🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آپ کے لکھے ہوئے کچھ اشعار:

عجب انسان ہے ارمان بھی اللہ رے استغناء
کہ ہے دنیا میں اور آلودہ دنیا نہیں ہوتا

کونین کے والی امددنی
دارین کے حامی امددنی

امراض کے شانی امددنی
نعمات کے معطی امددنی

یاشیخ اغثنی ، امددنی ، یا شیخ اغثنی امددنی
للہ اغثنی امددنی یا غوث الاعظم امددنی

شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حضور مفتئ اعظم ہند ، علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه کے وصال پر بھی ارمان نے منقبت لکھی تھی ۔

وہ تحریک پاکستان کے بھی سپاہی تھے ۔ علماء و مشائخ اہل سنت کے ساتھ آل انڈیا سنی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جد و جہد آزادی میں سر گرم رہے ۔ انہوں نے ’’ شہیدوں کا کفن ‘‘ ، ’’ شہادت ‘‘ اور آزادی ‘‘ جیسی نظمیں لکھ کر مسلمانوں کو قیام پاکستان کے لئے متحرک کیا اور قیام پاکستان کے بعد استحکام پاکستان کے لئے بھی کام کیا ۔

سر حشر آدمیت آئے گی یہ پیرہن پہنے
اٹھے گی روح آزادی شہیدوں کا کفن پہنے

اک سانس میں پہنچاتی ہے یہ قربت حق میں
اونچی ہے سماوات سے بھی بام شہادت

یہ آزادی ہے جس میں خون کی بھر مار ہوجائے
یہ آزادی ہے جس میں زندگی دشوار ہو جائے

یہ آزادی ہے جس میں جان اک آزاد ہو جائے
یہ آزادی ہے جس میں سانس خود تلوار ہو جائے

’’ ایک ہندو پرست سے ‘‘ نظم میں کانگریسی مسلمانوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اے کہ ہے ہندو کی چیل تیرا بام افتخار
اے سگ کوئے بنارس کانگریس کے فضلہ خوار

یہ تری ملت فروشی، یہ ترا جزب رکیک
حریت کے نام پر تو مانگتا پھرتا ہے بھیک

رات دن ہندو پرستی کی چھری ہے بد مال
کھنیچتا ہے قوم مسلم کے تن زندہ کی کھال

قوم کا سارا لہو پی کر بھی دبلا ہی رہا
کانگریس کے در کی مٹی تو نے چاٹی عمر بھر

دیکھ خون حرمت اسلام درپے ہے ترے
تیری خونخواری کسی دن ذبح کر دےگی تجھے

آپ نے ایک نظم قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمت میں ۱۸ مارچ ۱۹۴۷ء کو ایس ۔ ایم ۔ او کالج آگرہ میں سالانہ تقریب کی صدارت کے موقعہ پر سپاس نامہ کے طور پر پیش کی ۔

قائد نامدار آئے ہیں رہبر ذی وقار آئے ہیں

درد رکھتے ہیں دل میں ملت ہمدم و غم گسار آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

اور یہ نظم آج بھی مزار قائد کے نیچے والے میوزیم ’’ نوادرات قائد ‘‘ کے ساتھ آویزاں ہے ۔ انتقال سے پہلے انہوں نے کراچی کے حالات ، لسانی فسادات کے پیش نظر ’’ ہوشیار ‘‘ نظم لکھی:

اب تراشے جا رہے ہیں نسل و قومیت کے بت
آج پھر شیطان پجوائے گا عصبیت کے بت

سومنا تھی، رام راجی، داہری سیرت کے بت
اور تفریق لسان و رنگ کی لعنت کے بت

ارض پاکستان ! ان غارت گروں سے ہوشیار

ہوشیار اے قوم ! شوریدہ سروں سے ہوشیار

وصال:
مولانا بشارت علی خان ارمان قادری نے ۲ شوال المکرم ۱۴۰۵ھ بمطابق ۲۱ جون ۱۹۸۵ء کو ۸۴ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔

نمازِ جنازہ اور مدفن:
حضرت مولانا محمد حسن حقانی نے غالباً نماز جنازہ کی اقتداء فرمائی اور حسن اسکوائر (گلشن اقبال) کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔

پروفیسر ڈاکٹر صدیقہ ارمان صاحبہ کا ممنوں ہوں کہ اپنے والد گرامی قدر کی کتابیں مہیا کیں ۔ جس سے حالات زندگی تحریر کرنے میں آسانی ہوئی ]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-bisharat-ali-khan-afridi-arman-qadri
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-10-1444 ᴴ | 23-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-10-1444 ᴴ | 23-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-10-1444 ᴴ | 23-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت حضور محدث کبیر
1👍1