*قصہ ہاروت و ماروت کی حقیقت*
---------------------------
انہیں اللہ نے بندوں کی آزمائش کے لیے علم سحر دے کر دنیا میں بھیجا یہ فرشتے لوگوں کو علم سحر سکھاتے مگر پہلے بتا دیتے تھے کہ عمل سحر کفر و شرک ہے جو اسے سیکھے اور اس پر عمل کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اور جو اس سے بچے گا وہی مومن رہے گا اس تصریح کے بعد جو اپنے ایمان کی پرواہ نہ کرتا اور علم سحر سیکھنے پر مصر ہوتا اسے سکھا دیتے اس طرح بندوں کا امتحان ہو جاتا کہ کون اللہ کی رضا چاہتا ہے اور کون شیطان کی پیروی
بس قصہ ہاروت و ماروت کی حقیقت اتنا ہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی اس کے علاوہ جو کچھ مشہور ہے یہ بے اصل یے امام اہلسنت اعلی حضرت فرماتے ہیں کہ '' قصہ ہاروت و ماروت جس طرح عوام میں شائع ہے ائمہ کرام کو اس پر شدید انکار یے جسکی تفصیل شفا شریف اور اس کی شرح میں ہے فرمایا امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے کہ یہ یہود کی افتراء یے
📚فتاوی رضویہ جلد 3 ص 20 مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
جو سحر ہاروت و ماروت سے نکلا اسے '' کلدائیں '' کہتے ہیں تفسیر عزیزی
📚 کنز الدارین فی حل تفسیر الجلالین جلد اول ص 161و 62
*بلا کسی ترمیم و اضافے کے عام کریں*
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
---------------------------
انہیں اللہ نے بندوں کی آزمائش کے لیے علم سحر دے کر دنیا میں بھیجا یہ فرشتے لوگوں کو علم سحر سکھاتے مگر پہلے بتا دیتے تھے کہ عمل سحر کفر و شرک ہے جو اسے سیکھے اور اس پر عمل کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اور جو اس سے بچے گا وہی مومن رہے گا اس تصریح کے بعد جو اپنے ایمان کی پرواہ نہ کرتا اور علم سحر سیکھنے پر مصر ہوتا اسے سکھا دیتے اس طرح بندوں کا امتحان ہو جاتا کہ کون اللہ کی رضا چاہتا ہے اور کون شیطان کی پیروی
بس قصہ ہاروت و ماروت کی حقیقت اتنا ہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی اس کے علاوہ جو کچھ مشہور ہے یہ بے اصل یے امام اہلسنت اعلی حضرت فرماتے ہیں کہ '' قصہ ہاروت و ماروت جس طرح عوام میں شائع ہے ائمہ کرام کو اس پر شدید انکار یے جسکی تفصیل شفا شریف اور اس کی شرح میں ہے فرمایا امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے کہ یہ یہود کی افتراء یے
📚فتاوی رضویہ جلد 3 ص 20 مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
جو سحر ہاروت و ماروت سے نکلا اسے '' کلدائیں '' کہتے ہیں تفسیر عزیزی
📚 کنز الدارین فی حل تفسیر الجلالین جلد اول ص 161و 62
*بلا کسی ترمیم و اضافے کے عام کریں*
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
❤1
ہم نے فلاں کی بات اس لیے نہیں مانا کہ فلاں ہندی و سندھی کا فرمان ہے بلکہ اس لیے مانا کہ سواد اعظم کے مطابق ہے، اگر اس سے ہٹ کر ایک دو دس بیس کے اقوال بھی ہوتے، خواہ وہ شخصیات معتبر ہی کیوں نہ ہوتیں ہرگز نہ مانتا کیوں کہ ہمیں سواد اعظم کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ جدا ہونے والے کی، کتاب کوئی بھی ہو، مصنف کیسا بھی ہو اگر مسئلہ عقائد کا رہا اور دلائل اربعہ کے مطابق ہے قبول ہے خواہ مشہور کا قول ہو یا غیر معروف کا، اور اگر خلاف رہا چھوڑ دیں گے، اور اگر مسئلہ فقہی رہا تو بھی دلائل اربعہ کے مطابق جو ہوگا اسی کو قبول کریں گے کیونکہ اجماع سے ہٹ جانا ہلا.کت ہے
اے لوگو! جان لو جتنے گمراہ ہوے، یا ہو رہے ہیں، یا آئندہ ہوں گے یہ سب وہی ہیں جنہوں نے سواد اعظم سے منہ موڑا، اور اجماع امت سے ہٹ کر چلے، یہ بھی ذہن نشین رہے کہ تمام باطل جماعتیں سب سے پہلے سواد اعظم کے متعلق شک و شبہ پیدا کرتی ہیں بعدہ شکار
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
اے لوگو! جان لو جتنے گمراہ ہوے، یا ہو رہے ہیں، یا آئندہ ہوں گے یہ سب وہی ہیں جنہوں نے سواد اعظم سے منہ موڑا، اور اجماع امت سے ہٹ کر چلے، یہ بھی ذہن نشین رہے کہ تمام باطل جماعتیں سب سے پہلے سواد اعظم کے متعلق شک و شبہ پیدا کرتی ہیں بعدہ شکار
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
❤1
آہ اہل سنت 😥
ہماری کئی ایک مساجد میں جمعے کے دن جو تقریریں ہوتی ہیں اُن میں الاماشاءاللہ زیادہ تر زور قصے کہانیوں ، شعروں ، اور فضائل و مناقب بیان کیے جانے پر لگایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دلائل تو دور عوام عقائد و نظریات اہل سنت سے بھی لاعلم رہتی ہے ، پھر انھیں ہر ایرا غیرا اپنے پیچھے لگا کر کہیں بھی لے جاتا ہے ۔ اور اپنے رنگ میں ڈھال لیتا ہے ۔۔۔لہذا خطباء سے دست بستہ گزارش ہے کہ یہ دور بھی بہت سے فتنوں سے بھرا پڑا ہے آپ بوڑھے افراد کو تو یہ سب سنا کر مست کر سکتے ہیں ، مگر نوجوان اور پڑھی لکھی نسل اب اِن باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتی ۔ سوشل میڈیا کا دور ہے وہاں طرح طرح کے نمونے بیٹھے دین بیان کررہے ہیں ۔۔۔۔۔کوئی قرآن و سنت سے غلط استدلال کررہا ہے تو کوئی صحابہ و اہل بیت کے خلاف کررہا ہے ۔۔۔کوئی بابوں کو کیش کررہا ہے تو کوئی بابوں کے نام پر گمراہ کررہا ہے ۔۔۔المختصر جب لوگ سوشل میڈیا پر ایسے گمراہانہ کلپ سُنتے تو وہ باتیں ان کے دل و دماغ میں جم جاتی ہیں اور ان کے اندر شکوک و شبہات پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔ان کے ذہنوں میں بہت سے سوال ہوتے ہیں، دلوں میں بہت سے خیال ہوتے ہیں ۔۔پھر وہ معاشرے میں جب نظر دوڑاتا ہے تو اسے کہیں کوئی مثال بھی مل جاتی ہے تب وہ پکا ہوجاتا ہے کہ واقعی فلاں سکالر صحیح کہتا ہے۔۔۔۔اور یوں ایک آسانی اور صحیح راستے کی تلاش میں پھرنے والا متذبذب انسان گمراہ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔اگر خطباء یہ ذمہ داری اٹھالیں کہ وہ ہر جمعہ کی تقریر میں جدید فتنوں اور مسئلوں پر تیاری کرکے اسے بھی ساتھ بیان کریں گے اور ایڈوانس میں عقائد و نظریات کی مضبوطی اور اصلاح کے حوالے سے بیان کریں گے ۔۔۔۔تو ان شاءالله بہت سوں کا بھلا ہوگا۔۔۔
راقم کو آج اپنے شہر کی بہت بڑی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔۔۔ تو وہاں کے مشہور خطیب صاحب کی تقریر سُن کر دلی صدمہ ہوا تقریباً سوا گھنٹے کی تقریر میں پہلے اپنے ہی فضائل اور سیرت پھر دو چار ادھر اُدھر کی باتیں آٹھ دس شعر اور آخری منٹوں میں واقعہ کربلا کا تصور کرواکے سارے مجمعے کا دل موم کردیا ۔۔۔۔اب یہاں سے موم ہوا دل لے کر اٹھنے والا نوجوان جب باہر جاکر مرزے انجینئر کو سُنے گا تو اُس کا دل ایسا سخت ہوجائے گا کہ پھر اس پر کچھ بھی اثر نہ ہوگا ۔
لہذا خدارا اپنی عوام کا خیال رکھیں خود بھی علم حاصل کریں اور انہیں بھی جدید فتنوں اور ضروریات اہل سنت سے آگاہی بخشیں ۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
✍️ارسلان احمد اصمعی قادری
21/4/23/ء
ہماری کئی ایک مساجد میں جمعے کے دن جو تقریریں ہوتی ہیں اُن میں الاماشاءاللہ زیادہ تر زور قصے کہانیوں ، شعروں ، اور فضائل و مناقب بیان کیے جانے پر لگایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دلائل تو دور عوام عقائد و نظریات اہل سنت سے بھی لاعلم رہتی ہے ، پھر انھیں ہر ایرا غیرا اپنے پیچھے لگا کر کہیں بھی لے جاتا ہے ۔ اور اپنے رنگ میں ڈھال لیتا ہے ۔۔۔لہذا خطباء سے دست بستہ گزارش ہے کہ یہ دور بھی بہت سے فتنوں سے بھرا پڑا ہے آپ بوڑھے افراد کو تو یہ سب سنا کر مست کر سکتے ہیں ، مگر نوجوان اور پڑھی لکھی نسل اب اِن باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتی ۔ سوشل میڈیا کا دور ہے وہاں طرح طرح کے نمونے بیٹھے دین بیان کررہے ہیں ۔۔۔۔۔کوئی قرآن و سنت سے غلط استدلال کررہا ہے تو کوئی صحابہ و اہل بیت کے خلاف کررہا ہے ۔۔۔کوئی بابوں کو کیش کررہا ہے تو کوئی بابوں کے نام پر گمراہ کررہا ہے ۔۔۔المختصر جب لوگ سوشل میڈیا پر ایسے گمراہانہ کلپ سُنتے تو وہ باتیں ان کے دل و دماغ میں جم جاتی ہیں اور ان کے اندر شکوک و شبہات پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔ان کے ذہنوں میں بہت سے سوال ہوتے ہیں، دلوں میں بہت سے خیال ہوتے ہیں ۔۔پھر وہ معاشرے میں جب نظر دوڑاتا ہے تو اسے کہیں کوئی مثال بھی مل جاتی ہے تب وہ پکا ہوجاتا ہے کہ واقعی فلاں سکالر صحیح کہتا ہے۔۔۔۔اور یوں ایک آسانی اور صحیح راستے کی تلاش میں پھرنے والا متذبذب انسان گمراہ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔اگر خطباء یہ ذمہ داری اٹھالیں کہ وہ ہر جمعہ کی تقریر میں جدید فتنوں اور مسئلوں پر تیاری کرکے اسے بھی ساتھ بیان کریں گے اور ایڈوانس میں عقائد و نظریات کی مضبوطی اور اصلاح کے حوالے سے بیان کریں گے ۔۔۔۔تو ان شاءالله بہت سوں کا بھلا ہوگا۔۔۔
راقم کو آج اپنے شہر کی بہت بڑی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔۔۔ تو وہاں کے مشہور خطیب صاحب کی تقریر سُن کر دلی صدمہ ہوا تقریباً سوا گھنٹے کی تقریر میں پہلے اپنے ہی فضائل اور سیرت پھر دو چار ادھر اُدھر کی باتیں آٹھ دس شعر اور آخری منٹوں میں واقعہ کربلا کا تصور کرواکے سارے مجمعے کا دل موم کردیا ۔۔۔۔اب یہاں سے موم ہوا دل لے کر اٹھنے والا نوجوان جب باہر جاکر مرزے انجینئر کو سُنے گا تو اُس کا دل ایسا سخت ہوجائے گا کہ پھر اس پر کچھ بھی اثر نہ ہوگا ۔
لہذا خدارا اپنی عوام کا خیال رکھیں خود بھی علم حاصل کریں اور انہیں بھی جدید فتنوں اور ضروریات اہل سنت سے آگاہی بخشیں ۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
✍️ارسلان احمد اصمعی قادری
21/4/23/ء
❤1
*منتہی الکلام* علامہ حیدر علی فیض آبادی کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کی اس کے جواب میں ہی
شیعوں کی چوٹی کتاب *استقصاء الافحام* لکھی گئی تھی
یہ را.فضی تو اس کتاب سے ہزاروں کتاب بنا چکے اور ہم اہلسنت آج تک منتہی الکلام شائع بھی نہ کر سکے.
ہمارے اکابر نے ہر ہر موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے میرا ماننا ہے کہ سو سال تک اگر ہم ان لکھی ہوئی کتابوں کی ہی تلخیص، تسہیل، تخریج، تعلیق کرتے رہیں تو تمام باطل جماعتوں پر بھاری رہیں گے، لیکن کیا کریں ہندوستان میں سینکڑوں مطبع ہیں، سینکڑوں اعلی حضرت اور بزرگوں کے نام پر قائم ہوے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ چندہ کرکے اپنی زمین وسیع کی جائے، کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ سو سال کا عرصہ ہوگیا *سینکڑوں ادارے* مل کر اب تک اکابرین اہلسنت کی پچاس فیصد کتابیں بھی شائع نہ کر سکے
مستحبات و مباحات میں ہر سال کئی کروڑ روپیہ لگایا جاتا ہے، حتی کہ بعض بزرگوں کے عرس مبارک میں کئی کروڑ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ان کی کتابوں پر ایک لاکھ بھی نہیں لگایا جاتا، ہمیں غیروں سے نہیں اپنوں سے شکوہ ہے، یہی وجہ ہے کہ آج عوام اہلسنت لنگر، فاتحہ، عرس، مزارات پر جانا سب کرتی اور مانتی ہے لیکن ایک ہی گھڑی میں بد.مذہب کے جال میں پھنس کر گمراہ ہو جاتی ہے، درجن بھر سے زمیندار اور دولت مند حضرات کو جانتا ہوں جو پہلے سنی تھے اب اہلحدیث یا دیو.بندی ہو گیے ہیں
خدارا اکابرین اہلسنت کی کتابوں کی طرف توجہ دیں، ورنہ بدمذہبوں کی کتابیں ہمارے پاس ہوں گی اس کے جواب میں اہلسنت کی کتابیں مفقود ہوں گی.
📝حسن نوری گونڈوی
شیعوں کی چوٹی کتاب *استقصاء الافحام* لکھی گئی تھی
یہ را.فضی تو اس کتاب سے ہزاروں کتاب بنا چکے اور ہم اہلسنت آج تک منتہی الکلام شائع بھی نہ کر سکے.
ہمارے اکابر نے ہر ہر موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے میرا ماننا ہے کہ سو سال تک اگر ہم ان لکھی ہوئی کتابوں کی ہی تلخیص، تسہیل، تخریج، تعلیق کرتے رہیں تو تمام باطل جماعتوں پر بھاری رہیں گے، لیکن کیا کریں ہندوستان میں سینکڑوں مطبع ہیں، سینکڑوں اعلی حضرت اور بزرگوں کے نام پر قائم ہوے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ چندہ کرکے اپنی زمین وسیع کی جائے، کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ سو سال کا عرصہ ہوگیا *سینکڑوں ادارے* مل کر اب تک اکابرین اہلسنت کی پچاس فیصد کتابیں بھی شائع نہ کر سکے
مستحبات و مباحات میں ہر سال کئی کروڑ روپیہ لگایا جاتا ہے، حتی کہ بعض بزرگوں کے عرس مبارک میں کئی کروڑ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ان کی کتابوں پر ایک لاکھ بھی نہیں لگایا جاتا، ہمیں غیروں سے نہیں اپنوں سے شکوہ ہے، یہی وجہ ہے کہ آج عوام اہلسنت لنگر، فاتحہ، عرس، مزارات پر جانا سب کرتی اور مانتی ہے لیکن ایک ہی گھڑی میں بد.مذہب کے جال میں پھنس کر گمراہ ہو جاتی ہے، درجن بھر سے زمیندار اور دولت مند حضرات کو جانتا ہوں جو پہلے سنی تھے اب اہلحدیث یا دیو.بندی ہو گیے ہیں
خدارا اکابرین اہلسنت کی کتابوں کی طرف توجہ دیں، ورنہ بدمذہبوں کی کتابیں ہمارے پاس ہوں گی اس کے جواب میں اہلسنت کی کتابیں مفقود ہوں گی.
📝حسن نوری گونڈوی
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-10-1444 ᴴ | 28-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1