🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-10-1444 ᴴ | 23-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-10-1444 ᴴ | 23-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-10-1444 ᴴ | 23-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت حضور محدث کبیر
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت ابو المجد مجدود بن آدم حکیم سنائی علیہ الرحمہ

نام و نسب:
آپ کی کنیت و نام ابو المجد مجد بن آدم ہے ۔ وہ اور شیخ رضی الدین کے باپ علی لالا دونوں چچا زاد بھائی تھے ۔

صوفیوں میں سے بڑے شاعر گذرے ہیں " اور لوگ ان کے شعروں کو اپنی تصنیفات میں بطور دلیل کرتے ہیں ۔ ان کی کتاب " حدیقہ الحقیقت " ان کی شعر دانی ذوق اور ارباب معرفت کے وجد اور توحید کے کمال پر قاطع دلیل اور روشن برہان ہے ۔

بیعت:
خواجہ یوسف ہمدانی کے آپ مرید ہیں ـ

سببِ توبہ:
آپ کی توبہ کا یہ سبب تھا کہ سلطان محمود سبکتگین سردی کے موسم میں کفار کے بعض ملک لینے کے لیے غزنی سے باہر نکل آیا تھا ۔ سنائی نے اس کی تعریف میں قصیدہ کہا تھا ۔ اس کے پاس اس لیے جاتے تھے کہ پیش کریں ۔ ایک بھٹی کے دروازہ پر پہنچے وہاں ایک مجذوب محبوب تھا " جو کہ تکلیف کی حد سے ہاہر نکل گیا تھا ۔ جو لاخوار کے نام سے مشہور تھا ۔ کیونکہ وہ ہمیشہ رومی شراب پیا کرتا تھا ۔

اس کی آواز سنی کہ اپنے ساقی سے کہتا تھا کہ پیالہ بھر محمود سبکتگین کی قبر کے لیے کہ میں پیوں ۔ ساقی نے کہا کہ محمود ایک غازی مرد ہے " اسلام کا بادشاہ ہے ۔ اس نے کہا " وہ بڑا مردک ناخوش ہے ۔ جو کچھ کہ اس کے حکم کے نیچے ہے ۔ اس کو توضبط نہیں کرتا جاتا ہے کہ اور ملک لیوے " ایک پیالہ لیا اور پی لیا ۔ پھر کہا کہ اور پیالہ بھر سنائیک شاعر کی قبر کے لیے ساقی نے کہا کہ سنائی ایک فاضل لطیف الطبع مرد ہے ۔ کہا کہ اگر وہ لطیف الطبع مرد ہوتا تو کسی کام میں مشغول ہوتا " جو اس کے کام آتا ۔ چند نے ہودہ شعر ایک کاغذ پر لکھے ہیں کہ اس کے کسی کام کے نہیں جانتا کہ اس کو کس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ سنائی نے جب یہ بات سنی تو ان کا حال بدل گیا " اور اس شرابی کے تنبیہہ کرنے سے غفلت کی مستی سے ہوشیار ہو گئے ۔ پس اس راستہ میں پاؤں رکھا اور سلوک میں مشغول ہوئے ۔ مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمۃ کے اشعار میں مذکور ہے کہ خواجہ حکیم سنائی جس وقت کہ حالت نزع میں تھے، زبان میں کچھ کہہ رہے تھے ۔ جب حاضرین نے ان کے پاس کان رکھے، یہ شعر پڑھتے تھے ۔

باز گشتم زانچہ گفتم زانکہ ہست درسخن معنی و در معنی سخن

ایک عزیز نے سنا تو کہا، عجب حال ہے کہ شعر سے توبہ کے وقت شعر ہی مشغول ہوئے ۔ آپ ہمیشہ گوشہ نشین اور قطع تعلق و دنیاوی میں رہے، دنیاداروں سے علیحدہ رہتے تھے ۔ ایک شخص بڑا جلاہ جلال والا تھا ۔ اس نے ارادہ کیا کہ آپ کی زیارت کے لیے خدمت میں حاضر ہو۔شیخ نے اس کو ایک خط لکھا، جو بہت سے لطیفوں پر مشتمل تھا ۔ مجملہ ان کے یہ تھا کہ اس دعا گو کی خدمت میں عقل و روح ہے، لیکن اس کی بناوٹ ایسی ضعیف ہے کہ خدمت گذاری کی طاقت اور عہدہ برآئی کی قوت نہیں ۔ ان الملوک اذادا خلو اقریۃ افسدوھا یعنی بادشاہ جب کسی گاؤں میں داخل ہوتے ہیں،تو اس کا ستیاناس کرتے ہیں ۔ سویہ پرانا نکہا جباروں کی درگاہ کی کیا طاقت رکھتا ہے اور اونٹنی جدائی کے دودھ کی بھوک ماری ہوئی، شیروں کے پنجہ کا مقابلہ کیا کرسکتی ہے ۔ خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ جتنی دفعہ آپ کی حشمت کا خیمہ اس زمین میں لگا ہے، تو اس ضعیف گوشہ نشین کا سامان عافیت عرب خانہ غولاں ہے اور قناعت کا اسباب خضر والیاس کے سپرد رہا ہے ۔ اب آپ کو اس بزرگی کی قسم کی ہے کہ جس کو خدائے تعالیٰ نے دین و دنیا میں بزرگ کیا ہے ۔ اس گوشہ نشین کے گوشہ دل کو اپنی تعریف و عنایت سے خراب نہ کریں ۔ کیونکہ اس فقیر بندہ کی آنکھ حضور کی آنکھ کے لائق نہیں ہے ۔ آپ کے مقبولات میں یہ اشعار ہیں ۔

( نفحاتُ الاُنس )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-majd-majdood-bin-adam-hakeem-sinai
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ حسن کنجد گر المعروف حسو تیلی سہر وردی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ

شجرہ بیعت آپ کا اس طرح ہے کہ آپ حضرت شاہ جمال رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے، وہ مخدوم ککوا بیگ رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ شاہ شرف رحمۃ اللہ علیہ کے ،وہ معروف شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے ، وہ حضرت جعفر دین کے، وہ معروف حضرت شاہ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے ، وہ فیہ دین رحمتہ اللہ علیہ کے اور وہ حضرت شیخ الشیو خ شہاب الدین عمر سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کے تھے ۔

ابتدا میں آپ غلہ فروشی کا کام کرتے تھے اور نہایت تنگ دست رہا کرتے تھے، جب آپ نے حضرت شاہ جمال لاہور ی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کی بزرگی کا چرچا سنا تو ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تنگ دستی کا رونا رویا، آپ نے فرمایا کہ جاؤ رزق میں کشائش ہو جائےگی مگر کم نہ تولا کرو، آپ نے یہ مذ موم طریقہ چھو ڑ دیا تو حقیقتاً رزق میں فر اوانی آگئی تو دوبا رہ آپ نذرانہ لے کر حاضر خدمت ہوئے تو شاہ جمال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تمہارے لیئے ترک دنیا بہتر ہے چنا نچہ آپ نے اس پر عمل کیا اور اولیاء اللہ کے زمرہ میں پیر و مرشد کی تو جہ سے شامل ہوگئے اور بقا یا عمر آپ نے اپنے مرشد کی خدمت میں بسر کی۔

حضرت مادھو لال حسن رحمۃ اللہ علیہ باغبا نپو ری سے آپ کوبے حد عقید ت تھی، وہ جب بھی حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کی طرف جاتے تو آپ کی دکان سے ہوکر جاتے تھے، مصنف، تحقیقات چشتی، نے سر العا رفین، کے حوالہ سے تحریر کیا ہے کہ آپ حضر ت لال حسین قادری رحمتہ اللہ علیہ کے ہمعصر تھے،آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری ارادت مندی میں آئے اس پر لا زم ہے کہ وہ حضرت لال حسین رحمۃ اللہ علیہ کا ادب و لحاظ مرشد کی طرح کریں ۔

آپ کی دوکان:
مہاراجہ کھڑک سنگھ حویلی کے راستے سے چوک جھنڈا کو جائیں تو ان دکانوں میں سے ایک دکان ہے جس میں آپ غلہ فروشی کا کام کرتے تھے، دکان آج تک زیارت گاہ خلائق ہے، آخری عمر میں آپ نے غلہ فروشی کا کار و بار بند کر کے تیل کا کاروبار شروع کر دیا تھا، لاہور کے تیلی لوگ آپ کو اپنا پیر سمجھتے ہیں، وارث شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب، ہیروارث شاہ، میں ایک آپ کا ذکر اس طرح کیا ہے۔

عشق پر ہے عاشقاں ساریاں دا
بھکھ پیر ہے مستیاں ہاتھیا ں دا

حسو تیلی ہے پیر جو تیلیاں دا
سلیمان ہے جن بھوتا سیاں دا

وصال:
وفات شہر لاہور میں ۱۶۰۳ء بمطابق ۱۰۱۲ھ میں بعہد جلال الدین اکبر ہوئی، مزار، پرانے کلب گھر، سے شمال کی طرف اور موجودہ حالت میں ایبٹ روڈ پر گر اؤنڈ کے ساتھ محفل سینما کے عقب میں، لیڈی جمعیت سنگھ، مٹر نٹی ہسپتال اور گراؤنڈ کے درمیان ایک احاطہ میں واقع ہے، ان کے ساتھ ہی شیخ سعد اللہ ستر پوش برقعہ پوش اور میاں خاں کی بھی قبور ہیں جو آپ کے خلفاء میں سے تھے ۔

تاریخ وفات مفتی غلام سرور نے اس طرح لکھی ہے ۔

رفت از ہر بہشت بریں چوں حسن شیخ متقی مخدوم
وصلش ہست، شیخ اہل اللہ، نیز، محسن اے مخدوم

(لاہور کے اولیائے سہروردیہ)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hasu-teli
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام حضرت مولانا شاہ عبد القدیر قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ عبد القدیر بدایونی ۔ کنیت: ابو السالم ۔ لقب: شیخ الاسلام، عاشق رسول ﷺ، ظہورِ حق ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا شاہ عبد القدیر بدایونی بن تاج الفحول محب رسول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی بن سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل ِرسول بدایونی بن عین الحق شاہ عبد المجید بدایونی، بن شاہ عبد الحمید بدایونی ۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔

سلسلۂ نسب حضرت عثمان غنی رضی الله تعالیٰ عنه تک منتہی ہوتا ہے ۔ (اکمل التاریخ ص:33)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 شوال المکرم 1311ھ، مطابق وسط اپریل 1894ء کو بدایوں شریف (انڈیا) میں ہوئی ۔

ولادت سے قبل بشارت:
آپ کی ولادت سے قبل ہی جد کریم سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ نے 1283ھ / 1866ء میں ہی بشارت دے دی تھی کہ اس وقت تشریف لانے والے عبد المقتدر ہیں، اور دوسرے صاحبزادے تشریف لائیں گے تو ان کا نام عبد القدیر ہوگا ۔ اسی وقت دونوں صاحبزادوں کے لئے تعویذ بھی عنایت فرمائے ۔ یعنی آپ پر حضرت سیف اللہ المسلول علیہ الرحمہ کی پہلے سے ہی توجہات و عنایات کی بارش ہونے لگی تھی (تذکار محبوب ص:9)

تحصیلِ علم:
مولانا شاہ مطیع الرسول عبد المقتدر قدس سرہٗ کی آغوش میں پرورش پائی، ابتدائی تعلیم حافظ غوثی شاہ، مولوی سید الطاف علی، مولوی سید عبد الحی سے پائی ۔ درس نظامی کی کتب متداولہ مولانا فضل احمد قادری، مولانا محب احمد قادری، مولانا حافظ بخش قادری اور برادر بزرگ سے پڑھیں، مولانا حبیب الرحمٰن قادری بدایونی سے بھی کسب علم کیا، 1331ھ میں فراغت کے بعد متواتر ” کابوس “ کا دورہ پڑا، علاج کے لیے حضرت العلامہ حکیم سید برکات ٹونکی کے پاس گئے، تین ماہ تک اُن کی خدمت میں رہ کر علوم عقلیہ کی کتابوں کا درس لیا، اور رام پور میں مولانا سید عبد العزیز انبیٹھوی تلمیذ مولانا عبد الحق خیر آبادی سے قدماء کی کتابیں پڑھیں، درس و تدریس کی لیاقت ورثہ میں پائی تھی، مُدتوں مدرسہ عالیہ قادریہ میں طلبہ کو پورے انہماک کے ساتھ تعلیم دی ۔

بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اپنے برادر بزرگوار جامع شریعت و طریقت حضرت علامہ مولانا شاہ عبد المقتدر قادری بدایونی علیہ الرحمہ سے بیعت و مجاز ہوئے ۔ اسی طرح نقیب الاشراف خانقاہ قادریہ بغداد معلی کے مسند نشین حضرت شیخ حسام الدین کی طرف سے اجازت حاصل تھی ۔

سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، محسن اہل اسلام، مجاہد کبیر، جامع العلوم، محبوب حضرت محبوب سبحانی، عاشقِ رسول ﷺ، مفتی اعظم ریاست حیدر آباد دکن، حضرت علامہ مولانا شاہ عبدالقدیر قادری بدایونی علیہ الرحمہ ۔

آپ علیہ الرحمہ خاندان عثمانیہ کے فرد وحید اور حضرت سیف اللہ المسلول، اور حضرت تاج الفحول علیہماالرحمہ کے سچے جانشین، اور ملت اسلامیہ کے صحیح نقیب تھے ۔ آپکی ذات گرامی عجیب وغریب جامعیت کی حامل تھی ۔معقولی سلسلہ خیر آباد کے روشن چراغ، پچاسوں علماء کے استاذ، ہزاروں کے شیخ طریقت، ریاست حیدر آباد کے مفتیِ اعظم، خانقاہ قادریہ کے سجادہ نشین، اپنے اکابر کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث و امین، قومی اور ملی قائد، تحریک آزادی کے مرد مجاہد، بیک وقت حیدر آباد حجاز اور عراق کے شاہی خاندانوں کے اور فقراء و درویشوں سے یکساں تعلقات و روابط، حرمین شریفین، مسجد اقصیٰ، اور جامع قادریہ بغداد شریف میں امامت و خطابت، ایسے کمالات و اوصاف فرد واحد میں جمع ہونا نا ممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہے ۔

جذبۂ حریت:
فرنگی تاجوں کے ہاتھوں جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت زوال پذیر ہوئی تو آخری جد و جہد کے منظم کرنے والوں میں اکابر علماء اہل سنت ہی تھے ۔جن کے سرخیل و روح رواں حضرت علامۃ الدہر علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ، حضرت مفتی کفایت علی کافی، مفتی عنایت علی کاکوروی، مولانا رضا علی خان بریلوی، حضرت سیف اللہ المسلول اور حضرت تاج الفحول، حضرت مولانا کیرانوی علیہم الرحمہ کے اسماء نمایاں ہیں ۔

بِالخصوص حضرت کے جد امجد حضرت سیف اللہ المسلول ، مولانا فضل حق خیر آبادی علیہم الرحمہ کے معاصر تھے، اور فرنگی دشمنی میں ان کے شریک حال، یہی وجہ ہے کہ اس خانوادے کو ہمیشہ سے انگریز سرکار سے نفرت رہی ۔ حضرت مولانا شاہ عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمہ نے انھیں جذبات کو اپنے سینے میں موجزن پایا اور علمی طور پر ہر اس تحریک کے روح رواں رہے جو فرنگیوں کے خلاف ہوتی تھی ۔ آپ کے رفقاء خاص میں حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن پھپھوندی، رئیس الاحرار حضرت مولانا حسرت موہانی، مولانا عبد الباری فرنگی محلی یہ حضرات انگریز کے خلاف اور ان کو نقصان پہنچانے کے ہر طریقے کو صحیح سمجھتے تھے ۔
1