🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت ابوالحسن علاؤالدین علی بن بلبان
مرتِّبِ معجم طبرانی و صحیح ابن حبان

نام و نسب:
علی بن بلبان بن عبد اللہ فارسی:
ابو الحسن کنیت اور علاء الدین لقب تھا۔

اصول و فروع میں بڑے متجر، عدیم النظیر، فقید المثیل، فقیہ، نحوی، محدث، حسن الذاکرہ تھے ـ

اصول و فقہ کو علاء قونوی اور شمس الدین ابی العباس احمد سروجی اور صدر الامین محمد بن عبدا خلاطی سے اخذ کیا اور حدیث کو دمیاطی و محمد بن علی بن صاعد اور ابن عسا کرو غیر ہم سے سنا اور نحوابی حیان سے پرھی یہاں تک کہ اصول و مذہب میں مقدم اور نحو میں متقن ہوئے ۔

تصنیفات:
کتاب صحیح ابنِ حبان اور کتاب معجم الطبرانی کو ابواب پر مرتب کیا، جامع کبیر کی شرح تصنیف کی اور خلاطی کی تلخیص جامع کبیر کی بھی تحفۃ الحریص نام ایک بڑی شرح تصنیف کی اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت لطیفہ اور ایک کتاب جامع مسائل مناسک میں تالیف کی ۔

ولادت:
آپ ۶۷۵ھ میں پیدا ہوئے

وصال:
بتاریخ ۷ ماہِ شوال ۷۳۹ھ کو قاہرہ میں فوت ہوئے ۔ ’’ مرآت زمان ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-hasan-alauddin-ali-bin-balban
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مجاہدِ جنگ آزادی، حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: مجاہدِ جنگ آزادی، امام الصرف، جامع العلوم ۔

سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی بن منشی محمد بخش بن منشی غلام محمد بن منشی لطف اللہ علیہم الرحمہ ۔

آپ کے آباؤ اجداد میں امیر حسام نامی ایک بزرگ بغداد سے ہندوستان آئے ۔ دیوہ ضلع بارہ بنکی اودھ میں مقیم ہو گئے ۔ امیر حسام کے صاحبزادے ضیاء الدین دیوہ کے قاضی مقرر ہوئے ۔ آپ کا خاندان علم و فضل اور دینی و دنیاوی وجاہت میں معروف تھا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1228ھ مطابق اوائل ماہ اکتوبر 1813ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں ہوئی ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے والد گرامی نے کاکوروی ضلع لکھنؤ اپنے سسرال منتقل ہوئے تو آپ بھی اپنی ننھیال میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ جس کی نسبت سے آپ کو ’’کاکوروی‘‘ کہا جانے لگا ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم دیوہ اور کاکوری میں ہوئی ۔ مزید تعلیم کے لئے آپ نے رام پور سفر کیا ۔ جہاں مولانا سید محمد رام پوری سے صرف و نحو اور مولانا نور الاسلام اور مولوی حیدر علی سے دیگر علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں ۔ پھر دہلی آکر مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی سے درس حدیث و سند حدیث حاصل کی ۔ دہلی کے بعد علی گڑھ پہنچے وہاں پر مولانا بزگ علی مارہروی (شاگر مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی) سے ریاضی پڑھی ۔فراغت کے بعد علی گڑھ میں ہی مفتی و منصف (جج) مقرر کیے گئے ۔ جامع مسجد علی گڑھ میں مدرس ہو گئے ۔ علی گڑھ کے تلامذہ میں مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا سید حسین شاہ بخاری وغیرہ ہیں ۔

سیرت و خصائص:
غریق بحرِ رحمت، امامِ عزیمت، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، مجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور عظیم داعی تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں، محبت و خلوص اور درس و افتا میں مہارتِ تامہ کے سبب آپ کی شہرت اور نیک نامی دور دور تک پھیلتی گئی ۔ آپ عوام و خواص کے مرجع بنتے گئے ۔ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کو درس و تدریس سے بے پناہ لگاؤ اور شغف تھا ۔ آپ عدالت میں جاری اجلاس کے دوران بھی اپنے طلبہ کو مقدمے سے فرصت ملتے ہی پڑھانے لگتے تھے ۔

علم بانٹنے اور پھیلانے کی جو اُمنگ اور جوش و ولولہ آپ کے اندر تھا نیز آپ کے تدریسی ذوق و شوق، طریقۂ تعلیم و تربیت، طلبہ سے محبت و مروت اور تقسیم علم کے جذبۂ خیر کا اندازہ پروفیسر ایوب قادری بدایونی کی تحریر کردہ اس روایت سے ہوتا ہے:

مولانا سید حسین شاہ بخاری فرمایا کرتے تھے کہ مفتی صاحب مجھ کو ہدایہ اجلاس میں پڑھایا کرتے تھے ۔ جیسے ہی کسی مقدمہ سے فرصت ہوئی اشارہ ہوتا ۔ میں پڑھنا شروع کر دیتا ۔ پھر کوئی سرکاری کام آ جاتا تو اس میں مصروف ہو جاتے ۔ اس دو گونہ مصروفیت کے باوجود مسائل اس طرح ذہن نشین کرا دِیئے کہ کبھی فراموش نہ ہوئے ۔ آپ طلبہ سے خاص تعلق رکھتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب کی تعلیم کے زمانہ میں ہی مفتی صاحب کا تبادلہ علی گڑھ سے بریلی ہو گیا تھا ۔ مولوی لطف اللہ صاحب بریلی ساتھ گئے ۔ وہاں جملہ کتبِ درسیہ ختم کیں ۔ صبح کی نماز کے بعد مفتی عنایت احمد صاحب تلاوت کرتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب خدمت میں حاضر رہتے ۔ دورانِ تلاوت کوئی مشکل صیغہ آتا تو مفتی صاحب خود حل کرکے بتاتے ۔ مفتی عنایت احمد صاحب نے فراغت کے بعد مولوی لطف اللہ صاحب کو اپنے ہی اجلاس کا سر رشتہ دار مقرر کر لیا ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب ص:118)
1
جنگ آزادی میں کردار:
1857ء میں جب انگریزوں کے خلاف انقلاب کی دستک ہوئی تو اس میں مفتی عنایت احمد کاکوروی نے نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ آپ جہادِ آزادی کی تنظیم و تشکیل کے لیے شب و روز مصروف رہے ۔ بریلی ان دنوں آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور آپ تحریکِ آزادی کے قائد و رہنما تھے ۔میاں عبد الرشید کالم نگار روز نامہ نوائے وقت لاہور کے بہ قول: ’’آپ بریلی میں نواب خان بہادر خاں روہیلہ کی زیرِ قیادت جہادِ حریت کی تنظیم کے لیے سرگرمِ عمل رہے ۔

ان دنوں روہیل کھنڈ بریلی مجاہدینِ آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ کے جد امجد مولانا رضا علی خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ اس تحریک کے قائدین میں سے تھے ۔ مفتی عنایت احمد علیہ الرحمہ نے مجاہدین کی تنظیم پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ نواب خان بہادر خاں روہیلہ کے دستِ راست کی حیثیت سے مختلف معرکوں میں عملی حصہ بھی لیا ۔ ‘‘ (جنگِ آزادی نمبر ، ترجمانِ اہل سنت کراچی ، شمارہ جولائی 1975ء)

مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی علمی صلاحیتوں اور لیاقتوں کی بنیاد پر اُن کو 1273ھ میں آگرہ کا صدر الصدور بنایا گیا ۔ آپ ابھی بریلی سے آگرہ جانے کی تیاریوں میں مصروف ہی تھے کہ 1857ء کی جنگ کا آغاز ہو گیا اور آپ نے آگرہ جانا ترک کر دیا اور بریلی و رام پور میں جنگِ آزادی کے لیے متحرک و فعال ہو گئے ۔ لوگوں کے اندر جذبۂ حریت کو بیدار کیا ۔

مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ آپ نے بریلی میں قیام کے دوران ’’ جلسۂ تائیدِ دینِ متین ‘‘ کے نام سے ایک تبلیغی و اصلاحی انجمن کی بنیاد ڈالی تھی ۔ جس کے تحت آپ نے دینی لٹریچر کی نشر و اشاعت کی ۔ اس انجمن کو بر صغیر کے مسلمانوں کا پہلا اصلاحی ادارہ کہا جاتا ہے ۔ اس انجمن سے شائع ہونے والی کتب زیادہ تر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی تالیف کردہ ہوتی تھیں ۔ یہ کتابیں اصلاحی اور تبلیغی موضوعات پر تھیں ۔

جب ہندوستان میں پہلی جنگِ آزادی کی روح بیدار ہونا شروع ہوئی تو اس وقت انگریزوں کے خلاف علَمِ جہاد بلند کرنے اور مجاہدین کے لیے مالی امداد و اعانت پر ایک اہم فتویٰ بریلی میں جاری ہوا تو اس پر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ نے اپنے دستخط ثبت کیے اور عوام و خواص میں روحِ آزادی پھونکنے میں عملی کردار ادا کیا ۔
1
انگریزوں نے جب انقلاب 1857ء کو نا کام بنانے کے بعد علمائےکرام اور قائدینِ انقلاب کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنا شروع کیا تو اس دوران بریلی کے اسی اہم فتویٰ کی بنیاد پر مفتی عنایت احمد کاکوروی کے خلاف بھی مقدمہ چلایا گیا دکھاوے کی خاطر معمولی سی سطحی عدالتی کارروائی کے بعد آپ کو سزائے کالا پانی کے طور پر جزیرۂ انڈیمان بھیج دیا گیا ۔ جہاں آپ نے چار سال تک قید و بند کی سخت مشقتیں جھیلیں ۔

انگریزوں کی طرف سے دیگر علماء و قائدین کی طرح آپ پر بھی طرح طرح سے مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ۔ حالتِ اسیری میں ابھی دو سال ہوئے تھے کہ ایک انگریز نے آپ سے مشہورِ زمانہ کتاب ’’ تقویم البلدان ‘‘ کے ترجمہ کی خواہش ظاہر کی جسے آپ نے قبول فرما کر دو سال میں مکمل کر دیا ۔ اس اہم علمی کام سے متاثر ہو کر اُسی انگریز نے آپ کی رہائی کی راہیں ہموار کیں اور آپ 1277ھ / 1860ء میں جزیرۂ اینڈ و مان سے آزاد ہو کر ہندوستان واپس آئے ۔

جزیرۂ انڈمان میں سزاے کالا پانی کے دوران مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی طرح قائدِ تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ بھی محبوس تھے ۔

ان دو عظیم المرتبت علمائے کرام کی موجودگی سے انڈمان کا قید خانہ بھی علم و فضل اور دین و دانش کا ایک مرکز بن گیا ۔

ہمارے ان مقتدر اسلافِ کرام نے بہ حالتِ اسیری دین و ادب کی خوب خوب خدمت انجام دی ۔ تصنیف و تالیف اور تحقیق و تفحص کا سلسلۂ خیر جاری رکھا جس کے نتیجے میں کئی اہم کتب و رسائل منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔

جزیرۂ انڈمان میں مفتی عنایت احمد کوروی اور علامہ فضل حق خیرآبادی علیہم الرحمہ کی تاریخی و علمی خدمات کے بارے میں مولانا عبد الشاہد شیروانی رقم طراز ہیں:

علامہ فضل حق جزیرۂ انڈمان پہنچے ـ مفتی عنایت احمد کاکوروی، مفتی مظہر کریم دریا بادی اور دوسرے مجاہدین علماء وہاں پہنچ چکے تھے ۔ ان علماء کی برکت سے یہ جزیرہ دار العلوم بَن گیا تھا ۔

ان حضرات نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ وہاں بھی قائم رکھا ۔ خرابیِ آب و ہوا، تکالیف شاقہ و جدائی احباب و اعزہ کے باوجود علمی مشاغل جاری رہے ۔

مفتی صاحب (مفتی عنایت احمد کاکوروی) نے ’’ علم الصیغہ ‘‘ جیسی صَرف کی مفید کتاب جو آج تک داخلِ نصاب ہے وہیں لکھی ۔ ’’ تواریخِ حبیبِ الٰہ ‘‘ بھی تالیف کی ۔ ان دونوں کتابوں کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان حضرات کے سینے علم کے سفینے بَن گئے تھے ۔  تاریخی یاد داشت، ترتیبِ واقعات، قواعدِ فنون، ضوابطِ علوم سبھی حیرت انگیز کرشمے دِکھا رہے ہیں ‘‘ ۔ قرآن مجید بھی وہیں پر حفظ کیا ۔ (باغیِ ہندوستان ص:225)

سفرِ حج و زیارت کے دوران حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ اپنی ایک اہم ترین بے نقطہ کتاب ’’ لوامع العلوم و اسرار العلوم ‘‘ کا مسودہ ساتھ لے کر گئے تھے ۔ راستے میں نہایت عالمانہ و محققانہ انداز میں بڑی عرق ریزی اور جانفشانی اس کو مرتب فرما رہے تھے ۔  افسوس! کہ جہاز ٹکرانے سے یہ نہایت اہم ذخیرۂ علوم و فنون غرقِ سمندر ہو گیا اور دنیا ایک بڑے خزانے سے محروم رہ گئی ۔ اس میں چالیس علوم کا خلاصہ لکھنا پیشِ نظر تھا ۔ ہر علم کا نام بھی بے نقطہ تھا ۔ مثلاً علوم التفسیر کا نام علم کلام اللہ ۔ علم حدیث کا نام علم کلام الرسول ۔ علم فقہ کا نام علم الاحکام ۔ وغیرہ ۔

حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے پیکر با عمل عالمِ دین تھے ۔ آپ نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ دینِ متین کی خدمت اور تعلیم و تعلم میں بسر فرمائی ۔ علوم و فنون کے جامع اور ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع المطالعہ اور ژرف نگاہ محقق و مصنف تھے ۔ قوم و ملت کا درد اور انقلابِ امت کا جذبۂ خیر آپ کے سینے میں موجز ن تھا ۔ آپ کی اصلاحی و تبلیغی تڑپ بھی نمایاں تھی ۔  جس کے لیے آپ ہمہ دم ہمہ تن عملی کوششوں میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ آپ جہاں بھی رہے عوام و خواص کی توجہ کا مرکز رہے اور دینی و علمی کاموں میں نہایت فعال اور متحرک رہے ۔ اسی طرح آپ نے متنازعہ ترین کتاب تقویۃ الایمان کا مختلف طریقوں سے رد کیا ۔ (الحق المبین ص:9)

تاریخِ وصال:
آپ علیہ الرحمہ نے 1279ھ کو بذریعہ بحری جہاز حج کا سفر کیا ۔ جہاز جدہ پہنچ کر پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوب گیا ۔ مفتی صاحب بحالتِ نماز احرام باندھے ہوئے 17 شوال 1279ھ مطابق 7 اپریل 1663ء کو غریقِ بحرِ رحمت ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ چند ممتاز علمائے انقلاب ۔ باغی ہندوستان ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-inayat-ahmed-kakorwi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-10-1444 ᴴ | 27-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-10-1444 ᴴ | 28-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-10-1444 ᴴ | 28-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-10-1444 ᴴ | 28-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1