حضرت شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت شاہ کامل کتھیلی مقتدائےراہ دین ہیں۔
خاندانی حالات:
آپ بغدادکےایک معززخاندان سےتعلق رکھتے ہیں۔
والد:
آپ کےوالدماجدکانام سیدمحمدعمرہے،وہ حافظ بھی تھےاورحاجی بھی تھے،وہ کامیاب طبیب ہونے کےعلاوہ ایک عالم بھی تھے۔
ولادت:
آپ نے۷شوال ۸۳۵ھ کواس عالم کوزینت بخشی۔
نام:
آپ کانام کمال ہے۔
القاب:
آپ کےالقاب"سلب احوال"اور"لال ریال"ہیں۔
پیشین گوئی:
حضرت فضیل قادری آپ کےیہاں تشریف لائے،آپ کو دیکھ کربہت خوش ہوئےاورآپ کے والد سےآپ کےمتعلق فرمایاکہ۔
ہادیٔ کامل ولیٔ عادل تمہیں ودیعت ہواہے،اس کی تربیت صحیح طورپرکیجئےکیونکہ یہ بچہ اولیاءکے زمرے میں مراتب عالیہ پرفائزہوگا،اس کی پروازسدرۃ المنتہیٰ تک ہوگی،اس کاعلم وسیع ہوگااور
عمردرازہوگی۔
ابتدائی زندگی:
بچپن ہی سےآپ میں ترک وتجریدکےآثارنمایاں تھےاوربچوں کی طرح کھیل کود میں دلچسپی نہیں لیتے تھے۔جنگلوں میں گھومناپھرناآپ کامحبوب مشغلہ تھا۔کھاناپینابھی برائےنام تھا۔اگرمل جاتاتو کھالیتے،ورنہ نہیں۔بچپن ہی سےآپ حالت جذب میں رہتےتھے۔
ایک واقعہ:
ایک روزجب کہ آپ حسب معمول گھرسےغائب تھے،آپ کے والدماجدآپ کی تلاش کےلئے نکلے۔ایک جنگل میں پہنچ کردیکھاکہ آپ ایک پیڑکےنیچےمراقبہ میں بیٹھےہیں،آپ کواسی حالت میں روحانی قوت کےذریعےمعلوم ہواکہ آپ کےوالدماجدوہاں تشریف لائے ہیں،آپ وہاں سے اٹھ کھڑےہوئے،آپ کےوالدماجدآپ کے پیچھےہولئے،آپ تھوڑی دورچل کرغائب ہوگئے۔
آپ کے والد نےگھرآکریہ واقعہ بیان کیا۔
بیعت وخلافت:
آپ کےوالدنےآپ کی یہ حالت دیکھ کربخوبی اندازہ لگالیاکہ آپ کی تعلیم وتربیت ان کےبس کی نہیں۔انہوں نےآپ کوفضیل قادری کےسپردفرمایا،آپ کی تعلیم وتربیت فضیل قادری کےزیر نگرانی ہوئی آپ بہت جلدعلوم ظاہری کی تکمیل وتحصیل سے فارغ ہوئے۔
تعلیم وتربیت:
آپ نےفضیل قادری کےدست حق پرست پربیعت کی اورانہیں سےخرقہ خلافت پایا،آپ نے سلوک کےتمام مدارج طے کئے،ریاضت،عبادت اورمجاہدہ میں کوئی کسراٹھانہ رکھی۔
پیرومرشدکی ہدایت:
آپ کےپیرومرشدنےآپ کےروحانی کمالات سےخوش ہوکرآپ کو ہندوستان کی ولایت عطا فرمائی،کہ ہندوستان جاکرتادم آخررشدوہدایت میں مشغول رہیں۔
سیروسیاحت:
بغدادسےروانہ ہوکرآپ نےعراق،ایران،مشہد،نجف اشرف تبریز،اصفہان کی سیروسیاحت فرمائی،بہت سےکامل درویشوں سےملےاوران کےفیض باطنی سےمستفیدہوئے۔
ہندوستان میں آمد:
سیروسیاحت فرماتےہوئےآپ ہندوستان پہنچے،ٹھٹھہ میں پہنچ کرایک سال قیام فرمایا،وہاں ملاسیدمحمد مدرس کوبیعت کیااورخرقہ خلافت سےسرفرازفرمایا۔
ٹھٹھہ سےآپ ملتان تشریف لےگئے،وہاں حمیدخاں نےآپ کاشانداراستقبال کیا۔ملتان سےآپ لدھیانہ میں رونق افروزہوئے۔لدھیانہ سےآپ(پائل)سرہندکےقریب)تشریف لےگئے۔
کتھیلی میں قیام:
پائل سےآپ کتھیلی تشریف لےگئےاورکتھیل کواپنی رشدوہدایت کامرکزبنایا۔کتھیل میں مفتیوں کااقتدارتھا،ان کی پانسوپالکیاں نکلاکرتی تھیں۔مفتی طرح طرح سےآپ کی مخالفت پر آمادہ ہوگئے،بہت سےلوگ مفتیوں کےبہکانےسےآپ کےمخالف ہوگئے،وہ طرح طرح سےآپ کو اذیت پہنچانےلگے۔
مفتی اپنی فتنہ پردازیوں سےبازنہ آئے،ایک دن آپ کوغصہ ہی آگیااورآپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے۔
"مفتیان کی جڑاللہ شہ کمال نےپٹی"
اس کےبعدسےمفتیوں کااقتدارگرناشروع ہوا،یہاں تک رفتہ رفتہ وہ سب نیست ونابود ہوگئے۔
آپ کتھیل میں بلاروک ٹوک رشدوہدایت فرماتے،لوگ آپ کی خدمت میں حاضرہوتے،آپ کا حلقہ ارادت روزبروزبڑھتاگیا۔
شادی اوراولاد:
آپ کےتینوں صاحب زادوں حضرت شاہ عمادالدین،حضرت شاہ موسیٰ،ابوالمکارم اورحضرت نورالدین صاحب کشف وکرامات تھے،ریاضت مجاہدہ اورتزکیہ نفس میں بےنظیرتھے۔
وفات:
آپ کوشغل میت سےکافی دلچسپی تھی،اسی شغل میں کئی کئی مہینےگزرجاتےتھے،آپ اپنےحجرے سے چھ چھ مہینےباہرتشریف نہیں لاتےتھے،ایک مرتبہ آپ کےصاحب زادےحضرت شاہ عماد الدین آپ کےحجرے کی طرف سےگزرے،انہوں دروازےمیں جھانک کردیکھاکہ آپ بے حس وحرکت لیٹے ہیں،دروازہ اتاراگیا،قریب جاکرجب آپ کودیکھاتومردہ پایا،نبض غائب تھی۔
غسل دیتےوقت آپ نےحرکت کی اورغسال سےفرمایاکہ"ہمارےمرنےکی خبرتمام شہرمیں پھیل گئی ہے"۔
غسال نےجواب دیاکہ جی ایساہی ہے۔
یہ سن کرآپ نےفرمایا"اچھاہم جاتے ہیں"۔
یہ کہااورجان شیریں جان آفریں کےسپردفرمائی۔۱؎اس طرح آپ کی وفات۱۹جمادی الثانی ۹۲۱ھ کوواقع ہوئی۔۲؎
خلفاء:
آپ کامزارمبارک کتھیل میں مرجع خاص وعام ہے۔
آپ کےمشہورخلفاء حسب ذیل ہیں۔
ملامحمدمدرس،شاہ سکندر،شاہ موسیٰ،ابوالمکارم،شیخ جلال الدین،کہکیہ ملتان،شاہ یوسف غوث بھکری، شیخ عبدالرحمٰن سرہندی،محمدخاں تاشقندی،ہاشم نجوتی،خواجہ امان اللہ حسینی شیخ قادری،خواجہ فتح علی خاں،خواجہ عین الدین گلانوری،خواجہ اسحاق،باواپوری شیخ عبدالاحد۔
سیرت پاک:
آپ کوحضرت غوث الاعظیم میراں محی الدین سیدعبدالقادرجیلانی رحمتہ اللہ علیہ
حضرت شاہ کامل کتھیلی مقتدائےراہ دین ہیں۔
خاندانی حالات:
آپ بغدادکےایک معززخاندان سےتعلق رکھتے ہیں۔
والد:
آپ کےوالدماجدکانام سیدمحمدعمرہے،وہ حافظ بھی تھےاورحاجی بھی تھے،وہ کامیاب طبیب ہونے کےعلاوہ ایک عالم بھی تھے۔
ولادت:
آپ نے۷شوال ۸۳۵ھ کواس عالم کوزینت بخشی۔
نام:
آپ کانام کمال ہے۔
القاب:
آپ کےالقاب"سلب احوال"اور"لال ریال"ہیں۔
پیشین گوئی:
حضرت فضیل قادری آپ کےیہاں تشریف لائے،آپ کو دیکھ کربہت خوش ہوئےاورآپ کے والد سےآپ کےمتعلق فرمایاکہ۔
ہادیٔ کامل ولیٔ عادل تمہیں ودیعت ہواہے،اس کی تربیت صحیح طورپرکیجئےکیونکہ یہ بچہ اولیاءکے زمرے میں مراتب عالیہ پرفائزہوگا،اس کی پروازسدرۃ المنتہیٰ تک ہوگی،اس کاعلم وسیع ہوگااور
عمردرازہوگی۔
ابتدائی زندگی:
بچپن ہی سےآپ میں ترک وتجریدکےآثارنمایاں تھےاوربچوں کی طرح کھیل کود میں دلچسپی نہیں لیتے تھے۔جنگلوں میں گھومناپھرناآپ کامحبوب مشغلہ تھا۔کھاناپینابھی برائےنام تھا۔اگرمل جاتاتو کھالیتے،ورنہ نہیں۔بچپن ہی سےآپ حالت جذب میں رہتےتھے۔
ایک واقعہ:
ایک روزجب کہ آپ حسب معمول گھرسےغائب تھے،آپ کے والدماجدآپ کی تلاش کےلئے نکلے۔ایک جنگل میں پہنچ کردیکھاکہ آپ ایک پیڑکےنیچےمراقبہ میں بیٹھےہیں،آپ کواسی حالت میں روحانی قوت کےذریعےمعلوم ہواکہ آپ کےوالدماجدوہاں تشریف لائے ہیں،آپ وہاں سے اٹھ کھڑےہوئے،آپ کےوالدماجدآپ کے پیچھےہولئے،آپ تھوڑی دورچل کرغائب ہوگئے۔
آپ کے والد نےگھرآکریہ واقعہ بیان کیا۔
بیعت وخلافت:
آپ کےوالدنےآپ کی یہ حالت دیکھ کربخوبی اندازہ لگالیاکہ آپ کی تعلیم وتربیت ان کےبس کی نہیں۔انہوں نےآپ کوفضیل قادری کےسپردفرمایا،آپ کی تعلیم وتربیت فضیل قادری کےزیر نگرانی ہوئی آپ بہت جلدعلوم ظاہری کی تکمیل وتحصیل سے فارغ ہوئے۔
تعلیم وتربیت:
آپ نےفضیل قادری کےدست حق پرست پربیعت کی اورانہیں سےخرقہ خلافت پایا،آپ نے سلوک کےتمام مدارج طے کئے،ریاضت،عبادت اورمجاہدہ میں کوئی کسراٹھانہ رکھی۔
پیرومرشدکی ہدایت:
آپ کےپیرومرشدنےآپ کےروحانی کمالات سےخوش ہوکرآپ کو ہندوستان کی ولایت عطا فرمائی،کہ ہندوستان جاکرتادم آخررشدوہدایت میں مشغول رہیں۔
سیروسیاحت:
بغدادسےروانہ ہوکرآپ نےعراق،ایران،مشہد،نجف اشرف تبریز،اصفہان کی سیروسیاحت فرمائی،بہت سےکامل درویشوں سےملےاوران کےفیض باطنی سےمستفیدہوئے۔
ہندوستان میں آمد:
سیروسیاحت فرماتےہوئےآپ ہندوستان پہنچے،ٹھٹھہ میں پہنچ کرایک سال قیام فرمایا،وہاں ملاسیدمحمد مدرس کوبیعت کیااورخرقہ خلافت سےسرفرازفرمایا۔
ٹھٹھہ سےآپ ملتان تشریف لےگئے،وہاں حمیدخاں نےآپ کاشانداراستقبال کیا۔ملتان سےآپ لدھیانہ میں رونق افروزہوئے۔لدھیانہ سےآپ(پائل)سرہندکےقریب)تشریف لےگئے۔
کتھیلی میں قیام:
پائل سےآپ کتھیلی تشریف لےگئےاورکتھیل کواپنی رشدوہدایت کامرکزبنایا۔کتھیل میں مفتیوں کااقتدارتھا،ان کی پانسوپالکیاں نکلاکرتی تھیں۔مفتی طرح طرح سےآپ کی مخالفت پر آمادہ ہوگئے،بہت سےلوگ مفتیوں کےبہکانےسےآپ کےمخالف ہوگئے،وہ طرح طرح سےآپ کو اذیت پہنچانےلگے۔
مفتی اپنی فتنہ پردازیوں سےبازنہ آئے،ایک دن آپ کوغصہ ہی آگیااورآپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے۔
"مفتیان کی جڑاللہ شہ کمال نےپٹی"
اس کےبعدسےمفتیوں کااقتدارگرناشروع ہوا،یہاں تک رفتہ رفتہ وہ سب نیست ونابود ہوگئے۔
آپ کتھیل میں بلاروک ٹوک رشدوہدایت فرماتے،لوگ آپ کی خدمت میں حاضرہوتے،آپ کا حلقہ ارادت روزبروزبڑھتاگیا۔
شادی اوراولاد:
آپ کےتینوں صاحب زادوں حضرت شاہ عمادالدین،حضرت شاہ موسیٰ،ابوالمکارم اورحضرت نورالدین صاحب کشف وکرامات تھے،ریاضت مجاہدہ اورتزکیہ نفس میں بےنظیرتھے۔
وفات:
آپ کوشغل میت سےکافی دلچسپی تھی،اسی شغل میں کئی کئی مہینےگزرجاتےتھے،آپ اپنےحجرے سے چھ چھ مہینےباہرتشریف نہیں لاتےتھے،ایک مرتبہ آپ کےصاحب زادےحضرت شاہ عماد الدین آپ کےحجرے کی طرف سےگزرے،انہوں دروازےمیں جھانک کردیکھاکہ آپ بے حس وحرکت لیٹے ہیں،دروازہ اتاراگیا،قریب جاکرجب آپ کودیکھاتومردہ پایا،نبض غائب تھی۔
غسل دیتےوقت آپ نےحرکت کی اورغسال سےفرمایاکہ"ہمارےمرنےکی خبرتمام شہرمیں پھیل گئی ہے"۔
غسال نےجواب دیاکہ جی ایساہی ہے۔
یہ سن کرآپ نےفرمایا"اچھاہم جاتے ہیں"۔
یہ کہااورجان شیریں جان آفریں کےسپردفرمائی۔۱؎اس طرح آپ کی وفات۱۹جمادی الثانی ۹۲۱ھ کوواقع ہوئی۔۲؎
خلفاء:
آپ کامزارمبارک کتھیل میں مرجع خاص وعام ہے۔
آپ کےمشہورخلفاء حسب ذیل ہیں۔
ملامحمدمدرس،شاہ سکندر،شاہ موسیٰ،ابوالمکارم،شیخ جلال الدین،کہکیہ ملتان،شاہ یوسف غوث بھکری، شیخ عبدالرحمٰن سرہندی،محمدخاں تاشقندی،ہاشم نجوتی،خواجہ امان اللہ حسینی شیخ قادری،خواجہ فتح علی خاں،خواجہ عین الدین گلانوری،خواجہ اسحاق،باواپوری شیخ عبدالاحد۔
سیرت پاک:
آپ کوحضرت غوث الاعظیم میراں محی الدین سیدعبدالقادرجیلانی رحمتہ اللہ علیہ
❤1
کی روح پرفتوح سے براہ راست اویسی طریقے سےفیض حاصل تھا۔کئی بزرگ ہستیوں نےآپ سے جلاوبقاءپائی، جس میں حضرت عبدالاحد،حضرت شاہ ہاشم بنوتی،حضرت شیخ طائربندگی اورباواستیل پوری قابل ذکر ہیں۔
آپ کی ذات ستودہ صفات کےذریعہ ےسےسلسلہ قادریہ کو کافی فروغ وعرف حاصل ہوا،آپ کی شخصیت،عظمت و بزرگی کااندازحضرت مجددالف ثانی کےان الفاظ سےبخوبی ہوتاہے۔۳؎
"ہم کوجب خاندان قادریہ کےمشائخ کاکشف ہوتاہےتوبعدحضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے شاہ صاحب جیساکوئی بزرگ نظرنہیں آتا۔
آپ صاحب کرامت اورصاحب تصرف بزرگوں میں سے تھے۔"جن کی نظیر اولیائے متقدمین میں کم نظرآتی ہے"۔
آپ صاحب کرامت اورصاحب تصرف بزرگوں میں سےتھے۔"جن کی نظیراولیائےمتقدمین میں کم نظرآتی ہے"۔
آپ کی قدرومنزلت سےکوئی انکارکی جراءت نہیں کرسکتا،آپ کتھیلی کےصاحب ولایت تھے، آپ کاشمارکاملین اولیائےکرام میں ہوتاہے،حضرت مجددالف ثانی فرماتےہیں۔۴؎
"مجھےنسبت فردینہ جس سے عروج آخرمخصوص ہے،اپنےوالد ماجد شیخ عبدالقادر بن زین العابدین سے حاصل ہوئی اورانہیں ایک بزرگ حضرت شاہ کمال قادری قدس سرہ سےجن کوجذبہ قوی
حاصل تھااورخوارق عادات میں شہرہ آفاق تھے،ہاتھ آئی"۔
آپ کوجلال بہت تھا،کوئی صاحب ولایت کتھیل کےقریب بغیرآپ کی اجازت کےنہیں آسکتا تھا، اگرکوئی ہمت کرتاتوآپ اس کی ساری صلاحیتیں سلب کرلیتےتھے۔آپ نےاپنےبڑےصاحب زادےشاہ عمادالدین کی صلاحیتیں ان سےکرامت سرزدہونےپرسلب کرلیں۔آپ کےچھوٹے صاحب زادےنورالدین سے جب کرامات سرزدہوئی توآپ نےان کےسینےپراپناہاتھ پھیرا،ہاتھ پھیرناتھاکہ ان کاانتقال ہوگیا۔
آپ اتباع سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت پابندتھے،کوئی کام شرع شریف کےخلافت نہیں کرتے تھے۔آپ تمام روحانی اوراخلاقی خوبیوں سےآراستہ تھے۔ریاضت اورمجاہدہ میں فقیدالمثال اور عبادت اورفقرمیں بےنظیرتھے۔فقروغناکادامن کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑتےتھے۔آپ سرخ رنگ کالباس زیب تن فرماتےتھے،کبھی کبھی آپ فوجی طرزکالباس پہنتےتھے۔
ارشادات:
آپ فرماتےہیں۔
"سالک مثل میت ہےاوریہ غسال کی مرضی پر منحصرہےکہ وہ ٹھنڈے پانی سے غسل دےیاگرم سے،میت کوکوئی حق نہیں کہ وہ غسال کےسامنےلب کشائی کرے"۔
کشف وکرامات:
ایک ہندوفقیراپنی آنتوں کونکال کرکتھیل کےتالاب کےکنارےصاف کرایاکرتاتھا،ایک روزآپ کا ادھرسےگزرہوا،آپ یہ دیکھ کرمسکرائے اورواپس تشریف لےآئے۔آپ کے آنےکےبعد جب باواسیتل پوری نےاپنی آنتوں کواندررکھناچاہاتووہ ٹھیک نہیں بیٹھیں،وہ پریشان ہوئے،آپ کے پاس آکراپنی پریشانی کی وجہ ظاہرکی۔۵؎
آپ نےان کوتوجہ دی،ان کاسینہ عشق الٰہی کاگنجینہ ہوگیا۔ظلمت دورہوئی،حجابات اٹھ گئےوہ آپ
کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے،آپ نےان کوکلاہ دےکرسرفرازفرمایا۔
ایک روزباواسیتل پوری آپ کےیہاں گئے،آپ کےچھوٹےصاحبزادےکوپژمردہ،ناتواں اور کمزوردیکھ کران سےوجہ پوچھی،بوجہ کم عمری وہ وجہ نہ چھپاسکے۔انہوں نے صاف صاف بتادیاکہ کئی دن کھاناکھائےہوگئےہیں۔باواسیتل پوری یہ سن کربےچین ہوگئے،فوراًواپس آگئےاور ایک پارس پتھرلےکرواپس آئے،پارس پتھرپیش کرتےہوئےانہوں نےعرض کیاکہ اس سےاگرلوہے کو مس کیاجائےلوہاسونابن جاتاہے۔
کچھ دنوں کے بعد جو باواسیتل پوری پھر درِ دولت پر حاضر ہوئے تو وہی حالت دیکھ کر حیران ہوئے کہ سنگ پارس کے ہوتے ہوئے یہ افلاس یہ غربت اوریہ ناداری اتنے میں آپ تشریف لائے اور باوا سیتل پوری سےفرمایا کہ آؤ باہر چلیں، دونوں کچھ دور کے ایک مقام پر پہنچ کر آپ نے استنجا کیا۔ استنجا کرکے ڈھیلا زمین پر زور سے دےمارا، جہاں ڈھیلا گراوہ زمین سونے کی ہو گئی۔
آپ نے باواسیتل پوری سے مخاطب ہوکر فرمایاکہ جتنا چاہو بلا تکلف اٹھالو، پھر فاقہ کشی کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایاکہ فاقہ کشی کی اصل وجہ یہ ہے کہ سنت رسول ادا کر رہا ہوں ۔
بعد ازاں باواسیتل پوری کاپیش کردہ سنگ پارس دریامیں ڈلوا دیا ۔
حواشی:
۱؎ گلزار الخوارق
۲؎ جواہر مجددیہ
۳؎ جواہر مجددیہ
۴؎ مبدآمعاد (اردو ترجمہ) ص۳،۲
۵؎ گلزار الخوارق
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-kamal-kaithalwi
آپ کی ذات ستودہ صفات کےذریعہ ےسےسلسلہ قادریہ کو کافی فروغ وعرف حاصل ہوا،آپ کی شخصیت،عظمت و بزرگی کااندازحضرت مجددالف ثانی کےان الفاظ سےبخوبی ہوتاہے۔۳؎
"ہم کوجب خاندان قادریہ کےمشائخ کاکشف ہوتاہےتوبعدحضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے شاہ صاحب جیساکوئی بزرگ نظرنہیں آتا۔
آپ صاحب کرامت اورصاحب تصرف بزرگوں میں سے تھے۔"جن کی نظیر اولیائے متقدمین میں کم نظرآتی ہے"۔
آپ صاحب کرامت اورصاحب تصرف بزرگوں میں سےتھے۔"جن کی نظیراولیائےمتقدمین میں کم نظرآتی ہے"۔
آپ کی قدرومنزلت سےکوئی انکارکی جراءت نہیں کرسکتا،آپ کتھیلی کےصاحب ولایت تھے، آپ کاشمارکاملین اولیائےکرام میں ہوتاہے،حضرت مجددالف ثانی فرماتےہیں۔۴؎
"مجھےنسبت فردینہ جس سے عروج آخرمخصوص ہے،اپنےوالد ماجد شیخ عبدالقادر بن زین العابدین سے حاصل ہوئی اورانہیں ایک بزرگ حضرت شاہ کمال قادری قدس سرہ سےجن کوجذبہ قوی
حاصل تھااورخوارق عادات میں شہرہ آفاق تھے،ہاتھ آئی"۔
آپ کوجلال بہت تھا،کوئی صاحب ولایت کتھیل کےقریب بغیرآپ کی اجازت کےنہیں آسکتا تھا، اگرکوئی ہمت کرتاتوآپ اس کی ساری صلاحیتیں سلب کرلیتےتھے۔آپ نےاپنےبڑےصاحب زادےشاہ عمادالدین کی صلاحیتیں ان سےکرامت سرزدہونےپرسلب کرلیں۔آپ کےچھوٹے صاحب زادےنورالدین سے جب کرامات سرزدہوئی توآپ نےان کےسینےپراپناہاتھ پھیرا،ہاتھ پھیرناتھاکہ ان کاانتقال ہوگیا۔
آپ اتباع سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت پابندتھے،کوئی کام شرع شریف کےخلافت نہیں کرتے تھے۔آپ تمام روحانی اوراخلاقی خوبیوں سےآراستہ تھے۔ریاضت اورمجاہدہ میں فقیدالمثال اور عبادت اورفقرمیں بےنظیرتھے۔فقروغناکادامن کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑتےتھے۔آپ سرخ رنگ کالباس زیب تن فرماتےتھے،کبھی کبھی آپ فوجی طرزکالباس پہنتےتھے۔
ارشادات:
آپ فرماتےہیں۔
"سالک مثل میت ہےاوریہ غسال کی مرضی پر منحصرہےکہ وہ ٹھنڈے پانی سے غسل دےیاگرم سے،میت کوکوئی حق نہیں کہ وہ غسال کےسامنےلب کشائی کرے"۔
کشف وکرامات:
ایک ہندوفقیراپنی آنتوں کونکال کرکتھیل کےتالاب کےکنارےصاف کرایاکرتاتھا،ایک روزآپ کا ادھرسےگزرہوا،آپ یہ دیکھ کرمسکرائے اورواپس تشریف لےآئے۔آپ کے آنےکےبعد جب باواسیتل پوری نےاپنی آنتوں کواندررکھناچاہاتووہ ٹھیک نہیں بیٹھیں،وہ پریشان ہوئے،آپ کے پاس آکراپنی پریشانی کی وجہ ظاہرکی۔۵؎
آپ نےان کوتوجہ دی،ان کاسینہ عشق الٰہی کاگنجینہ ہوگیا۔ظلمت دورہوئی،حجابات اٹھ گئےوہ آپ
کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے،آپ نےان کوکلاہ دےکرسرفرازفرمایا۔
ایک روزباواسیتل پوری آپ کےیہاں گئے،آپ کےچھوٹےصاحبزادےکوپژمردہ،ناتواں اور کمزوردیکھ کران سےوجہ پوچھی،بوجہ کم عمری وہ وجہ نہ چھپاسکے۔انہوں نے صاف صاف بتادیاکہ کئی دن کھاناکھائےہوگئےہیں۔باواسیتل پوری یہ سن کربےچین ہوگئے،فوراًواپس آگئےاور ایک پارس پتھرلےکرواپس آئے،پارس پتھرپیش کرتےہوئےانہوں نےعرض کیاکہ اس سےاگرلوہے کو مس کیاجائےلوہاسونابن جاتاہے۔
کچھ دنوں کے بعد جو باواسیتل پوری پھر درِ دولت پر حاضر ہوئے تو وہی حالت دیکھ کر حیران ہوئے کہ سنگ پارس کے ہوتے ہوئے یہ افلاس یہ غربت اوریہ ناداری اتنے میں آپ تشریف لائے اور باوا سیتل پوری سےفرمایا کہ آؤ باہر چلیں، دونوں کچھ دور کے ایک مقام پر پہنچ کر آپ نے استنجا کیا۔ استنجا کرکے ڈھیلا زمین پر زور سے دےمارا، جہاں ڈھیلا گراوہ زمین سونے کی ہو گئی۔
آپ نے باواسیتل پوری سے مخاطب ہوکر فرمایاکہ جتنا چاہو بلا تکلف اٹھالو، پھر فاقہ کشی کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایاکہ فاقہ کشی کی اصل وجہ یہ ہے کہ سنت رسول ادا کر رہا ہوں ۔
بعد ازاں باواسیتل پوری کاپیش کردہ سنگ پارس دریامیں ڈلوا دیا ۔
حواشی:
۱؎ گلزار الخوارق
۲؎ جواہر مجددیہ
۳؎ جواہر مجددیہ
۴؎ مبدآمعاد (اردو ترجمہ) ص۳،۲
۵؎ گلزار الخوارق
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-kamal-kaithalwi
scholars.pk
Hazrat Shah Kamal Kethli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔ لقب: سراج الملت، محسن الامت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر سید محمد حسین بن پیر سید جماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبد الرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔ آپ ’’ نجیب الطرفین سید ‘‘ اور ساداتِ شیراز سے آپ کا تعلق ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند، ص:526) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو امیرِ ملت حضرت پیر حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ کے گھر ، علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں، بوقتِ صبح صادق، ساعتِ سعید میں ہوئی ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ نے آپ کے چاند سے بڑھ کر حسین چہرے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے، اور بے اختیار ہو کر گود میں اٹھا لیا اور دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی ۔ اور پھر دعائے خیر کی ۔ (ایضا:526) ۔
آپ دو تین مہینے کے تھے کہ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی تشریف لائے تو آپ کے چچا حضرت سیّد صادق شاہ آپ کو اپنی گود میں لے کر حضرت بابا صاحب کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ ’’ اس پر دَم کر دیجیے ۔ یہ اکثر روتا رہتا ہے ‘‘ ۔ حضرت بابا جی نے دم کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ یہ رونے والا بچہ نہیں ہے، یہ بڑا مرد ہوگا اور ہمیشہ خوش و خرم رہےگا ‘‘ ۔ (ایضا:526) ـ
تحصیلِ علم:
آپ کا بچپن نہایت پاکیزہ اور شگفتہ تھا، اونچی آواز سے نہیں بولتے تھے ۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے ۔ کپڑے صاف ستھرے رکھتے تھے ۔ جب آپ کی عمر مبارک سوا چار سال کی ہوئی تو آپ کو حضرت قاری حافظ شہاب الدین کی خدمت میں کلامِ مجید کے حفظ کے لیے بٹھایا گیا، اور آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد علی پور سیداں کے پرائمری اسکول سے پرائمری کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرکے قلعہ سُوبھا سنگھ سے مڈل پاس کیا، اور دینیات کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا عبد الرشید صدیقی کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا ۔ ابتدائی کتب پڑھنے کے بعد اُستاذ العلماء حضرت مولانا نور احمد نقشبندی امر تسری (محشی مکتوبات شریف، پسرور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ آپ مولانا احمد حسن کانپوری، مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، سے علوم دینیہ حاصل کیے ۔ بعد ازاں مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی ۔ (علیہم الرحمہ) سے بھی استفادہ کیا ۔ امر تسر میں مدرسہ نعمانیہ قائم کیا جس سے بے شمار لوگوں نے علمی پیاس بجھائی ۔
وصال:
آپ کی وفات 14 جنوری 1930ء کو ہوئی) کے پاس امرتسر جاکر اکتسابِ علم کرتے رہے ۔ امرتسر میں تحصیل علم کے بعد آپ نے دار العلوم انجمن نعمانیہ لاہور اور پھر مدرسہ امینیہ دہلی میں داخلہ لیا ۔ درسِ نظامی کی تمام اعلیٰ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، فلسفہ وغیرہ کی تکمیل وہیں سے کی ۔ قیامِ دہلی کے دوران ہی مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے کر طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ آپ حکیم صاحب موصوف کے لائق ترین شاگرد وں میں شمار ہوتے تھے ۔ (ایضا: 527) ـ
بیعت و خلافت:
شروع میں آپ نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی کے دستِ اقدس پر سعادتِ بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے، اُن کی رحلت کے بعد والدِ گرامی حضرت امیر ملّت قدس سرہ سے بیعت ہو کر 11 مئی 1914ء کو بر موقع سالانہ جلسہ علی پور سیداں خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیات ظاہری ہی میں آپ کے علم و عرفان کی دھوم مچ گئی تھی ۔ ہزاروں لوگ آپ سے بیعت ہوکر گمراہی سے نجات حاصل کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن ہو گئے ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کو جب فرصت نہ ہوتی تو لوگوں کو بیعت کے لیے آپ کی خدمت میں بھیج دیتے ۔ یہ شرف حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیاتِ طیّبہ میں خاندان کے کسی اور کو حاصل نہیں ہوا ۔ (ایضا:528) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔ لقب: سراج الملت، محسن الامت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر سید محمد حسین بن پیر سید جماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبد الرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔ آپ ’’ نجیب الطرفین سید ‘‘ اور ساداتِ شیراز سے آپ کا تعلق ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند، ص:526) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو امیرِ ملت حضرت پیر حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ کے گھر ، علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں، بوقتِ صبح صادق، ساعتِ سعید میں ہوئی ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ نے آپ کے چاند سے بڑھ کر حسین چہرے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے، اور بے اختیار ہو کر گود میں اٹھا لیا اور دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی ۔ اور پھر دعائے خیر کی ۔ (ایضا:526) ۔
آپ دو تین مہینے کے تھے کہ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی تشریف لائے تو آپ کے چچا حضرت سیّد صادق شاہ آپ کو اپنی گود میں لے کر حضرت بابا صاحب کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ ’’ اس پر دَم کر دیجیے ۔ یہ اکثر روتا رہتا ہے ‘‘ ۔ حضرت بابا جی نے دم کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ یہ رونے والا بچہ نہیں ہے، یہ بڑا مرد ہوگا اور ہمیشہ خوش و خرم رہےگا ‘‘ ۔ (ایضا:526) ـ
تحصیلِ علم:
آپ کا بچپن نہایت پاکیزہ اور شگفتہ تھا، اونچی آواز سے نہیں بولتے تھے ۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے ۔ کپڑے صاف ستھرے رکھتے تھے ۔ جب آپ کی عمر مبارک سوا چار سال کی ہوئی تو آپ کو حضرت قاری حافظ شہاب الدین کی خدمت میں کلامِ مجید کے حفظ کے لیے بٹھایا گیا، اور آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد علی پور سیداں کے پرائمری اسکول سے پرائمری کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرکے قلعہ سُوبھا سنگھ سے مڈل پاس کیا، اور دینیات کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا عبد الرشید صدیقی کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا ۔ ابتدائی کتب پڑھنے کے بعد اُستاذ العلماء حضرت مولانا نور احمد نقشبندی امر تسری (محشی مکتوبات شریف، پسرور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ آپ مولانا احمد حسن کانپوری، مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، سے علوم دینیہ حاصل کیے ۔ بعد ازاں مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی ۔ (علیہم الرحمہ) سے بھی استفادہ کیا ۔ امر تسر میں مدرسہ نعمانیہ قائم کیا جس سے بے شمار لوگوں نے علمی پیاس بجھائی ۔
وصال:
آپ کی وفات 14 جنوری 1930ء کو ہوئی) کے پاس امرتسر جاکر اکتسابِ علم کرتے رہے ۔ امرتسر میں تحصیل علم کے بعد آپ نے دار العلوم انجمن نعمانیہ لاہور اور پھر مدرسہ امینیہ دہلی میں داخلہ لیا ۔ درسِ نظامی کی تمام اعلیٰ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، فلسفہ وغیرہ کی تکمیل وہیں سے کی ۔ قیامِ دہلی کے دوران ہی مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے کر طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ آپ حکیم صاحب موصوف کے لائق ترین شاگرد وں میں شمار ہوتے تھے ۔ (ایضا: 527) ـ
بیعت و خلافت:
شروع میں آپ نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی کے دستِ اقدس پر سعادتِ بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے، اُن کی رحلت کے بعد والدِ گرامی حضرت امیر ملّت قدس سرہ سے بیعت ہو کر 11 مئی 1914ء کو بر موقع سالانہ جلسہ علی پور سیداں خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیات ظاہری ہی میں آپ کے علم و عرفان کی دھوم مچ گئی تھی ۔ ہزاروں لوگ آپ سے بیعت ہوکر گمراہی سے نجات حاصل کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن ہو گئے ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کو جب فرصت نہ ہوتی تو لوگوں کو بیعت کے لیے آپ کی خدمت میں بھیج دیتے ۔ یہ شرف حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیاتِ طیّبہ میں خاندان کے کسی اور کو حاصل نہیں ہوا ۔ (ایضا:528) ـ
❤1
سیرت و خصائص:
سراج الملت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، محسنِ ملک و ملت، جامع شریعت و طریقت، عالم و عارف، حضرت علامہ مولانا پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔
آپ امیر ملت، ابو العرب، حضرت سید پیر جماعت علی محدث علی پوری کے جانشینِ برحق، اور علوم و معارف کے وارثِ اکمل اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ نے جوانی میں ہی خدمتِ اسلام میں متحرک ہو گئے تھے ۔ پوری زندگی والدِ گرامی کی تعلیمات اور ان کے مشن کی ترویج و اشاعت میں گزار دی ۔ بیس سال کی عمر میں تمام علوم نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل مکمل ہو گئی، اور فراغت کے بعد ہی خدمتِ دین میں مصروف ہو گئے ۔ حضرت امیر ملت نے علی پور شریف میں ’’ مدرسہ نقشبندیہ ‘‘ قائم کیا، اور آپ کو اس مہتمم مقرر کیا گیا ۔ آپ مدرسہ کے انتظام و انتصرام کے علاوہ طلباء کو علوم و فنون کی کتابیں بھی پڑھاتے تھے ۔ عربی و فارسی پر آپ کو مہارتِ تامہ اور شہرتِ عامہ حاصل تھی۔ تحریر و تقریر میں اہلِ زبان کی طرح یدِ طُولیٰ حاصل تھا ۔ تمام عمر کبھی بول چال میں رکاوٹ نہ آئی۔ آپ کی فصاحت و بلاغت پر بڑے بڑے علماء و فضلاء کو حیران ہو جاتے تھے، اور وہ بے ساختہ داد دینے پر مجبور ہوتے تھے ۔
آپ عالم، فاضل، پیر، ادیب اور حکیم ہونے کے علاوہ ایک بہت بڑے مناظر بھی تھے ۔ آپ کو اکثر تحریری مناظروں کے مواقع ملے ۔ آپ نے مخالفین کی تحریروں میں ہمیشہ غلطیاں نکالیں، جس کی وہ کبھی توجیہ و تاویل نہ کر سکے، مگر آپ کی تحریر میں اُن کو نکتہ چینی اور خوردہ گیری کی جراْت نہ ہوئی ۔ آپ نے بار ہا چیلنج بھی کیا مگر معاندین کو چُپ سادھ لینے ہی میں عافیت نظر آئی ۔ ہر محاظ پر مسلکِ حق کا ہر لحاظ سے دفاع کیا ۔ جامعہ ازہر کے ایک استاد علی پور میں آئے، انہوں نے مسلکِ احناف پر اعتراض کیا ۔ تین دن تک بحث و مباحثہ جاری رہا ۔ بالآخر وہ مصری عالم حنفی مسلک کی صحت کا قائل ہو گیا ۔ اسی طرح آپ کے فصیح و بلیغ عربی تکلم پر داد دیے بغیر نہ رہ سکا ۔ (ایضا:529)
آپ کو کتابوں کی خریداری کا بہت شوق تھا ۔ جب حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے کے لیے جاتے تو نایاب کتب خرید کر لاتے ۔ آپ ہزاروں روپے صَرف کرکے عربی کتب خرید کر لائے ۔ آپ کے اس ذوق و شوق کی حضرت امیر ملّت قدس سرّہ بڑی قدر فرمایا کرتے تھے ۔ کئی بار تحسین و آفرین کے کلمات ارشاد فرمائے ۔ ایک بار فرمایا کہ: ’’ لوگ ایسے تبرکات خریدتے ہیں جو فنا ہو جاتے ہیں صاحبزادہ نے ایسی چیزیں خریدیں ہیں جن کو بقاہے ‘‘ ۔ آپ کو فتویٰ نویسی میں خاص مہارت حاصل تھی ۔ آپ مشکل سے مشکل مسائل پر قلم برداشتہ فتویٰ لکھ دیتے تھے۔ حدیث و فقہ کی کتابوں پر ایسا عبور حاصل تھا کہ آپ کے فتوے قوی اور مضبوط دلائل اور حوالہ جات سے مزیّن ہوتے تھے، علم و فرائض بہت مشکل چیز ہے مگر آپ کو اس میں بھی کامل مہارت حاصل تھی۔ میراث کے مسائل کا جواب برجستہ دیتے اور ترکہ کی تقسیم کے معاملات مدلّل طور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں فوراً حل فرما دیتے تھے ۔ آپ جتنے جلیل القدر عالم تھے، اُتنے ہی پابندئِ شریعت اور اتباع سنّت کے عامل تھے ۔ شبِ بیداری، تہجد گزاری اور آہ وزاری تو اُن کا معمول تھا۔ عشقِ رسول ﷺ تو رگ رگ میں سمایا ہوا تھا ۔ ذکرِ مصطفےٰ ﷺ اور نعت شریف سُنتے ہوئے جُھوم تے تھے، اور یادِ مصطفیٰ ﷺ میں آنکھیں اشک بار ہو جایا کرتیں تھیں ۔
تحریکِ پاکستان میں عظیم خدمات:
آپ نے حضرت امیرِ ملّت قدس سرّہ کی زیر قیادت تمام دینی، ملّی، مذہبی، اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصّہ لیا ۔ انجمن خدّام الصوفیہ، فتنۂ ارتداد، تحریک خلافت، ساردا ایکٹ، تحریک کشمیر، تحریک شہید گنج، تحریکِ پاکستان اور دیگر تحریکوں میں بھرپُور کردار ادا کیا ۔ فتنۂ ارتداد کے زمانہ میں عرصہ تک آگرہ میں رونق افروز رہے اور ارد گرد کے علاقوں میں تبلیغ کرکے ہندوؤں کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملایا ۔ تحریک شہید گنج میں بڑی جانفشانی سے کام کیا ۔ تحریک پاکستان کا دور آیا تو حضرت امیر ملّت قدس سرہ اپنے صاحبزادوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ میدان میں نکل آئے ۔ حضرت سراج الملت نے رات دن ایک کرکے مسلم لیگ کی تائید و حمایت میں یارانِ طریقت اور عامۃ المسلمین کو تحریک پاکستان کا ہمنوا بنایا ۔ 1946ء کے تاریخی الیکشن میں ضلع رہتک (حال مشرقی پنجاب، انڈیا) میں مسلم لیگی امید واروں کی حمایت میں دل کھول کر کام کیا پھر فیروز پور میں نواب افتخار حسین ممدوٹ کے حلقہ میں اس خوبی سے کام کیا کہ مخالفین بھی عش عش کر اُٹھے۔ بعد ازاں قصور میں بھی میاں افتخار الدین کے حلقہ میں بھرپور کام کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ آپ کے تینوں اُمیدوار غالب اکثریت سے کامیاب و کامران ہوئے ۔
سراج الملت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، محسنِ ملک و ملت، جامع شریعت و طریقت، عالم و عارف، حضرت علامہ مولانا پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔
آپ امیر ملت، ابو العرب، حضرت سید پیر جماعت علی محدث علی پوری کے جانشینِ برحق، اور علوم و معارف کے وارثِ اکمل اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ نے جوانی میں ہی خدمتِ اسلام میں متحرک ہو گئے تھے ۔ پوری زندگی والدِ گرامی کی تعلیمات اور ان کے مشن کی ترویج و اشاعت میں گزار دی ۔ بیس سال کی عمر میں تمام علوم نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل مکمل ہو گئی، اور فراغت کے بعد ہی خدمتِ دین میں مصروف ہو گئے ۔ حضرت امیر ملت نے علی پور شریف میں ’’ مدرسہ نقشبندیہ ‘‘ قائم کیا، اور آپ کو اس مہتمم مقرر کیا گیا ۔ آپ مدرسہ کے انتظام و انتصرام کے علاوہ طلباء کو علوم و فنون کی کتابیں بھی پڑھاتے تھے ۔ عربی و فارسی پر آپ کو مہارتِ تامہ اور شہرتِ عامہ حاصل تھی۔ تحریر و تقریر میں اہلِ زبان کی طرح یدِ طُولیٰ حاصل تھا ۔ تمام عمر کبھی بول چال میں رکاوٹ نہ آئی۔ آپ کی فصاحت و بلاغت پر بڑے بڑے علماء و فضلاء کو حیران ہو جاتے تھے، اور وہ بے ساختہ داد دینے پر مجبور ہوتے تھے ۔
آپ عالم، فاضل، پیر، ادیب اور حکیم ہونے کے علاوہ ایک بہت بڑے مناظر بھی تھے ۔ آپ کو اکثر تحریری مناظروں کے مواقع ملے ۔ آپ نے مخالفین کی تحریروں میں ہمیشہ غلطیاں نکالیں، جس کی وہ کبھی توجیہ و تاویل نہ کر سکے، مگر آپ کی تحریر میں اُن کو نکتہ چینی اور خوردہ گیری کی جراْت نہ ہوئی ۔ آپ نے بار ہا چیلنج بھی کیا مگر معاندین کو چُپ سادھ لینے ہی میں عافیت نظر آئی ۔ ہر محاظ پر مسلکِ حق کا ہر لحاظ سے دفاع کیا ۔ جامعہ ازہر کے ایک استاد علی پور میں آئے، انہوں نے مسلکِ احناف پر اعتراض کیا ۔ تین دن تک بحث و مباحثہ جاری رہا ۔ بالآخر وہ مصری عالم حنفی مسلک کی صحت کا قائل ہو گیا ۔ اسی طرح آپ کے فصیح و بلیغ عربی تکلم پر داد دیے بغیر نہ رہ سکا ۔ (ایضا:529)
آپ کو کتابوں کی خریداری کا بہت شوق تھا ۔ جب حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے کے لیے جاتے تو نایاب کتب خرید کر لاتے ۔ آپ ہزاروں روپے صَرف کرکے عربی کتب خرید کر لائے ۔ آپ کے اس ذوق و شوق کی حضرت امیر ملّت قدس سرّہ بڑی قدر فرمایا کرتے تھے ۔ کئی بار تحسین و آفرین کے کلمات ارشاد فرمائے ۔ ایک بار فرمایا کہ: ’’ لوگ ایسے تبرکات خریدتے ہیں جو فنا ہو جاتے ہیں صاحبزادہ نے ایسی چیزیں خریدیں ہیں جن کو بقاہے ‘‘ ۔ آپ کو فتویٰ نویسی میں خاص مہارت حاصل تھی ۔ آپ مشکل سے مشکل مسائل پر قلم برداشتہ فتویٰ لکھ دیتے تھے۔ حدیث و فقہ کی کتابوں پر ایسا عبور حاصل تھا کہ آپ کے فتوے قوی اور مضبوط دلائل اور حوالہ جات سے مزیّن ہوتے تھے، علم و فرائض بہت مشکل چیز ہے مگر آپ کو اس میں بھی کامل مہارت حاصل تھی۔ میراث کے مسائل کا جواب برجستہ دیتے اور ترکہ کی تقسیم کے معاملات مدلّل طور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں فوراً حل فرما دیتے تھے ۔ آپ جتنے جلیل القدر عالم تھے، اُتنے ہی پابندئِ شریعت اور اتباع سنّت کے عامل تھے ۔ شبِ بیداری، تہجد گزاری اور آہ وزاری تو اُن کا معمول تھا۔ عشقِ رسول ﷺ تو رگ رگ میں سمایا ہوا تھا ۔ ذکرِ مصطفےٰ ﷺ اور نعت شریف سُنتے ہوئے جُھوم تے تھے، اور یادِ مصطفیٰ ﷺ میں آنکھیں اشک بار ہو جایا کرتیں تھیں ۔
تحریکِ پاکستان میں عظیم خدمات:
آپ نے حضرت امیرِ ملّت قدس سرّہ کی زیر قیادت تمام دینی، ملّی، مذہبی، اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصّہ لیا ۔ انجمن خدّام الصوفیہ، فتنۂ ارتداد، تحریک خلافت، ساردا ایکٹ، تحریک کشمیر، تحریک شہید گنج، تحریکِ پاکستان اور دیگر تحریکوں میں بھرپُور کردار ادا کیا ۔ فتنۂ ارتداد کے زمانہ میں عرصہ تک آگرہ میں رونق افروز رہے اور ارد گرد کے علاقوں میں تبلیغ کرکے ہندوؤں کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملایا ۔ تحریک شہید گنج میں بڑی جانفشانی سے کام کیا ۔ تحریک پاکستان کا دور آیا تو حضرت امیر ملّت قدس سرہ اپنے صاحبزادوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ میدان میں نکل آئے ۔ حضرت سراج الملت نے رات دن ایک کرکے مسلم لیگ کی تائید و حمایت میں یارانِ طریقت اور عامۃ المسلمین کو تحریک پاکستان کا ہمنوا بنایا ۔ 1946ء کے تاریخی الیکشن میں ضلع رہتک (حال مشرقی پنجاب، انڈیا) میں مسلم لیگی امید واروں کی حمایت میں دل کھول کر کام کیا پھر فیروز پور میں نواب افتخار حسین ممدوٹ کے حلقہ میں اس خوبی سے کام کیا کہ مخالفین بھی عش عش کر اُٹھے۔ بعد ازاں قصور میں بھی میاں افتخار الدین کے حلقہ میں بھرپور کام کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ آپ کے تینوں اُمیدوار غالب اکثریت سے کامیاب و کامران ہوئے ۔
❤2👍1
قائدِ اعظم محمد علی جناح کو تمغہ پہنایا: جب 24 نومبر 1945ء کو حضرت پیر امین الحسنات المعروف پیر صاحب مانکی شریف نے مانکی شریف میں حضرت قائدِ اعظم کی ایک شاندار دعوت کی تو ایک عدیم المثال جلسۂ عام کا انعقاد بھی کیا ۔ حضرت امیر ملت قدس سرہ کی خدمت میں جلسہ کی صدارت کے لیے درخواست کی گئی مگر حضرت ناسازیِ طبع کے باعث تشریف نہ لے جا سکے اور اپنی جگہ حضرت سراج الملت کو قائدِ اعظم کے لیے سونے کا ایک تمغہ، تین سو روپے کی ایک تھیلی اور کئی دوسرے تحائف دے کر بھیجا ۔
پیر صاحب مانکی شریف نے حضرت سراج الملّت کی بڑی عزّت افزائی کی اور جلسہ کی صدارت آپ کے سپرد کی ۔ جب قائدِ اعظم جلسہ گاہ میں آئے تو حضرت سراج الملّت آگے بڑھے اور سونے کا تمغہ (جس پر کلمہِ طیّبہ کندہ تھا) قائدِ اعظم کی طرف بڑھاتے ہُوئے کہا کہ: ’’ میرے والد ماجد (حضرت امیر ملّت) نے یہ تحفہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے ‘‘ ۔ یہ سُن کر قائدِ اعظم بہت خوش ہُوئے، کُرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سینہ تان کر کہا: ’’ پھر تو میں کامیاب ہُوں، آپ تمغہ میرے سینے پر آویزاں کیجیے ‘‘ ۔(ایضا:532) ـ
آپ بھی حضرت امیر ملت کی طرح بڑے سخی اور جوّاد تھے ۔ یتیموں اور بیوہ عورتوں کی خاص طور پر خبر گیری فرماتے تھے ۔ مدرسہ کے طلباء کی ہر قسم کی ضروریات کا اہتمام فرماتے ۔ ان تمام کاموں پر جو روپیہ صَرف ہوتا، اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہ ہوتا ۔
ایک دفعہ آپ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی معیّت میں حج بیت اللہ و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کے لیے گئے ہُوئے تھے ۔ مدینہ منوّرہ میں ایک دن حضرت امیر ملّت ﷺ نے قطبِ مدینہ حضرت مولانا محمد ضیاء الدین احمد مدنی سے دریافت کیا کہ ’’ آپ نے صاحبزادہ سے ملاقات کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’ جی ہاں! مُلاقات ہوئی مَیں اُن سے مل کر بہت خوش ہوا ہُوں ۔ وہ بڑے عالم اور فاضل ہیں۔ آپ کے صحیح جانشین ہوں گے ۔حضرت امیر ملت نے فرمایا: ’’ مولانا صاحب! بعض باتوں میں وہ مجھ سے بھی بڑھا ہوا ہے ۔ میں کسی کو کچھ دیتا ہوں تو لوگ ایک کے چار کر کے بتاتے ہیں، مگر وہ دائیں ہاتھ سے دیتا ہے تو بائیں کو خبر نہیں ہونے دیتا ‘‘ ۔ (ایضا: 532)
آپ خوارک بہت سادہ پسند فرماتے تھے، اُبلے ہوئے چاول اور سادہ گوشت بہت پسند فرماتے تھے ۔ سُنّتِ نبوی ﷺ کے مطابق لوکی خصوصی طور پر مرغوب تھا ۔ آپ کا لباس سفید ہوتا تھا، کُرتہ بہت کُھلا (اکثر و بیشتر چکن کا کپڑا استعمال فرماتے تھے) سفر میں سفید شلوار حضر میں سفید چادر، سر پر سفید پگڑی، پاؤں میں کھسّہ، ہاتھ میں عصا ۔ آپ والد گرامی کے مظہر اُتم تھے ۔ چہرہ پُر نور، جسے دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا ۔ گفتگو فقیروں جیسی، چال شہنشاہوں جیسی، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو۔ سخاوت میں اپنے وقت کے حاتم طائی تھے ۔ آخیر عمر میں بصارت میں فرق آ گیا تھا مگر صحت قابلِ رشک تھی ۔ تہجّد کی نماز کبھی قضا نہیں کی ۔
آخیر عمر میں رات کا اکثر و بیشتر حصّہ بیدار رہتے تھے ۔ عموماً نصف رات مطالعہ کتب اور حل مسائل میں صرف ہوتا تھا ۔ بعد ازاں تھوڑا سا لیٹ کر تہجّد پڑھتے تھے ۔ صبح کی نماز کے بعد طلباء کو درسِ قرآن دیتے تھے ۔ آپ تقریر و تدریس کے علاوہ میدانِ تحریر کے بھی شاہسوار تھے ۔ ماہنامہ ’’ انوار الصوفیہ ‘‘ (لاہور، سیال کوٹ، قصور) میں آپ کے گران قدر مضامین زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہوکر علماء و فضلاء سے خراجِ تحسین حاصل کرتے رہے ۔ آپ نے بہت سی کتابیں بھی لکھیں جن میں سے ’’ افضل الرُسل ‘‘ کئی بار منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوکر جامعیت اور انفرادیّت کے لحاظ سے اپنی عظمت کا لوہا منوا چکی ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1381ھ مطابق 16 اکتوبر بروز پیر بوقت ساڑھے پانچ بجے شام داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ علی پور سیداں میں حضرت امیر ملت کے پہلو میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہل سنت ۔ تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔ از مولانا محمد صادق قصوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-hussain-shah-ali-puri
پیر صاحب مانکی شریف نے حضرت سراج الملّت کی بڑی عزّت افزائی کی اور جلسہ کی صدارت آپ کے سپرد کی ۔ جب قائدِ اعظم جلسہ گاہ میں آئے تو حضرت سراج الملّت آگے بڑھے اور سونے کا تمغہ (جس پر کلمہِ طیّبہ کندہ تھا) قائدِ اعظم کی طرف بڑھاتے ہُوئے کہا کہ: ’’ میرے والد ماجد (حضرت امیر ملّت) نے یہ تحفہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے ‘‘ ۔ یہ سُن کر قائدِ اعظم بہت خوش ہُوئے، کُرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سینہ تان کر کہا: ’’ پھر تو میں کامیاب ہُوں، آپ تمغہ میرے سینے پر آویزاں کیجیے ‘‘ ۔(ایضا:532) ـ
آپ بھی حضرت امیر ملت کی طرح بڑے سخی اور جوّاد تھے ۔ یتیموں اور بیوہ عورتوں کی خاص طور پر خبر گیری فرماتے تھے ۔ مدرسہ کے طلباء کی ہر قسم کی ضروریات کا اہتمام فرماتے ۔ ان تمام کاموں پر جو روپیہ صَرف ہوتا، اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہ ہوتا ۔
ایک دفعہ آپ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی معیّت میں حج بیت اللہ و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کے لیے گئے ہُوئے تھے ۔ مدینہ منوّرہ میں ایک دن حضرت امیر ملّت ﷺ نے قطبِ مدینہ حضرت مولانا محمد ضیاء الدین احمد مدنی سے دریافت کیا کہ ’’ آپ نے صاحبزادہ سے ملاقات کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’ جی ہاں! مُلاقات ہوئی مَیں اُن سے مل کر بہت خوش ہوا ہُوں ۔ وہ بڑے عالم اور فاضل ہیں۔ آپ کے صحیح جانشین ہوں گے ۔حضرت امیر ملت نے فرمایا: ’’ مولانا صاحب! بعض باتوں میں وہ مجھ سے بھی بڑھا ہوا ہے ۔ میں کسی کو کچھ دیتا ہوں تو لوگ ایک کے چار کر کے بتاتے ہیں، مگر وہ دائیں ہاتھ سے دیتا ہے تو بائیں کو خبر نہیں ہونے دیتا ‘‘ ۔ (ایضا: 532)
آپ خوارک بہت سادہ پسند فرماتے تھے، اُبلے ہوئے چاول اور سادہ گوشت بہت پسند فرماتے تھے ۔ سُنّتِ نبوی ﷺ کے مطابق لوکی خصوصی طور پر مرغوب تھا ۔ آپ کا لباس سفید ہوتا تھا، کُرتہ بہت کُھلا (اکثر و بیشتر چکن کا کپڑا استعمال فرماتے تھے) سفر میں سفید شلوار حضر میں سفید چادر، سر پر سفید پگڑی، پاؤں میں کھسّہ، ہاتھ میں عصا ۔ آپ والد گرامی کے مظہر اُتم تھے ۔ چہرہ پُر نور، جسے دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا ۔ گفتگو فقیروں جیسی، چال شہنشاہوں جیسی، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو۔ سخاوت میں اپنے وقت کے حاتم طائی تھے ۔ آخیر عمر میں بصارت میں فرق آ گیا تھا مگر صحت قابلِ رشک تھی ۔ تہجّد کی نماز کبھی قضا نہیں کی ۔
آخیر عمر میں رات کا اکثر و بیشتر حصّہ بیدار رہتے تھے ۔ عموماً نصف رات مطالعہ کتب اور حل مسائل میں صرف ہوتا تھا ۔ بعد ازاں تھوڑا سا لیٹ کر تہجّد پڑھتے تھے ۔ صبح کی نماز کے بعد طلباء کو درسِ قرآن دیتے تھے ۔ آپ تقریر و تدریس کے علاوہ میدانِ تحریر کے بھی شاہسوار تھے ۔ ماہنامہ ’’ انوار الصوفیہ ‘‘ (لاہور، سیال کوٹ، قصور) میں آپ کے گران قدر مضامین زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہوکر علماء و فضلاء سے خراجِ تحسین حاصل کرتے رہے ۔ آپ نے بہت سی کتابیں بھی لکھیں جن میں سے ’’ افضل الرُسل ‘‘ کئی بار منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوکر جامعیت اور انفرادیّت کے لحاظ سے اپنی عظمت کا لوہا منوا چکی ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1381ھ مطابق 16 اکتوبر بروز پیر بوقت ساڑھے پانچ بجے شام داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ علی پور سیداں میں حضرت امیر ملت کے پہلو میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہل سنت ۔ تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔ از مولانا محمد صادق قصوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-hussain-shah-ali-puri
scholars.pk
Hazrat Syed Muhammad Hussain Shah Ali Puri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت ابوالحسن علاؤالدین علی بن بلبان
مرتِّبِ معجم طبرانی و صحیح ابن حبان
نام و نسب:
علی بن بلبان بن عبد اللہ فارسی:
ابو الحسن کنیت اور علاء الدین لقب تھا۔
اصول و فروع میں بڑے متجر، عدیم النظیر، فقید المثیل، فقیہ، نحوی، محدث، حسن الذاکرہ تھے ـ
اصول و فقہ کو علاء قونوی اور شمس الدین ابی العباس احمد سروجی اور صدر الامین محمد بن عبدا خلاطی سے اخذ کیا اور حدیث کو دمیاطی و محمد بن علی بن صاعد اور ابن عسا کرو غیر ہم سے سنا اور نحوابی حیان سے پرھی یہاں تک کہ اصول و مذہب میں مقدم اور نحو میں متقن ہوئے ۔
تصنیفات:
کتاب صحیح ابنِ حبان اور کتاب معجم الطبرانی کو ابواب پر مرتب کیا، جامع کبیر کی شرح تصنیف کی اور خلاطی کی تلخیص جامع کبیر کی بھی تحفۃ الحریص نام ایک بڑی شرح تصنیف کی اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت لطیفہ اور ایک کتاب جامع مسائل مناسک میں تالیف کی ۔
ولادت:
آپ ۶۷۵ھ میں پیدا ہوئے
وصال:
بتاریخ ۷ ماہِ شوال ۷۳۹ھ کو قاہرہ میں فوت ہوئے ۔ ’’ مرآت زمان ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-hasan-alauddin-ali-bin-balban
مرتِّبِ معجم طبرانی و صحیح ابن حبان
نام و نسب:
علی بن بلبان بن عبد اللہ فارسی:
ابو الحسن کنیت اور علاء الدین لقب تھا۔
اصول و فروع میں بڑے متجر، عدیم النظیر، فقید المثیل، فقیہ، نحوی، محدث، حسن الذاکرہ تھے ـ
اصول و فقہ کو علاء قونوی اور شمس الدین ابی العباس احمد سروجی اور صدر الامین محمد بن عبدا خلاطی سے اخذ کیا اور حدیث کو دمیاطی و محمد بن علی بن صاعد اور ابن عسا کرو غیر ہم سے سنا اور نحوابی حیان سے پرھی یہاں تک کہ اصول و مذہب میں مقدم اور نحو میں متقن ہوئے ۔
تصنیفات:
کتاب صحیح ابنِ حبان اور کتاب معجم الطبرانی کو ابواب پر مرتب کیا، جامع کبیر کی شرح تصنیف کی اور خلاطی کی تلخیص جامع کبیر کی بھی تحفۃ الحریص نام ایک بڑی شرح تصنیف کی اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت لطیفہ اور ایک کتاب جامع مسائل مناسک میں تالیف کی ۔
ولادت:
آپ ۶۷۵ھ میں پیدا ہوئے
وصال:
بتاریخ ۷ ماہِ شوال ۷۳۹ھ کو قاہرہ میں فوت ہوئے ۔ ’’ مرآت زمان ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-hasan-alauddin-ali-bin-balban
scholars.pk
Hazrat Abul Hasan Alauddin Ali bin balban AlFarsi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مجاہدِ جنگ آزادی، حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: مجاہدِ جنگ آزادی، امام الصرف، جامع العلوم ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی بن منشی محمد بخش بن منشی غلام محمد بن منشی لطف اللہ علیہم الرحمہ ۔
آپ کے آباؤ اجداد میں امیر حسام نامی ایک بزرگ بغداد سے ہندوستان آئے ۔ دیوہ ضلع بارہ بنکی اودھ میں مقیم ہو گئے ۔ امیر حسام کے صاحبزادے ضیاء الدین دیوہ کے قاضی مقرر ہوئے ۔ آپ کا خاندان علم و فضل اور دینی و دنیاوی وجاہت میں معروف تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1228ھ مطابق اوائل ماہ اکتوبر 1813ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں ہوئی ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے والد گرامی نے کاکوروی ضلع لکھنؤ اپنے سسرال منتقل ہوئے تو آپ بھی اپنی ننھیال میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ جس کی نسبت سے آپ کو ’’کاکوروی‘‘ کہا جانے لگا ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم دیوہ اور کاکوری میں ہوئی ۔ مزید تعلیم کے لئے آپ نے رام پور سفر کیا ۔ جہاں مولانا سید محمد رام پوری سے صرف و نحو اور مولانا نور الاسلام اور مولوی حیدر علی سے دیگر علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں ۔ پھر دہلی آکر مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی سے درس حدیث و سند حدیث حاصل کی ۔ دہلی کے بعد علی گڑھ پہنچے وہاں پر مولانا بزگ علی مارہروی (شاگر مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی) سے ریاضی پڑھی ۔فراغت کے بعد علی گڑھ میں ہی مفتی و منصف (جج) مقرر کیے گئے ۔ جامع مسجد علی گڑھ میں مدرس ہو گئے ۔ علی گڑھ کے تلامذہ میں مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا سید حسین شاہ بخاری وغیرہ ہیں ۔
سیرت و خصائص:
غریق بحرِ رحمت، امامِ عزیمت، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، مجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور عظیم داعی تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں، محبت و خلوص اور درس و افتا میں مہارتِ تامہ کے سبب آپ کی شہرت اور نیک نامی دور دور تک پھیلتی گئی ۔ آپ عوام و خواص کے مرجع بنتے گئے ۔ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کو درس و تدریس سے بے پناہ لگاؤ اور شغف تھا ۔ آپ عدالت میں جاری اجلاس کے دوران بھی اپنے طلبہ کو مقدمے سے فرصت ملتے ہی پڑھانے لگتے تھے ۔
علم بانٹنے اور پھیلانے کی جو اُمنگ اور جوش و ولولہ آپ کے اندر تھا نیز آپ کے تدریسی ذوق و شوق، طریقۂ تعلیم و تربیت، طلبہ سے محبت و مروت اور تقسیم علم کے جذبۂ خیر کا اندازہ پروفیسر ایوب قادری بدایونی کی تحریر کردہ اس روایت سے ہوتا ہے:
مولانا سید حسین شاہ بخاری فرمایا کرتے تھے کہ مفتی صاحب مجھ کو ہدایہ اجلاس میں پڑھایا کرتے تھے ۔ جیسے ہی کسی مقدمہ سے فرصت ہوئی اشارہ ہوتا ۔ میں پڑھنا شروع کر دیتا ۔ پھر کوئی سرکاری کام آ جاتا تو اس میں مصروف ہو جاتے ۔ اس دو گونہ مصروفیت کے باوجود مسائل اس طرح ذہن نشین کرا دِیئے کہ کبھی فراموش نہ ہوئے ۔ آپ طلبہ سے خاص تعلق رکھتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب کی تعلیم کے زمانہ میں ہی مفتی صاحب کا تبادلہ علی گڑھ سے بریلی ہو گیا تھا ۔ مولوی لطف اللہ صاحب بریلی ساتھ گئے ۔ وہاں جملہ کتبِ درسیہ ختم کیں ۔ صبح کی نماز کے بعد مفتی عنایت احمد صاحب تلاوت کرتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب خدمت میں حاضر رہتے ۔ دورانِ تلاوت کوئی مشکل صیغہ آتا تو مفتی صاحب خود حل کرکے بتاتے ۔ مفتی عنایت احمد صاحب نے فراغت کے بعد مولوی لطف اللہ صاحب کو اپنے ہی اجلاس کا سر رشتہ دار مقرر کر لیا ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب ص:118)
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: مجاہدِ جنگ آزادی، امام الصرف، جامع العلوم ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی بن منشی محمد بخش بن منشی غلام محمد بن منشی لطف اللہ علیہم الرحمہ ۔
آپ کے آباؤ اجداد میں امیر حسام نامی ایک بزرگ بغداد سے ہندوستان آئے ۔ دیوہ ضلع بارہ بنکی اودھ میں مقیم ہو گئے ۔ امیر حسام کے صاحبزادے ضیاء الدین دیوہ کے قاضی مقرر ہوئے ۔ آپ کا خاندان علم و فضل اور دینی و دنیاوی وجاہت میں معروف تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 9 شوال المکرم 1228ھ مطابق اوائل ماہ اکتوبر 1813ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں ہوئی ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے والد گرامی نے کاکوروی ضلع لکھنؤ اپنے سسرال منتقل ہوئے تو آپ بھی اپنی ننھیال میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ جس کی نسبت سے آپ کو ’’کاکوروی‘‘ کہا جانے لگا ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم دیوہ اور کاکوری میں ہوئی ۔ مزید تعلیم کے لئے آپ نے رام پور سفر کیا ۔ جہاں مولانا سید محمد رام پوری سے صرف و نحو اور مولانا نور الاسلام اور مولوی حیدر علی سے دیگر علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں ۔ پھر دہلی آکر مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی سے درس حدیث و سند حدیث حاصل کی ۔ دہلی کے بعد علی گڑھ پہنچے وہاں پر مولانا بزگ علی مارہروی (شاگر مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی) سے ریاضی پڑھی ۔فراغت کے بعد علی گڑھ میں ہی مفتی و منصف (جج) مقرر کیے گئے ۔ جامع مسجد علی گڑھ میں مدرس ہو گئے ۔ علی گڑھ کے تلامذہ میں مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا سید حسین شاہ بخاری وغیرہ ہیں ۔
سیرت و خصائص:
غریق بحرِ رحمت، امامِ عزیمت، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، مجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور عظیم داعی تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں، محبت و خلوص اور درس و افتا میں مہارتِ تامہ کے سبب آپ کی شہرت اور نیک نامی دور دور تک پھیلتی گئی ۔ آپ عوام و خواص کے مرجع بنتے گئے ۔ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کو درس و تدریس سے بے پناہ لگاؤ اور شغف تھا ۔ آپ عدالت میں جاری اجلاس کے دوران بھی اپنے طلبہ کو مقدمے سے فرصت ملتے ہی پڑھانے لگتے تھے ۔
علم بانٹنے اور پھیلانے کی جو اُمنگ اور جوش و ولولہ آپ کے اندر تھا نیز آپ کے تدریسی ذوق و شوق، طریقۂ تعلیم و تربیت، طلبہ سے محبت و مروت اور تقسیم علم کے جذبۂ خیر کا اندازہ پروفیسر ایوب قادری بدایونی کی تحریر کردہ اس روایت سے ہوتا ہے:
مولانا سید حسین شاہ بخاری فرمایا کرتے تھے کہ مفتی صاحب مجھ کو ہدایہ اجلاس میں پڑھایا کرتے تھے ۔ جیسے ہی کسی مقدمہ سے فرصت ہوئی اشارہ ہوتا ۔ میں پڑھنا شروع کر دیتا ۔ پھر کوئی سرکاری کام آ جاتا تو اس میں مصروف ہو جاتے ۔ اس دو گونہ مصروفیت کے باوجود مسائل اس طرح ذہن نشین کرا دِیئے کہ کبھی فراموش نہ ہوئے ۔ آپ طلبہ سے خاص تعلق رکھتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب کی تعلیم کے زمانہ میں ہی مفتی صاحب کا تبادلہ علی گڑھ سے بریلی ہو گیا تھا ۔ مولوی لطف اللہ صاحب بریلی ساتھ گئے ۔ وہاں جملہ کتبِ درسیہ ختم کیں ۔ صبح کی نماز کے بعد مفتی عنایت احمد صاحب تلاوت کرتے تھے ۔ مولوی لطف اللہ صاحب خدمت میں حاضر رہتے ۔ دورانِ تلاوت کوئی مشکل صیغہ آتا تو مفتی صاحب خود حل کرکے بتاتے ۔ مفتی عنایت احمد صاحب نے فراغت کے بعد مولوی لطف اللہ صاحب کو اپنے ہی اجلاس کا سر رشتہ دار مقرر کر لیا ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب ص:118)
❤1
جنگ آزادی میں کردار:
1857ء میں جب انگریزوں کے خلاف انقلاب کی دستک ہوئی تو اس میں مفتی عنایت احمد کاکوروی نے نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ آپ جہادِ آزادی کی تنظیم و تشکیل کے لیے شب و روز مصروف رہے ۔ بریلی ان دنوں آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور آپ تحریکِ آزادی کے قائد و رہنما تھے ۔میاں عبد الرشید کالم نگار روز نامہ نوائے وقت لاہور کے بہ قول: ’’آپ بریلی میں نواب خان بہادر خاں روہیلہ کی زیرِ قیادت جہادِ حریت کی تنظیم کے لیے سرگرمِ عمل رہے ۔
ان دنوں روہیل کھنڈ بریلی مجاہدینِ آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ کے جد امجد مولانا رضا علی خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ اس تحریک کے قائدین میں سے تھے ۔ مفتی عنایت احمد علیہ الرحمہ نے مجاہدین کی تنظیم پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ نواب خان بہادر خاں روہیلہ کے دستِ راست کی حیثیت سے مختلف معرکوں میں عملی حصہ بھی لیا ۔ ‘‘ (جنگِ آزادی نمبر ، ترجمانِ اہل سنت کراچی ، شمارہ جولائی 1975ء)
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی علمی صلاحیتوں اور لیاقتوں کی بنیاد پر اُن کو 1273ھ میں آگرہ کا صدر الصدور بنایا گیا ۔ آپ ابھی بریلی سے آگرہ جانے کی تیاریوں میں مصروف ہی تھے کہ 1857ء کی جنگ کا آغاز ہو گیا اور آپ نے آگرہ جانا ترک کر دیا اور بریلی و رام پور میں جنگِ آزادی کے لیے متحرک و فعال ہو گئے ۔ لوگوں کے اندر جذبۂ حریت کو بیدار کیا ۔
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ آپ نے بریلی میں قیام کے دوران ’’ جلسۂ تائیدِ دینِ متین ‘‘ کے نام سے ایک تبلیغی و اصلاحی انجمن کی بنیاد ڈالی تھی ۔ جس کے تحت آپ نے دینی لٹریچر کی نشر و اشاعت کی ۔ اس انجمن کو بر صغیر کے مسلمانوں کا پہلا اصلاحی ادارہ کہا جاتا ہے ۔ اس انجمن سے شائع ہونے والی کتب زیادہ تر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی تالیف کردہ ہوتی تھیں ۔ یہ کتابیں اصلاحی اور تبلیغی موضوعات پر تھیں ۔
جب ہندوستان میں پہلی جنگِ آزادی کی روح بیدار ہونا شروع ہوئی تو اس وقت انگریزوں کے خلاف علَمِ جہاد بلند کرنے اور مجاہدین کے لیے مالی امداد و اعانت پر ایک اہم فتویٰ بریلی میں جاری ہوا تو اس پر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ نے اپنے دستخط ثبت کیے اور عوام و خواص میں روحِ آزادی پھونکنے میں عملی کردار ادا کیا ۔
1857ء میں جب انگریزوں کے خلاف انقلاب کی دستک ہوئی تو اس میں مفتی عنایت احمد کاکوروی نے نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ آپ جہادِ آزادی کی تنظیم و تشکیل کے لیے شب و روز مصروف رہے ۔ بریلی ان دنوں آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور آپ تحریکِ آزادی کے قائد و رہنما تھے ۔میاں عبد الرشید کالم نگار روز نامہ نوائے وقت لاہور کے بہ قول: ’’آپ بریلی میں نواب خان بہادر خاں روہیلہ کی زیرِ قیادت جہادِ حریت کی تنظیم کے لیے سرگرمِ عمل رہے ۔
ان دنوں روہیل کھنڈ بریلی مجاہدینِ آزادی کا اہم مرکز تھا ۔ اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ کے جد امجد مولانا رضا علی خاں بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ اس تحریک کے قائدین میں سے تھے ۔ مفتی عنایت احمد علیہ الرحمہ نے مجاہدین کی تنظیم پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ نواب خان بہادر خاں روہیلہ کے دستِ راست کی حیثیت سے مختلف معرکوں میں عملی حصہ بھی لیا ۔ ‘‘ (جنگِ آزادی نمبر ، ترجمانِ اہل سنت کراچی ، شمارہ جولائی 1975ء)
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی علمی صلاحیتوں اور لیاقتوں کی بنیاد پر اُن کو 1273ھ میں آگرہ کا صدر الصدور بنایا گیا ۔ آپ ابھی بریلی سے آگرہ جانے کی تیاریوں میں مصروف ہی تھے کہ 1857ء کی جنگ کا آغاز ہو گیا اور آپ نے آگرہ جانا ترک کر دیا اور بریلی و رام پور میں جنگِ آزادی کے لیے متحرک و فعال ہو گئے ۔ لوگوں کے اندر جذبۂ حریت کو بیدار کیا ۔
مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ آپ نے بریلی میں قیام کے دوران ’’ جلسۂ تائیدِ دینِ متین ‘‘ کے نام سے ایک تبلیغی و اصلاحی انجمن کی بنیاد ڈالی تھی ۔ جس کے تحت آپ نے دینی لٹریچر کی نشر و اشاعت کی ۔ اس انجمن کو بر صغیر کے مسلمانوں کا پہلا اصلاحی ادارہ کہا جاتا ہے ۔ اس انجمن سے شائع ہونے والی کتب زیادہ تر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی تالیف کردہ ہوتی تھیں ۔ یہ کتابیں اصلاحی اور تبلیغی موضوعات پر تھیں ۔
جب ہندوستان میں پہلی جنگِ آزادی کی روح بیدار ہونا شروع ہوئی تو اس وقت انگریزوں کے خلاف علَمِ جہاد بلند کرنے اور مجاہدین کے لیے مالی امداد و اعانت پر ایک اہم فتویٰ بریلی میں جاری ہوا تو اس پر مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ نے اپنے دستخط ثبت کیے اور عوام و خواص میں روحِ آزادی پھونکنے میں عملی کردار ادا کیا ۔
❤1
انگریزوں نے جب انقلاب 1857ء کو نا کام بنانے کے بعد علمائےکرام اور قائدینِ انقلاب کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنا شروع کیا تو اس دوران بریلی کے اسی اہم فتویٰ کی بنیاد پر مفتی عنایت احمد کاکوروی کے خلاف بھی مقدمہ چلایا گیا دکھاوے کی خاطر معمولی سی سطحی عدالتی کارروائی کے بعد آپ کو سزائے کالا پانی کے طور پر جزیرۂ انڈیمان بھیج دیا گیا ۔ جہاں آپ نے چار سال تک قید و بند کی سخت مشقتیں جھیلیں ۔
انگریزوں کی طرف سے دیگر علماء و قائدین کی طرح آپ پر بھی طرح طرح سے مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ۔ حالتِ اسیری میں ابھی دو سال ہوئے تھے کہ ایک انگریز نے آپ سے مشہورِ زمانہ کتاب ’’ تقویم البلدان ‘‘ کے ترجمہ کی خواہش ظاہر کی جسے آپ نے قبول فرما کر دو سال میں مکمل کر دیا ۔ اس اہم علمی کام سے متاثر ہو کر اُسی انگریز نے آپ کی رہائی کی راہیں ہموار کیں اور آپ 1277ھ / 1860ء میں جزیرۂ اینڈ و مان سے آزاد ہو کر ہندوستان واپس آئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں سزاے کالا پانی کے دوران مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی طرح قائدِ تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ بھی محبوس تھے ۔
ان دو عظیم المرتبت علمائے کرام کی موجودگی سے انڈمان کا قید خانہ بھی علم و فضل اور دین و دانش کا ایک مرکز بن گیا ۔
ہمارے ان مقتدر اسلافِ کرام نے بہ حالتِ اسیری دین و ادب کی خوب خوب خدمت انجام دی ۔ تصنیف و تالیف اور تحقیق و تفحص کا سلسلۂ خیر جاری رکھا جس کے نتیجے میں کئی اہم کتب و رسائل منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں مفتی عنایت احمد کوروی اور علامہ فضل حق خیرآبادی علیہم الرحمہ کی تاریخی و علمی خدمات کے بارے میں مولانا عبد الشاہد شیروانی رقم طراز ہیں:
علامہ فضل حق جزیرۂ انڈمان پہنچے ـ مفتی عنایت احمد کاکوروی، مفتی مظہر کریم دریا بادی اور دوسرے مجاہدین علماء وہاں پہنچ چکے تھے ۔ ان علماء کی برکت سے یہ جزیرہ دار العلوم بَن گیا تھا ۔
ان حضرات نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ وہاں بھی قائم رکھا ۔ خرابیِ آب و ہوا، تکالیف شاقہ و جدائی احباب و اعزہ کے باوجود علمی مشاغل جاری رہے ۔
مفتی صاحب (مفتی عنایت احمد کاکوروی) نے ’’ علم الصیغہ ‘‘ جیسی صَرف کی مفید کتاب جو آج تک داخلِ نصاب ہے وہیں لکھی ۔ ’’ تواریخِ حبیبِ الٰہ ‘‘ بھی تالیف کی ۔ ان دونوں کتابوں کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان حضرات کے سینے علم کے سفینے بَن گئے تھے ۔ تاریخی یاد داشت، ترتیبِ واقعات، قواعدِ فنون، ضوابطِ علوم سبھی حیرت انگیز کرشمے دِکھا رہے ہیں ‘‘ ۔ قرآن مجید بھی وہیں پر حفظ کیا ۔ (باغیِ ہندوستان ص:225)
سفرِ حج و زیارت کے دوران حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ اپنی ایک اہم ترین بے نقطہ کتاب ’’ لوامع العلوم و اسرار العلوم ‘‘ کا مسودہ ساتھ لے کر گئے تھے ۔ راستے میں نہایت عالمانہ و محققانہ انداز میں بڑی عرق ریزی اور جانفشانی اس کو مرتب فرما رہے تھے ۔ افسوس! کہ جہاز ٹکرانے سے یہ نہایت اہم ذخیرۂ علوم و فنون غرقِ سمندر ہو گیا اور دنیا ایک بڑے خزانے سے محروم رہ گئی ۔ اس میں چالیس علوم کا خلاصہ لکھنا پیشِ نظر تھا ۔ ہر علم کا نام بھی بے نقطہ تھا ۔ مثلاً علوم التفسیر کا نام علم کلام اللہ ۔ علم حدیث کا نام علم کلام الرسول ۔ علم فقہ کا نام علم الاحکام ۔ وغیرہ ۔
حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے پیکر با عمل عالمِ دین تھے ۔ آپ نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ دینِ متین کی خدمت اور تعلیم و تعلم میں بسر فرمائی ۔ علوم و فنون کے جامع اور ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع المطالعہ اور ژرف نگاہ محقق و مصنف تھے ۔ قوم و ملت کا درد اور انقلابِ امت کا جذبۂ خیر آپ کے سینے میں موجز ن تھا ۔ آپ کی اصلاحی و تبلیغی تڑپ بھی نمایاں تھی ۔ جس کے لیے آپ ہمہ دم ہمہ تن عملی کوششوں میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ آپ جہاں بھی رہے عوام و خواص کی توجہ کا مرکز رہے اور دینی و علمی کاموں میں نہایت فعال اور متحرک رہے ۔ اسی طرح آپ نے متنازعہ ترین کتاب تقویۃ الایمان کا مختلف طریقوں سے رد کیا ۔ (الحق المبین ص:9)
تاریخِ وصال:
آپ علیہ الرحمہ نے 1279ھ کو بذریعہ بحری جہاز حج کا سفر کیا ۔ جہاز جدہ پہنچ کر پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوب گیا ۔ مفتی صاحب بحالتِ نماز احرام باندھے ہوئے 17 شوال 1279ھ مطابق 7 اپریل 1663ء کو غریقِ بحرِ رحمت ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ چند ممتاز علمائے انقلاب ۔ باغی ہندوستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-inayat-ahmed-kakorwi
انگریزوں کی طرف سے دیگر علماء و قائدین کی طرح آپ پر بھی طرح طرح سے مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ۔ حالتِ اسیری میں ابھی دو سال ہوئے تھے کہ ایک انگریز نے آپ سے مشہورِ زمانہ کتاب ’’ تقویم البلدان ‘‘ کے ترجمہ کی خواہش ظاہر کی جسے آپ نے قبول فرما کر دو سال میں مکمل کر دیا ۔ اس اہم علمی کام سے متاثر ہو کر اُسی انگریز نے آپ کی رہائی کی راہیں ہموار کیں اور آپ 1277ھ / 1860ء میں جزیرۂ اینڈ و مان سے آزاد ہو کر ہندوستان واپس آئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں سزاے کالا پانی کے دوران مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی طرح قائدِ تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ بھی محبوس تھے ۔
ان دو عظیم المرتبت علمائے کرام کی موجودگی سے انڈمان کا قید خانہ بھی علم و فضل اور دین و دانش کا ایک مرکز بن گیا ۔
ہمارے ان مقتدر اسلافِ کرام نے بہ حالتِ اسیری دین و ادب کی خوب خوب خدمت انجام دی ۔ تصنیف و تالیف اور تحقیق و تفحص کا سلسلۂ خیر جاری رکھا جس کے نتیجے میں کئی اہم کتب و رسائل منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔
جزیرۂ انڈمان میں مفتی عنایت احمد کوروی اور علامہ فضل حق خیرآبادی علیہم الرحمہ کی تاریخی و علمی خدمات کے بارے میں مولانا عبد الشاہد شیروانی رقم طراز ہیں:
علامہ فضل حق جزیرۂ انڈمان پہنچے ـ مفتی عنایت احمد کاکوروی، مفتی مظہر کریم دریا بادی اور دوسرے مجاہدین علماء وہاں پہنچ چکے تھے ۔ ان علماء کی برکت سے یہ جزیرہ دار العلوم بَن گیا تھا ۔
ان حضرات نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ وہاں بھی قائم رکھا ۔ خرابیِ آب و ہوا، تکالیف شاقہ و جدائی احباب و اعزہ کے باوجود علمی مشاغل جاری رہے ۔
مفتی صاحب (مفتی عنایت احمد کاکوروی) نے ’’ علم الصیغہ ‘‘ جیسی صَرف کی مفید کتاب جو آج تک داخلِ نصاب ہے وہیں لکھی ۔ ’’ تواریخِ حبیبِ الٰہ ‘‘ بھی تالیف کی ۔ ان دونوں کتابوں کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان حضرات کے سینے علم کے سفینے بَن گئے تھے ۔ تاریخی یاد داشت، ترتیبِ واقعات، قواعدِ فنون، ضوابطِ علوم سبھی حیرت انگیز کرشمے دِکھا رہے ہیں ‘‘ ۔ قرآن مجید بھی وہیں پر حفظ کیا ۔ (باغیِ ہندوستان ص:225)
سفرِ حج و زیارت کے دوران حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ اپنی ایک اہم ترین بے نقطہ کتاب ’’ لوامع العلوم و اسرار العلوم ‘‘ کا مسودہ ساتھ لے کر گئے تھے ۔ راستے میں نہایت عالمانہ و محققانہ انداز میں بڑی عرق ریزی اور جانفشانی اس کو مرتب فرما رہے تھے ۔ افسوس! کہ جہاز ٹکرانے سے یہ نہایت اہم ذخیرۂ علوم و فنون غرقِ سمندر ہو گیا اور دنیا ایک بڑے خزانے سے محروم رہ گئی ۔ اس میں چالیس علوم کا خلاصہ لکھنا پیشِ نظر تھا ۔ ہر علم کا نام بھی بے نقطہ تھا ۔ مثلاً علوم التفسیر کا نام علم کلام اللہ ۔ علم حدیث کا نام علم کلام الرسول ۔ علم فقہ کا نام علم الاحکام ۔ وغیرہ ۔
حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے پیکر با عمل عالمِ دین تھے ۔ آپ نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ دینِ متین کی خدمت اور تعلیم و تعلم میں بسر فرمائی ۔ علوم و فنون کے جامع اور ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع المطالعہ اور ژرف نگاہ محقق و مصنف تھے ۔ قوم و ملت کا درد اور انقلابِ امت کا جذبۂ خیر آپ کے سینے میں موجز ن تھا ۔ آپ کی اصلاحی و تبلیغی تڑپ بھی نمایاں تھی ۔ جس کے لیے آپ ہمہ دم ہمہ تن عملی کوششوں میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ آپ جہاں بھی رہے عوام و خواص کی توجہ کا مرکز رہے اور دینی و علمی کاموں میں نہایت فعال اور متحرک رہے ۔ اسی طرح آپ نے متنازعہ ترین کتاب تقویۃ الایمان کا مختلف طریقوں سے رد کیا ۔ (الحق المبین ص:9)
تاریخِ وصال:
آپ علیہ الرحمہ نے 1279ھ کو بذریعہ بحری جہاز حج کا سفر کیا ۔ جہاز جدہ پہنچ کر پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوب گیا ۔ مفتی صاحب بحالتِ نماز احرام باندھے ہوئے 17 شوال 1279ھ مطابق 7 اپریل 1663ء کو غریقِ بحرِ رحمت ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ چند ممتاز علمائے انقلاب ۔ باغی ہندوستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-inayat-ahmed-kakorwi
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Inayat Ahmed Kakorwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-10-1444 ᴴ | 27-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-10-1444 ᴴ | 28-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1