🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آپ نے عرب میں انگریز کی کارستانیاں اور بالخصوص حجاز مقدس میں سعودیوں کے غصب اور ارض مقدس فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری پر کانفرنسیں منعقد کیں، اور ان علاقوں کے دورے کرکے مسلمانوں کو بیدار کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ حجاز مقدس میں سعودیوں اور ارض مقدس فلسطین میں یہودیوں کی حکومت کو بیسویں صدی کا انگریز کا سب سے بڑا فتنہ تصور کرتے تھے ۔

آپ علیہ الرحمہ کی عالمی امور پر اور مسلمانوں کے معاملات پر گہری نظر ہوتی تھی ۔ آپ مسلمانوں کی کامیابی و ترقی کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے ۔ دنیا کے کسی کونے میں اگر مسلمانوں پر کوئی ظلم و جبر ہوتا، یا ان کے علاقوں میں فرنگیوں کی طرف سے شورش برپا ہوتی تو آپ ماہی بے آب کی طرح بے قرار ہو جاتے ۔ جنگِ بلقان میں مسلمانوں کی کامیابی کے لئےآپ کی دعا ایسی رقت انگیز تھی کہ بے خودی میں آپ کے عمامے شریف کے پیچ کھل گئے مجلس دعا میں ایک کیفیت طاری ہو گئی تھی ۔

مولانا قطب الدین عبد الوالی کے ساتھ صوبہ سرحد کا دورہ کیا، انگریزی حکومت کی دست درازی سے ریاستوں کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لیے لاہور میں کل ہند کانفرنس بلائی، اور خطبہ صدارت پڑھا ۔ مسجد شہید گنج کی واپسی کے لیے حضرت مولانا پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری علیہ الرحمہ نے جد و جہد کی تو آپ نے اُن کی پوری مدد کی ۔

انگریزوں نے عرب اکثریت کا توازن برباد کرنے کے لیے ارض مقدس میں باہر سے یہودیوں کو لاکر آباد کرنا شروع کیا اور عربوں نے اُن کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تو حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے آپ نے ہندوستان کے نمائندہ کی حیثیت سے فلسطین کا سفر کیا ۔ مفتئ اعظم فلسطین سید امین الحسینی علیہ الرحمہ نے عربی یونیورسٹی کے لیے ہندوستان کا دورہ کیا تو اُس کے ترجمان اور سیکرٹری کا کام کیا ۔

اسی زمانے میں میر عثمان علی آصف جاہ سادس والیِ سلطنت آصفیہ نے محکمہ امور مذہبی کے صدر الصدور کے لیے آپ کا انتخاب کے لیے آپ کا انتخاب کیا، مگر سابقہ انگریز دشمن سیاسی زندگی کی بناء پر انگریزی حکومت نے اس عہدہ پر آپ کا تقرر مناسب نہ سمجھا، اور عدالت عالیہ (ہائیکورٹ) میں منصف اعظم مقرر کیا گیا ۔ دو بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے اندرون خانۂ کعبہ غسل میں شرکت کی، حرم نبوی اور روضۂ مطہرہ کی خلوت خاص میں باریاب ہوئے ۔ دربار غوث اعظم کی حاضری معمولات سے تھی، آپ سب سے پہلے عالم و بزرگ تھے جن کو دربار شریف میں امامت و خطابت کا اعزاز ملا، اسی طرح مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی علیہ الرحمہ کے بے حد اصرار پر آپ نے مسجد اقصی میں جمعہ کی نماز اور فصیح عربی زبان میں خطبہ دیا ۔

ایک مرتبہ گیارہویں شریف کی محفل میں آپ بغداد معلی میں صاحبزادگان غوث الاعظم کے ہمراہ تشریف فرما تھے کہ جنرل فوجی حاضر ہوئے اور اپنا خواب بیان کیا کہ سرکار بغداد تشریف لائے اور فرمایا: ’’مولوی کی طرف سے گیارہویں ہے اس میں شرکت کرو اور ان کو ہمارا سلام پہنچاؤ‘‘ ۔ پھر جنرل صاحب نے آپ سے سلسلۂ عالیہ میں داخل کرنے کی درخواست کی آپ نے اسے سلسلہ عالیہ میں داخلِ بیعت فرمایا ۔

آپ کا قوت حافظہ بہت قوی تھا ۔ اقوال فقہاء و محدثین و صوفیاء ازبر تھے ہزارہا اشعار یاد تھے خود بھی شعر موزوں فرماتے تھے ۔ حضرت علامہ مولانا عبد الحامد بدایونی آپ کے ابتدائی تلامذہ میں سے ہیں ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 شوال المکرم 1379ھ مطابق 31 مارچ 1960ء کو بوقتِ عصر 5:00 بجے ہوا ۔ درگاہ قادری بدایوں میں سپرد خاک ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ تذکار المحبوب ۔ خیر آبادیات ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-qadeer-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
برادر اعلیٰ حضرت، تاجدار فکر و فن، شہنشاہ سخن، استاذ زمن، حضرت علامہ حسن رضا خاں حسؔن بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه

اسمِ گرامی:
محمد حسن رضا خان ۔

لقب:
شہنشاہِ سخن، استاذِ زمن، تاجدارِ فکر و فن ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد حسن رضا خان بن مولانا مفتی نقی علی خان بن مولانا رضا علی خان (علیہم الرحمہ) ۔

ولادت:
آپ 4 ربیع الاوّل 1276ھ مطابق 19 اکتوبر 1859ء کو حضرت مولانا نقی علی خان کے گھر پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی مولانا مفتی نقی علی خان اور برادرِ اکبر شیخ الاسلام والمسلمین الشاہ امام احمد رضا خان کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ فَنِّ شاعری میں برادرِ اکبر اور مرزا داغ دہلوی سے استفادہ فرمایا ۔

بیعت و خلافت:
سراج العارفین سیّد شاہ ابوالحسین احمد نوری قادری برکاتی مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سندِ خلافت سے شرف یاب ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
ماہرِ علم وفن، شہنشاہِ سخن، اُستاذِ زمن، سخن وَرِ خوش بیاں، ناظمِ شیریں زباں مولانا محمد حسن رضا خاں علیہ الرحمہ کے نام کی علم و فن اور شعر و سخن کی کہکشاؤں میں وہی حیثیت ہے جو ستاروں کے جھرمٹ میں ماہِ تمام کی ۔

سیرت و تذکرہ نگاری میں آپ کی زبان و بیان کی جامعیت کا کوئی ہم پلہ نظر نہیں آتا ۔ ردِّ باطل اور احقاقِ حق میں آپ کی مہارت اور صلابت و پختگی اپنی نظیر آپ ہے ۔ اگر مختصر سے جملے میں مولانا کو ’’ نظم ونثر کابےتاج بادشاہ ‘‘ کہہ دیا جائے تو یقیناً کوئی مبالغہ آمیزی نہ ہوگی ۔

مولانا حسن رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا مجموعۂ نعتیہ کلام، شاعری کی بہت ساری خوبیوں اور خصوصیات سے سجا اور تمام تر فنّی محاسن سے مزیّن اور آراستہ ہے ۔ موضوعات کا تنوع، فکر کی ہمہ گیری، محبّتِ رسول ﷺ کے پاکیزہ جذبات کی فراوانی کے اثرات جا بہ جا ملتے ہیں ۔

آپ کے کلام میں اندازِ بیان کی ندرت بھی ہے اور فکر و تخیل کی بلندی بھی، معنیٰ آفرینی بھی ہے، تصوّفانہ ہم آہنگی بھی، استعارہ سازی بھی ہے، پیکر تراشی بھی، طرزِ ادا کا بانکپن بھی ہے، جدّت طرازی بھی، کلاسیکیت کا عنصر بھی ہے، رنگِ تغزل کی آمیزش بھی، ایجاز و اختصار اور ترکیب سازی بھی ہے ۔ استعارہ سازی، تشبیہات، اقتباسات، فصاحت و بلاغت، حُسنِ تعلیل و حُسنِ تشبیب، حُسنِ طلب و حُسنِ تضاد، لف و نشر مرتب و لف و نشر غیر مرتب، تجانیس، تلمیحات، تلمیعات، اشتقاق، مراعاۃ النظیر وغیرہ صنعتوں کی جلوہ گری بھی عربی اور فارسی کا گہرا رچاؤ بھی ۔

الغرض، آپ کا پورا کلام خود آگہی، کائنات آگہی اور خدا آگہی کے آفاقی تصور سے ہم کنار ہے ۔

مگر کیا کہا جائے اردو ادب کے اُن مؤرّخین و ناقدین اور شعرا کے تذکرہ نگاروں کو جنھوں نے گروہی عصبیت اور جانب داریت کے تنگ حصار میں مقید و محبوس ہو کر اردو کے اس عظیم شاعر کے ذکرِ خیر سے اپنی کتابوں کو یک سر خالی رکھا ۔ آپ کا ذکرِ خیر اپنی کتابوں میں نہ کرکے اردو ادب کے ساتھ بڑی بد دیانتی اور سنگین ادبی خیانت وجُرم کا ارتکاب کیا ہے ۔

فاشتکی الی اللہ والیہ ترجع الامور ۔

وصال:
03 شوّال المکرم 1326ھ مطابق 1908ء کو 50 سال 6 ماہ کی عمر میں وصال ہوا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-maulana-hasan-raza-khan-barelvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
برادر اعلی حضرت، شہنشاہ سخن، استاذ زمن، مولانا حسن رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 4 ربیع الاول 1276ھ کو بمقام محلہ سوداگران بریلی شریف میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفۂ شاہ ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ، تلمیذ مرزا داغ دہلوی، اپنے دور کے ممتاز عالم دین، صاحب طرز ادیب اور قادر الکلام شاعر تھے۔ چونکہ اعلیٰ حضرت خدمت دینی اور تصنیف کتب و فتاوی میں بہت مشغول رہتے، اسی لیے مولانا حسن رضا خان صاحب خاندانی کاروبار کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام کام کاج کی بھی نگرانی فرماتے۔ آپ کی معرکہ آرا کتب میں ذوق نعت، آئینہ قیامت، تزک مرتضوی اور صمصام حسن وغیرہ مشہور ہیں۔ 22 رمضان المبارک یا 3 شوال المکرم 1326ھ کو 50 سال کی عمر میں وصال فرمایا، مزار مبارک اپنے والدین کے پہلو میں قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ذوق نعت، تزک مرتضوی)

Brother of AlaHazrat, Shahenshah-e-Sukhan, Ustaz-e-Zaman, Mawlana Hasan Raza Khan Qadiri Barakati Noori (Alayhir Rahmah) was born on 4th Rabi’ al-Awwal 1276 AH in Mohalla Saudagiran, Bareilly Sharif. He is the disciple and caliph of Shah Abul Husayn Ahmad-e-Noori, student of Mirza Dagh Dehlavi, pious practicing scholar, remarkable author, and an outstanding poet. Since AlaHazrat was very busy serving the religion and writing books therefore Mawlana Hasan Raza looked after all the family businesses as well as the household. Zauq-e-Na’at, Aa’ina-e-Qiyamat, Tuzk-e-Murtazawi, and Samsaam-e-Hasan are some of his remarkable books. He passed away at the age of 50 on the 22nd of Ramadan or the 3rd of Shawwal al-Mukarram 1326 AH. His blessed resting place is next to his parents at the graveyard in beharipur area near police line city station, Bareilly, U.P., India. [Tazkira Ulama-e-AhleSunnat, Zauq-e-Na’at, Tuzk-e-Murtazawi]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02j6rjEyEB88LZ3H96y5gKUcsZpYbNdEuPYLDDmET3Ho8aMnxki2JSY8p3iL767rnql&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
برادر اعلی حضرت، شہنشاہ سخن، استاذ زمن، مولانا حسن رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 4 ربیع الاول 1276ھ کو بمقام محلہ سوداگران بریلی شریف میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفۂ شاہ ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ، تلمیذ مرزا داغ دہلوی، اپنے دور…
یوم ولادت 4 ربیع الاول
یوم وصال 3 شوال المکرم

برادر اعلی حضرت، شہنشاہ سخن، استاذ زمن، مولانا حسن رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 4 ربیع الاول 1276ھ کو بمقام محلہ سودا گران بریلی شریف میں ہوئی۔

آپ مرید و خلیفۂ شاہ ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ، تلمیذ مرزا داغ دہلوی، اپنے دور کے ممتاز عالم دین، صاحب طرز ادیب اور قادر الکلام شاعر تھے۔

چونکہ اعلیٰ حضرت خدمت دینی اور تصنیف کتب و فتاوی میں بہت مشغول رہتے، اسی لیے مولانا حسن رضا خان صاحب خاندانی کاروبار کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام کام کاج کی بھی نگرانی فرماتے ۔

آپ کی معرکہ آرا کتب میں ذوق نعت، آئینہ قیامت، تزک مرتضوی اور صمصام حسن وغیرہ مشہور ہیں ۔

وصال:
22 رمضان المبارک یا 3 شوال المکرم 1326ھ کو 50 سال کی عمر میں وصال فرمایا، مزار مبارک اپنے والدین کے پہلو میں قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے ۔

(تذکرہ علمائے اہل سنت، ذوق نعت، تزک مرتضوی)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02j6rjEyEB88LZ3H96y5gKUcsZpYbNdEuPYLDDmET3Ho8aMnxki2JSY8p3iL767rnql&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-10-1444 ᴴ | 23-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-10-1444 ᴴ | 24-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-10-1444 ᴴ | 24-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-10-1444 ᴴ | 24-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
³شوال عرس علامہ حسن رضا خاں
1