🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-09-1444 ᴴ | 21-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-10-1444 ᴴ | 22-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت شیخ ایوب بن ابی بکر نحاس حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

وطن:
حضرت شیخ ایوب بن ابی بکر بن ابراہیم نحاس حلبی: شہر حلب کے رہنےوالے تھے۔

کنیت و لقب:
ابو صاہر کنیت اور بہاء الدین لقب تھا۔

سیرت:
امام عالم اور مفسر، فقیہ محدث تھے۔

آپ کے زمانہ میں مذہب کی ریاست آپ پر منتہیٰ ہوئی ۔

تعلیم:
حدیث کو مکہ معظمہ و قاہرہ اور بغداد کے محدثین سے پڑھا اور سُنا اور آپ سے قاضی القضاۃ علی بن احمد طر طوسی اور یوسف بن محمد بن یعقوب بن ابراہیم بن النحاس حلبی نے پڑھا ـ

وصال:
ماہ شوال ۶۹۹ھ کی دوسری رات کو فوت ہوئے ۔

مہر تاباں:
تاریخ وفات آپ کی لفظ ’’ مہر تاباں ‘‘ سے نکلتی ہے ۔ نُحاس بضم نون و تشدید حائے مہملہ اس لیے ان کو کہا کرتے تھے کہ آپ تانبے کا کام کرتے تھے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ayub-ayub-bin-abi-bakr-nuhas-halbi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت زین الدین ابو بکر خوانی علیہ الرحمہ

آپ علیہ الرحمہ کے القابات:
خواجہ محمد پارسا علیہ الرحمۃ نے اپنے بعض مکتوب میں ان کا القاب اس طرح لکھا ہے ۔

القاب:
ذو العلم النانفع والعمل الرافع ملا ذالجمھور شفاء الصدور صلوۃ العلماء والعرفا رافع اعلام السنۃ قامع اضا لیل البدعۃ ناھج الحقیقۃ سالک مسالک الشریعۃ والطریقۃ الداعی الی اللہ سبحانہ علی طریق الیقین سیدنا و مولانا زین الملۃ والدین

یعنی:
علم نافع اور رافع (چڑھنے والے) کے صاحب جمہور کے پشت پناہ ۔ سینوں کے شفا ۔ علماء عرفا کے برگزیدہ ۔ سنت کے جھنڈے بلند کرنے والے ۔ بدعت کے گمراہیوں کے توڑنے والے حقیقت کے راستوں میں چلنے والے، شریعت و طریقت کے راستوں میں چلنے والے اللہ سبحانہ کی طرف طریق یقین پر بلانے والے ۔ سیدنا مولانا زین المانہ والدین ۔

آپ علوم ظاہر و باطنی کے جامع تھے ۔ اول سے آخر تک شریعت کے راست اور سنت کے متابعت پر اس گروہ کے محققین کے نزدیک بہت بڑی کرامت ہے ۔ استقامت کی توفیق حاصل ہوئی ہے ۔ طریقت می ان کی نسبت شیخ نور الدین عبد الرحمٰن مصری سے ہے ـ

اور شیخ نور الدین عبد الرحمٰن نے ان کی تربیت کے کمال اور تکمیل و ارشاد تک پہنچنے کے بعد اس کی اجازت میں یوں لکھا ہے، لما استحق الخلوۃ وقبول الوردات الغیبیہ والفتوحات استخرت اللہ واخلیت خلوۃ المھودۃ وھی سبعۃ ایام من اللہ تعالی فیھا علی بمیامن فضلہ ففتح اللہ علیہ ابواب المواھب من عندہ فی لیلۃ الرابعۃ وازداد فی الترقیات فی درجات المقامات الی مقام حقیقہ التوحید وانحلت منہ قیودا لتفرقۃ فی شھود الجمع قیل اتمام الایام السبعۃ ثم فی اتمامھا ظھر لہ لوامع التوحید الحقیقی الذاتی المشار الیہ علی لسان اھل الحقیقۃ لجمع الجمع وھو لقوۃ استعدادہ بعد فی الترقی والزیادۃ وانی علی رجاء من اللہ ان یاخذہ الیہ تماما وببقیہ بقا ء دوا ما ویجملہ للمتقین اماما ۔

یعنی:
جب وہ خلوت و ارادت غیبیہ کے قبول اور فتوحات کا مستحق ہوا تو میں نے خدا سے استخارہ کیا اور اسے خلوت مقرر کرائی، جو سات دن ہوتی ہے ۔ تب خدائے تعالی نے مجھ پر احسان کیا اور اپنی مہربانی کے درازے اس پر چوتھی رات کو کھول دِئےاور وہ بڑھ گیا ۔ ترقیات میں مقامات کے درجوں پر توحید کی حقیقت کے مقام تک اور تفرقہ کے قیدیں جمع کے شہود میں سات دن کے پورا ہونے سے پہلے اس سے کھل گئیں ۔ پھر ان کے پارے ہونے پر اس کے لیے توحید حقیقی ذاتی کے انوار جس کو اہل حقیقت جمع الجمع کے ساتھ اشارہ کیا کرتے ہیں، چمکنے لگے ۔ وہ اپنی استعداد کی قوت کی وجہ سے اب تک ترقی پر ہے اور مجھے خدا سے یہ امید ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف پُورا لے لے اور باقی رکھے اس کو ہمیشہ اور اس کو متقیوں کا امام بنائے ۔

آپ فرماتے تھے کہ جو تحریر کہ شیخ نور الدین عبد الرحمٰن نے لکھی تھی ۔ وہ خراسان کے لوٹنے کے وقت بغداد میں رہ گئی ۔ ایک مدت مدید کے بعد جبکہ خراسان سے مصر کی طرف جانے کو اتفاق ہوا اور شیخ دنیا سے رحلت فرما گئے تھے ۔ میں ان کے خلوت خانہ میں گیا تو وہاں پر اپنی اجازت پائی ۔ جس میں کچھ فرق نہ تھا، مگر بعض حرف کا بوجود یہ کہ وہ خلوت محفوظ نہ تھی ۔ اس کا دروازہ کھلا رہتا تھا ۔ میں نہیں جانتا کہ وہ اصل مسودہ تھا کہ جس پر سے مجھے اجازت نامہ کھ دیا تھا یا خود شیخ نے ولایت کے نور سےجان لیا تھا کہ میرا اجازت نامہ گم ہو گیا ہے ۔ میں وہاں لوٹ کر آؤں گا اور اس کو دوبارہ میرے لیے لکھا تھا اور چھوڑ گئے تھے ۔ بہر حال اس کا خلوت میں مدت مدید تک رہنا ۔ جیسا کہ مذکور ہوا، محض کرامت تھا ۔

آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب میں مصر سے آتا تھا اور بغداد میں پہنچا ۔ وہ پڑکا کے شیخ نور الدین نے مجھ کو دیا تھا اور بڑے بڑے اور مشائخ کے سر پر رہ چکا تھا ۔ میرے ہمراہ تھا ۔ پیر تاج گیلانی سے ملنے کا اتفاق ہوا، اس نے وہ طاقیہ مجھ سے مانگا ۔ جیسا کہ درویشی اور فقر کا مقتضا ہے ۔ میں نے ان کو دے دیا ۔

میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ وہ طاقیہ مجھ سے استغاثہ کرتا ہے اور ان بزرگوں کو کہ جن کے سر پر وہ رہتا تھا ۔ گنتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں فلاں کے سر پر رہا ہوں ۔ اب تم نے مجھے گدھے کے سر پر رکھ دیا، جو کہ شراب میں مبتلا رہتا ہے ۔

جب صبح ہوئی تو میں ایک دوست کے ساتھ اس کی تلاش میں باہر نکلا سنا کہ وہ شراب خانہ میں ہے اور شراب کے پینے میں ںمشغول ہے ۔ میں وہاں گیا ۔ لوگوں نے کہا کہ فلاں گھر میں ہے ۔ تب ہم اس گھر میں آئے تو وہ مست پڑا تھا اور طاقیہ اس کے سر پر تھا ۔

میرے ساتھی نے کہا کہ تم باہر جاؤ کہ میں طاقیہ کو لاتا ہوں ۔ اس نے طاقیہ اس کے سر پر سے اٹھا لیا ۔ دروازہ کو بند کر دیا اور اس کو میرے پاس لے آیا ۔

کہتے ہیں کہ آخر عمر میں اس کو ایک حالت طاری ہوئی کہ تین رات دِن بِالکل اپنے ہوش سے غائب تھا ۔ جب اسے بے ہوشی سے ہوش میں لائے تو قریباً ایک سال تک اس پر خاموشی غائب تھی ۔
1