🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-09-1444 ᴴ | 20-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-09-1444 ᴴ | 20-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مخدوم بصر الدین صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نامور بزرگ حضرت علامہ مخدوم بصر الدین صدیقی ’’ سیوہن شریف ‘‘ کے صدیقی خاندان کے نامور عالم گزرے ہیں ۔ مخدوم بصر الدین کا اصل نام رکن الدین تھا لیکن شہرت بصر الدین سے حاصل ہوئی ۔ جد بزرگوار مخدوم محمد حسن صدیقی (وفات ۱۲۲۰ھ/۱۸۰۵ئ) اپنے وقت کے عالم عارف و کامل بزرگ تھے۔ اس خاندان ذی وقار میں بے شمار علماء ، فضلائ، مشائخ، ادبائ، حکما اور شعراء نے جنم لیا ہے۔ ’’مغل حکومت‘‘ میں اس خاندان کے بعض علماء قاضی اور قاضی القضاء (چیف جسٹس) کے مناصب جلیلہ پر فائز تھے جو کہ اپنے دور میں شرعی و فقہی مسائل سے متعلق فتاویٰ جاری فرماتے اور فیصلہ صادر فرماتے تھے۔ کلہوڑ اور تالپوروں کے عہد میں بھی انہی مناصب پر فائز رہے۔

مخدوم بصر الدین کی ۲۹ رمضان المبارک ۱۲۸۲ھ بمطابق ۱۷ ستمبر ۱۸۶۳ء کو قلندر کی نگری سیوہن شریف (ضلع دادو) میں ولاد تہ ہوئی ۔ خلفہ حکیم غلام محی الدین عباسی آپ کے ماموں او ان کے بیٹے حکیم فتح محمد صغیر سیوہا نی (۱۸۸۲ئ۔۱۹۴۲ئ) آپ کے ماموں زاد بھائی تھے (لیکن فتح سیوہانی کے عقائد تبدیل ہوگئے تھے، خلاف کے دور میںوہ امروٹی گروپ کا قریبی ارو دین محمد وفائی جیسے نامور کٹر وہابی کا دست راز بن گیا تھا)

تعلیم و تربیت:

مخدوم بصر الدین نے ابدتائی فارسی و عربی تعلیم سیوہن شریف میں حاصل کی ۔ مزید تعلیم اپنے چچا زاد بھائی علامۃ الزمان حضرت مخدوم حسن اللہ صدیقی (۱۸۵۰ئ۔۱۹۲۰ئ) کی خدمت عالیہ میں رہ کر پاٹ شریف کی درسگاہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔

مخدوم صاحب کے والد احمد صدیقی کراچی میں گورنمنٹ ملازم تھے ، انہوں نے اپنے بیٹے کو انگریزی تعلیم دلانے کیلئے ’’سندھ مدرسۃ الاسلام‘‘ کراچی میں داخل کرایا۔ جہاں سے مخدوم بصر الدین صدیقی نے قانون کی ڈگری اعلیٰ اعزاز سے حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کے والد نے آپ کو سرکاری نوکری دلا دی لیکن آپ کا دل مطمئن نہ تھا اسلئے جلد ہی ملازمت سے سبکدوش ہو کر سیوہن شریف واپس آئے اور یاد الٰہی میں مصروف ہوگئے۔

تصنیف و تالیف:

مخدوم صاحب قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، تصوف ، تاریخ، جفر، نجوم اور کیمیاء کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست پر بھی بھر پور دسترس رکھتے تھے۔ آپ نے کئی کتابوں پر حاشیہ رقم کئے۔ ایسی قلمی کتب سیوہن میں حکیم محمد مراد صدیقی کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے ابن سینا کی کتاب ’’القانون‘‘ (عربی) الجزء الاول، الثانی و الثالث پر حاشیہ تحریر ہے جو کہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ کا خط ایسا نفیس ہے جیسے موتی چمک رہے ہیں۔ آپ کی تحریر کا عکس سندھی ادبی بورڈ جامشورو کے مجلہ ’’مہران‘‘ مطبوعہ ۱۹۹۰ء میں شائع ہوا ہے۔

مخدوم صاحب نے عربی میں بھی کئی کتب تصنیف فرمائی ہیں ان میں سے ’’البصائر‘‘ نامی کتاب نہایت مشہور ہے جس میں کئی مسائل پر تسلی بخش کلام کیا گیا ہے۔ نام سے معلوم ہورہا ہے کہ عقائد کے موضوع پر ہوگی، خدا کرے اشاعت کی راہ ہموار ہو۔

حکمت:

مخدوم بصر الدین خاندانی حاذق حکیم تھے۔ ننہیال اور ددھیال کی کی طر ف سے پشت ہا پشت حکیم گزرے ہیں۔ آپ کے داد اجان حکیم مخدوم حسن نے طب کے موضوع پر آزمودہ مجرب نسخہ جات پر مشتمل ایک اہم کتاب ’’سدیدی‘‘ تالیف کی تھی۔ ان کے علاوہ بھی مخدوم صاحب کے پاس خاندانی آزمودہ نسخہ جات تھے اور عوام الناس کا علاج اپنے آزمودہ نسخہ جات سے کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی اسلئے سینکڑوں لوگ مستفیض ہوتے۔

شاعری:

مخدوم بصر الدین صدیقی عالم عارف اور شاعر تھے۔ آپ کی شاعری حمد، نعت، مولود و مداح پر مشتمل ہے۔ آپ کا سینہ عشق مصطفیﷺ کا گنجینہ تھا۔ شاعری میں ’’بصر الدین‘‘ تخلص اپنا یا ہے۔

عادات و خصائل:

مخدوم بصر الدین انتہائی ذہین اور قوی حافظہ شخصیت تھے۔ آخر عمر تک حوالہ میں کتابوں کے نام، مصنف کا نام اور باب و صفحہ وغیرہ بتادیتے تھے۔ حسن اخلاق ، سادگی پسند، درویش طبیعت، پرہیزگار، خلیق، سخی، رحم دل اور گوشہ نشین تھے۔ کھانا دن میں صرف ایک بار تناول فرماتے ، خاموش طبیعت، اکثر مجاہدہ، عبادت و ریاضت اور مطالعہ کتب میں وقت صرف کرتے تھے۔ سفید لباس زیب تن، سر پر عمامہ ، ہاتھ میں عصا، رنگ گندمی، دارھی سنت مباکہ کے مطابق اور چہرہ پر نور تھا۔

آپ مستجاب الدعوات تھے۔ لارکانہ ، شکار پور اور جیکب آباد اضلاع سے رئیس، جاگیردار، زمیندار ،وڈیرے، آفیسر، علما و عوام زیارت و دعا دوا کیلئے حاضرت ہوتے تھے۔ آپ انسانیت کی خدمت میں پیش پیش تھے۔ ۱۹۲۴ء میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط پڑا، فصلیں تباہ ہو رہی تھیں، جانور پیاس سے مر رہے تھے۔ مخدوم صاحب لاڑکانہ تشریف لائے تو شہر کے لوگوں کے اسرار پر (لاڑکانہ میں جہاں آج چانڈ کا ہسپتال ہے) نماز باران (استقائ) پڑھانے کے بعد دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو اسی وقت آسمان پر بادل چھا گئے اور بارش ہونے لگی اور بارش مسلسل چار روز برستی رہی۔
1
۱۹۳۵ء میں مخدوم صاحب چانڈ یہ قوم کے سردار نواب غیبی خان چانڈیو کے بنگلہ (شہر لاڑکانہ) میں مہمان تھے۔ ان دنوں بھی سخت قحط تھا۔ باران نماز کیلئے لوگ جمع تھے۔ مولوی احمد عرف مولوی ٹھوڑہو نے نماز پڑھائی اور آپ نے دعا کیلئے ہاتھ درا زکئے اسی وقت دعا قبول ہوئی اور بارش برسنا شروع ہوئی چند گھڑیوں میں شہر کی گلیوں کوچون میں پانی جمع ہوگیا۔

آپ اللہ تعالیٰ کے محبوب ولی اور بارگاہ صمدیت میں مقبول تھے، اس لئے آپ کی دعا قبول ہوتی۔ دعا مانگنے، تعویذ دینے سے لوگوں کو زمین و آسمان کی آفات و بلیات و مشکلات سے چھٹکارا مل جاتا تھا اسلئے جوق در جوق لوگ آپ کی طر ہر مسئلہ دینی و دنیاوی و روحانی میں رجوع کرتے تھے۔

رد وہابیت:

دیوبندی و اہل حدیث (غیر مقلد) گستاخ رسول ہیں، وہابی مولویوں نے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں اپنی کتابوں میں لکھ کر شائع کی، علماء اہل سنت کی نشاندہی کے باوجود توبہ سے گریز کیا اور اشاعت بھی برقرار رکھی۔ یہی سبب تھا کہ علماء حرمین شریفین نے اکابر علماء دیو بند پر کفر کا فتویٰ جاری فرمایا جو کہ ’’حسام الحرمین‘‘ کتاب میں محفوظ ہے اور اس کی حمایت میں برصغیر پاک و ہند کے اکابر علماء اہل سنت نے بھی فتاویٰ مبارکہ جاری فرمائیں وہ فتاویٰ ’’الصوام الہندیہ‘‘ میں محفوظ ہیں۔

مخدوم بصر الدین وہابیوں کی گستاخیوں کے سبب ان سے سخت نفرت رکھتے تھے اسی نفرت کا نتیجہ ہے کہ آپ نے الصوارم الہندیہ (طبع اول مکتبہ فریدیہ ساہیوال) پر تصدیق فرمائی۔

اولاد :

آپ کو نرینہ اولاد می نصرف ایک بیٹا حکیم فخرالدین صدیقی تولد ہوا جس کو تین بیٹے تولد ہوئے۔

۱۔ میاں محمد (وفات لندن مدفون سیوہن)

۲۔ میاں احمد (مجذوب مدفون سیوہن)

۳۔ میاں سیف الدین (ریٹائرڈ سیشن جج کراچی) والد ڈاکٹر محمد سلیم صدیقی (کراچی)

وصال:

مخدوم بصر الدین صدیقی نے ۷۵ برس کی عمر پائی۔ ۸ ذوالقعدہ ۱۳۵۶ھ بمطابق ۱۱ جنوری ۱۹۳۸ء منگل کی نصف شب محلہ قاضی سیوہن شریف مین انتقال کیا۔ آپ کی مزار شریف آبائی قبرستان نزد درگاہ حضرت چٹھوا مرانی سیوہن شریف (ضلع دادو) میں مرجع خلائق ہے جہاں آپ کے عقیدت مند و معتقدین حاضری و فاتحہ کیلئے جمع ہوتے رہتے ہیں۔ (ماہنامہ السند جنوری ۲۰۰۲ئ)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-makhdoom-basruddin-sidddiqui
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
جمال الاولیاء، سیّدنا شیخ



اسم ِگرامی: سیّدنا شیخ جمال الاولیاء۔

لقب: شیخ الاولیاء۔

حضرت سیّدنا شیخ جمال الاولیاء﷫کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:

حضرت سیّد جمال الاولیاء بن حضرت مخدوم جہانیاں ثانی بن شاہ بہاءالدین بن حضرت قطب الاقطاب شاہ سالار بدھ بن مخدوم شاہ ہیبت اللہ بن شاہ سالار راجی بن مخدوم شہاب الدین عرف حبیب اللہ بن مخدوم خواجہ میاں بن مخدوم شہاب الدین ثالث بن شاہ عماد الدین بن مخدوم شاہ نجم الدین بن مخدوم شاہ شمس الدین بن شاہ شہاب الدین چہارم بن شاہ عماد بن شاہ رضی الدین بن شاہ عبدالکریم بن مخدوم شاہ جعفر بن شاہ حمزہ بن شاہ کاظم بن شاہ حسن مہدی بن شاہ عیسیٰ بن شاہ محدث بن سیّد حسن عریض بن علی عریض بن سیّدنا امام جعفر صادق بن سید نا امام باقر بن سیدنا امام زین العابدین بن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہم اجمعین۔(تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ،ص 307؛ شمامۃ العنبر،ص 11)

خاندانی حالات:

حضرت شاہ جمال الاولیاء ﷫ کے والدِ گرامی حضرت مخدوم جہانیاں ثانی بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں جن کا وصال غالباً 960ھ میں ہوا۔ آپ ہی کی تصنیف سے ایک کتاب ’’اَسرارِ جہانی‘‘ جو اَذکار و اَشغالِ صوفیہ پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب کلکۃ میں طبع ہو کر شائع ہوئی ہے۔آپ بہت بڑے علمائے محققین میں سے تھے۔ایک وقت کتب درسیہ کے لیے معین تھا۔تو دوسرا وقت ذکر و شغل و تلقین و توجہ کے لیے وقف تھا۔ بڑے بڑے علمائے وقت مستفیض درس ہونے کی غرض سے حاضر خدمت ہوتے تھے، نیز بڑے بڑے صوفیائے وقت آپ کے خلفا کی فہرست میں شمولیت کا شرف رکھتے تھے۔مِن جملہ آپ کے صاحبزادے شاہ جمال الاولیاء﷫ایک خاص امتیازی شان کے مالک ہیں اور آپ کے صاحبزادے کے خلیفہ حضرت سیّد محمد کالپوی﷫ اپنے شیخ کے عظیم خلفا میں شامل ہیں اور علم شریعت میں آپ ہی کے ایک شاگرد ملا عبدالرسول صاحب تھے جو ملا لطف اللہ صاحب کے استاد تھے اور ملا لطف اللہ ﷫حضرت ملا جیون﷫ کے استاد تھے اور حضرت ملاجیون شہنشاہ عالمگیر اورنگ زیب﷫ کے استاد اور نور الانوار تفسیر احمدی کےمصنف ہیں۔(شمامۃ العنبر، ص27)

حضرت شاہ جمال الاولیاء﷫ کے ایک برادرِ حقیقی جن کا نام حضرت مولانا شاہ مبارک﷫ تھا، اُن کے نبیرہ کی اولاد میں ایک بزرگ (ملا ابو سعید دانش مند)ہوئے ہیں۔یہ بہادر شاہ بن عالمگیر کے اُستادِ معظّم تھے اور دانش مند آپ کا شاہی خطاب ہے۔(شمامۃ العنبر، ص27)

آپ کا آبائی وطن:

آپ کاوطن کوڑہ جہاں آباد ہے جو آپ ہی کے خاندانی بزرگوں کا آباد کیا ہوا ہے۔آپ کے آبا و اَجداد سلطان شمس الدین التمش کے زمانے میں عرب اور روم ہندوستان بغرضِ جہاد تشریف لائے تھے مہم بنگال میں سلطان التمش کے ساتھ شریک ہوئے اور واپسی پر مقامِ سلطان پور میں اقامت اختیار فرمائی۔ ایک مرتبہ حضرت شاہ ہیبت اللہ﷫ جونپور سےدہلی بغرضِ زیاراتِ مقدّسہ جارہےتھے۔ راستے میں ایک ہندو کی عمل داری تھی،اس نےآپ کےقافلےپر حملہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کوفتح عطا فرمائی وہ ہندو حاکم مارا گیا۔آپ نے اس مقام کانام’’فتح پور‘‘ رکھا۔ آپ نے فرمایا کہ دو تین دن قیام کر کے دہلی کا سفر کیا جائے گا۔

اُسی شب خواب میں حضور سرورِ کائنات ﷺ کی زیارت سے آپ مشرف ہوئے اور حضورﷺنے آپ سے ارشاد فرمایا:

’’تم کہیں نہ جاؤ! بلکہ اِسی جنگل کو صاف کر کے یہیں قیام کرو، صدیوں تک تمہاری اولاد و احفاد سے لوگو ں کو دینِ اسلام کی روشنی ملے گی اور بڑے بڑے اولیائے کاملین تمہاری اولاد و احفاد میں گزریں گے۔‘‘(شمامۃ العنبر، ص29)

نبی کریم ﷺ کی مذکورۂ بالا بشارت ہی کی برکت ہے کہ وہ ویران جنگل اب کوڑہ جہان آباد شریف بن گیا۔ شہنشاہ اورنگ زیب﷫ اپنے بھائی شجاعت سے مقابلے کے لیے جاتے ہوئے جب کوڑہ کے قریب پہنچے تو ادباً سواری سےا تر پڑے اور پاپیادہ ہوگئے۔ اس قصبے کے چھ سو علما ایک ولی صفت بادشاہ کے استقبال کےلئےگئے۔ حضرت اورنگ زیب ﷫ کو جب معلوم ہوا کہ یہ سبھی علما ایک ہی خاندان کےا فرا د ہیں۔اور سبھی حضرت مخدوم سالار بدھ قُدِّسَ سِرُّہٗ کی اولاد میں سے ہیں، تو نہایت متعجب ہوا اور اپنے دادا استاد ملا لطف اللہ قُدِّسَ سِرُّہٗ (اُستاد حضرت ملا جیون)کے یہاں پانچ روز مہمان رہے ۔اور ان سے دعائیں لےکر مقابلے کےلئے گئے،اور فتح یاب ہوئے۔چنانچہ واپسی پر اورنگ زیب نے دو ہفتے قیام فرمایا ۔ قصبہ کوڑہ اس زمانے میں’’دار الفضلاء‘‘کے نام سےمشہور تھا حضرت اورنگ زیب نے اس کا نام ’’دار الاولیاء‘‘ رکھ دیا۔(شمامۃ العنبر، ص30)

ولادت:

آپ کی ولادت باسعادت 973ھ مطابق 1566ءمیں بمقام کو ڑہ جہان آباد ضلع فتح پور یوپی (انڈیا)میں ہوئی۔

پیدائش سےقبل بشارت:

آپ کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت فقیر خدا بخش ﷫ جن کی عمر شریف ایک سو بیس برس کی تھی، انہوں نے بشارت دی کہ حضرت مخدوم جہانیاں کے گھرمیں جمال آئے گا ،یہاں تک جب آپ کی ولادتِ مبارکہ ہوئی تو آپ کا مبارک نام شیخ جمال رکھا گیا۔

تحصیل علم اور بیعت و خلافت:

آپ اپنے والدِ ماجد حضرت مخدوم جہانیاں
1
قُدِّسَ سِرُّہٗکی تربیت و آغوش میں پروان چڑھے پھر آپ کے پدرِ بزرگوار نے آپ کی تعلیم وتربیت کی تکمیل کے لیے حضرت قاضی ضیاء الدین عرف قاضی جیاء رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں بھیجا جہاں پانچ سال تک تحصیل علوم ظاہری و باطنی فرمایا۔اسی طرح حضرت شیخ قیام الدین جونپوری سےبھی علمی اِستفادہ کیا۔

بیعت وخلافت:

سب سےپہلے اپنے والدِگرامی کےدستِ حق پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے،پھر آپ کےوالدِگرامی نے قاضی ضیاء الدین﷫کی خدمت میں کسبِ فیض کےلیے بھیجا،جنھوں نےاوراد و اشغال کےبعد سلسلۂ عالیہ قادریہ میں خلافت عطا فرمائی۔

سیرت وخصائص:

سندالعلما، رئیس الاتقیا، سیّد الاولیاء حضرت سیّد شیخ جمال الاولیاء﷫ اپنےوقت کےجیّد عالمِ دین اور عارف باللہ صوفی تھے۔آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے انتیسویں امام و شیخِ طریقت ہیں۔ آپ کے فضائل و مناقب بےشمار ہیں۔ آپ مادر زاد ولی، اور نسبتِ عالی رکھتے تھے۔جب آپ سات سال کے ہوئے تو فقراء کی خدمت کرنے لگے،اور جب آپ 22سال کے ہوئے تو با شارۂ سراج الامّہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ﷜ تحصیلِ علومِ دینیہ میں مشغول ہوئے اور بیس 20سال تک علومِ دینیہ کی تحصیل میں مشغول رہے۔آپ نے بلا واسطہ اَرواحِ مبارکہ سیّدنا محی الدین عبد القادر جیلانی﷜، خواجہ بہاءالدین نقشبند﷜ اور حضرت شاہ بدیع الدین قطب مدار﷫سے فیضِ اویسیہ حاصل فرمایا اور بزرگانِ عصر سے فیض و خرقۂ خلافت چاروں سلاسل میں اخذ فرمایا۔

راہ سلوک کی منزلیں طے کرنے کے بعد آپ اپنےوطن تشریف لائے اور وہاں مستقل قیام فرما کر درس و تدریس و افادۂ علومِ ظاہر و باطنی میں مشغول ہوئے اور آپ کی خدمت میں رہ کر حضرت سیّد محمد بن ابو سعید کالپوی قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْزنے مطول سے بیضاوی تک پڑھا اور بھی کثیر علما و مشائخ نے آپ سے اکتساب ِفیض کیا۔فاضل اجل،عالم اکمل حضرت علامہ مولانا عبدالرشید جونپوری﷫(مصنّفِ مناظرۂ رشیدیہ)آپ کےمرید وخلیفہ ہیں۔(تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ، ص312)

اعلیٰ حضرت اور حضور جمال الاولیاء:

اعلیٰ حضرت﷫حدائقِ بخشش میں فرماتےہیں:

التجا اےزندۂ جاوید اے قاضی جیا
اے جمالِ اولیاؔء یوسف لقا امداد کن



نیز، حدائقِ بخشش ہی میں شامل شجرہ شریف سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں اس طرح آپ کاذکر ہے:

خانۂ دل کو ضیا دے روئے ایماں کو جمال
شہِ ضیاء مولیٰ جمال الاولیاء کے واسطے



وصالِ پُر ملال:

آپ کاوصال شبِ عید الفطر1040ھ،مطابق مئی1631ء کوہوا۔

مزارِ پُر اَنوار:

آپ کامزارِ مبارک قصبہ کوڑہ جہان آباد ضلع فتح پور(ہند)میں ہے۔

عرسِ مبارک:

آپ کا عرسِ مبارک یکم شوّال المکرم کو ہوتا ہے۔

مآخذ ومراجع:

تذکرہ مشائخِ قادیہ رضویہ۔

شمامۃ العنبر۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-sheikh-jamal-ul-auliya
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا سید قمر الہدیٰ مونگیری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا سید قمر الہدی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ۔لقب: استاذالعلماء۔والد کااسم گرامی:تاج العرفاءحضرت سید تاج الدین شاکر ﷫۔خاندان ِساداتِ کرام سے تعلق تھا۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت ماہ ربیع الاآخر/1306ھ میں بمقام’’پنڈ‘‘ضلع گیا (انڈیا)میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد ماجد حضرت تاج العرفاء سید تاج الدین شاکر سے حاصل کی۔آٹھ برس کی چھوٹی سی عمر میں حصول علم کے لیے پٹنہ پہنچے،علوم کی تکمیل دہلی میں ہوئی۔ فراغت کے وقت آپ کی عمر بیس کی تھی۔

بیعت وخلافت: اپنے والد ِگرامی تاج العارفین حضرت سید تاج الدین شاکر ﷫ سےبیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف کیے گئے۔

سیرت و خصائص:
امام العلماء والعرفاء، عارف با اللہ، واصل بااللہ، صاحبِ صدق و صفا، حضرت علامہ مولانا سید قمر الہدیٰ مونگیری ۔آپ علیہ الرحمہ ایک جید عالم دین تھے ۔ تقویٰ و عبادت میں اپنی مثال آپ تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کا خاص خیال تھا۔لوگوں کو اتباع ِشریعت کی تلقین کرتےتھے۔اللہ جل شانہ نےآپ کی زبان میں قدرت نے خاص اثر وویعت کیا تھا، بکثرت افراد آپ سے بیعت کا تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کے فرزند ارجمند مولانا سید شاہ احسن الہدیٰ صاحب جید عالم و فاضل،اورحضرت ملک العلماء مولانا محمد ظفر الدین قادری رضوی علیہ الرحمہ کے شاگرد رشید تھے ۔ مولانا احسن الہدیٰ صاحب اپنے والد ماجد قدس سرہٗ کے قدم بقدم رشد وہدایت میں مصروف رہے۔

تاریخِ وصال:
29 رمضان المبارک 1385ھ، مطابق ماہ فروری 1966ء میں آپ کا وصال ہوا ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الہندحضرت شیخ سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: شیخ سلیم چشتی۔لقب: عرب میں آپ کو "شیخ الہند"کےلقب سےپکاراجاتاہے۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: شیخ سلیم الدین بن بہاءالدین بن شیخ سلطان بن شیخ آدم بن شیخ موسیٰ بن شیخ مودودبن شیخ بدرالدین بن شیخ فریدالدین مسعودگنج شکررحمۃ اللہ عنہم اجمعین۔ آپ حضرت بابافریدالدین گنج شکرر﷫کی اولادسےہیں۔آپ کی والدہ کانام بی بی احد ہے۔آپ کےآباؤاجداداجودھن سےہجرت کرکےلدھیانہ آئے،کچھ عرصہ لدھیانہ میں رہے،پھر دہلی میں سکونت اختیارکی،آپ کےوالدین دہلی سےترک سکونت کرکےفتح پورسیکری میں رہنےلگے۔

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت 897ھ،مطابق1492ء کو دہلی کےاس وقت کے محلہسرائےعلاءالدین زندہ پیرمیں ہوئی۔(اخبار الاخیار:656/سفینۃ الاولیاء:241/چشتی خانقاہیں اور سربراہان برصغیر:133)

بچپن کی کرامت:آپ نےپیداہوتےہی سجدہ کیا۔آپ کی پیشانی میں دھان کاایک دانہ چبھ گیا۔اس کانشان پیشانی پرتمام عمررہا۔ایک بار اس واقعہ کاذکرکرتےہوئےآپ نےفرمایاکہ دھان کےدانےچبھنے سے کافی تکلیف ہوتی تھی۔اس کو نکالناچاہا،لیکن اس خیال سے نہیں نکالاکہ لوگوں میں اس بات کا چرچاہوگا۔

تحصیلِ علم:ابھی آپ کم سن ہی تھےکہ والدین کاسایہ سرسےاٹھ گیا۔آپ کی تعلیم وتربیت آپ کے بڑےبھائی کےزیرِ سایہ ہوئی۔آپ کےبڑےبھائی شیخ موسیٰ ﷫نےآپ کی تربیت پرخصوصی توجہ دی۔سنِ بلوغ پرپہنچ کرآپ نے تحصیلِ علم کےلئےسفرکاارادہ کیا،اپنےبڑے بھائی سےاجازت مانگی،آپ کےبڑےبھائی نے آپ کواجازت نہیں دی اورکہاکہ میری اولاد نہیں ہے،اور میں نے تمہیں اولاد کی طرح پالا ہے،لہذا تمھاری جدائی برداشت نہیں ہوگی۔یہ سن کرآپ نےاپنےبڑے بھائی سےکہاکہ ناامیدنہ ہوناچاہیے،آپ کےہاں انشاء اللہ لڑکاپیداہوگااور تمھارا گھرروشن ہوگا،چنانچہ ایساہی ہوا،نومہینےکےبعدشیخ موسیٰ کےہاں لڑکاپیداہوا۔

پھرآپ نے برادر اکبر کی اجازت ورضامندی سے مزید تحصیل علم کےلئےفتح پورسیکری سےسرہندتشریف لائےاورملک العلماء شیخ مجدالدین ﷫سےعلوم ظاہری کی تکمیل کی، جس زمانےمیں آپ کاقیام سرہندمیں تھا،آپ کبھی کبھی قصبہ بدالی جاتےاورحضرت شیخ زین العابدین چشتی کےمزارسےفیوض و برکات حاصل کرتے۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:209)۔آپ﷫ کوتمام علوم کےجامع تھے۔

بیعت و خلافت:سیروسیاحت کےدوران آپ بہت سےبزرگوں اوردرویشوں سےملےاوران سے فیوض و برکات حاصل کئے،حضرت شیخ ابراہیم چشتی کےدست حق پرست پرآپ بیعت ہوئےاوران سے خرقہ خلافت پایا۔

سیرت وخصائص: سید الاولیاء،سندا لاتقیاء،رئیس الصوفیاء،جامع الکمالات،عارف بااللہ،واصل باللہ،متصرف الامور،نادرالوجود،صاحب الیقین حضرت خواجہ شیخ سلیم چشتی رحمۃا للہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ کمالات علمیہ وروحانیہ میں اپنی مثال آپ تھے۔حضرت شیخ الاسلام فریدالدین مسعود گنج شکر ﷫ سے خاندانی تعلق تھا۔آپ حضرت گنج شکر کے روحانی کمالات کے پرتوِجمیل تھے۔آپ کےتصرفات وکرامات کاشہرہ چہار دانگ عالم میں تھا۔آپ کوہ سیکری کےبیابان جنگلات وغاروں میں اقامت گزیں ہوتے،لیکن اس کےباوجود مخلوق خداکا ایک جم غفیر آپ کی خدمت میں حاضر رہتا۔آپ نےاس جنگل کواپنی عبادت ریاضت کی برکت سےمخلوق خدا کی دلوں کی تسکین بنادیا تھا۔جہاں بھی آپ تشریف لےجاتےآپ کی ذات مرجعِ خلائق بن جاتی،جب آپ حرمین طیبین تشریف لےگئےتوعرب شریف میں’’شیخ الہند‘‘ کےلقب سےملقب ہوئے۔تمام عمر صوم وصال رکھتے،بےانتہا عبادت وریاضت گزارتھے۔آپ کی مشقتیں دیکھ کر حضرت بابافرید گنج شکر﷫ کے مجاہدات شاقہ کی یاد تازہ ہوجاتی۔ابتدائی ایام جوانی میں مجاہدین جیسا لباس زیبتن فرماتے۔(اخبار الاخیار:656)

آپ صاحب علم وفضل،جامع شریعت و طریقت بزرگ تھے،زہدوتقویٰ،ریاضت،مجاہدات،ترک وتجرید،تحمل،بردباری میں یگانہ عصرتھے،جب تک آپ بہت کمزوروضعیف نہ ہوگئے،آپ نےطے کے روزے نہیں چھوڑے،آپ کوپراناسرکہ اورٹھنڈی ترکاریاں بہت مرغوب تھیں،ٹھنڈے پانی سےروزانہ غسل فرماتےتھے،کیسی ہی سردی ہو،آپ کےلباس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تھی، جاڑےکےموسم میں بھی باریک کرتازیب تن فرماتےتھے،نمازاول وقت پڑھتےتھے۔آپ کی نشست گاہ بالکل امیروں اور حاکموں کی طرح تھی۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو ان باتوں سےجوخلاف شریعت ہیںطاقت سے روکتےتھے،جب آپ محفل میں رونق افروز ہوتےتوہرشخص پر نگاہ رکھتے،کسی کوڈانٹتے،کسی کو نصیحت فرماتےاورکسی کو تعلیم وتلقین فرماتے۔(اخبارا لاخیار:657/تذکرہ اولیائے پاک وہند:210)

تعلیم سے فراغت کےبعد1525ء کوحج کےلئے تشریف لےگئے۔مکہ معظمہ ومدینہ کےعلاوہ بلاد اسلامیہ کی سیاحت فرماتے ہوئے،ہندوستان فتح پور سیکری تشریف لائے۔یہاں خانقاہ تعمیر کرائی،کنوئیں کھدوائے،اور تلقین وارشاد میں مصروف ہوگئے۔حضرت سلیم چشتی﷫ نے24 حج کیے تھے۔جب آخری مرتبہ حج کےلیے تشریف لےگئے توچار سال مکہ میں اور چار سال مدینہ منورہ میں گزارے۔حج کےایام مکے میں اور میلاد کےایام مدینے میں گزارتے تھے۔(چشتی خانقاہیں اور سربراہان برصغیر:134)

سلاطین
1
سے تعلقات:علاوہ امراء کےسلاطین بھی آپ کےمعتقدتھے۔خواص خاں جوامرائےکبارمیں تھا،آپ سے بہت عقیدت رکھتاتھا،کئی بادشاہ آپ کےمعتقد تھے۔شیرشاہ، سلیم شاہ(جہانگیر) اوراکبرآپ سےارادت وعقیدت رکھتےتھےاوربہت خلوص،محبت اورعزت اورتعظیم و تکریم سےآپ سے پیش آتےتھے۔

جہانگیر بادشاہ کی پیدائش آپ کی دعا کی بدولت ہوئی:شہنشاہ اکبرکا کوئی لڑکانہ تھا،آپ سے دعاکاطالب ہوا،آپ نےمراقبہ کیااورشہنشاہ اکبرسے کہا:’’افسوسکہ تیری تقدیرمیں بیٹانہیں ہے‘‘۔شہنشاہ اکبرنےیہ سن کرآپ سےعرض کیا۔چونکہ میری تقدیرمیں بیٹانہیں ہے،اسی لئےتوآپ سےعرض کیاہے،آپ دعاکیجئے۔(یعنی اگر تقدیر میں ہوتا تو ویسے ہی مل جاتا،آپ کی بارگاہ میں آنے کا کیافائدہ؟)۔آپ شہنشاہ اکبرکےاس جواب سےخوش ہوئے،تھوڑی دیرمراقبہ کیااورپھرفرمایا۔"اس ملک میں راجپوتوں کی حکومت بہت عرصہ تک رہےگی۔اچھاکلاپنی بیگم کومیری بیوی کے پاس بھیج دینا"۔دوسرےدن جب بادشاہ کی بیگم آپ کےیہاں آئی توآپ نے اپنی اہلیہ محترمہ کورانی کی پشت سے پشت ملاکربیٹھنےکاحکم دیا،جب آپ کی اہلیہ محترمہ رانی کی پشت سے پشت ملاکربیٹھیں توآپ نےاپنی چادر دونوں پرڈال دی،پھراپنی اہلیہ محترمہ سےفرمایاکہ اپناہونےوالافرزندرانی کودےدو۔جب بادشاہ بیگم کےلڑکاپیداہواتواس لڑکےکانام آپ نےاپنےنام پر"سلیم"رکھا،شہزادہ سلیم آپ کو "شیخوبابا"کہاکرتاتھا،شہزادہ سلیم اپنےوالدشہنشاہ اکبرکےانتقال کےبعدتخت وتاج کامالک ہوااور "جہاں گیر"کےلقب سےمشہورہوا۔اکبر نےشہر فتح پور آپ کی عقیدت میں تعمیر کرایا تھا۔اس وقت اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی تھی۔اِس وقت بھی اس کی اکثر تعمیرات اپنی خوبصورتی ،اور فن تعمیر کا شاہکار ہنے کی وجہ سے عالمی ورثہ قرار دی جاچکی ہیں۔

ایک مرتبہ کاواقعہ ہےکہ آپ حجرے سےنمازکےلئےمسجدجارہےتھے، ایک فقیرکودیکھاکہ سورہاتھا،آپ نےاس کوجگایااوراس سےفرمایا۔"فقیروں کوکسی سےلڑنانہیں چاہیے"۔وہ فقیریہ سن کر شرمندہ ہوااوراقرارکیاکہ واقعی وہ خواب میں لڑرہاتھا۔آپ نےفتح پورسیکری کےلوگوں سےشاہی عمارت تعمیرہونےسےپندرہ سال قبل فرمایاتھاکہ لوگوں کوچاہیےکہ مکانات کشادہ بنالیں،ورنہ پھرجگہ نہیں ملےگی۔

تاریخِ وصال:آپ کاوصال 29/رمضان المبارک 979ھ مطابق ماہ فروری 1572ء کوہوا۔آپ کا عالی شان مزارفتح پورسیکری میں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ اخبار الاخیار ۔
چشتی خانقاہیں اور سربراہان بر صغیر ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hind-saleem-bin-bahauddin
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1