حضرت شیخ محمد اسمٰعیل مدرس عرف میاں وڈا سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ابتدائی حالات
آپ کا اصلی نام حافظ محمد اسماعیل تھا والد کا اسم گرامی فتح اللہ اور دادا کا نام عبد اللہ ولد سرفراز خاں تھا، قوم کے کھو کھر تھے، از موضع تڑ گڑ علاقہ پوٹھو ہار میں ۹۹۵ھ بمطابق ۱۵۸۶ء میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی آپ کے والدین ترک سکونت کرکے دریائے چنا ب کے پاس موضع لنگر میں اقامت گزین ہوگئے تھے،ابتدائی تعلیم مخدوم عبد الکریم سے حاصل کی جو ایک متشرع فاضل اور عارف کا مل تھے،آپ کے چار بھائی تھے،۱حضرت میاں اسماعیل۲میاں محمد طفیل۳محمد ابراہیم۴محمد حسین۔
خزینتھ الا صفیا جلد دوم صفحہ ۱۰۵ پر آپ کے متعلق لکھا ہے،از بزرگان دین و مشائخ اہل یقین صاحب مقامات بلند و کرامات ار جمند صاحب تدریس قرآنی جامع علوم ہمہ دانی بو دو در سلسلہ عالیہ سہرور دیہ مریدو شاگر دو شیخ عبد الکریم است۔
آپ علم فقہ میں بڑی دستر س رکھتے تھے اور علمی مسائل نہایت خوبی سے بیان فرماتے تھے، مرشدی شجرہ اس طرح ہے حضرت محمد اسماعیل مرید مخدوم عبد الکریم رحمتہ اللہ علیہ کے،وہ مرید طیب رحمتہ اللہ علیہ کے،وہ مخدوم برہان الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ مرید چنن رحمتہ اللہ علیہ کے ، وہ شیخ میلون رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ شیخ حسان الدین متقی رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ سید شاہ عالم رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ سید برہان الدین قطب رحمتہ اللہ علیہ کے ، وہ سید ناصر الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ سید جلال الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ شیخ حسام الدین ابو الفتح ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ شیخ صد ر الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ صد ر الدین عارف ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے۔
لاہور میں آمد
۴۵سال کی عمر میں آپ لاہور تشریف لائے تو چالیس دن مخدوم سید علی ہجو یری المعروف حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے مزار اقدس پر اعتکاف کے بعد محلہ تیلی واڑہ یا تیل پورہ میں قیام فرمایا اور ایک مدرسہ قائم کیا جس نے آہستہ آہستہ ایک عظیم مدرسہ کی حثییت اختیار کرلی جہاں پر قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم دی جاتی تھی، ۱۰۰۸ھ بمطابق ۱۵۹۹ء میں آپ نے یہاں ایک مسجد بھی تعمیر کرائی، اور نگزیب عالمگیر نے اخر اجات مدرسہ کےلیئے سات چاہ بمعہ اراضی مز روعہ عنایت کیئے، تحقیقات چشتی میں لکھا ہے کہ آپ تنتا لیس سال کی عمر میں لاہور تشریف لائے تھے اور جہاں آپ نے رہائش اختیار کی وہاں گورستان تیلیاں تھا جو آج کل بھی موجود ہے، آپ کے مزار اقدس کی چار دیواری کے باہر کھٹیوں میں ایک روضہ سید محمود ہے،وہ اس وقت یہاں موجود تھے انہوں نے ہی آپ کو تلقین کی تھی کہ لاہور مقیم ہونے سے قبل حضرت سید علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر انو ار پر چالیس دن اعتکاف کرو چنانچہ آپ نے ویسا ہی کیا اور تسکین کلی حاصل کی، حضرت سید محمود رحمتہ اللہ علیہ اس زمانہ میں اس محلہ کے رئیس تھے،نجابت اور تقویٰ میں اپنا خاص مقام رکھتے تھے۔
شاہجہان بادشاہ کو آپ سے بے حد عقیدت و ارادت تھی اور اس نے آپ کے درس اور مسجد کےلیئے خاصی زمین بھی عطا کی،شاہی خز انہ سے سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔اس کی وفات کے بعد عالمگیر نے بھی درس کےلیئے سات آباد کنوئیں مخصوص کرائے اور طلباء کےلیئے ہوسٹل تعمیر کرائے جہاں سے ان کھانا بھی ملتا تھا، اس بادشاہ نے آپ کا مقبرہ بھی تعمیر کروایا تھا۔
برکت قرآن پاک
قرآن پاک سے آپ کا عشق کمال درجہ کا تھا۔فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص میری قبر پر سے درخت کے پتےکھائے گا اس کو قرآن مجید حفظ کرنے میں آسانی ہوگی،چنا نچہ دور دراز مقامات سے لوگ قرآن مجید کا فیضان حاصل کرنے کےلیئے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔جس پر بھی آپ کی نظر ہوجاتی وہ حافظ قرآن ہوجاتا، غریب اور نا بینا افراد کےلیئے بھی حفظ قرآن کا انتظام تھا، فرمایا کرتے تھے کہ ہماری وفات کے بعد بھی قرآن پاک کا فیضان ہماری قبرسے جاری رہے گا، چنا نچہ آنجناب کی وفات کے بعد حافظ شیخ محمد صالح رحمتہ اللہ علیہ متوفی ۱۷۲۹ء پچپن سال تک، حافظ محمود بیالیس سال تک، متوفی ۱۷۷۹ء حافظ معز الدین رحمتہ اللہ علیہ پینتیس سال تک متوفی ۱۸۰۶ ء اور حافظ شرف الدین ساٹھ سال تک درس کلام پاک دیتے رہے، حافظ شرف الدین رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ۱۸۰۳ء میں ہوئی، ان کے بعد حافظ احمد دین نے گدی سنبھالی اور ۱۸۸۸ء کو وصال فرمایا، ان کے بعد حاجی حافظ غلام محمد صاحب نے مسند سجادہ نشین کو زینت دی جنہوں نے ۱۸۹۴ء میں وصال فرمایا اور جانشین حافظ محمد شفیع ہوئے جنہوں نے سوانح عمری میاں وڈا صاحب رحمتہ اللہ علیہ تصنیف کی۔
سکھ گردی اور خانقاہ و مدرسہ
مہاراجہ رنجیت سنگھ اپنے زمانہ میں اس خا نقاہ کی بہت عزت کرتا تھا،نذ رانہ پیش کرتا تھا، مگر اس کے مرنے پر اس کی اولاد نے خا نقاہ کی عزت نہ کی،تاریخوں میں مذ کور ہے کہ ۱۸۰۴ء میں ج
ابتدائی حالات
آپ کا اصلی نام حافظ محمد اسماعیل تھا والد کا اسم گرامی فتح اللہ اور دادا کا نام عبد اللہ ولد سرفراز خاں تھا، قوم کے کھو کھر تھے، از موضع تڑ گڑ علاقہ پوٹھو ہار میں ۹۹۵ھ بمطابق ۱۵۸۶ء میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی آپ کے والدین ترک سکونت کرکے دریائے چنا ب کے پاس موضع لنگر میں اقامت گزین ہوگئے تھے،ابتدائی تعلیم مخدوم عبد الکریم سے حاصل کی جو ایک متشرع فاضل اور عارف کا مل تھے،آپ کے چار بھائی تھے،۱حضرت میاں اسماعیل۲میاں محمد طفیل۳محمد ابراہیم۴محمد حسین۔
خزینتھ الا صفیا جلد دوم صفحہ ۱۰۵ پر آپ کے متعلق لکھا ہے،از بزرگان دین و مشائخ اہل یقین صاحب مقامات بلند و کرامات ار جمند صاحب تدریس قرآنی جامع علوم ہمہ دانی بو دو در سلسلہ عالیہ سہرور دیہ مریدو شاگر دو شیخ عبد الکریم است۔
آپ علم فقہ میں بڑی دستر س رکھتے تھے اور علمی مسائل نہایت خوبی سے بیان فرماتے تھے، مرشدی شجرہ اس طرح ہے حضرت محمد اسماعیل مرید مخدوم عبد الکریم رحمتہ اللہ علیہ کے،وہ مرید طیب رحمتہ اللہ علیہ کے،وہ مخدوم برہان الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ مرید چنن رحمتہ اللہ علیہ کے ، وہ شیخ میلون رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ شیخ حسان الدین متقی رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ سید شاہ عالم رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ سید برہان الدین قطب رحمتہ اللہ علیہ کے ، وہ سید ناصر الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ سید جلال الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ شیخ حسام الدین ابو الفتح ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ شیخ صد ر الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ،وہ صد ر الدین عارف ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے۔
لاہور میں آمد
۴۵سال کی عمر میں آپ لاہور تشریف لائے تو چالیس دن مخدوم سید علی ہجو یری المعروف حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے مزار اقدس پر اعتکاف کے بعد محلہ تیلی واڑہ یا تیل پورہ میں قیام فرمایا اور ایک مدرسہ قائم کیا جس نے آہستہ آہستہ ایک عظیم مدرسہ کی حثییت اختیار کرلی جہاں پر قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم دی جاتی تھی، ۱۰۰۸ھ بمطابق ۱۵۹۹ء میں آپ نے یہاں ایک مسجد بھی تعمیر کرائی، اور نگزیب عالمگیر نے اخر اجات مدرسہ کےلیئے سات چاہ بمعہ اراضی مز روعہ عنایت کیئے، تحقیقات چشتی میں لکھا ہے کہ آپ تنتا لیس سال کی عمر میں لاہور تشریف لائے تھے اور جہاں آپ نے رہائش اختیار کی وہاں گورستان تیلیاں تھا جو آج کل بھی موجود ہے، آپ کے مزار اقدس کی چار دیواری کے باہر کھٹیوں میں ایک روضہ سید محمود ہے،وہ اس وقت یہاں موجود تھے انہوں نے ہی آپ کو تلقین کی تھی کہ لاہور مقیم ہونے سے قبل حضرت سید علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر انو ار پر چالیس دن اعتکاف کرو چنانچہ آپ نے ویسا ہی کیا اور تسکین کلی حاصل کی، حضرت سید محمود رحمتہ اللہ علیہ اس زمانہ میں اس محلہ کے رئیس تھے،نجابت اور تقویٰ میں اپنا خاص مقام رکھتے تھے۔
شاہجہان بادشاہ کو آپ سے بے حد عقیدت و ارادت تھی اور اس نے آپ کے درس اور مسجد کےلیئے خاصی زمین بھی عطا کی،شاہی خز انہ سے سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔اس کی وفات کے بعد عالمگیر نے بھی درس کےلیئے سات آباد کنوئیں مخصوص کرائے اور طلباء کےلیئے ہوسٹل تعمیر کرائے جہاں سے ان کھانا بھی ملتا تھا، اس بادشاہ نے آپ کا مقبرہ بھی تعمیر کروایا تھا۔
برکت قرآن پاک
قرآن پاک سے آپ کا عشق کمال درجہ کا تھا۔فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص میری قبر پر سے درخت کے پتےکھائے گا اس کو قرآن مجید حفظ کرنے میں آسانی ہوگی،چنا نچہ دور دراز مقامات سے لوگ قرآن مجید کا فیضان حاصل کرنے کےلیئے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔جس پر بھی آپ کی نظر ہوجاتی وہ حافظ قرآن ہوجاتا، غریب اور نا بینا افراد کےلیئے بھی حفظ قرآن کا انتظام تھا، فرمایا کرتے تھے کہ ہماری وفات کے بعد بھی قرآن پاک کا فیضان ہماری قبرسے جاری رہے گا، چنا نچہ آنجناب کی وفات کے بعد حافظ شیخ محمد صالح رحمتہ اللہ علیہ متوفی ۱۷۲۹ء پچپن سال تک، حافظ محمود بیالیس سال تک، متوفی ۱۷۷۹ء حافظ معز الدین رحمتہ اللہ علیہ پینتیس سال تک متوفی ۱۸۰۶ ء اور حافظ شرف الدین ساٹھ سال تک درس کلام پاک دیتے رہے، حافظ شرف الدین رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ۱۸۰۳ء میں ہوئی، ان کے بعد حافظ احمد دین نے گدی سنبھالی اور ۱۸۸۸ء کو وصال فرمایا، ان کے بعد حاجی حافظ غلام محمد صاحب نے مسند سجادہ نشین کو زینت دی جنہوں نے ۱۸۹۴ء میں وصال فرمایا اور جانشین حافظ محمد شفیع ہوئے جنہوں نے سوانح عمری میاں وڈا صاحب رحمتہ اللہ علیہ تصنیف کی۔
سکھ گردی اور خانقاہ و مدرسہ
مہاراجہ رنجیت سنگھ اپنے زمانہ میں اس خا نقاہ کی بہت عزت کرتا تھا،نذ رانہ پیش کرتا تھا، مگر اس کے مرنے پر اس کی اولاد نے خا نقاہ کی عزت نہ کی،تاریخوں میں مذ کور ہے کہ ۱۸۰۴ء میں ج
❤1
ب راجہ گلاب سنگھ والی جموں و کشمیر کے بھائی راجہ سو چیت سنگھ اور لاہور کی خالصہ فوجوں کے درمیان خانقاہ میاں وڈا رحمتہ اللہ علیہ کے مقام پر زبر دست جنگ ہوئی تھی جس میں راجہ سو چیت سنگھ قتل ہو گیا۔
یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مہاراجہ دلیپ سنگھ کے راج میں جب کہ راجہ ہیرا سنگھ وزارت عظمیٰ پر فائز سو چیت سنگھ جموں سے آکر یہاں ٹھہرا، حافظ شرف دین مدرس اعلیٰ نے بہت زور لگایا کہ سکھ فوج یہاں قیام نہ کرے مگر وہ نہ مانے چنا نچہ لاہور کی خالصہ فوج نے راجہ ہیرا سنگھ کے حکم کے مطابق حملہ کردیا اور وہ مارا گیا،خانقاہ کی دیو اریں توپو ں کے گولوں سے تباہ و برباد ہوگئیں نیز خانقاہ کے بہت سے درویش بھی مارے گئے۔کتب خانہ جس میں ہزار ہا نادر و نایاب کتب تھیں جو جل کر خاکستر ہوگئیں، انگریزوں کے عہد میں اس خانقاہ کا کچھ حال درست ہوا، میاں محمد سلطان ٹھیکیدار نے اس خانقاہ کےلیئے رکھ جلو کی زمین سے کچھ حصہ اس خانقاہ کےلیئے وقف کیا تھا جس کی آمدنی سے مدرسہ کے اخراجات پورے ہوتے تھے، ایک صدی قبل اس جگہ تقریباً دو سو فقرا رہتے تھے جن کو یہاں خو راک وغیرہ دی جاتی تھی،نیز نا بینا مسلمانوں کو قرآن مجید حفظ کرایا جاتا تھا۔
خلفاء
شیخ جان محمد سہروردی ،شیخ نور محمد سہروردی،مولوی جان محمد لاہوری سہروردی،شیخ تیمور لاہوزی،حافظ اللہ بخش،حافظ عبداللہ،شیخ محمد ہاشم اخوند،محمد عثمان ،حافظ محمد فاضل،شیخ عبدالکریم قصوری،حافظ محمد حسین اعوان،شیخ عبدا لحمید اخواند،محمد عمر،حافظ محمد خو شابی،امانت خاں، حافظ محمد حسین وغیرہ تھے۔
اولاد
آپ کے ایک بھائی حافظ محمد حسین کی قبر بی بی پاک دامنا ں کے قبرستان میں بتائی جاتی ہے مگر سوانح عمری حضرت میاں وڈا رحمتہ اللہ علیہ میں لکھا ہے کہ دونوں حضرات حافظ محمد حسین اور حافظ محمد خلیل کی قبور جتیا ضلع سیالکو ٹ میں ہیں چونکہ آپ اور آپ کے تین بھائی تمام عمر مجرد رہے اس لیئے ان کی کوئی اولاد نہ تھی،دوسرے بھائی حافظ محمد ابراہیم کی قبر حضرت میاں اسماعیل صاحب کے مزار کے پاس ہی ہے۔
وفات
۱۰۸۵ھ بمطابق ۱۶۷۴ء میں بہ عمر نوے سال بعہد عالمگیر وفات پائی۔
مقبرہ
چاردیوا ری جوکہ خانقاہ بھی کہلاتی ہے میں آنجناب کا مزار عالی ہے جس پر گنبد نہیں ہے، گرد و نواح میں قبرستان ہے،ساتھ ہی ایک مسجد ہے اور سجادہ نشیناں کے مکانات بھی، چبو ترے پر جو قبور ہیں ان میں خام قبر حضرت حافظ محمد اسماعیل کی ہے اور باقی تین آپ کے خلفا ء شیخ جان محمد، شیخ نور محمد اور حافظ محمد صالح کی ہیں، مسجد کے ایک طرف سائیں محمد دین کا مزار ہے جس پر گنبد بنا ہوا ہے، ۱۹۶۰ء میں اس درس کو محکمہ اوقاف نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔
مکمل فہرست سجادہ نشینان حضرت میاں وڈا سہروردی رحمتہ اللہ علیہ اس طرح ہے:
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ismail-mudarris-mian-wadda-soharwardi
یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مہاراجہ دلیپ سنگھ کے راج میں جب کہ راجہ ہیرا سنگھ وزارت عظمیٰ پر فائز سو چیت سنگھ جموں سے آکر یہاں ٹھہرا، حافظ شرف دین مدرس اعلیٰ نے بہت زور لگایا کہ سکھ فوج یہاں قیام نہ کرے مگر وہ نہ مانے چنا نچہ لاہور کی خالصہ فوج نے راجہ ہیرا سنگھ کے حکم کے مطابق حملہ کردیا اور وہ مارا گیا،خانقاہ کی دیو اریں توپو ں کے گولوں سے تباہ و برباد ہوگئیں نیز خانقاہ کے بہت سے درویش بھی مارے گئے۔کتب خانہ جس میں ہزار ہا نادر و نایاب کتب تھیں جو جل کر خاکستر ہوگئیں، انگریزوں کے عہد میں اس خانقاہ کا کچھ حال درست ہوا، میاں محمد سلطان ٹھیکیدار نے اس خانقاہ کےلیئے رکھ جلو کی زمین سے کچھ حصہ اس خانقاہ کےلیئے وقف کیا تھا جس کی آمدنی سے مدرسہ کے اخراجات پورے ہوتے تھے، ایک صدی قبل اس جگہ تقریباً دو سو فقرا رہتے تھے جن کو یہاں خو راک وغیرہ دی جاتی تھی،نیز نا بینا مسلمانوں کو قرآن مجید حفظ کرایا جاتا تھا۔
خلفاء
شیخ جان محمد سہروردی ،شیخ نور محمد سہروردی،مولوی جان محمد لاہوری سہروردی،شیخ تیمور لاہوزی،حافظ اللہ بخش،حافظ عبداللہ،شیخ محمد ہاشم اخوند،محمد عثمان ،حافظ محمد فاضل،شیخ عبدالکریم قصوری،حافظ محمد حسین اعوان،شیخ عبدا لحمید اخواند،محمد عمر،حافظ محمد خو شابی،امانت خاں، حافظ محمد حسین وغیرہ تھے۔
اولاد
آپ کے ایک بھائی حافظ محمد حسین کی قبر بی بی پاک دامنا ں کے قبرستان میں بتائی جاتی ہے مگر سوانح عمری حضرت میاں وڈا رحمتہ اللہ علیہ میں لکھا ہے کہ دونوں حضرات حافظ محمد حسین اور حافظ محمد خلیل کی قبور جتیا ضلع سیالکو ٹ میں ہیں چونکہ آپ اور آپ کے تین بھائی تمام عمر مجرد رہے اس لیئے ان کی کوئی اولاد نہ تھی،دوسرے بھائی حافظ محمد ابراہیم کی قبر حضرت میاں اسماعیل صاحب کے مزار کے پاس ہی ہے۔
وفات
۱۰۸۵ھ بمطابق ۱۶۷۴ء میں بہ عمر نوے سال بعہد عالمگیر وفات پائی۔
مقبرہ
چاردیوا ری جوکہ خانقاہ بھی کہلاتی ہے میں آنجناب کا مزار عالی ہے جس پر گنبد نہیں ہے، گرد و نواح میں قبرستان ہے،ساتھ ہی ایک مسجد ہے اور سجادہ نشیناں کے مکانات بھی، چبو ترے پر جو قبور ہیں ان میں خام قبر حضرت حافظ محمد اسماعیل کی ہے اور باقی تین آپ کے خلفا ء شیخ جان محمد، شیخ نور محمد اور حافظ محمد صالح کی ہیں، مسجد کے ایک طرف سائیں محمد دین کا مزار ہے جس پر گنبد بنا ہوا ہے، ۱۹۶۰ء میں اس درس کو محکمہ اوقاف نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔
مکمل فہرست سجادہ نشینان حضرت میاں وڈا سہروردی رحمتہ اللہ علیہ اس طرح ہے:
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ismail-mudarris-mian-wadda-soharwardi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Ismail Mudarris Mian Wadda Soharwardi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles |…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles |…
❤1
مولانا سید عبد السلام قادری باندوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا سید عبد السلام باندوی ۔ لقب: ناصر الاسلام، قائد تحریک پاکستان ۔ والد کا اسم گرامی: پیر طریقت حضرت مولانا سید امانت علی شاہ قادری ۔
آپ کا تعلق اولیاء اللہ اور علمی گھرانہ سے ہے ۔ آپ کا خاندان حضرت سیدنا امام علی رضا کی اولاد سے ہے ۔ آپ کا خاندان مشہد منور سے اوچ شریف (بہاولپور) آیا (وہاں بھی خاندانی بزرگ مدفون ہیں) وہاں سے بعض سادات شاہ پور (یوپی، انڈیا) آئے اور مولانا صاحب کا خاندان اس وقت کراچی میں رونق افروزہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ ص:479)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1323ھ مطابق 1905ء کو ضلع ’’باندا‘‘ (یوپی، انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد مولانا حافظ سید امانت شاہ علی قادری سے حاصل کی پھر ان کے حکم سے اعلیٰ تعلیم کے لئے مرکزی درسگاہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد (یوپی انڈیا) رجوع کیا ۔ جہاں صدر الا فاضل، مفسرِقرآن وحید العصر، استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کی سر پرستی میں درسی نصاب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے اپنے برادرمعظم حضرت مولانا سید محمد عبدالرب قادری سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت کی۔ والد ماجد کی ہدایت و بشارت کے مطابق پیر صاحب نے آپ کو خلافت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
ناصر الاسلام، حامی اسلام، ماحیِ بدعات، خطیب اہل سنت، قائد تحریک ِ پاکستان ، عالم ربانی، عارف اسرار رحمانی حضرت علامہ مولانا سید عبدالسلام قادری باندوی ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کےجید عالم دین اور عارف باللہ تھے ۔ خاندانی طور پر دین سے وابستگی تھی ۔ والد گرامی اور برادر مکرم شیخِ طریقت تھے ۔ پھر صدر الافاضل بدر المماثل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کی تعلیم وتربیت نےسونے پہ سہاگہ والا کام کیا۔حضرت صدرا لافاضل ایک نابغۂ روزگار اور عبقری شخصیت کےحامل ،اور اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔جو ان کےپاس پہنچا وہ صاحب ِ کمال ہوگیا۔پھر اس نے ایک جہان کو اپنے کردار وعلم سے منور کیا۔
تحریک پاکستان:
آپ نے علماء اہل سنت کے ساتھ مل کر تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس 1946ء میں شعبہ نشرو اشاعت کے سیکرٹری رہے۔ اور کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے پورے ہندوستان کا دورہ کیا بڑے بڑے جلسوں میں خطاب کر کے سنی کانفرنس کی دعوت اور مسلمانوں کے لئے ایک آزاد مملکت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مجاہد ملت،اکابر تحریک پاکستان،فاتحِ سرحد حضرت علامہ مولانا عبدالحامد بدایونی کی رفاقت میں مختلف صوبوں میں جاکر پاکستان کیلئے لوگوں کو قائل کرنا اور بلند عزم کے ساتھ تحریک چلانا انہیں کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ (ایضا:479)
پاکستان میں قیام:
مولانا سید عبدالسلام اگست 1947ء کو پاکستان کے مرکزی شہر کراچی تشریف لائے جب پاکستان میں جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر مجاہد ملت حضرت علامہ عبد الحامد بدایونی منتخب ہوئے اور اس کے ساتھ ناصر الاسلام خطیب اہل سنت پیر طریقت مولانا سید عبدالسلام قادری نائب صدر منتخب ہوئے۔ آپ نے نائب صدر کی حیثیت سے ملک و ملت کی دینی و سیاسی خدمات انجام دیں ۔
خطابت:
ان کے دل میں عشق رسول ﷺ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو اتھا ۔ اس لئے ان کی تقریر میں چاشنیِ عشق اور درد تھا ۔ تقریر کے دوران لوگوں کو ر لا دیتے تھے ۔ دوسری بات یہ کہ نعت خوانی میں اپنے وقت میں کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ اتنی خوبصورت خوش لحن آواز تھی کہ لوگ مسحور،مسروراورروح پرورلمحات میں گم ہوجاتےتھے۔کلکتہ، ممبئی، مدراس، کانپور، یوپی، جبلپور، کراچی، حیدر آباد، نواب شاہ، سکھر، راولپنڈی، لاہور، ملتان ، کوئٹہ ، وغیرہ مقامات پر اپنی تقریر کا لوہا منوایا ۔
پاکستان بننے کے بعد کراچی کی مرکزی جامع مسجد نیو میمن (بولٹن مارکیٹ) کے پہلے خطیب مقرر ہوئے ۔ آپ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا بھر پور جذبہ رکھتے تھے اور اعلاء کلمۃالحق کہنے میں ڈرنے والے نہیں تھے بلکہ اعلانیہ حق فرما دیتے تھے ۔ اسی طرح وہابی، دیوبندی، تبلیغی، مودودی قادیانی، شیعہ، پرویزی اور غیر مقلدوں کا شدید رد فرماتے اور ان کے باطل عقائد پر سخت گرفت فرماتے تھے ۔ خطیب پاکستان مولانا محمد شفیع اوکاڑوی آپ کے فن خطابت سے بہت متاثر تھے اس لیے اکثر آپ کے پاس حاضر ہوتے اور فن خطابت سے فیض یاب ہوتے ۔ نیو میمن مسجد کے علاوہ ملیر کینٹ کی چھاوٗنی مسجد اور کینٹ اسٹیشن کی مسجد غریب نواز میں خطابت کے امور انجام دیئے ۔ (ایضا:480)
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا سید عبد السلام باندوی ۔ لقب: ناصر الاسلام، قائد تحریک پاکستان ۔ والد کا اسم گرامی: پیر طریقت حضرت مولانا سید امانت علی شاہ قادری ۔
آپ کا تعلق اولیاء اللہ اور علمی گھرانہ سے ہے ۔ آپ کا خاندان حضرت سیدنا امام علی رضا کی اولاد سے ہے ۔ آپ کا خاندان مشہد منور سے اوچ شریف (بہاولپور) آیا (وہاں بھی خاندانی بزرگ مدفون ہیں) وہاں سے بعض سادات شاہ پور (یوپی، انڈیا) آئے اور مولانا صاحب کا خاندان اس وقت کراچی میں رونق افروزہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ ص:479)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1323ھ مطابق 1905ء کو ضلع ’’باندا‘‘ (یوپی، انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد مولانا حافظ سید امانت شاہ علی قادری سے حاصل کی پھر ان کے حکم سے اعلیٰ تعلیم کے لئے مرکزی درسگاہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد (یوپی انڈیا) رجوع کیا ۔ جہاں صدر الا فاضل، مفسرِقرآن وحید العصر، استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کی سر پرستی میں درسی نصاب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے اپنے برادرمعظم حضرت مولانا سید محمد عبدالرب قادری سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت کی۔ والد ماجد کی ہدایت و بشارت کے مطابق پیر صاحب نے آپ کو خلافت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
ناصر الاسلام، حامی اسلام، ماحیِ بدعات، خطیب اہل سنت، قائد تحریک ِ پاکستان ، عالم ربانی، عارف اسرار رحمانی حضرت علامہ مولانا سید عبدالسلام قادری باندوی ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کےجید عالم دین اور عارف باللہ تھے ۔ خاندانی طور پر دین سے وابستگی تھی ۔ والد گرامی اور برادر مکرم شیخِ طریقت تھے ۔ پھر صدر الافاضل بدر المماثل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کی تعلیم وتربیت نےسونے پہ سہاگہ والا کام کیا۔حضرت صدرا لافاضل ایک نابغۂ روزگار اور عبقری شخصیت کےحامل ،اور اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔جو ان کےپاس پہنچا وہ صاحب ِ کمال ہوگیا۔پھر اس نے ایک جہان کو اپنے کردار وعلم سے منور کیا۔
تحریک پاکستان:
آپ نے علماء اہل سنت کے ساتھ مل کر تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس 1946ء میں شعبہ نشرو اشاعت کے سیکرٹری رہے۔ اور کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے پورے ہندوستان کا دورہ کیا بڑے بڑے جلسوں میں خطاب کر کے سنی کانفرنس کی دعوت اور مسلمانوں کے لئے ایک آزاد مملکت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مجاہد ملت،اکابر تحریک پاکستان،فاتحِ سرحد حضرت علامہ مولانا عبدالحامد بدایونی کی رفاقت میں مختلف صوبوں میں جاکر پاکستان کیلئے لوگوں کو قائل کرنا اور بلند عزم کے ساتھ تحریک چلانا انہیں کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ (ایضا:479)
پاکستان میں قیام:
مولانا سید عبدالسلام اگست 1947ء کو پاکستان کے مرکزی شہر کراچی تشریف لائے جب پاکستان میں جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر مجاہد ملت حضرت علامہ عبد الحامد بدایونی منتخب ہوئے اور اس کے ساتھ ناصر الاسلام خطیب اہل سنت پیر طریقت مولانا سید عبدالسلام قادری نائب صدر منتخب ہوئے۔ آپ نے نائب صدر کی حیثیت سے ملک و ملت کی دینی و سیاسی خدمات انجام دیں ۔
خطابت:
ان کے دل میں عشق رسول ﷺ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو اتھا ۔ اس لئے ان کی تقریر میں چاشنیِ عشق اور درد تھا ۔ تقریر کے دوران لوگوں کو ر لا دیتے تھے ۔ دوسری بات یہ کہ نعت خوانی میں اپنے وقت میں کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ اتنی خوبصورت خوش لحن آواز تھی کہ لوگ مسحور،مسروراورروح پرورلمحات میں گم ہوجاتےتھے۔کلکتہ، ممبئی، مدراس، کانپور، یوپی، جبلپور، کراچی، حیدر آباد، نواب شاہ، سکھر، راولپنڈی، لاہور، ملتان ، کوئٹہ ، وغیرہ مقامات پر اپنی تقریر کا لوہا منوایا ۔
پاکستان بننے کے بعد کراچی کی مرکزی جامع مسجد نیو میمن (بولٹن مارکیٹ) کے پہلے خطیب مقرر ہوئے ۔ آپ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا بھر پور جذبہ رکھتے تھے اور اعلاء کلمۃالحق کہنے میں ڈرنے والے نہیں تھے بلکہ اعلانیہ حق فرما دیتے تھے ۔ اسی طرح وہابی، دیوبندی، تبلیغی، مودودی قادیانی، شیعہ، پرویزی اور غیر مقلدوں کا شدید رد فرماتے اور ان کے باطل عقائد پر سخت گرفت فرماتے تھے ۔ خطیب پاکستان مولانا محمد شفیع اوکاڑوی آپ کے فن خطابت سے بہت متاثر تھے اس لیے اکثر آپ کے پاس حاضر ہوتے اور فن خطابت سے فیض یاب ہوتے ۔ نیو میمن مسجد کے علاوہ ملیر کینٹ کی چھاوٗنی مسجد اور کینٹ اسٹیشن کی مسجد غریب نواز میں خطابت کے امور انجام دیئے ۔ (ایضا:480)
❤1
تحریک ختم نبوت:
آپ نے تحریک ختم نبوت میں علماء اہل سنت کے ساتھ بھر پور کردار ادا کیا ، قادیانیوں کو کا فر قرار دیا اور بڑے بڑے جلسوں میں ان کے عقائد باطلہ کی خوب خبر لی ، ان کے باطل عقائد و نظریات مکرو فریب شرارت و سازش کی بیخ کنی کی ۔ عوام الناس کو قادیانیت کے خلاف متحد و منظم کیا تاکہ وہ ان کی ہر سازش کونا کارہ بنائیں اور منہ توڑ جواب دیں ۔
سفر حرمین شریفین :آپ سات بار حج بیت اللہ اور روضہ رسول مقبول کی حاضری سے بار یاب ہوئے ۔ ایک بار حج کیلئے قرعہ اندازی میں نام نہ آیا تو بے حد مغموم ہوئے اور حج آفیسر سے تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ اور فرمایا:’’میں جاکے رہوں گا ۔ کوئی مجھے روک نہیں سکتا ‘‘۔ یہ الفاظ اطمینان یقین اور بھروسہ سے کہے ۔ رات ہوئی ایک نعت قلب کی گہرائی ، درد ، الفت اور تڑپ کے ساتھ لکھی ۔بہرحال اچانک ہی حاجی کیمپ میں نام کا اعلان ہو،ایوں آپ حج کو رواں دواں ہوئے ۔ ایک مرتبہ سفر حج میں آپ کے چھوٹے صاحبزادے سید منظور الاسلام قادری بھی ساتھ تھے ۔ دوران سفر سفینہ حجاج درمیان سمندر میں طغیانی او ر طوفانی ہواؤں اور موجوں کی زد میں آکر ڈوبنے لگا۔ تمام لوگ خوف و ہر اس میں مبتلا ہو گئے ۔ اس وقت آپ جہاز کے کپتان کے پاس گئے اور انہیں اطمینان دلایا اور جہاز کے چاروں سمت اذانیں دلائیں ۔ اور پھر جہاز کے عرشہ (چھت)میں محفل میلاد پاک منعقد کی اور پوری رات محفل میں نعت خوانی ذکر رسول پاک ﷺ ہوتا رہا ۔ بعد نماز فجر صلوۃ و سلام پڑھا گیا تو ایسا محسوس ہوا کہ طوفان عاجز ہو کر خوف سے بھاگ رہا ہے اور ایک دم سمندر میں ٹھراؤ پیدا ہوا اور یوں طوفان ٹل گیا ۔ آپنےسفرحرمین کےعلاوہ عراق،شام،فلسطین،بحرین وغیرہ کاسفر کیا۔متعدد انبیاء کرام واولیاء عظام ومشائخ کےمزارات ِ مقدسہ کی زیارات سے مشرف ہوئے۔
تاریخِ وصال:
آپ 5/شوال المکرم 1387ھ مطابق 5/جنوری 1968ءکوشام چار بجےواصل باللہ ہوئے۔ عین وصال کے روز دوپہر میں آپ کے خلیفہ صوفی نفاست حسن صاحب آئے تو آپ نے برجستہ فرمایا ’’میں آج جارہا ہوں‘‘ اور وصیتیں فرمائیں ۔ صوفی صاحب چلے گئے۔اسی دن انتقال ہوگیا۔آپ کامزار شریف پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں واقع ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-salam-qadri-bandwi
آپ نے تحریک ختم نبوت میں علماء اہل سنت کے ساتھ بھر پور کردار ادا کیا ، قادیانیوں کو کا فر قرار دیا اور بڑے بڑے جلسوں میں ان کے عقائد باطلہ کی خوب خبر لی ، ان کے باطل عقائد و نظریات مکرو فریب شرارت و سازش کی بیخ کنی کی ۔ عوام الناس کو قادیانیت کے خلاف متحد و منظم کیا تاکہ وہ ان کی ہر سازش کونا کارہ بنائیں اور منہ توڑ جواب دیں ۔
سفر حرمین شریفین :آپ سات بار حج بیت اللہ اور روضہ رسول مقبول کی حاضری سے بار یاب ہوئے ۔ ایک بار حج کیلئے قرعہ اندازی میں نام نہ آیا تو بے حد مغموم ہوئے اور حج آفیسر سے تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ اور فرمایا:’’میں جاکے رہوں گا ۔ کوئی مجھے روک نہیں سکتا ‘‘۔ یہ الفاظ اطمینان یقین اور بھروسہ سے کہے ۔ رات ہوئی ایک نعت قلب کی گہرائی ، درد ، الفت اور تڑپ کے ساتھ لکھی ۔بہرحال اچانک ہی حاجی کیمپ میں نام کا اعلان ہو،ایوں آپ حج کو رواں دواں ہوئے ۔ ایک مرتبہ سفر حج میں آپ کے چھوٹے صاحبزادے سید منظور الاسلام قادری بھی ساتھ تھے ۔ دوران سفر سفینہ حجاج درمیان سمندر میں طغیانی او ر طوفانی ہواؤں اور موجوں کی زد میں آکر ڈوبنے لگا۔ تمام لوگ خوف و ہر اس میں مبتلا ہو گئے ۔ اس وقت آپ جہاز کے کپتان کے پاس گئے اور انہیں اطمینان دلایا اور جہاز کے چاروں سمت اذانیں دلائیں ۔ اور پھر جہاز کے عرشہ (چھت)میں محفل میلاد پاک منعقد کی اور پوری رات محفل میں نعت خوانی ذکر رسول پاک ﷺ ہوتا رہا ۔ بعد نماز فجر صلوۃ و سلام پڑھا گیا تو ایسا محسوس ہوا کہ طوفان عاجز ہو کر خوف سے بھاگ رہا ہے اور ایک دم سمندر میں ٹھراؤ پیدا ہوا اور یوں طوفان ٹل گیا ۔ آپنےسفرحرمین کےعلاوہ عراق،شام،فلسطین،بحرین وغیرہ کاسفر کیا۔متعدد انبیاء کرام واولیاء عظام ومشائخ کےمزارات ِ مقدسہ کی زیارات سے مشرف ہوئے۔
تاریخِ وصال:
آپ 5/شوال المکرم 1387ھ مطابق 5/جنوری 1968ءکوشام چار بجےواصل باللہ ہوئے۔ عین وصال کے روز دوپہر میں آپ کے خلیفہ صوفی نفاست حسن صاحب آئے تو آپ نے برجستہ فرمایا ’’میں آج جارہا ہوں‘‘ اور وصیتیں فرمائیں ۔ صوفی صاحب چلے گئے۔اسی دن انتقال ہوگیا۔آپ کامزار شریف پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں واقع ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-salam-qadri-bandwi
scholars.pk
Hazrat Molana Syed Abdul Salam Qadri Bandwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سیّد محمد غوث بالا پیر علیہ الرحمہ
نام: سید محمد غوث ـ لقب: بالا پیر ـ سیّد زین العابدین بن سیّد عبد القادر ثانی گیلانی علیہ الرحمہ اوچی کے فرزند رشید تھے ۔
آپ کے والدِ ماجد راہِ ناگور میں قزاقوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے ۔ اس لیے اپنے جدِ امجد کے زیرِ سایہ تعلیم و تربیت پائی ۔
اُنہی کے مرید و خلیفہ بھی تھے ۔
مشائخ قادریہ میں صاحب ارشاد بزرگ ہوئے ہیں علم و فضل اور عبادت و ریاضت میں بے نظیر تھے ۔
جدِ امجد کی وفات کے بعد اپنے چچا زاد بھائی سیّد حامد گنج بخش سے سجادہ نشینی و دستار بندی کے امور میں ناراض ہو کر اوچ سے نقلِ مکان کر کے پنجاب کے ایک معروف قصبہ ستگھرہ میں آکر سکونت پذیر ہو گئے تھے ۔
اسی مقام پر ۵ شوال ۹۵۹ھ میں بعہدِ اسلام شاہ بن شیر شاہ سوری وفات پائی ۔
ساداتِ گیلانی ستگھرہ آپ کی اولاد سے ہیں۔
شد چو در خلد بریں منزل گزریں
داں وصالش میر مہدی مستقیم
۹۵۹ھ
آں محمد غوث پیرِ دستگیر
نیز صادق شاہِ بالا پیرِ پیر
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-ghaus-balapeer
نام: سید محمد غوث ـ لقب: بالا پیر ـ سیّد زین العابدین بن سیّد عبد القادر ثانی گیلانی علیہ الرحمہ اوچی کے فرزند رشید تھے ۔
آپ کے والدِ ماجد راہِ ناگور میں قزاقوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے ۔ اس لیے اپنے جدِ امجد کے زیرِ سایہ تعلیم و تربیت پائی ۔
اُنہی کے مرید و خلیفہ بھی تھے ۔
مشائخ قادریہ میں صاحب ارشاد بزرگ ہوئے ہیں علم و فضل اور عبادت و ریاضت میں بے نظیر تھے ۔
جدِ امجد کی وفات کے بعد اپنے چچا زاد بھائی سیّد حامد گنج بخش سے سجادہ نشینی و دستار بندی کے امور میں ناراض ہو کر اوچ سے نقلِ مکان کر کے پنجاب کے ایک معروف قصبہ ستگھرہ میں آکر سکونت پذیر ہو گئے تھے ۔
اسی مقام پر ۵ شوال ۹۵۹ھ میں بعہدِ اسلام شاہ بن شیر شاہ سوری وفات پائی ۔
ساداتِ گیلانی ستگھرہ آپ کی اولاد سے ہیں۔
شد چو در خلد بریں منزل گزریں
داں وصالش میر مہدی مستقیم
۹۵۹ھ
آں محمد غوث پیرِ دستگیر
نیز صادق شاہِ بالا پیرِ پیر
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-ghaus-balapeer
scholars.pk
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ عثمان ہارونی ـ کنیت: ابوالنور ۔ لقب: شیخ الاسلام ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کاسلسلۂ نسب گیارہویں پشت میں حضرت مولا علی شیر خدا رضی الله تعالیٰ عنه تک پہنچتا ہے ۔ (سیرتِ خواجہ غریب نواز ص:42)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت اکثر مؤرخین کے نزدیک 536ھ، 1141ء کو قصبہ ’’ ہارون یا ہرون ‘‘ خراسان میں ہوئی ۔ (اہل سنت کی آواز، خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ 2008ء / 1429ھ، صفحہ:200)
ہارون یا ہروَن:
اس مقام کی وجہ سے حضرت خواجہ کو ’’ہارونی‘‘ کہا جاتا ہے ۔
اس مقام کا اصل نام کیا ہے؟
بعض ہروَن اور اکثر ہارون کہتے ہیں ۔ خیر المجالس میں ہے: ’’ صحیح تو ہَرونی ہے لیکن عوام و خواص کی قلم و زبان پر ’ہارونی‘ چڑھا ہوا ہے ‘‘ ۔ بہت مشہور دعائیہ شعر ہے ۔
؏:بحق خواجۂ عثمان ہارونی
مدد کن یا معین الدین چشتی
(ایضا ص:201)
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے نیشا پور تشریف لے گئے ۔ وہاں مشاہیر علماء و فضلاء کی سر پرستی میں علوم و فنون حاصل کیے ۔ آپ کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ "آپ کا خاندان چوں کہ عمدہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور علم دوست تھا ۔
والد ماجد بھی جید عالم تھے، اس لیے شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی علم کی طرف راغب ہو گئے اور والد ماجد کی بارگاہ میں رہ کر ابتدائی تعلیم حاصل کی، قرآن شریف حفظ کیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے اس زمانے کے علمی و فنی مرکز نیشاپور کا رخ کیا اور وقت کے مشاہیر علماء و فضلا سے اکتساب علم کر کے جملہ علوم مروجہ و متداولہ میں دسترس حاصل کی ۔ جلد ہی آپ کا شمار وقت کے علماء و فضلاء میں ہونے لگا ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری علوم کی تکمیل اس مرد با صفا کی آخری منزل نہ تھی ۔ اس لئے علوم باطنیہ کی تحصیل کا عزم مصمم کیا اللہ جل شانہ نے آپ کے پر خلوص ارادے کی بدولت امام الاولیاء، قطب الاقطاب سرتاج سلسلۂ عالیہ چشتیہ بہشتیہ حضرت خواجہ محمد شریف زندنی کی خانقاہ معلیٰ میں پہنچا دیا ۔
سلسلہ عالیہ چشتیہ میں ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کی خدمت میں رہ کر سلوک کی منازل طے کرنے لگے ۔ عبادت و ریاضت اور مجاہدۂ و مکاشفہ نے جب کندن بنا دیا تو نگاہ ِمرشد نے منصبِ خلافت کے لئے منتخب فرما لیا ۔
سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ اسی طرح حضرت خواجہ مودود چشتی علیہ الرحمہ سے بھی فیض یاب ہوئے ۔ (ایضا:202)
سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، ناصر الاسلام، عارف اسرار رحمانی، واصل ذاتِ باری، محبوب صاحبِ لامکانی، شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد عثمان ہارونی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کا شمار اکابرینِ امت اور کبار اولیاءِ کرام و مشائخِ عظام میں ہوتا ہے ۔ علوم ظاہریہ و علوم باطنیہ، شریعت و طریقت، تصوف و معرفت میں مجمع البحرین تھے ۔ تاریخِ مشائخِ چشت میں ہے: ’’در علمِ شریعت و طریقت و حقیقت اعلم بود ‘‘ ۔ (بہارِ چشت ص:77)
صاحب سبع سنابل حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ نے بیعت و خلافت کا تذکرہ یوں فرمایا ہے لکھتے ہیں: حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ کی عمر کافی تھی، آپ نے سفر بھی بہت کیے، جب حضرت خواجہ شریف زندنی کی خدمت میں پہنچے تو عرض کی: بندہ عثمان کی تمنا ہے کہ حضور والا کے مریدوں میں شمار کیا جائے ۔ خواجہ شریف زندنی نے قبول کیا، خلافت کی کلاہ چار ترکی عنایت کی، قینچی (بالوں پر) چلائی اور فرمایا: مصطفیٰ ﷺ نے کلاہ چار ترکی استعمال فرمائی ہے، تمام کائنات کو خدا کی محبت میں چھوڑ کر فقر و فاقہ اختیار فرمایا ہے، فقیروں اور غریبوں سے محبت رکھی ہے، لہٰذا جو شخص کلاہ چار ترکی سر پر رکھے، اسے چاہیے کہ مصطفیٰ ﷺ کی پیروی کرے اور ہر شخص کو اپنے سے بر تر جانے ۔ جو شخص تکبر اختیار کرے اور اپنی فوقیت چاہے وہ درویش نہیں، نفس پرست ہے ۔ راہ نما نہیں راہزن ہے ۔ مشائخ کے خرقے کے لائق نہیں وہ چور ہے ۔ اہل نعمت نہیں بے نصیب ہے ۔ مشائخ اس سے بے زار ہیں ۔ درویشی کا لباس اس پر حرام ہے ۔ اسے خرقہ پہنانا جائز نہیں اور نہ کلاہ چار ترکی سر پر رکھنا اور مرید کرنا ۔ خواجہ عثمان ہارونی نے شیخ کی نصیحت قبول کی اور گوشہ نشیں ہو کر ذکر لا الٰہ الا اللہ میں مشغول ہو گئے ۔ تین برس کے بعد خواجہ شریف زندنی نے خلافت کی کملی پہنائی اور فرمایا: اے عثمان! تمھیں میں نے پیدا کرنے والے کی بارگاہ میں پیش کیا ۔ تمھیں پسند کیا گیا ہے پھر خواجہ شریف زندنی نے اسم اعظم جسے اپنے مرشد سے حاصل کیا تھا، خواجہ عثمان کو سِکھا دیا، جس سے علم معرفت کے اسرار اور شریعت و طریقت و حقیقت کے رموز آپ پر منکشف ہو گئے ۔ (سبع سنابل ص:434)
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ عثمان ہارونی ـ کنیت: ابوالنور ۔ لقب: شیخ الاسلام ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کاسلسلۂ نسب گیارہویں پشت میں حضرت مولا علی شیر خدا رضی الله تعالیٰ عنه تک پہنچتا ہے ۔ (سیرتِ خواجہ غریب نواز ص:42)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت اکثر مؤرخین کے نزدیک 536ھ، 1141ء کو قصبہ ’’ ہارون یا ہرون ‘‘ خراسان میں ہوئی ۔ (اہل سنت کی آواز، خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ 2008ء / 1429ھ، صفحہ:200)
ہارون یا ہروَن:
اس مقام کی وجہ سے حضرت خواجہ کو ’’ہارونی‘‘ کہا جاتا ہے ۔
اس مقام کا اصل نام کیا ہے؟
بعض ہروَن اور اکثر ہارون کہتے ہیں ۔ خیر المجالس میں ہے: ’’ صحیح تو ہَرونی ہے لیکن عوام و خواص کی قلم و زبان پر ’ہارونی‘ چڑھا ہوا ہے ‘‘ ۔ بہت مشہور دعائیہ شعر ہے ۔
؏:بحق خواجۂ عثمان ہارونی
مدد کن یا معین الدین چشتی
(ایضا ص:201)
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے نیشا پور تشریف لے گئے ۔ وہاں مشاہیر علماء و فضلاء کی سر پرستی میں علوم و فنون حاصل کیے ۔ آپ کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ "آپ کا خاندان چوں کہ عمدہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور علم دوست تھا ۔
والد ماجد بھی جید عالم تھے، اس لیے شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی علم کی طرف راغب ہو گئے اور والد ماجد کی بارگاہ میں رہ کر ابتدائی تعلیم حاصل کی، قرآن شریف حفظ کیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے اس زمانے کے علمی و فنی مرکز نیشاپور کا رخ کیا اور وقت کے مشاہیر علماء و فضلا سے اکتساب علم کر کے جملہ علوم مروجہ و متداولہ میں دسترس حاصل کی ۔ جلد ہی آپ کا شمار وقت کے علماء و فضلاء میں ہونے لگا ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری علوم کی تکمیل اس مرد با صفا کی آخری منزل نہ تھی ۔ اس لئے علوم باطنیہ کی تحصیل کا عزم مصمم کیا اللہ جل شانہ نے آپ کے پر خلوص ارادے کی بدولت امام الاولیاء، قطب الاقطاب سرتاج سلسلۂ عالیہ چشتیہ بہشتیہ حضرت خواجہ محمد شریف زندنی کی خانقاہ معلیٰ میں پہنچا دیا ۔
سلسلہ عالیہ چشتیہ میں ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کی خدمت میں رہ کر سلوک کی منازل طے کرنے لگے ۔ عبادت و ریاضت اور مجاہدۂ و مکاشفہ نے جب کندن بنا دیا تو نگاہ ِمرشد نے منصبِ خلافت کے لئے منتخب فرما لیا ۔
سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ اسی طرح حضرت خواجہ مودود چشتی علیہ الرحمہ سے بھی فیض یاب ہوئے ۔ (ایضا:202)
سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، ناصر الاسلام، عارف اسرار رحمانی، واصل ذاتِ باری، محبوب صاحبِ لامکانی، شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد عثمان ہارونی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کا شمار اکابرینِ امت اور کبار اولیاءِ کرام و مشائخِ عظام میں ہوتا ہے ۔ علوم ظاہریہ و علوم باطنیہ، شریعت و طریقت، تصوف و معرفت میں مجمع البحرین تھے ۔ تاریخِ مشائخِ چشت میں ہے: ’’در علمِ شریعت و طریقت و حقیقت اعلم بود ‘‘ ۔ (بہارِ چشت ص:77)
صاحب سبع سنابل حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ نے بیعت و خلافت کا تذکرہ یوں فرمایا ہے لکھتے ہیں: حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ کی عمر کافی تھی، آپ نے سفر بھی بہت کیے، جب حضرت خواجہ شریف زندنی کی خدمت میں پہنچے تو عرض کی: بندہ عثمان کی تمنا ہے کہ حضور والا کے مریدوں میں شمار کیا جائے ۔ خواجہ شریف زندنی نے قبول کیا، خلافت کی کلاہ چار ترکی عنایت کی، قینچی (بالوں پر) چلائی اور فرمایا: مصطفیٰ ﷺ نے کلاہ چار ترکی استعمال فرمائی ہے، تمام کائنات کو خدا کی محبت میں چھوڑ کر فقر و فاقہ اختیار فرمایا ہے، فقیروں اور غریبوں سے محبت رکھی ہے، لہٰذا جو شخص کلاہ چار ترکی سر پر رکھے، اسے چاہیے کہ مصطفیٰ ﷺ کی پیروی کرے اور ہر شخص کو اپنے سے بر تر جانے ۔ جو شخص تکبر اختیار کرے اور اپنی فوقیت چاہے وہ درویش نہیں، نفس پرست ہے ۔ راہ نما نہیں راہزن ہے ۔ مشائخ کے خرقے کے لائق نہیں وہ چور ہے ۔ اہل نعمت نہیں بے نصیب ہے ۔ مشائخ اس سے بے زار ہیں ۔ درویشی کا لباس اس پر حرام ہے ۔ اسے خرقہ پہنانا جائز نہیں اور نہ کلاہ چار ترکی سر پر رکھنا اور مرید کرنا ۔ خواجہ عثمان ہارونی نے شیخ کی نصیحت قبول کی اور گوشہ نشیں ہو کر ذکر لا الٰہ الا اللہ میں مشغول ہو گئے ۔ تین برس کے بعد خواجہ شریف زندنی نے خلافت کی کملی پہنائی اور فرمایا: اے عثمان! تمھیں میں نے پیدا کرنے والے کی بارگاہ میں پیش کیا ۔ تمھیں پسند کیا گیا ہے پھر خواجہ شریف زندنی نے اسم اعظم جسے اپنے مرشد سے حاصل کیا تھا، خواجہ عثمان کو سِکھا دیا، جس سے علم معرفت کے اسرار اور شریعت و طریقت و حقیقت کے رموز آپ پر منکشف ہو گئے ۔ (سبع سنابل ص:434)
❤1
عبادت و ریاضت:
خواجہ عثمان ہارنی علیہ الرحمہ صاحب ِریاضت و مجاہدہ تھے ۔ قرآن مجید کے حافظ تھے ۔ روزانہ ایک قرآن شریف کی تلاوت کرتے ۔ ستر سال کی مدت تک کسی وقت نفس کو پیٹ بھر کھانا پانی نہ دیا ۔ رات کو نہ سوئے، تین چار روز کے بعد روزہ رکھتے، کبھی کبھی چار پانچ ہی لقمے پر اکتفا کر لیتے ۔ حضرت میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ ان کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں: " خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ نے دس سال تک خود کو کھانا نہ دیا ۔ آپ سات روز کے بعد ایک گھونٹ پانی پیتے، اور عرض کرتے: خدایا! ہمیں نفس کے ظلم سے بچا، نفس مجھ پر غالب آنا چاہتا ہے ۔ مجھ سے پانی مانگتا ہے تو میں ایک گھونٹ منہ بھر دیتا ہوں ۔ خواجہ عثمان ہارونی سماع میں بہت روتے کبھی کبھی زرد پڑ جاتے ۔ آنکھوں کا پانی خشک ہو جاتا، جسم مبارک میں خون نہ رہتا ۔ ایک زور دار نعرہ لگاتے اور آپ پر وجد طاری ہو جاتا ۔ جب خواجہ عثمان ہارونی نماز ادا کر لیتے تو غیب سے آواز آتی کہ ہم نے تمھاری نماز پسند کی ۔ مانگو کیا مانگتے ہو؟ خواجہ صاحب عرض کرتے: خدایا!میں تجھے چاہتا ہوں ۔ آواز آتی کہ عثمان! میں نے جمال لا زوال تمھارے نصیب کیا، کچھ اور مانگو کیا مانگتے ہو؟ عرض کرتے: الٰہی! مصطفیٰ کریم ﷺ کی امت کے گناہ گاروں کو بخش دے ۔ آواز آتی کہ امت محمد ﷺ کے تیس ہزار گناہ گار تمھاری وجہ سے بخش دِ یے، آپ کو پانچوں وقت یہ بشارت ملتی تھی۔ (اہل سنت کی آواز ص:204)
اسفار:
حضرت خواجہ عثمان ہارونی نے طویل سفر کے بعد مکۃ لمکرمہ جا کر معتکف ہو گئے ۔ آپ نے حق تعالیٰ سے آخری عمر میں دو خصوصی دعائیں مانگی تھیں ۔ ایک یہ کہ میری قبر مکۃ المعظمہ میں ہو اور اس کا نشان باقی رہے تاکہ لوگ فاتحہ کا ایصال ثواب کرتے رہیں ۔ کیونکہ کثرت کی وجہ سے وہاں قبروں کا نشان نہیں رکھتےتھے ۔ دوسری دعا آپ نے یہ مانگی تھی کہ میرے روحانی فرزند معین الدین نے مدت دراز تک مقام تجرید و تفرید میں بندہ کی خدمت کی ہے اسے وہ ولایت عطا فرما کہ کسی اور کو اس قسم کی ولایت عطا نہ ہوئی ہو ۔ ہاتف نے آواز دی کہ تمھاری قبر مکہ میں ہوگی اور اس کا نشان کوئی نہ مٹا سکےگا، اور معین الدین کو ہندوستان کی وہ ولایت عطا ہوگی کہ جو آج تک ہم نے کسی کو نہیں دی ۔ لیکن انہیں چاہئے کہ پہلے مدینۃ المنورہ جائیں اور محمد ﷺ کی اجازت سے ہند کی ولایت میں جا کر تصرف کریں ۔ پس حضرت خواجہ عثمان نے اجابتِ دعا پر سجدۂ شکر ادا کیا ۔ (ایضا ص: 204 بحوالہ مرآۃ الاسرار ص:561)
آپ سراپا فضل و کرامت تھے ۔ جس پہ ایک نگاہ ڈالتے بس ایک ہی نگاہ میں اس کا باطن سنوار کر ولایت کے مقام پر فائز کر دیتے ۔ کتنے کفار آپ کے دست اقدس پر مشرف با اسلام ہوئے ۔ بے شمار فجار و فساق تائب ہوئے ۔ بہت سے ولایت کے مناصب عالیہ پر فائز ہوئے ۔ ایک مقام پر آپ تشریف لے گئے وہاں مجوسی تھے ۔ وہ آگ کی پوجا کر رہے تھے ۔ آپ نے انہیں دعوت توحید دی ۔ انہوں نے انکار کیا ۔ آپ ان کا ایک چھوٹا بچہ لے کر آگ میں داخل ہو گئے آگ نے کچھ نہیں کہا بلکہ وہ گلزار ہو گئی ۔ بہت دیر تک آگ میں رہے ۔ جب باہر تشریف لائے تو سارے مجوسی مسلمان ہو گئے ۔
آپ کی سب سے بڑی کرامت سلطان الہند عطائے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی ذات گرامی ہے ۔
اسی طرح شیخ الاسلام حضرت شیخ نجم الدین صغریٰ، ایسے نفوس قدسیہ جن کی تبلیغ سے لاکھوں غیر مسلم مشرف با اسلام ہوئے ۔ آپ کے ملفوظات ’’انیس الارواح‘‘ کے نام سے حضرت خواجہ غریب نواز نےجمع فرمائے ہیں ۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوق شاعری بھی عطا فرمایا تھا ۔
؏: نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بایں ذوق کہ پیشِ یار می رقصم
یہ ↑ آپ کا مشہورِ زمانہ کلام ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 5 شوال المکرم 617ھ مطابق 3 دسمبر 1220ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوا ۔ آپ کی قبر انور شریف حسین کے محل کے احاطے میں واقع ہے ۔ قبر آج تک محفوظ ہے، اور اس کےگرد لکڑی کا چبوترہ ہے ۔ یہ آپ کی دعا کا اثر ہے کہ نجدی و وہابی حکومت بھی آپ کی قبر کا نشان نہ مٹا سکی ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیاء کرام جلد نمبر 6 ۔
ماخذ و مراجع:
سبع سنابل شریف ۔ اہل سنت کی آواز مارہرہ مطہرہ 2008ء ۔ بہار چشت ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیاء کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-usman-harooni
خواجہ عثمان ہارنی علیہ الرحمہ صاحب ِریاضت و مجاہدہ تھے ۔ قرآن مجید کے حافظ تھے ۔ روزانہ ایک قرآن شریف کی تلاوت کرتے ۔ ستر سال کی مدت تک کسی وقت نفس کو پیٹ بھر کھانا پانی نہ دیا ۔ رات کو نہ سوئے، تین چار روز کے بعد روزہ رکھتے، کبھی کبھی چار پانچ ہی لقمے پر اکتفا کر لیتے ۔ حضرت میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ ان کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں: " خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ نے دس سال تک خود کو کھانا نہ دیا ۔ آپ سات روز کے بعد ایک گھونٹ پانی پیتے، اور عرض کرتے: خدایا! ہمیں نفس کے ظلم سے بچا، نفس مجھ پر غالب آنا چاہتا ہے ۔ مجھ سے پانی مانگتا ہے تو میں ایک گھونٹ منہ بھر دیتا ہوں ۔ خواجہ عثمان ہارونی سماع میں بہت روتے کبھی کبھی زرد پڑ جاتے ۔ آنکھوں کا پانی خشک ہو جاتا، جسم مبارک میں خون نہ رہتا ۔ ایک زور دار نعرہ لگاتے اور آپ پر وجد طاری ہو جاتا ۔ جب خواجہ عثمان ہارونی نماز ادا کر لیتے تو غیب سے آواز آتی کہ ہم نے تمھاری نماز پسند کی ۔ مانگو کیا مانگتے ہو؟ خواجہ صاحب عرض کرتے: خدایا!میں تجھے چاہتا ہوں ۔ آواز آتی کہ عثمان! میں نے جمال لا زوال تمھارے نصیب کیا، کچھ اور مانگو کیا مانگتے ہو؟ عرض کرتے: الٰہی! مصطفیٰ کریم ﷺ کی امت کے گناہ گاروں کو بخش دے ۔ آواز آتی کہ امت محمد ﷺ کے تیس ہزار گناہ گار تمھاری وجہ سے بخش دِ یے، آپ کو پانچوں وقت یہ بشارت ملتی تھی۔ (اہل سنت کی آواز ص:204)
اسفار:
حضرت خواجہ عثمان ہارونی نے طویل سفر کے بعد مکۃ لمکرمہ جا کر معتکف ہو گئے ۔ آپ نے حق تعالیٰ سے آخری عمر میں دو خصوصی دعائیں مانگی تھیں ۔ ایک یہ کہ میری قبر مکۃ المعظمہ میں ہو اور اس کا نشان باقی رہے تاکہ لوگ فاتحہ کا ایصال ثواب کرتے رہیں ۔ کیونکہ کثرت کی وجہ سے وہاں قبروں کا نشان نہیں رکھتےتھے ۔ دوسری دعا آپ نے یہ مانگی تھی کہ میرے روحانی فرزند معین الدین نے مدت دراز تک مقام تجرید و تفرید میں بندہ کی خدمت کی ہے اسے وہ ولایت عطا فرما کہ کسی اور کو اس قسم کی ولایت عطا نہ ہوئی ہو ۔ ہاتف نے آواز دی کہ تمھاری قبر مکہ میں ہوگی اور اس کا نشان کوئی نہ مٹا سکےگا، اور معین الدین کو ہندوستان کی وہ ولایت عطا ہوگی کہ جو آج تک ہم نے کسی کو نہیں دی ۔ لیکن انہیں چاہئے کہ پہلے مدینۃ المنورہ جائیں اور محمد ﷺ کی اجازت سے ہند کی ولایت میں جا کر تصرف کریں ۔ پس حضرت خواجہ عثمان نے اجابتِ دعا پر سجدۂ شکر ادا کیا ۔ (ایضا ص: 204 بحوالہ مرآۃ الاسرار ص:561)
آپ سراپا فضل و کرامت تھے ۔ جس پہ ایک نگاہ ڈالتے بس ایک ہی نگاہ میں اس کا باطن سنوار کر ولایت کے مقام پر فائز کر دیتے ۔ کتنے کفار آپ کے دست اقدس پر مشرف با اسلام ہوئے ۔ بے شمار فجار و فساق تائب ہوئے ۔ بہت سے ولایت کے مناصب عالیہ پر فائز ہوئے ۔ ایک مقام پر آپ تشریف لے گئے وہاں مجوسی تھے ۔ وہ آگ کی پوجا کر رہے تھے ۔ آپ نے انہیں دعوت توحید دی ۔ انہوں نے انکار کیا ۔ آپ ان کا ایک چھوٹا بچہ لے کر آگ میں داخل ہو گئے آگ نے کچھ نہیں کہا بلکہ وہ گلزار ہو گئی ۔ بہت دیر تک آگ میں رہے ۔ جب باہر تشریف لائے تو سارے مجوسی مسلمان ہو گئے ۔
آپ کی سب سے بڑی کرامت سلطان الہند عطائے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی ذات گرامی ہے ۔
اسی طرح شیخ الاسلام حضرت شیخ نجم الدین صغریٰ، ایسے نفوس قدسیہ جن کی تبلیغ سے لاکھوں غیر مسلم مشرف با اسلام ہوئے ۔ آپ کے ملفوظات ’’انیس الارواح‘‘ کے نام سے حضرت خواجہ غریب نواز نےجمع فرمائے ہیں ۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوق شاعری بھی عطا فرمایا تھا ۔
؏: نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بایں ذوق کہ پیشِ یار می رقصم
یہ ↑ آپ کا مشہورِ زمانہ کلام ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 5 شوال المکرم 617ھ مطابق 3 دسمبر 1220ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوا ۔ آپ کی قبر انور شریف حسین کے محل کے احاطے میں واقع ہے ۔ قبر آج تک محفوظ ہے، اور اس کےگرد لکڑی کا چبوترہ ہے ۔ یہ آپ کی دعا کا اثر ہے کہ نجدی و وہابی حکومت بھی آپ کی قبر کا نشان نہ مٹا سکی ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیاء کرام جلد نمبر 6 ۔
ماخذ و مراجع:
سبع سنابل شریف ۔ اہل سنت کی آواز مارہرہ مطہرہ 2008ء ۔ بہار چشت ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیاء کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-usman-harooni
scholars.pk
Hazrat Khawaja Usman Harooni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-10-1444 ᴴ | 25-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-10-1444 ᴴ | 26-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1