🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-10-1444 ᴴ | 23-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-10-1444 ᴴ | 23-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-10-1444 ᴴ | 23-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت حضور محدث کبیر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت حضور محدث کبیر
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت ابو المجد مجدود بن آدم حکیم سنائی علیہ الرحمہ
نام و نسب:
آپ کی کنیت و نام ابو المجد مجد بن آدم ہے ۔ وہ اور شیخ رضی الدین کے باپ علی لالا دونوں چچا زاد بھائی تھے ۔
صوفیوں میں سے بڑے شاعر گذرے ہیں " اور لوگ ان کے شعروں کو اپنی تصنیفات میں بطور دلیل کرتے ہیں ۔ ان کی کتاب " حدیقہ الحقیقت " ان کی شعر دانی ذوق اور ارباب معرفت کے وجد اور توحید کے کمال پر قاطع دلیل اور روشن برہان ہے ۔
بیعت:
خواجہ یوسف ہمدانی کے آپ مرید ہیں ـ
سببِ توبہ:
آپ کی توبہ کا یہ سبب تھا کہ سلطان محمود سبکتگین سردی کے موسم میں کفار کے بعض ملک لینے کے لیے غزنی سے باہر نکل آیا تھا ۔ سنائی نے اس کی تعریف میں قصیدہ کہا تھا ۔ اس کے پاس اس لیے جاتے تھے کہ پیش کریں ۔ ایک بھٹی کے دروازہ پر پہنچے وہاں ایک مجذوب محبوب تھا " جو کہ تکلیف کی حد سے ہاہر نکل گیا تھا ۔ جو لاخوار کے نام سے مشہور تھا ۔ کیونکہ وہ ہمیشہ رومی شراب پیا کرتا تھا ۔
اس کی آواز سنی کہ اپنے ساقی سے کہتا تھا کہ پیالہ بھر محمود سبکتگین کی قبر کے لیے کہ میں پیوں ۔ ساقی نے کہا کہ محمود ایک غازی مرد ہے " اسلام کا بادشاہ ہے ۔ اس نے کہا " وہ بڑا مردک ناخوش ہے ۔ جو کچھ کہ اس کے حکم کے نیچے ہے ۔ اس کو توضبط نہیں کرتا جاتا ہے کہ اور ملک لیوے " ایک پیالہ لیا اور پی لیا ۔ پھر کہا کہ اور پیالہ بھر سنائیک شاعر کی قبر کے لیے ساقی نے کہا کہ سنائی ایک فاضل لطیف الطبع مرد ہے ۔ کہا کہ اگر وہ لطیف الطبع مرد ہوتا تو کسی کام میں مشغول ہوتا " جو اس کے کام آتا ۔ چند نے ہودہ شعر ایک کاغذ پر لکھے ہیں کہ اس کے کسی کام کے نہیں جانتا کہ اس کو کس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ سنائی نے جب یہ بات سنی تو ان کا حال بدل گیا " اور اس شرابی کے تنبیہہ کرنے سے غفلت کی مستی سے ہوشیار ہو گئے ۔ پس اس راستہ میں پاؤں رکھا اور سلوک میں مشغول ہوئے ۔ مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمۃ کے اشعار میں مذکور ہے کہ خواجہ حکیم سنائی جس وقت کہ حالت نزع میں تھے، زبان میں کچھ کہہ رہے تھے ۔ جب حاضرین نے ان کے پاس کان رکھے، یہ شعر پڑھتے تھے ۔
باز گشتم زانچہ گفتم زانکہ ہست درسخن معنی و در معنی سخن
ایک عزیز نے سنا تو کہا، عجب حال ہے کہ شعر سے توبہ کے وقت شعر ہی مشغول ہوئے ۔ آپ ہمیشہ گوشہ نشین اور قطع تعلق و دنیاوی میں رہے، دنیاداروں سے علیحدہ رہتے تھے ۔ ایک شخص بڑا جلاہ جلال والا تھا ۔ اس نے ارادہ کیا کہ آپ کی زیارت کے لیے خدمت میں حاضر ہو۔شیخ نے اس کو ایک خط لکھا، جو بہت سے لطیفوں پر مشتمل تھا ۔ مجملہ ان کے یہ تھا کہ اس دعا گو کی خدمت میں عقل و روح ہے، لیکن اس کی بناوٹ ایسی ضعیف ہے کہ خدمت گذاری کی طاقت اور عہدہ برآئی کی قوت نہیں ۔ ان الملوک اذادا خلو اقریۃ افسدوھا یعنی بادشاہ جب کسی گاؤں میں داخل ہوتے ہیں،تو اس کا ستیاناس کرتے ہیں ۔ سویہ پرانا نکہا جباروں کی درگاہ کی کیا طاقت رکھتا ہے اور اونٹنی جدائی کے دودھ کی بھوک ماری ہوئی، شیروں کے پنجہ کا مقابلہ کیا کرسکتی ہے ۔ خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ جتنی دفعہ آپ کی حشمت کا خیمہ اس زمین میں لگا ہے، تو اس ضعیف گوشہ نشین کا سامان عافیت عرب خانہ غولاں ہے اور قناعت کا اسباب خضر والیاس کے سپرد رہا ہے ۔ اب آپ کو اس بزرگی کی قسم کی ہے کہ جس کو خدائے تعالیٰ نے دین و دنیا میں بزرگ کیا ہے ۔ اس گوشہ نشین کے گوشہ دل کو اپنی تعریف و عنایت سے خراب نہ کریں ۔ کیونکہ اس فقیر بندہ کی آنکھ حضور کی آنکھ کے لائق نہیں ہے ۔ آپ کے مقبولات میں یہ اشعار ہیں ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-majd-majdood-bin-adam-hakeem-sinai
نام و نسب:
آپ کی کنیت و نام ابو المجد مجد بن آدم ہے ۔ وہ اور شیخ رضی الدین کے باپ علی لالا دونوں چچا زاد بھائی تھے ۔
صوفیوں میں سے بڑے شاعر گذرے ہیں " اور لوگ ان کے شعروں کو اپنی تصنیفات میں بطور دلیل کرتے ہیں ۔ ان کی کتاب " حدیقہ الحقیقت " ان کی شعر دانی ذوق اور ارباب معرفت کے وجد اور توحید کے کمال پر قاطع دلیل اور روشن برہان ہے ۔
بیعت:
خواجہ یوسف ہمدانی کے آپ مرید ہیں ـ
سببِ توبہ:
آپ کی توبہ کا یہ سبب تھا کہ سلطان محمود سبکتگین سردی کے موسم میں کفار کے بعض ملک لینے کے لیے غزنی سے باہر نکل آیا تھا ۔ سنائی نے اس کی تعریف میں قصیدہ کہا تھا ۔ اس کے پاس اس لیے جاتے تھے کہ پیش کریں ۔ ایک بھٹی کے دروازہ پر پہنچے وہاں ایک مجذوب محبوب تھا " جو کہ تکلیف کی حد سے ہاہر نکل گیا تھا ۔ جو لاخوار کے نام سے مشہور تھا ۔ کیونکہ وہ ہمیشہ رومی شراب پیا کرتا تھا ۔
اس کی آواز سنی کہ اپنے ساقی سے کہتا تھا کہ پیالہ بھر محمود سبکتگین کی قبر کے لیے کہ میں پیوں ۔ ساقی نے کہا کہ محمود ایک غازی مرد ہے " اسلام کا بادشاہ ہے ۔ اس نے کہا " وہ بڑا مردک ناخوش ہے ۔ جو کچھ کہ اس کے حکم کے نیچے ہے ۔ اس کو توضبط نہیں کرتا جاتا ہے کہ اور ملک لیوے " ایک پیالہ لیا اور پی لیا ۔ پھر کہا کہ اور پیالہ بھر سنائیک شاعر کی قبر کے لیے ساقی نے کہا کہ سنائی ایک فاضل لطیف الطبع مرد ہے ۔ کہا کہ اگر وہ لطیف الطبع مرد ہوتا تو کسی کام میں مشغول ہوتا " جو اس کے کام آتا ۔ چند نے ہودہ شعر ایک کاغذ پر لکھے ہیں کہ اس کے کسی کام کے نہیں جانتا کہ اس کو کس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ سنائی نے جب یہ بات سنی تو ان کا حال بدل گیا " اور اس شرابی کے تنبیہہ کرنے سے غفلت کی مستی سے ہوشیار ہو گئے ۔ پس اس راستہ میں پاؤں رکھا اور سلوک میں مشغول ہوئے ۔ مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمۃ کے اشعار میں مذکور ہے کہ خواجہ حکیم سنائی جس وقت کہ حالت نزع میں تھے، زبان میں کچھ کہہ رہے تھے ۔ جب حاضرین نے ان کے پاس کان رکھے، یہ شعر پڑھتے تھے ۔
باز گشتم زانچہ گفتم زانکہ ہست درسخن معنی و در معنی سخن
ایک عزیز نے سنا تو کہا، عجب حال ہے کہ شعر سے توبہ کے وقت شعر ہی مشغول ہوئے ۔ آپ ہمیشہ گوشہ نشین اور قطع تعلق و دنیاوی میں رہے، دنیاداروں سے علیحدہ رہتے تھے ۔ ایک شخص بڑا جلاہ جلال والا تھا ۔ اس نے ارادہ کیا کہ آپ کی زیارت کے لیے خدمت میں حاضر ہو۔شیخ نے اس کو ایک خط لکھا، جو بہت سے لطیفوں پر مشتمل تھا ۔ مجملہ ان کے یہ تھا کہ اس دعا گو کی خدمت میں عقل و روح ہے، لیکن اس کی بناوٹ ایسی ضعیف ہے کہ خدمت گذاری کی طاقت اور عہدہ برآئی کی قوت نہیں ۔ ان الملوک اذادا خلو اقریۃ افسدوھا یعنی بادشاہ جب کسی گاؤں میں داخل ہوتے ہیں،تو اس کا ستیاناس کرتے ہیں ۔ سویہ پرانا نکہا جباروں کی درگاہ کی کیا طاقت رکھتا ہے اور اونٹنی جدائی کے دودھ کی بھوک ماری ہوئی، شیروں کے پنجہ کا مقابلہ کیا کرسکتی ہے ۔ خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ جتنی دفعہ آپ کی حشمت کا خیمہ اس زمین میں لگا ہے، تو اس ضعیف گوشہ نشین کا سامان عافیت عرب خانہ غولاں ہے اور قناعت کا اسباب خضر والیاس کے سپرد رہا ہے ۔ اب آپ کو اس بزرگی کی قسم کی ہے کہ جس کو خدائے تعالیٰ نے دین و دنیا میں بزرگ کیا ہے ۔ اس گوشہ نشین کے گوشہ دل کو اپنی تعریف و عنایت سے خراب نہ کریں ۔ کیونکہ اس فقیر بندہ کی آنکھ حضور کی آنکھ کے لائق نہیں ہے ۔ آپ کے مقبولات میں یہ اشعار ہیں ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-majd-majdood-bin-adam-hakeem-sinai
scholars.pk
Hazrat Abul Majd Majdood Bin Adam Hakeem Sinai
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ حسن کنجد گر المعروف حسو تیلی سہر وردی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ
شجرہ بیعت آپ کا اس طرح ہے کہ آپ حضرت شاہ جمال رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے، وہ مخدوم ککوا بیگ رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ شاہ شرف رحمۃ اللہ علیہ کے ،وہ معروف شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے ، وہ حضرت جعفر دین کے، وہ معروف حضرت شاہ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے ، وہ فیہ دین رحمتہ اللہ علیہ کے اور وہ حضرت شیخ الشیو خ شہاب الدین عمر سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کے تھے ۔
ابتدا میں آپ غلہ فروشی کا کام کرتے تھے اور نہایت تنگ دست رہا کرتے تھے، جب آپ نے حضرت شاہ جمال لاہور ی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کی بزرگی کا چرچا سنا تو ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تنگ دستی کا رونا رویا، آپ نے فرمایا کہ جاؤ رزق میں کشائش ہو جائےگی مگر کم نہ تولا کرو، آپ نے یہ مذ موم طریقہ چھو ڑ دیا تو حقیقتاً رزق میں فر اوانی آگئی تو دوبا رہ آپ نذرانہ لے کر حاضر خدمت ہوئے تو شاہ جمال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تمہارے لیئے ترک دنیا بہتر ہے چنا نچہ آپ نے اس پر عمل کیا اور اولیاء اللہ کے زمرہ میں پیر و مرشد کی تو جہ سے شامل ہوگئے اور بقا یا عمر آپ نے اپنے مرشد کی خدمت میں بسر کی۔
حضرت مادھو لال حسن رحمۃ اللہ علیہ باغبا نپو ری سے آپ کوبے حد عقید ت تھی، وہ جب بھی حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کی طرف جاتے تو آپ کی دکان سے ہوکر جاتے تھے، مصنف، تحقیقات چشتی، نے سر العا رفین، کے حوالہ سے تحریر کیا ہے کہ آپ حضر ت لال حسین قادری رحمتہ اللہ علیہ کے ہمعصر تھے،آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری ارادت مندی میں آئے اس پر لا زم ہے کہ وہ حضرت لال حسین رحمۃ اللہ علیہ کا ادب و لحاظ مرشد کی طرح کریں ۔
آپ کی دوکان:
مہاراجہ کھڑک سنگھ حویلی کے راستے سے چوک جھنڈا کو جائیں تو ان دکانوں میں سے ایک دکان ہے جس میں آپ غلہ فروشی کا کام کرتے تھے، دکان آج تک زیارت گاہ خلائق ہے، آخری عمر میں آپ نے غلہ فروشی کا کار و بار بند کر کے تیل کا کاروبار شروع کر دیا تھا، لاہور کے تیلی لوگ آپ کو اپنا پیر سمجھتے ہیں، وارث شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب، ہیروارث شاہ، میں ایک آپ کا ذکر اس طرح کیا ہے۔
عشق پر ہے عاشقاں ساریاں دا
بھکھ پیر ہے مستیاں ہاتھیا ں دا
حسو تیلی ہے پیر جو تیلیاں دا
سلیمان ہے جن بھوتا سیاں دا
وصال:
وفات شہر لاہور میں ۱۶۰۳ء بمطابق ۱۰۱۲ھ میں بعہد جلال الدین اکبر ہوئی، مزار، پرانے کلب گھر، سے شمال کی طرف اور موجودہ حالت میں ایبٹ روڈ پر گر اؤنڈ کے ساتھ محفل سینما کے عقب میں، لیڈی جمعیت سنگھ، مٹر نٹی ہسپتال اور گراؤنڈ کے درمیان ایک احاطہ میں واقع ہے، ان کے ساتھ ہی شیخ سعد اللہ ستر پوش برقعہ پوش اور میاں خاں کی بھی قبور ہیں جو آپ کے خلفاء میں سے تھے ۔
تاریخ وفات مفتی غلام سرور نے اس طرح لکھی ہے ۔
رفت از ہر بہشت بریں چوں حسن شیخ متقی مخدوم
وصلش ہست، شیخ اہل اللہ، نیز، محسن اے مخدوم
(لاہور کے اولیائے سہروردیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hasu-teli
شجرہ بیعت آپ کا اس طرح ہے کہ آپ حضرت شاہ جمال رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے، وہ مخدوم ککوا بیگ رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ شاہ شرف رحمۃ اللہ علیہ کے ،وہ معروف شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے ، وہ حضرت جعفر دین کے، وہ معروف حضرت شاہ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے ، وہ فیہ دین رحمتہ اللہ علیہ کے اور وہ حضرت شیخ الشیو خ شہاب الدین عمر سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کے تھے ۔
ابتدا میں آپ غلہ فروشی کا کام کرتے تھے اور نہایت تنگ دست رہا کرتے تھے، جب آپ نے حضرت شاہ جمال لاہور ی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کی بزرگی کا چرچا سنا تو ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تنگ دستی کا رونا رویا، آپ نے فرمایا کہ جاؤ رزق میں کشائش ہو جائےگی مگر کم نہ تولا کرو، آپ نے یہ مذ موم طریقہ چھو ڑ دیا تو حقیقتاً رزق میں فر اوانی آگئی تو دوبا رہ آپ نذرانہ لے کر حاضر خدمت ہوئے تو شاہ جمال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تمہارے لیئے ترک دنیا بہتر ہے چنا نچہ آپ نے اس پر عمل کیا اور اولیاء اللہ کے زمرہ میں پیر و مرشد کی تو جہ سے شامل ہوگئے اور بقا یا عمر آپ نے اپنے مرشد کی خدمت میں بسر کی۔
حضرت مادھو لال حسن رحمۃ اللہ علیہ باغبا نپو ری سے آپ کوبے حد عقید ت تھی، وہ جب بھی حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کی طرف جاتے تو آپ کی دکان سے ہوکر جاتے تھے، مصنف، تحقیقات چشتی، نے سر العا رفین، کے حوالہ سے تحریر کیا ہے کہ آپ حضر ت لال حسین قادری رحمتہ اللہ علیہ کے ہمعصر تھے،آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری ارادت مندی میں آئے اس پر لا زم ہے کہ وہ حضرت لال حسین رحمۃ اللہ علیہ کا ادب و لحاظ مرشد کی طرح کریں ۔
آپ کی دوکان:
مہاراجہ کھڑک سنگھ حویلی کے راستے سے چوک جھنڈا کو جائیں تو ان دکانوں میں سے ایک دکان ہے جس میں آپ غلہ فروشی کا کام کرتے تھے، دکان آج تک زیارت گاہ خلائق ہے، آخری عمر میں آپ نے غلہ فروشی کا کار و بار بند کر کے تیل کا کاروبار شروع کر دیا تھا، لاہور کے تیلی لوگ آپ کو اپنا پیر سمجھتے ہیں، وارث شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب، ہیروارث شاہ، میں ایک آپ کا ذکر اس طرح کیا ہے۔
عشق پر ہے عاشقاں ساریاں دا
بھکھ پیر ہے مستیاں ہاتھیا ں دا
حسو تیلی ہے پیر جو تیلیاں دا
سلیمان ہے جن بھوتا سیاں دا
وصال:
وفات شہر لاہور میں ۱۶۰۳ء بمطابق ۱۰۱۲ھ میں بعہد جلال الدین اکبر ہوئی، مزار، پرانے کلب گھر، سے شمال کی طرف اور موجودہ حالت میں ایبٹ روڈ پر گر اؤنڈ کے ساتھ محفل سینما کے عقب میں، لیڈی جمعیت سنگھ، مٹر نٹی ہسپتال اور گراؤنڈ کے درمیان ایک احاطہ میں واقع ہے، ان کے ساتھ ہی شیخ سعد اللہ ستر پوش برقعہ پوش اور میاں خاں کی بھی قبور ہیں جو آپ کے خلفاء میں سے تھے ۔
تاریخ وفات مفتی غلام سرور نے اس طرح لکھی ہے ۔
رفت از ہر بہشت بریں چوں حسن شیخ متقی مخدوم
وصلش ہست، شیخ اہل اللہ، نیز، محسن اے مخدوم
(لاہور کے اولیائے سہروردیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hasu-teli
scholars.pk
Hazrat Sheikh Hasu Teli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1