انگریزوں نے جب انقلاب 1857ء کو نا کام بنانے کے بعد علمائےکرام اور قائدینِ انقلاب کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنا شروع کیا تو اس دوران بریلی کے اسی اہم فتویٰ کی بنیاد پر مفتی عنایت احمد کاکوروی کے خلاف بھی مقدمہ چلایا گیا دکھاوے کی خاطر معمولی سی سطحی عدالتی کارروائی کے بعد آپ کو سزائے کالا پانی کے طور پر جزیرۂ انڈیمان بھیج دیا گیا ۔ جہاں آپ نے چار سال تک قید و بند کی سخت مشقتیں جھیلیں ۔
انگریزوں کی طرف سے دیگر علماء و قائدین کی طرح آپ پر بھی طرح طرح سے مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ۔ حالتِ اسیری میں ابھی دو سال ہوئے تھے کہ ایک انگریز نے آپ سے مشہورِ زمانہ کتاب ’’ تقویم البلدان ‘‘ کے ترجمہ کی خواہش ظاہر کی جسے آپ نے قبول فرما کر دو سال میں مکمل کر دیا ۔ اس اہم علمی کام سے متاثر ہو کر اُسی انگریز نے آپ کی رہائی کی راہیں ہموار کیں اور آپ 1277ھ / 1860ء میں جزیرۂ اینڈ و مان سے آزاد ہو کر ہندوستان واپس آئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں سزاے کالا پانی کے دوران مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی طرح قائدِ تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ بھی محبوس تھے ۔
ان دو عظیم المرتبت علمائے کرام کی موجودگی سے انڈمان کا قید خانہ بھی علم و فضل اور دین و دانش کا ایک مرکز بن گیا ۔
ہمارے ان مقتدر اسلافِ کرام نے بہ حالتِ اسیری دین و ادب کی خوب خوب خدمت انجام دی ۔ تصنیف و تالیف اور تحقیق و تفحص کا سلسلۂ خیر جاری رکھا جس کے نتیجے میں کئی اہم کتب و رسائل منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں مفتی عنایت احمد کوروی اور علامہ فضل حق خیرآبادی علیہم الرحمہ کی تاریخی و علمی خدمات کے بارے میں مولانا عبد الشاہد شیروانی رقم طراز ہیں:
علامہ فضل حق جزیرۂ انڈمان پہنچے ـ مفتی عنایت احمد کاکوروی، مفتی مظہر کریم دریا بادی اور دوسرے مجاہدین علماء وہاں پہنچ چکے تھے ۔ ان علماء کی برکت سے یہ جزیرہ دار العلوم بَن گیا تھا ۔
ان حضرات نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ وہاں بھی قائم رکھا ۔ خرابیِ آب و ہوا، تکالیف شاقہ و جدائی احباب و اعزہ کے باوجود علمی مشاغل جاری رہے ۔
مفتی صاحب (مفتی عنایت احمد کاکوروی) نے ’’ علم الصیغہ ‘‘ جیسی صَرف کی مفید کتاب جو آج تک داخلِ نصاب ہے وہیں لکھی ۔ ’’ تواریخِ حبیبِ الٰہ ‘‘ بھی تالیف کی ۔ ان دونوں کتابوں کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان حضرات کے سینے علم کے سفینے بَن گئے تھے ۔ تاریخی یاد داشت، ترتیبِ واقعات، قواعدِ فنون، ضوابطِ علوم سبھی حیرت انگیز کرشمے دِکھا رہے ہیں ‘‘ ۔ قرآن مجید بھی وہیں پر حفظ کیا ۔ (باغیِ ہندوستان ص:225)
سفرِ حج و زیارت کے دوران حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ اپنی ایک اہم ترین بے نقطہ کتاب ’’ لوامع العلوم و اسرار العلوم ‘‘ کا مسودہ ساتھ لے کر گئے تھے ۔ راستے میں نہایت عالمانہ و محققانہ انداز میں بڑی عرق ریزی اور جانفشانی اس کو مرتب فرما رہے تھے ۔ افسوس! کہ جہاز ٹکرانے سے یہ نہایت اہم ذخیرۂ علوم و فنون غرقِ سمندر ہو گیا اور دنیا ایک بڑے خزانے سے محروم رہ گئی ۔ اس میں چالیس علوم کا خلاصہ لکھنا پیشِ نظر تھا ۔ ہر علم کا نام بھی بے نقطہ تھا ۔ مثلاً علوم التفسیر کا نام علم کلام اللہ ۔ علم حدیث کا نام علم کلام الرسول ۔ علم فقہ کا نام علم الاحکام ۔ وغیرہ ۔
حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے پیکر با عمل عالمِ دین تھے ۔ آپ نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ دینِ متین کی خدمت اور تعلیم و تعلم میں بسر فرمائی ۔ علوم و فنون کے جامع اور ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع المطالعہ اور ژرف نگاہ محقق و مصنف تھے ۔ قوم و ملت کا درد اور انقلابِ امت کا جذبۂ خیر آپ کے سینے میں موجز ن تھا ۔ آپ کی اصلاحی و تبلیغی تڑپ بھی نمایاں تھی ۔ جس کے لیے آپ ہمہ دم ہمہ تن عملی کوششوں میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ آپ جہاں بھی رہے عوام و خواص کی توجہ کا مرکز رہے اور دینی و علمی کاموں میں نہایت فعال اور متحرک رہے ۔ اسی طرح آپ نے متنازعہ ترین کتاب تقویۃ الایمان کا مختلف طریقوں سے رد کیا ۔ (الحق المبین ص:9)
تاریخِ وصال:
آپ علیہ الرحمہ نے 1279ھ کو بذریعہ بحری جہاز حج کا سفر کیا ۔ جہاز جدہ پہنچ کر پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوب گیا ۔ مفتی صاحب بحالتِ نماز احرام باندھے ہوئے 17 شوال 1279ھ مطابق 7 اپریل 1663ء کو غریقِ بحرِ رحمت ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ چند ممتاز علمائے انقلاب ۔ باغی ہندوستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-inayat-ahmed-kakorwi
انگریزوں کی طرف سے دیگر علماء و قائدین کی طرح آپ پر بھی طرح طرح سے مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ۔ حالتِ اسیری میں ابھی دو سال ہوئے تھے کہ ایک انگریز نے آپ سے مشہورِ زمانہ کتاب ’’ تقویم البلدان ‘‘ کے ترجمہ کی خواہش ظاہر کی جسے آپ نے قبول فرما کر دو سال میں مکمل کر دیا ۔ اس اہم علمی کام سے متاثر ہو کر اُسی انگریز نے آپ کی رہائی کی راہیں ہموار کیں اور آپ 1277ھ / 1860ء میں جزیرۂ اینڈ و مان سے آزاد ہو کر ہندوستان واپس آئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں سزاے کالا پانی کے دوران مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی طرح قائدِ تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ بھی محبوس تھے ۔
ان دو عظیم المرتبت علمائے کرام کی موجودگی سے انڈمان کا قید خانہ بھی علم و فضل اور دین و دانش کا ایک مرکز بن گیا ۔
ہمارے ان مقتدر اسلافِ کرام نے بہ حالتِ اسیری دین و ادب کی خوب خوب خدمت انجام دی ۔ تصنیف و تالیف اور تحقیق و تفحص کا سلسلۂ خیر جاری رکھا جس کے نتیجے میں کئی اہم کتب و رسائل منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں مفتی عنایت احمد کوروی اور علامہ فضل حق خیرآبادی علیہم الرحمہ کی تاریخی و علمی خدمات کے بارے میں مولانا عبد الشاہد شیروانی رقم طراز ہیں:
علامہ فضل حق جزیرۂ انڈمان پہنچے ـ مفتی عنایت احمد کاکوروی، مفتی مظہر کریم دریا بادی اور دوسرے مجاہدین علماء وہاں پہنچ چکے تھے ۔ ان علماء کی برکت سے یہ جزیرہ دار العلوم بَن گیا تھا ۔
ان حضرات نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ وہاں بھی قائم رکھا ۔ خرابیِ آب و ہوا، تکالیف شاقہ و جدائی احباب و اعزہ کے باوجود علمی مشاغل جاری رہے ۔
مفتی صاحب (مفتی عنایت احمد کاکوروی) نے ’’ علم الصیغہ ‘‘ جیسی صَرف کی مفید کتاب جو آج تک داخلِ نصاب ہے وہیں لکھی ۔ ’’ تواریخِ حبیبِ الٰہ ‘‘ بھی تالیف کی ۔ ان دونوں کتابوں کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان حضرات کے سینے علم کے سفینے بَن گئے تھے ۔ تاریخی یاد داشت، ترتیبِ واقعات، قواعدِ فنون، ضوابطِ علوم سبھی حیرت انگیز کرشمے دِکھا رہے ہیں ‘‘ ۔ قرآن مجید بھی وہیں پر حفظ کیا ۔ (باغیِ ہندوستان ص:225)
سفرِ حج و زیارت کے دوران حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ اپنی ایک اہم ترین بے نقطہ کتاب ’’ لوامع العلوم و اسرار العلوم ‘‘ کا مسودہ ساتھ لے کر گئے تھے ۔ راستے میں نہایت عالمانہ و محققانہ انداز میں بڑی عرق ریزی اور جانفشانی اس کو مرتب فرما رہے تھے ۔ افسوس! کہ جہاز ٹکرانے سے یہ نہایت اہم ذخیرۂ علوم و فنون غرقِ سمندر ہو گیا اور دنیا ایک بڑے خزانے سے محروم رہ گئی ۔ اس میں چالیس علوم کا خلاصہ لکھنا پیشِ نظر تھا ۔ ہر علم کا نام بھی بے نقطہ تھا ۔ مثلاً علوم التفسیر کا نام علم کلام اللہ ۔ علم حدیث کا نام علم کلام الرسول ۔ علم فقہ کا نام علم الاحکام ۔ وغیرہ ۔
حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے پیکر با عمل عالمِ دین تھے ۔ آپ نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ دینِ متین کی خدمت اور تعلیم و تعلم میں بسر فرمائی ۔ علوم و فنون کے جامع اور ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع المطالعہ اور ژرف نگاہ محقق و مصنف تھے ۔ قوم و ملت کا درد اور انقلابِ امت کا جذبۂ خیر آپ کے سینے میں موجز ن تھا ۔ آپ کی اصلاحی و تبلیغی تڑپ بھی نمایاں تھی ۔ جس کے لیے آپ ہمہ دم ہمہ تن عملی کوششوں میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ آپ جہاں بھی رہے عوام و خواص کی توجہ کا مرکز رہے اور دینی و علمی کاموں میں نہایت فعال اور متحرک رہے ۔ اسی طرح آپ نے متنازعہ ترین کتاب تقویۃ الایمان کا مختلف طریقوں سے رد کیا ۔ (الحق المبین ص:9)
تاریخِ وصال:
آپ علیہ الرحمہ نے 1279ھ کو بذریعہ بحری جہاز حج کا سفر کیا ۔ جہاز جدہ پہنچ کر پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوب گیا ۔ مفتی صاحب بحالتِ نماز احرام باندھے ہوئے 17 شوال 1279ھ مطابق 7 اپریل 1663ء کو غریقِ بحرِ رحمت ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ چند ممتاز علمائے انقلاب ۔ باغی ہندوستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-inayat-ahmed-kakorwi
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Inayat Ahmed Kakorwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-10-1444 ᴴ | 27-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-10-1444 ᴴ | 28-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-10-1444 ᴴ | 28-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-10-1444 ᴴ | 28-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1