Forwarded from چینل صدائے حق
پریس یورپ کی نسبت بہت تاخیر سے شروع ہوا۔صرف مسلم دنیا میں اس کے تاخیر سے شروع ہونے کو مذہبی طبقے اور مولویوں یا مسلم حکومت کی طرف سے مخالفت سے منسلک کرنا بالکل غلط ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مستند تاریخی ثبوت ہے۔
ایران میں پہلا پرنٹنگ پریس 1636ء میں اصفہان میں قائم ہوا جب کہ تہران میں 1820ء میں یعنی سلطنت عثمانیہ کے بھی تین سو سال بعد۔جب کہ ایران سلطنت عثمانیہ کے ماتحت نہیں تھا بلکہ الٹا شیعہ ایران کی سنی سلطنت عثمانیہ سے سخت مخالفت تھی۔پھر یہاں تو کوئی حکومت کی مخالفت نہیں تھی اور نہ ہی کسی مولوی کی تو پھر یہاں پرنٹنگ پریس اپنی ایجاد کے بعد اتنی تاخیر یعنی ساڑھے تین سو سال بعد کیوں شروع ہوا۔اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اسلامی ممالک سمیت پورے غیر مسلم ایشیا،افریقہ میں پرنٹنگ پریس تاخیر سے شروع ہونے کی وجہ کسی مولوی کی مخالفت نہیں بلکہ عمومی طور پر پورے ایشیا کا سائنسی جمود تھا جو اسلامی اور غیر اسلامی پورے مشرق پہ برابر جاری تھا۔
اگر سلطنت عثمانیہ میں عربی کتابوں اور قرآن کی پرنٹنگ کے راستے میں سلطنت عثمانیہ کی حکومت اور مولوی طبقے کی مخالفت تھی تو پھر ان مسلم ممالک میں بھی عربی پرنٹنگ اور قرآن کی پرنٹنگ کیوں صدیوں بعد شروع ہوئی جو نہ تو سلطنت عثمانیہ کے ماتحت تھے اور نہ ہی کسی مولوی کی مخالفت تھی وہاں اور نہ ہی ان ممالک کے حوالے سے ہمیں اس بات کی کوئی دلیل ملتی ہے۔اس کا واضح مطلب ہے کہ سلطنت عثمانیہ اور اس کے مولوی طبقے پہ لگایا جانے والا یہ الزام مکمل طور پہ جھوٹ اور بہتان ہے اور کچھ نہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ میں سلطان سلیم نے پرنٹنگ پریس کا احیا کرنے کی کوشش کی لیکن اسے اپنی ینی چری فوج کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب کہ اس بات کا کوئی مستند ثبوت یہ کہنے والوں کی طرف سے فراہم نہیں کیا گیا۔چیمبرز ایڈنبرگ جرنل( 1848ء) کے صفحہ 44 کے تحت یہ دعوی کیا گیا ہے کہ 1483ء میں سلطان بایزید دوم نے ترکوں کی طرف سے پرنٹ شدہ کتابوں کے استعمال پہ پابندی لگا دی اور اس کی سزا موت مقرر کی اور یہ پابندی 1720ء تک جاری رہی۔دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی عیسوی میں یورپی غلبے کے دور میں مسلم تواریخ کو بہت بری طرح سے مسخ کیا گیا اور اپنے اس الزام کا 1848ء کے چیمبرز ایڈنبرگ جرنل نے کوئی حوالہ پیش نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں سلطنت عثمانیہ پہ عائد کیے جانے والے اس الزام کا کسی غیر جانبدار حوالے سے کوئی مستند تاریخی ثبوت ملا ہے۔اس کے لیے ہم نے اس عنوان پہ لکھنے والی تیس سے زائد ویب سائٹس اور حوالوں کا مطالعہ کیا لیکن ہمیں ایسی کوئی بات نہیں ملی۔جان پال گوبریل کی ایک تحقیق کے مطابق اس کہانی کا کوئی مستند تاریخی حوالہ موجود نہیں۔ اس کے دو حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں۔1585ء کا ایک حوالہ Nicolas de Nicolay, The navigations, peregrinations and voyages, made into Turkie by Nicholas Nicholay Daulphinois, Lord of Arfeuile. conteining sundry singularities which the author hath there seene and observed;devided into foure books, with threescore figures, naturally set forth as well of men as women, according to the diversitie of nations., T. Washington trans. (London, 1585). p.130 یہ لکھتا ہے
…Maranes [Marranos] of late banished and driven out of Spaine & Portugale, who to the great detriment and damage of the Christianitie, have taught the Turkes diverse inventions, craftes and engines of warre, as to make artillerie, harquebuses, gunnepouder, shot, and other munitions: they have also there set up printing, not before seene in those countries, by the which in faire characters they put in light divers bookes in divers languages, as Greek, Latin, Italian, Spanish, and the Hebrewe toungue, being to them natural, but are not permitted to print the Turkie or Arabian tongue.’
اس حوالے کے مطابق عیسائیوں کے ظلم کی وجہ سے سپین سے نکالے جانے والے
میرانو یعنی کوئی ہَسپانوی یہودی جِس نے قُرُونِ وُسطیٰ کے اواخَر میں ہَسپانوی عدالَتِ احتساب کے دَباو کے تحت بَرسَرِ عام رومَن کیتھولِک مَذہَب اِختیار کَر لیا ہو لیکن خُفیہ طَور پر اپنے یہودی مَذہَب پَر قائم رہا،کو سلطنت عثمانیہ میں ترکوں کے لئے اسلحہ بارود اور توپ خانے کے حوالے سے کام کرنے کی اجازت تھی اور لاطینی،سپینی اور عبرانی میں کتابیں پرنٹ کرنے کی اجازت تھی لیکن انہیں ترکی اور عربی زبان میں کوئی چیز پرنٹ۔ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
اس کا ایک اور سب سے قدیم تاریخی حوالہ
The Life and Letters of Ogier Ghiselin de Busbecq By Ogier Ghislain de Busbecq, tr. Charles Thornton Forster, Francis Henry Blackburne Daniell. Published by C. K. Paul, 1881. Volume 1
ایران میں پہلا پرنٹنگ پریس 1636ء میں اصفہان میں قائم ہوا جب کہ تہران میں 1820ء میں یعنی سلطنت عثمانیہ کے بھی تین سو سال بعد۔جب کہ ایران سلطنت عثمانیہ کے ماتحت نہیں تھا بلکہ الٹا شیعہ ایران کی سنی سلطنت عثمانیہ سے سخت مخالفت تھی۔پھر یہاں تو کوئی حکومت کی مخالفت نہیں تھی اور نہ ہی کسی مولوی کی تو پھر یہاں پرنٹنگ پریس اپنی ایجاد کے بعد اتنی تاخیر یعنی ساڑھے تین سو سال بعد کیوں شروع ہوا۔اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اسلامی ممالک سمیت پورے غیر مسلم ایشیا،افریقہ میں پرنٹنگ پریس تاخیر سے شروع ہونے کی وجہ کسی مولوی کی مخالفت نہیں بلکہ عمومی طور پر پورے ایشیا کا سائنسی جمود تھا جو اسلامی اور غیر اسلامی پورے مشرق پہ برابر جاری تھا۔
اگر سلطنت عثمانیہ میں عربی کتابوں اور قرآن کی پرنٹنگ کے راستے میں سلطنت عثمانیہ کی حکومت اور مولوی طبقے کی مخالفت تھی تو پھر ان مسلم ممالک میں بھی عربی پرنٹنگ اور قرآن کی پرنٹنگ کیوں صدیوں بعد شروع ہوئی جو نہ تو سلطنت عثمانیہ کے ماتحت تھے اور نہ ہی کسی مولوی کی مخالفت تھی وہاں اور نہ ہی ان ممالک کے حوالے سے ہمیں اس بات کی کوئی دلیل ملتی ہے۔اس کا واضح مطلب ہے کہ سلطنت عثمانیہ اور اس کے مولوی طبقے پہ لگایا جانے والا یہ الزام مکمل طور پہ جھوٹ اور بہتان ہے اور کچھ نہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ میں سلطان سلیم نے پرنٹنگ پریس کا احیا کرنے کی کوشش کی لیکن اسے اپنی ینی چری فوج کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب کہ اس بات کا کوئی مستند ثبوت یہ کہنے والوں کی طرف سے فراہم نہیں کیا گیا۔چیمبرز ایڈنبرگ جرنل( 1848ء) کے صفحہ 44 کے تحت یہ دعوی کیا گیا ہے کہ 1483ء میں سلطان بایزید دوم نے ترکوں کی طرف سے پرنٹ شدہ کتابوں کے استعمال پہ پابندی لگا دی اور اس کی سزا موت مقرر کی اور یہ پابندی 1720ء تک جاری رہی۔دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی عیسوی میں یورپی غلبے کے دور میں مسلم تواریخ کو بہت بری طرح سے مسخ کیا گیا اور اپنے اس الزام کا 1848ء کے چیمبرز ایڈنبرگ جرنل نے کوئی حوالہ پیش نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں سلطنت عثمانیہ پہ عائد کیے جانے والے اس الزام کا کسی غیر جانبدار حوالے سے کوئی مستند تاریخی ثبوت ملا ہے۔اس کے لیے ہم نے اس عنوان پہ لکھنے والی تیس سے زائد ویب سائٹس اور حوالوں کا مطالعہ کیا لیکن ہمیں ایسی کوئی بات نہیں ملی۔جان پال گوبریل کی ایک تحقیق کے مطابق اس کہانی کا کوئی مستند تاریخی حوالہ موجود نہیں۔ اس کے دو حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں۔1585ء کا ایک حوالہ Nicolas de Nicolay, The navigations, peregrinations and voyages, made into Turkie by Nicholas Nicholay Daulphinois, Lord of Arfeuile. conteining sundry singularities which the author hath there seene and observed;devided into foure books, with threescore figures, naturally set forth as well of men as women, according to the diversitie of nations., T. Washington trans. (London, 1585). p.130 یہ لکھتا ہے
…Maranes [Marranos] of late banished and driven out of Spaine & Portugale, who to the great detriment and damage of the Christianitie, have taught the Turkes diverse inventions, craftes and engines of warre, as to make artillerie, harquebuses, gunnepouder, shot, and other munitions: they have also there set up printing, not before seene in those countries, by the which in faire characters they put in light divers bookes in divers languages, as Greek, Latin, Italian, Spanish, and the Hebrewe toungue, being to them natural, but are not permitted to print the Turkie or Arabian tongue.’
اس حوالے کے مطابق عیسائیوں کے ظلم کی وجہ سے سپین سے نکالے جانے والے
میرانو یعنی کوئی ہَسپانوی یہودی جِس نے قُرُونِ وُسطیٰ کے اواخَر میں ہَسپانوی عدالَتِ احتساب کے دَباو کے تحت بَرسَرِ عام رومَن کیتھولِک مَذہَب اِختیار کَر لیا ہو لیکن خُفیہ طَور پر اپنے یہودی مَذہَب پَر قائم رہا،کو سلطنت عثمانیہ میں ترکوں کے لئے اسلحہ بارود اور توپ خانے کے حوالے سے کام کرنے کی اجازت تھی اور لاطینی،سپینی اور عبرانی میں کتابیں پرنٹ کرنے کی اجازت تھی لیکن انہیں ترکی اور عربی زبان میں کوئی چیز پرنٹ۔ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
اس کا ایک اور سب سے قدیم تاریخی حوالہ
The Life and Letters of Ogier Ghiselin de Busbecq By Ogier Ghislain de Busbecq, tr. Charles Thornton Forster, Francis Henry Blackburne Daniell. Published by C. K. Paul, 1881. Volume 1
👍1
Forwarded from چینل صدائے حق
ہے جس کے صفحہ 44 پہ یہ تحریر موجود ہے۔
No nation in the world has shown greater readiness than the Turks to avail themselves of the useful inventions of foreigners, as is proved by their employment of cannons and mortars, and many other things invented by Christians. They cannot, however, be induced as yet to use printing, or to establish public clocks, because they think that the Scriptures, that is, their sacred books – would no longer be scriptures if they were printed, and that, if public clocks were introduced, the authority of their muezzins and their ancient rites would be thereby impaired
1560ء کا حوالہ کہتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ میں وحی کی کتابیں پبلش کرنے کی اجازت نہیں تھی اور کیوں تھی 1585ء کا حوالہ اس کی مزید تفصیل بتا رہا ہے اور یہ دونوں حوالے یہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ پابندی صرف یہودیوں پہ تھی کہ وہ مسلمانوں کی مذہبی کتابیں پرنٹ نہیں کر سکتے اور وہ اس لیے کہ پرنٹنگ کے دوران وہ ان میں تبدیلی نہ کر سکیں۔دونوں حوالوں میں کہیں پہ یہ بات مذکور نہیں ہے کہ یہ پابندی تمام علوم اور سائنسی کتابوں کے پرنٹ کرنے پہ تھی لیکن الزام لگانے والوں نے اس کہانی کو اس طرح بنا دیا کہ سلطنت عثمانیہ میں ہر طرح کی کتابوں کی پرنٹنگ پہ پابندی تھی اور یہی وجہ تھی کہ سلطنت عثمانیہ سائنسی طور پہ زوال کا شکار ہوگئ۔یہ بات جھوٹ اور بہتان ہے جس کی حمایت پابندی کے حوالے سے قدیم ترین یہ دو حوالے بھی نہیں کر رہے۔
یہ بات صاف ظاہر کر رہی ہے کہ یہ پابندی صرف یہودیوں پہ تھی کہ وہ عربی اور ترکی کتابیں پرنٹ نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے ان کی طرف سے مذہبی کتابوں میں ملاوٹ کا اندیشہ تھا لیکن پرنٹنگ پہ سلطنت عثمانیہ میں عمومی پابندی نہیں تھی لیکن تاریخ بولنے والوں نے یہ الزام لگا دیا کہ سلطنت عثمانیہ میں یہودی کیا مسلمان بھی کوئی کتاب پرنٹ نہیں کر سکتے تھے اور اس کی سزا موت تھی اور یہی بات جان پال گوبریل نے کی ہے۔
1493ء میں ہی استنبول میں ایک یہودی پرنٹنگ پریس کام کر رہا تھا۔جب کہ 1567ء میں آرمینیائی باشندوں نے ایک اور پرنٹنگ پریس قائم کیا۔1587ء میں سلطان مراد سوم نے یورپ میں پرنٹ شدہ عربی،فارسی اور ترکی کتابوں کی سلطنت عثمانیہ کی حدود میں خرید و فروخت کی اجازت کا حکم نامہ جاری کیا۔اگر سلطنت عثمانیہ اور مولوی طبقے کی طرف سے پرنٹنگ پریس کی مخالفت کی بات درست ہے تو پھر عربی کتابیں اور وہ بھی یورپ میں پرنٹ شدہ کتابوں کی سلطنت عثمانیہ میں خرید و فروخت کی خلیفہ کی طرف سے اجازت کیوں دی گئی۔یہ بات ظاہر کر رہی ہے کہ سلطنت عثمانیہ اور اس کے مولوی طبقے کی طرف سے پرنٹنگ پریس پہ پابندی کی بات تاریخی جھوٹ،بہتان،دغا بازی اور تاریخی منافقت ہے اور کچھ نہیں۔
سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس ترقی کیوں نہ کر سکا،اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ سلطنت عثمانیہ کی طرف سے پرنٹنگ پریس پہ پابندی تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ترک پرنٹ شدہ کتابوں کی نسبت ہاتھ سے لکھی گئی کتابیں پسند کرتے تھے جو خطاطی اور سونے کی ایک تار کے ساتھ والی جلد کا اعلی شاہکار ہوتی تھیں۔خود نیویارک میں پرنٹنگ پریس باقاعدہ طور پہ ترکی سے 36 سال پہلے شروع ہوا۔وہاں کونسے مولوی اور سلطنت عثمانیہ تھی جس نے پابندی لگا رکھی تھی۔
اور جب 1727ء میں ابراہیم آغا نے پیرس سے واپسی کے بعد وہاں کے چھاپہ خانوں سے متاثر ہوکر خلافت عثمانیہ کے وزیر سے باقاعدہ پرنٹنگ پریس شروع کرنے اور اس کے فوائد بیان کیے تو سلطنت عثمانیہ کے شیخ الاسلام عبداللہ رومی افندی نے فتوی دیا کہ کوئی بھی ایسا شخص جو پرنٹنگ کے کام میں ماہر ہو اور منطق،فلسفہ، فلکیات اور اس طرح کی دیگر کتابوں کی پرنٹ شدہ نقلیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو یہ بات بہت مفید ہے اور اسلام اس کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے لیے لازمی ہے کہ کتاب کے پرنٹ ہونے سے پہلے اور بعد ماہر لوگ کتاب کی صحت کی تصدیق کریں۔اس کے بعد ترکی کے وزیر اعظم کے مشورے پہ عثمانی خلیفہ سلطان احمد سوم نے کتابوں کے پرنٹ کرنے کی اجازت کا سرکاری حکم نامہ جاری کیا۔اس پرنٹنگ پریس کی پرنٹ شدہ کتابیں آج بھی استنبول کی پبلک یونیورسٹی کی پبلک لائبریری میں موجود ہیں۔یورپی کہتے ہیں کہ اس پرنٹنگ پریس کی اجازت کے بعد خطاطی کرنے والے لوگ اپنے قلم لے کر کفن پہن کر نکلے اور اس کے خلاف احتجاج کیا۔لہذا مذہبی کتابوں کی اشاعت ان کے حوالے کر دی گئی۔بارون ڈی ٹوٹ جو اس وقت استنبول میں تھا دعوی کرتا ہے کہ عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ پرنٹنگ پریس بند کر دیا گیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف مختصر عرصے کے لیے ترکی روس جنگوں کی وجہ سے بند کیا گیا تھا اور اس کی ستر فیصد پرنٹ شدہ کتابوں کی خرید و فروخت ابراھیم آغا کی زندگی میں ہوئی۔لہذا عدم دلچسپی کی بات بے بنیاد ہے۔بعد میں جب اس کی وفات کے بعد فرانسیسیوں نے اس پرنٹنگ پریس کو خریدنا چاہا تو اسے غیر
No nation in the world has shown greater readiness than the Turks to avail themselves of the useful inventions of foreigners, as is proved by their employment of cannons and mortars, and many other things invented by Christians. They cannot, however, be induced as yet to use printing, or to establish public clocks, because they think that the Scriptures, that is, their sacred books – would no longer be scriptures if they were printed, and that, if public clocks were introduced, the authority of their muezzins and their ancient rites would be thereby impaired
1560ء کا حوالہ کہتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ میں وحی کی کتابیں پبلش کرنے کی اجازت نہیں تھی اور کیوں تھی 1585ء کا حوالہ اس کی مزید تفصیل بتا رہا ہے اور یہ دونوں حوالے یہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ پابندی صرف یہودیوں پہ تھی کہ وہ مسلمانوں کی مذہبی کتابیں پرنٹ نہیں کر سکتے اور وہ اس لیے کہ پرنٹنگ کے دوران وہ ان میں تبدیلی نہ کر سکیں۔دونوں حوالوں میں کہیں پہ یہ بات مذکور نہیں ہے کہ یہ پابندی تمام علوم اور سائنسی کتابوں کے پرنٹ کرنے پہ تھی لیکن الزام لگانے والوں نے اس کہانی کو اس طرح بنا دیا کہ سلطنت عثمانیہ میں ہر طرح کی کتابوں کی پرنٹنگ پہ پابندی تھی اور یہی وجہ تھی کہ سلطنت عثمانیہ سائنسی طور پہ زوال کا شکار ہوگئ۔یہ بات جھوٹ اور بہتان ہے جس کی حمایت پابندی کے حوالے سے قدیم ترین یہ دو حوالے بھی نہیں کر رہے۔
یہ بات صاف ظاہر کر رہی ہے کہ یہ پابندی صرف یہودیوں پہ تھی کہ وہ عربی اور ترکی کتابیں پرنٹ نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے ان کی طرف سے مذہبی کتابوں میں ملاوٹ کا اندیشہ تھا لیکن پرنٹنگ پہ سلطنت عثمانیہ میں عمومی پابندی نہیں تھی لیکن تاریخ بولنے والوں نے یہ الزام لگا دیا کہ سلطنت عثمانیہ میں یہودی کیا مسلمان بھی کوئی کتاب پرنٹ نہیں کر سکتے تھے اور اس کی سزا موت تھی اور یہی بات جان پال گوبریل نے کی ہے۔
1493ء میں ہی استنبول میں ایک یہودی پرنٹنگ پریس کام کر رہا تھا۔جب کہ 1567ء میں آرمینیائی باشندوں نے ایک اور پرنٹنگ پریس قائم کیا۔1587ء میں سلطان مراد سوم نے یورپ میں پرنٹ شدہ عربی،فارسی اور ترکی کتابوں کی سلطنت عثمانیہ کی حدود میں خرید و فروخت کی اجازت کا حکم نامہ جاری کیا۔اگر سلطنت عثمانیہ اور مولوی طبقے کی طرف سے پرنٹنگ پریس کی مخالفت کی بات درست ہے تو پھر عربی کتابیں اور وہ بھی یورپ میں پرنٹ شدہ کتابوں کی سلطنت عثمانیہ میں خرید و فروخت کی خلیفہ کی طرف سے اجازت کیوں دی گئی۔یہ بات ظاہر کر رہی ہے کہ سلطنت عثمانیہ اور اس کے مولوی طبقے کی طرف سے پرنٹنگ پریس پہ پابندی کی بات تاریخی جھوٹ،بہتان،دغا بازی اور تاریخی منافقت ہے اور کچھ نہیں۔
سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس ترقی کیوں نہ کر سکا،اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ سلطنت عثمانیہ کی طرف سے پرنٹنگ پریس پہ پابندی تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ترک پرنٹ شدہ کتابوں کی نسبت ہاتھ سے لکھی گئی کتابیں پسند کرتے تھے جو خطاطی اور سونے کی ایک تار کے ساتھ والی جلد کا اعلی شاہکار ہوتی تھیں۔خود نیویارک میں پرنٹنگ پریس باقاعدہ طور پہ ترکی سے 36 سال پہلے شروع ہوا۔وہاں کونسے مولوی اور سلطنت عثمانیہ تھی جس نے پابندی لگا رکھی تھی۔
اور جب 1727ء میں ابراہیم آغا نے پیرس سے واپسی کے بعد وہاں کے چھاپہ خانوں سے متاثر ہوکر خلافت عثمانیہ کے وزیر سے باقاعدہ پرنٹنگ پریس شروع کرنے اور اس کے فوائد بیان کیے تو سلطنت عثمانیہ کے شیخ الاسلام عبداللہ رومی افندی نے فتوی دیا کہ کوئی بھی ایسا شخص جو پرنٹنگ کے کام میں ماہر ہو اور منطق،فلسفہ، فلکیات اور اس طرح کی دیگر کتابوں کی پرنٹ شدہ نقلیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو یہ بات بہت مفید ہے اور اسلام اس کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے لیے لازمی ہے کہ کتاب کے پرنٹ ہونے سے پہلے اور بعد ماہر لوگ کتاب کی صحت کی تصدیق کریں۔اس کے بعد ترکی کے وزیر اعظم کے مشورے پہ عثمانی خلیفہ سلطان احمد سوم نے کتابوں کے پرنٹ کرنے کی اجازت کا سرکاری حکم نامہ جاری کیا۔اس پرنٹنگ پریس کی پرنٹ شدہ کتابیں آج بھی استنبول کی پبلک یونیورسٹی کی پبلک لائبریری میں موجود ہیں۔یورپی کہتے ہیں کہ اس پرنٹنگ پریس کی اجازت کے بعد خطاطی کرنے والے لوگ اپنے قلم لے کر کفن پہن کر نکلے اور اس کے خلاف احتجاج کیا۔لہذا مذہبی کتابوں کی اشاعت ان کے حوالے کر دی گئی۔بارون ڈی ٹوٹ جو اس وقت استنبول میں تھا دعوی کرتا ہے کہ عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ پرنٹنگ پریس بند کر دیا گیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف مختصر عرصے کے لیے ترکی روس جنگوں کی وجہ سے بند کیا گیا تھا اور اس کی ستر فیصد پرنٹ شدہ کتابوں کی خرید و فروخت ابراھیم آغا کی زندگی میں ہوئی۔لہذا عدم دلچسپی کی بات بے بنیاد ہے۔بعد میں جب اس کی وفات کے بعد فرانسیسیوں نے اس پرنٹنگ پریس کو خریدنا چاہا تو اسے غیر
👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
ملکیوں کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے راشد اور واصف افندی نے اسے خرید لیا اور جب 1798ء میں یہ بند ہوا تو ملک میں تین نئے پرنٹنگ پریس قائم کیے گئے۔سلطان محمود دوم کے عہد میں پرنٹنگ پریس نے مذہبی کتابیں شائع کرنا بھی شروع کر دیں۔
اگرچہ سلطنت عثمانیہ میں بہت سے پرنٹنگ پریس قائم ہوچکے تھے لیکن ابراھیم آغا کا پرنٹنگ پریس اسلامی دنیا کا پہلا پرنٹنگ پریس تھا جو اسلامی دنیا میں سرکاری سرپرستی میں قائم ہوا۔یہ اعزاز بھی سلطنت عثمانیہ کو حاصل ہے کہ اس نے سرکاری سرپرستی میں اسلامی دنیا کا پہلا پرنٹنگ پریس قائم کیا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس پرنٹنگ پریس کو مذہبی کتابیں پرنٹ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فتوے میں اس بات پہ زور دیا گیا تھا کہ پرنٹ شدہ کتابیں مستند اور غلطیوں سے پاک ہونی چاہیے۔نصابی کتابوں کو ترجیح دی گئی جب کہ پابندی کسی چیز پہ نہیں تھی لیکن الزام لگانے والوں نے بغیر سند و تحقیق کے یہ کہ دیا کہ باقی کتابوں کی اشاعت کے باوجود مذہبی کتابوں کی پرنٹنگ پہ پابندی تھی۔ سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس بہت پہلے سے موجود تھا لیکن اس زمانے کی کتابوں جیسا کہ وسیلۃ الطبع س ے صاف ظاہر ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے وزیروں کی طرف سے اس کی ضرورت محسوس کیے جانے کے باوجود اس کے تاخیر سے شروع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کام کے ماہر افراد کی کمی تھی اور اس کام کو محنت طلب کام سمجھا جاتا تھا اور حکومت کو اس کام کے قابل افراد نہیں ملے جو یہ کام کر سکتے ہو اور جب ابراہیم آغا نے اس کا باقاعدہ آغاز کیا تو یہ مشکل بھی دور ہوگئ اور سلطنت عثمانیہ میں باقاعدہ طور پہ پرنٹنگ پریس کا کام شروع ہو گیا۔کئ مغربی مستشرقین اور لبرل سیکولر طبقے کے مطابق اسلامی دنیا میں پرنٹنگ پریس کے تاخیر سے شروع ہونے پہ بہت اعتراض کرتے ہیں لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں خطاطی اور کتابوں کی ہاتھ سے طباعت کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک موجود تھا جس سے ہزاروں خاندان وابستہ تھے۔لہذا پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد یہ سب کچھ ایک رات میں نہ بدل جاتا۔اس پہ کچھ عرصہ لگا۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سائنسی کتابوں کو صرف ترکی زبان میں پرنٹ کرنے کی اجازت تھی لیکن اس بات کی کوئی دلیل نہیں ان کے پاس۔جو سلطنت عثمانیہ دو سو سال پہلے 1567-1587ء کے درمیان یورپ سے درآمد شدہ عربی ترکی فارسی کتابوں کی اپنی سلطنت میں خرید و فروخت کی اجازت دے چکی تھی وہ اپنے ملک میں عربی زبان میں پرنٹنگ سے کیوں روکتی۔یہ وہ تضاد ہے جو اعتراض کرنے والوں کے دلائل میں پایا جاتا ہے۔ خود کئ مورخین کے مطابق اس دور کے مذہبی طبقے کا پرنٹنگ پریس کے خلاف ہونا واضح یا ثابت نہیں اور ان کے نزدیک سولہویں،سترہویں اور اٹھارہویں صدی عیسوی کے سلطنت عثمانیہ کے مولوی حضرات پرنٹنگ پریس کے خلاف نہیں تھے۔ یہ وہی مولوی سائنس کی کتابیں پرنٹ کرنے کا فتوی دے رہے ہیں جن کے بارے میں مستشرقین اور لبرل سیکولر طبقہ الزام لگاتا ہے کہ انہوں نے ترکی میں سلطنت عثمانیہ کی طرف سے پرنٹنگ پریس پہ پابندی لگوادی تھی۔یہ ہے اس جھوٹ کی اصل حقیقت جس میں کہا جاتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس کو گناہ اور کفر کا کام سمجھا جاتا تھا اور اس کی وجہ سے مسلمان سائنس میں یورپ سے صدیوں پیچھے ہوگئے۔
برصغیر کے مسلم اور غیر مسلم حضرات نے بھی کافی تاخیر سے پرنٹنگ پریس اختیار کیا اور باقاعدہ پرنٹنگ انیسویں صدی میں شروع ہوئی۔سلطنت عثمانیہ پہ الزام لگانے والے بتا سکتے ہیں کہ مسلم تو دور کی بات یہاں تک کہ غیر مسلم برصغیر اور باقی پورے ایشیا اور افریقہ میں پرنٹنگ اتنی تاخیر سے کیوں شروع ہوئی جب کہ یہاں تو کسی مولوی طبقے نے اس کی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی کسی مسلم حکومت نے اس کے خلاف کوئی حکم دیا۔پورے مشرق اور اسلامی دنیا میں پرنٹنگ پریس کی تاخیر سے مقبولیت کی وجہ مورخین یہ بیان کرتے ہیں کہ عمومی طور پر ان ممالک میں ادبی و سائنسی ترقی کا فقدان تھا لہذا کتابوں کی کم مانگ کی وجہ سے پرنٹنگ پریس کی ضرورت بھی کم تھی۔دوسری وجہ ان اسلامی اور مشرقی ممالک کا معاشی زوال تھا جس نے جدید سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی اور ایجادات میں پیشرفت سست کر دی اور مشرق عمومی طور پر اور اسلامی دنیا کے خصوصی طور پہ سائنسی زوال کی یہ وجوہات اج بھی جاری ہیں۔اگرچہ ۔اسلامی دنیا میں ایک بار پھر شرح خواندگی بڑھ رہی ہے اور ساتھ ہی اسلامی دنیا نے قابل اور نامور سائنسدان پیدا کرنا شروع کر دیے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے مسلمانوں میں ان کے ماضی کے بارے میں جھوٹ اور مایوس کن تبصرے پھیلانے کی بجائے امت کے ذہین افراد کی قدر کی جائے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی سرپرستی کرتے ہوئے اس کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے تاکہ اسلامی دنیا ایک بار پھر اپنا وہ سائنسی عروج حاصل کر سکے جس میں یہ یورپ اور باقی ساری دنیا کی استاد تھی۔
حوالہ جات:
اگرچہ سلطنت عثمانیہ میں بہت سے پرنٹنگ پریس قائم ہوچکے تھے لیکن ابراھیم آغا کا پرنٹنگ پریس اسلامی دنیا کا پہلا پرنٹنگ پریس تھا جو اسلامی دنیا میں سرکاری سرپرستی میں قائم ہوا۔یہ اعزاز بھی سلطنت عثمانیہ کو حاصل ہے کہ اس نے سرکاری سرپرستی میں اسلامی دنیا کا پہلا پرنٹنگ پریس قائم کیا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس پرنٹنگ پریس کو مذہبی کتابیں پرنٹ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فتوے میں اس بات پہ زور دیا گیا تھا کہ پرنٹ شدہ کتابیں مستند اور غلطیوں سے پاک ہونی چاہیے۔نصابی کتابوں کو ترجیح دی گئی جب کہ پابندی کسی چیز پہ نہیں تھی لیکن الزام لگانے والوں نے بغیر سند و تحقیق کے یہ کہ دیا کہ باقی کتابوں کی اشاعت کے باوجود مذہبی کتابوں کی پرنٹنگ پہ پابندی تھی۔ سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس بہت پہلے سے موجود تھا لیکن اس زمانے کی کتابوں جیسا کہ وسیلۃ الطبع س ے صاف ظاہر ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے وزیروں کی طرف سے اس کی ضرورت محسوس کیے جانے کے باوجود اس کے تاخیر سے شروع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کام کے ماہر افراد کی کمی تھی اور اس کام کو محنت طلب کام سمجھا جاتا تھا اور حکومت کو اس کام کے قابل افراد نہیں ملے جو یہ کام کر سکتے ہو اور جب ابراہیم آغا نے اس کا باقاعدہ آغاز کیا تو یہ مشکل بھی دور ہوگئ اور سلطنت عثمانیہ میں باقاعدہ طور پہ پرنٹنگ پریس کا کام شروع ہو گیا۔کئ مغربی مستشرقین اور لبرل سیکولر طبقے کے مطابق اسلامی دنیا میں پرنٹنگ پریس کے تاخیر سے شروع ہونے پہ بہت اعتراض کرتے ہیں لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں خطاطی اور کتابوں کی ہاتھ سے طباعت کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک موجود تھا جس سے ہزاروں خاندان وابستہ تھے۔لہذا پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد یہ سب کچھ ایک رات میں نہ بدل جاتا۔اس پہ کچھ عرصہ لگا۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سائنسی کتابوں کو صرف ترکی زبان میں پرنٹ کرنے کی اجازت تھی لیکن اس بات کی کوئی دلیل نہیں ان کے پاس۔جو سلطنت عثمانیہ دو سو سال پہلے 1567-1587ء کے درمیان یورپ سے درآمد شدہ عربی ترکی فارسی کتابوں کی اپنی سلطنت میں خرید و فروخت کی اجازت دے چکی تھی وہ اپنے ملک میں عربی زبان میں پرنٹنگ سے کیوں روکتی۔یہ وہ تضاد ہے جو اعتراض کرنے والوں کے دلائل میں پایا جاتا ہے۔ خود کئ مورخین کے مطابق اس دور کے مذہبی طبقے کا پرنٹنگ پریس کے خلاف ہونا واضح یا ثابت نہیں اور ان کے نزدیک سولہویں،سترہویں اور اٹھارہویں صدی عیسوی کے سلطنت عثمانیہ کے مولوی حضرات پرنٹنگ پریس کے خلاف نہیں تھے۔ یہ وہی مولوی سائنس کی کتابیں پرنٹ کرنے کا فتوی دے رہے ہیں جن کے بارے میں مستشرقین اور لبرل سیکولر طبقہ الزام لگاتا ہے کہ انہوں نے ترکی میں سلطنت عثمانیہ کی طرف سے پرنٹنگ پریس پہ پابندی لگوادی تھی۔یہ ہے اس جھوٹ کی اصل حقیقت جس میں کہا جاتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس کو گناہ اور کفر کا کام سمجھا جاتا تھا اور اس کی وجہ سے مسلمان سائنس میں یورپ سے صدیوں پیچھے ہوگئے۔
برصغیر کے مسلم اور غیر مسلم حضرات نے بھی کافی تاخیر سے پرنٹنگ پریس اختیار کیا اور باقاعدہ پرنٹنگ انیسویں صدی میں شروع ہوئی۔سلطنت عثمانیہ پہ الزام لگانے والے بتا سکتے ہیں کہ مسلم تو دور کی بات یہاں تک کہ غیر مسلم برصغیر اور باقی پورے ایشیا اور افریقہ میں پرنٹنگ اتنی تاخیر سے کیوں شروع ہوئی جب کہ یہاں تو کسی مولوی طبقے نے اس کی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی کسی مسلم حکومت نے اس کے خلاف کوئی حکم دیا۔پورے مشرق اور اسلامی دنیا میں پرنٹنگ پریس کی تاخیر سے مقبولیت کی وجہ مورخین یہ بیان کرتے ہیں کہ عمومی طور پر ان ممالک میں ادبی و سائنسی ترقی کا فقدان تھا لہذا کتابوں کی کم مانگ کی وجہ سے پرنٹنگ پریس کی ضرورت بھی کم تھی۔دوسری وجہ ان اسلامی اور مشرقی ممالک کا معاشی زوال تھا جس نے جدید سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی اور ایجادات میں پیشرفت سست کر دی اور مشرق عمومی طور پر اور اسلامی دنیا کے خصوصی طور پہ سائنسی زوال کی یہ وجوہات اج بھی جاری ہیں۔اگرچہ ۔اسلامی دنیا میں ایک بار پھر شرح خواندگی بڑھ رہی ہے اور ساتھ ہی اسلامی دنیا نے قابل اور نامور سائنسدان پیدا کرنا شروع کر دیے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے مسلمانوں میں ان کے ماضی کے بارے میں جھوٹ اور مایوس کن تبصرے پھیلانے کی بجائے امت کے ذہین افراد کی قدر کی جائے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی سرپرستی کرتے ہوئے اس کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے تاکہ اسلامی دنیا ایک بار پھر اپنا وہ سائنسی عروج حاصل کر سکے جس میں یہ یورپ اور باقی ساری دنیا کی استاد تھی۔
حوالہ جات:
👍1
Forwarded from چینل صدائے حق
Angus Maddison: Growth and Interaction in the World Economy: The Roots of Modernity, Washington 2005, p.65
History of Science-Printing, accessed 2009/05/04
https://en.m.wikipedia.org/…/Global_spread_of_the_printing_…
http://www.roger-pearse.com/…/…/07/printing-banned-by-islam/
https://www.google.com/…/myths-and-reality-about-the-pr…/amp
William J. Watson, “İbrāhīm Müteferriḳa and Turkish Incunabula”, Journal of the American Oriental Society 88 (3): 435–441 (1968)
Miroslav Krek, “The Enigma of the First Arabic Book Printed from Movable Type”, Journal of Near Eastern Studies 38 (3): 203–212 (1979)
Richard Clogg, “An Attempt to Revive Turkish Printing in Istanbul in 1779”, International Journal of Middle East Studies 10 (1): 67–70 (1979)
http://exhibits.library.yale.edu/…/printing_history_arabic_…
http://icraa.org/ottomans-and-the-printing-press-answering…/
Hidayat Y. Nuhoglu, ‘Müteferrika’s Printing Press: Some Observations’, in: Kemal Çiçek (ed.), The Great Ottoman-Turkish Civilisation. Volume 3 (Ankara, 2000)
Copy......
History of Science-Printing, accessed 2009/05/04
https://en.m.wikipedia.org/…/Global_spread_of_the_printing_…
http://www.roger-pearse.com/…/…/07/printing-banned-by-islam/
https://www.google.com/…/myths-and-reality-about-the-pr…/amp
William J. Watson, “İbrāhīm Müteferriḳa and Turkish Incunabula”, Journal of the American Oriental Society 88 (3): 435–441 (1968)
Miroslav Krek, “The Enigma of the First Arabic Book Printed from Movable Type”, Journal of Near Eastern Studies 38 (3): 203–212 (1979)
Richard Clogg, “An Attempt to Revive Turkish Printing in Istanbul in 1779”, International Journal of Middle East Studies 10 (1): 67–70 (1979)
http://exhibits.library.yale.edu/…/printing_history_arabic_…
http://icraa.org/ottomans-and-the-printing-press-answering…/
Hidayat Y. Nuhoglu, ‘Müteferrika’s Printing Press: Some Observations’, in: Kemal Çiçek (ed.), The Great Ottoman-Turkish Civilisation. Volume 3 (Ankara, 2000)
Copy......
Wikipedia
Welcome to Wikipedia
The Battle of Trapani took place on 23 June 1266 off Trapani, Sicily, between the fleets of the Republic of Genoa and the Republic of Venice, as part of the War of Saint Sabas (1256–1270). The two fleets met near Trapani in Sicily on 22 June. After learning…
👍1
Forwarded from چینل صدائے حق
متحد ہو تو بدل ڈالو زمانے کا نظام
منتشر ہو تو پھر اشک بہاتے کیوں ہو؟
قاعدہ یہ ہے کہ
1) راعی(چرواہا) اور رعایا کے درمیان پہلے شک پیدا کریں تاکہ بھیڑ بکریاں اپنے محافظ پر یقین کرنا بند کر دیں اور اسی طرح راعی (چروہا) کے ذہن میں تکبر پیدا کرو تاکہ وہ بھول جاے کہ ہمیں جو شان و شوکت مال و دولت حاصل ہے وہ انہیں رعایا سے ہے
2) مذہبی لوگوں کے تئیں نفرت پیدا کی جاے تاکہ ساری خرابی کا ذمہ دار قوم انہیں کو ٹھہراے اور پھر خوبیوں کو اپنی طرف منسوب کرے دوری اتنی ہو کہ وہ اسے قابل عزت نہ سمجھیں اور یہ اسے دقیانوسی خیال کا تصور کریں
3) رعایا مال ہے، راعی اس کا محافظ لہذا مال کو حاصل کرنا ہے تو تیسرا اور اہم کام یہ ہے کہ مال کو نقصان پہنچانے کے بجائے محافظ کو ہٹاؤ
4) پھر اس مال کو جیسا چاہو استعمال کرو جہاں چاہو خرچ کرو، اسپین ابوعبدالله کو پڑھیں، سقوط بغداد دیکھیے، سقوط دہلی ابھی تازہ ہے، سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ، شیر عرب کو پھانسی دینا سب پیش نظر رہے تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو
5) جو قوم تاریخ سن کر سونے لگے اور تعریف سن کر نوٹ اڑاے وہ قائد نہیں، پیشہ ور پیدا کرے گی
.........
"کسی قوم کو ذ.لیل و ر.سوا کرنے اور اس کو قومی جذبات سے محروم کرنے کا ایک مشہور طریقہ یہ بھی ہے کہ، اس قوم کو اپنے ماضی سے بدظن کر دیا جائے، اور اس کی تاریخ کو اس طرح مسخ کرکے پیش کیا جائے کہ جدید نسل اپنے اسلاف سے بدظن بلکہ متنفر ہو جائے، اس طرح قوم جب اپنے تابناک ماضی کو فراموش کر دے گی اور اسے اپنے اسلاف سے نفرت ہوجائے گی تو آسانی کے ساتھ قعر مذلت میں گر جائے گی.
📚 آئینہ حقیقت نما اول
آج جو کچھ ہم دیکھ یا سن رہے ہیں یہ سب اسی ماضی کو فراموش کرنے ک نتیجہ ہے ہم نے اسلاف کی قربانیوں کو بھلایا ہم نے اسلاف کی تاریخ اپنے ہاتھوں سے مٹائ ہم نے اپنے ماضی سے نہ صرف رخ موڑا بلکہ نفرت کرنے لگے، ہم نے لاکھوں شہداء بے شمار بچوں کی چینخیں اور ہزاروں بیواؤں کا درد بھلا دیا، جنہوں نے ہماری آزادی، ہمارے تشخص اور ہمارے اقدار کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا ہم نے انہیں کو بھلا دیا ذرا سوچو ان کی روحوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی؟
تاریخ گواہ ہے کہ ایک عرصہ سے
ہم جگانے والوں کو فراموش کر رہے ہیں اور سلانے والوں کو سراہ رہے ہیں
📝حسن نوری گونڈوی
منتشر ہو تو پھر اشک بہاتے کیوں ہو؟
قاعدہ یہ ہے کہ
1) راعی(چرواہا) اور رعایا کے درمیان پہلے شک پیدا کریں تاکہ بھیڑ بکریاں اپنے محافظ پر یقین کرنا بند کر دیں اور اسی طرح راعی (چروہا) کے ذہن میں تکبر پیدا کرو تاکہ وہ بھول جاے کہ ہمیں جو شان و شوکت مال و دولت حاصل ہے وہ انہیں رعایا سے ہے
2) مذہبی لوگوں کے تئیں نفرت پیدا کی جاے تاکہ ساری خرابی کا ذمہ دار قوم انہیں کو ٹھہراے اور پھر خوبیوں کو اپنی طرف منسوب کرے دوری اتنی ہو کہ وہ اسے قابل عزت نہ سمجھیں اور یہ اسے دقیانوسی خیال کا تصور کریں
3) رعایا مال ہے، راعی اس کا محافظ لہذا مال کو حاصل کرنا ہے تو تیسرا اور اہم کام یہ ہے کہ مال کو نقصان پہنچانے کے بجائے محافظ کو ہٹاؤ
4) پھر اس مال کو جیسا چاہو استعمال کرو جہاں چاہو خرچ کرو، اسپین ابوعبدالله کو پڑھیں، سقوط بغداد دیکھیے، سقوط دہلی ابھی تازہ ہے، سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ، شیر عرب کو پھانسی دینا سب پیش نظر رہے تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو
5) جو قوم تاریخ سن کر سونے لگے اور تعریف سن کر نوٹ اڑاے وہ قائد نہیں، پیشہ ور پیدا کرے گی
.........
"کسی قوم کو ذ.لیل و ر.سوا کرنے اور اس کو قومی جذبات سے محروم کرنے کا ایک مشہور طریقہ یہ بھی ہے کہ، اس قوم کو اپنے ماضی سے بدظن کر دیا جائے، اور اس کی تاریخ کو اس طرح مسخ کرکے پیش کیا جائے کہ جدید نسل اپنے اسلاف سے بدظن بلکہ متنفر ہو جائے، اس طرح قوم جب اپنے تابناک ماضی کو فراموش کر دے گی اور اسے اپنے اسلاف سے نفرت ہوجائے گی تو آسانی کے ساتھ قعر مذلت میں گر جائے گی.
📚 آئینہ حقیقت نما اول
آج جو کچھ ہم دیکھ یا سن رہے ہیں یہ سب اسی ماضی کو فراموش کرنے ک نتیجہ ہے ہم نے اسلاف کی قربانیوں کو بھلایا ہم نے اسلاف کی تاریخ اپنے ہاتھوں سے مٹائ ہم نے اپنے ماضی سے نہ صرف رخ موڑا بلکہ نفرت کرنے لگے، ہم نے لاکھوں شہداء بے شمار بچوں کی چینخیں اور ہزاروں بیواؤں کا درد بھلا دیا، جنہوں نے ہماری آزادی، ہمارے تشخص اور ہمارے اقدار کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا ہم نے انہیں کو بھلا دیا ذرا سوچو ان کی روحوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی؟
تاریخ گواہ ہے کہ ایک عرصہ سے
ہم جگانے والوں کو فراموش کر رہے ہیں اور سلانے والوں کو سراہ رہے ہیں
📝حسن نوری گونڈوی
❤1
Forwarded from چینل صدائے حق
*لہذا گھن پیدا کریں*
ایک ہے مطلوبات شرعیہ دوسرا ہے ممنوعات شرعیہ، اور ان دونوں کے کئی اقسام ہیں، مطلوبات شرعیہ میں فرض، واجب، سنت،وغیرہ اور ممنوعات شرعیہ میں حرام، مکروہ تحریمی، اساءت، مکروہ تنزیہی وغیرہ شامل ہیں، مطلوبات کی طرف رغبت دلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دنیوی و اخروی فوائد عقلاً و نقلا بیان ہوں. ساتھ ہی مطلوبات سے محبت پیدا کی جاے تاکہ ہر حال میں دل اس کی طرف مائل ہو، جس قدر محبت بڑھے گی اسی قدر بندہ ان کی طرف لپکے گا خواہ وہ کسی بھی حالت میں ہو. اس لیے ضروری ہے کہ مبلغ دین جب مطلوبات کا ذکر کرے تو لب و لہجہ چہرہ اور ہاتھ و بدن سے ایسا ظاہر ہو کہ اس شئ کی اسے طلب ہے، جیسے پیاسا جب پانی طلب کرتا ہے، بھوکا جب کھانا طلب کرتا ہے تو اس کے قول کے ساتھ ساتھ حال بھی دلالت کرتا ہے کہ واقعی یہ طالب ہے، اسی طرح ممنوعات شرعیہ جب بیان ہوں مثلاً حرام قول و فعل، ناجائز و حرام طور طریقے، وغیرہ تو بیان کرتے وقت لب و لہجہ سے نفرت و گھن ظاہر ہو تاکہ سامعین و ناظرین سننے کے ساتھ ساتھ ان اشیاء سے گھن کرنے لگیں، یاد رہے کہ کسی کو بھی کسی بھی چیز سے روکنا ہے تو سب سے بہتر طریقہ ہے یہ کہ اس سے گھن پیدا کیا جائے، ماں بچپن میں بچوں میں پیشاب و پاخانہ کے تعلق سے گھن پیدا کرتی ہے قول کے ساتھ عمل اور لب و لہجہ سے اسے نفرت دلاتی ہے تاکہ بچہ اس سے بچے، اسی طرح کھانے والی اشیاء کو چھٹکارے لے کر پہلے خود کھاتی ہے اور قول ہے ساتھ فعل سے بھی رغبت دلاتی ہے آہستہ آہستہ بچہ پیشاب و پاخانہ سے *گھن* اور کھانے پینے والی اشیاء سے محبت کرنے لگتا ہے، اسی طرح اگر ہم نے تمام ممنوعات شرعیہ سے گھن دلایا ہوتا تو ہمارے بچے اور بچیاں کسی بھی حال میں ناجائز و حرام کی طرف ہرگز نہ جاتے،
ذرا سوچیے! گوشت کی دو بھنی بوٹی کسی مسلم کے پاس لے جائیں(دونوں کی بناوٹ، مسالہ، وغیرہ سب ایک جیسا ہو) ایک پیش کرکے کہیں یہ بکرے کی ہے فوراً اس میں رغبت پیدا ہوگی، اور کھالے گا جبکہ دوسرے کو ہاتھ میں دے کر کہیں یہ خنزیر یا کتے کا گوشت ہے فوراً قے کر دے گا عجیب گھن ظاہر کرے گا بھوکا رہ کر بھی نہیں کھاے گا، جب کہ دونوں بوٹیاں ایک جیسی تھیں، دونوں کو بنتے اور کٹتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، دونوں کا تعلق خبر سے ہے، دونوں ایک ہی شکل و صورت میں تھیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری بوٹی اس نے کیوں نہ کھائ جبکہ وہ بھوکا تھا جواب یہ ہوگا اسے گھن اگئ، گھن ایک ایسی چیز ہے اگر جائز چیزوں میں بھی پیدا ہو جائے تو آدمی بھاگنے لگتا ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ حرام تھا اس لیے نہیں کھایا اگر حرام ہونے کے سبب وہ بوٹی نہیں کھایا تو پڑوسی کا مال کیوں کھا لیتا ہے؟ ، یتیم کی دولت کیوں کھالیتا ہے؟ چوری کا مال کیوں کھالیتا ہے؟، حرام کی کمائی کیوں کھالیتا ہے؟، سوچیے ہزار بار سوچیے یقیناً اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ خنزیر کو حرام جاننے ساتھ ساتھ اسے ہم گھن بھی دلایا تھا، نفرت بھی ظاہر کی تھی جبکہ اور چیزوں میں نہ گھن دلایا گیا اور نہ نفرت پیدا کی گئی تو اے لوگوں! جان لو اچھی طرح یاد کرلو اپنی نسلوں کو جن چیزوں سے روکنا چاہتے ہو ان کے متعلق گھن پیدا کرو، ننھے بچوں کو بٹھا کر تمام ممنوعات سے گھن دلاؤ نہ صرف قول بلکہ عمل سے بھی گھن پیدا کرو، جس دن آپ کامیاب ہو جائیں گے اسی دن سے مسلم بیٹیاں غیروں کے ساتھ کسی بھی حال میں نہیں جائیں گی، نفسانی خواہشات ایک بھوک کی طرح ہے جس طرح بھوک میں خنزیر اور کتے کا گوشت نہیں کھا سکتیں ذرا سوچو اگر ایسا ہوا تو آپ مطمئن رہیں گے، ان شاء اللہ
چراغ جلا کے میں نے رکھ دیا ہے راہوں میں
اب جو راستہ بھولے یہ اس کی قسمت ہے
نوٹ:- قلم کار حضرات اسے عمدہ انداز میں پیش کر سکتے ہیں،
📝 حسن نوری گونڈوی
ایک ہے مطلوبات شرعیہ دوسرا ہے ممنوعات شرعیہ، اور ان دونوں کے کئی اقسام ہیں، مطلوبات شرعیہ میں فرض، واجب، سنت،وغیرہ اور ممنوعات شرعیہ میں حرام، مکروہ تحریمی، اساءت، مکروہ تنزیہی وغیرہ شامل ہیں، مطلوبات کی طرف رغبت دلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دنیوی و اخروی فوائد عقلاً و نقلا بیان ہوں. ساتھ ہی مطلوبات سے محبت پیدا کی جاے تاکہ ہر حال میں دل اس کی طرف مائل ہو، جس قدر محبت بڑھے گی اسی قدر بندہ ان کی طرف لپکے گا خواہ وہ کسی بھی حالت میں ہو. اس لیے ضروری ہے کہ مبلغ دین جب مطلوبات کا ذکر کرے تو لب و لہجہ چہرہ اور ہاتھ و بدن سے ایسا ظاہر ہو کہ اس شئ کی اسے طلب ہے، جیسے پیاسا جب پانی طلب کرتا ہے، بھوکا جب کھانا طلب کرتا ہے تو اس کے قول کے ساتھ ساتھ حال بھی دلالت کرتا ہے کہ واقعی یہ طالب ہے، اسی طرح ممنوعات شرعیہ جب بیان ہوں مثلاً حرام قول و فعل، ناجائز و حرام طور طریقے، وغیرہ تو بیان کرتے وقت لب و لہجہ سے نفرت و گھن ظاہر ہو تاکہ سامعین و ناظرین سننے کے ساتھ ساتھ ان اشیاء سے گھن کرنے لگیں، یاد رہے کہ کسی کو بھی کسی بھی چیز سے روکنا ہے تو سب سے بہتر طریقہ ہے یہ کہ اس سے گھن پیدا کیا جائے، ماں بچپن میں بچوں میں پیشاب و پاخانہ کے تعلق سے گھن پیدا کرتی ہے قول کے ساتھ عمل اور لب و لہجہ سے اسے نفرت دلاتی ہے تاکہ بچہ اس سے بچے، اسی طرح کھانے والی اشیاء کو چھٹکارے لے کر پہلے خود کھاتی ہے اور قول ہے ساتھ فعل سے بھی رغبت دلاتی ہے آہستہ آہستہ بچہ پیشاب و پاخانہ سے *گھن* اور کھانے پینے والی اشیاء سے محبت کرنے لگتا ہے، اسی طرح اگر ہم نے تمام ممنوعات شرعیہ سے گھن دلایا ہوتا تو ہمارے بچے اور بچیاں کسی بھی حال میں ناجائز و حرام کی طرف ہرگز نہ جاتے،
ذرا سوچیے! گوشت کی دو بھنی بوٹی کسی مسلم کے پاس لے جائیں(دونوں کی بناوٹ، مسالہ، وغیرہ سب ایک جیسا ہو) ایک پیش کرکے کہیں یہ بکرے کی ہے فوراً اس میں رغبت پیدا ہوگی، اور کھالے گا جبکہ دوسرے کو ہاتھ میں دے کر کہیں یہ خنزیر یا کتے کا گوشت ہے فوراً قے کر دے گا عجیب گھن ظاہر کرے گا بھوکا رہ کر بھی نہیں کھاے گا، جب کہ دونوں بوٹیاں ایک جیسی تھیں، دونوں کو بنتے اور کٹتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، دونوں کا تعلق خبر سے ہے، دونوں ایک ہی شکل و صورت میں تھیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری بوٹی اس نے کیوں نہ کھائ جبکہ وہ بھوکا تھا جواب یہ ہوگا اسے گھن اگئ، گھن ایک ایسی چیز ہے اگر جائز چیزوں میں بھی پیدا ہو جائے تو آدمی بھاگنے لگتا ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ حرام تھا اس لیے نہیں کھایا اگر حرام ہونے کے سبب وہ بوٹی نہیں کھایا تو پڑوسی کا مال کیوں کھا لیتا ہے؟ ، یتیم کی دولت کیوں کھالیتا ہے؟ چوری کا مال کیوں کھالیتا ہے؟، حرام کی کمائی کیوں کھالیتا ہے؟، سوچیے ہزار بار سوچیے یقیناً اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ خنزیر کو حرام جاننے ساتھ ساتھ اسے ہم گھن بھی دلایا تھا، نفرت بھی ظاہر کی تھی جبکہ اور چیزوں میں نہ گھن دلایا گیا اور نہ نفرت پیدا کی گئی تو اے لوگوں! جان لو اچھی طرح یاد کرلو اپنی نسلوں کو جن چیزوں سے روکنا چاہتے ہو ان کے متعلق گھن پیدا کرو، ننھے بچوں کو بٹھا کر تمام ممنوعات سے گھن دلاؤ نہ صرف قول بلکہ عمل سے بھی گھن پیدا کرو، جس دن آپ کامیاب ہو جائیں گے اسی دن سے مسلم بیٹیاں غیروں کے ساتھ کسی بھی حال میں نہیں جائیں گی، نفسانی خواہشات ایک بھوک کی طرح ہے جس طرح بھوک میں خنزیر اور کتے کا گوشت نہیں کھا سکتیں ذرا سوچو اگر ایسا ہوا تو آپ مطمئن رہیں گے، ان شاء اللہ
چراغ جلا کے میں نے رکھ دیا ہے راہوں میں
اب جو راستہ بھولے یہ اس کی قسمت ہے
نوٹ:- قلم کار حضرات اسے عمدہ انداز میں پیش کر سکتے ہیں،
📝 حسن نوری گونڈوی
❤1
Forwarded from چینل صدائے حق
#مسئلہ_افضلیت_پر_سراوی_مغالطہ
فتاوی عزیزی کا اسکین لگا کر دھوکا
مولانا ذیشان صاحب سراوی نے "فتاوی عزیزی شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی" کا اسکین لگا کر یہ ثابت کیا ہے کہ افضلیت مولا علی بر شیخین رضی اللہ عنہ کے قائل بھی اہلسنت سے ہیں- اور یہ شاہ صاحب کی تحقیق ہے، حالانکہ یہ سراوی صاحب کا کھلا مغالطہ ہے.
1) شاہ عبدالعزیز کے والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے باقاعدہ افضلیت شیخین پر کتابیں لکھی ہیں مثلاً 📚 قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین 📚 ازالۃ الخفاء خود شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے بھی تفضیل الشیخین پر کتابیں لکھی ہیں 📚 سر الجلیل فی مسئلہ التفضیل 📚 وسیلۃ النجات-
نوٹ:- فرنٹ پیج نیچے ملاحظہ فرمائیں.
2) ان کتابوں کے علاوہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب
📚العقیدۃ الحسنہ صفحہ 8 میں فرماتے ہیں کہ "ابوبکر افضل ترین مردمان است بعد از رسول صلی اللہ علیہ وسلم، پس عمر رضی اللہ عنہ،
📚 حجۃ اللہ البالغہ صفحہ....
" اور امت میں معتد بہ لوگوں کا اتفاق ہے کہ ساری امت میں افضل ترین ابوبکر صدیق اور پھر حضرت عمر ہیں رضی اللہ عنہما.
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے اپنی" تفضیل شیخین" مستقل کتابوں کے علاوہ بھی جابجا افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق کلام کیا ہے ملاحظہ فرمائیں
📚 تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 283
📚 تفسیر فتح العزیز
📚 عزیز الاقتباس فی فضائل اخیار الناس میں فرماتے ہیں کہ " حضرت ابوبکر و عمر پیغمبر خدا کے بعد تمام امت سے افضل ہیں، اور یہی قرآن و حدیث کثیرہ، و اقوال صحابہ و تابعین کے مطابق ہے اور اسی پر اہلسنت و الجماعت کا اجماع ہے.
برصغیر کے تف.ضیلی اب شاذ و متروک و منسوب اقوال جمع کرکے عوام اہلسنت کو مغالطہ دے رہے ہیں، کبھی مسئلہ افضلیت، کبھی مسئلہ ایمان ابی طالب، کبھی مسئلہ خلافت، کبھی مسئلہ جمل و صفین، کبھی صحابہ کرام کے آپسی نزاع کو چھیڑ کر " سواد اعظم اہلسنت " کو منتشر کرنے کی ناپاک سعی سراوی حضرات کر رہے ہیں-
نوٹ:- سید سبطین حیدر صاحب سے خلافت پا لینے کے بعد عوام اہلسنت کو مسئلہ افضلیت میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے جناب ذیشان صاحب سراوی بڑے مستعد ہیں، یاد رہے جنگل میں خاموشی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اہلسنت و جماعت کا دفاع کرنے والے نہیں ہیں، لہذا جب جب جس جس طرح فتنہ پھیلایا جاے گا ان شاء اللہ جواب دیا جاے گا.
فتاوی عزیزی کے متعلق علامہ انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب مسئلہ ربوا صفحہ 18 پر کلام کیا ہے،
تھانوی کو" فتاوی عزیزی کے بارے میں قوی شک تھا،
مفتی شفیع دیو.بندی نے کہا کہ کسی نے بہت بعد میں اسے جمع کیا ہے، اس میں بہت احتمالات ہیں، دیکھیے الأحاديث الروایہ لمدح امیر المعاویہ
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
فتاوی عزیزی کا اسکین لگا کر دھوکا
مولانا ذیشان صاحب سراوی نے "فتاوی عزیزی شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی" کا اسکین لگا کر یہ ثابت کیا ہے کہ افضلیت مولا علی بر شیخین رضی اللہ عنہ کے قائل بھی اہلسنت سے ہیں- اور یہ شاہ صاحب کی تحقیق ہے، حالانکہ یہ سراوی صاحب کا کھلا مغالطہ ہے.
1) شاہ عبدالعزیز کے والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے باقاعدہ افضلیت شیخین پر کتابیں لکھی ہیں مثلاً 📚 قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین 📚 ازالۃ الخفاء خود شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے بھی تفضیل الشیخین پر کتابیں لکھی ہیں 📚 سر الجلیل فی مسئلہ التفضیل 📚 وسیلۃ النجات-
نوٹ:- فرنٹ پیج نیچے ملاحظہ فرمائیں.
2) ان کتابوں کے علاوہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب
📚العقیدۃ الحسنہ صفحہ 8 میں فرماتے ہیں کہ "ابوبکر افضل ترین مردمان است بعد از رسول صلی اللہ علیہ وسلم، پس عمر رضی اللہ عنہ،
📚 حجۃ اللہ البالغہ صفحہ....
" اور امت میں معتد بہ لوگوں کا اتفاق ہے کہ ساری امت میں افضل ترین ابوبکر صدیق اور پھر حضرت عمر ہیں رضی اللہ عنہما.
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے اپنی" تفضیل شیخین" مستقل کتابوں کے علاوہ بھی جابجا افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق کلام کیا ہے ملاحظہ فرمائیں
📚 تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 283
📚 تفسیر فتح العزیز
📚 عزیز الاقتباس فی فضائل اخیار الناس میں فرماتے ہیں کہ " حضرت ابوبکر و عمر پیغمبر خدا کے بعد تمام امت سے افضل ہیں، اور یہی قرآن و حدیث کثیرہ، و اقوال صحابہ و تابعین کے مطابق ہے اور اسی پر اہلسنت و الجماعت کا اجماع ہے.
برصغیر کے تف.ضیلی اب شاذ و متروک و منسوب اقوال جمع کرکے عوام اہلسنت کو مغالطہ دے رہے ہیں، کبھی مسئلہ افضلیت، کبھی مسئلہ ایمان ابی طالب، کبھی مسئلہ خلافت، کبھی مسئلہ جمل و صفین، کبھی صحابہ کرام کے آپسی نزاع کو چھیڑ کر " سواد اعظم اہلسنت " کو منتشر کرنے کی ناپاک سعی سراوی حضرات کر رہے ہیں-
نوٹ:- سید سبطین حیدر صاحب سے خلافت پا لینے کے بعد عوام اہلسنت کو مسئلہ افضلیت میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے جناب ذیشان صاحب سراوی بڑے مستعد ہیں، یاد رہے جنگل میں خاموشی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اہلسنت و جماعت کا دفاع کرنے والے نہیں ہیں، لہذا جب جب جس جس طرح فتنہ پھیلایا جاے گا ان شاء اللہ جواب دیا جاے گا.
فتاوی عزیزی کے متعلق علامہ انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب مسئلہ ربوا صفحہ 18 پر کلام کیا ہے،
تھانوی کو" فتاوی عزیزی کے بارے میں قوی شک تھا،
مفتی شفیع دیو.بندی نے کہا کہ کسی نے بہت بعد میں اسے جمع کیا ہے، اس میں بہت احتمالات ہیں، دیکھیے الأحاديث الروایہ لمدح امیر المعاویہ
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
❤1
Forwarded from چینل صدائے حق
*ضرب حیدر بر منکر افضلیت صدیق اکبر*
اسّی 80 رایوں نے روایت کیا کہ سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر بیٹھ کر فرمایا کہ " خیر ھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکر ثم عمر.علماء نے اسے متواتر قرار دیا ہے،
📚 تاریخ الاسلام امام ذہبی
📚 تکمیل الایمان شیخ عبدالحق محدث دہلوی
📚 البدایہ والنہایہ لابن کثیر
📚 تاریخ الخلفاء امام سیوطی
👈🏻 مشکل کشا نے اہلسنت کی یوں مشکل کشائی فرمائی کہ" افضلیت شیخین" کے منکر کو اسّی 80 کوڑے مارنے کا اعلان فرمایا ہے.
لا أجد أحدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حدالمفتری.
📚 فضائل صحابہ
📚 السنۃ لابن ابی عاصم
📚 الاستیعاب
📚 المؤتلف المختلف للدار قطنی
📚 ابن عساکر وغیرہم
یہ اعلان کوفہ کے منبر پر فرمایا ان گنت لوگوں نے سنا، یہ حدیث صحیح ہے
📚 مکتوبات امام ربانی
📚 شرح فقہ اکبر
📚 فتاوی عزیزی
📚 الزلال الانقی
شاء عبدالعزيز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فتاوی عزیزی صفحہ 283 پر لکھا ہے کہ " ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ قطعی ہے، اس واسطے کی اجماع سے ثابت ہے، کہ امور ظنیہ میں سزا نہیں-
نوٹ:- یہ سارے حوالے 📚 افضلیت شیخین اور تف.ضیلی فتنہ علامہ غلام رسول قاسمی سے لیے گیے ہیں.
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
اسّی 80 رایوں نے روایت کیا کہ سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر بیٹھ کر فرمایا کہ " خیر ھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکر ثم عمر.علماء نے اسے متواتر قرار دیا ہے،
📚 تاریخ الاسلام امام ذہبی
📚 تکمیل الایمان شیخ عبدالحق محدث دہلوی
📚 البدایہ والنہایہ لابن کثیر
📚 تاریخ الخلفاء امام سیوطی
👈🏻 مشکل کشا نے اہلسنت کی یوں مشکل کشائی فرمائی کہ" افضلیت شیخین" کے منکر کو اسّی 80 کوڑے مارنے کا اعلان فرمایا ہے.
لا أجد أحدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حدالمفتری.
📚 فضائل صحابہ
📚 السنۃ لابن ابی عاصم
📚 الاستیعاب
📚 المؤتلف المختلف للدار قطنی
📚 ابن عساکر وغیرہم
یہ اعلان کوفہ کے منبر پر فرمایا ان گنت لوگوں نے سنا، یہ حدیث صحیح ہے
📚 مکتوبات امام ربانی
📚 شرح فقہ اکبر
📚 فتاوی عزیزی
📚 الزلال الانقی
شاء عبدالعزيز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فتاوی عزیزی صفحہ 283 پر لکھا ہے کہ " ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ قطعی ہے، اس واسطے کی اجماع سے ثابت ہے، کہ امور ظنیہ میں سزا نہیں-
نوٹ:- یہ سارے حوالے 📚 افضلیت شیخین اور تف.ضیلی فتنہ علامہ غلام رسول قاسمی سے لیے گیے ہیں.
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
❤1
*قصہ ہاروت و ماروت کی حقیقت*
---------------------------
انہیں اللہ نے بندوں کی آزمائش کے لیے علم سحر دے کر دنیا میں بھیجا یہ فرشتے لوگوں کو علم سحر سکھاتے مگر پہلے بتا دیتے تھے کہ عمل سحر کفر و شرک ہے جو اسے سیکھے اور اس پر عمل کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اور جو اس سے بچے گا وہی مومن رہے گا اس تصریح کے بعد جو اپنے ایمان کی پرواہ نہ کرتا اور علم سحر سیکھنے پر مصر ہوتا اسے سکھا دیتے اس طرح بندوں کا امتحان ہو جاتا کہ کون اللہ کی رضا چاہتا ہے اور کون شیطان کی پیروی
بس قصہ ہاروت و ماروت کی حقیقت اتنا ہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی اس کے علاوہ جو کچھ مشہور ہے یہ بے اصل یے امام اہلسنت اعلی حضرت فرماتے ہیں کہ '' قصہ ہاروت و ماروت جس طرح عوام میں شائع ہے ائمہ کرام کو اس پر شدید انکار یے جسکی تفصیل شفا شریف اور اس کی شرح میں ہے فرمایا امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے کہ یہ یہود کی افتراء یے
📚فتاوی رضویہ جلد 3 ص 20 مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
جو سحر ہاروت و ماروت سے نکلا اسے '' کلدائیں '' کہتے ہیں تفسیر عزیزی
📚 کنز الدارین فی حل تفسیر الجلالین جلد اول ص 161و 62
*بلا کسی ترمیم و اضافے کے عام کریں*
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
---------------------------
انہیں اللہ نے بندوں کی آزمائش کے لیے علم سحر دے کر دنیا میں بھیجا یہ فرشتے لوگوں کو علم سحر سکھاتے مگر پہلے بتا دیتے تھے کہ عمل سحر کفر و شرک ہے جو اسے سیکھے اور اس پر عمل کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اور جو اس سے بچے گا وہی مومن رہے گا اس تصریح کے بعد جو اپنے ایمان کی پرواہ نہ کرتا اور علم سحر سیکھنے پر مصر ہوتا اسے سکھا دیتے اس طرح بندوں کا امتحان ہو جاتا کہ کون اللہ کی رضا چاہتا ہے اور کون شیطان کی پیروی
بس قصہ ہاروت و ماروت کی حقیقت اتنا ہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی اس کے علاوہ جو کچھ مشہور ہے یہ بے اصل یے امام اہلسنت اعلی حضرت فرماتے ہیں کہ '' قصہ ہاروت و ماروت جس طرح عوام میں شائع ہے ائمہ کرام کو اس پر شدید انکار یے جسکی تفصیل شفا شریف اور اس کی شرح میں ہے فرمایا امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے کہ یہ یہود کی افتراء یے
📚فتاوی رضویہ جلد 3 ص 20 مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
جو سحر ہاروت و ماروت سے نکلا اسے '' کلدائیں '' کہتے ہیں تفسیر عزیزی
📚 کنز الدارین فی حل تفسیر الجلالین جلد اول ص 161و 62
*بلا کسی ترمیم و اضافے کے عام کریں*
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
❤1
ہم نے فلاں کی بات اس لیے نہیں مانا کہ فلاں ہندی و سندھی کا فرمان ہے بلکہ اس لیے مانا کہ سواد اعظم کے مطابق ہے، اگر اس سے ہٹ کر ایک دو دس بیس کے اقوال بھی ہوتے، خواہ وہ شخصیات معتبر ہی کیوں نہ ہوتیں ہرگز نہ مانتا کیوں کہ ہمیں سواد اعظم کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ جدا ہونے والے کی، کتاب کوئی بھی ہو، مصنف کیسا بھی ہو اگر مسئلہ عقائد کا رہا اور دلائل اربعہ کے مطابق ہے قبول ہے خواہ مشہور کا قول ہو یا غیر معروف کا، اور اگر خلاف رہا چھوڑ دیں گے، اور اگر مسئلہ فقہی رہا تو بھی دلائل اربعہ کے مطابق جو ہوگا اسی کو قبول کریں گے کیونکہ اجماع سے ہٹ جانا ہلا.کت ہے
اے لوگو! جان لو جتنے گمراہ ہوے، یا ہو رہے ہیں، یا آئندہ ہوں گے یہ سب وہی ہیں جنہوں نے سواد اعظم سے منہ موڑا، اور اجماع امت سے ہٹ کر چلے، یہ بھی ذہن نشین رہے کہ تمام باطل جماعتیں سب سے پہلے سواد اعظم کے متعلق شک و شبہ پیدا کرتی ہیں بعدہ شکار
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
اے لوگو! جان لو جتنے گمراہ ہوے، یا ہو رہے ہیں، یا آئندہ ہوں گے یہ سب وہی ہیں جنہوں نے سواد اعظم سے منہ موڑا، اور اجماع امت سے ہٹ کر چلے، یہ بھی ذہن نشین رہے کہ تمام باطل جماعتیں سب سے پہلے سواد اعظم کے متعلق شک و شبہ پیدا کرتی ہیں بعدہ شکار
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
❤1
آہ اہل سنت 😥
ہماری کئی ایک مساجد میں جمعے کے دن جو تقریریں ہوتی ہیں اُن میں الاماشاءاللہ زیادہ تر زور قصے کہانیوں ، شعروں ، اور فضائل و مناقب بیان کیے جانے پر لگایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دلائل تو دور عوام عقائد و نظریات اہل سنت سے بھی لاعلم رہتی ہے ، پھر انھیں ہر ایرا غیرا اپنے پیچھے لگا کر کہیں بھی لے جاتا ہے ۔ اور اپنے رنگ میں ڈھال لیتا ہے ۔۔۔لہذا خطباء سے دست بستہ گزارش ہے کہ یہ دور بھی بہت سے فتنوں سے بھرا پڑا ہے آپ بوڑھے افراد کو تو یہ سب سنا کر مست کر سکتے ہیں ، مگر نوجوان اور پڑھی لکھی نسل اب اِن باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتی ۔ سوشل میڈیا کا دور ہے وہاں طرح طرح کے نمونے بیٹھے دین بیان کررہے ہیں ۔۔۔۔۔کوئی قرآن و سنت سے غلط استدلال کررہا ہے تو کوئی صحابہ و اہل بیت کے خلاف کررہا ہے ۔۔۔کوئی بابوں کو کیش کررہا ہے تو کوئی بابوں کے نام پر گمراہ کررہا ہے ۔۔۔المختصر جب لوگ سوشل میڈیا پر ایسے گمراہانہ کلپ سُنتے تو وہ باتیں ان کے دل و دماغ میں جم جاتی ہیں اور ان کے اندر شکوک و شبہات پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔ان کے ذہنوں میں بہت سے سوال ہوتے ہیں، دلوں میں بہت سے خیال ہوتے ہیں ۔۔پھر وہ معاشرے میں جب نظر دوڑاتا ہے تو اسے کہیں کوئی مثال بھی مل جاتی ہے تب وہ پکا ہوجاتا ہے کہ واقعی فلاں سکالر صحیح کہتا ہے۔۔۔۔اور یوں ایک آسانی اور صحیح راستے کی تلاش میں پھرنے والا متذبذب انسان گمراہ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔اگر خطباء یہ ذمہ داری اٹھالیں کہ وہ ہر جمعہ کی تقریر میں جدید فتنوں اور مسئلوں پر تیاری کرکے اسے بھی ساتھ بیان کریں گے اور ایڈوانس میں عقائد و نظریات کی مضبوطی اور اصلاح کے حوالے سے بیان کریں گے ۔۔۔۔تو ان شاءالله بہت سوں کا بھلا ہوگا۔۔۔
راقم کو آج اپنے شہر کی بہت بڑی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔۔۔ تو وہاں کے مشہور خطیب صاحب کی تقریر سُن کر دلی صدمہ ہوا تقریباً سوا گھنٹے کی تقریر میں پہلے اپنے ہی فضائل اور سیرت پھر دو چار ادھر اُدھر کی باتیں آٹھ دس شعر اور آخری منٹوں میں واقعہ کربلا کا تصور کرواکے سارے مجمعے کا دل موم کردیا ۔۔۔۔اب یہاں سے موم ہوا دل لے کر اٹھنے والا نوجوان جب باہر جاکر مرزے انجینئر کو سُنے گا تو اُس کا دل ایسا سخت ہوجائے گا کہ پھر اس پر کچھ بھی اثر نہ ہوگا ۔
لہذا خدارا اپنی عوام کا خیال رکھیں خود بھی علم حاصل کریں اور انہیں بھی جدید فتنوں اور ضروریات اہل سنت سے آگاہی بخشیں ۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
✍️ارسلان احمد اصمعی قادری
21/4/23/ء
ہماری کئی ایک مساجد میں جمعے کے دن جو تقریریں ہوتی ہیں اُن میں الاماشاءاللہ زیادہ تر زور قصے کہانیوں ، شعروں ، اور فضائل و مناقب بیان کیے جانے پر لگایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دلائل تو دور عوام عقائد و نظریات اہل سنت سے بھی لاعلم رہتی ہے ، پھر انھیں ہر ایرا غیرا اپنے پیچھے لگا کر کہیں بھی لے جاتا ہے ۔ اور اپنے رنگ میں ڈھال لیتا ہے ۔۔۔لہذا خطباء سے دست بستہ گزارش ہے کہ یہ دور بھی بہت سے فتنوں سے بھرا پڑا ہے آپ بوڑھے افراد کو تو یہ سب سنا کر مست کر سکتے ہیں ، مگر نوجوان اور پڑھی لکھی نسل اب اِن باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتی ۔ سوشل میڈیا کا دور ہے وہاں طرح طرح کے نمونے بیٹھے دین بیان کررہے ہیں ۔۔۔۔۔کوئی قرآن و سنت سے غلط استدلال کررہا ہے تو کوئی صحابہ و اہل بیت کے خلاف کررہا ہے ۔۔۔کوئی بابوں کو کیش کررہا ہے تو کوئی بابوں کے نام پر گمراہ کررہا ہے ۔۔۔المختصر جب لوگ سوشل میڈیا پر ایسے گمراہانہ کلپ سُنتے تو وہ باتیں ان کے دل و دماغ میں جم جاتی ہیں اور ان کے اندر شکوک و شبہات پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔ان کے ذہنوں میں بہت سے سوال ہوتے ہیں، دلوں میں بہت سے خیال ہوتے ہیں ۔۔پھر وہ معاشرے میں جب نظر دوڑاتا ہے تو اسے کہیں کوئی مثال بھی مل جاتی ہے تب وہ پکا ہوجاتا ہے کہ واقعی فلاں سکالر صحیح کہتا ہے۔۔۔۔اور یوں ایک آسانی اور صحیح راستے کی تلاش میں پھرنے والا متذبذب انسان گمراہ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔اگر خطباء یہ ذمہ داری اٹھالیں کہ وہ ہر جمعہ کی تقریر میں جدید فتنوں اور مسئلوں پر تیاری کرکے اسے بھی ساتھ بیان کریں گے اور ایڈوانس میں عقائد و نظریات کی مضبوطی اور اصلاح کے حوالے سے بیان کریں گے ۔۔۔۔تو ان شاءالله بہت سوں کا بھلا ہوگا۔۔۔
راقم کو آج اپنے شہر کی بہت بڑی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔۔۔ تو وہاں کے مشہور خطیب صاحب کی تقریر سُن کر دلی صدمہ ہوا تقریباً سوا گھنٹے کی تقریر میں پہلے اپنے ہی فضائل اور سیرت پھر دو چار ادھر اُدھر کی باتیں آٹھ دس شعر اور آخری منٹوں میں واقعہ کربلا کا تصور کرواکے سارے مجمعے کا دل موم کردیا ۔۔۔۔اب یہاں سے موم ہوا دل لے کر اٹھنے والا نوجوان جب باہر جاکر مرزے انجینئر کو سُنے گا تو اُس کا دل ایسا سخت ہوجائے گا کہ پھر اس پر کچھ بھی اثر نہ ہوگا ۔
لہذا خدارا اپنی عوام کا خیال رکھیں خود بھی علم حاصل کریں اور انہیں بھی جدید فتنوں اور ضروریات اہل سنت سے آگاہی بخشیں ۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
✍️ارسلان احمد اصمعی قادری
21/4/23/ء
❤1
*منتہی الکلام* علامہ حیدر علی فیض آبادی کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کی اس کے جواب میں ہی
شیعوں کی چوٹی کتاب *استقصاء الافحام* لکھی گئی تھی
یہ را.فضی تو اس کتاب سے ہزاروں کتاب بنا چکے اور ہم اہلسنت آج تک منتہی الکلام شائع بھی نہ کر سکے.
ہمارے اکابر نے ہر ہر موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے میرا ماننا ہے کہ سو سال تک اگر ہم ان لکھی ہوئی کتابوں کی ہی تلخیص، تسہیل، تخریج، تعلیق کرتے رہیں تو تمام باطل جماعتوں پر بھاری رہیں گے، لیکن کیا کریں ہندوستان میں سینکڑوں مطبع ہیں، سینکڑوں اعلی حضرت اور بزرگوں کے نام پر قائم ہوے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ چندہ کرکے اپنی زمین وسیع کی جائے، کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ سو سال کا عرصہ ہوگیا *سینکڑوں ادارے* مل کر اب تک اکابرین اہلسنت کی پچاس فیصد کتابیں بھی شائع نہ کر سکے
مستحبات و مباحات میں ہر سال کئی کروڑ روپیہ لگایا جاتا ہے، حتی کہ بعض بزرگوں کے عرس مبارک میں کئی کروڑ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ان کی کتابوں پر ایک لاکھ بھی نہیں لگایا جاتا، ہمیں غیروں سے نہیں اپنوں سے شکوہ ہے، یہی وجہ ہے کہ آج عوام اہلسنت لنگر، فاتحہ، عرس، مزارات پر جانا سب کرتی اور مانتی ہے لیکن ایک ہی گھڑی میں بد.مذہب کے جال میں پھنس کر گمراہ ہو جاتی ہے، درجن بھر سے زمیندار اور دولت مند حضرات کو جانتا ہوں جو پہلے سنی تھے اب اہلحدیث یا دیو.بندی ہو گیے ہیں
خدارا اکابرین اہلسنت کی کتابوں کی طرف توجہ دیں، ورنہ بدمذہبوں کی کتابیں ہمارے پاس ہوں گی اس کے جواب میں اہلسنت کی کتابیں مفقود ہوں گی.
📝حسن نوری گونڈوی
شیعوں کی چوٹی کتاب *استقصاء الافحام* لکھی گئی تھی
یہ را.فضی تو اس کتاب سے ہزاروں کتاب بنا چکے اور ہم اہلسنت آج تک منتہی الکلام شائع بھی نہ کر سکے.
ہمارے اکابر نے ہر ہر موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے میرا ماننا ہے کہ سو سال تک اگر ہم ان لکھی ہوئی کتابوں کی ہی تلخیص، تسہیل، تخریج، تعلیق کرتے رہیں تو تمام باطل جماعتوں پر بھاری رہیں گے، لیکن کیا کریں ہندوستان میں سینکڑوں مطبع ہیں، سینکڑوں اعلی حضرت اور بزرگوں کے نام پر قائم ہوے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ چندہ کرکے اپنی زمین وسیع کی جائے، کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ سو سال کا عرصہ ہوگیا *سینکڑوں ادارے* مل کر اب تک اکابرین اہلسنت کی پچاس فیصد کتابیں بھی شائع نہ کر سکے
مستحبات و مباحات میں ہر سال کئی کروڑ روپیہ لگایا جاتا ہے، حتی کہ بعض بزرگوں کے عرس مبارک میں کئی کروڑ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ان کی کتابوں پر ایک لاکھ بھی نہیں لگایا جاتا، ہمیں غیروں سے نہیں اپنوں سے شکوہ ہے، یہی وجہ ہے کہ آج عوام اہلسنت لنگر، فاتحہ، عرس، مزارات پر جانا سب کرتی اور مانتی ہے لیکن ایک ہی گھڑی میں بد.مذہب کے جال میں پھنس کر گمراہ ہو جاتی ہے، درجن بھر سے زمیندار اور دولت مند حضرات کو جانتا ہوں جو پہلے سنی تھے اب اہلحدیث یا دیو.بندی ہو گیے ہیں
خدارا اکابرین اہلسنت کی کتابوں کی طرف توجہ دیں، ورنہ بدمذہبوں کی کتابیں ہمارے پاس ہوں گی اس کے جواب میں اہلسنت کی کتابیں مفقود ہوں گی.
📝حسن نوری گونڈوی
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-10-1444 ᴴ | 28-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-10-1444 ᴴ | 29-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1