🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حمد ﷺ اور ان سے پہلے کے تمام رسول گزر گئے یعنی وفات پاگئے۔

جواب: یہ معنی جب صحیح ہونگے کہ خَلَت کے معنی مَاَتَتْ کے ہوں اور رسل سے تمام رسول مراد ہوں اور کوئی رسول مستثنیٰ نہ رہو حالانکہ خَلَت کے معنی مَاَتَتْ کے نہیں ہیں بلکہ مَضَتْ کے ہیں یعنی ان کا دور اور زمانہ گزر گیااور اگر خَلَت کے معنی مَاَتَتْ کے ہوں تو قد خلت من قبلہم المثلث (پارہ ۱۳، سورہ الرعد آیت ۶) کے معنی یہ ہوں گے کہ تحقیق ان سے پہلے واقعات عقوبت میں مرگئے اور فی الایام الخالیۃ (پارہ ۲۹، سورۃ الحاقہ، آیت ۲۴) کے معنی گذشتہ ایام کی بجائے مردے ایام ہوں گے۔ خلت کے معنی ماتت کے نہیں ہیں۔ اس طرح رسل سے مراد تمام رسول نہیں ہیں ۔ جس طرح ولقد ارسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لہم ازواجاو ذریۃ (پارہ ۱۳ سورۃ الرعد، اایت ۳۸) ہم نے تج سے پہلے رسولوں کو بھیجا اور ان کو بیبیاں اور اولادیں دیں حالانہ یحییٰ علیہ السلام کو بیوی اور اولاد نہیں دی کیونکہ ان کی تعریف میں فرمایا حصورا(پارہ ۳، سورۃ آل عمران اایت ۳۹) یعنی عورتوں سے بچنے اور پرہیز کرنے والا۔‘‘ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ دعویٰ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ، سچا ہے تو یہ دویٰ کہ وہ حیات ہیں زندہ ہیں قطعی جھوٹا ہوگیا۔ یعنی اگر قادیانی سچا ہے تو ساری قوم جھوٹی ہے اور اگر ساری قوم اصحاب رسول ﷺ سے لے کر آج تک اگر سب جھوٹے ہیں تو یہ مزہب اسلام ہی ختم ہوا۔ اور ان سب جھوٹوں نے قرآن کو نقل کیا ہے تو قرآن بھی غیر معتبر ہوا۔ اور اسی قرآن سے اصلی مسیح ثابت ہے۔ وہ اصل مسیح بھی ختم ہوا۔ اب مسیح موعود کی کیا ضرورت باقی رہ گئی جب کہ اصلی مسیح ختم ہوگیا جو قرآن سے ثابت ہے اورقرآن ان تمام جھوٹوں سے ثابت ہے اور اگر ساری قوم سچی ہے اور یہی حق ہے تو قطعاً قادیانی منکر حیات مسیح جھوٹا ہوگیا اور یہ بیان قادیانی اور انکار حیات مسیح کو ختم کردیتا ہے۔۔ (رسالہ ختم نبوت ص۱۸)

تصنیف و تالیف:

آپ کے علمی دروس کو آپ کے محبین و متوسلین نے آڈیو کیسٹ میں محفوظ کر لیا تھا جس سے نقل کرکے کتابیں تیار کرکے آپ کی زندگی اور اس کے بعد شائع کرکے مفت تقسیم کی گئیَ ریٹائرڈ پروفیسر محمد نعیم (کالا بورڈ، ملیر) علامہ موصوف کے درس میں اکثر شرکت فرماتے تھے انہوں نے ایک ملاقات میں راقم فقیر کو بتایا کہ وہ تاجرانہ بنیاد پر کتابیں شائع کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ وسائل ہیں تو شائع کرکے مفت تقسیم کریں اس سلسلہ میں وہ چندہ جمع کرنے کے حق میں بھی نہیں تھے۔ ان کا اللہ عزوجل کی ذات پر کامل بھروستہ تھا وہ فرماتے تھے جس کام کا ہونا ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا وہ کامل متوکل تھے۔ آپ کی بعض کتابوں کا مختصر تعارف درج ذیل ہے:

۱۔ تفسیر ایوبی:

حصہ اول جس میں اعوذ ، بسم اللہ اور سورہ فاتحہ کی تفسیر۔ حصہ دوم میںسورہ بقرہ رکوع اول کی تفسیر سوا چار سو صفحات پرمشتمل ہے مطبوعہ مکتبہ رازی شارع محمد بن قاسم روڈ کراچی

۲۔ فتنہ انکار حدیث:

فرقہ پرویزی کے (بانی غلام احمد پرویز ایڈیٹر ماہنامہ طلو ع اسلام لاہور) کے رد میں لکھی گئی۔ مولانا نے نہایت مدلل اور معقول جواب دیئے ہیں۔ مکتبہ نے اردو، انگریزی، عربی اور فرنچ میں شائع کیا۔ اس کا ایک ایڈیشن اے بی المعاشی برادرز اائل انڈسٹریز کراچی نے شائع کیا ہے۔

۳۔ ختم نبوت:

قادیانیت کے رد میں شاہکار رسالہ ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ بھی کثیر تعداد میں شائع ہوا اور فرانسیسی زبان میںبھی ترجمہ چھپ کر ہزاروں کی تعداد میں افریقہ میں مفت تقسیم ہو چکا ہے۔ اس کے بعد مکتبہ نے عربی میں شائع کیا۔ صدیقی ٹرسٹ کراچی نے ثمرۃ الکون کو ۱۹۸۲ء میں ارو فتنہ انکار الحدیث (عربی) کو ۱۹۸۳ء میںدو دو ہزار ایڈیشن شائع کئے۔

۴۔ مقصود کائنات:

اس کا ماحصل یہ ہے کہ مقصود کائنات حضور ختمی مرتبت ﷺ کی ذات گرامی قدر ہے۔ مکتبہ رازی نے اس رسالہ کا ترجمہ عربی ثمرۃ الکون کے نام سے شائع کیا۔

۵۔ مقالات ایوبی:

(۳ جلدیں) مطبوعہ مکتبہ رازی، ۱۵ شہاب مینشین محمد بن قاسم روڈ کراچی۔

۶۔ تحقیق الکلام

۷۔ مسئلہ جبرو قدر

۸ منکر حدیث اور قربانی

فقری نے علامہ ایوب کی کتب کی اشاعت کا جو جائزہ پیش کیا ہے اس سے بخوبی علامہ کی تالیفات کی عوام الناس میں مقبولیت کا پتہ چلتا ہے۔ وقت کا تقاضاو ضرورت ہے کہ علامہ کی تین سو کیست میں جو تقاریر مختلف علوم و فنون پر مشتمل پھیلی ہوئی ہیں انہیں کاغذ پر منتقل کرکے کتابی صورت میں شائع کرنے کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔

عادات و خصائل:

رازی زماں علاہ ایوب کے قریبی ، صحبت یافتہ سید صاحب جناب الحاج شوکت علی وہلوی ثم کراچی نے آپ کی تصویر کو اپنے قلم سے یوں کھینچا ہے، موصوف رقم طرا زہیں:

’’بلند اور کشادہ پیشانی، بری بڑی روشن اور مقناطیسی کشش رکھنے والی آنکھیں، خوبصورت داڑھی، رنگت ملیح ،صورت میں دلکشی، چہرے پر فکر و تحقیق اور ذہانت و فراست کے انوار، موزوں قد، رعب و دبدبہ اور جلال و جمال سے آراستہ، لیکن بہت معمولی لباس کرتہ کا گریبان کھلا ہوا، سر
1
پر دو پلی ٹوپی، پائوں میں ادھوڑی استر کی جوتی، کثرت سے پان کھانے کے باعث دانت اور ہونٹ رنگین اور کپڑوں میں جگہ جگہ پیک کے دھبے یہ حلیہ ہے اس ہستی کا جسے مولانا ایوب کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

دلی کے رہنے والے، دلی کی زبان بولنے والے، معقولات کے بادشاہ، فلسفہ کے امام اور فکر و تحقیق میں اپنی مثال آپ ، قرآن پاک پر بے پایاں عبور حاسل تھا جب رموز قرآن بیان کرتے تو معلوم ہوتا تھا کہ آبشار گر رہی ہے اور تلسل روانی ، زور بیان میں کبھی جھول نہیں آتا تھا ۔ تکلف و بناوٹ سے پاک، بے نیاز اور ساتھ ہی ساتھ محبت و مروت اور خدا ترسی کی صفات سے زندگی مرصع تھی۔‘‘ (پیش لفظ)

مولانا پیشے کے حوالے سے کپڑے کی تجارت کرتے تھے دن بھر خالقدینا ہال کے سامنے کپڑے کی مارکیت ایم اے جناح روڈ پر کراچی میں لٹھا کی دوکان پر بیٹھتے تھے۔ کسی مسجد میںامامت و خطابت ان کا معمول نہیں تھا، وہ کسی دارالعلوم سے بھی منسلک نہیں تھے۔ ان کی الگ تھلگ دنیا تھی، اپنی دنیا میں مشغول و مصروف رہ اکرتے تھے۔ وہ دین کی خدمت فی سبیل اللہ کرتے تھے اور اسی پر یقین رکھتے تھے، وہ فیس مقرر کرکے کسی جلسہ میں جانے کو بہت برا سمجھتے تھے اسی لئے تقریبات میں تقریباً نہیں جاتے ھتے۔ اپنی تشہیر کو سخت نا پسند کرتے تھے، غالباً اس لئے آپ کی کسی کتاب میں بھی سوانح مسنلک نہیں ہے۔ وہ گم نامی و گوشہ نشینی کو ترجیح دیتے تھے، وہ سیدھے سادے ، بے نفس ، سادہ مزاج، صاف گو عظیم انسان تھے۔ وہ لباس سے نہیں پہچانے جاتے تھے کہ یہ وہ عالم ہیں جس کی نظر نہیں۔ معمولی سا لباس زیب تن فرماتے گدڑی میں لعل کے مصداق معلوم ہوتے ۔

پروفیسر نعیم صاحب نے بتایا کہ وہ فرماتے تھے تم لوگ درس میں آتے تو ہو لیکن اس کی تشہیر کبھی نہیں کرنا۔ وہ اس چیز پر سب سے عہد لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے جنہیں درس میں آنا نصیب ہے وہ ضرور آکر رہے گا اس لئے تشہیر نمائش کی ضرورت نہیں۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اشتہارات میں ان کا نام نمایاں اور القابات سے شائع ہو، اس لئے کسی جلسہ میں جانا پسند نہیں کرتے تھے۔

صاحبزادہ محدم زین العابدین صاحب نے بتایا کہ وہ سادات کرام کا نہایت احترام کرتے تھے۔ سادات پر زکوٰۃ کو حرام سمجھتے تھے۔ جھوٹ سے نفرت رکھتے تھے اور حق سچ کا ساتھ دیتے تھے۔ ایک صاحب کے ان کی طرف ۹ ہزار روپے تھے لیکن وہ پاکستان آکر بھول گئے لیکن مولانا نے قیام پاکستان کے بعد انہیں یاد دلا کر پوری رقم واپس لوٹا دی۔ ایک بار ایک صاحب دوکان پر حاضر ہوئے وہ ان سے کہنے لگے بلینک چیک لے لیں اور یہ لکھ کر دیں کہ عیسائیت قادیانیت پرویزیت اور غیر مقلدیت کا رد نہیں کریں گے لیکن اس مرد خدا نے سختی سے دو ٹول الفاط میں وہ پیشکش ٹھکرادی۔ وہ کہتے تھے کہ میں دربار رسالت میں بک چکا ہوں اب کوئی میری بولی نہیں لگا سکتا وہ بکنے جھکنے اور دبنے والے انسان نہیں تھے بلکہ حضور پاک ﷺ کے سچے غلام اور دین اسلام کے مخلص سپاہی تھے۔

وہ سخی تھے راہ خدا میں لٹانا جانتے تھے۔ سارے دن کی کمائی میں سے گھر کا خرچہ نکال کر بقیہ رقم اہل ضرورت سفید پوش محتاجوں اور بیوہ خواتین پرخرچ کردیتے تھے۔

مولانا مرحوم کتب خانہ و کتب بینی کی حاجت سے آزاد تھے انہیں رب کریم نے وہبی علم عطا فرمایا تھا۔ وہ نہ لکھتے تھے، نہ پڑھتے تھے۔ ان کے معمولات اس طرح تھے کہ روزانہ فجر پڑھ کر ناشتہ کرتے اس کے بعد کھارادر سے بس میں بیٹھ کر برنس روڈ آتے گوشت سبزی وگیرہ خرید کر لائین میں لگے ہوئے فقیروں کو خیرات دیتے ہوئے واپس گھر آتے پھر وہاں سے بس میں بیٹھ کر لائٹ ہائس دوکان پر چلے جاتے حلال روزی کماتے۔ شام گھر واپس ہوتے عشاء کے بعد سو جاتے۔ یہ ہیں ان کے معمولات زندگی ان کے فیض یافتہ شاگرد ملا واحدی لکھتے ہیں:

افسوس انہیں لکھنے کی مشق نہیں تھی۔ وہی زبان جو تقریر میں استعمال کرتے تھے تحریر میں استعمال کر سکتے تو بلا مبالغہ امام غزالی علیہ الرحمۃ کی طرح حیات جاوید پالیتے۔ مجھے چودھویں صدی ہجری کی عطیم ترین علماء و مشائخ سے شرف نیاز مندی حاصل رہا ۔ میں نے علم کے سمندر میں غوطہ خور عالم اور غزالی صفت درویش مولاناایوب دہلوی جیسا نہیں پایا۔ (مولانا ایوب جنہوں نے دین کی تجارت کبھی نہیں کی: مضمون نگار: ملا واحدی، روزنامہ جنگ کراچی ۲۰ دسمبر ۱۹۶۹)

تاثرات:

نامور قانون دان و اسکالر اے کے بروہی مرحوم آپ کے متعلق اپنے تاثرات میں لکھتے ہیں:

۱۔ ’’ان کے قرآن شریف کے اس عمیق مطالعے اور اسلام کی روح کی سوجھ بوجھ سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ مجھے اس بارے میں ذرا بھی شک نہیں ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان کی آئندہ نسل کیلئے ان کے خیالات کا گہرا مطالعہ قرآن شریف کو صحیح سمجھنے اور پیغمبر اسلام کے ارشادات کی اہمیت کو بخوبی سمجھنے میں کافی حد تک ممد و معاون ثابت ہوں گے۔‘‘ (مقالات ایوبی جلد اول)

۲۔ نامور اسکالر ماہر تعلیم ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی رقمطراز ہیں:

’’علاہ حافط محمد ایوب صاحب مرحوم
و مغفور کی خدمت میں جن اہل علم کو حاضری کا موقع ملتا تھا وہ ان کے تبحر علمی کے گرویدہ ہو جاتے تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ علامہ موصوف کو علوم معقول و منقول میں حیرت انگیز دستگاہ تھی، اس زمانے میں ایسے علماء جو علم کلام میں اس درجہ امتیازی قابلیت کے حامل ہوں نظر نہیں آتے۔

منطق فلسفہ اور قرٓان و حدیث کے علوم کا ایسا امتزاج دوسروں کی تصانیف میں مشکل سے ملتا ہے۔ اس پر مستزادیہ کہ مولانا کا علم اس قدر حاضر تھا کہ ان کی تقریر معانی و معارف سے لبریز ہوتی تھی۔ وہ بے تکان مسلسل ایسی علمی تقریر کرتے تھے کہ دوسروں کو عرق ریزی اور مطالعے کے بعد بھی تحریر تک میں وہ بات پیدا کرنی دشوار ہے۔ ان کے برجستہ ارشادات ، نکات و حقائق کا خزینہ ہوتے تھے (رسالہ مقصوود کائنات)

۳۔ قائد اعظم اکیڈمی کے ریسرچ اسکالر خواجہ رضی حیدر صاحب علامہ موصوف کی علمیت کے معترف اور ان کی خود داری و صاف گوئی اور سادگی کے گیت گاتے رہتے ہیں۔

۴۔ محترم حاتم وقت سید شوکت علی مرحوم (والد سید فصاحت علی) نے اپنی تمام ریٹائرمنٹ سے مولان ایوب مرحوم کی کیسٹ سے تقاریر علمی کاغذ پر نقل کرواکے کتابیں ترتیب دے کر ملک و بیرون ملک مفت تقسیم فرمائیں۔ اس کام کیلئے اہل علم کا بورد اور مکتبہ رازی کو قائم فرما کر ایک اہم و منفرد خدمت سر انجام دیں تھیں۔ آپ کی اشاعت سے اہل علم ہمیشہ استفادہ کرتے رہیں گے اور اہل درد آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اجر ملتا رہے گا۔ آپ کا عمل اہل ثروت مخیر حضرا ت کیلئے ایک نمونہ ہے۔

وصال:

رازی زمان علامہ الدوان مولانا حافظ محمد ایوب دہلوی نے ۴ شوال المکرم ۱۳۸۹ھ بمطابق ۱۳، دسمبر ۱۹۶۹ء بروز پیر ۸۱ برس کی عمر کو کراچی میں انتقال کیا۔ آپ کا مزار دھوبی گھاٹ کے متصل پورہ لیاری کے قبرستان میں ہے جوکہ دہلی قوم سودگران کی ملکیت ہے۔

[سید فصاحت علی صاحب نے علامہ مرحوم کی بعض دستیاب کتابیں مہیا کی اور صوفی اقبال ربانی صاحب کی پر خلوص کوشش سے علامہ مرحوم کے صاحبزادے محمد زین العابدین صاحب سے فریسکو چوک کے قریب ایک سادہ ویرانے فلیٹ میں بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ دوسری ملاقات میں انہوں نے اپنے والد محترم کے متعلق سوانح لکھوائی اور ملا واحدی کے مطبوعہ مضمون والا اخبار کا تراشہ مرحمت فرمایا۔ فقیر تمام معاونین کا مشکور ہے]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-muhammad-ayub-dehlvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قطب العالم حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانوی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: شیخ نور محمد۔لقب:میاں جی،میاں جیو۔والد کا اسم گرامی: شیخ محمد جمال علیہ الرحمہ۔خاندانی نسب: آپ نجیب الطرفین علوی ہیں۔اکتالیسویں پشت میں سلسلہ نسب حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ملتا ہے۔نویں پشت میں ایک بزرگ حضرت شاہ عبدالرزاق ﷫ سلسلہ عالیہ قادریہ کےعظیم صوفی اور جید عالم دین گزرے ہیں۔آپ کاخاندان نجابت وشرافت کےاعتبار سے پورےعلاقے میں عقیدت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1201ھ،مطابق1787ء کوقصبہ جھنجھانہ ضلع شاملی اترپردیش انڈیا میں ہوئی۔

تحصیل علم: آپ نےابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی۔حفظ ِقرآن مجیدکیا،اورپھر عربی وفارسی میں کتب دینیہ کی تحصیل کی،اور مروجہ درس نظامی کانصاب تومکمل نہیں کیا تھا۔لیکن عربی وفارسی ادب پر مہارت حاصل تھی۔پیش آمد مسائل کا حل،اور ضروری دینی مسائل ومعلومات بہت زیادہ تھی۔ساری زندگی ایک چھوٹے سےمکتب میں بچوں کوقرآن مجید اور ابتدائی فارسی کی دینی تعلیمات دیتےرہے۔

بیعت وخلافت: اولاً حضرت شاہ احسان علی پٹنی﷫ سے بیعت ہوئے،شاہ احسان الحق حضرت بابا فرید الدین گنج شکر﷫ کی اولاد میں سےتھے۔ان کےبعد حضرت شاہ عبدالرحیم ولایتی ﷫سےبیعت ہوئے۔تکمیل ِسلوک کےبعد انہوں نےسلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں خلافت سے مشرف فرمایا۔

سیرت وخصائص: قطب العالم،شیخ المشائخ حضرت میاں جی شاہ نور محمد جھنجھانوی﷫۔آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے عظیم صوفی اور صاحب کمال شخصیت کےمالک تھے۔اپنیذاتکومخفیرکھنےاوریادالہیمیںمشغولرہنےکوترجیحدیتےتھے۔بڑےصاحبکراماتتھے۔آپ اپنے زمانے کے صوفی منش سادہ طبیعت کےمالک اور مجسمۂ حسنات تھے۔آپ کی تمام عمر سادگی،نماز روزہ کی پابندی،کثرتِ نوافل اور عبادت وریاضت میں گزری۔آپ ترک وتجرید میں یکتا مقام رکھتے تھے۔بناوٹ،ظاہر داری،ریاکاری،تصنعات سے سخت نفرت کرتےتھے۔اپنے آپ کولوگوں سے چھپاتےتھے،کسی پراپنی ولایت ظاہر نہیں کرتےتھے۔

قصبہ لوہاری میں بچوں کوقرآن پاک پڑھاتےتھے۔(ولایت وکمال چھپانےکا بہترین طریقہ ہے کہ فی زمانہ آدمی مولوی بن جائے ،اور مسجد میں درس وتدریس شروع کردےکوئی اس کوولی تسلیم کرنے کےلئے تیار ہی نہیں ہوگا۔پہلے کےصوفیاء اپنی ولایت چھپانے کےلیےبظاہر غیر شرعی امور کرتےتھے تاکہ لوگ ان سےمتنفر ہوں،جیسے حضرت بایزید بسطامی ﷫ نے حالتِ مسافرت میں رمضان المبارک میں لوگوں کےسامنے کھانا کھانا شروع کردیا تھا۔اس وقت اس طرح کےامور کی ضرورت ہی نہیں ہے بلکہ مولوی بن جاؤ کیونکہ مولوی ملامتی فرقہ ہے۔تونسویؔ غفرلہ)۔اسی چھوٹے سےمکتب ومدرسے میں اپنی ولایت کو چھپائے رکھا۔تیس سال تک آپ کی تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی۔ایک سادھو آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک اکسیر دی اور کہا اس سے آپ لنگر کاانتظام کیا کریں۔آپ نےفرمایا مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔جب اس نے باربار اصرار کیا توآپ نےایک ڈھیلا اٹھاکر سامنے دیوار پر مارا جس سےساری دیوار سونے کی ہوگئی۔اس سےمعلوم ہوا کہ اللہ والوں کےہاتھ میں جوچیز آجائے اس کی ہیت تبدیل ہوجاتی ہے۔حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی،حضرت پیر شیخ محمد محدث تھانہ بھون،حافظ محمد ضامن شہید،وغیرہ آپ کےجید خلفاء گزرے ہیں۔

تاریخِ وصال: آپ کا وصال 4/رمضان المبارک 1259ھ،مطابق 29/ستمبر 1843ء بروز جمعۃ المبارک ہوا۔آپ کامزار پر انوار جھنجانہ ضلع شاملی یوپی انڈیا میں احاطہ حضرت امام سید محمود ﷫ میں ہے۔

ماخذ ومراجع: انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام جلدنمبر3۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-jiyu-noor-muhammad-sabri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم بن وجیہ الدین شہید بن معظم بن منصور دہلوی: قطب الدین لقب تھا،آپ کا نسب تیس واسطوں سے حضرت عمر فاروق خلیفہ ثانی تک پہنچتا ہے۔آپ افضل علمائے متأخرین اور سید المفسرین سند المحدثین تھے۔ولادت آپ کی چار شنبہ کے روز بوقت طلوع آفتاب۴؍ماہ شوال ۱۱۱۴ھ میں ہوئئی۔پانچویں سال میں مکتب میں بیٹھے اور ساتویں سال میں آپ کے والد بزرگوار نے آپ کو نماز میں کھڑا کیا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا اور اس سال کے آخر میں قرآن شریف ختم ہوگیا اور کتب فارسیہ پڑھنی شروع کیں،دسویں سال میں شرح ملّا شروع کیا،چودھویں سال نکاح ہوا،پندروھیں سال اپنے والد ماجد سے بیعت کی اور طریقت صوفیہ کرام خصوصاً نقشبندیہ میں مشغول ہوئے۔آپ کے والدِ ماجد نے بہت سامان طعام کا مہیا کیا اور خاص و عام کی دعوت کر کے فاتحہ اجازت درس کی پڑھی پس بحسب رسم اس ولایت کے پندرہویں سال م یں جملہ علوم متداولہ اور فنون متعارفہ سے فراغت حاصل ہوئی یعنی علم حدیث سے تمام مشکوٰۃاور صحیح بخار کتاب الطہارۃ تک،شمائل نبوی تمام اور علم تفسیر سے کچھ بیضاوی اور مدارک پڑھی اور چند دفعہ تدریس قرآن شریف مع معانی و شان نزول میں مطابق تفاسیر کے والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہی سبب فتح عظیم کا ہوا۔علم فقہ سے شرح وقایہ وہدایہ تمام،علم اصول سے حسامی اور کچھ توضیح و تلویح اور علم منطق سے شرح شمسیہ اور کچھ شرح مطالع،علم کلام سے تمام شرح عقائد مع کسی قدر خیالی اور شرح مواقف کے،علم سلوک سے کچھ عوارف اور رسائل نقشبندیہ وغیرہ،علم حقائق سے شرح رباعیات مولوی جامی اور مقدمہ شرح لمعات اور مقدمہ نقد المنصوص،علم خواص اسماء وآیات سے مجموعہ خاصہ اور مأتہ فوائد،علم طب سے موجز،علم حکمت سے شرح ہدایۃ الحکمہ،علم نحو سے کافیہ وشرح ملّا علم معانی سے مطول و مختصر المعانی،علم ہئیت و ھساب سے بعض مختصر رسالے پڑھے۔ستر ھویں سال آپ کے والد ماجد فوت ہوگئے اور آپ کو اجازت بیعت وارشاد کی دے کر آپ کے حق میں کلمہ یدہ کیدی کا مکرر فرمایا پس آپ بعد وفات والد ماجد کے تقریباً بارہ سال تک کچھ کم وبیش تدریس کتب دینیہ وعقلیہ میں مشغول رہے اور بعد ملاحظہ کتب مذاہب اربعہ اوران کے اصول فقہ اور ان احادیث کے جوان کے متمسک ہیں آپ کی طرز تصنیف و تدریس فقہائے محدثین کی روش پر قرار پائی،بعد ازاں آپ آخر۱۱۴۳؁ھ میں ھرمین شریفین کی زیارت کو تشریف لے گئے اور وہاں ایک سال قیام فرماکر شیخ ابو طاہر مدنی وغیرہ مشائخ سے حدیث کی روایت کی اور وہاں کے علماء و فضلاء کی صحبت سے مستفیض ہوئے اور شیخ ابو طاہر مدنی سے جو حاوی جمعی فرق صوفیہ تھے خرقہ جامع پہن کر اور دورا حج ادا کر کے ۱۴رجب ۱۱۴۵ھ میں وارد دہلی ہوئے۔

تصانیف کثرت سے کی جو تمام نافع و مفید اور اپن ی جگہ بے نظیر ہے جسن میں حجۃ اللہ الباللغہ،ازالۃ الخفاء عن خلاقۃ الخلفاء،مصفّٰے شرح فارسی مؤطا، مستویٰ شرح عربی مؤطا،فیوض الحرمین،دار الثمین،انتباہ،انسان العین فی مشائخ الحرمین،فوز الکبیر نے اصول التفسیر،عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید، قول الجمیل،خیر الکثیرہمعات،الطاف القدس،مقالہ وضیہ فی النصیحہ والوصیہ،انصاف فی بیان سبب الاختلاف،سرور المحزون،لمعات،سطعات،المقدمۃ السنیہ فی انتصار الفرقۃ السنیہ،فتح الرحمٰن ترجمہ فارسی قرآن،انفاس العارفین،شفاء الغلوب،فتح الجیر بما لابد من حفظ فی علم التفسیر،قرۃ العینین فی تفصیل الشیخین،بدور البازغۃ،زہراوین، رسائل تفہمات وغیرہ مشہور و معروف ہیں۔وفات آپ کی ۱۱۷۶ھ میں ہوئی۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-waliullah-muhaddith-dehlvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-10-1444 ᴴ | 24-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-10-1444 ᴴ | 25-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1