🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-10-1444 ᴴ | 27-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-10-1444 ᴴ | 27-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ ہبیرہ بصری
آپ حضرت خواجہ مرعشی کے خلیفۂ اعظم تھے امین الدین لقب رکھتے تھے، مشائخ عصر میں بلند رتبہ اور عالی مقام رکھتے تھے،فقر میں بلند درجات اور ارفع مقام حاصل تھا، سترہ سال کی عمرمیں ظاہری علوم سے فارغ ہوگئے اور ایک کامل دانشور کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ ہر روز دو بار ختم قرآن فرمایا کرتے تھے مجاہدہ و ریاضت میں بے مثال تھے ایک دن اللہ کی محبت میں زار و قطار رو رہے تھے آواز آئی ہبیرہ، ہم نے تمہیں بخش لیا ہے، حصول مقامات کے لیے حذیفہ مرعشی کے پاس جاؤ آپ خواجہ مرعشی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہوئے، مگر مرید ہونے سے پہلے آپ نے تیس سال ریاضت شاقہ میں گزارے پھر ایک ہفتہ میں ہی مقام قرب نصیب ہوگیا، ایک سال بعد خرقۂ خلافت ملا، جس دن سے خلافت ملی شکر اور نمک کھانا بند کردیا لذیذ کھانے ترک کردیے، اس قدر روتے کہ بعض اوقات حاضرین کو اندیشہ ہوتا کہ آپ فوت ہوجائیں گے، آپ کی ساری زندگی ایک صومعہ میں گزری کبھی کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے اور نہ ہی دنیا داروں کو منہ لگایا۔
آپ کا وصال ۲۸۷ھ بتاریخ ہفتم ماہ شوال ہوا۔
شد چو از دنیا بفردوس بریں
آں ہبیرہ خواجۂ عالی مکان
وصل او کامل امین الدین بود
۲۸۷ھ
رحلتش زاہد کریم آمد عیاں
۲۸۷ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-hubairah-busri
آپ حضرت خواجہ مرعشی کے خلیفۂ اعظم تھے امین الدین لقب رکھتے تھے، مشائخ عصر میں بلند رتبہ اور عالی مقام رکھتے تھے،فقر میں بلند درجات اور ارفع مقام حاصل تھا، سترہ سال کی عمرمیں ظاہری علوم سے فارغ ہوگئے اور ایک کامل دانشور کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ ہر روز دو بار ختم قرآن فرمایا کرتے تھے مجاہدہ و ریاضت میں بے مثال تھے ایک دن اللہ کی محبت میں زار و قطار رو رہے تھے آواز آئی ہبیرہ، ہم نے تمہیں بخش لیا ہے، حصول مقامات کے لیے حذیفہ مرعشی کے پاس جاؤ آپ خواجہ مرعشی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہوئے، مگر مرید ہونے سے پہلے آپ نے تیس سال ریاضت شاقہ میں گزارے پھر ایک ہفتہ میں ہی مقام قرب نصیب ہوگیا، ایک سال بعد خرقۂ خلافت ملا، جس دن سے خلافت ملی شکر اور نمک کھانا بند کردیا لذیذ کھانے ترک کردیے، اس قدر روتے کہ بعض اوقات حاضرین کو اندیشہ ہوتا کہ آپ فوت ہوجائیں گے، آپ کی ساری زندگی ایک صومعہ میں گزری کبھی کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے اور نہ ہی دنیا داروں کو منہ لگایا۔
آپ کا وصال ۲۸۷ھ بتاریخ ہفتم ماہ شوال ہوا۔
شد چو از دنیا بفردوس بریں
آں ہبیرہ خواجۂ عالی مکان
وصل او کامل امین الدین بود
۲۸۷ھ
رحلتش زاہد کریم آمد عیاں
۲۸۷ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-hubairah-busri
scholars.pk
Hazrat Khawaja Hubairah Busri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
فرید العصر مولانا فرید الدین
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا فریدالدین ۔لقب: فرید العصر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا فریدالدین بن حضرت علامہ مولانا احمد الدین بن مولانا امیر حمزہ علیہم الرحمہ ۔
مولانا فرید الدین کے والد حضرت مولانا احمد الدین اپنے وقت کے جید عالمِ دین اور خدا رسیدہ بزرگ اور سیدنا پیر مہر علی شاہ کے شاگرد رشید تھے۔مناظرۂ لاہور میں بھی ساتھ تھے۔ان کے عم بزرگوار مولانا محمد شفیع قریشی حضرت مجدد گولڑویکے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں،حضرت گولڑوی موضع بھوئی میں ایک عرصہ قیام کرکےمولانا قریشی سےعلمی استفادہ کرچکےتھے۔مولانا فریدالدین کےدادا مولانا امیر حمزہ اپنے وقت کےاستاذ الاساتذہ تھے، حضرت مجدد گولڑوی آپ کوہمیشہ مخدومی و مکرمی کے الفاظ سے ذکر کرتےتھے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب امام محمد بن حنفیہ کے واسطہ سے امیر المؤ منین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ملتا ہے ۔ آپ کا علمی خاندان پورے علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا ۔ (مہر انور ص:240)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1324ھ مطابق 1906ء کوقصبہ ’’بھوئی‘‘ ضلع کیمبل پور(موجودہ نام اٹک ) میں ہوئی۔
تحصیل علم:
چا ر پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک پڑھنے کے لئے گاؤں کی مسجد میں جانا شرو ع کیا ، بعد ازاں درس نظامی کی کتابیں اپنے بڑے بھائی استاذالاساتذہ مولانا محب النبی سے پڑھنا شروع کیں،بعض آخری کتابیں مثلا حمد اللہ، شرح سلم وغیرہ والد ماجد سے پڑھیں۔تکمیل علوم کے لئے علوم علامۂ زماں مولانا مشتاق احمد کانپوری بن استادِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری قدس سرہما کی خدمت میں کانپور حاضر ہوئے۔جب علامہ مشتاق احمد جامعہ نعیمیہ مرادآباد تشریف لائے تو دوسرے طلباء کے ہمراہ آپ بھی تھے۔ پھر جب علامہ مراد آباد سے میرٹھ تشریف لے گئے تو مولانا فرید الدین ،حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی گجراتی رحمہا اللہ تعالیٰ او ر دوسرے طلباء کسب فیض کے لئے ان کے ہمراہ میرٹھ چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ابتداء ہی سے ذہن رسا، تقویٰ و پرہیزگاری اور سلامتی طبع ایسے اوصاف سے نواز ا تھا ۔
دورِ طالب علمی میں بھی آپ کی یہ صفا ت نمایاں رہیں۔ آ کے فرزند ارجمند مولانا حسن الدین ہاشمی کا بیان ہے :’’ایک مرتبہ ملتان کے سفر کے دوران جب میں نے حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی کو اپنے والدماجد کے حوالے سے اپنا تعارف کرایا و وہ خوشی سے جھوم اٹھے اور فرمایا اچھا آپ مولانا فرید کےصاحبزادے ہیں؟ ہم انہیں طالب علمی کے دور میں مولانا فرید کے نام سے پکارا کرتے تھے وہ بہت قابل اور پرہیز گار طالب ِعلم تھے اور اپنے ساتھی طلباء کو حمد اللہ وغیرہ پڑھایا کرتے تھے‘‘۔میرٹھ سے واپس آکر کچھ کتابیں والدِگرامی سے اور زیادہ تر اپنے بڑے بھائی استاذ العلماء مولانا محب النبی سے پڑھیں اور سند حدیث بھی انہی سے حاصل کی۔تقریباً 1350ھ/1931ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں شیخ الاسلام غوث الاسلام حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔آپ کو اپنے پیر طریقت او ر شیخ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ سے بے پناہ عقیدت و محبت تھی،اسی طرح ان کے صاحبزادے حضرت پیر سید غلام محی الدین سجادہ نشین گولڑہ شریف سے بھی بےحدنیاز مندی رکھتے تھے،ان کا حکم کبھی نہ ٹالتے اور ان کے حکم کے مقابل ہرشخص کی بات کو ٹھکرا دیتے تھے۔جس مدرسہ میں بھی تدریس کے لئے تشریف لےجاتے پہلے ان سے اجازت لیتے اور جب وہ فرماتے واپس آجاتے،انہی کے ایماء پرآپ کے اکثرو بیشتر اوقات قصبہ بھوئی میں گزارے۔بعض اوقات آپ کو اس جگہ تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا،لیکن آپ کے پائے اثبات میں کبھی لغزش نہ آئی۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:376)
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، حاوی الفروع والاصول، استاذ العلماء، رئیس الفضلاء مجاہدِ تحریک پاکستان وختم نبوت، فرید العصر حضرت علامہ مولانا فرید الدین ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے ۔ ساری زندگی قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا وظیفہ جاری رہا ۔ آپ نے اہل سنت و جماعت کو مدرسین مصنفین، واعظین کی ایک جماعت تیار کرکے دی ۔ جنہوں نے اہل سنت کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔ آپ درویش منش اور صوفی مزاج شخصیت کے حامل ہونے کے باوجود تحریک پاکستان اور تحریک ختم نبوت میں بھر پور کردار ادا کیا ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا فریدالدین ۔لقب: فرید العصر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا فریدالدین بن حضرت علامہ مولانا احمد الدین بن مولانا امیر حمزہ علیہم الرحمہ ۔
مولانا فرید الدین کے والد حضرت مولانا احمد الدین اپنے وقت کے جید عالمِ دین اور خدا رسیدہ بزرگ اور سیدنا پیر مہر علی شاہ کے شاگرد رشید تھے۔مناظرۂ لاہور میں بھی ساتھ تھے۔ان کے عم بزرگوار مولانا محمد شفیع قریشی حضرت مجدد گولڑویکے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں،حضرت گولڑوی موضع بھوئی میں ایک عرصہ قیام کرکےمولانا قریشی سےعلمی استفادہ کرچکےتھے۔مولانا فریدالدین کےدادا مولانا امیر حمزہ اپنے وقت کےاستاذ الاساتذہ تھے، حضرت مجدد گولڑوی آپ کوہمیشہ مخدومی و مکرمی کے الفاظ سے ذکر کرتےتھے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب امام محمد بن حنفیہ کے واسطہ سے امیر المؤ منین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ملتا ہے ۔ آپ کا علمی خاندان پورے علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا ۔ (مہر انور ص:240)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1324ھ مطابق 1906ء کوقصبہ ’’بھوئی‘‘ ضلع کیمبل پور(موجودہ نام اٹک ) میں ہوئی۔
تحصیل علم:
چا ر پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک پڑھنے کے لئے گاؤں کی مسجد میں جانا شرو ع کیا ، بعد ازاں درس نظامی کی کتابیں اپنے بڑے بھائی استاذالاساتذہ مولانا محب النبی سے پڑھنا شروع کیں،بعض آخری کتابیں مثلا حمد اللہ، شرح سلم وغیرہ والد ماجد سے پڑھیں۔تکمیل علوم کے لئے علوم علامۂ زماں مولانا مشتاق احمد کانپوری بن استادِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری قدس سرہما کی خدمت میں کانپور حاضر ہوئے۔جب علامہ مشتاق احمد جامعہ نعیمیہ مرادآباد تشریف لائے تو دوسرے طلباء کے ہمراہ آپ بھی تھے۔ پھر جب علامہ مراد آباد سے میرٹھ تشریف لے گئے تو مولانا فرید الدین ،حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی گجراتی رحمہا اللہ تعالیٰ او ر دوسرے طلباء کسب فیض کے لئے ان کے ہمراہ میرٹھ چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ابتداء ہی سے ذہن رسا، تقویٰ و پرہیزگاری اور سلامتی طبع ایسے اوصاف سے نواز ا تھا ۔
دورِ طالب علمی میں بھی آپ کی یہ صفا ت نمایاں رہیں۔ آ کے فرزند ارجمند مولانا حسن الدین ہاشمی کا بیان ہے :’’ایک مرتبہ ملتان کے سفر کے دوران جب میں نے حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی کو اپنے والدماجد کے حوالے سے اپنا تعارف کرایا و وہ خوشی سے جھوم اٹھے اور فرمایا اچھا آپ مولانا فرید کےصاحبزادے ہیں؟ ہم انہیں طالب علمی کے دور میں مولانا فرید کے نام سے پکارا کرتے تھے وہ بہت قابل اور پرہیز گار طالب ِعلم تھے اور اپنے ساتھی طلباء کو حمد اللہ وغیرہ پڑھایا کرتے تھے‘‘۔میرٹھ سے واپس آکر کچھ کتابیں والدِگرامی سے اور زیادہ تر اپنے بڑے بھائی استاذ العلماء مولانا محب النبی سے پڑھیں اور سند حدیث بھی انہی سے حاصل کی۔تقریباً 1350ھ/1931ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں شیخ الاسلام غوث الاسلام حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔آپ کو اپنے پیر طریقت او ر شیخ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ سے بے پناہ عقیدت و محبت تھی،اسی طرح ان کے صاحبزادے حضرت پیر سید غلام محی الدین سجادہ نشین گولڑہ شریف سے بھی بےحدنیاز مندی رکھتے تھے،ان کا حکم کبھی نہ ٹالتے اور ان کے حکم کے مقابل ہرشخص کی بات کو ٹھکرا دیتے تھے۔جس مدرسہ میں بھی تدریس کے لئے تشریف لےجاتے پہلے ان سے اجازت لیتے اور جب وہ فرماتے واپس آجاتے،انہی کے ایماء پرآپ کے اکثرو بیشتر اوقات قصبہ بھوئی میں گزارے۔بعض اوقات آپ کو اس جگہ تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا،لیکن آپ کے پائے اثبات میں کبھی لغزش نہ آئی۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:376)
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، حاوی الفروع والاصول، استاذ العلماء، رئیس الفضلاء مجاہدِ تحریک پاکستان وختم نبوت، فرید العصر حضرت علامہ مولانا فرید الدین ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے ۔ ساری زندگی قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا وظیفہ جاری رہا ۔ آپ نے اہل سنت و جماعت کو مدرسین مصنفین، واعظین کی ایک جماعت تیار کرکے دی ۔ جنہوں نے اہل سنت کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔ آپ درویش منش اور صوفی مزاج شخصیت کے حامل ہونے کے باوجود تحریک پاکستان اور تحریک ختم نبوت میں بھر پور کردار ادا کیا ۔
❤1
آپ کا زمانۂ تدریس بیالیس سال پر پھیلا ہوا ہے جس میں سے زیادہ تر وقت اپنے آبائی گاؤں بھوئی میں گزارا، اس کے علاوہ مختلف اوقات میں جامعہ غوثیہ، گولڑہ شریف، جامعہ محمدیہ بھیرہ، جامعہ رضویہ وار برٹن، دار العلوم مکھڈ شریف، دار العلوم ترگ شریف،دار العلوم لا لہ موسیٰ وغیرہ میں پڑھاتے رہے ۔ آپ منتہی کتب کے بیس بیس سبق یومیہ پڑھاتے رہے ہیں،اس کے باوجود با قاعد گی کے ساتھ ہر کتاب کا مطالعہ فرماتے او ر طلباء کو بھی یہی تلقین فرماتے۔فرمایا کرتے تھےکہ مطالعہ کے بغیر مدرس خود بے یقینی سے دو چار رہتا ہے، طلبہ کو یقین کی نعمت سےکس طرح بہرہ ور کرسکتا ہے ۔
آپ کا معمول یہ تھا کہ سحری کے وقت مختصر اورادو وظائف پڑھنے کے بعد مطالعۂ کتب میں مصرو ف ہو جاتے، نماز ِفجر سےظہر تک اسباق پڑھاتے اور نماز کے بعد پھر مطالعہ میں محو ہو جاتے، عمر کے آخری حصے میں نا سازی طبع کی بناء پر اسباق کم کر دئیے اور اسی تناسب سے اوراد و وظائف میں اضافہ ہو گیا ۔
تحریکِ پاکستان میں خدمات:
آپ بنیادی طور پر عالمِ دین، صوفی اور مدرس تھے اس لئے سیاست کےساتھ کچھ زیادہ لگاؤنہ تھا ۔ لیکن دو مواقع ایسے آئے کہ آپ سر گرم ِسیاست ہوئے۔ 1946ء کے انتخابات کے موقع پر آپ نےمسلم لیگ کی پر زور حمایت کی او دوسرے لوگوں کو بھی یہی تبلیغ کی جب بعض کا نگریسی ذہن کے مولوی، جناب قائد اعظم پر تنقید کرتےتو آپ فرماتے:’’اس وقت کفر اور اسلام کا مقابلہ ہے،قائد اعظم ایک مسلمان ہے اور اسلام کا نمائندہ ہے جبکہ گاندھی کافر ہے اور کفر کا نمائندہ ہے اس لئے اس موقع پر قائد اعظم کا ساتھ دینا اسلام کا ساتھ دینا ہے اور گاندھی کا ساتھ دینا دانستہ یا نا دانستہ طور پر کفر کو ساتھ دینا ہے‘‘ ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:377)
دوسرا موقع 1953ء میں آیا جب ناموس رسالتﷺکےتحفظ کی خاطر مرزائیوں کے خلاف تحریک ختم نبوت شروع ہوئی، آپ نے بڑی تندہی سے اس میں حصہ لیا، تقریریں کیں،جلوسوں میں شریک ہوئے، ایک جلوس آپ کی قیادت میں بھوئی سے حسن ابدال پہنچا ۔ اس وقت تو حکومت نے آپ کو گرفتار نہ کیا لیکن جب راولپنڈی جاکر ایک جلوس میں شریک ہوئے تو گرفتار کر کے سنٹرل جیل بھیج دئیے گئے جہاں اسی تحریک کے سلسلے میں آپ کے فرزند ارجمند مولانا حسن الدین ہاشمی پہنچ چکے تھے۔آپ نہایت خوش اخلاق،کم گو ،جید عالم دین او ر متواضع شخصیت کے حامل تھے، تصنع اور تکبر سے انہیں کوئی واسطہ نہ تھا ، سادگی کا پیکر مجسم تھے۔ آپ سرور دو جہاں،محبوب رب انس وجاں ﷺ کی محبت سے شرشار تھے، جب کبھی نعت شریف سنتے تو آپ پر رقت طاری ہو جاتی،اولیائےکرام کابہت احترام کیا کرتے تھے،جہاں جاتے اہل اللہ کی جستجو میں رہتے۔ شیخ الفقہ والقانون حضرت مولانا حسن الدین ہاشمی شیخ الافقہ جامعہ اسلامیہ بہاول پورپنجاب آپ کےفرزند ارجمند ہیں۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 7 شوال المکرم 1392ھ مطابق 14 نومبر 1972ء بروز منگل بوقت 1:30 واصل بااللہ ہوئے ۔ حسبِ وصیت والد ماجد کی مولانا احمد الدین کے پہلو میں دفن ہوئے ۔ قصبہ بھوئی ضلع اٹک آخری آرام گاہ ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ مہر انور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/fareed-ul-asr-hazrat-molana-fareeduddin-bhoi
آپ کا معمول یہ تھا کہ سحری کے وقت مختصر اورادو وظائف پڑھنے کے بعد مطالعۂ کتب میں مصرو ف ہو جاتے، نماز ِفجر سےظہر تک اسباق پڑھاتے اور نماز کے بعد پھر مطالعہ میں محو ہو جاتے، عمر کے آخری حصے میں نا سازی طبع کی بناء پر اسباق کم کر دئیے اور اسی تناسب سے اوراد و وظائف میں اضافہ ہو گیا ۔
آپ بنیادی طور پر عالمِ دین، صوفی اور مدرس تھے اس لئے سیاست کےساتھ کچھ زیادہ لگاؤنہ تھا ۔ لیکن دو مواقع ایسے آئے کہ آپ سر گرم ِسیاست ہوئے۔ 1946ء کے انتخابات کے موقع پر آپ نےمسلم لیگ کی پر زور حمایت کی او دوسرے لوگوں کو بھی یہی تبلیغ کی جب بعض کا نگریسی ذہن کے مولوی، جناب قائد اعظم پر تنقید کرتےتو آپ فرماتے:’’اس وقت کفر اور اسلام کا مقابلہ ہے،قائد اعظم ایک مسلمان ہے اور اسلام کا نمائندہ ہے جبکہ گاندھی کافر ہے اور کفر کا نمائندہ ہے اس لئے اس موقع پر قائد اعظم کا ساتھ دینا اسلام کا ساتھ دینا ہے اور گاندھی کا ساتھ دینا دانستہ یا نا دانستہ طور پر کفر کو ساتھ دینا ہے‘‘ ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:377)
دوسرا موقع 1953ء میں آیا جب ناموس رسالتﷺکےتحفظ کی خاطر مرزائیوں کے خلاف تحریک ختم نبوت شروع ہوئی، آپ نے بڑی تندہی سے اس میں حصہ لیا، تقریریں کیں،جلوسوں میں شریک ہوئے، ایک جلوس آپ کی قیادت میں بھوئی سے حسن ابدال پہنچا ۔ اس وقت تو حکومت نے آپ کو گرفتار نہ کیا لیکن جب راولپنڈی جاکر ایک جلوس میں شریک ہوئے تو گرفتار کر کے سنٹرل جیل بھیج دئیے گئے جہاں اسی تحریک کے سلسلے میں آپ کے فرزند ارجمند مولانا حسن الدین ہاشمی پہنچ چکے تھے۔آپ نہایت خوش اخلاق،کم گو ،جید عالم دین او ر متواضع شخصیت کے حامل تھے، تصنع اور تکبر سے انہیں کوئی واسطہ نہ تھا ، سادگی کا پیکر مجسم تھے۔ آپ سرور دو جہاں،محبوب رب انس وجاں ﷺ کی محبت سے شرشار تھے، جب کبھی نعت شریف سنتے تو آپ پر رقت طاری ہو جاتی،اولیائےکرام کابہت احترام کیا کرتے تھے،جہاں جاتے اہل اللہ کی جستجو میں رہتے۔ شیخ الفقہ والقانون حضرت مولانا حسن الدین ہاشمی شیخ الافقہ جامعہ اسلامیہ بہاول پورپنجاب آپ کےفرزند ارجمند ہیں۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 7 شوال المکرم 1392ھ مطابق 14 نومبر 1972ء بروز منگل بوقت 1:30 واصل بااللہ ہوئے ۔ حسبِ وصیت والد ماجد کی مولانا احمد الدین کے پہلو میں دفن ہوئے ۔ قصبہ بھوئی ضلع اٹک آخری آرام گاہ ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ مہر انور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/fareed-ul-asr-hazrat-molana-fareeduddin-bhoi
scholars.pk
Molana Fareeduddin
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت علامہ مولانا ظہور الحسن درس رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا ظہورالحسن درس۔لقب:افتخار اہل سنت،خطیب اہل سنت،قائد اہل سنت۔تخلص: درس۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ مولانا مولانا ظہورالحسن درس بن شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالکریم درس بن شیخ التفسیر علامہ عبداللہ درس بن مولانا خیر محمددرس بن مولانا عبدالرحیم درس۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 5/ذوالحج 1322ھ،مطابق 9/فروری 1905ء بروز جمعرات ،صدرکراچی میں ہوئی۔
تحصیل علم:علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور جد امجد کے قائم کردہ مدرسہ درسیہ صدر کراچی میں تعلیم و تربیت حاصل کی ۔ والد گرامی علامہ عبدالکریم درس اور مولانا صوفی عبداللہ درس سے درسی نصاب میں تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے۔ تمام علوم متدوالہ میں مہارت ِ تامہ رکھتےتھے۔
بیعت وخلافت: آپ خانوادہ گیلانیہ بغداد شریف کے ایک عظیم بزرگ حضرت سید عبدالسلام گیلانی قادری سے سلسلہ قادریہ میں بیعت و خلافت سے سر فراز تھے ۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:385)
سیرت وخصائص: افتخار اہل سنت،خطیب اہل سنت،محسن ملک وملت،جامع شریعت وطریقت،قائد تحریک پاکستان حضرت علامہ مولانا ظہورالحسن درس رحمۃ اللہ علیہ۔آپ کا خاندان علم وفضل تقوی ٰ ودینداری میں بےمثال ہے۔آپ کےوالد گرامی شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالکریم درس اپنے وقت کےعظیم صوفی اور جید عالم دین تھے۔ان کےاعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضاخان قادری کےساتھ خصوصی تعلقات تھے۔بلکہ جب مولاناامام احمد رضا خان1905ء میں دوسری بار حج سے واپس ہوئے تو کراچی میں مولانا عبدالکریم درس کے ہاں قیام فرمایا ،اور یہیں سے واپس بمبئی تشریف گئے ۔آپ کے خاندانی کتب خانہ میں اب بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خطوط موجود ہیں۔ اعلیٰ حضرت کےوصال کےبعد آپ کےصاحبزادے حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامدرضاخاں علیہ الرحمہ کے آپ کےساتھ گہرے تعلقات رہے۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کےتیسرے عرس کےموقع پر آپ خصوصی طور پرمدعو تھے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:438)
مولاناظہور الحسن درس اپنے والد گرامی اور جدامجد کی پیروی میں عید گاہ بند ر روڈ ( تقسیم ہند سے پہلے کراچی شہر میں نماز عید کا مرکزی اجتماع صرف عید گاہ میدان بندر روڈ پر ہوتا تھا اور نماز عید آپ ہی پڑ ھاتے تھے اور یہاں علماء و مشائخ و حفاظ و سادات کا اچھا خاصا اجتماع ہوتا تھا ) میں جمعہ اور عیدین کی امامت و خطابت کے جملہ فرائض انجام دیا کرتے تھے۔آپ کی مادری زبان سندھی تھی لیکن اردو ، اردو دانوں کے لب و لہجہ سے بولتے تھے،سندھی اردو کے شاعر اور جادوبیاں خطیب تھے ۔ عید گاہ گراؤ نڈ میں آپ کا خطاب سننے کیلئے دور دراز سے لوگ کھینچے چلے آتے تھے ۔ آپ نہ صرف سحربیاں مقرر تھے بلکہ علوم دینیہ اور علوم جدید ہ کا بہترین امتزاج تھے۔
تحریکِ پاکستان میں عظیم خدمات: 12۔13 فروری 1946ء کو قیام پاکستان سے صرف ڈیڑھ سال قبل تحریک پاکستان کے سلسلے میں اسی عید گاہ قصاباں میں آل انڈیا سنی کانفرنس کا انعقاد بحیثیت جنرل سیکریٹری مسلم جماعت انتظامیہ (رجسٹرڈ ) سر براہ جماعت اہل سنت،رکن آل انڈیا سنی کانفرنس حضرت علامہ ظہور الحسن درس ہوا ۔ جس میں برصغیر پاک وہند کےجید علماءکرام ومشائخ عظام نے شرکت کی اور تحریک پاکستان سے وابستگی کے عزم کو دہرایا اور بنارس سنی کانفرنس اور اجمیر سنی کانفرنس کی طرح تجدید عہد کیا ۔ علامہ ظہور الحسن درس کی دعوت پر میرٹھ سے حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی ، بدایون سے علامہ عبدالحامد بدایونی اور بریلی شریف سے حضرت علامہ حامد رضا خان بریلوی اور مراد آباد سے حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی و دیگر نے شرکت فرمائی۔ علامہ درس جو کراچی سنی کانفرنس کے روح رواں تھے تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے سلسلہ میں ایک تاریخی خطبہ دیا ۔ جس میں مملکت خداداد پاکستان کے مقاصد پر روشنی ڈالی، آپ کا یہ خطبہ تاریخ پاکستان کا ایک سنہراباب ہے۔حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آباد ی نے بنارس سنی کانفرنس 1946ء کے موقع پر علامہ ظہور الحسن درس کو جماعت اہل سنت کے احیا ء کیلئے پچاس روپے کا فنڈ عنایت کیا تھا اور جس کی بقیہ رقم 27روپے بعد میں علامہ درس نے علامہ مراد آبادی کو واپس لوٹا دی اور فرمایا’’ کل23 روپے خرچ کئے تھے کہ جماعت اہل سنت خود کفیل ہوگئی ‘‘۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:385)
سب سے پہلی قرار داد پاکستان: حضرت علامہ ظہور الحسن درس نے مذہبی اور قانونی پہلووٗ ں کو مد نظر رکھتے ہوئے 1935ء میں مسلم جماعت انتظامیہ جامع مسجد قصاباں صدر و عید گاہ بند روڈ کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیا جسے سوسا ئٹی ایکٹ 1860ء کے تحت سندھ کے دارالحکومت بمبئی سے 36 1935ء میں رجسٹرڈ کرایا ۔ اس رجسٹرڈ ٹرسٹ کے ٹرسٹی متولی سیکریٹری جنرل اور سر براہ علامہ ظہور الحسن درس تھے ۔ اور تحریک پاکستان کے سر کردہ رہنماوٗ ں میں شامل تھے ۔ تحریک پاکستان کے سلسلے میں 11/ اکتوبر 1938ء
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا ظہورالحسن درس۔لقب:افتخار اہل سنت،خطیب اہل سنت،قائد اہل سنت۔تخلص: درس۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ مولانا مولانا ظہورالحسن درس بن شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالکریم درس بن شیخ التفسیر علامہ عبداللہ درس بن مولانا خیر محمددرس بن مولانا عبدالرحیم درس۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 5/ذوالحج 1322ھ،مطابق 9/فروری 1905ء بروز جمعرات ،صدرکراچی میں ہوئی۔
تحصیل علم:علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور جد امجد کے قائم کردہ مدرسہ درسیہ صدر کراچی میں تعلیم و تربیت حاصل کی ۔ والد گرامی علامہ عبدالکریم درس اور مولانا صوفی عبداللہ درس سے درسی نصاب میں تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے۔ تمام علوم متدوالہ میں مہارت ِ تامہ رکھتےتھے۔
بیعت وخلافت: آپ خانوادہ گیلانیہ بغداد شریف کے ایک عظیم بزرگ حضرت سید عبدالسلام گیلانی قادری سے سلسلہ قادریہ میں بیعت و خلافت سے سر فراز تھے ۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:385)
سیرت وخصائص: افتخار اہل سنت،خطیب اہل سنت،محسن ملک وملت،جامع شریعت وطریقت،قائد تحریک پاکستان حضرت علامہ مولانا ظہورالحسن درس رحمۃ اللہ علیہ۔آپ کا خاندان علم وفضل تقوی ٰ ودینداری میں بےمثال ہے۔آپ کےوالد گرامی شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالکریم درس اپنے وقت کےعظیم صوفی اور جید عالم دین تھے۔ان کےاعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضاخان قادری کےساتھ خصوصی تعلقات تھے۔بلکہ جب مولاناامام احمد رضا خان1905ء میں دوسری بار حج سے واپس ہوئے تو کراچی میں مولانا عبدالکریم درس کے ہاں قیام فرمایا ،اور یہیں سے واپس بمبئی تشریف گئے ۔آپ کے خاندانی کتب خانہ میں اب بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خطوط موجود ہیں۔ اعلیٰ حضرت کےوصال کےبعد آپ کےصاحبزادے حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامدرضاخاں علیہ الرحمہ کے آپ کےساتھ گہرے تعلقات رہے۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کےتیسرے عرس کےموقع پر آپ خصوصی طور پرمدعو تھے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:438)
مولاناظہور الحسن درس اپنے والد گرامی اور جدامجد کی پیروی میں عید گاہ بند ر روڈ ( تقسیم ہند سے پہلے کراچی شہر میں نماز عید کا مرکزی اجتماع صرف عید گاہ میدان بندر روڈ پر ہوتا تھا اور نماز عید آپ ہی پڑ ھاتے تھے اور یہاں علماء و مشائخ و حفاظ و سادات کا اچھا خاصا اجتماع ہوتا تھا ) میں جمعہ اور عیدین کی امامت و خطابت کے جملہ فرائض انجام دیا کرتے تھے۔آپ کی مادری زبان سندھی تھی لیکن اردو ، اردو دانوں کے لب و لہجہ سے بولتے تھے،سندھی اردو کے شاعر اور جادوبیاں خطیب تھے ۔ عید گاہ گراؤ نڈ میں آپ کا خطاب سننے کیلئے دور دراز سے لوگ کھینچے چلے آتے تھے ۔ آپ نہ صرف سحربیاں مقرر تھے بلکہ علوم دینیہ اور علوم جدید ہ کا بہترین امتزاج تھے۔
تحریکِ پاکستان میں عظیم خدمات: 12۔13 فروری 1946ء کو قیام پاکستان سے صرف ڈیڑھ سال قبل تحریک پاکستان کے سلسلے میں اسی عید گاہ قصاباں میں آل انڈیا سنی کانفرنس کا انعقاد بحیثیت جنرل سیکریٹری مسلم جماعت انتظامیہ (رجسٹرڈ ) سر براہ جماعت اہل سنت،رکن آل انڈیا سنی کانفرنس حضرت علامہ ظہور الحسن درس ہوا ۔ جس میں برصغیر پاک وہند کےجید علماءکرام ومشائخ عظام نے شرکت کی اور تحریک پاکستان سے وابستگی کے عزم کو دہرایا اور بنارس سنی کانفرنس اور اجمیر سنی کانفرنس کی طرح تجدید عہد کیا ۔ علامہ ظہور الحسن درس کی دعوت پر میرٹھ سے حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی ، بدایون سے علامہ عبدالحامد بدایونی اور بریلی شریف سے حضرت علامہ حامد رضا خان بریلوی اور مراد آباد سے حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی و دیگر نے شرکت فرمائی۔ علامہ درس جو کراچی سنی کانفرنس کے روح رواں تھے تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے سلسلہ میں ایک تاریخی خطبہ دیا ۔ جس میں مملکت خداداد پاکستان کے مقاصد پر روشنی ڈالی، آپ کا یہ خطبہ تاریخ پاکستان کا ایک سنہراباب ہے۔حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آباد ی نے بنارس سنی کانفرنس 1946ء کے موقع پر علامہ ظہور الحسن درس کو جماعت اہل سنت کے احیا ء کیلئے پچاس روپے کا فنڈ عنایت کیا تھا اور جس کی بقیہ رقم 27روپے بعد میں علامہ درس نے علامہ مراد آبادی کو واپس لوٹا دی اور فرمایا’’ کل23 روپے خرچ کئے تھے کہ جماعت اہل سنت خود کفیل ہوگئی ‘‘۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:385)
سب سے پہلی قرار داد پاکستان: حضرت علامہ ظہور الحسن درس نے مذہبی اور قانونی پہلووٗ ں کو مد نظر رکھتے ہوئے 1935ء میں مسلم جماعت انتظامیہ جامع مسجد قصاباں صدر و عید گاہ بند روڈ کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیا جسے سوسا ئٹی ایکٹ 1860ء کے تحت سندھ کے دارالحکومت بمبئی سے 36 1935ء میں رجسٹرڈ کرایا ۔ اس رجسٹرڈ ٹرسٹ کے ٹرسٹی متولی سیکریٹری جنرل اور سر براہ علامہ ظہور الحسن درس تھے ۔ اور تحریک پاکستان کے سر کردہ رہنماوٗ ں میں شامل تھے ۔ تحریک پاکستان کے سلسلے میں 11/ اکتوبر 1938ء
❤1
کوصوبائی کانفرنس قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں اسی عید گاہ میدان بند ر روڈ میں منعقد ہوئی ، جس کی اہمیت یہ ہے کہ 1940ء کی قرار داد پاکستان لاہور سے قبل یہی قرار داد پاکستان اسی عید گاہ میں بھاری اکثریت کے ساتھ منظور ہوئی اور معمولی سے ردو بدل کے ساتھ 23/ مارچ 1940ء کو لاہور میں منظور کی گئی ۔چنانچہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ 1938ء میں سندھ اسمبلی میں جو قرار داد پاکستان کی حمایت کی منظور ی دی گئی اور یہ وہ قرار دا دہے جو برصغیر پاک و ہند میں سب سے پہلے منظور ہوئی اس کو عوامی حمایت و تائید اسی عید گاہ میدان میں حاصل ہوئی ، جس کے ٹرسٹی سیکرٹری جنرل اور خطیب علامہ ظہور الحسن درس تھے ۔ 14 15 اکتوبر 1939ء کو علامہ درس کی کاوشوں سے اسی عید گاہ میں ایک تاریخی جلسہ منعقد ہوا جس میں برصغیر پاک و ہند کے صف اول کے رہنما شریک ہوئے ۔
15 دسمبر 1941ء کو اسی عید گاہ قصابا ں میں حضرت علامہ ظہور الحسن درس کی صدارت میں کراچی مسلم لیگ کا نفرنس منعقد ہوئی ۔ 1938ء میں عید گاہ بندر روڈ پر نماز عید کے اجتماع میں جہاں کراچی کا مرکزی اجتماع منعقد ہوتا تھا علامہ ظہور الحسن درس نے ایک ولولہ انگیز تقریر فرمائی اور سندھ کے کانگریسی وزیر اعلی اللہ بخش سومرو کے خلاف عوامی قرار داد منظور کروائی جس کے بعد سندھ میں صوبائی حکومت کی تبدیلی کا عمل شروع ہوا اور کانگریسی حکومت کے خلاف عوامی سطح پر منظم تحریک کا آغاز ہوا۔ علامہ درس 1940 ء تا 1947ء آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے رکن اور سندھ پر اونشنل مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم اجلاسوں میں سندھ کے نمائندہ و فد میں شریک رہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علماء ومشائخ اہل سنت نے مسلم لیگ کی سب سے پہلے اور کھل کر حمایت کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ کی بھر پور،بے لوث اور بے باک حمایت کا سہرا علماء و مشائخ اہل سنت ہی کے سر ہے ۔
دستورِ پاکستان:
13 فروری 1949ء بمقام جہانگیر پارک صدر کراچی میں جمعیت علماء پاکستان کے قیام کے بعد اس کے سالانہ اجلاس میں علامہ ظہور الحسن درس نے جمعیت علماء پاکستان کی سالانہ کارکردگی بحیثیت ناظم عمومی پیش کر تے ہوئے فرمایا کہ فروری 1949ء کے گذشتہ اجلاس میں سب سے اہم مسئلہ اسلامی دستور کی تیاری اور نفاذ کا تھا ۔ جمعیت علماء پاکستان نے اس مطالبہ کو موثر بنانے کے لئے امکانی ذرائع اختیار کئے مقام مسرت ہے کہ ہماری مملکت نے پاک دستور کے اجلاس میں اعلان کر دیا کہ اس مملکت کے دستور کی بنیاد و اساس کتاب و سنت پر ہو گی ۔ اس اعلان پر پاکستان کے مسلمانوں نے مسرت کے جذبات کا اظہار کیا مگر انتہائی افسوس کے ساتھ اس کا اظہار کرنا پڑ تا ہے کہ ایک سال کی طویل مدت میںاسلامی دستور مرتب کرنے والی کمیٹی نے کیا کام کیا؟ ا س کا عام و خاص طور پر کسی کو علم نہیں ۔ چنانچہ جمعیت علمائے پاکستان کا ایک وفد جس میں مولانا ظہور الحسن درس ، مولانا عبدالحامد بدایونی اور مولانا قاری مصلح الدین شامل تھے ۔علامہ ظہور الحسن درس اور ان کے رفقاء کا یہ وہ عظیم کارنامہ ہے جو قرار داد مقاصد کی منظوری کا سنگ میل تھا ۔ قرار داد مقا صد ملک میں اسلامی دستور کی طرف وہ پہلا مثبت و ٹھوس قدم ہے جس کے ذریعہ ملک کے دستوری و آئینی رخ کو صحیح سمت اختیار کرنے میں مدد ملی اور اس طرح 1965ء 1962ء اور 1973ء کے دساتیر میں قرا رداد مقاصد کی روح کسی نہ کسی طرح کارفرما رہی ۔ اسی طرح انہوں نے صدر جمعیت علماء پاکستان مولانا عبدالحامد بدایونی اور دیگر علماء اہل سنت کے مشورہ سے اسلامی دستور ساز کی تشکیل و ذمہ داریاں اور شعبہ جاتِ حکومت مثلا : مذہبی امور ، سامان رسد، رفاہ عامہ، تعمیرات، خوراک،ترسیل، انسداد رشوت ستانی، تحفظ اقلیت، سیاست، امور داخلہ، انتظامیہ و پولیس ، امور صحت ، ٹیکس ، آباد کاری ، مال ، اطلاعات و غیرہ شعبہ جات کی تشکیل میں اہم کردار اداکیا تاکہ امور مملکت میں آسانی ہو اور ہر وقت شرعی مشورے حکومت کو ملتے رہیں۔
آج تو یہ حالت ہے؏ کہ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔افسوس کہ قیام پاکستان کوستر سال ہوچکے لیکن قرآن وسنت کانفاذ نہ ہوسکا،وہی انگریز کا کالا قانون وہی وڈیرہ شاہی وجاگیرداری وخاندانی نظام اس قوم پر مسلط کردیا گیا۔اللہ تعالیٰ ہمارے اکابرین کی محنت وقربانی کے صدقے اس ملک کو نظام مصطفیٰﷺ کا گہوارہ بنائے۔ (تونسوی)
تاریخِ وصال:
ملک وملت کے پاسبان علامہ ظہور الحسن درس نے ایک بھر پور زندگی گذار کر 7/ شوال المکرم 1392ھ بمطابق 14 نومبر 1972ء کو 67 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کا مزار شریف دھوبی گھاٹ قبرستان ( لیاری) کراچی میں واقع ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-zuhur-ul-hasan-dars
15 دسمبر 1941ء کو اسی عید گاہ قصابا ں میں حضرت علامہ ظہور الحسن درس کی صدارت میں کراچی مسلم لیگ کا نفرنس منعقد ہوئی ۔ 1938ء میں عید گاہ بندر روڈ پر نماز عید کے اجتماع میں جہاں کراچی کا مرکزی اجتماع منعقد ہوتا تھا علامہ ظہور الحسن درس نے ایک ولولہ انگیز تقریر فرمائی اور سندھ کے کانگریسی وزیر اعلی اللہ بخش سومرو کے خلاف عوامی قرار داد منظور کروائی جس کے بعد سندھ میں صوبائی حکومت کی تبدیلی کا عمل شروع ہوا اور کانگریسی حکومت کے خلاف عوامی سطح پر منظم تحریک کا آغاز ہوا۔ علامہ درس 1940 ء تا 1947ء آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے رکن اور سندھ پر اونشنل مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم اجلاسوں میں سندھ کے نمائندہ و فد میں شریک رہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علماء ومشائخ اہل سنت نے مسلم لیگ کی سب سے پہلے اور کھل کر حمایت کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ کی بھر پور،بے لوث اور بے باک حمایت کا سہرا علماء و مشائخ اہل سنت ہی کے سر ہے ۔
دستورِ پاکستان:
13 فروری 1949ء بمقام جہانگیر پارک صدر کراچی میں جمعیت علماء پاکستان کے قیام کے بعد اس کے سالانہ اجلاس میں علامہ ظہور الحسن درس نے جمعیت علماء پاکستان کی سالانہ کارکردگی بحیثیت ناظم عمومی پیش کر تے ہوئے فرمایا کہ فروری 1949ء کے گذشتہ اجلاس میں سب سے اہم مسئلہ اسلامی دستور کی تیاری اور نفاذ کا تھا ۔ جمعیت علماء پاکستان نے اس مطالبہ کو موثر بنانے کے لئے امکانی ذرائع اختیار کئے مقام مسرت ہے کہ ہماری مملکت نے پاک دستور کے اجلاس میں اعلان کر دیا کہ اس مملکت کے دستور کی بنیاد و اساس کتاب و سنت پر ہو گی ۔ اس اعلان پر پاکستان کے مسلمانوں نے مسرت کے جذبات کا اظہار کیا مگر انتہائی افسوس کے ساتھ اس کا اظہار کرنا پڑ تا ہے کہ ایک سال کی طویل مدت میںاسلامی دستور مرتب کرنے والی کمیٹی نے کیا کام کیا؟ ا س کا عام و خاص طور پر کسی کو علم نہیں ۔ چنانچہ جمعیت علمائے پاکستان کا ایک وفد جس میں مولانا ظہور الحسن درس ، مولانا عبدالحامد بدایونی اور مولانا قاری مصلح الدین شامل تھے ۔علامہ ظہور الحسن درس اور ان کے رفقاء کا یہ وہ عظیم کارنامہ ہے جو قرار داد مقاصد کی منظوری کا سنگ میل تھا ۔ قرار داد مقا صد ملک میں اسلامی دستور کی طرف وہ پہلا مثبت و ٹھوس قدم ہے جس کے ذریعہ ملک کے دستوری و آئینی رخ کو صحیح سمت اختیار کرنے میں مدد ملی اور اس طرح 1965ء 1962ء اور 1973ء کے دساتیر میں قرا رداد مقاصد کی روح کسی نہ کسی طرح کارفرما رہی ۔ اسی طرح انہوں نے صدر جمعیت علماء پاکستان مولانا عبدالحامد بدایونی اور دیگر علماء اہل سنت کے مشورہ سے اسلامی دستور ساز کی تشکیل و ذمہ داریاں اور شعبہ جاتِ حکومت مثلا : مذہبی امور ، سامان رسد، رفاہ عامہ، تعمیرات، خوراک،ترسیل، انسداد رشوت ستانی، تحفظ اقلیت، سیاست، امور داخلہ، انتظامیہ و پولیس ، امور صحت ، ٹیکس ، آباد کاری ، مال ، اطلاعات و غیرہ شعبہ جات کی تشکیل میں اہم کردار اداکیا تاکہ امور مملکت میں آسانی ہو اور ہر وقت شرعی مشورے حکومت کو ملتے رہیں۔
آج تو یہ حالت ہے؏ کہ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔افسوس کہ قیام پاکستان کوستر سال ہوچکے لیکن قرآن وسنت کانفاذ نہ ہوسکا،وہی انگریز کا کالا قانون وہی وڈیرہ شاہی وجاگیرداری وخاندانی نظام اس قوم پر مسلط کردیا گیا۔اللہ تعالیٰ ہمارے اکابرین کی محنت وقربانی کے صدقے اس ملک کو نظام مصطفیٰﷺ کا گہوارہ بنائے۔ (تونسوی)
تاریخِ وصال:
ملک وملت کے پاسبان علامہ ظہور الحسن درس نے ایک بھر پور زندگی گذار کر 7/ شوال المکرم 1392ھ بمطابق 14 نومبر 1972ء کو 67 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کا مزار شریف دھوبی گھاٹ قبرستان ( لیاری) کراچی میں واقع ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-zuhur-ul-hasan-dars
scholars.pk
Molana Zahoor Ul Hasan Dars
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت شاہ کامل کتھیلی مقتدائےراہ دین ہیں۔
خاندانی حالات:
آپ بغدادکےایک معززخاندان سےتعلق رکھتے ہیں۔
والد:
آپ کےوالدماجدکانام سیدمحمدعمرہے،وہ حافظ بھی تھےاورحاجی بھی تھے،وہ کامیاب طبیب ہونے کےعلاوہ ایک عالم بھی تھے۔
ولادت:
آپ نے۷شوال ۸۳۵ھ کواس عالم کوزینت بخشی۔
نام:
آپ کانام کمال ہے۔
القاب:
آپ کےالقاب"سلب احوال"اور"لال ریال"ہیں۔
پیشین گوئی:
حضرت فضیل قادری آپ کےیہاں تشریف لائے،آپ کو دیکھ کربہت خوش ہوئےاورآپ کے والد سےآپ کےمتعلق فرمایاکہ۔
ہادیٔ کامل ولیٔ عادل تمہیں ودیعت ہواہے،اس کی تربیت صحیح طورپرکیجئےکیونکہ یہ بچہ اولیاءکے زمرے میں مراتب عالیہ پرفائزہوگا،اس کی پروازسدرۃ المنتہیٰ تک ہوگی،اس کاعلم وسیع ہوگااور
عمردرازہوگی۔
ابتدائی زندگی:
بچپن ہی سےآپ میں ترک وتجریدکےآثارنمایاں تھےاوربچوں کی طرح کھیل کود میں دلچسپی نہیں لیتے تھے۔جنگلوں میں گھومناپھرناآپ کامحبوب مشغلہ تھا۔کھاناپینابھی برائےنام تھا۔اگرمل جاتاتو کھالیتے،ورنہ نہیں۔بچپن ہی سےآپ حالت جذب میں رہتےتھے۔
ایک واقعہ:
ایک روزجب کہ آپ حسب معمول گھرسےغائب تھے،آپ کے والدماجدآپ کی تلاش کےلئے نکلے۔ایک جنگل میں پہنچ کردیکھاکہ آپ ایک پیڑکےنیچےمراقبہ میں بیٹھےہیں،آپ کواسی حالت میں روحانی قوت کےذریعےمعلوم ہواکہ آپ کےوالدماجدوہاں تشریف لائے ہیں،آپ وہاں سے اٹھ کھڑےہوئے،آپ کےوالدماجدآپ کے پیچھےہولئے،آپ تھوڑی دورچل کرغائب ہوگئے۔
آپ کے والد نےگھرآکریہ واقعہ بیان کیا۔
بیعت وخلافت:
آپ کےوالدنےآپ کی یہ حالت دیکھ کربخوبی اندازہ لگالیاکہ آپ کی تعلیم وتربیت ان کےبس کی نہیں۔انہوں نےآپ کوفضیل قادری کےسپردفرمایا،آپ کی تعلیم وتربیت فضیل قادری کےزیر نگرانی ہوئی آپ بہت جلدعلوم ظاہری کی تکمیل وتحصیل سے فارغ ہوئے۔
تعلیم وتربیت:
آپ نےفضیل قادری کےدست حق پرست پربیعت کی اورانہیں سےخرقہ خلافت پایا،آپ نے سلوک کےتمام مدارج طے کئے،ریاضت،عبادت اورمجاہدہ میں کوئی کسراٹھانہ رکھی۔
پیرومرشدکی ہدایت:
آپ کےپیرومرشدنےآپ کےروحانی کمالات سےخوش ہوکرآپ کو ہندوستان کی ولایت عطا فرمائی،کہ ہندوستان جاکرتادم آخررشدوہدایت میں مشغول رہیں۔
سیروسیاحت:
بغدادسےروانہ ہوکرآپ نےعراق،ایران،مشہد،نجف اشرف تبریز،اصفہان کی سیروسیاحت فرمائی،بہت سےکامل درویشوں سےملےاوران کےفیض باطنی سےمستفیدہوئے۔
ہندوستان میں آمد:
سیروسیاحت فرماتےہوئےآپ ہندوستان پہنچے،ٹھٹھہ میں پہنچ کرایک سال قیام فرمایا،وہاں ملاسیدمحمد مدرس کوبیعت کیااورخرقہ خلافت سےسرفرازفرمایا۔
ٹھٹھہ سےآپ ملتان تشریف لےگئے،وہاں حمیدخاں نےآپ کاشانداراستقبال کیا۔ملتان سےآپ لدھیانہ میں رونق افروزہوئے۔لدھیانہ سےآپ(پائل)سرہندکےقریب)تشریف لےگئے۔
کتھیلی میں قیام:
پائل سےآپ کتھیلی تشریف لےگئےاورکتھیل کواپنی رشدوہدایت کامرکزبنایا۔کتھیل میں مفتیوں کااقتدارتھا،ان کی پانسوپالکیاں نکلاکرتی تھیں۔مفتی طرح طرح سےآپ کی مخالفت پر آمادہ ہوگئے،بہت سےلوگ مفتیوں کےبہکانےسےآپ کےمخالف ہوگئے،وہ طرح طرح سےآپ کو اذیت پہنچانےلگے۔
مفتی اپنی فتنہ پردازیوں سےبازنہ آئے،ایک دن آپ کوغصہ ہی آگیااورآپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے۔
"مفتیان کی جڑاللہ شہ کمال نےپٹی"
اس کےبعدسےمفتیوں کااقتدارگرناشروع ہوا،یہاں تک رفتہ رفتہ وہ سب نیست ونابود ہوگئے۔
آپ کتھیل میں بلاروک ٹوک رشدوہدایت فرماتے،لوگ آپ کی خدمت میں حاضرہوتے،آپ کا حلقہ ارادت روزبروزبڑھتاگیا۔
شادی اوراولاد:
آپ کےتینوں صاحب زادوں حضرت شاہ عمادالدین،حضرت شاہ موسیٰ،ابوالمکارم اورحضرت نورالدین صاحب کشف وکرامات تھے،ریاضت مجاہدہ اورتزکیہ نفس میں بےنظیرتھے۔
وفات:
آپ کوشغل میت سےکافی دلچسپی تھی،اسی شغل میں کئی کئی مہینےگزرجاتےتھے،آپ اپنےحجرے سے چھ چھ مہینےباہرتشریف نہیں لاتےتھے،ایک مرتبہ آپ کےصاحب زادےحضرت شاہ عماد الدین آپ کےحجرے کی طرف سےگزرے،انہوں دروازےمیں جھانک کردیکھاکہ آپ بے حس وحرکت لیٹے ہیں،دروازہ اتاراگیا،قریب جاکرجب آپ کودیکھاتومردہ پایا،نبض غائب تھی۔
غسل دیتےوقت آپ نےحرکت کی اورغسال سےفرمایاکہ"ہمارےمرنےکی خبرتمام شہرمیں پھیل گئی ہے"۔
غسال نےجواب دیاکہ جی ایساہی ہے۔
یہ سن کرآپ نےفرمایا"اچھاہم جاتے ہیں"۔
یہ کہااورجان شیریں جان آفریں کےسپردفرمائی۔۱؎اس طرح آپ کی وفات۱۹جمادی الثانی ۹۲۱ھ کوواقع ہوئی۔۲؎
خلفاء:
آپ کامزارمبارک کتھیل میں مرجع خاص وعام ہے۔
آپ کےمشہورخلفاء حسب ذیل ہیں۔
ملامحمدمدرس،شاہ سکندر،شاہ موسیٰ،ابوالمکارم،شیخ جلال الدین،کہکیہ ملتان،شاہ یوسف غوث بھکری، شیخ عبدالرحمٰن سرہندی،محمدخاں تاشقندی،ہاشم نجوتی،خواجہ امان اللہ حسینی شیخ قادری،خواجہ فتح علی خاں،خواجہ عین الدین گلانوری،خواجہ اسحاق،باواپوری شیخ عبدالاحد۔
سیرت پاک:
آپ کوحضرت غوث الاعظیم میراں محی الدین سیدعبدالقادرجیلانی رحمتہ اللہ علیہ
حضرت شاہ کامل کتھیلی مقتدائےراہ دین ہیں۔
خاندانی حالات:
آپ بغدادکےایک معززخاندان سےتعلق رکھتے ہیں۔
والد:
آپ کےوالدماجدکانام سیدمحمدعمرہے،وہ حافظ بھی تھےاورحاجی بھی تھے،وہ کامیاب طبیب ہونے کےعلاوہ ایک عالم بھی تھے۔
ولادت:
آپ نے۷شوال ۸۳۵ھ کواس عالم کوزینت بخشی۔
نام:
آپ کانام کمال ہے۔
القاب:
آپ کےالقاب"سلب احوال"اور"لال ریال"ہیں۔
پیشین گوئی:
حضرت فضیل قادری آپ کےیہاں تشریف لائے،آپ کو دیکھ کربہت خوش ہوئےاورآپ کے والد سےآپ کےمتعلق فرمایاکہ۔
ہادیٔ کامل ولیٔ عادل تمہیں ودیعت ہواہے،اس کی تربیت صحیح طورپرکیجئےکیونکہ یہ بچہ اولیاءکے زمرے میں مراتب عالیہ پرفائزہوگا،اس کی پروازسدرۃ المنتہیٰ تک ہوگی،اس کاعلم وسیع ہوگااور
عمردرازہوگی۔
ابتدائی زندگی:
بچپن ہی سےآپ میں ترک وتجریدکےآثارنمایاں تھےاوربچوں کی طرح کھیل کود میں دلچسپی نہیں لیتے تھے۔جنگلوں میں گھومناپھرناآپ کامحبوب مشغلہ تھا۔کھاناپینابھی برائےنام تھا۔اگرمل جاتاتو کھالیتے،ورنہ نہیں۔بچپن ہی سےآپ حالت جذب میں رہتےتھے۔
ایک واقعہ:
ایک روزجب کہ آپ حسب معمول گھرسےغائب تھے،آپ کے والدماجدآپ کی تلاش کےلئے نکلے۔ایک جنگل میں پہنچ کردیکھاکہ آپ ایک پیڑکےنیچےمراقبہ میں بیٹھےہیں،آپ کواسی حالت میں روحانی قوت کےذریعےمعلوم ہواکہ آپ کےوالدماجدوہاں تشریف لائے ہیں،آپ وہاں سے اٹھ کھڑےہوئے،آپ کےوالدماجدآپ کے پیچھےہولئے،آپ تھوڑی دورچل کرغائب ہوگئے۔
آپ کے والد نےگھرآکریہ واقعہ بیان کیا۔
بیعت وخلافت:
آپ کےوالدنےآپ کی یہ حالت دیکھ کربخوبی اندازہ لگالیاکہ آپ کی تعلیم وتربیت ان کےبس کی نہیں۔انہوں نےآپ کوفضیل قادری کےسپردفرمایا،آپ کی تعلیم وتربیت فضیل قادری کےزیر نگرانی ہوئی آپ بہت جلدعلوم ظاہری کی تکمیل وتحصیل سے فارغ ہوئے۔
تعلیم وتربیت:
آپ نےفضیل قادری کےدست حق پرست پربیعت کی اورانہیں سےخرقہ خلافت پایا،آپ نے سلوک کےتمام مدارج طے کئے،ریاضت،عبادت اورمجاہدہ میں کوئی کسراٹھانہ رکھی۔
پیرومرشدکی ہدایت:
آپ کےپیرومرشدنےآپ کےروحانی کمالات سےخوش ہوکرآپ کو ہندوستان کی ولایت عطا فرمائی،کہ ہندوستان جاکرتادم آخررشدوہدایت میں مشغول رہیں۔
سیروسیاحت:
بغدادسےروانہ ہوکرآپ نےعراق،ایران،مشہد،نجف اشرف تبریز،اصفہان کی سیروسیاحت فرمائی،بہت سےکامل درویشوں سےملےاوران کےفیض باطنی سےمستفیدہوئے۔
ہندوستان میں آمد:
سیروسیاحت فرماتےہوئےآپ ہندوستان پہنچے،ٹھٹھہ میں پہنچ کرایک سال قیام فرمایا،وہاں ملاسیدمحمد مدرس کوبیعت کیااورخرقہ خلافت سےسرفرازفرمایا۔
ٹھٹھہ سےآپ ملتان تشریف لےگئے،وہاں حمیدخاں نےآپ کاشانداراستقبال کیا۔ملتان سےآپ لدھیانہ میں رونق افروزہوئے۔لدھیانہ سےآپ(پائل)سرہندکےقریب)تشریف لےگئے۔
کتھیلی میں قیام:
پائل سےآپ کتھیلی تشریف لےگئےاورکتھیل کواپنی رشدوہدایت کامرکزبنایا۔کتھیل میں مفتیوں کااقتدارتھا،ان کی پانسوپالکیاں نکلاکرتی تھیں۔مفتی طرح طرح سےآپ کی مخالفت پر آمادہ ہوگئے،بہت سےلوگ مفتیوں کےبہکانےسےآپ کےمخالف ہوگئے،وہ طرح طرح سےآپ کو اذیت پہنچانےلگے۔
مفتی اپنی فتنہ پردازیوں سےبازنہ آئے،ایک دن آپ کوغصہ ہی آگیااورآپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے۔
"مفتیان کی جڑاللہ شہ کمال نےپٹی"
اس کےبعدسےمفتیوں کااقتدارگرناشروع ہوا،یہاں تک رفتہ رفتہ وہ سب نیست ونابود ہوگئے۔
آپ کتھیل میں بلاروک ٹوک رشدوہدایت فرماتے،لوگ آپ کی خدمت میں حاضرہوتے،آپ کا حلقہ ارادت روزبروزبڑھتاگیا۔
شادی اوراولاد:
آپ کےتینوں صاحب زادوں حضرت شاہ عمادالدین،حضرت شاہ موسیٰ،ابوالمکارم اورحضرت نورالدین صاحب کشف وکرامات تھے،ریاضت مجاہدہ اورتزکیہ نفس میں بےنظیرتھے۔
وفات:
آپ کوشغل میت سےکافی دلچسپی تھی،اسی شغل میں کئی کئی مہینےگزرجاتےتھے،آپ اپنےحجرے سے چھ چھ مہینےباہرتشریف نہیں لاتےتھے،ایک مرتبہ آپ کےصاحب زادےحضرت شاہ عماد الدین آپ کےحجرے کی طرف سےگزرے،انہوں دروازےمیں جھانک کردیکھاکہ آپ بے حس وحرکت لیٹے ہیں،دروازہ اتاراگیا،قریب جاکرجب آپ کودیکھاتومردہ پایا،نبض غائب تھی۔
غسل دیتےوقت آپ نےحرکت کی اورغسال سےفرمایاکہ"ہمارےمرنےکی خبرتمام شہرمیں پھیل گئی ہے"۔
غسال نےجواب دیاکہ جی ایساہی ہے۔
یہ سن کرآپ نےفرمایا"اچھاہم جاتے ہیں"۔
یہ کہااورجان شیریں جان آفریں کےسپردفرمائی۔۱؎اس طرح آپ کی وفات۱۹جمادی الثانی ۹۲۱ھ کوواقع ہوئی۔۲؎
خلفاء:
آپ کامزارمبارک کتھیل میں مرجع خاص وعام ہے۔
آپ کےمشہورخلفاء حسب ذیل ہیں۔
ملامحمدمدرس،شاہ سکندر،شاہ موسیٰ،ابوالمکارم،شیخ جلال الدین،کہکیہ ملتان،شاہ یوسف غوث بھکری، شیخ عبدالرحمٰن سرہندی،محمدخاں تاشقندی،ہاشم نجوتی،خواجہ امان اللہ حسینی شیخ قادری،خواجہ فتح علی خاں،خواجہ عین الدین گلانوری،خواجہ اسحاق،باواپوری شیخ عبدالاحد۔
سیرت پاک:
آپ کوحضرت غوث الاعظیم میراں محی الدین سیدعبدالقادرجیلانی رحمتہ اللہ علیہ
❤1
کی روح پرفتوح سے براہ راست اویسی طریقے سےفیض حاصل تھا۔کئی بزرگ ہستیوں نےآپ سے جلاوبقاءپائی، جس میں حضرت عبدالاحد،حضرت شاہ ہاشم بنوتی،حضرت شیخ طائربندگی اورباواستیل پوری قابل ذکر ہیں۔
آپ کی ذات ستودہ صفات کےذریعہ ےسےسلسلہ قادریہ کو کافی فروغ وعرف حاصل ہوا،آپ کی شخصیت،عظمت و بزرگی کااندازحضرت مجددالف ثانی کےان الفاظ سےبخوبی ہوتاہے۔۳؎
"ہم کوجب خاندان قادریہ کےمشائخ کاکشف ہوتاہےتوبعدحضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے شاہ صاحب جیساکوئی بزرگ نظرنہیں آتا۔
آپ صاحب کرامت اورصاحب تصرف بزرگوں میں سے تھے۔"جن کی نظیر اولیائے متقدمین میں کم نظرآتی ہے"۔
آپ صاحب کرامت اورصاحب تصرف بزرگوں میں سےتھے۔"جن کی نظیراولیائےمتقدمین میں کم نظرآتی ہے"۔
آپ کی قدرومنزلت سےکوئی انکارکی جراءت نہیں کرسکتا،آپ کتھیلی کےصاحب ولایت تھے، آپ کاشمارکاملین اولیائےکرام میں ہوتاہے،حضرت مجددالف ثانی فرماتےہیں۔۴؎
"مجھےنسبت فردینہ جس سے عروج آخرمخصوص ہے،اپنےوالد ماجد شیخ عبدالقادر بن زین العابدین سے حاصل ہوئی اورانہیں ایک بزرگ حضرت شاہ کمال قادری قدس سرہ سےجن کوجذبہ قوی
حاصل تھااورخوارق عادات میں شہرہ آفاق تھے،ہاتھ آئی"۔
آپ کوجلال بہت تھا،کوئی صاحب ولایت کتھیل کےقریب بغیرآپ کی اجازت کےنہیں آسکتا تھا، اگرکوئی ہمت کرتاتوآپ اس کی ساری صلاحیتیں سلب کرلیتےتھے۔آپ نےاپنےبڑےصاحب زادےشاہ عمادالدین کی صلاحیتیں ان سےکرامت سرزدہونےپرسلب کرلیں۔آپ کےچھوٹے صاحب زادےنورالدین سے جب کرامات سرزدہوئی توآپ نےان کےسینےپراپناہاتھ پھیرا،ہاتھ پھیرناتھاکہ ان کاانتقال ہوگیا۔
آپ اتباع سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت پابندتھے،کوئی کام شرع شریف کےخلافت نہیں کرتے تھے۔آپ تمام روحانی اوراخلاقی خوبیوں سےآراستہ تھے۔ریاضت اورمجاہدہ میں فقیدالمثال اور عبادت اورفقرمیں بےنظیرتھے۔فقروغناکادامن کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑتےتھے۔آپ سرخ رنگ کالباس زیب تن فرماتےتھے،کبھی کبھی آپ فوجی طرزکالباس پہنتےتھے۔
ارشادات:
آپ فرماتےہیں۔
"سالک مثل میت ہےاوریہ غسال کی مرضی پر منحصرہےکہ وہ ٹھنڈے پانی سے غسل دےیاگرم سے،میت کوکوئی حق نہیں کہ وہ غسال کےسامنےلب کشائی کرے"۔
کشف وکرامات:
ایک ہندوفقیراپنی آنتوں کونکال کرکتھیل کےتالاب کےکنارےصاف کرایاکرتاتھا،ایک روزآپ کا ادھرسےگزرہوا،آپ یہ دیکھ کرمسکرائے اورواپس تشریف لےآئے۔آپ کے آنےکےبعد جب باواسیتل پوری نےاپنی آنتوں کواندررکھناچاہاتووہ ٹھیک نہیں بیٹھیں،وہ پریشان ہوئے،آپ کے پاس آکراپنی پریشانی کی وجہ ظاہرکی۔۵؎
آپ نےان کوتوجہ دی،ان کاسینہ عشق الٰہی کاگنجینہ ہوگیا۔ظلمت دورہوئی،حجابات اٹھ گئےوہ آپ
کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے،آپ نےان کوکلاہ دےکرسرفرازفرمایا۔
ایک روزباواسیتل پوری آپ کےیہاں گئے،آپ کےچھوٹےصاحبزادےکوپژمردہ،ناتواں اور کمزوردیکھ کران سےوجہ پوچھی،بوجہ کم عمری وہ وجہ نہ چھپاسکے۔انہوں نے صاف صاف بتادیاکہ کئی دن کھاناکھائےہوگئےہیں۔باواسیتل پوری یہ سن کربےچین ہوگئے،فوراًواپس آگئےاور ایک پارس پتھرلےکرواپس آئے،پارس پتھرپیش کرتےہوئےانہوں نےعرض کیاکہ اس سےاگرلوہے کو مس کیاجائےلوہاسونابن جاتاہے۔
کچھ دنوں کے بعد جو باواسیتل پوری پھر درِ دولت پر حاضر ہوئے تو وہی حالت دیکھ کر حیران ہوئے کہ سنگ پارس کے ہوتے ہوئے یہ افلاس یہ غربت اوریہ ناداری اتنے میں آپ تشریف لائے اور باوا سیتل پوری سےفرمایا کہ آؤ باہر چلیں، دونوں کچھ دور کے ایک مقام پر پہنچ کر آپ نے استنجا کیا۔ استنجا کرکے ڈھیلا زمین پر زور سے دےمارا، جہاں ڈھیلا گراوہ زمین سونے کی ہو گئی۔
آپ نے باواسیتل پوری سے مخاطب ہوکر فرمایاکہ جتنا چاہو بلا تکلف اٹھالو، پھر فاقہ کشی کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایاکہ فاقہ کشی کی اصل وجہ یہ ہے کہ سنت رسول ادا کر رہا ہوں ۔
بعد ازاں باواسیتل پوری کاپیش کردہ سنگ پارس دریامیں ڈلوا دیا ۔
حواشی:
۱؎ گلزار الخوارق
۲؎ جواہر مجددیہ
۳؎ جواہر مجددیہ
۴؎ مبدآمعاد (اردو ترجمہ) ص۳،۲
۵؎ گلزار الخوارق
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-kamal-kaithalwi
آپ کی ذات ستودہ صفات کےذریعہ ےسےسلسلہ قادریہ کو کافی فروغ وعرف حاصل ہوا،آپ کی شخصیت،عظمت و بزرگی کااندازحضرت مجددالف ثانی کےان الفاظ سےبخوبی ہوتاہے۔۳؎
"ہم کوجب خاندان قادریہ کےمشائخ کاکشف ہوتاہےتوبعدحضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے شاہ صاحب جیساکوئی بزرگ نظرنہیں آتا۔
آپ صاحب کرامت اورصاحب تصرف بزرگوں میں سے تھے۔"جن کی نظیر اولیائے متقدمین میں کم نظرآتی ہے"۔
آپ صاحب کرامت اورصاحب تصرف بزرگوں میں سےتھے۔"جن کی نظیراولیائےمتقدمین میں کم نظرآتی ہے"۔
آپ کی قدرومنزلت سےکوئی انکارکی جراءت نہیں کرسکتا،آپ کتھیلی کےصاحب ولایت تھے، آپ کاشمارکاملین اولیائےکرام میں ہوتاہے،حضرت مجددالف ثانی فرماتےہیں۔۴؎
"مجھےنسبت فردینہ جس سے عروج آخرمخصوص ہے،اپنےوالد ماجد شیخ عبدالقادر بن زین العابدین سے حاصل ہوئی اورانہیں ایک بزرگ حضرت شاہ کمال قادری قدس سرہ سےجن کوجذبہ قوی
حاصل تھااورخوارق عادات میں شہرہ آفاق تھے،ہاتھ آئی"۔
آپ کوجلال بہت تھا،کوئی صاحب ولایت کتھیل کےقریب بغیرآپ کی اجازت کےنہیں آسکتا تھا، اگرکوئی ہمت کرتاتوآپ اس کی ساری صلاحیتیں سلب کرلیتےتھے۔آپ نےاپنےبڑےصاحب زادےشاہ عمادالدین کی صلاحیتیں ان سےکرامت سرزدہونےپرسلب کرلیں۔آپ کےچھوٹے صاحب زادےنورالدین سے جب کرامات سرزدہوئی توآپ نےان کےسینےپراپناہاتھ پھیرا،ہاتھ پھیرناتھاکہ ان کاانتقال ہوگیا۔
آپ اتباع سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت پابندتھے،کوئی کام شرع شریف کےخلافت نہیں کرتے تھے۔آپ تمام روحانی اوراخلاقی خوبیوں سےآراستہ تھے۔ریاضت اورمجاہدہ میں فقیدالمثال اور عبادت اورفقرمیں بےنظیرتھے۔فقروغناکادامن کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑتےتھے۔آپ سرخ رنگ کالباس زیب تن فرماتےتھے،کبھی کبھی آپ فوجی طرزکالباس پہنتےتھے۔
ارشادات:
آپ فرماتےہیں۔
"سالک مثل میت ہےاوریہ غسال کی مرضی پر منحصرہےکہ وہ ٹھنڈے پانی سے غسل دےیاگرم سے،میت کوکوئی حق نہیں کہ وہ غسال کےسامنےلب کشائی کرے"۔
کشف وکرامات:
ایک ہندوفقیراپنی آنتوں کونکال کرکتھیل کےتالاب کےکنارےصاف کرایاکرتاتھا،ایک روزآپ کا ادھرسےگزرہوا،آپ یہ دیکھ کرمسکرائے اورواپس تشریف لےآئے۔آپ کے آنےکےبعد جب باواسیتل پوری نےاپنی آنتوں کواندررکھناچاہاتووہ ٹھیک نہیں بیٹھیں،وہ پریشان ہوئے،آپ کے پاس آکراپنی پریشانی کی وجہ ظاہرکی۔۵؎
آپ نےان کوتوجہ دی،ان کاسینہ عشق الٰہی کاگنجینہ ہوگیا۔ظلمت دورہوئی،حجابات اٹھ گئےوہ آپ
کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے،آپ نےان کوکلاہ دےکرسرفرازفرمایا۔
ایک روزباواسیتل پوری آپ کےیہاں گئے،آپ کےچھوٹےصاحبزادےکوپژمردہ،ناتواں اور کمزوردیکھ کران سےوجہ پوچھی،بوجہ کم عمری وہ وجہ نہ چھپاسکے۔انہوں نے صاف صاف بتادیاکہ کئی دن کھاناکھائےہوگئےہیں۔باواسیتل پوری یہ سن کربےچین ہوگئے،فوراًواپس آگئےاور ایک پارس پتھرلےکرواپس آئے،پارس پتھرپیش کرتےہوئےانہوں نےعرض کیاکہ اس سےاگرلوہے کو مس کیاجائےلوہاسونابن جاتاہے۔
کچھ دنوں کے بعد جو باواسیتل پوری پھر درِ دولت پر حاضر ہوئے تو وہی حالت دیکھ کر حیران ہوئے کہ سنگ پارس کے ہوتے ہوئے یہ افلاس یہ غربت اوریہ ناداری اتنے میں آپ تشریف لائے اور باوا سیتل پوری سےفرمایا کہ آؤ باہر چلیں، دونوں کچھ دور کے ایک مقام پر پہنچ کر آپ نے استنجا کیا۔ استنجا کرکے ڈھیلا زمین پر زور سے دےمارا، جہاں ڈھیلا گراوہ زمین سونے کی ہو گئی۔
آپ نے باواسیتل پوری سے مخاطب ہوکر فرمایاکہ جتنا چاہو بلا تکلف اٹھالو، پھر فاقہ کشی کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایاکہ فاقہ کشی کی اصل وجہ یہ ہے کہ سنت رسول ادا کر رہا ہوں ۔
بعد ازاں باواسیتل پوری کاپیش کردہ سنگ پارس دریامیں ڈلوا دیا ۔
حواشی:
۱؎ گلزار الخوارق
۲؎ جواہر مجددیہ
۳؎ جواہر مجددیہ
۴؎ مبدآمعاد (اردو ترجمہ) ص۳،۲
۵؎ گلزار الخوارق
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-kamal-kaithalwi
scholars.pk
Hazrat Shah Kamal Kethli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔ لقب: سراج الملت، محسن الامت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر سید محمد حسین بن پیر سید جماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبد الرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔ آپ ’’ نجیب الطرفین سید ‘‘ اور ساداتِ شیراز سے آپ کا تعلق ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند، ص:526) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو امیرِ ملت حضرت پیر حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ کے گھر ، علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں، بوقتِ صبح صادق، ساعتِ سعید میں ہوئی ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ نے آپ کے چاند سے بڑھ کر حسین چہرے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے، اور بے اختیار ہو کر گود میں اٹھا لیا اور دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی ۔ اور پھر دعائے خیر کی ۔ (ایضا:526) ۔
آپ دو تین مہینے کے تھے کہ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی تشریف لائے تو آپ کے چچا حضرت سیّد صادق شاہ آپ کو اپنی گود میں لے کر حضرت بابا صاحب کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ ’’ اس پر دَم کر دیجیے ۔ یہ اکثر روتا رہتا ہے ‘‘ ۔ حضرت بابا جی نے دم کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ یہ رونے والا بچہ نہیں ہے، یہ بڑا مرد ہوگا اور ہمیشہ خوش و خرم رہےگا ‘‘ ۔ (ایضا:526) ـ
تحصیلِ علم:
آپ کا بچپن نہایت پاکیزہ اور شگفتہ تھا، اونچی آواز سے نہیں بولتے تھے ۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے ۔ کپڑے صاف ستھرے رکھتے تھے ۔ جب آپ کی عمر مبارک سوا چار سال کی ہوئی تو آپ کو حضرت قاری حافظ شہاب الدین کی خدمت میں کلامِ مجید کے حفظ کے لیے بٹھایا گیا، اور آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد علی پور سیداں کے پرائمری اسکول سے پرائمری کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرکے قلعہ سُوبھا سنگھ سے مڈل پاس کیا، اور دینیات کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا عبد الرشید صدیقی کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا ۔ ابتدائی کتب پڑھنے کے بعد اُستاذ العلماء حضرت مولانا نور احمد نقشبندی امر تسری (محشی مکتوبات شریف، پسرور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ آپ مولانا احمد حسن کانپوری، مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، سے علوم دینیہ حاصل کیے ۔ بعد ازاں مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی ۔ (علیہم الرحمہ) سے بھی استفادہ کیا ۔ امر تسر میں مدرسہ نعمانیہ قائم کیا جس سے بے شمار لوگوں نے علمی پیاس بجھائی ۔
وصال:
آپ کی وفات 14 جنوری 1930ء کو ہوئی) کے پاس امرتسر جاکر اکتسابِ علم کرتے رہے ۔ امرتسر میں تحصیل علم کے بعد آپ نے دار العلوم انجمن نعمانیہ لاہور اور پھر مدرسہ امینیہ دہلی میں داخلہ لیا ۔ درسِ نظامی کی تمام اعلیٰ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، فلسفہ وغیرہ کی تکمیل وہیں سے کی ۔ قیامِ دہلی کے دوران ہی مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے کر طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ آپ حکیم صاحب موصوف کے لائق ترین شاگرد وں میں شمار ہوتے تھے ۔ (ایضا: 527) ـ
بیعت و خلافت:
شروع میں آپ نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی کے دستِ اقدس پر سعادتِ بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے، اُن کی رحلت کے بعد والدِ گرامی حضرت امیر ملّت قدس سرہ سے بیعت ہو کر 11 مئی 1914ء کو بر موقع سالانہ جلسہ علی پور سیداں خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیات ظاہری ہی میں آپ کے علم و عرفان کی دھوم مچ گئی تھی ۔ ہزاروں لوگ آپ سے بیعت ہوکر گمراہی سے نجات حاصل کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن ہو گئے ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کو جب فرصت نہ ہوتی تو لوگوں کو بیعت کے لیے آپ کی خدمت میں بھیج دیتے ۔ یہ شرف حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیاتِ طیّبہ میں خاندان کے کسی اور کو حاصل نہیں ہوا ۔ (ایضا:528) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔ لقب: سراج الملت، محسن الامت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر سید محمد حسین بن پیر سید جماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبد الرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔ آپ ’’ نجیب الطرفین سید ‘‘ اور ساداتِ شیراز سے آپ کا تعلق ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند، ص:526) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو امیرِ ملت حضرت پیر حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ کے گھر ، علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں، بوقتِ صبح صادق، ساعتِ سعید میں ہوئی ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ نے آپ کے چاند سے بڑھ کر حسین چہرے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے، اور بے اختیار ہو کر گود میں اٹھا لیا اور دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی ۔ اور پھر دعائے خیر کی ۔ (ایضا:526) ۔
آپ دو تین مہینے کے تھے کہ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی تشریف لائے تو آپ کے چچا حضرت سیّد صادق شاہ آپ کو اپنی گود میں لے کر حضرت بابا صاحب کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ ’’ اس پر دَم کر دیجیے ۔ یہ اکثر روتا رہتا ہے ‘‘ ۔ حضرت بابا جی نے دم کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ یہ رونے والا بچہ نہیں ہے، یہ بڑا مرد ہوگا اور ہمیشہ خوش و خرم رہےگا ‘‘ ۔ (ایضا:526) ـ
تحصیلِ علم:
آپ کا بچپن نہایت پاکیزہ اور شگفتہ تھا، اونچی آواز سے نہیں بولتے تھے ۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے ۔ کپڑے صاف ستھرے رکھتے تھے ۔ جب آپ کی عمر مبارک سوا چار سال کی ہوئی تو آپ کو حضرت قاری حافظ شہاب الدین کی خدمت میں کلامِ مجید کے حفظ کے لیے بٹھایا گیا، اور آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد علی پور سیداں کے پرائمری اسکول سے پرائمری کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرکے قلعہ سُوبھا سنگھ سے مڈل پاس کیا، اور دینیات کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا عبد الرشید صدیقی کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا ۔ ابتدائی کتب پڑھنے کے بعد اُستاذ العلماء حضرت مولانا نور احمد نقشبندی امر تسری (محشی مکتوبات شریف، پسرور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ آپ مولانا احمد حسن کانپوری، مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، سے علوم دینیہ حاصل کیے ۔ بعد ازاں مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی ۔ (علیہم الرحمہ) سے بھی استفادہ کیا ۔ امر تسر میں مدرسہ نعمانیہ قائم کیا جس سے بے شمار لوگوں نے علمی پیاس بجھائی ۔
وصال:
آپ کی وفات 14 جنوری 1930ء کو ہوئی) کے پاس امرتسر جاکر اکتسابِ علم کرتے رہے ۔ امرتسر میں تحصیل علم کے بعد آپ نے دار العلوم انجمن نعمانیہ لاہور اور پھر مدرسہ امینیہ دہلی میں داخلہ لیا ۔ درسِ نظامی کی تمام اعلیٰ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، فلسفہ وغیرہ کی تکمیل وہیں سے کی ۔ قیامِ دہلی کے دوران ہی مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے کر طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ آپ حکیم صاحب موصوف کے لائق ترین شاگرد وں میں شمار ہوتے تھے ۔ (ایضا: 527) ـ
بیعت و خلافت:
شروع میں آپ نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی کے دستِ اقدس پر سعادتِ بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے، اُن کی رحلت کے بعد والدِ گرامی حضرت امیر ملّت قدس سرہ سے بیعت ہو کر 11 مئی 1914ء کو بر موقع سالانہ جلسہ علی پور سیداں خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیات ظاہری ہی میں آپ کے علم و عرفان کی دھوم مچ گئی تھی ۔ ہزاروں لوگ آپ سے بیعت ہوکر گمراہی سے نجات حاصل کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن ہو گئے ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کو جب فرصت نہ ہوتی تو لوگوں کو بیعت کے لیے آپ کی خدمت میں بھیج دیتے ۔ یہ شرف حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیاتِ طیّبہ میں خاندان کے کسی اور کو حاصل نہیں ہوا ۔ (ایضا:528) ـ
❤1