🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت شیخ ایوب بن ابی بکر نحاس حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
وطن:
حضرت شیخ ایوب بن ابی بکر بن ابراہیم نحاس حلبی: شہر حلب کے رہنےوالے تھے۔
کنیت و لقب:
ابو صاہر کنیت اور بہاء الدین لقب تھا۔
سیرت:
امام عالم اور مفسر، فقیہ محدث تھے۔
آپ کے زمانہ میں مذہب کی ریاست آپ پر منتہیٰ ہوئی ۔
تعلیم:
حدیث کو مکہ معظمہ و قاہرہ اور بغداد کے محدثین سے پڑھا اور سُنا اور آپ سے قاضی القضاۃ علی بن احمد طر طوسی اور یوسف بن محمد بن یعقوب بن ابراہیم بن النحاس حلبی نے پڑھا ـ
وصال:
ماہ شوال ۶۹۹ھ کی دوسری رات کو فوت ہوئے ۔
مہر تاباں:
تاریخ وفات آپ کی لفظ ’’ مہر تاباں ‘‘ سے نکلتی ہے ۔ نُحاس بضم نون و تشدید حائے مہملہ اس لیے ان کو کہا کرتے تھے کہ آپ تانبے کا کام کرتے تھے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ayub-ayub-bin-abi-bakr-nuhas-halbi
وطن:
حضرت شیخ ایوب بن ابی بکر بن ابراہیم نحاس حلبی: شہر حلب کے رہنےوالے تھے۔
کنیت و لقب:
ابو صاہر کنیت اور بہاء الدین لقب تھا۔
سیرت:
امام عالم اور مفسر، فقیہ محدث تھے۔
آپ کے زمانہ میں مذہب کی ریاست آپ پر منتہیٰ ہوئی ۔
تعلیم:
حدیث کو مکہ معظمہ و قاہرہ اور بغداد کے محدثین سے پڑھا اور سُنا اور آپ سے قاضی القضاۃ علی بن احمد طر طوسی اور یوسف بن محمد بن یعقوب بن ابراہیم بن النحاس حلبی نے پڑھا ـ
وصال:
ماہ شوال ۶۹۹ھ کی دوسری رات کو فوت ہوئے ۔
مہر تاباں:
تاریخ وفات آپ کی لفظ ’’ مہر تاباں ‘‘ سے نکلتی ہے ۔ نُحاس بضم نون و تشدید حائے مہملہ اس لیے ان کو کہا کرتے تھے کہ آپ تانبے کا کام کرتے تھے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ayub-ayub-bin-abi-bakr-nuhas-halbi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Ayub Ayub Bin Abi Bakr Nuhas Halbi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت زین الدین ابو بکر خوانی علیہ الرحمہ
آپ علیہ الرحمہ کے القابات:
خواجہ محمد پارسا علیہ الرحمۃ نے اپنے بعض مکتوب میں ان کا القاب اس طرح لکھا ہے ۔
القاب:
ذو العلم النانفع والعمل الرافع ملا ذالجمھور شفاء الصدور صلوۃ العلماء والعرفا رافع اعلام السنۃ قامع اضا لیل البدعۃ ناھج الحقیقۃ سالک مسالک الشریعۃ والطریقۃ الداعی الی اللہ سبحانہ علی طریق الیقین سیدنا و مولانا زین الملۃ والدین
یعنی:
علم نافع اور رافع (چڑھنے والے) کے صاحب جمہور کے پشت پناہ ۔ سینوں کے شفا ۔ علماء عرفا کے برگزیدہ ۔ سنت کے جھنڈے بلند کرنے والے ۔ بدعت کے گمراہیوں کے توڑنے والے حقیقت کے راستوں میں چلنے والے، شریعت و طریقت کے راستوں میں چلنے والے اللہ سبحانہ کی طرف طریق یقین پر بلانے والے ۔ سیدنا مولانا زین المانہ والدین ۔
آپ علوم ظاہر و باطنی کے جامع تھے ۔ اول سے آخر تک شریعت کے راست اور سنت کے متابعت پر اس گروہ کے محققین کے نزدیک بہت بڑی کرامت ہے ۔ استقامت کی توفیق حاصل ہوئی ہے ۔ طریقت می ان کی نسبت شیخ نور الدین عبد الرحمٰن مصری سے ہے ـ
اور شیخ نور الدین عبد الرحمٰن نے ان کی تربیت کے کمال اور تکمیل و ارشاد تک پہنچنے کے بعد اس کی اجازت میں یوں لکھا ہے، لما استحق الخلوۃ وقبول الوردات الغیبیہ والفتوحات استخرت اللہ واخلیت خلوۃ المھودۃ وھی سبعۃ ایام من اللہ تعالی فیھا علی بمیامن فضلہ ففتح اللہ علیہ ابواب المواھب من عندہ فی لیلۃ الرابعۃ وازداد فی الترقیات فی درجات المقامات الی مقام حقیقہ التوحید وانحلت منہ قیودا لتفرقۃ فی شھود الجمع قیل اتمام الایام السبعۃ ثم فی اتمامھا ظھر لہ لوامع التوحید الحقیقی الذاتی المشار الیہ علی لسان اھل الحقیقۃ لجمع الجمع وھو لقوۃ استعدادہ بعد فی الترقی والزیادۃ وانی علی رجاء من اللہ ان یاخذہ الیہ تماما وببقیہ بقا ء دوا ما ویجملہ للمتقین اماما ۔
یعنی:
جب وہ خلوت و ارادت غیبیہ کے قبول اور فتوحات کا مستحق ہوا تو میں نے خدا سے استخارہ کیا اور اسے خلوت مقرر کرائی، جو سات دن ہوتی ہے ۔ تب خدائے تعالی نے مجھ پر احسان کیا اور اپنی مہربانی کے درازے اس پر چوتھی رات کو کھول دِئےاور وہ بڑھ گیا ۔ ترقیات میں مقامات کے درجوں پر توحید کی حقیقت کے مقام تک اور تفرقہ کے قیدیں جمع کے شہود میں سات دن کے پورا ہونے سے پہلے اس سے کھل گئیں ۔ پھر ان کے پارے ہونے پر اس کے لیے توحید حقیقی ذاتی کے انوار جس کو اہل حقیقت جمع الجمع کے ساتھ اشارہ کیا کرتے ہیں، چمکنے لگے ۔ وہ اپنی استعداد کی قوت کی وجہ سے اب تک ترقی پر ہے اور مجھے خدا سے یہ امید ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف پُورا لے لے اور باقی رکھے اس کو ہمیشہ اور اس کو متقیوں کا امام بنائے ۔
آپ فرماتے تھے کہ جو تحریر کہ شیخ نور الدین عبد الرحمٰن نے لکھی تھی ۔ وہ خراسان کے لوٹنے کے وقت بغداد میں رہ گئی ۔ ایک مدت مدید کے بعد جبکہ خراسان سے مصر کی طرف جانے کو اتفاق ہوا اور شیخ دنیا سے رحلت فرما گئے تھے ۔ میں ان کے خلوت خانہ میں گیا تو وہاں پر اپنی اجازت پائی ۔ جس میں کچھ فرق نہ تھا، مگر بعض حرف کا بوجود یہ کہ وہ خلوت محفوظ نہ تھی ۔ اس کا دروازہ کھلا رہتا تھا ۔ میں نہیں جانتا کہ وہ اصل مسودہ تھا کہ جس پر سے مجھے اجازت نامہ کھ دیا تھا یا خود شیخ نے ولایت کے نور سےجان لیا تھا کہ میرا اجازت نامہ گم ہو گیا ہے ۔ میں وہاں لوٹ کر آؤں گا اور اس کو دوبارہ میرے لیے لکھا تھا اور چھوڑ گئے تھے ۔ بہر حال اس کا خلوت میں مدت مدید تک رہنا ۔ جیسا کہ مذکور ہوا، محض کرامت تھا ۔
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب میں مصر سے آتا تھا اور بغداد میں پہنچا ۔ وہ پڑکا کے شیخ نور الدین نے مجھ کو دیا تھا اور بڑے بڑے اور مشائخ کے سر پر رہ چکا تھا ۔ میرے ہمراہ تھا ۔ پیر تاج گیلانی سے ملنے کا اتفاق ہوا، اس نے وہ طاقیہ مجھ سے مانگا ۔ جیسا کہ درویشی اور فقر کا مقتضا ہے ۔ میں نے ان کو دے دیا ۔
میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ وہ طاقیہ مجھ سے استغاثہ کرتا ہے اور ان بزرگوں کو کہ جن کے سر پر وہ رہتا تھا ۔ گنتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں فلاں کے سر پر رہا ہوں ۔ اب تم نے مجھے گدھے کے سر پر رکھ دیا، جو کہ شراب میں مبتلا رہتا ہے ۔
جب صبح ہوئی تو میں ایک دوست کے ساتھ اس کی تلاش میں باہر نکلا سنا کہ وہ شراب خانہ میں ہے اور شراب کے پینے میں ںمشغول ہے ۔ میں وہاں گیا ۔ لوگوں نے کہا کہ فلاں گھر میں ہے ۔ تب ہم اس گھر میں آئے تو وہ مست پڑا تھا اور طاقیہ اس کے سر پر تھا ۔
میرے ساتھی نے کہا کہ تم باہر جاؤ کہ میں طاقیہ کو لاتا ہوں ۔ اس نے طاقیہ اس کے سر پر سے اٹھا لیا ۔ دروازہ کو بند کر دیا اور اس کو میرے پاس لے آیا ۔
کہتے ہیں کہ آخر عمر میں اس کو ایک حالت طاری ہوئی کہ تین رات دِن بِالکل اپنے ہوش سے غائب تھا ۔ جب اسے بے ہوشی سے ہوش میں لائے تو قریباً ایک سال تک اس پر خاموشی غائب تھی ۔
آپ علیہ الرحمہ کے القابات:
خواجہ محمد پارسا علیہ الرحمۃ نے اپنے بعض مکتوب میں ان کا القاب اس طرح لکھا ہے ۔
القاب:
ذو العلم النانفع والعمل الرافع ملا ذالجمھور شفاء الصدور صلوۃ العلماء والعرفا رافع اعلام السنۃ قامع اضا لیل البدعۃ ناھج الحقیقۃ سالک مسالک الشریعۃ والطریقۃ الداعی الی اللہ سبحانہ علی طریق الیقین سیدنا و مولانا زین الملۃ والدین
یعنی:
علم نافع اور رافع (چڑھنے والے) کے صاحب جمہور کے پشت پناہ ۔ سینوں کے شفا ۔ علماء عرفا کے برگزیدہ ۔ سنت کے جھنڈے بلند کرنے والے ۔ بدعت کے گمراہیوں کے توڑنے والے حقیقت کے راستوں میں چلنے والے، شریعت و طریقت کے راستوں میں چلنے والے اللہ سبحانہ کی طرف طریق یقین پر بلانے والے ۔ سیدنا مولانا زین المانہ والدین ۔
آپ علوم ظاہر و باطنی کے جامع تھے ۔ اول سے آخر تک شریعت کے راست اور سنت کے متابعت پر اس گروہ کے محققین کے نزدیک بہت بڑی کرامت ہے ۔ استقامت کی توفیق حاصل ہوئی ہے ۔ طریقت می ان کی نسبت شیخ نور الدین عبد الرحمٰن مصری سے ہے ـ
اور شیخ نور الدین عبد الرحمٰن نے ان کی تربیت کے کمال اور تکمیل و ارشاد تک پہنچنے کے بعد اس کی اجازت میں یوں لکھا ہے، لما استحق الخلوۃ وقبول الوردات الغیبیہ والفتوحات استخرت اللہ واخلیت خلوۃ المھودۃ وھی سبعۃ ایام من اللہ تعالی فیھا علی بمیامن فضلہ ففتح اللہ علیہ ابواب المواھب من عندہ فی لیلۃ الرابعۃ وازداد فی الترقیات فی درجات المقامات الی مقام حقیقہ التوحید وانحلت منہ قیودا لتفرقۃ فی شھود الجمع قیل اتمام الایام السبعۃ ثم فی اتمامھا ظھر لہ لوامع التوحید الحقیقی الذاتی المشار الیہ علی لسان اھل الحقیقۃ لجمع الجمع وھو لقوۃ استعدادہ بعد فی الترقی والزیادۃ وانی علی رجاء من اللہ ان یاخذہ الیہ تماما وببقیہ بقا ء دوا ما ویجملہ للمتقین اماما ۔
یعنی:
جب وہ خلوت و ارادت غیبیہ کے قبول اور فتوحات کا مستحق ہوا تو میں نے خدا سے استخارہ کیا اور اسے خلوت مقرر کرائی، جو سات دن ہوتی ہے ۔ تب خدائے تعالی نے مجھ پر احسان کیا اور اپنی مہربانی کے درازے اس پر چوتھی رات کو کھول دِئےاور وہ بڑھ گیا ۔ ترقیات میں مقامات کے درجوں پر توحید کی حقیقت کے مقام تک اور تفرقہ کے قیدیں جمع کے شہود میں سات دن کے پورا ہونے سے پہلے اس سے کھل گئیں ۔ پھر ان کے پارے ہونے پر اس کے لیے توحید حقیقی ذاتی کے انوار جس کو اہل حقیقت جمع الجمع کے ساتھ اشارہ کیا کرتے ہیں، چمکنے لگے ۔ وہ اپنی استعداد کی قوت کی وجہ سے اب تک ترقی پر ہے اور مجھے خدا سے یہ امید ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف پُورا لے لے اور باقی رکھے اس کو ہمیشہ اور اس کو متقیوں کا امام بنائے ۔
آپ فرماتے تھے کہ جو تحریر کہ شیخ نور الدین عبد الرحمٰن نے لکھی تھی ۔ وہ خراسان کے لوٹنے کے وقت بغداد میں رہ گئی ۔ ایک مدت مدید کے بعد جبکہ خراسان سے مصر کی طرف جانے کو اتفاق ہوا اور شیخ دنیا سے رحلت فرما گئے تھے ۔ میں ان کے خلوت خانہ میں گیا تو وہاں پر اپنی اجازت پائی ۔ جس میں کچھ فرق نہ تھا، مگر بعض حرف کا بوجود یہ کہ وہ خلوت محفوظ نہ تھی ۔ اس کا دروازہ کھلا رہتا تھا ۔ میں نہیں جانتا کہ وہ اصل مسودہ تھا کہ جس پر سے مجھے اجازت نامہ کھ دیا تھا یا خود شیخ نے ولایت کے نور سےجان لیا تھا کہ میرا اجازت نامہ گم ہو گیا ہے ۔ میں وہاں لوٹ کر آؤں گا اور اس کو دوبارہ میرے لیے لکھا تھا اور چھوڑ گئے تھے ۔ بہر حال اس کا خلوت میں مدت مدید تک رہنا ۔ جیسا کہ مذکور ہوا، محض کرامت تھا ۔
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب میں مصر سے آتا تھا اور بغداد میں پہنچا ۔ وہ پڑکا کے شیخ نور الدین نے مجھ کو دیا تھا اور بڑے بڑے اور مشائخ کے سر پر رہ چکا تھا ۔ میرے ہمراہ تھا ۔ پیر تاج گیلانی سے ملنے کا اتفاق ہوا، اس نے وہ طاقیہ مجھ سے مانگا ۔ جیسا کہ درویشی اور فقر کا مقتضا ہے ۔ میں نے ان کو دے دیا ۔
میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ وہ طاقیہ مجھ سے استغاثہ کرتا ہے اور ان بزرگوں کو کہ جن کے سر پر وہ رہتا تھا ۔ گنتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں فلاں کے سر پر رہا ہوں ۔ اب تم نے مجھے گدھے کے سر پر رکھ دیا، جو کہ شراب میں مبتلا رہتا ہے ۔
جب صبح ہوئی تو میں ایک دوست کے ساتھ اس کی تلاش میں باہر نکلا سنا کہ وہ شراب خانہ میں ہے اور شراب کے پینے میں ںمشغول ہے ۔ میں وہاں گیا ۔ لوگوں نے کہا کہ فلاں گھر میں ہے ۔ تب ہم اس گھر میں آئے تو وہ مست پڑا تھا اور طاقیہ اس کے سر پر تھا ۔
میرے ساتھی نے کہا کہ تم باہر جاؤ کہ میں طاقیہ کو لاتا ہوں ۔ اس نے طاقیہ اس کے سر پر سے اٹھا لیا ۔ دروازہ کو بند کر دیا اور اس کو میرے پاس لے آیا ۔
کہتے ہیں کہ آخر عمر میں اس کو ایک حالت طاری ہوئی کہ تین رات دِن بِالکل اپنے ہوش سے غائب تھا ۔ جب اسے بے ہوشی سے ہوش میں لائے تو قریباً ایک سال تک اس پر خاموشی غائب تھی ۔
❤1
وہ بات بہت کم کرتا تھا ۔ ایک دن آپ نے درویش احمد ثمر قندی سے پوچھا کہ تم نے کہیں ایسا جذبہ بھی دیکھا کہ جذبات پے درہے ہوں اور ہرگز منقطع نہ ہوں ۔ درویش احمد نے جواب میں کہا کہ یہ مطلب میں نے کہیں نہیں دیکھا ۔ درویش احمد ثمر قندی آپ کے کار کردہ مریدوں اور خلفاء میں سے تھا ۔
صوفیوں کے باتوں کو اس نے دیکھا ہوا تھا اور منبر پر چڑھ کر ان باتوں کو بیان کیا کرتا تھا اور فصوص الحکم کے درس و مطالعہ میں مشغول رہتا تھا ۔ میں نے اس کا خط لکھا ہوا دیکھا ۔ جو آخر فصوص میں لکھا تھا کہ بعد اس کے کہ آنحضرت ﷺ نے مجھ کو فصوص الحکم کے درس کا اشارہ کیا ۔
میں نے درویش آباد کی خلوت میں دیکھا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا اور پوچھا:
یا رسول اللہ ﷺ ۔ ماتقول فی فرعون قال صلی اللہ علیہ وسلم قل کما کتب ثم قلت یا رسول اللہ ﷺ ما تقول فی الوجود قال صلی اللہ علیہ وسلم ماتراہ لقول الوجود فی القدیم و فی الحادث حادث ثم قال صلی اللہ علیہ وسلم انت الہ مالوہ انت الہ بظھور الصفات الھیۃ فیک و مظھر بتک للا لوھیۃ و انت مالوہ لحصرک وتعینک و خلیقتک و ھو علی ما اقول شھید ۔
یعنی:
یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ فرعون کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا حضرت محمد ﷺ نے کہو، جیسا کہ شیخ نے لکھا ۔ (شیخ نے فرعون کے بارے میں کہا ہے، ازمات طاہر مطہرا اور اس واقعہ میں آنحضرت ﷺ نے اس کی تصدیق کی واللہ اعلم ۔ اس سے اس قدر تو ثابت ہوتا ہے کہ گو عقیدہ جمہور ہی مسلم ہو ۔ مگر کم از کم شیخ ابن العربی کی نسبت بد گمانی اور بدزبانی نہ چاہئے ۔ کیونکہ واقعات بزرگان دین سے حسن ظن چاہئے) پھر میں نے کہا ۔ یا رسول الله ﷺ آپ ﷺ وجود کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا حضرت محمد ﷺ نے وہی ہے ۔ جو تم دیکھتے ہو کہ شیخ کہتا ہے، وجود قدیم میں قدیم ہے اور حادث میں حادث ۔ پھر فرمایا حضرت محمد ﷺ نے تو معبود ہے اور تو ہی عابد ہے ۔ تم خدائی صفہوت کے ظہور کی وجہ سے تھے کہ تجھ میں ہیں اور الوہیت کی مظہریت کی وجہ سے الٰہ اور معبود ہے اور مالوہ یعنی عابد اس لیے ہے کہ تو معین اور مخلوق ہے ۔ (مالوہ در اصل الٰہ ہی کے معنی میں آتا ہے، مگر یہاں مقابلہ کے لحاظ سے عابد لینا چاہئے) خدا اس بات پر جو میں کہتا ہوں، گواہ ہے ۔
وصال:
شیخ زین الدین علیہ الرحمہ اتوار کی شب شوال کے مہینے میں ۸۳۸ھ میں فوت ہوئے ۔
مدفن:
اول تو ان کو قریہ مالین میں دفن کیا گیا ۔ پھر وہاں سے موضع درویش میں لے گئے اور درویش آباد میں عید گاہ ہرات میں اور اب ان کی مزار متبرک پر بڑی عالیشان عمارت بنا دی گئی ہے اور ایسی آباد اور مجمع ہو گئی ہے کہ وہاں پر جمعہ پڑھتے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-zainuddin-abu-bakr-khwani
صوفیوں کے باتوں کو اس نے دیکھا ہوا تھا اور منبر پر چڑھ کر ان باتوں کو بیان کیا کرتا تھا اور فصوص الحکم کے درس و مطالعہ میں مشغول رہتا تھا ۔ میں نے اس کا خط لکھا ہوا دیکھا ۔ جو آخر فصوص میں لکھا تھا کہ بعد اس کے کہ آنحضرت ﷺ نے مجھ کو فصوص الحکم کے درس کا اشارہ کیا ۔
میں نے درویش آباد کی خلوت میں دیکھا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا اور پوچھا:
یا رسول اللہ ﷺ ۔ ماتقول فی فرعون قال صلی اللہ علیہ وسلم قل کما کتب ثم قلت یا رسول اللہ ﷺ ما تقول فی الوجود قال صلی اللہ علیہ وسلم ماتراہ لقول الوجود فی القدیم و فی الحادث حادث ثم قال صلی اللہ علیہ وسلم انت الہ مالوہ انت الہ بظھور الصفات الھیۃ فیک و مظھر بتک للا لوھیۃ و انت مالوہ لحصرک وتعینک و خلیقتک و ھو علی ما اقول شھید ۔
یعنی:
یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ فرعون کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا حضرت محمد ﷺ نے کہو، جیسا کہ شیخ نے لکھا ۔ (شیخ نے فرعون کے بارے میں کہا ہے، ازمات طاہر مطہرا اور اس واقعہ میں آنحضرت ﷺ نے اس کی تصدیق کی واللہ اعلم ۔ اس سے اس قدر تو ثابت ہوتا ہے کہ گو عقیدہ جمہور ہی مسلم ہو ۔ مگر کم از کم شیخ ابن العربی کی نسبت بد گمانی اور بدزبانی نہ چاہئے ۔ کیونکہ واقعات بزرگان دین سے حسن ظن چاہئے) پھر میں نے کہا ۔ یا رسول الله ﷺ آپ ﷺ وجود کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا حضرت محمد ﷺ نے وہی ہے ۔ جو تم دیکھتے ہو کہ شیخ کہتا ہے، وجود قدیم میں قدیم ہے اور حادث میں حادث ۔ پھر فرمایا حضرت محمد ﷺ نے تو معبود ہے اور تو ہی عابد ہے ۔ تم خدائی صفہوت کے ظہور کی وجہ سے تھے کہ تجھ میں ہیں اور الوہیت کی مظہریت کی وجہ سے الٰہ اور معبود ہے اور مالوہ یعنی عابد اس لیے ہے کہ تو معین اور مخلوق ہے ۔ (مالوہ در اصل الٰہ ہی کے معنی میں آتا ہے، مگر یہاں مقابلہ کے لحاظ سے عابد لینا چاہئے) خدا اس بات پر جو میں کہتا ہوں، گواہ ہے ۔
وصال:
شیخ زین الدین علیہ الرحمہ اتوار کی شب شوال کے مہینے میں ۸۳۸ھ میں فوت ہوئے ۔
مدفن:
اول تو ان کو قریہ مالین میں دفن کیا گیا ۔ پھر وہاں سے موضع درویش میں لے گئے اور درویش آباد میں عید گاہ ہرات میں اور اب ان کی مزار متبرک پر بڑی عالیشان عمارت بنا دی گئی ہے اور ایسی آباد اور مجمع ہو گئی ہے کہ وہاں پر جمعہ پڑھتے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-zainuddin-abu-bakr-khwani
scholars.pk
Hazrat Zainuddin Abu Bakr Khwani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
حضرت مولانا بشارت علی خان آفریدی ارمان قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب اور سنہ ولادت:
مولانا بشارت علی خان آفریدی ارمان قادری بن مولوی امداد حسین خان بن اکبر آباد (انڈیا) میں ۱۹۰۱ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ خود لکھتے ہیں : ’’ فارغ التحصیل ہو چکا تھا ‘‘ ۔ (حیات قدسی) اس سے یقین ہو جاتا ہے ۔ کہ آپ فارغ التحصیل عالم تھے لیکن تفصیلات کا علم آپ کی تعلیم یافتہ اولاد کو بھی نہیں ہے ۔
آپ کی علمیت شاعری اور حیات قدسی (تصنیف) سے آشکارا ہے ۔ قادر الکلام شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی ثم کراچی آپ کے شاعری میں استاد تھے ۔
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادر یہ میں قدوۃ السالکین حضوت مولانا بہاوٗ الدین بنگلوری علیہ الرحمہ دزبار شریف غوثیہ مرشد آباد (انڈیا) سے اپنے والد محترم کے ہمراہ دست بیعت ہوئے ۔
مرشد سے محبت:
آپ کو اپنے مرشد سے والہانہ محبت تھی اور یہ محبت ہی کا نتیجہ ہے کہ آپ نے ان کے حالات سے متعلق کتاب ’’ حیات قدسی ‘‘ تحریر فرمائی ۔
حضرت بہاء الدین ، سلطان میسور ٹیپو سلطان شہید کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور سلسلۂ قادریہ میں دربار قادریہ بغداد شریف (عراق) کے سجادہ نشین حضرت پیر سید مصطفیٰ گیلانی علیہ الرحمہ سے بیعت کا شرف رکھتے تھے ۔
شادی و اولاد:
انہوں نے آگرہ ( اکبر آباد ) میں آمنہ بیگم (متوفی ۱۹۸۰ء) سے شادی کی ۔ جس کے درج ذیل اولاد تولد ہوئی ۔
۱ـ عائشہ صدیقہ مرحومہ
۲۔ محفوظ حسین خان مرحوم
۳۔ تحمل حسین مرحوم
۴۔ تفضل حسین خان سابق وائس پریذیڈنٹ حبیب بنک لمیٹڈ (گلشن اقبال کراچی)
۵۔ نفیسہ طاہرہ (شریف آباد )
۶۔ ڈاکٹر صدیقہ ارمان سابق چیئرپرسن شعبہ اردو کراچی یونیورسٹی
۷۔ مزمل آفریدی
۸۔ ملک خالد فریدی (امریکہ )
۹۔ عفیفہ خاتون ایم ۔ اے (متونی۲۰۰۳ئ)(بروایت ڈاکٹر صدیقہ صاحبہ)
تصنیف و تالیف:
درج ذیل کتب ان کی یادگار ہیں:
1 حیات قدسی:
یہ کتاب اپنے پیر و مرشد حضرت بہاؤ الدین قادری کے حالات و واقعات تحریر کئے لیکن آغاز میں پیری مریدی ، خانقاہ، عرس ، قدم بوسی ، تبرکات وغیرہ کو دلائل علمیہ سے ثابت کیا ہے ۔ جس سے موصوف کی علمیت واضح ہوتی ہے ۔ کراچی سے ۱۹۹۹ء کو آپ کے بیٹے تفصل حسین خان آفریدی نے کتاب شائع کی ۔
2 ارمان نبی ﷺ (نعتیہ مجموعہ )
مطبوعہ سیرت پبلشرز امروہہ انڈیا ۱۹۵۵ء
3 سروش سدرہ (نعتیہ مجموعہ)
شمیم بک ایجنسی نیو کراچی ۱۹۸۶ء
4 صد خلش ( غزلیات )
کراچی ۱۹۸۷ء
5 بادہ امروز ( نظمیں )
مرتبہ: ڈاکٹر صدیقہ ارمان کراچی ۱۹۸۹ء
درس و تدریس:
بعد فراغت آپ نے شعیب محمدیہ کالج آگرہ میں بحیثیت لیکچرار ملازمت اختیار کی ۔ اور قیام پاکستان تک درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ ۱۹۵۸ء کو پاکستان (کراچی) تشریف لائے اور تاحیات کراچی میں ہی رہے ۔
خطابت:
کراچی میں وہ جوش خطیب و شاعر کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے ۔ میلاد النبی ﷺ معراج النبی ﷺ گیارہویں شریف، اور بزرگان دین کے اعراس کے موقعہ پر آپ کا خصوصی خطاب ہوا کرتا تھا ۔ ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی خطاب کرتے تھے نیز مشاعرہ کی محافل میں بھی تندی سے شرکت فرمایا کرتے تھے ۔
شاعری:
آپ علیہ الرحمہ شاعر بھی تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے حمد ، نعت ، منقبت ، سلام ، غزل تضمین و غیرہ اصناف پر شاعری کی ۔ جن دنوں دار العلوم امجدیہ کراچی میں مشاعرہ کرتا تھا ان دنوں مولانا آفریدی کی خصوصی شرکت ہوا کرتی تھی ۔
پروفیسر ڈاکٹر ابو الخیر کشفی صاحب (سابق صدر شعبہ اردو کراچی یونیورسٹی) آپ کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہو ئے لکھتے ہیں:
” فنی طور پر مولانا بشارت علی خان قادری کی بیشتر نعتیں غزل کی ہیئت میں لکھی گئی ہیں اگرچہ انہوں نے مخمس اور مسدس بھی لکھے ہیں اور دوسری اصناف کے ذریعے بھی اپنا اظہار کیا ہے ۔ جناب ارمان کی نعتوں کے مطالعہ کے بارے میں شرح صدر کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ حضور محمد مصطفیٰ ﷺ تک رسائی حاصل کرنے والوں میں ان کا نام شامل ہے ۔
اپنی نعتوں میں کہیں کہیں وہ اس وادی میں بھی پہنچ گئے ہیں کہ احمد اور احد کے فرق کو فراموش کر بیٹھے ہیں ۔ اللہ کی شان رحیمی سے یہی ہے کہ اسے اس لغزش مستانہ پر پیار آیا ہوگا‘‘ ۔ (سروش سدرہ پیش لفظ)
پروفیسر ڈاکٹر صدیقہ لکھتی ہیں:
ارمان صاحب کی منقتبیں ان کے عقائد و نظریات کی بہترین غماز ہیں ۔ اولیاء اتقیاء اور درویشوں کی زندگی کو انہوں نے حیات مثالی کے طور پر یقین کیا اور اس طرز عمل کو ہی مصائب و مصائب کا نجات دہندہ تصور کیا ۔ چنانچہ خود بھی ہمیشہ اس راہ کے متلاشی رہے اور آلائش دنیا سے حتی المقدور خود کو گریزاں بھی رکھا اور اسی کو وسیلہ عرفان جانا ۔
نام و نسب اور سنہ ولادت:
مولانا بشارت علی خان آفریدی ارمان قادری بن مولوی امداد حسین خان بن اکبر آباد (انڈیا) میں ۱۹۰۱ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ خود لکھتے ہیں : ’’ فارغ التحصیل ہو چکا تھا ‘‘ ۔ (حیات قدسی) اس سے یقین ہو جاتا ہے ۔ کہ آپ فارغ التحصیل عالم تھے لیکن تفصیلات کا علم آپ کی تعلیم یافتہ اولاد کو بھی نہیں ہے ۔
آپ کی علمیت شاعری اور حیات قدسی (تصنیف) سے آشکارا ہے ۔ قادر الکلام شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی ثم کراچی آپ کے شاعری میں استاد تھے ۔
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادر یہ میں قدوۃ السالکین حضوت مولانا بہاوٗ الدین بنگلوری علیہ الرحمہ دزبار شریف غوثیہ مرشد آباد (انڈیا) سے اپنے والد محترم کے ہمراہ دست بیعت ہوئے ۔
مرشد سے محبت:
آپ کو اپنے مرشد سے والہانہ محبت تھی اور یہ محبت ہی کا نتیجہ ہے کہ آپ نے ان کے حالات سے متعلق کتاب ’’ حیات قدسی ‘‘ تحریر فرمائی ۔
حضرت بہاء الدین ، سلطان میسور ٹیپو سلطان شہید کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور سلسلۂ قادریہ میں دربار قادریہ بغداد شریف (عراق) کے سجادہ نشین حضرت پیر سید مصطفیٰ گیلانی علیہ الرحمہ سے بیعت کا شرف رکھتے تھے ۔
شادی و اولاد:
انہوں نے آگرہ ( اکبر آباد ) میں آمنہ بیگم (متوفی ۱۹۸۰ء) سے شادی کی ۔ جس کے درج ذیل اولاد تولد ہوئی ۔
۱ـ عائشہ صدیقہ مرحومہ
۲۔ محفوظ حسین خان مرحوم
۳۔ تحمل حسین مرحوم
۴۔ تفضل حسین خان سابق وائس پریذیڈنٹ حبیب بنک لمیٹڈ (گلشن اقبال کراچی)
۵۔ نفیسہ طاہرہ (شریف آباد )
۶۔ ڈاکٹر صدیقہ ارمان سابق چیئرپرسن شعبہ اردو کراچی یونیورسٹی
۷۔ مزمل آفریدی
۸۔ ملک خالد فریدی (امریکہ )
۹۔ عفیفہ خاتون ایم ۔ اے (متونی۲۰۰۳ئ)(بروایت ڈاکٹر صدیقہ صاحبہ)
تصنیف و تالیف:
درج ذیل کتب ان کی یادگار ہیں:
1 حیات قدسی:
یہ کتاب اپنے پیر و مرشد حضرت بہاؤ الدین قادری کے حالات و واقعات تحریر کئے لیکن آغاز میں پیری مریدی ، خانقاہ، عرس ، قدم بوسی ، تبرکات وغیرہ کو دلائل علمیہ سے ثابت کیا ہے ۔ جس سے موصوف کی علمیت واضح ہوتی ہے ۔ کراچی سے ۱۹۹۹ء کو آپ کے بیٹے تفصل حسین خان آفریدی نے کتاب شائع کی ۔
2 ارمان نبی ﷺ (نعتیہ مجموعہ )
مطبوعہ سیرت پبلشرز امروہہ انڈیا ۱۹۵۵ء
3 سروش سدرہ (نعتیہ مجموعہ)
شمیم بک ایجنسی نیو کراچی ۱۹۸۶ء
4 صد خلش ( غزلیات )
کراچی ۱۹۸۷ء
5 بادہ امروز ( نظمیں )
مرتبہ: ڈاکٹر صدیقہ ارمان کراچی ۱۹۸۹ء
درس و تدریس:
بعد فراغت آپ نے شعیب محمدیہ کالج آگرہ میں بحیثیت لیکچرار ملازمت اختیار کی ۔ اور قیام پاکستان تک درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ ۱۹۵۸ء کو پاکستان (کراچی) تشریف لائے اور تاحیات کراچی میں ہی رہے ۔
خطابت:
کراچی میں وہ جوش خطیب و شاعر کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے ۔ میلاد النبی ﷺ معراج النبی ﷺ گیارہویں شریف، اور بزرگان دین کے اعراس کے موقعہ پر آپ کا خصوصی خطاب ہوا کرتا تھا ۔ ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی خطاب کرتے تھے نیز مشاعرہ کی محافل میں بھی تندی سے شرکت فرمایا کرتے تھے ۔
شاعری:
آپ علیہ الرحمہ شاعر بھی تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے حمد ، نعت ، منقبت ، سلام ، غزل تضمین و غیرہ اصناف پر شاعری کی ۔ جن دنوں دار العلوم امجدیہ کراچی میں مشاعرہ کرتا تھا ان دنوں مولانا آفریدی کی خصوصی شرکت ہوا کرتی تھی ۔
پروفیسر ڈاکٹر ابو الخیر کشفی صاحب (سابق صدر شعبہ اردو کراچی یونیورسٹی) آپ کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہو ئے لکھتے ہیں:
” فنی طور پر مولانا بشارت علی خان قادری کی بیشتر نعتیں غزل کی ہیئت میں لکھی گئی ہیں اگرچہ انہوں نے مخمس اور مسدس بھی لکھے ہیں اور دوسری اصناف کے ذریعے بھی اپنا اظہار کیا ہے ۔ جناب ارمان کی نعتوں کے مطالعہ کے بارے میں شرح صدر کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ حضور محمد مصطفیٰ ﷺ تک رسائی حاصل کرنے والوں میں ان کا نام شامل ہے ۔
اپنی نعتوں میں کہیں کہیں وہ اس وادی میں بھی پہنچ گئے ہیں کہ احمد اور احد کے فرق کو فراموش کر بیٹھے ہیں ۔ اللہ کی شان رحیمی سے یہی ہے کہ اسے اس لغزش مستانہ پر پیار آیا ہوگا‘‘ ۔ (سروش سدرہ پیش لفظ)
پروفیسر ڈاکٹر صدیقہ لکھتی ہیں:
ارمان صاحب کی منقتبیں ان کے عقائد و نظریات کی بہترین غماز ہیں ۔ اولیاء اتقیاء اور درویشوں کی زندگی کو انہوں نے حیات مثالی کے طور پر یقین کیا اور اس طرز عمل کو ہی مصائب و مصائب کا نجات دہندہ تصور کیا ۔ چنانچہ خود بھی ہمیشہ اس راہ کے متلاشی رہے اور آلائش دنیا سے حتی المقدور خود کو گریزاں بھی رکھا اور اسی کو وسیلہ عرفان جانا ۔
آپ کے لکھے ہوئے کچھ اشعار:
عجب انسان ہے ارمان بھی اللہ رے استغناء
کہ ہے دنیا میں اور آلودہ دنیا نہیں ہوتا
کونین کے والی امددنی
دارین کے حامی امددنی
امراض کے شانی امددنی
نعمات کے معطی امددنی
یاشیخ اغثنی ، امددنی ، یا شیخ اغثنی امددنی
للہ اغثنی امددنی یا غوث الاعظم امددنی
شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حضور مفتئ اعظم ہند ، علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه کے وصال پر بھی ارمان نے منقبت لکھی تھی ۔
وہ تحریک پاکستان کے بھی سپاہی تھے ۔ علماء و مشائخ اہل سنت کے ساتھ آل انڈیا سنی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جد و جہد آزادی میں سر گرم رہے ۔ انہوں نے ’’ شہیدوں کا کفن ‘‘ ، ’’ شہادت ‘‘ اور آزادی ‘‘ جیسی نظمیں لکھ کر مسلمانوں کو قیام پاکستان کے لئے متحرک کیا اور قیام پاکستان کے بعد استحکام پاکستان کے لئے بھی کام کیا ۔
سر حشر آدمیت آئے گی یہ پیرہن پہنے
اٹھے گی روح آزادی شہیدوں کا کفن پہنے
اک سانس میں پہنچاتی ہے یہ قربت حق میں
اونچی ہے سماوات سے بھی بام شہادت
یہ آزادی ہے جس میں خون کی بھر مار ہوجائے
یہ آزادی ہے جس میں زندگی دشوار ہو جائے
یہ آزادی ہے جس میں جان اک آزاد ہو جائے
یہ آزادی ہے جس میں سانس خود تلوار ہو جائے
’’ ایک ہندو پرست سے ‘‘ نظم میں کانگریسی مسلمانوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اے کہ ہے ہندو کی چیل تیرا بام افتخار
اے سگ کوئے بنارس کانگریس کے فضلہ خوار
یہ تری ملت فروشی، یہ ترا جزب رکیک
حریت کے نام پر تو مانگتا پھرتا ہے بھیک
رات دن ہندو پرستی کی چھری ہے بد مال
کھنیچتا ہے قوم مسلم کے تن زندہ کی کھال
قوم کا سارا لہو پی کر بھی دبلا ہی رہا
کانگریس کے در کی مٹی تو نے چاٹی عمر بھر
دیکھ خون حرمت اسلام درپے ہے ترے
تیری خونخواری کسی دن ذبح کر دےگی تجھے
آپ نے ایک نظم قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمت میں ۱۸ مارچ ۱۹۴۷ء کو ایس ۔ ایم ۔ او کالج آگرہ میں سالانہ تقریب کی صدارت کے موقعہ پر سپاس نامہ کے طور پر پیش کی ۔
قائد نامدار آئے ہیں رہبر ذی وقار آئے ہیں
درد رکھتے ہیں دل میں ملت ہمدم و غم گسار آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ نظم آج بھی مزار قائد کے نیچے والے میوزیم ’’ نوادرات قائد ‘‘ کے ساتھ آویزاں ہے ۔ انتقال سے پہلے انہوں نے کراچی کے حالات ، لسانی فسادات کے پیش نظر ’’ ہوشیار ‘‘ نظم لکھی:
اب تراشے جا رہے ہیں نسل و قومیت کے بت
آج پھر شیطان پجوائے گا عصبیت کے بت
سومنا تھی، رام راجی، داہری سیرت کے بت
اور تفریق لسان و رنگ کی لعنت کے بت
ارض پاکستان ! ان غارت گروں سے ہوشیار
ہوشیار اے قوم ! شوریدہ سروں سے ہوشیار
وصال:
مولانا بشارت علی خان ارمان قادری نے ۲ شوال المکرم ۱۴۰۵ھ بمطابق ۲۱ جون ۱۹۸۵ء کو ۸۴ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
نمازِ جنازہ اور مدفن:
حضرت مولانا محمد حسن حقانی نے غالباً نماز جنازہ کی اقتداء فرمائی اور حسن اسکوائر (گلشن اقبال) کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔
پروفیسر ڈاکٹر صدیقہ ارمان صاحبہ کا ممنوں ہوں کہ اپنے والد گرامی قدر کی کتابیں مہیا کیں ۔ جس سے حالات زندگی تحریر کرنے میں آسانی ہوئی ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-bisharat-ali-khan-afridi-arman-qadri
عجب انسان ہے ارمان بھی اللہ رے استغناء
کہ ہے دنیا میں اور آلودہ دنیا نہیں ہوتا
کونین کے والی امددنی
دارین کے حامی امددنی
امراض کے شانی امددنی
نعمات کے معطی امددنی
یاشیخ اغثنی ، امددنی ، یا شیخ اغثنی امددنی
للہ اغثنی امددنی یا غوث الاعظم امددنی
شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حضور مفتئ اعظم ہند ، علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه کے وصال پر بھی ارمان نے منقبت لکھی تھی ۔
وہ تحریک پاکستان کے بھی سپاہی تھے ۔ علماء و مشائخ اہل سنت کے ساتھ آل انڈیا سنی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جد و جہد آزادی میں سر گرم رہے ۔ انہوں نے ’’ شہیدوں کا کفن ‘‘ ، ’’ شہادت ‘‘ اور آزادی ‘‘ جیسی نظمیں لکھ کر مسلمانوں کو قیام پاکستان کے لئے متحرک کیا اور قیام پاکستان کے بعد استحکام پاکستان کے لئے بھی کام کیا ۔
سر حشر آدمیت آئے گی یہ پیرہن پہنے
اٹھے گی روح آزادی شہیدوں کا کفن پہنے
اک سانس میں پہنچاتی ہے یہ قربت حق میں
اونچی ہے سماوات سے بھی بام شہادت
یہ آزادی ہے جس میں خون کی بھر مار ہوجائے
یہ آزادی ہے جس میں زندگی دشوار ہو جائے
یہ آزادی ہے جس میں جان اک آزاد ہو جائے
یہ آزادی ہے جس میں سانس خود تلوار ہو جائے
’’ ایک ہندو پرست سے ‘‘ نظم میں کانگریسی مسلمانوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اے کہ ہے ہندو کی چیل تیرا بام افتخار
اے سگ کوئے بنارس کانگریس کے فضلہ خوار
یہ تری ملت فروشی، یہ ترا جزب رکیک
حریت کے نام پر تو مانگتا پھرتا ہے بھیک
رات دن ہندو پرستی کی چھری ہے بد مال
کھنیچتا ہے قوم مسلم کے تن زندہ کی کھال
قوم کا سارا لہو پی کر بھی دبلا ہی رہا
کانگریس کے در کی مٹی تو نے چاٹی عمر بھر
دیکھ خون حرمت اسلام درپے ہے ترے
تیری خونخواری کسی دن ذبح کر دےگی تجھے
آپ نے ایک نظم قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمت میں ۱۸ مارچ ۱۹۴۷ء کو ایس ۔ ایم ۔ او کالج آگرہ میں سالانہ تقریب کی صدارت کے موقعہ پر سپاس نامہ کے طور پر پیش کی ۔
قائد نامدار آئے ہیں رہبر ذی وقار آئے ہیں
درد رکھتے ہیں دل میں ملت ہمدم و غم گسار آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ نظم آج بھی مزار قائد کے نیچے والے میوزیم ’’ نوادرات قائد ‘‘ کے ساتھ آویزاں ہے ۔ انتقال سے پہلے انہوں نے کراچی کے حالات ، لسانی فسادات کے پیش نظر ’’ ہوشیار ‘‘ نظم لکھی:
اب تراشے جا رہے ہیں نسل و قومیت کے بت
آج پھر شیطان پجوائے گا عصبیت کے بت
سومنا تھی، رام راجی، داہری سیرت کے بت
اور تفریق لسان و رنگ کی لعنت کے بت
ارض پاکستان ! ان غارت گروں سے ہوشیار
ہوشیار اے قوم ! شوریدہ سروں سے ہوشیار
وصال:
مولانا بشارت علی خان ارمان قادری نے ۲ شوال المکرم ۱۴۰۵ھ بمطابق ۲۱ جون ۱۹۸۵ء کو ۸۴ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
نمازِ جنازہ اور مدفن:
حضرت مولانا محمد حسن حقانی نے غالباً نماز جنازہ کی اقتداء فرمائی اور حسن اسکوائر (گلشن اقبال) کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔
پروفیسر ڈاکٹر صدیقہ ارمان صاحبہ کا ممنوں ہوں کہ اپنے والد گرامی قدر کی کتابیں مہیا کیں ۔ جس سے حالات زندگی تحریر کرنے میں آسانی ہوئی ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-bisharat-ali-khan-afridi-arman-qadri
scholars.pk
Hazrat Molana Basharat Ali Khan Afridi Arman Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs