🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-09-1444 ᴴ | 21-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-09-1444 ᴴ | 21-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-09-1444 ᴴ | 21-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-09-1444 ᴴ | 21-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تمام سنیوں کو جمعۃ الوداع مبارک ہو
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تمام سنیوں کو جمعۃ الوداع مبارک ہو
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/45576
حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے۔ خواجہ احمد صدیق، خواجہ اولیائے کبیر، خواجہ سلیمان کرمینی اور خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ علیہم، خواجہ عارف ریوگری خلیفۂ اعظم تھے۔ تمام عمر اپنے پیر روشن ضمیر کی خدمت بابرکت میں رہے اور باطنی فیوض و برکات سے مالا مال ہوئے۔ علم و حلم، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور رشد و ہدایت میں عالی شان رکھتے تھے۔ حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد سجادہ نشین بنے اور ایک خلق کو راہِ ہدایت پر گامزن کیا۔
آپ کا مولد و مدفن ریوگر (بخارا سے ۱۸؍ میل اور غجدوان سے ۳؍ میل دور ایک موضع) ہے آپ کی ولادت ۲۷ رجب المرجب ۵۵۱ھ مطابق ۱۵ ستمبر ۱۱۵۶ء اور وفات یکم شوال ۷۱۵ھ مطابق ۲۹ دسمبر ۱۳۱۵ھ ہے ۔ آپ کی عمر شریف بہت دراز تھی۔ آپ کے پیر و مرشد خواجہ عبد الخالق غجدوانی کی وفات ۵۷۵ھ میں ہوئی اور آپ کی ۷۱۵ھ میں۔ گویا کہ آپ پیر و مرشد کی رحلت کے بعد ۱۴۰ سال زندہ رہے ۔ ( تاریخِ مشائخ نقشبند )
خواجہ عارف ریوگری قدس سرہ
نسبت و ارادت:
خواجہ عبدالخالق قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے۔ خواجہ احمد صدیق۔ خواجہ اولیائے کبیر۔ خواجہ سلیمان کرمینی۔ خواجہ عارف ریوگری۔ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کی نسبت و ارادت ان میں سے خواجہ عارف تک پہنچتی ہے۔ حضرت خواجہ عارف کا مولد و مدفن موضع ریوگر ہے [۱] جو دیہات بخارا میں سے ہے۔ حضرت خواجہ عبدالخالق کے وصال کے بعد آپ ریاضت و عبادت اور ہدایت خلق میں مشغول رہے۔
[۱۔ ریوگر (بکسر راے مہملہ و سکون یا و واد ہر دو۔ وکسرکاف فارسی) بخارا سے چھ فرسنگ اور غجدوان سے ایک فرسنگ شرعی کے فاصلہ پر واقع ہے۔]
وصال مُبارک:
آپ کا سنہ وفات بقول صاحب حضرات القدس ۶۱۶ھ یا ایک سال بعد ہے ۔ (رشحات) ۔
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-arif
حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے۔ خواجہ احمد صدیق، خواجہ اولیائے کبیر، خواجہ سلیمان کرمینی اور خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ علیہم، خواجہ عارف ریوگری خلیفۂ اعظم تھے۔ تمام عمر اپنے پیر روشن ضمیر کی خدمت بابرکت میں رہے اور باطنی فیوض و برکات سے مالا مال ہوئے۔ علم و حلم، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور رشد و ہدایت میں عالی شان رکھتے تھے۔ حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد سجادہ نشین بنے اور ایک خلق کو راہِ ہدایت پر گامزن کیا۔
آپ کا مولد و مدفن ریوگر (بخارا سے ۱۸؍ میل اور غجدوان سے ۳؍ میل دور ایک موضع) ہے آپ کی ولادت ۲۷ رجب المرجب ۵۵۱ھ مطابق ۱۵ ستمبر ۱۱۵۶ء اور وفات یکم شوال ۷۱۵ھ مطابق ۲۹ دسمبر ۱۳۱۵ھ ہے ۔ آپ کی عمر شریف بہت دراز تھی۔ آپ کے پیر و مرشد خواجہ عبد الخالق غجدوانی کی وفات ۵۷۵ھ میں ہوئی اور آپ کی ۷۱۵ھ میں۔ گویا کہ آپ پیر و مرشد کی رحلت کے بعد ۱۴۰ سال زندہ رہے ۔ ( تاریخِ مشائخ نقشبند )
خواجہ عارف ریوگری قدس سرہ
نسبت و ارادت:
خواجہ عبدالخالق قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے۔ خواجہ احمد صدیق۔ خواجہ اولیائے کبیر۔ خواجہ سلیمان کرمینی۔ خواجہ عارف ریوگری۔ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کی نسبت و ارادت ان میں سے خواجہ عارف تک پہنچتی ہے۔ حضرت خواجہ عارف کا مولد و مدفن موضع ریوگر ہے [۱] جو دیہات بخارا میں سے ہے۔ حضرت خواجہ عبدالخالق کے وصال کے بعد آپ ریاضت و عبادت اور ہدایت خلق میں مشغول رہے۔
[۱۔ ریوگر (بکسر راے مہملہ و سکون یا و واد ہر دو۔ وکسرکاف فارسی) بخارا سے چھ فرسنگ اور غجدوان سے ایک فرسنگ شرعی کے فاصلہ پر واقع ہے۔]
وصال مُبارک:
آپ کا سنہ وفات بقول صاحب حضرات القدس ۶۱۶ھ یا ایک سال بعد ہے ۔ (رشحات) ۔
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-arif
scholars.pk
Hazrat Khawaja Arif
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا مشتاق احمد قادری کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام:
اسم گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی مشتاق احمد بن مولانا احمد حسن کانپوری تھا ۔ رحمۃ اللہ علیہما
تاریخ و مقامِ ولادت:
مولانا مشتاق ا حمد قادری کانپوری 1295ھ میں سہارنپور میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد مظاہر العلوم میں مسندِ تدریس پر متمکن تھے ۔ ناظرۂ قرآن اور ابتدائی کتابیں والد ماجد ہی سے پڑھیں، پھر والد ماجد ہی کے شاگرد مولانا شاہ محمد عبید اللہ بہاولپوری سے درس نظامی اور مولانا عبد الرزاق کانپوری سے ابتدائی کتابیں پڑھیں، اور دورہ حدیث اپنے حقیقی خالو مولانا وصی احمد سورتی سے مکمل کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد ہی سے سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت تھے، مگر اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے خلافت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
مولانا مشتاق احمد نے بھی والد ماجد کی طرح زندگی بھر درس و تدریس میں گزارا ، آپ نے مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں 15 سال درس دیا ، اس کے علاوہ دار العلوم معینیہ اجمیر شریف جامع شمس العلوم بدایوں مدرسہ عالیہ کلکتہ، جامعہ شمس الھدیٰ پٹنہ اور مدرسہ اسلامی میرٹھ میں بحیثیت شیخ الحدیث و تفسیر خدمات انجام دیں ۔
اعلیٰ حضرت سے عقیدت:
آپ کو فاضلِ بریلوی سے بہت زیادہ عقیدت تھی، چنانچہ ہر سال فاضلِ بریلوی کی خدمت میں بریلی شریف پہنچتے ۔
مولانا مشتاق احمد کانپوری علوم معقول و منقول کی تدریس میں اپنے والد کی مثل تھے، اور تمام زندگی تشنگانِ علم کی پیاس بجھانے میں گذار دی، امام معقولات و منقولات کے لقب سے یاد کئے جاتے ۔ مولانا مشتاق احمد کانپوری آخر عمر میں زیادہ تر کلکتہ میں قیام پذیر رہے، جہاں وہ مدرسہ عالیہ کے پرنسپل تھے مگر عیدین کی نماز پڑھانے کے لئے کانپور تشریف لے آتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
مولانا مشتاق احمد قادری کانپوری رحمۃ اللہ علیہ 29 رمضان کو بمطابق اکتوبر 1941ء عید کا چاند دیکھ کر اعتکاف سے اٹھ کر گھر پہنچے اور اسی شب روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ خلفاء اعلیٰ حضرت (رحمۃ اللہ علیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mushtaq-ahmad-kanpuri
نام:
اسم گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی مشتاق احمد بن مولانا احمد حسن کانپوری تھا ۔ رحمۃ اللہ علیہما
تاریخ و مقامِ ولادت:
مولانا مشتاق ا حمد قادری کانپوری 1295ھ میں سہارنپور میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد مظاہر العلوم میں مسندِ تدریس پر متمکن تھے ۔ ناظرۂ قرآن اور ابتدائی کتابیں والد ماجد ہی سے پڑھیں، پھر والد ماجد ہی کے شاگرد مولانا شاہ محمد عبید اللہ بہاولپوری سے درس نظامی اور مولانا عبد الرزاق کانپوری سے ابتدائی کتابیں پڑھیں، اور دورہ حدیث اپنے حقیقی خالو مولانا وصی احمد سورتی سے مکمل کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد ہی سے سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت تھے، مگر اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے خلافت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
مولانا مشتاق احمد نے بھی والد ماجد کی طرح زندگی بھر درس و تدریس میں گزارا ، آپ نے مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں 15 سال درس دیا ، اس کے علاوہ دار العلوم معینیہ اجمیر شریف جامع شمس العلوم بدایوں مدرسہ عالیہ کلکتہ، جامعہ شمس الھدیٰ پٹنہ اور مدرسہ اسلامی میرٹھ میں بحیثیت شیخ الحدیث و تفسیر خدمات انجام دیں ۔
اعلیٰ حضرت سے عقیدت:
آپ کو فاضلِ بریلوی سے بہت زیادہ عقیدت تھی، چنانچہ ہر سال فاضلِ بریلوی کی خدمت میں بریلی شریف پہنچتے ۔
مولانا مشتاق احمد کانپوری علوم معقول و منقول کی تدریس میں اپنے والد کی مثل تھے، اور تمام زندگی تشنگانِ علم کی پیاس بجھانے میں گذار دی، امام معقولات و منقولات کے لقب سے یاد کئے جاتے ۔ مولانا مشتاق احمد کانپوری آخر عمر میں زیادہ تر کلکتہ میں قیام پذیر رہے، جہاں وہ مدرسہ عالیہ کے پرنسپل تھے مگر عیدین کی نماز پڑھانے کے لئے کانپور تشریف لے آتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
مولانا مشتاق احمد قادری کانپوری رحمۃ اللہ علیہ 29 رمضان کو بمطابق اکتوبر 1941ء عید کا چاند دیکھ کر اعتکاف سے اٹھ کر گھر پہنچے اور اسی شب روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ خلفاء اعلیٰ حضرت (رحمۃ اللہ علیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mushtaq-ahmad-kanpuri
scholars.pk
Hazrat Molana Mushtaq Ahmad Kanpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1