🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-09-1444 ᴴ | 21-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت شیخ ایوب بن ابی بکر نحاس حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
وطن:
حضرت شیخ ایوب بن ابی بکر بن ابراہیم نحاس حلبی: شہر حلب کے رہنےوالے تھے۔
کنیت و لقب:
ابو صاہر کنیت اور بہاء الدین لقب تھا۔
سیرت:
امام عالم اور مفسر، فقیہ محدث تھے۔
آپ کے زمانہ میں مذہب کی ریاست آپ پر منتہیٰ ہوئی ۔
تعلیم:
حدیث کو مکہ معظمہ و قاہرہ اور بغداد کے محدثین سے پڑھا اور سُنا اور آپ سے قاضی القضاۃ علی بن احمد طر طوسی اور یوسف بن محمد بن یعقوب بن ابراہیم بن النحاس حلبی نے پڑھا ـ
وصال:
ماہ شوال ۶۹۹ھ کی دوسری رات کو فوت ہوئے ۔
مہر تاباں:
تاریخ وفات آپ کی لفظ ’’ مہر تاباں ‘‘ سے نکلتی ہے ۔ نُحاس بضم نون و تشدید حائے مہملہ اس لیے ان کو کہا کرتے تھے کہ آپ تانبے کا کام کرتے تھے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ayub-ayub-bin-abi-bakr-nuhas-halbi
وطن:
حضرت شیخ ایوب بن ابی بکر بن ابراہیم نحاس حلبی: شہر حلب کے رہنےوالے تھے۔
کنیت و لقب:
ابو صاہر کنیت اور بہاء الدین لقب تھا۔
سیرت:
امام عالم اور مفسر، فقیہ محدث تھے۔
آپ کے زمانہ میں مذہب کی ریاست آپ پر منتہیٰ ہوئی ۔
تعلیم:
حدیث کو مکہ معظمہ و قاہرہ اور بغداد کے محدثین سے پڑھا اور سُنا اور آپ سے قاضی القضاۃ علی بن احمد طر طوسی اور یوسف بن محمد بن یعقوب بن ابراہیم بن النحاس حلبی نے پڑھا ـ
وصال:
ماہ شوال ۶۹۹ھ کی دوسری رات کو فوت ہوئے ۔
مہر تاباں:
تاریخ وفات آپ کی لفظ ’’ مہر تاباں ‘‘ سے نکلتی ہے ۔ نُحاس بضم نون و تشدید حائے مہملہ اس لیے ان کو کہا کرتے تھے کہ آپ تانبے کا کام کرتے تھے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ayub-ayub-bin-abi-bakr-nuhas-halbi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Ayub Ayub Bin Abi Bakr Nuhas Halbi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت زین الدین ابو بکر خوانی علیہ الرحمہ
آپ علیہ الرحمہ کے القابات:
خواجہ محمد پارسا علیہ الرحمۃ نے اپنے بعض مکتوب میں ان کا القاب اس طرح لکھا ہے ۔
القاب:
ذو العلم النانفع والعمل الرافع ملا ذالجمھور شفاء الصدور صلوۃ العلماء والعرفا رافع اعلام السنۃ قامع اضا لیل البدعۃ ناھج الحقیقۃ سالک مسالک الشریعۃ والطریقۃ الداعی الی اللہ سبحانہ علی طریق الیقین سیدنا و مولانا زین الملۃ والدین
یعنی:
علم نافع اور رافع (چڑھنے والے) کے صاحب جمہور کے پشت پناہ ۔ سینوں کے شفا ۔ علماء عرفا کے برگزیدہ ۔ سنت کے جھنڈے بلند کرنے والے ۔ بدعت کے گمراہیوں کے توڑنے والے حقیقت کے راستوں میں چلنے والے، شریعت و طریقت کے راستوں میں چلنے والے اللہ سبحانہ کی طرف طریق یقین پر بلانے والے ۔ سیدنا مولانا زین المانہ والدین ۔
آپ علوم ظاہر و باطنی کے جامع تھے ۔ اول سے آخر تک شریعت کے راست اور سنت کے متابعت پر اس گروہ کے محققین کے نزدیک بہت بڑی کرامت ہے ۔ استقامت کی توفیق حاصل ہوئی ہے ۔ طریقت می ان کی نسبت شیخ نور الدین عبد الرحمٰن مصری سے ہے ـ
اور شیخ نور الدین عبد الرحمٰن نے ان کی تربیت کے کمال اور تکمیل و ارشاد تک پہنچنے کے بعد اس کی اجازت میں یوں لکھا ہے، لما استحق الخلوۃ وقبول الوردات الغیبیہ والفتوحات استخرت اللہ واخلیت خلوۃ المھودۃ وھی سبعۃ ایام من اللہ تعالی فیھا علی بمیامن فضلہ ففتح اللہ علیہ ابواب المواھب من عندہ فی لیلۃ الرابعۃ وازداد فی الترقیات فی درجات المقامات الی مقام حقیقہ التوحید وانحلت منہ قیودا لتفرقۃ فی شھود الجمع قیل اتمام الایام السبعۃ ثم فی اتمامھا ظھر لہ لوامع التوحید الحقیقی الذاتی المشار الیہ علی لسان اھل الحقیقۃ لجمع الجمع وھو لقوۃ استعدادہ بعد فی الترقی والزیادۃ وانی علی رجاء من اللہ ان یاخذہ الیہ تماما وببقیہ بقا ء دوا ما ویجملہ للمتقین اماما ۔
یعنی:
جب وہ خلوت و ارادت غیبیہ کے قبول اور فتوحات کا مستحق ہوا تو میں نے خدا سے استخارہ کیا اور اسے خلوت مقرر کرائی، جو سات دن ہوتی ہے ۔ تب خدائے تعالی نے مجھ پر احسان کیا اور اپنی مہربانی کے درازے اس پر چوتھی رات کو کھول دِئےاور وہ بڑھ گیا ۔ ترقیات میں مقامات کے درجوں پر توحید کی حقیقت کے مقام تک اور تفرقہ کے قیدیں جمع کے شہود میں سات دن کے پورا ہونے سے پہلے اس سے کھل گئیں ۔ پھر ان کے پارے ہونے پر اس کے لیے توحید حقیقی ذاتی کے انوار جس کو اہل حقیقت جمع الجمع کے ساتھ اشارہ کیا کرتے ہیں، چمکنے لگے ۔ وہ اپنی استعداد کی قوت کی وجہ سے اب تک ترقی پر ہے اور مجھے خدا سے یہ امید ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف پُورا لے لے اور باقی رکھے اس کو ہمیشہ اور اس کو متقیوں کا امام بنائے ۔
آپ فرماتے تھے کہ جو تحریر کہ شیخ نور الدین عبد الرحمٰن نے لکھی تھی ۔ وہ خراسان کے لوٹنے کے وقت بغداد میں رہ گئی ۔ ایک مدت مدید کے بعد جبکہ خراسان سے مصر کی طرف جانے کو اتفاق ہوا اور شیخ دنیا سے رحلت فرما گئے تھے ۔ میں ان کے خلوت خانہ میں گیا تو وہاں پر اپنی اجازت پائی ۔ جس میں کچھ فرق نہ تھا، مگر بعض حرف کا بوجود یہ کہ وہ خلوت محفوظ نہ تھی ۔ اس کا دروازہ کھلا رہتا تھا ۔ میں نہیں جانتا کہ وہ اصل مسودہ تھا کہ جس پر سے مجھے اجازت نامہ کھ دیا تھا یا خود شیخ نے ولایت کے نور سےجان لیا تھا کہ میرا اجازت نامہ گم ہو گیا ہے ۔ میں وہاں لوٹ کر آؤں گا اور اس کو دوبارہ میرے لیے لکھا تھا اور چھوڑ گئے تھے ۔ بہر حال اس کا خلوت میں مدت مدید تک رہنا ۔ جیسا کہ مذکور ہوا، محض کرامت تھا ۔
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب میں مصر سے آتا تھا اور بغداد میں پہنچا ۔ وہ پڑکا کے شیخ نور الدین نے مجھ کو دیا تھا اور بڑے بڑے اور مشائخ کے سر پر رہ چکا تھا ۔ میرے ہمراہ تھا ۔ پیر تاج گیلانی سے ملنے کا اتفاق ہوا، اس نے وہ طاقیہ مجھ سے مانگا ۔ جیسا کہ درویشی اور فقر کا مقتضا ہے ۔ میں نے ان کو دے دیا ۔
میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ وہ طاقیہ مجھ سے استغاثہ کرتا ہے اور ان بزرگوں کو کہ جن کے سر پر وہ رہتا تھا ۔ گنتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں فلاں کے سر پر رہا ہوں ۔ اب تم نے مجھے گدھے کے سر پر رکھ دیا، جو کہ شراب میں مبتلا رہتا ہے ۔
جب صبح ہوئی تو میں ایک دوست کے ساتھ اس کی تلاش میں باہر نکلا سنا کہ وہ شراب خانہ میں ہے اور شراب کے پینے میں ںمشغول ہے ۔ میں وہاں گیا ۔ لوگوں نے کہا کہ فلاں گھر میں ہے ۔ تب ہم اس گھر میں آئے تو وہ مست پڑا تھا اور طاقیہ اس کے سر پر تھا ۔
میرے ساتھی نے کہا کہ تم باہر جاؤ کہ میں طاقیہ کو لاتا ہوں ۔ اس نے طاقیہ اس کے سر پر سے اٹھا لیا ۔ دروازہ کو بند کر دیا اور اس کو میرے پاس لے آیا ۔
کہتے ہیں کہ آخر عمر میں اس کو ایک حالت طاری ہوئی کہ تین رات دِن بِالکل اپنے ہوش سے غائب تھا ۔ جب اسے بے ہوشی سے ہوش میں لائے تو قریباً ایک سال تک اس پر خاموشی غائب تھی ۔
آپ علیہ الرحمہ کے القابات:
خواجہ محمد پارسا علیہ الرحمۃ نے اپنے بعض مکتوب میں ان کا القاب اس طرح لکھا ہے ۔
القاب:
ذو العلم النانفع والعمل الرافع ملا ذالجمھور شفاء الصدور صلوۃ العلماء والعرفا رافع اعلام السنۃ قامع اضا لیل البدعۃ ناھج الحقیقۃ سالک مسالک الشریعۃ والطریقۃ الداعی الی اللہ سبحانہ علی طریق الیقین سیدنا و مولانا زین الملۃ والدین
یعنی:
علم نافع اور رافع (چڑھنے والے) کے صاحب جمہور کے پشت پناہ ۔ سینوں کے شفا ۔ علماء عرفا کے برگزیدہ ۔ سنت کے جھنڈے بلند کرنے والے ۔ بدعت کے گمراہیوں کے توڑنے والے حقیقت کے راستوں میں چلنے والے، شریعت و طریقت کے راستوں میں چلنے والے اللہ سبحانہ کی طرف طریق یقین پر بلانے والے ۔ سیدنا مولانا زین المانہ والدین ۔
آپ علوم ظاہر و باطنی کے جامع تھے ۔ اول سے آخر تک شریعت کے راست اور سنت کے متابعت پر اس گروہ کے محققین کے نزدیک بہت بڑی کرامت ہے ۔ استقامت کی توفیق حاصل ہوئی ہے ۔ طریقت می ان کی نسبت شیخ نور الدین عبد الرحمٰن مصری سے ہے ـ
اور شیخ نور الدین عبد الرحمٰن نے ان کی تربیت کے کمال اور تکمیل و ارشاد تک پہنچنے کے بعد اس کی اجازت میں یوں لکھا ہے، لما استحق الخلوۃ وقبول الوردات الغیبیہ والفتوحات استخرت اللہ واخلیت خلوۃ المھودۃ وھی سبعۃ ایام من اللہ تعالی فیھا علی بمیامن فضلہ ففتح اللہ علیہ ابواب المواھب من عندہ فی لیلۃ الرابعۃ وازداد فی الترقیات فی درجات المقامات الی مقام حقیقہ التوحید وانحلت منہ قیودا لتفرقۃ فی شھود الجمع قیل اتمام الایام السبعۃ ثم فی اتمامھا ظھر لہ لوامع التوحید الحقیقی الذاتی المشار الیہ علی لسان اھل الحقیقۃ لجمع الجمع وھو لقوۃ استعدادہ بعد فی الترقی والزیادۃ وانی علی رجاء من اللہ ان یاخذہ الیہ تماما وببقیہ بقا ء دوا ما ویجملہ للمتقین اماما ۔
یعنی:
جب وہ خلوت و ارادت غیبیہ کے قبول اور فتوحات کا مستحق ہوا تو میں نے خدا سے استخارہ کیا اور اسے خلوت مقرر کرائی، جو سات دن ہوتی ہے ۔ تب خدائے تعالی نے مجھ پر احسان کیا اور اپنی مہربانی کے درازے اس پر چوتھی رات کو کھول دِئےاور وہ بڑھ گیا ۔ ترقیات میں مقامات کے درجوں پر توحید کی حقیقت کے مقام تک اور تفرقہ کے قیدیں جمع کے شہود میں سات دن کے پورا ہونے سے پہلے اس سے کھل گئیں ۔ پھر ان کے پارے ہونے پر اس کے لیے توحید حقیقی ذاتی کے انوار جس کو اہل حقیقت جمع الجمع کے ساتھ اشارہ کیا کرتے ہیں، چمکنے لگے ۔ وہ اپنی استعداد کی قوت کی وجہ سے اب تک ترقی پر ہے اور مجھے خدا سے یہ امید ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف پُورا لے لے اور باقی رکھے اس کو ہمیشہ اور اس کو متقیوں کا امام بنائے ۔
آپ فرماتے تھے کہ جو تحریر کہ شیخ نور الدین عبد الرحمٰن نے لکھی تھی ۔ وہ خراسان کے لوٹنے کے وقت بغداد میں رہ گئی ۔ ایک مدت مدید کے بعد جبکہ خراسان سے مصر کی طرف جانے کو اتفاق ہوا اور شیخ دنیا سے رحلت فرما گئے تھے ۔ میں ان کے خلوت خانہ میں گیا تو وہاں پر اپنی اجازت پائی ۔ جس میں کچھ فرق نہ تھا، مگر بعض حرف کا بوجود یہ کہ وہ خلوت محفوظ نہ تھی ۔ اس کا دروازہ کھلا رہتا تھا ۔ میں نہیں جانتا کہ وہ اصل مسودہ تھا کہ جس پر سے مجھے اجازت نامہ کھ دیا تھا یا خود شیخ نے ولایت کے نور سےجان لیا تھا کہ میرا اجازت نامہ گم ہو گیا ہے ۔ میں وہاں لوٹ کر آؤں گا اور اس کو دوبارہ میرے لیے لکھا تھا اور چھوڑ گئے تھے ۔ بہر حال اس کا خلوت میں مدت مدید تک رہنا ۔ جیسا کہ مذکور ہوا، محض کرامت تھا ۔
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب میں مصر سے آتا تھا اور بغداد میں پہنچا ۔ وہ پڑکا کے شیخ نور الدین نے مجھ کو دیا تھا اور بڑے بڑے اور مشائخ کے سر پر رہ چکا تھا ۔ میرے ہمراہ تھا ۔ پیر تاج گیلانی سے ملنے کا اتفاق ہوا، اس نے وہ طاقیہ مجھ سے مانگا ۔ جیسا کہ درویشی اور فقر کا مقتضا ہے ۔ میں نے ان کو دے دیا ۔
میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ وہ طاقیہ مجھ سے استغاثہ کرتا ہے اور ان بزرگوں کو کہ جن کے سر پر وہ رہتا تھا ۔ گنتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں فلاں کے سر پر رہا ہوں ۔ اب تم نے مجھے گدھے کے سر پر رکھ دیا، جو کہ شراب میں مبتلا رہتا ہے ۔
جب صبح ہوئی تو میں ایک دوست کے ساتھ اس کی تلاش میں باہر نکلا سنا کہ وہ شراب خانہ میں ہے اور شراب کے پینے میں ںمشغول ہے ۔ میں وہاں گیا ۔ لوگوں نے کہا کہ فلاں گھر میں ہے ۔ تب ہم اس گھر میں آئے تو وہ مست پڑا تھا اور طاقیہ اس کے سر پر تھا ۔
میرے ساتھی نے کہا کہ تم باہر جاؤ کہ میں طاقیہ کو لاتا ہوں ۔ اس نے طاقیہ اس کے سر پر سے اٹھا لیا ۔ دروازہ کو بند کر دیا اور اس کو میرے پاس لے آیا ۔
کہتے ہیں کہ آخر عمر میں اس کو ایک حالت طاری ہوئی کہ تین رات دِن بِالکل اپنے ہوش سے غائب تھا ۔ جب اسے بے ہوشی سے ہوش میں لائے تو قریباً ایک سال تک اس پر خاموشی غائب تھی ۔
❤1
وہ بات بہت کم کرتا تھا ۔ ایک دن آپ نے درویش احمد ثمر قندی سے پوچھا کہ تم نے کہیں ایسا جذبہ بھی دیکھا کہ جذبات پے درہے ہوں اور ہرگز منقطع نہ ہوں ۔ درویش احمد نے جواب میں کہا کہ یہ مطلب میں نے کہیں نہیں دیکھا ۔ درویش احمد ثمر قندی آپ کے کار کردہ مریدوں اور خلفاء میں سے تھا ۔
صوفیوں کے باتوں کو اس نے دیکھا ہوا تھا اور منبر پر چڑھ کر ان باتوں کو بیان کیا کرتا تھا اور فصوص الحکم کے درس و مطالعہ میں مشغول رہتا تھا ۔ میں نے اس کا خط لکھا ہوا دیکھا ۔ جو آخر فصوص میں لکھا تھا کہ بعد اس کے کہ آنحضرت ﷺ نے مجھ کو فصوص الحکم کے درس کا اشارہ کیا ۔
میں نے درویش آباد کی خلوت میں دیکھا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا اور پوچھا:
یا رسول اللہ ﷺ ۔ ماتقول فی فرعون قال صلی اللہ علیہ وسلم قل کما کتب ثم قلت یا رسول اللہ ﷺ ما تقول فی الوجود قال صلی اللہ علیہ وسلم ماتراہ لقول الوجود فی القدیم و فی الحادث حادث ثم قال صلی اللہ علیہ وسلم انت الہ مالوہ انت الہ بظھور الصفات الھیۃ فیک و مظھر بتک للا لوھیۃ و انت مالوہ لحصرک وتعینک و خلیقتک و ھو علی ما اقول شھید ۔
یعنی:
یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ فرعون کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا حضرت محمد ﷺ نے کہو، جیسا کہ شیخ نے لکھا ۔ (شیخ نے فرعون کے بارے میں کہا ہے، ازمات طاہر مطہرا اور اس واقعہ میں آنحضرت ﷺ نے اس کی تصدیق کی واللہ اعلم ۔ اس سے اس قدر تو ثابت ہوتا ہے کہ گو عقیدہ جمہور ہی مسلم ہو ۔ مگر کم از کم شیخ ابن العربی کی نسبت بد گمانی اور بدزبانی نہ چاہئے ۔ کیونکہ واقعات بزرگان دین سے حسن ظن چاہئے) پھر میں نے کہا ۔ یا رسول الله ﷺ آپ ﷺ وجود کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا حضرت محمد ﷺ نے وہی ہے ۔ جو تم دیکھتے ہو کہ شیخ کہتا ہے، وجود قدیم میں قدیم ہے اور حادث میں حادث ۔ پھر فرمایا حضرت محمد ﷺ نے تو معبود ہے اور تو ہی عابد ہے ۔ تم خدائی صفہوت کے ظہور کی وجہ سے تھے کہ تجھ میں ہیں اور الوہیت کی مظہریت کی وجہ سے الٰہ اور معبود ہے اور مالوہ یعنی عابد اس لیے ہے کہ تو معین اور مخلوق ہے ۔ (مالوہ در اصل الٰہ ہی کے معنی میں آتا ہے، مگر یہاں مقابلہ کے لحاظ سے عابد لینا چاہئے) خدا اس بات پر جو میں کہتا ہوں، گواہ ہے ۔
وصال:
شیخ زین الدین علیہ الرحمہ اتوار کی شب شوال کے مہینے میں ۸۳۸ھ میں فوت ہوئے ۔
مدفن:
اول تو ان کو قریہ مالین میں دفن کیا گیا ۔ پھر وہاں سے موضع درویش میں لے گئے اور درویش آباد میں عید گاہ ہرات میں اور اب ان کی مزار متبرک پر بڑی عالیشان عمارت بنا دی گئی ہے اور ایسی آباد اور مجمع ہو گئی ہے کہ وہاں پر جمعہ پڑھتے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-zainuddin-abu-bakr-khwani
صوفیوں کے باتوں کو اس نے دیکھا ہوا تھا اور منبر پر چڑھ کر ان باتوں کو بیان کیا کرتا تھا اور فصوص الحکم کے درس و مطالعہ میں مشغول رہتا تھا ۔ میں نے اس کا خط لکھا ہوا دیکھا ۔ جو آخر فصوص میں لکھا تھا کہ بعد اس کے کہ آنحضرت ﷺ نے مجھ کو فصوص الحکم کے درس کا اشارہ کیا ۔
میں نے درویش آباد کی خلوت میں دیکھا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا اور پوچھا:
یا رسول اللہ ﷺ ۔ ماتقول فی فرعون قال صلی اللہ علیہ وسلم قل کما کتب ثم قلت یا رسول اللہ ﷺ ما تقول فی الوجود قال صلی اللہ علیہ وسلم ماتراہ لقول الوجود فی القدیم و فی الحادث حادث ثم قال صلی اللہ علیہ وسلم انت الہ مالوہ انت الہ بظھور الصفات الھیۃ فیک و مظھر بتک للا لوھیۃ و انت مالوہ لحصرک وتعینک و خلیقتک و ھو علی ما اقول شھید ۔
یعنی:
یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ فرعون کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا حضرت محمد ﷺ نے کہو، جیسا کہ شیخ نے لکھا ۔ (شیخ نے فرعون کے بارے میں کہا ہے، ازمات طاہر مطہرا اور اس واقعہ میں آنحضرت ﷺ نے اس کی تصدیق کی واللہ اعلم ۔ اس سے اس قدر تو ثابت ہوتا ہے کہ گو عقیدہ جمہور ہی مسلم ہو ۔ مگر کم از کم شیخ ابن العربی کی نسبت بد گمانی اور بدزبانی نہ چاہئے ۔ کیونکہ واقعات بزرگان دین سے حسن ظن چاہئے) پھر میں نے کہا ۔ یا رسول الله ﷺ آپ ﷺ وجود کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا حضرت محمد ﷺ نے وہی ہے ۔ جو تم دیکھتے ہو کہ شیخ کہتا ہے، وجود قدیم میں قدیم ہے اور حادث میں حادث ۔ پھر فرمایا حضرت محمد ﷺ نے تو معبود ہے اور تو ہی عابد ہے ۔ تم خدائی صفہوت کے ظہور کی وجہ سے تھے کہ تجھ میں ہیں اور الوہیت کی مظہریت کی وجہ سے الٰہ اور معبود ہے اور مالوہ یعنی عابد اس لیے ہے کہ تو معین اور مخلوق ہے ۔ (مالوہ در اصل الٰہ ہی کے معنی میں آتا ہے، مگر یہاں مقابلہ کے لحاظ سے عابد لینا چاہئے) خدا اس بات پر جو میں کہتا ہوں، گواہ ہے ۔
وصال:
شیخ زین الدین علیہ الرحمہ اتوار کی شب شوال کے مہینے میں ۸۳۸ھ میں فوت ہوئے ۔
مدفن:
اول تو ان کو قریہ مالین میں دفن کیا گیا ۔ پھر وہاں سے موضع درویش میں لے گئے اور درویش آباد میں عید گاہ ہرات میں اور اب ان کی مزار متبرک پر بڑی عالیشان عمارت بنا دی گئی ہے اور ایسی آباد اور مجمع ہو گئی ہے کہ وہاں پر جمعہ پڑھتے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-zainuddin-abu-bakr-khwani
scholars.pk
Hazrat Zainuddin Abu Bakr Khwani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs