🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-10-1444 ᴴ | 26-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-10-1444 ᴴ | 26-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-10-1444 ᴴ | 26-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-10-1444 ᴴ | 26-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت پیر محمد حسن جان سرہندی مجددی علیہ الرحمہ
بقیۃ السلف حجۃ الخلف حضرت مولانا خواجہ محمد حسن جان فاروقی مجددی ابن حضرت خواجہ عبد الرحمن قدس سرہ (م ۱۳۱۵ھ؍۱۸۹۷ئ) ابن حضرت شیخ عبد القیوم سر ہندی قدس سرہ (۱۲۷۲ھ؍ ۱۸۵۵ئ) ۶؍شوال، ۶؍اپریل (۱۲۷۸ھ؍ ۱۸۶۲ئ) کو قندھار میں پیدا ہوئے[1]
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ تک پہنچتا ہے۔آپ کے والد ماجد حالات کی پراگندگی اور طوائف الملوکی کے سبب ۱۲۸۱ھ؍ ۱۸۶۵ء میں قندھار سے ارغستان چلے گئے۔جب امیر عبد الرحمن نے خراسان پر تسلط کر قتل و غارت کا بازار گرم کیا تو حضرت خواجہ عبد الرحمن قدس سرہ نے ۱۲۹۷ھ میں شریفین کی طرف ہجرت کرنے کے لئے رخت سفر باندھا،سندھ، کراچی اور بمبئی سے ہوتے ہوئے عرب شریف پہنچتے،۱۳۰۰ھ سے ۱۳۰۲ھ تک تین سال مکہ مکرمہ اور طارف میں قیام کیا،بعد ازاں مدینہ طیبہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور ایک سال چار ماہ تک وہیں قیام پذیر رہے۔آپ کے مخلص دوستوں اور خاص طور پر مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے مشورہ دیا کہ آپ وطن مالوف کو واپس تشریف لے جائیں کیونکہ آپ کے وجود مسعود سے خلق خدا کو فائدہ پہنچے گا۔چنانچہ پانچ سال تک بلا وطیبہ میں رہ کر وطر کو تشریف لے جاتے ہوئے جب سندھ سے گزرے تو معتقدین نے بصد اصرار گزارش کیکہ خراسا ن جانے کی بجائے ہمارے پاس تشریف رکھیں،چنانچہ آپ ٹکہڑ (مضافات حیدر آباد) میں قیام پذیر ہو گئے اور پھر یہیں جان جاں آفرین کے سپرد کی اور کوہ گنجہ کے دامن میں مدفون ہوئے بعد ازاں اولاد امجاد نے ٹند و سائیں داد کو مسکن بنا لیا[2]
حضرت مولانا خواجہ محمد حسن جان قدس سرہ نے قرآن مجید پڑھنے کے بعد قندھا ر میں مولانا باز محمد سے فارسی کی کتابیں پڑھیں۔جب ۱۲۹۷ء میں والد ماجد کے ہمراہ سندھ تشریف لائے تو قصبہ ٹکٹر میں دوسال تک قیام کے دوران مولانا الحاج لعل محمد متعلوی سے کسب فیض کرتے رہے،بعد ازاں جب مکہ مکرمہ گئے تو مولانا رحمت اللہ مہاجرمکی قدس سرہ کے قائم کردہ ’’مدرسہ صولتیہ‘‘ میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور حضرت بانی مدرسہ کی صحبت سے بھی فیضیاب ہوتے رہے۔اسی مدرسہ میں مولانا حضرت نور سے سراجی پڑھی،۱۳۰۱ھ میں درس حدیث مفتئی مکہ حضرت مولانا شیخ سید احمد وحلان رحمہ اللہ تعالیٰ سے لیا۔والد ماجد سے دیگر کتب کے علاوہ بخاری شریف سبقا پڑھی اور سند فراغت حاصل کی[3]
ابتداء ہی سے آپ کو حفظ قرآن مجید کا بہت شوق تھا۔مکہ مکرمہ میں تعلیم حاسل کرنے،گھر کے تمام کام کاج کرنے،ہر روز عمرہ ادا کرنے اور عبادت و ریاضت کی بے پناہ مصروفیات کے با وجود قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا اور احتیاطاً والد ماجد کو نہ بتایا کہ بے انداز مصروفیات کی بنا پرکہیں ممانعت نہ فرمادیں،والد ماجد کو اس وقت پتہ چلا جب آپ بائیس پارے حفظ کر چکے تھے،اس پر انہوں نے بڑی مسرت کا اظہار فرمایا اور ختم قرآن کے موقع پر وسیع دعوت کا اہتمام فرمایا[4]
حضرت مولانا محمد حسن رحمہ اللہ تعالیٰ علوم دینیہ کو بہت اہمیت دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ قرآن و حدیث میں جو فضائل علم وار د ہیں وہ صرف علوم دینیہ سے متعلق ہیں،مساجد اور مدارس دینیہ کی تعمیر و ترقی میں خود بھی حصہ لیتے تھے اور مریدین کو بھی بیش از بیش حصہ لینے کی تلقین کیا کرتے تھے[5] اتباع شریعت،سادگی اور اخلاق حمیدہ میں بے مثل تھے صبر و تسلیم کا یہ عالم تھا کہ ۱۳۵۴ھ میں آپ اہل وعیال سمیت کوئٹہ میں تشریف فرما تھے کہ ۲۷ صفر کو ہولناک زلزلے قیامت صغریٰ قائم کردی،پورا علاقہ تہ و بالا ہوگیا،لاتعداد افراد شہید ہوئے۔ حضرت مولانا کے اہل و عیال اور ہمراہیوں میں سے گیارہ افراد جام شہادت نوش کر گئے لیکن آپ نے حیرت انگیز ہمت و استقامت کا مظاہرہ کیا اور چند معاونین کے ہمراہ ایک ایک فرد کو ملبے کے نیچے سے نکالا اور کفن و دفن کا انتظام کیا[6] ۱۳۳۲ھ میں حرمین شریفین،کربال،نجف اشرف،شام اور بیت المقدس کی زیارات کی نیت سے تقریباً بیس افراد کے ہمراہ بغداد شریف حاضر ہوئے۔یہ آپ کا چوتھا سفر زیارت تھا۔اسی دوران جنگ عظیم چھڑ گئی اور آپ بہ ہزار مشقت حرمین شریفین پہنچے اور مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے واپس تشریف لائے[7]
حضرت مولانا علم و فضل کے ساتھ ساتھ بے باک مجاہد اور مرد میدان بھی تھے چنانچہ جب ۱۲۹۶ھ میں انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو آپ بھی والد ماجد کے ہمراہ شریک کاراز ہوئے۔آپ بیدار مغز اور صاحب بصیرت قومی راہنما تھے۔ ترکی کے سلطان عبد الحمید خان کو خلیفۃ المسلمین تصور کرتے تھے اور جب انگریز ستوں نے سلطان کو معزول کیا تو آپ برے رنجیدہ ہوئے،جنگ بلقان اور اطالیہ کے طرابلس پر حملے کے موقع پر معتقدین اور سندھ کے مسلمانوں سے خطیر رقم اکھٹی کر کے ہلال احمر کے ذریعہ مجاہدین کے لئے بھجوائی[8] تحریک خلافت میں گم کردہ راہ لیڈروں کی کجروی پر بہت افسوس کیا کرتے تھے۔ آپ نے کھل کر بعض مسائل میں شرعی نقطۂ نظر سے اختلاف کیا اور
بقیۃ السلف حجۃ الخلف حضرت مولانا خواجہ محمد حسن جان فاروقی مجددی ابن حضرت خواجہ عبد الرحمن قدس سرہ (م ۱۳۱۵ھ؍۱۸۹۷ئ) ابن حضرت شیخ عبد القیوم سر ہندی قدس سرہ (۱۲۷۲ھ؍ ۱۸۵۵ئ) ۶؍شوال، ۶؍اپریل (۱۲۷۸ھ؍ ۱۸۶۲ئ) کو قندھار میں پیدا ہوئے[1]
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ تک پہنچتا ہے۔آپ کے والد ماجد حالات کی پراگندگی اور طوائف الملوکی کے سبب ۱۲۸۱ھ؍ ۱۸۶۵ء میں قندھار سے ارغستان چلے گئے۔جب امیر عبد الرحمن نے خراسان پر تسلط کر قتل و غارت کا بازار گرم کیا تو حضرت خواجہ عبد الرحمن قدس سرہ نے ۱۲۹۷ھ میں شریفین کی طرف ہجرت کرنے کے لئے رخت سفر باندھا،سندھ، کراچی اور بمبئی سے ہوتے ہوئے عرب شریف پہنچتے،۱۳۰۰ھ سے ۱۳۰۲ھ تک تین سال مکہ مکرمہ اور طارف میں قیام کیا،بعد ازاں مدینہ طیبہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور ایک سال چار ماہ تک وہیں قیام پذیر رہے۔آپ کے مخلص دوستوں اور خاص طور پر مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے مشورہ دیا کہ آپ وطن مالوف کو واپس تشریف لے جائیں کیونکہ آپ کے وجود مسعود سے خلق خدا کو فائدہ پہنچے گا۔چنانچہ پانچ سال تک بلا وطیبہ میں رہ کر وطر کو تشریف لے جاتے ہوئے جب سندھ سے گزرے تو معتقدین نے بصد اصرار گزارش کیکہ خراسا ن جانے کی بجائے ہمارے پاس تشریف رکھیں،چنانچہ آپ ٹکہڑ (مضافات حیدر آباد) میں قیام پذیر ہو گئے اور پھر یہیں جان جاں آفرین کے سپرد کی اور کوہ گنجہ کے دامن میں مدفون ہوئے بعد ازاں اولاد امجاد نے ٹند و سائیں داد کو مسکن بنا لیا[2]
حضرت مولانا خواجہ محمد حسن جان قدس سرہ نے قرآن مجید پڑھنے کے بعد قندھا ر میں مولانا باز محمد سے فارسی کی کتابیں پڑھیں۔جب ۱۲۹۷ء میں والد ماجد کے ہمراہ سندھ تشریف لائے تو قصبہ ٹکٹر میں دوسال تک قیام کے دوران مولانا الحاج لعل محمد متعلوی سے کسب فیض کرتے رہے،بعد ازاں جب مکہ مکرمہ گئے تو مولانا رحمت اللہ مہاجرمکی قدس سرہ کے قائم کردہ ’’مدرسہ صولتیہ‘‘ میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور حضرت بانی مدرسہ کی صحبت سے بھی فیضیاب ہوتے رہے۔اسی مدرسہ میں مولانا حضرت نور سے سراجی پڑھی،۱۳۰۱ھ میں درس حدیث مفتئی مکہ حضرت مولانا شیخ سید احمد وحلان رحمہ اللہ تعالیٰ سے لیا۔والد ماجد سے دیگر کتب کے علاوہ بخاری شریف سبقا پڑھی اور سند فراغت حاصل کی[3]
ابتداء ہی سے آپ کو حفظ قرآن مجید کا بہت شوق تھا۔مکہ مکرمہ میں تعلیم حاسل کرنے،گھر کے تمام کام کاج کرنے،ہر روز عمرہ ادا کرنے اور عبادت و ریاضت کی بے پناہ مصروفیات کے با وجود قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا اور احتیاطاً والد ماجد کو نہ بتایا کہ بے انداز مصروفیات کی بنا پرکہیں ممانعت نہ فرمادیں،والد ماجد کو اس وقت پتہ چلا جب آپ بائیس پارے حفظ کر چکے تھے،اس پر انہوں نے بڑی مسرت کا اظہار فرمایا اور ختم قرآن کے موقع پر وسیع دعوت کا اہتمام فرمایا[4]
حضرت مولانا محمد حسن رحمہ اللہ تعالیٰ علوم دینیہ کو بہت اہمیت دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ قرآن و حدیث میں جو فضائل علم وار د ہیں وہ صرف علوم دینیہ سے متعلق ہیں،مساجد اور مدارس دینیہ کی تعمیر و ترقی میں خود بھی حصہ لیتے تھے اور مریدین کو بھی بیش از بیش حصہ لینے کی تلقین کیا کرتے تھے[5] اتباع شریعت،سادگی اور اخلاق حمیدہ میں بے مثل تھے صبر و تسلیم کا یہ عالم تھا کہ ۱۳۵۴ھ میں آپ اہل وعیال سمیت کوئٹہ میں تشریف فرما تھے کہ ۲۷ صفر کو ہولناک زلزلے قیامت صغریٰ قائم کردی،پورا علاقہ تہ و بالا ہوگیا،لاتعداد افراد شہید ہوئے۔ حضرت مولانا کے اہل و عیال اور ہمراہیوں میں سے گیارہ افراد جام شہادت نوش کر گئے لیکن آپ نے حیرت انگیز ہمت و استقامت کا مظاہرہ کیا اور چند معاونین کے ہمراہ ایک ایک فرد کو ملبے کے نیچے سے نکالا اور کفن و دفن کا انتظام کیا[6] ۱۳۳۲ھ میں حرمین شریفین،کربال،نجف اشرف،شام اور بیت المقدس کی زیارات کی نیت سے تقریباً بیس افراد کے ہمراہ بغداد شریف حاضر ہوئے۔یہ آپ کا چوتھا سفر زیارت تھا۔اسی دوران جنگ عظیم چھڑ گئی اور آپ بہ ہزار مشقت حرمین شریفین پہنچے اور مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے واپس تشریف لائے[7]
حضرت مولانا علم و فضل کے ساتھ ساتھ بے باک مجاہد اور مرد میدان بھی تھے چنانچہ جب ۱۲۹۶ھ میں انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو آپ بھی والد ماجد کے ہمراہ شریک کاراز ہوئے۔آپ بیدار مغز اور صاحب بصیرت قومی راہنما تھے۔ ترکی کے سلطان عبد الحمید خان کو خلیفۃ المسلمین تصور کرتے تھے اور جب انگریز ستوں نے سلطان کو معزول کیا تو آپ برے رنجیدہ ہوئے،جنگ بلقان اور اطالیہ کے طرابلس پر حملے کے موقع پر معتقدین اور سندھ کے مسلمانوں سے خطیر رقم اکھٹی کر کے ہلال احمر کے ذریعہ مجاہدین کے لئے بھجوائی[8] تحریک خلافت میں گم کردہ راہ لیڈروں کی کجروی پر بہت افسوس کیا کرتے تھے۔ آپ نے کھل کر بعض مسائل میں شرعی نقطۂ نظر سے اختلاف کیا اور
❤1