ترقی و فروغ میں صرف ہوئی ۔ آپ کی درس گاہ سے ایک جہاں علم کی لا زوال دولت سے فیض یاب ہوا اور ہو رہا ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 16 رجب المرجب 1335ھ، مطابق 8 مئی 1917ء، برومنگل ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصیر پور میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-akbar-chishti-baseerpuri
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا خواجہ محمد اکبر رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خواجہ محمد اکبر بن مولانا خواجہ محمد مقیم بن مولانا خواجہ محمد عظیم بن خواجہ محمد یار المعروف بہ حافظ بڈھا ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1282ھ، مطابق 25 فروری 1866ء، بروز اتوار بوقتِ تہجد بصیر پور میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم کے علاوہ شرح جامی تک کتب درسیہ کی تحصیل والد ماجد سے کی، مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہند کے مدارس کا قصد کیا، شملہ اور ڈلہوزی وغیرہ مقامات پر ممتاز علماء سے تکمیل کی، ڈلہوزی میں ایک قادری سہر وَردِی بزرگ سے علم الاخلاق حاصل کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اپنے والد گرامی سے بیعت ہوئے، اور پھر حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب نےآپ کو " غریب نواز " کا لقب عطا کیا ۔
سیرت و خصائص:
صوفیِ باصفا، عالم علم الہدیٰ، جامع شریعت و طریقت، حضرت مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ صاحب علم و عمل، اور سراپا خلوص و تقویٰ تھے ۔ آپ تین مرتبہ حج و زیارت کے شرف سے بہرہ ور ہوئے اور کئی کئی ماہ مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔ جب حصول علم کے لئے گھر سے روانہ ہوئے تو تقریباً بائیس سال کے بعد واپس بصیر پور آئے ۔
حضرت خواجہ تونسوی علیہ الرحمہ نے آپ کو بصیر پور علاقے کی ذمہ داری تفویض فرمائی، آپ نے بصیر پور میں جامع مسجد برنے والی (جو اَب مسجد خواجہ محمد اکبر کے نام سے مشہور ہے) میں مدرسہ قائم کیا، جہاں علم و تدریس کے علاوہ عرصۂ دراز تک افتاء کے فرائض بھی انجام دیتے رہے، آپ کی بہت سی عالمانہ تصانیف فی الحال طبع نہیں ہو سکیں ۔ آپ کے تلامذہ اور خلفاء کثیر تعداد میں ہوئے، آپ کی برکت سے اس علاقے میں دین اسلام کی خوب ترویج و اشاعت ہوئی، اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کا فروغ ہوا ۔ آپ کی ساری زندگی ان علاقوں میں دین اسلام کی ترقی و فروغ میں صرف ہوئی ۔ آپ کی درس گاہ سے ایک جہاں علم کی لا زوال دولت سے فیض یاب ہوا اور ہو رہا ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 16 رجب المرجب 1335ھ، مطابق 8 مئی 1917ء، برومنگل ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصیر پور میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-akbar-chishti-baseerpuri
scholars.pk
Hazrat Molana Akbar Chishti Baseerpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1