🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.83K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-10-1444 ᴴ | 27-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-10-1444 ᴴ | 27-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ ہبیرہ بصری

آپ حضرت خواجہ مرعشی کے خلیفۂ اعظم تھے امین الدین لقب رکھتے تھے، مشائخ عصر میں بلند رتبہ اور عالی مقام رکھتے تھے،فقر میں بلند درجات اور ارفع مقام حاصل تھا، سترہ سال کی عمرمیں ظاہری علوم سے فارغ ہوگئے اور ایک کامل دانشور کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ ہر روز دو بار ختم قرآن فرمایا کرتے تھے مجاہدہ و ریاضت میں بے مثال تھے ایک دن اللہ کی محبت میں زار و قطار رو رہے تھے آواز آئی ہبیرہ، ہم نے تمہیں بخش لیا ہے، حصول مقامات کے لیے حذیفہ مرعشی کے پاس جاؤ آپ خواجہ مرعشی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہوئے، مگر مرید ہونے سے پہلے آپ نے تیس سال ریاضت شاقہ میں گزارے پھر ایک ہفتہ میں ہی مقام قرب نصیب ہوگیا، ایک سال بعد خرقۂ خلافت ملا، جس دن سے خلافت ملی شکر اور نمک کھانا بند کردیا لذیذ کھانے ترک کردیے، اس قدر روتے کہ بعض اوقات حاضرین کو اندیشہ ہوتا کہ آپ فوت ہوجائیں گے، آپ کی ساری زندگی ایک صومعہ میں گزری کبھی کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے اور نہ ہی دنیا داروں کو منہ لگایا۔

آپ کا وصال ۲۸۷ھ بتاریخ ہفتم ماہ شوال ہوا۔

شد چو از دنیا بفردوس بریں
آں ہبیرہ خواجۂ عالی مکان
وصل او کامل امین الدین بود
۲۸۷ھ
رحلتش زاہد کریم آمد عیاں
۲۸۷ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-hubairah-busri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
فرید العصر مولانا فرید الدین

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا فریدالدین ۔لقب: فرید العصر ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا فریدالدین بن حضرت علامہ مولانا احمد الدین بن مولانا امیر حمزہ علیہم الرحمہ ۔

مولانا فرید الدین کے والد حضرت مولانا احمد الدین اپنے وقت کے جید عالمِ دین اور خدا رسیدہ بزرگ اور سیدنا پیر مہر علی شاہ ﷫کے شاگرد رشید تھے۔مناظرۂ لاہور میں بھی ساتھ تھے۔ان کے عم بزرگوار مولانا محمد شفیع قریشی ﷫ حضرت مجدد گولڑوی﷫کے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں،حضرت گولڑوی﷫ موضع بھوئی میں ایک عرصہ قیام کرکےمولانا قریشی ﷫ سےعلمی استفادہ کرچکےتھے۔مولانا فریدالدین کےدادا مولانا امیر حمزہ ﷫ اپنے وقت کےاستاذ الاساتذہ تھے، حضرت مجدد گولڑوی﷫ آپ کوہمیشہ مخدومی و مکرمی کے الفاظ سے ذکر کرتےتھے ۔

آپ کا سلسلۂ نسب امام محمد بن حنفیہ کے واسطہ سے امیر المؤ منین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ملتا ہے ۔ آپ کا علمی خاندان پورے علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا ۔ (مہر انور ص:240)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1324ھ مطابق 1906ء کوقصبہ ’’بھوئی‘‘ ضلع کیمبل پور(موجودہ نام اٹک ) میں ہوئی۔

تحصیل علم:
چا ر پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک پڑھنے کے لئے گاؤں کی مسجد میں جانا شرو ع کیا ، بعد ازاں درس نظامی کی کتابیں اپنے بڑے بھائی استاذالاساتذہ مولانا محب النبی ﷫ سے پڑھنا شروع کیں،بعض آخری کتابیں مثلا حمد اللہ، شرح سلم وغیرہ والد ماجد سے پڑھیں۔تکمیل علوم کے لئے علوم علامۂ زماں مولانا مشتاق احمد کانپوری بن استادِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری قدس سرہما کی خدمت میں کانپور حاضر ہوئے۔جب علامہ مشتاق احمد جامعہ نعیمیہ مرادآباد تشریف لائے تو دوسرے طلباء کے ہمراہ آپ بھی تھے۔ پھر جب علامہ مراد آباد سے میرٹھ تشریف لے گئے تو مولانا فرید الدین ،حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی گجراتی رحمہا اللہ تعالیٰ او ر دوسرے طلباء کسب فیض کے لئے ان کے ہمراہ میرٹھ چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ابتداء ہی سے ذہن رسا، تقویٰ و پرہیزگاری اور سلامتی طبع ایسے اوصاف سے نواز ا تھا ۔

دورِ طالب علمی میں بھی آپ کی یہ صفا ت نمایاں رہیں۔ آ کے فرزند ارجمند مولانا حسن الدین ہاشمی کا بیان ہے :’’ایک مرتبہ ملتان کے سفر کے دوران جب میں نے حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی﷫ کو اپنے والدماجد کے حوالے سے اپنا تعارف کرایا و وہ خوشی سے جھوم اٹھے اور فرمایا اچھا آپ مولانا فرید کےصاحبزادے ہیں؟ ہم انہیں طالب علمی کے دور میں مولانا فرید کے نام سے پکارا کرتے تھے وہ بہت قابل اور پرہیز گار طالب ِعلم تھے اور اپنے ساتھی طلباء کو حمد اللہ وغیرہ پڑھایا کرتے تھے‘‘۔میرٹھ سے واپس آکر کچھ کتابیں والدِگرامی سے اور زیادہ تر اپنے بڑے بھائی استاذ العلماء مولانا محب النبی سے پڑھیں اور سند حدیث بھی انہی سے حاصل کی۔تقریباً 1350ھ/1931ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں شیخ الاسلام غوث الاسلام حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی ﷫ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔آپ کو اپنے پیر طریقت او ر شیخ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ سے بے پناہ عقیدت و محبت تھی،اسی طرح ان کے صاحبزادے حضرت پیر سید غلام محی الدین ﷫سجادہ نشین گولڑہ شریف سے بھی بےحدنیاز مندی رکھتے تھے،ان کا حکم کبھی نہ ٹالتے اور ان کے حکم کے مقابل ہرشخص کی بات کو ٹھکرا دیتے تھے۔جس مدرسہ میں بھی تدریس کے لئے تشریف لےجاتے پہلے ان سے اجازت لیتے اور جب وہ فرماتے واپس آجاتے،انہی کے ایماء پرآپ کے اکثرو بیشتر اوقات قصبہ بھوئی میں گزارے۔بعض اوقات آپ کو اس جگہ تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا،لیکن آپ کے پائے اثبات میں کبھی لغزش نہ آئی۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:376)

سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، حاوی الفروع والاصول، استاذ العلماء، رئیس الفضلاء مجاہدِ تحریک پاکستان وختم نبوت، فرید العصر حضرت علامہ مولانا فرید الدین ﷫۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے ۔ ساری زندگی قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا وظیفہ جاری رہا ۔ آپ نے اہل سنت و جماعت کو مدرسین مصنفین، واعظین کی ایک جماعت تیار کرکے دی ۔ جنہوں نے اہل سنت کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔ آپ ﷫ درویش منش اور صوفی مزاج شخصیت کے حامل ہونے کے باوجود تحریک پاکستان اور تحریک ختم نبوت میں بھر پور کردار ادا کیا ۔
1
آپ کا زمانۂ تدریس بیالیس سال پر پھیلا ہوا ہے جس میں سے زیادہ تر وقت اپنے آبائی گاؤں بھوئی میں گزارا، اس کے علاوہ مختلف اوقات میں جامعہ غوثیہ، گولڑہ شریف، جامعہ محمدیہ بھیرہ، جامعہ رضویہ وار برٹن، دار العلوم مکھڈ شریف، دار العلوم ترگ شریف،دار العلوم لا لہ موسیٰ وغیرہ میں پڑھاتے رہے ۔ آپ منتہی کتب کے بیس بیس سبق یومیہ پڑھاتے رہے ہیں،اس کے باوجود با قاعد گی کے ساتھ ہر کتاب کا مطالعہ فرماتے او ر طلباء کو بھی یہی تلقین فرماتے۔فرمایا کرتے تھےکہ مطالعہ کے بغیر مدرس خود بے یقینی سے دو چار رہتا ہے، طلبہ کو یقین کی نعمت سےکس طرح بہرہ ور کرسکتا ہے ۔

آپ کا معمول یہ تھا کہ سحری کے وقت مختصر اورادو وظائف پڑھنے کے بعد مطالعۂ کتب میں مصرو ف ہو جاتے، نماز ِفجر سےظہر تک اسباق پڑھاتے اور نماز کے بعد پھر مطالعہ میں محو ہو جاتے، عمر کے آخری حصے میں نا سازی طبع کی بناء پر اسباق کم کر دئیے اور اسی تناسب سے اوراد و وظائف میں اضافہ ہو گیا ۔

تحریکِ پاکستان میں خدمات:
آپ بنیادی طور پر عالمِ دین، صوفی اور مدرس تھے اس لئے سیاست کےساتھ کچھ زیادہ لگاؤنہ تھا ۔ لیکن دو مواقع ایسے آئے کہ آپ سر گرم ِسیاست ہوئے۔ 1946ء کے انتخابات کے موقع پر آپ نےمسلم لیگ کی پر زور حمایت کی او دوسرے لوگوں کو بھی یہی تبلیغ کی جب بعض کا نگریسی ذہن کے مولوی، جناب قائد اعظم پر تنقید کرتےتو آپ فرماتے:’’اس وقت کفر اور اسلام کا مقابلہ ہے،قائد اعظم ایک مسلمان ہے اور اسلام کا نمائندہ ہے جبکہ گاندھی کافر ہے اور کفر کا نمائندہ ہے اس لئے اس موقع پر قائد اعظم کا ساتھ دینا اسلام کا ساتھ دینا ہے اور گاندھی کا ساتھ دینا دانستہ یا نا دانستہ طور پر کفر کو ساتھ دینا ہے‘‘ ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:377)

دوسرا موقع 1953ء میں آیا جب ناموس رسالتﷺکےتحفظ کی خاطر مرزائیوں کے خلاف تحریک ختم نبوت شروع ہوئی، آپ نے بڑی تندہی سے اس میں حصہ لیا، تقریریں کیں،جلوسوں میں شریک ہوئے، ایک جلوس آپ کی قیادت میں بھوئی سے حسن ابدال پہنچا ۔ اس وقت تو حکومت نے آپ کو گرفتار نہ کیا لیکن جب راولپنڈی جاکر ایک جلوس میں شریک ہوئے تو گرفتار کر کے سنٹرل جیل بھیج دئیے گئے جہاں اسی تحریک کے سلسلے میں آپ کے فرزند ارجمند مولانا حسن الدین ہاشمی پہنچ چکے تھے۔آپ نہایت خوش اخلاق،کم گو ،جید عالم دین او ر متواضع شخصیت کے حامل تھے، تصنع اور تکبر سے انہیں کوئی واسطہ نہ تھا ، سادگی کا پیکر مجسم تھے۔ آپ سرور دو جہاں،محبوب رب انس وجاں ﷺ کی محبت سے شرشار تھے، جب کبھی نعت شریف سنتے تو آپ پر رقت طاری ہو جاتی،اولیائےکرام کابہت احترام کیا کرتے تھے،جہاں جاتے اہل اللہ کی جستجو میں رہتے۔ شیخ الفقہ والقانون حضرت مولانا حسن الدین ہاشمی شیخ الافقہ جامعہ اسلامیہ بہاول پورپنجاب آپ کےفرزند ارجمند ہیں۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 7 شوال المکرم 1392ھ مطابق 14 نومبر 1972ء بروز منگل بوقت 1:30 واصل بااللہ ہوئے ۔ حسبِ وصیت والد ماجد کی مولانا احمد الدین کے پہلو میں دفن ہوئے ۔ قصبہ بھوئی ضلع اٹک آخری آرام گاہ ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ مہر انور ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/fareed-ul-asr-hazrat-molana-fareeduddin-bhoi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مولانا ظہور الحسن درس رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا ظہورالحسن درس۔لقب:افتخار اہل سنت،خطیب اہل سنت،قائد اہل سنت۔تخلص: درس۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ مولانا مولانا ظہورالحسن درس بن شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالکریم درس بن شیخ التفسیر علامہ عبداللہ درس بن مولانا خیر محمددرس بن مولانا عبدالرحیم درس۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 5/ذوالحج 1322ھ،مطابق 9/فروری 1905ء بروز جمعرات ،صدرکراچی میں ہوئی۔

تحصیل علم:علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور جد امجد کے قائم کردہ مدرسہ درسیہ صدر کراچی میں تعلیم و تربیت حاصل کی ۔ والد گرامی علامہ عبدالکریم درس اور مولانا صوفی عبداللہ درس سے درسی نصاب میں تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے۔ تمام علوم متدوالہ میں مہارت ِ تامہ رکھتےتھے۔

بیعت وخلافت: آپ خانوادہ گیلانیہ بغداد شریف کے ایک عظیم بزرگ حضرت سید عبدالسلام گیلانی قادری سے سلسلہ قادریہ میں بیعت و خلافت سے سر فراز تھے ۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:385)

سیرت وخصائص: افتخار اہل سنت،خطیب اہل سنت،محسن ملک وملت،جامع شریعت وطریقت،قائد تحریک پاکستان حضرت علامہ مولانا ظہورالحسن درس رحمۃ اللہ علیہ۔آپ﷫ کا خاندان علم وفضل تقوی ٰ ودینداری میں بےمثال ہے۔آپ کےوالد گرامی شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالکریم درس ﷫اپنے وقت کےعظیم صوفی اور جید عالم دین تھے۔ان کےاعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضاخان قادری﷫ کےساتھ خصوصی تعلقات تھے۔بلکہ جب مولاناامام احمد رضا خان﷫1905ء میں دوسری بار حج سے واپس ہوئے تو کراچی میں مولانا عبدالکریم درس کے ہاں قیام فرمایا ،اور یہیں سے واپس بمبئی تشریف گئے ۔آپ کے خاندانی کتب خانہ میں اب بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خطوط موجود ہیں۔ اعلیٰ حضرت کےوصال کےبعد آپ کےصاحبزادے حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامدرضاخاں علیہ الرحمہ کے آپ کےساتھ گہرے تعلقات رہے۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کےتیسرے عرس کےموقع پر آپ خصوصی طور پرمدعو تھے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:438)

مولاناظہور الحسن درس اپنے والد گرامی اور جدامجد کی پیروی میں عید گاہ بند ر روڈ ( تقسیم ہند سے پہلے کراچی شہر میں نماز عید کا مرکزی اجتماع صرف عید گاہ میدان بندر روڈ پر ہوتا تھا اور نماز عید آپ ہی پڑ ھاتے تھے اور یہاں علماء و مشائخ و حفاظ و سادات کا اچھا خاصا اجتماع ہوتا تھا ) میں جمعہ اور عیدین کی امامت و خطابت کے جملہ فرائض انجام دیا کرتے تھے۔آپ کی مادری زبان سندھی تھی لیکن اردو ، اردو دانوں کے لب و لہجہ سے بولتے تھے،سندھی اردو کے شاعر اور جادوبیاں خطیب تھے ۔ عید گاہ گراؤ نڈ میں آپ کا خطاب سننے کیلئے دور دراز سے لوگ کھینچے چلے آتے تھے ۔ آپ نہ صرف سحربیاں مقرر تھے بلکہ علوم دینیہ اور علوم جدید ہ کا بہترین امتزاج تھے۔

تحریکِ پاکستان میں عظیم خدمات: 12۔13 فروری 1946ء کو قیام پاکستان سے صرف ڈیڑھ سال قبل تحریک پاکستان کے سلسلے میں اسی عید گاہ قصاباں میں آل انڈیا سنی کانفرنس کا انعقاد بحیثیت جنرل سیکریٹری مسلم جماعت انتظامیہ (رجسٹرڈ ) سر براہ جماعت اہل سنت،رکن آل انڈیا سنی کانفرنس حضرت علامہ ظہور الحسن درس ہوا ۔ جس میں برصغیر پاک وہند کےجید علماءکرام ومشائخ عظام نے شرکت کی اور تحریک پاکستان سے وابستگی کے عزم کو دہرایا اور بنارس سنی کانفرنس اور اجمیر سنی کانفرنس کی طرح تجدید عہد کیا ۔ علامہ ظہور الحسن﷫ درس کی دعوت پر میرٹھ سے حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی﷫ ، بدایون سے علامہ عبدالحامد بدایونی﷫ اور بریلی شریف سے حضرت علامہ حامد رضا خان بریلوی﷫ اور مراد آباد سے حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی ﷫و دیگر نے شرکت فرمائی۔ علامہ درس جو کراچی سنی کانفرنس کے روح رواں تھے تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے سلسلہ میں ایک تاریخی خطبہ دیا ۔ جس میں مملکت خداداد پاکستان کے مقاصد پر روشنی ڈالی، آپ کا یہ خطبہ تاریخ پاکستان کا ایک سنہراباب ہے۔حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آباد ی نے بنارس سنی کانفرنس 1946ء کے موقع پر علامہ ظہور الحسن درس کو جماعت اہل سنت کے احیا ء کیلئے پچاس روپے کا فنڈ عنایت کیا تھا اور جس کی بقیہ رقم 27روپے بعد میں علامہ درس نے علامہ مراد آبادی کو واپس لوٹا دی اور فرمایا’’ کل23 روپے خرچ کئے تھے کہ جماعت اہل سنت خود کفیل ہوگئی ‘‘۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:385)

سب سے پہلی قرار داد پاکستان: حضرت علامہ ظہور الحسن درس نے مذہبی اور قانونی پہلووٗ ں کو مد نظر رکھتے ہوئے 1935ء میں مسلم جماعت انتظامیہ جامع مسجد قصاباں صدر و عید گاہ بند روڈ کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیا جسے سوسا ئٹی ایکٹ 1860ء کے تحت سندھ کے دارالحکومت بمبئی سے 36 1935ء میں رجسٹرڈ کرایا ۔ اس رجسٹرڈ ٹرسٹ کے ٹرسٹی متولی سیکریٹری جنرل اور سر براہ علامہ ظہور الحسن درس تھے ۔ اور تحریک پاکستان کے سر کردہ رہنماوٗ ں میں شامل تھے ۔ تحریک پاکستان کے سلسلے میں 11/ اکتوبر 1938ء
1
کوصوبائی کانفرنس قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں اسی عید گاہ میدان بند ر روڈ میں منعقد ہوئی ، جس کی اہمیت یہ ہے کہ 1940ء کی قرار داد پاکستان لاہور سے قبل یہی قرار داد پاکستان اسی عید گاہ میں بھاری اکثریت کے ساتھ منظور ہوئی اور معمولی سے ردو بدل کے ساتھ 23/ مارچ 1940ء کو لاہور میں منظور کی گئی ۔چنانچہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ 1938ء میں سندھ اسمبلی میں جو قرار داد پاکستان کی حمایت کی منظور ی دی گئی اور یہ وہ قرار دا دہے جو برصغیر پاک و ہند میں سب سے پہلے منظور ہوئی اس کو عوامی حمایت و تائید اسی عید گاہ میدان میں حاصل ہوئی ، جس کے ٹرسٹی سیکرٹری جنرل اور خطیب علامہ ظہور الحسن درس تھے ۔ 14 15 اکتوبر 1939ء کو علامہ درس کی کاوشوں سے اسی عید گاہ میں ایک تاریخی جلسہ منعقد ہوا جس میں برصغیر پاک و ہند کے صف اول کے رہنما شریک ہوئے ۔

15 دسمبر 1941ء کو اسی عید گاہ قصابا ں میں حضرت علامہ ظہور الحسن درس کی صدارت میں کراچی مسلم لیگ کا نفرنس منعقد ہوئی ۔ 1938ء میں عید گاہ بندر روڈ پر نماز عید کے اجتماع میں جہاں کراچی کا مرکزی اجتماع منعقد ہوتا تھا علامہ ظہور الحسن درس نے ایک ولولہ انگیز تقریر فرمائی اور سندھ کے کانگریسی وزیر اعلی اللہ بخش سومرو کے خلاف عوامی قرار داد منظور کروائی جس کے بعد سندھ میں صوبائی حکومت کی تبدیلی کا عمل شروع ہوا اور کانگریسی حکومت کے خلاف عوامی سطح پر منظم تحریک کا آغاز ہوا۔ علامہ درس 1940 ء تا 1947ء آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے رکن اور سندھ پر اونشنل مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم اجلاسوں میں سندھ کے نمائندہ و فد میں شریک رہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علماء ومشائخ اہل سنت نے مسلم لیگ کی سب سے پہلے اور کھل کر حمایت کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ کی بھر پور،بے لوث اور بے باک حمایت کا سہرا علماء و مشائخ اہل سنت ہی کے سر ہے ۔

دستورِ پاکستان:
13 فروری 1949ء بمقام جہانگیر پارک صدر کراچی میں جمعیت علماء پاکستان کے قیام کے بعد اس کے سالانہ اجلاس میں علامہ ظہور الحسن درس نے جمعیت علماء پاکستان کی سالانہ کارکردگی بحیثیت ناظم عمومی پیش کر تے ہوئے فرمایا کہ فروری 1949ء کے گذشتہ اجلاس میں سب سے اہم مسئلہ اسلامی دستور کی تیاری اور نفاذ کا تھا ۔ جمعیت علماء پاکستان نے اس مطالبہ کو موثر بنانے کے لئے امکانی ذرائع اختیار کئے مقام مسرت ہے کہ ہماری مملکت نے پاک دستور کے اجلاس میں اعلان کر دیا کہ اس مملکت کے دستور کی بنیاد و اساس کتاب و سنت پر ہو گی ۔ اس اعلان پر پاکستان کے مسلمانوں نے مسرت کے جذبات کا اظہار کیا مگر انتہائی افسوس کے ساتھ اس کا اظہار کرنا پڑ تا ہے کہ ایک سال کی طویل مدت میںاسلامی دستور مرتب کرنے والی کمیٹی نے کیا کام کیا؟ ا س کا عام و خاص طور پر کسی کو علم نہیں ۔ چنانچہ جمعیت علمائے پاکستان کا ایک وفد جس میں مولانا ظہور الحسن درس ، مولانا عبدالحامد بدایونی اور مولانا قاری مصلح الدین شامل تھے ۔علامہ ظہور الحسن درس اور ان کے رفقاء کا یہ وہ عظیم کارنامہ ہے جو قرار داد مقاصد کی منظوری کا سنگ میل تھا ۔ قرار داد مقا صد ملک میں اسلامی دستور کی طرف وہ پہلا مثبت و ٹھوس قدم ہے جس کے ذریعہ ملک کے دستوری و آئینی رخ کو صحیح سمت اختیار کرنے میں مدد ملی اور اس طرح 1965ء 1962ء اور 1973ء کے دساتیر میں قرا رداد مقاصد کی روح کسی نہ کسی طرح کارفرما رہی ۔ اسی طرح انہوں نے صدر جمعیت علماء پاکستان مولانا عبدالحامد بدایونی اور دیگر علماء اہل سنت کے مشورہ سے اسلامی دستور ساز کی تشکیل و ذمہ داریاں اور شعبہ جاتِ حکومت مثلا : مذہبی امور ، سامان رسد، رفاہ عامہ، تعمیرات، خوراک،ترسیل، انسداد رشوت ستانی، تحفظ اقلیت، سیاست، امور داخلہ، انتظامیہ و پولیس ، امور صحت ، ٹیکس ، آباد کاری ، مال ، اطلاعات و غیرہ شعبہ جات کی تشکیل میں اہم کردار اداکیا تاکہ امور مملکت میں آسانی ہو اور ہر وقت شرعی مشورے حکومت کو ملتے رہیں۔

آج تو یہ حالت ہے؏ کہ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔افسوس کہ قیام پاکستان کوستر سال ہوچکے لیکن قرآن وسنت کانفاذ نہ ہوسکا،وہی انگریز کا کالا قانون وہی وڈیرہ شاہی وجاگیرداری وخاندانی نظام اس قوم پر مسلط کردیا گیا۔اللہ تعالیٰ ہمارے اکابرین کی محنت وقربانی کے صدقے اس ملک کو نظام مصطفیٰﷺ کا گہوارہ بنائے۔ (تونسوی)

تاریخِ وصال:
ملک وملت کے پاسبان علامہ ظہور الحسن درس نے ایک بھر پور زندگی گذار کر 7/ شوال المکرم 1392ھ بمطابق 14 نومبر 1972ء کو 67 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کا مزار شریف دھوبی گھاٹ قبرستان ( لیاری) کراچی میں واقع ہے۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-zuhur-ul-hasan-dars
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1