🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-09-1444 ᴴ | 19-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-09-1444 ᴴ | 19-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی ۔ لقب: مفتی زمن، ریاض العلماء ۔ تخلص: نیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی بن مولانا مفتی سید عنایت علی شاہ بن مولانا مفتی سید صدر الدین جیلانی بن سید ذو الفقار علی شاہ جیلانی بن سید مداح حسن جیلانی بن سید شاہ میر احسن جیلانی بن سید مرتضیٰ حسن جیلانی بن سید کمال الدین جیلانی بن سید شاہ خلیل اللہ ناگوری جیلانی بن سید حامد بخش گیلانی بن سید عبد الرزاق جیلانی اوچی ۔ الیٰ اخرہ، علیہم الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب 21 واسطوں سےسیدنا غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه اور 34 واسطوں سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتاہے ۔ (مقدمہ ریاض الفتاویٰ ص:41)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت شوال المکرم 1340ھ، مطابق 1922ء کو جودھپور (انڈیا) میں ہوئی ۔ (ریاض الفتاویٰ، اور انوار علمائے اہل سنت سندھ میں 1340ھ / مطابق 1914ء تحریر ہے ۔1340ھ کو 1922ء تھا ، نہ کہ 1914ء ۔ تونسویؔ غفرلہ)
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے نانا جان مفتی سید راحت علی جیلانی اور ماموں حکیم سید اصغر علی اصغر جیلانی سے حاصل کی ۔ آپ کی تربیت میں آپ کی خالہ المعروف آپا جی (جو کہ حضرت مولانا سید حسن علی شاہ جیلانی سجادہ نشین درگاہ ناگور شریف کی اہلیہ صاحبہ تھیں) کا بڑا دخل رہا ہے ۔ آپ نے اردو، فارسی کی تعلیم مولانا بیدل بدایونی سے حاصل کی ۔ علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی، مفتی اعجاز ولی خان رضوی، مفسر اعظم ہند، حضرت مولانا ابراہیم رضا خان بریلوی، مولانا محمد اسماعیل بلند شہری، علامہ عبد الرؤف بہاری، حضرت مولانا غلام یزدانی اعظمی (تلمیذ ارشد حضرت صدر الشریعہ مصنف بہار شریعت) شیخ الحدیث جامعہ منظر الاسلام بریلی شریف سے استفادہ کیا اور 1360ھ میں جامعہ رضویہ منظر الاسلام بریلی سے فارغ التحصیل ہوئے ـ
بیعت و خلافت:
علوم ظاہری سے فارغ ہونے کے بعد علوم باطنی کے حصول کیلئے حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان صاحب بریلوی قدس سرہ العزیز کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور حجۃ الاسلام نے آپ کو 1361ھ میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے علاوہ چاروں سلاسل میں خلافت عطا فرمائی ۔ اس کے علاوہ خاندانی فیوض و برکات سے بھی مستفید ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
ریاض العلماء، شیخ الاولیاء، سلطان الاصفیاء، عمدۃ الفضلاء، فقیہ الامہ، مفتیِ زمن، سجادہ نشین درگاہ جیلانی حضرت علامہ مفتی سید محمد ریاض الحسن جیلانی ۔
آپ علیہ الرحمہ منظر اسلام بریلی کے تربیت یافتہ و فیض یافتہ تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ منظر اسلام سے چمکا اس نے فیض رضا سے ایک جہاں کو چمکا دیا ـ دین کی ایسی خدمت فرمائی کہ ہرطرف ایمان کی بہاریں نظر آنے لگیں ۔ مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی کتب اور دیوان کے مطالعے سے آپ کی تبحر علمی، ثقاہت و فقاہت واضح ہو جاتی ہے ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے مفسر، محدث، فقیہ، مناظر، واعظ، مصنف، مفکر، شاعر، پیر طریقت، پیشوائے شریعت تھے ۔
پاکستان میں قیام:
1947ء کے انقلاب کے بعد اپنے ماموں حکیم سید اصغر علی جیلانی اور برادر نسبتی اختر الحامدی و دیگر عزیزوں کے ہمراہ پاکستان وارد ہوئے اور مختلف شہروں میں قیام پزیر رہے کچھ عرصہ کراچی قیام کے بعد فرسٹ مہاجر کیمپ امریکن کوارٹرز حیدر آباد سندھ کو جائے مسکن بنایا اور یہاں مرکزی جامع مسجد کی بنیاد رکھی اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مشغول ہو گئے ۔ کچھ عرصہ آپ نے جامشورو میکنیکل کالونی کی مسجد میں امامت فرمائی ۔ ایک سال سے زائد عرصہ سلطانی ہری مسجد حیدر آباد میں امامت فرمائی ۔ ایک سال کا عرصہ حاجی ملنگ مسجد نواب شاہ میں گزارا وہاں بعد فجر و عشاء آدھا آدھا گھنٹہ درس قرآن دیا کرتے تھے اور ایک سال تک صرف الحمد اللہ رب العالمین کی تفسیر کی، الرحمن تک آپ نہیں پہنچتے تھے ۔ یہ آپ کی علمی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
قیام مسجد:
ریلوے اسٹیشن حیدرآباد، ریلوے ریسٹ ہاؤس کے برابر محمدی جامع مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ۔ رحمان مسجد ریلوے مال گودام حیدر آباد کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اور امریکن کوارٹرز جامع مسجد کی بنیاد رکھی جہاں وصال تک خطابت و ومامت اور درس و تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔
عادات و خصائل:
آپ نہایت متاضع اور خلیق تھے ۔ مسکراہٹ اور مِلن ساری آپ کی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی ۔ دین کی تبلیغ و اشاعت کے لئے آپ کو کسی بھی وقت کوئی بھی لے کر جانا چاہتا تو آپ کشادہ دلی سے بطیب خاطر تیار ہو جائے اور اگر کسی شخص کو خلاف شرع کام کرتے دیکھتے تو اسے فوراً ٹوک دیتے تھے چاہے وہ ان کا بھائی ہی کیوں نہ ہو ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی ۔ لقب: مفتی زمن، ریاض العلماء ۔ تخلص: نیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی بن مولانا مفتی سید عنایت علی شاہ بن مولانا مفتی سید صدر الدین جیلانی بن سید ذو الفقار علی شاہ جیلانی بن سید مداح حسن جیلانی بن سید شاہ میر احسن جیلانی بن سید مرتضیٰ حسن جیلانی بن سید کمال الدین جیلانی بن سید شاہ خلیل اللہ ناگوری جیلانی بن سید حامد بخش گیلانی بن سید عبد الرزاق جیلانی اوچی ۔ الیٰ اخرہ، علیہم الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب 21 واسطوں سےسیدنا غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه اور 34 واسطوں سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتاہے ۔ (مقدمہ ریاض الفتاویٰ ص:41)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت شوال المکرم 1340ھ، مطابق 1922ء کو جودھپور (انڈیا) میں ہوئی ۔ (ریاض الفتاویٰ، اور انوار علمائے اہل سنت سندھ میں 1340ھ / مطابق 1914ء تحریر ہے ۔1340ھ کو 1922ء تھا ، نہ کہ 1914ء ۔ تونسویؔ غفرلہ)
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے نانا جان مفتی سید راحت علی جیلانی اور ماموں حکیم سید اصغر علی اصغر جیلانی سے حاصل کی ۔ آپ کی تربیت میں آپ کی خالہ المعروف آپا جی (جو کہ حضرت مولانا سید حسن علی شاہ جیلانی سجادہ نشین درگاہ ناگور شریف کی اہلیہ صاحبہ تھیں) کا بڑا دخل رہا ہے ۔ آپ نے اردو، فارسی کی تعلیم مولانا بیدل بدایونی سے حاصل کی ۔ علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی، مفتی اعجاز ولی خان رضوی، مفسر اعظم ہند، حضرت مولانا ابراہیم رضا خان بریلوی، مولانا محمد اسماعیل بلند شہری، علامہ عبد الرؤف بہاری، حضرت مولانا غلام یزدانی اعظمی (تلمیذ ارشد حضرت صدر الشریعہ مصنف بہار شریعت) شیخ الحدیث جامعہ منظر الاسلام بریلی شریف سے استفادہ کیا اور 1360ھ میں جامعہ رضویہ منظر الاسلام بریلی سے فارغ التحصیل ہوئے ـ
بیعت و خلافت:
علوم ظاہری سے فارغ ہونے کے بعد علوم باطنی کے حصول کیلئے حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان صاحب بریلوی قدس سرہ العزیز کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور حجۃ الاسلام نے آپ کو 1361ھ میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے علاوہ چاروں سلاسل میں خلافت عطا فرمائی ۔ اس کے علاوہ خاندانی فیوض و برکات سے بھی مستفید ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
ریاض العلماء، شیخ الاولیاء، سلطان الاصفیاء، عمدۃ الفضلاء، فقیہ الامہ، مفتیِ زمن، سجادہ نشین درگاہ جیلانی حضرت علامہ مفتی سید محمد ریاض الحسن جیلانی ۔
آپ علیہ الرحمہ منظر اسلام بریلی کے تربیت یافتہ و فیض یافتہ تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ منظر اسلام سے چمکا اس نے فیض رضا سے ایک جہاں کو چمکا دیا ـ دین کی ایسی خدمت فرمائی کہ ہرطرف ایمان کی بہاریں نظر آنے لگیں ۔ مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی کتب اور دیوان کے مطالعے سے آپ کی تبحر علمی، ثقاہت و فقاہت واضح ہو جاتی ہے ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے مفسر، محدث، فقیہ، مناظر، واعظ، مصنف، مفکر، شاعر، پیر طریقت، پیشوائے شریعت تھے ۔
پاکستان میں قیام:
1947ء کے انقلاب کے بعد اپنے ماموں حکیم سید اصغر علی جیلانی اور برادر نسبتی اختر الحامدی و دیگر عزیزوں کے ہمراہ پاکستان وارد ہوئے اور مختلف شہروں میں قیام پزیر رہے کچھ عرصہ کراچی قیام کے بعد فرسٹ مہاجر کیمپ امریکن کوارٹرز حیدر آباد سندھ کو جائے مسکن بنایا اور یہاں مرکزی جامع مسجد کی بنیاد رکھی اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مشغول ہو گئے ۔ کچھ عرصہ آپ نے جامشورو میکنیکل کالونی کی مسجد میں امامت فرمائی ۔ ایک سال سے زائد عرصہ سلطانی ہری مسجد حیدر آباد میں امامت فرمائی ۔ ایک سال کا عرصہ حاجی ملنگ مسجد نواب شاہ میں گزارا وہاں بعد فجر و عشاء آدھا آدھا گھنٹہ درس قرآن دیا کرتے تھے اور ایک سال تک صرف الحمد اللہ رب العالمین کی تفسیر کی، الرحمن تک آپ نہیں پہنچتے تھے ۔ یہ آپ کی علمی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
قیام مسجد:
ریلوے اسٹیشن حیدرآباد، ریلوے ریسٹ ہاؤس کے برابر محمدی جامع مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ۔ رحمان مسجد ریلوے مال گودام حیدر آباد کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اور امریکن کوارٹرز جامع مسجد کی بنیاد رکھی جہاں وصال تک خطابت و ومامت اور درس و تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔
عادات و خصائل:
آپ نہایت متاضع اور خلیق تھے ۔ مسکراہٹ اور مِلن ساری آپ کی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی ۔ دین کی تبلیغ و اشاعت کے لئے آپ کو کسی بھی وقت کوئی بھی لے کر جانا چاہتا تو آپ کشادہ دلی سے بطیب خاطر تیار ہو جائے اور اگر کسی شخص کو خلاف شرع کام کرتے دیکھتے تو اسے فوراً ٹوک دیتے تھے چاہے وہ ان کا بھائی ہی کیوں نہ ہو ۔
❤1
تاریخِ وصال:
مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی 28 رمضان المبارک 1388ھ بمطابق 19 دسمبر 1968ء بروز جمعرات شب گیارہ بجے ذکر و اذکار کرتے ہوئے بحالت سجدہ وصال فرما گئے ۔ مفتی صاحب نے زندگی میں دعا فرمائی تھی جو کہ اللہ تعالیٰ نے پوری فرما دی ۔ حضرت قاضی عبد الغفور صاحب کے مزار کے احاطہ میں تدفین ہوئی ۔
؏: رہوں دنیا میں جب ہر طرح امن و اماں پاؤں
بسوئے آخرت پڑھتا ہوا کلمہ چلا جاؤں
محمد کے غلاموں کا کفن مَیلا نہیں ہوتا:
گیارہ سال بعد 29 مارچ 1979ء کو آپ کی قبر مبارک شق ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ کا کفن و لاش صحیح سلامت ہے اور آپ قبر میں بدستور آرام فرما ہیں، زیارت کا سلسلہ تقریباً ایک ہفتہ جاری رہا ۔ اس کے بعد دوبارہ سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں تدفین عمل میں آئی ۔
ماخذ و مراجع:
ریاض الفتاویٰ ۔ انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-riyaz-ul-hasan-jilani
مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی 28 رمضان المبارک 1388ھ بمطابق 19 دسمبر 1968ء بروز جمعرات شب گیارہ بجے ذکر و اذکار کرتے ہوئے بحالت سجدہ وصال فرما گئے ۔ مفتی صاحب نے زندگی میں دعا فرمائی تھی جو کہ اللہ تعالیٰ نے پوری فرما دی ۔ حضرت قاضی عبد الغفور صاحب کے مزار کے احاطہ میں تدفین ہوئی ۔
؏: رہوں دنیا میں جب ہر طرح امن و اماں پاؤں
بسوئے آخرت پڑھتا ہوا کلمہ چلا جاؤں
محمد کے غلاموں کا کفن مَیلا نہیں ہوتا:
گیارہ سال بعد 29 مارچ 1979ء کو آپ کی قبر مبارک شق ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ کا کفن و لاش صحیح سلامت ہے اور آپ قبر میں بدستور آرام فرما ہیں، زیارت کا سلسلہ تقریباً ایک ہفتہ جاری رہا ۔ اس کے بعد دوبارہ سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں تدفین عمل میں آئی ۔
ماخذ و مراجع:
ریاض الفتاویٰ ۔ انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-riyaz-ul-hasan-jilani
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Syed Riaz ul Hasan Jilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
آل احمد اچھے میاں ، حضرت ابو الفضل سید شاہ شمس الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: سید آل احمد ۔ کنیت: ابوالفضل ۔ لقب: اچھے میاں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید آل احمد اچھے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمدبن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید عبد الجلیل بن سید میر عبد الواحد بن سید ابراہیم بن سید قطب الدین بن سید ماہر بن سید شاہ بڈہ بن سید کمال بن سید قاسم بن سید حسن بن سید نصیر بن سید حسین بن سید عمر بن محمد صغریٰ بن سید علی بن سید حسین بن سید ابو الفرح واسطی بن سید داؤد بن سید حسین بن سید یحیٰ بن سید زید سوم بن سید عمر بن سید زید دوم بن سید علی عراقی بن سید حسین بن سید علی بن سید محمد بن سید عیسیٰ بن سید زید شہید بن امام زین العابدین بن سید الشہداء حضرت امام حسین ۔ (رضی اللہ عنہم) ۔ (تاریخ خاندان برکات ص: 7)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 28 رمضان المبارک 1160ھ مطابق اکتوبر 1747ء کو مارہرہ مطہرہ (انڈیا) میں ہوئی ۔
قبل از ولادت بشارت:
حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ نے یہ بشارت دی تھی کہ مجھے بفضل الٰہی چار واسطوں کے بعد ایک لڑکا عنایت ہوگا جس سے رونقِ خاندان دو بالا ہوگی بعدہٗ حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ نے اپنا ایک خرقہ عنایت فرمایا اور حکم دیا کہ یہ اس صاحبزادے کےلیے ہے۔ حضرت سیدنا شاہ آل محمد (حضور صاحب البرکات کے بڑے شہزادے) نے حضور اچھے میاں قدس سرہ کو تسمیہ خوانی کے وقت گود میں بٹھا کر ارشاد فرمایا کہ یہ وہی شہزادے ہیں جن کی بشارت والد ماجد نے دی تھی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:358)
تحصیلِ علم:
آپ نے علومِ ظاہری و باطنی و منازل سلوک کی تکمیل اپنے والد ماجد سے فرمائی، اور آپ کے روحانی معلم حضور سیدنا غوث اعظم محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی تھے ۔ اس کے علاوہ آپ نے فنِ طب با قاعدہ کلیم نصر اللہ صاحب مارہروی سے حاصل فرمایا تھا ۔ مگر اس علم سے سوائے سِتر تصرُّفات کام نہ لیا جاتا تھا، بظاہر ہر مریض کو معمولی دوایا کسی درخت کے پتے تجویز فرماتے، مگر حقیقتاً خود چارہ سازی فرماتے ۔ (ایضا:358)
آپ علوم ظاہری و باطنی علوم کے بہترین عالم تھے ۔ اکثر علماء و فضلاء آپ کے خدام تھے ۔ علماء کے دقیق و مشکل مسائل ایسی خوبی سے حل فرما دیتے کہ عقلیں حیران رہ جاتیں ۔ ایک بار حضرت کے آخری عہد میں حضرت مولانا شاہ عبد المجید عین الحق بدایونی جو آپ کے اجلہ خلفاء میں سے ہیں ۔ عرض کیا کہ مسئلۂ قرطاس میں ہر چند علماء نے جواب دِئیے ہیں لیکن حضور میری تسکینِ خاطر فرما دیں؟حضرت نے دوات قلم کا حکم فرمایا معاً حضرت شاہ عین الحق پر مسائل کی تحقیق وارد ہوئی اور فرمایا کہ فقیر پر ہدایات شافی مل چکے ہیں ۔۔
ایک شخص نے حضرت نقیب الاشراف بغداد کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہو کر مسئلۂ وحدۃ الوجود سمجھنا چاہا ۔ حضرت نے ہندوستان کے سفر کی ہدایت فرمائی ۔ وہ صاحب علماء و مشائخ سے ملتے ہوئے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں پہنچے، مدعا عرض کیا، مگر تشفّی نہ ہوئی، حضرت محدث دہلوی نے فرمایا ۔ آپ مارہرہ شریف حضرت اچھے میاں کی خدمت میں جایئے، وہ آپ کی تسکینِ خاطر فرما دیں گے ۔ حضرت کے فضائل و مناقب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے ’’ ملفوظاتِ عزیزی ‘‘ میں بلند کلمات کے ساتھ موجود ہیں ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ص:17)
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں والدِ گرامی حضرت شاہ حمزہ مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
قدوۃ الکاملین، قطب العارفین، عاشق خدا، محبوبِ سرکارِ مصطفیٰ، مظہرِ غوث الوریٰ، فخر الاولیاء، شمس الدین ابو الفضل حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رحمۃ الله تعالیٰ علیہ ۔
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چھتیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔ آپ بڑے باکمال و عارف باللہ تھے، کرامات و تصرفات میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔علوم ظاہر و باطن میں بحرِ بے کنار تھے ۔آپ نے سخت ترین ریاضتیں کیں اور مجاہدات و سلوک میں ایک خاص شان کے حامل تھے ۔ غلاموں کی حفاظت و کفالت خود فرماتے اور اخلاقِ نبوی ﷺ کے پیکر تھے ۔
حضرت عبادت و ریاضت میں بہت بلند رتبہ کے حامل تھے ۔ آپ ہمیشہ اکتساب اذکار و مراقبات و اشغال میں مصروف رہتے یہاں تک کہ فرائضِ پنچ وقتہ کے علاوہ حَبس کبیر، صلوۃِ معکوس و صوم و نوافل اور مجاہدات قویہ و ریاضات باطنیہ کا التزام رکھتے تھے ۔ اور طاعات پر طاعات بجا لاتے تھے ۔
نام ونسب:
اسم گرامی: سید آل احمد ۔ کنیت: ابوالفضل ۔ لقب: اچھے میاں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید آل احمد اچھے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمدبن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید عبد الجلیل بن سید میر عبد الواحد بن سید ابراہیم بن سید قطب الدین بن سید ماہر بن سید شاہ بڈہ بن سید کمال بن سید قاسم بن سید حسن بن سید نصیر بن سید حسین بن سید عمر بن محمد صغریٰ بن سید علی بن سید حسین بن سید ابو الفرح واسطی بن سید داؤد بن سید حسین بن سید یحیٰ بن سید زید سوم بن سید عمر بن سید زید دوم بن سید علی عراقی بن سید حسین بن سید علی بن سید محمد بن سید عیسیٰ بن سید زید شہید بن امام زین العابدین بن سید الشہداء حضرت امام حسین ۔ (رضی اللہ عنہم) ۔ (تاریخ خاندان برکات ص: 7)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 28 رمضان المبارک 1160ھ مطابق اکتوبر 1747ء کو مارہرہ مطہرہ (انڈیا) میں ہوئی ۔
قبل از ولادت بشارت:
حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ نے یہ بشارت دی تھی کہ مجھے بفضل الٰہی چار واسطوں کے بعد ایک لڑکا عنایت ہوگا جس سے رونقِ خاندان دو بالا ہوگی بعدہٗ حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ نے اپنا ایک خرقہ عنایت فرمایا اور حکم دیا کہ یہ اس صاحبزادے کےلیے ہے۔ حضرت سیدنا شاہ آل محمد (حضور صاحب البرکات کے بڑے شہزادے) نے حضور اچھے میاں قدس سرہ کو تسمیہ خوانی کے وقت گود میں بٹھا کر ارشاد فرمایا کہ یہ وہی شہزادے ہیں جن کی بشارت والد ماجد نے دی تھی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:358)
آپ نے علومِ ظاہری و باطنی و منازل سلوک کی تکمیل اپنے والد ماجد سے فرمائی، اور آپ کے روحانی معلم حضور سیدنا غوث اعظم محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی تھے ۔ اس کے علاوہ آپ نے فنِ طب با قاعدہ کلیم نصر اللہ صاحب مارہروی سے حاصل فرمایا تھا ۔ مگر اس علم سے سوائے سِتر تصرُّفات کام نہ لیا جاتا تھا، بظاہر ہر مریض کو معمولی دوایا کسی درخت کے پتے تجویز فرماتے، مگر حقیقتاً خود چارہ سازی فرماتے ۔ (ایضا:358)
آپ علوم ظاہری و باطنی علوم کے بہترین عالم تھے ۔ اکثر علماء و فضلاء آپ کے خدام تھے ۔ علماء کے دقیق و مشکل مسائل ایسی خوبی سے حل فرما دیتے کہ عقلیں حیران رہ جاتیں ۔ ایک بار حضرت کے آخری عہد میں حضرت مولانا شاہ عبد المجید عین الحق بدایونی جو آپ کے اجلہ خلفاء میں سے ہیں ۔ عرض کیا کہ مسئلۂ قرطاس میں ہر چند علماء نے جواب دِئیے ہیں لیکن حضور میری تسکینِ خاطر فرما دیں؟حضرت نے دوات قلم کا حکم فرمایا معاً حضرت شاہ عین الحق پر مسائل کی تحقیق وارد ہوئی اور فرمایا کہ فقیر پر ہدایات شافی مل چکے ہیں ۔۔
ایک شخص نے حضرت نقیب الاشراف بغداد کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہو کر مسئلۂ وحدۃ الوجود سمجھنا چاہا ۔ حضرت نے ہندوستان کے سفر کی ہدایت فرمائی ۔ وہ صاحب علماء و مشائخ سے ملتے ہوئے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں پہنچے، مدعا عرض کیا، مگر تشفّی نہ ہوئی، حضرت محدث دہلوی نے فرمایا ۔ آپ مارہرہ شریف حضرت اچھے میاں کی خدمت میں جایئے، وہ آپ کی تسکینِ خاطر فرما دیں گے ۔ حضرت کے فضائل و مناقب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے ’’ ملفوظاتِ عزیزی ‘‘ میں بلند کلمات کے ساتھ موجود ہیں ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ص:17)
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں والدِ گرامی حضرت شاہ حمزہ مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
قدوۃ الکاملین، قطب العارفین، عاشق خدا، محبوبِ سرکارِ مصطفیٰ، مظہرِ غوث الوریٰ، فخر الاولیاء، شمس الدین ابو الفضل حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رحمۃ الله تعالیٰ علیہ ۔
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چھتیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔ آپ بڑے باکمال و عارف باللہ تھے، کرامات و تصرفات میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔علوم ظاہر و باطن میں بحرِ بے کنار تھے ۔آپ نے سخت ترین ریاضتیں کیں اور مجاہدات و سلوک میں ایک خاص شان کے حامل تھے ۔ غلاموں کی حفاظت و کفالت خود فرماتے اور اخلاقِ نبوی ﷺ کے پیکر تھے ۔
حضرت عبادت و ریاضت میں بہت بلند رتبہ کے حامل تھے ۔ آپ ہمیشہ اکتساب اذکار و مراقبات و اشغال میں مصروف رہتے یہاں تک کہ فرائضِ پنچ وقتہ کے علاوہ حَبس کبیر، صلوۃِ معکوس و صوم و نوافل اور مجاہدات قویہ و ریاضات باطنیہ کا التزام رکھتے تھے ۔ اور طاعات پر طاعات بجا لاتے تھے ۔
❤1
عادات و معمولات:
حضور قدوۃ السالکین سید شاہ آل احمد اچھے میاںرات کے آخری حصے میں میں اٹھ کر حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتے،پھر وضو فرما کر نماز تہجد ادا کرتے بعدہٗ دست مبارک اٹھا کر دین کی ترقی اور متوسلین کے لیے دعائے مغفرت فرماتے،جب دعا سے فارغ ہوجاتے تو فقراء گیارہ مرتبہ ذکر کلمۂ شریف بآواز بلندسے کرتے، اس وقت دروازہ بند ہوجاتا تھا، اور کسی غیر کو خلوت خاص میں باریابی کی مجال نہ ہوتی۔بعدہٗ محل سرا میں تشریف لے جاتے،تھوڑی دیر بعد خانقاہ میں رونق افروز ہوتے اور درویشوں کو طلب فرما کر سب کی قلبی کیفیات کے بارے میں استفسار فرماتے اور بقدر حوصلہ ہر ایک کی اصلاح فرماتے،پھر درگاہ شریف جاکر پہلے اپنے والد ماجد کے مزار پر فاتحہ و قدم بوسی کےلیے حاضر ہوتے،اور پھر والدہ ماجدہ ، جد امجد و عم مکرم کے مزارات پر فاتحہ خوانی کرتے اکثر اوقات درگاہ معلیٰ سے متصل پائیں باغ میں تشریف لے جاتے اور جامن کے درخت کے نیچے دری بچھا کر جلوہ افروز ہوتے وہاں سے اٹھ کر خانقاہ تشریف لے جاتے،اس وقت دربار عام ہوتا، ہر ایک اپنا اپنا مطلب عرض کرتا، آپ اپنے غلاموں کو سخت محنت اور ریاضت سے بچاتے اہل حاجات کو بھی وظائف و اعمال بہت کم مرحمت فرماتے ،زبانی عرض یا عرضی پر حکم ہوتا اورکا م پورا ہوجاتا۔ اپنے اکابر کی طرح تصرفات میں پوشیدگی فرماتے ،دوپہر کے وقت کھانا طلب ہوتا تو گیہوں کی دو یا تین ہلکی چپاتیاں شور بہ یا مونگ کی دال کے ساتھ تناول فرماتے۔اسی طرح آپ کے تمام معاملات ذکر و فکر اور عبادت وریاضت،اور دکھی انسانیت کی خدمت میں گزرتے ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:360)
فضل و کمال:
آثار احمدی میں لکھا ہے کہ بخارا کا رہنے والا ایک شخص مارہرہ شریف حاضر ہوا ۔ اور نمازِ ظہر خانقاہ شریف میں پڑھ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: ’’حضرت کا نام سن کر طلبِ حق کے واسطے یہاں آیا ہوں کیونکہ مجھ میں مجاہدہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔حضور کی توجہ سے بے محنت اس عظیم سے مشرف ہونا چاہتا ہوں۔حضرت نے تبسم آمیز لہجے میں فرمایا کہ اتنی بڑی دولت اس قدر جلدی چاہتے ہو؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے طعنہ دیا کہ یہ بھی کوئی حلوہ ہے ۔ جو تمہارے منہ میں رکھ دیا جائے؟ حضرت نے فرمایا ایسا نہ کہو، خدا سے کیا بعید ہے۔پھر اس نوجوان کو ایک درود شریف مع ترکیب تعلیم فرما کر کہا کہ آج رات کو پڑھنا؟ اس نے حسبِ حکم پڑھا ۔ درود شریف پڑھنے کی حالت میں رسول مقبول ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور ایک حالت اس پر طاری ہو گئی جس سے اس کا عقدۂ باطنی کُھل گیا۔صبح کو حضرت کی خدمت بابرکت میں آکر عرض کرنے لگا ۔ سبحان اللہ! رسول ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ ہر صدی کے بعد میری امت میں ایک شخص ایسا ہوگا جو میرے دین کو زندہ کرے گا تو وہ ذات مقدس آج اس صدی میں حضور آپ (حضرت اچھےمیاں) کی ہے ۔ (ایضا)
خزانۂ غوثیہ:
حضرت کی تحویل میں ایک چھوٹا سا خزانہ تھا جسے غلہ غوثیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی وسعت کی کوئی انتہا نہ تھی ہزار ہا روپے کے انعام و عطیات اسی خزانۂ غوثیہ سے ادا ہوتے ، صدہا خدام تھے ۔ جن کی کفالت خود حضرت فرماتے تھے۔اور اسی خزانہ سے آستانہ کے حاضرین خدام کی جملہ آسائش کا سامان منگواتے باوجود ان اخراجات کے عطیۂ غوثیہ میں کمی نہ ہوتی جو حضرت کی ایک عظیم کرامتوں میں سے ایک زندہ کرامت تھی ۔
تین بیٹوں کی بشارت:
خلیفہ محمد ارادت اللہ بدایونی نامی آپ کے ایک مرید تھے جو ہمہ وقت اسی فکر میں رہتے تھے کہ خدا وند تعالیٰ ایک بیٹا عطا فرمائے ۔ ایک مرتبہ حضور صاحب البرکات کے عرس میں اپنے مرشد کے رُوبرو کھڑے تھے ۔ دریائے سخاوتِ عرفانی جوش پر تھا ۔ ارشاد فرمایا: ’’ارادت اللہ کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ غلام کا کوئی فاتحہ خواں (یعنی بیٹا) نہیں ہے ۔ آپ نےدعا کی: ’’یارب کریم ہمارے ارادت اللہ کو فرزند دیدے‘‘ ۔ اس کے بعد فرمایا: خلیفہ! پہلے بیٹے کا نام کریم بخش رکھنا، دوسرے کا رحیم بخش اور تیسرے کا نام الٰہی بخش رکھنا ۔ خلیفہ موصوف قدموں میں گر پڑے اور عرض کرنے لگے: ’’حضور! مجھے تو ایک کی بھی اُمید نہیں تھی ‘‘۔ تو آپ نے اپنے سر مبارک کا کلاہ (ایک خاص قسم کی ٹوپی) دینے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’خدا کی ذات سے مجھ کو امید ہے‘‘ ۔ خلیفہ ارادت اللہ واپس ہوئے ۔ جلد ہی خدا کی قدرت ظاہر ہوئی اوران کے ہاں بیٹا پیدا ہو ا۔ خلیفہ نے اس کا نام کریم بخش رکھا ۔یہاں تک کہ تین سالوں میں 3 بیٹے ہوئے اور تینوں کا نام حضرت کے حکم کے مطابق رکھا ۔ (ایضا: 363)
حضور قدوۃ السالکین سید شاہ آل احمد اچھے میاںرات کے آخری حصے میں میں اٹھ کر حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتے،پھر وضو فرما کر نماز تہجد ادا کرتے بعدہٗ دست مبارک اٹھا کر دین کی ترقی اور متوسلین کے لیے دعائے مغفرت فرماتے،جب دعا سے فارغ ہوجاتے تو فقراء گیارہ مرتبہ ذکر کلمۂ شریف بآواز بلندسے کرتے، اس وقت دروازہ بند ہوجاتا تھا، اور کسی غیر کو خلوت خاص میں باریابی کی مجال نہ ہوتی۔بعدہٗ محل سرا میں تشریف لے جاتے،تھوڑی دیر بعد خانقاہ میں رونق افروز ہوتے اور درویشوں کو طلب فرما کر سب کی قلبی کیفیات کے بارے میں استفسار فرماتے اور بقدر حوصلہ ہر ایک کی اصلاح فرماتے،پھر درگاہ شریف جاکر پہلے اپنے والد ماجد کے مزار پر فاتحہ و قدم بوسی کےلیے حاضر ہوتے،اور پھر والدہ ماجدہ ، جد امجد و عم مکرم کے مزارات پر فاتحہ خوانی کرتے اکثر اوقات درگاہ معلیٰ سے متصل پائیں باغ میں تشریف لے جاتے اور جامن کے درخت کے نیچے دری بچھا کر جلوہ افروز ہوتے وہاں سے اٹھ کر خانقاہ تشریف لے جاتے،اس وقت دربار عام ہوتا، ہر ایک اپنا اپنا مطلب عرض کرتا، آپ اپنے غلاموں کو سخت محنت اور ریاضت سے بچاتے اہل حاجات کو بھی وظائف و اعمال بہت کم مرحمت فرماتے ،زبانی عرض یا عرضی پر حکم ہوتا اورکا م پورا ہوجاتا۔ اپنے اکابر کی طرح تصرفات میں پوشیدگی فرماتے ،دوپہر کے وقت کھانا طلب ہوتا تو گیہوں کی دو یا تین ہلکی چپاتیاں شور بہ یا مونگ کی دال کے ساتھ تناول فرماتے۔اسی طرح آپ کے تمام معاملات ذکر و فکر اور عبادت وریاضت،اور دکھی انسانیت کی خدمت میں گزرتے ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:360)
فضل و کمال:
آثار احمدی میں لکھا ہے کہ بخارا کا رہنے والا ایک شخص مارہرہ شریف حاضر ہوا ۔ اور نمازِ ظہر خانقاہ شریف میں پڑھ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: ’’حضرت کا نام سن کر طلبِ حق کے واسطے یہاں آیا ہوں کیونکہ مجھ میں مجاہدہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔حضور کی توجہ سے بے محنت اس عظیم سے مشرف ہونا چاہتا ہوں۔حضرت نے تبسم آمیز لہجے میں فرمایا کہ اتنی بڑی دولت اس قدر جلدی چاہتے ہو؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے طعنہ دیا کہ یہ بھی کوئی حلوہ ہے ۔ جو تمہارے منہ میں رکھ دیا جائے؟ حضرت نے فرمایا ایسا نہ کہو، خدا سے کیا بعید ہے۔پھر اس نوجوان کو ایک درود شریف مع ترکیب تعلیم فرما کر کہا کہ آج رات کو پڑھنا؟ اس نے حسبِ حکم پڑھا ۔ درود شریف پڑھنے کی حالت میں رسول مقبول ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور ایک حالت اس پر طاری ہو گئی جس سے اس کا عقدۂ باطنی کُھل گیا۔صبح کو حضرت کی خدمت بابرکت میں آکر عرض کرنے لگا ۔ سبحان اللہ! رسول ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ ہر صدی کے بعد میری امت میں ایک شخص ایسا ہوگا جو میرے دین کو زندہ کرے گا تو وہ ذات مقدس آج اس صدی میں حضور آپ (حضرت اچھےمیاں) کی ہے ۔ (ایضا)
خزانۂ غوثیہ:
حضرت کی تحویل میں ایک چھوٹا سا خزانہ تھا جسے غلہ غوثیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی وسعت کی کوئی انتہا نہ تھی ہزار ہا روپے کے انعام و عطیات اسی خزانۂ غوثیہ سے ادا ہوتے ، صدہا خدام تھے ۔ جن کی کفالت خود حضرت فرماتے تھے۔اور اسی خزانہ سے آستانہ کے حاضرین خدام کی جملہ آسائش کا سامان منگواتے باوجود ان اخراجات کے عطیۂ غوثیہ میں کمی نہ ہوتی جو حضرت کی ایک عظیم کرامتوں میں سے ایک زندہ کرامت تھی ۔
تین بیٹوں کی بشارت:
خلیفہ محمد ارادت اللہ بدایونی نامی آپ کے ایک مرید تھے جو ہمہ وقت اسی فکر میں رہتے تھے کہ خدا وند تعالیٰ ایک بیٹا عطا فرمائے ۔ ایک مرتبہ حضور صاحب البرکات کے عرس میں اپنے مرشد کے رُوبرو کھڑے تھے ۔ دریائے سخاوتِ عرفانی جوش پر تھا ۔ ارشاد فرمایا: ’’ارادت اللہ کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ غلام کا کوئی فاتحہ خواں (یعنی بیٹا) نہیں ہے ۔ آپ نےدعا کی: ’’یارب کریم ہمارے ارادت اللہ کو فرزند دیدے‘‘ ۔ اس کے بعد فرمایا: خلیفہ! پہلے بیٹے کا نام کریم بخش رکھنا، دوسرے کا رحیم بخش اور تیسرے کا نام الٰہی بخش رکھنا ۔ خلیفہ موصوف قدموں میں گر پڑے اور عرض کرنے لگے: ’’حضور! مجھے تو ایک کی بھی اُمید نہیں تھی ‘‘۔ تو آپ نے اپنے سر مبارک کا کلاہ (ایک خاص قسم کی ٹوپی) دینے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’خدا کی ذات سے مجھ کو امید ہے‘‘ ۔ خلیفہ ارادت اللہ واپس ہوئے ۔ جلد ہی خدا کی قدرت ظاہر ہوئی اوران کے ہاں بیٹا پیدا ہو ا۔ خلیفہ نے اس کا نام کریم بخش رکھا ۔یہاں تک کہ تین سالوں میں 3 بیٹے ہوئے اور تینوں کا نام حضرت کے حکم کے مطابق رکھا ۔ (ایضا: 363)
❤1
تصانیف و علمی خدمات:
آپ کی تصانیف کے بارے میں حضرت علامہ مولانا شاہ سید محمد شاہ مارہروی قدس سرہٗ فرماتے ہیں ۔ کہ حضرت کی تصنیف و تالیف سے سب سے بڑی ضخیم کتاب ’’ آئین احمدی ‘‘ ہے ۔ سنا ہے کہ اس کی چونتیس ، بروایتے ساٹھ جلدیں بہت مبسوط اور مختلف علوم و فنون میں تھیں۔ آپ نے علوم متداولہ میں سے کوئی علم و فن ایسا نہیں چھوڑا تھا جو اِس میں بیان نہ کیا گیا ہو ۔ اس کی بہت سی جلدیں تلف ہوگئی ۔ چند خانقاہ شریف اور خاندان کے مختلف حضرات اور خلفاء کے پاس ہیں ۔ (2) بیاض عمل و معمول دوازدہ ماہی (3) آداب السالکین مطبوعہ (4) مثنوی اشعار، تصوف میں (5) دیوانِ اشعار فارسی ۔ وغیرہ ۔
آپ کی اولاد میں ایک صاحبزادی اور ایک صاحبزادے ہوئے دونوں کا بچپن میں انتقال ہو گیا ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:364)
تاریخِ وصال:
بروز جمعرات، 17 ربیع الاول 1235ھ مطابق 30 دسمبر1819ء، بوقتِ چاشت، بعمر 75 سال، بعارضۂ سرطان اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ کا مزارِ مقدس حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ کے مزار مبارک کے دائیں جانب (مارہرہ مطہرہ) میں مرجع خلائق ہے ۔
شجرہ شریف میں آپ کا ذکر اس طرح منظوم ہے:
؏: دل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پر نور کر
اچھے پیارے شمسِ دیں بدر العلیٰ کے واسطے
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
؏: یا ابوالفضل آل احمد حضرت اچھے میاں
شاہ شمس الدین ضیاء الاصفیاء امداد کن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-aale-ahmad-achay-mian-marharwi
آپ کی تصانیف کے بارے میں حضرت علامہ مولانا شاہ سید محمد شاہ مارہروی قدس سرہٗ فرماتے ہیں ۔ کہ حضرت کی تصنیف و تالیف سے سب سے بڑی ضخیم کتاب ’’ آئین احمدی ‘‘ ہے ۔ سنا ہے کہ اس کی چونتیس ، بروایتے ساٹھ جلدیں بہت مبسوط اور مختلف علوم و فنون میں تھیں۔ آپ نے علوم متداولہ میں سے کوئی علم و فن ایسا نہیں چھوڑا تھا جو اِس میں بیان نہ کیا گیا ہو ۔ اس کی بہت سی جلدیں تلف ہوگئی ۔ چند خانقاہ شریف اور خاندان کے مختلف حضرات اور خلفاء کے پاس ہیں ۔ (2) بیاض عمل و معمول دوازدہ ماہی (3) آداب السالکین مطبوعہ (4) مثنوی اشعار، تصوف میں (5) دیوانِ اشعار فارسی ۔ وغیرہ ۔
آپ کی اولاد میں ایک صاحبزادی اور ایک صاحبزادے ہوئے دونوں کا بچپن میں انتقال ہو گیا ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:364)
تاریخِ وصال:
بروز جمعرات، 17 ربیع الاول 1235ھ مطابق 30 دسمبر1819ء، بوقتِ چاشت، بعمر 75 سال، بعارضۂ سرطان اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ کا مزارِ مقدس حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ کے مزار مبارک کے دائیں جانب (مارہرہ مطہرہ) میں مرجع خلائق ہے ۔
شجرہ شریف میں آپ کا ذکر اس طرح منظوم ہے:
؏: دل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پر نور کر
اچھے پیارے شمسِ دیں بدر العلیٰ کے واسطے
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
؏: یا ابوالفضل آل احمد حضرت اچھے میاں
شاہ شمس الدین ضیاء الاصفیاء امداد کن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-aale-ahmad-achay-mian-marharwi
scholars.pk
Hazrat Syed Aale Ahmad Achay Mian Marharwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا مفتی محمد خلیل خاں برکاتی رحمۃا للہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مفتی محمد خلیل خان برکاتی ۔ لقب: خلیل العلماء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد خلیل خان قادری برکاتی بن عبد الجلیل خاں بن اسماعیل خاں لودھی ۔ آپ کا خاندانی تعلق ’’ لودھی پٹھان ‘‘ سے ہے ۔ آباؤ اجداد کا زیادہ رجحان فوجی ملازمت کی طرف تھا ۔ علاوہ ازیں زمین داری کا پیشہ بھی اختیار کیا جاتا تھا، جبکہ آپ کے نانا مولانا عبد الرحمٰن خان عرف لال خان ایک جیّد عالمِ دین، اور حضرت علامہ لطف اللہ علی گڑھی کے تلمیذِ رشید تھے ۔ (فقہاء سندھ کی علمی خدمات ص:263)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہ ذیقعد 1338ھ، مطابق جولائی 1920ء کو موضع ’’ کھریری ‘‘ ضلع علی گڑھ (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
جب آپ کی عمر چھ روز ہوئی تو والد ماجد کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئے ۔ دادا صاحب نے پرورش میں حصہ لیا ۔ لیکن وہ بھی جلد ہی رخصت ہو گئے ۔ جس کے بعد آپ والدہ ماجدہ کے ہمراہ اپنے ننیہال ’’ مار ہرہ شریف ‘‘ تشریف لے آئے یہاں آ کر والدہ ماجدہ بھی رحلت فرما گئیں ۔ ابھی آپ عمر کے اس حصہ کو نہ پہنچے تھے کہ جہاں نیک و بد کا شعور ہو ۔ چنانچہ چچا صاحب نے اپنی تربیت میں لیا ۔ مفتی صاحب موصوف مارہرہ شریف (ضلع ایٹہ ، انڈیا) کے محلہ کمبوہ میں افغان روڈ پر اقامت پزیر ہوئے ۔
زمانے کے دستور کے مطابق آپ نے بھی انگریزی تعلیم حاصل کی اور اوائل 1934ء میں انگریزی مڈل تک اچھی پوزیشن میں پاس کیا ۔ مفتی صاحب مارہرہ شریف میں اپنی تعلیم کا آغاز فرمانے کے بعد پھر اپنے مولد علی گڑھ تشریف لے آئے اور مکمل تعلیم کے لئے نواب ابو بکر خان شروانی کے مدرسہ حافظیہ سعیدیہ میں 1353ھ ، 9 مارچ 1935ء کو داخل ہوئے اور آخر تک وہیں رہے، دورۂ حدیث شریف تک حضور صدر الشریعہ ، فقیہ اعظم ہند ، حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ الله تعالیٌ علیہ سے پڑھا 1945ء میں فارغ ہوئے ۔ حضور مفتی اعظم ہند ، حضرت علامہ محمد مصطفی رضاخان نوری بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نے سند حدیث عطا فرمائی ۔ آپ کی سند حدیث کا سلسلہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی وساطت سے بحر العلوم مولانا عبد العلی لکھنوی تک اور مارہرہ شریف کے قطب سید شاہ آل رسول رضی الله تعالیٰ عنه ( امام احمد رضا خان کے پیرو مرشد) کے واسطے سے حضرت شیخ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ تک پہنچتا ہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ ص:857)
بیعت و خلافت:
زمانۂ طالب علمی ہی میں 18 ذو الحجہ 1356ھ؍ 1938ء میں تاج العلماء حضرت مولانا الحاج سید اولاد رسول محمد میاں قادری قدس سرہ کے دست مبارک پر سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
حضرت اولاد رسول کے انتقال کے بعد ان کے خلیفہ و جانشین احسن العلماء حضرت سید شاہ حسن میاں صاحب برکاتی نے حضرت کے ایماء پر آپ کو سندِ خلافت عطا فرمائی ۔ اس طرح آپ حضرت اولادِ رسول کے خلیفہ قرار پائے اور اسی لئے برکاتی کہلاتے تھے ۔
حضرت جامع المعقول والمنقول شیخ طریقت علامہ الحاج مفتی محمد مصطفی رضا خان نوری قدس سرہ نے سلسلہ قادریہ رضویہ میں خلافت سے نوازا ۔ (ایضا ص:857)
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، مرجع الاصفیاء، سند الاتقیاء، جامع المعقول والمنقول، فقیہ العصر، فیض یافتہ حضرت صدر الشریعہ، خلیل العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد خلیل خان قادری برکاتی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کا شمار اکابرین اہل سنت، اور محسنین و مصنفین اہل سنت میں ہوتا ہے ۔ آپ کی ذاتِ با برکات سے سینکڑوں علماء و فضلاء نے اکتساب علم کیا اور چہار دانگ عالَم میں علم کے نور سے روشنی پھیلائی، اور باطل کے اندھیروں کو پاش پاش کیا ۔
آپ کی کتب آج بھی مینارۂ نور کا فریضہ انجام دے رہی ہیں ۔ اسی طرح آپ کا دار العلوم احسن البرکات (حیدر آباد سندھ) اپنی برکات سے ایک جہان کو مستفید کر رہا ہے ۔ مفتی صاحب علیہ الرحمہ زمانے کے ظاہر ی نمود و نمائش سے بہت متنفر رہتے ۔ اپنی تعریف و ستائش (خود سنائی) بِالکل نا پسند تھی ۔ آپ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، غرور تکبر سے بہت دور ، سادگی، علم سے محبت اور درس و تدریس میں بے حد محنت آپ کی عادت ثانیہ بَن چُکی تھی ۔ آپ نفاست پسند تھے لباس عمدہ اور صاف ستھرا زیب تن فرماتے تھے ۔
علم کے ساتھ عمل، فتویٰ کے ساتھ تقویٰ میں بھی یادگارِ اسلاف تھے ۔ ایک مرتبہ حجام بال بنانے آیا تو مدرسے میں پانی نہ تھا حجام نے کہا ’’ میں مسجد سے پانی لے آتا ہوں ‘‘ فرمایا کہ نہیں مسجد کا پانی مسجد ہی میں استعمال کرنا چاہئے، اس لئے تم مسجد سے پانی نہ لاؤ بلکہ کل آنا کل مدرسے میں پانی ہو گا ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مفتی محمد خلیل خان برکاتی ۔ لقب: خلیل العلماء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد خلیل خان قادری برکاتی بن عبد الجلیل خاں بن اسماعیل خاں لودھی ۔ آپ کا خاندانی تعلق ’’ لودھی پٹھان ‘‘ سے ہے ۔ آباؤ اجداد کا زیادہ رجحان فوجی ملازمت کی طرف تھا ۔ علاوہ ازیں زمین داری کا پیشہ بھی اختیار کیا جاتا تھا، جبکہ آپ کے نانا مولانا عبد الرحمٰن خان عرف لال خان ایک جیّد عالمِ دین، اور حضرت علامہ لطف اللہ علی گڑھی کے تلمیذِ رشید تھے ۔ (فقہاء سندھ کی علمی خدمات ص:263)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہ ذیقعد 1338ھ، مطابق جولائی 1920ء کو موضع ’’ کھریری ‘‘ ضلع علی گڑھ (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
جب آپ کی عمر چھ روز ہوئی تو والد ماجد کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئے ۔ دادا صاحب نے پرورش میں حصہ لیا ۔ لیکن وہ بھی جلد ہی رخصت ہو گئے ۔ جس کے بعد آپ والدہ ماجدہ کے ہمراہ اپنے ننیہال ’’ مار ہرہ شریف ‘‘ تشریف لے آئے یہاں آ کر والدہ ماجدہ بھی رحلت فرما گئیں ۔ ابھی آپ عمر کے اس حصہ کو نہ پہنچے تھے کہ جہاں نیک و بد کا شعور ہو ۔ چنانچہ چچا صاحب نے اپنی تربیت میں لیا ۔ مفتی صاحب موصوف مارہرہ شریف (ضلع ایٹہ ، انڈیا) کے محلہ کمبوہ میں افغان روڈ پر اقامت پزیر ہوئے ۔
زمانے کے دستور کے مطابق آپ نے بھی انگریزی تعلیم حاصل کی اور اوائل 1934ء میں انگریزی مڈل تک اچھی پوزیشن میں پاس کیا ۔ مفتی صاحب مارہرہ شریف میں اپنی تعلیم کا آغاز فرمانے کے بعد پھر اپنے مولد علی گڑھ تشریف لے آئے اور مکمل تعلیم کے لئے نواب ابو بکر خان شروانی کے مدرسہ حافظیہ سعیدیہ میں 1353ھ ، 9 مارچ 1935ء کو داخل ہوئے اور آخر تک وہیں رہے، دورۂ حدیث شریف تک حضور صدر الشریعہ ، فقیہ اعظم ہند ، حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ الله تعالیٌ علیہ سے پڑھا 1945ء میں فارغ ہوئے ۔ حضور مفتی اعظم ہند ، حضرت علامہ محمد مصطفی رضاخان نوری بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نے سند حدیث عطا فرمائی ۔ آپ کی سند حدیث کا سلسلہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی وساطت سے بحر العلوم مولانا عبد العلی لکھنوی تک اور مارہرہ شریف کے قطب سید شاہ آل رسول رضی الله تعالیٰ عنه ( امام احمد رضا خان کے پیرو مرشد) کے واسطے سے حضرت شیخ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ تک پہنچتا ہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ ص:857)
بیعت و خلافت:
زمانۂ طالب علمی ہی میں 18 ذو الحجہ 1356ھ؍ 1938ء میں تاج العلماء حضرت مولانا الحاج سید اولاد رسول محمد میاں قادری قدس سرہ کے دست مبارک پر سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
حضرت اولاد رسول کے انتقال کے بعد ان کے خلیفہ و جانشین احسن العلماء حضرت سید شاہ حسن میاں صاحب برکاتی نے حضرت کے ایماء پر آپ کو سندِ خلافت عطا فرمائی ۔ اس طرح آپ حضرت اولادِ رسول کے خلیفہ قرار پائے اور اسی لئے برکاتی کہلاتے تھے ۔
حضرت جامع المعقول والمنقول شیخ طریقت علامہ الحاج مفتی محمد مصطفی رضا خان نوری قدس سرہ نے سلسلہ قادریہ رضویہ میں خلافت سے نوازا ۔ (ایضا ص:857)
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، مرجع الاصفیاء، سند الاتقیاء، جامع المعقول والمنقول، فقیہ العصر، فیض یافتہ حضرت صدر الشریعہ، خلیل العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد خلیل خان قادری برکاتی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کا شمار اکابرین اہل سنت، اور محسنین و مصنفین اہل سنت میں ہوتا ہے ۔ آپ کی ذاتِ با برکات سے سینکڑوں علماء و فضلاء نے اکتساب علم کیا اور چہار دانگ عالَم میں علم کے نور سے روشنی پھیلائی، اور باطل کے اندھیروں کو پاش پاش کیا ۔
آپ کی کتب آج بھی مینارۂ نور کا فریضہ انجام دے رہی ہیں ۔ اسی طرح آپ کا دار العلوم احسن البرکات (حیدر آباد سندھ) اپنی برکات سے ایک جہان کو مستفید کر رہا ہے ۔ مفتی صاحب علیہ الرحمہ زمانے کے ظاہر ی نمود و نمائش سے بہت متنفر رہتے ۔ اپنی تعریف و ستائش (خود سنائی) بِالکل نا پسند تھی ۔ آپ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، غرور تکبر سے بہت دور ، سادگی، علم سے محبت اور درس و تدریس میں بے حد محنت آپ کی عادت ثانیہ بَن چُکی تھی ۔ آپ نفاست پسند تھے لباس عمدہ اور صاف ستھرا زیب تن فرماتے تھے ۔
علم کے ساتھ عمل، فتویٰ کے ساتھ تقویٰ میں بھی یادگارِ اسلاف تھے ۔ ایک مرتبہ حجام بال بنانے آیا تو مدرسے میں پانی نہ تھا حجام نے کہا ’’ میں مسجد سے پانی لے آتا ہوں ‘‘ فرمایا کہ نہیں مسجد کا پانی مسجد ہی میں استعمال کرنا چاہئے، اس لئے تم مسجد سے پانی نہ لاؤ بلکہ کل آنا کل مدرسے میں پانی ہو گا ۔
❤1
خطابت:
تعلیم سے فراغت پاتے ہی تدریس و تبلیغ کے امور سونپ دیئے گئے ۔ چنانچہ آپ نے تنہا اور مرشد گرامی کی معیت میں ہندوستان کے مختلف صوبوں میں کئی شہروں کے تبلیغی دورے کئے، کچھ عرصہ میرٹھ چھاؤنی میں بحیثیت فوجی مبلغ بھی فرائض انجام دیئے ۔ فراغت کے چار سال بعد 29 سال کی عمر میں مرشد گرامی نے خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف کے دارالافتاء میں اہم ذمہ داری دے کر منصب افتاء پر بٹھا دیا جہاں سے آپ نے فتویٰ نویسی کا آغاز کیا ۔ 1951ء کو ہندوستان سے ہجرت کرکے مستقل طور پر حیدر آباد پاکستان میں سکونت اختیار کر لی تھی ۔ ریڈیو پاکستان حیدر آباد سے تقریباً دس سال سے زیادہ عرصہ تک آپ کی تفسیر نشر ہوئی، جس کے مسودات، ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں اس کے علاوہ بہت سے مختلف مواقع پر آپ کی تقریر اور مذاکرات بھی نشر ہوئے ۔ اسی طرح مفتی صاحب نے تقریباً 58 انتہائی مفیدِ عام تصانیف و تراجم یاد گار چھوڑی ہیں جن میں سے نصف شائع ہو چکی ہیں ۔ مفتی صاحب حضور اکرم ﷺ کی یاد میں ان کی مدحت سرائی کرتے ہوئے نعتیہ شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے، آپ کا تعتیہ دیوان ’’ جمال خلیل ‘‘ کے نا م سے مطبوعہ ہے اور آپ کا تخلص خلیلؔ ہے ۔
تحریک پاکستان:
آپ نے تحریکِ پاکستان میں بھر پور حصہ لیا ۔ تحریک پاکستان کا دور حضرت مفتی صاحب کے شباب و جوانی کا دور تھا ۔ آپ مارہرہ شریف اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والے مسلم لیگ کے جلسے جلوسوں میں بڑی دلچپسی سے حصہ لیتے رہے ۔ آپ مسلم لیگ کا پرچم اٹھائے ہوئے جلوسوں کے آگے آگے چلتے تھے، کانگریس اور نگریسیوں کا اپنی تقاریر میں ہمیشہ رد فرماتے اور یوں حصول پاکستان کی تحریک میں بھر پور حصہ لیتے رہے ۔ زمانۂ طالب علمی میں جب کہ (کانگریسی بیلچہ) ’’ خاکسار تحریک ‘‘ زوروں پر تھی اور اس کا ہر سو چرچا کیا جا رہا تھا جگہ جگہ شہر شہر اس تحریک کے کنویئر اور اراکین گشت کر رہے تھے، اکابر علماء اہل سنت، قائد اعظم اور مسلم لیگ کے خلاف خوب پروپیگنڈہ کیا جا رہا تھا ۔ گمراہ کن لٹریچر کی بھر مار تھی، اس دور میں مفتی صاحب نے اس تحریک کے چوبیس نکات کی شدید گرفت کی اور ان کے رد میں رسالہ ’’ خنجر آبدار بر فرقہ خاکسار ‘‘ تحریر فرما کر قوم کو خبر دار کیا اور ان سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ۔ (ایضا ص:860)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 28 رمضان المبارک 1405ھ، مطابق 18 جون 1985ء، بروز منگل، وقتِ مغرب 65 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا ۔ حضرت مفتی وقار الدین قادری نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ 29 رمضان المبارک کو ظہر کے وقت عارف کامل حضرت سخی سید عبد الوہاب شاہ جیلانی قدس سرہ کی درگاہ ِعالی کے صحن میں آپ کو مدفن نصیب ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ فقہاء سندھ کی علمی خدمات کا تحقیقی جائزہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-khalil-khan-barkati
تعلیم سے فراغت پاتے ہی تدریس و تبلیغ کے امور سونپ دیئے گئے ۔ چنانچہ آپ نے تنہا اور مرشد گرامی کی معیت میں ہندوستان کے مختلف صوبوں میں کئی شہروں کے تبلیغی دورے کئے، کچھ عرصہ میرٹھ چھاؤنی میں بحیثیت فوجی مبلغ بھی فرائض انجام دیئے ۔ فراغت کے چار سال بعد 29 سال کی عمر میں مرشد گرامی نے خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف کے دارالافتاء میں اہم ذمہ داری دے کر منصب افتاء پر بٹھا دیا جہاں سے آپ نے فتویٰ نویسی کا آغاز کیا ۔ 1951ء کو ہندوستان سے ہجرت کرکے مستقل طور پر حیدر آباد پاکستان میں سکونت اختیار کر لی تھی ۔ ریڈیو پاکستان حیدر آباد سے تقریباً دس سال سے زیادہ عرصہ تک آپ کی تفسیر نشر ہوئی، جس کے مسودات، ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں اس کے علاوہ بہت سے مختلف مواقع پر آپ کی تقریر اور مذاکرات بھی نشر ہوئے ۔ اسی طرح مفتی صاحب نے تقریباً 58 انتہائی مفیدِ عام تصانیف و تراجم یاد گار چھوڑی ہیں جن میں سے نصف شائع ہو چکی ہیں ۔ مفتی صاحب حضور اکرم ﷺ کی یاد میں ان کی مدحت سرائی کرتے ہوئے نعتیہ شاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے، آپ کا تعتیہ دیوان ’’ جمال خلیل ‘‘ کے نا م سے مطبوعہ ہے اور آپ کا تخلص خلیلؔ ہے ۔
تحریک پاکستان:
آپ نے تحریکِ پاکستان میں بھر پور حصہ لیا ۔ تحریک پاکستان کا دور حضرت مفتی صاحب کے شباب و جوانی کا دور تھا ۔ آپ مارہرہ شریف اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والے مسلم لیگ کے جلسے جلوسوں میں بڑی دلچپسی سے حصہ لیتے رہے ۔ آپ مسلم لیگ کا پرچم اٹھائے ہوئے جلوسوں کے آگے آگے چلتے تھے، کانگریس اور نگریسیوں کا اپنی تقاریر میں ہمیشہ رد فرماتے اور یوں حصول پاکستان کی تحریک میں بھر پور حصہ لیتے رہے ۔ زمانۂ طالب علمی میں جب کہ (کانگریسی بیلچہ) ’’ خاکسار تحریک ‘‘ زوروں پر تھی اور اس کا ہر سو چرچا کیا جا رہا تھا جگہ جگہ شہر شہر اس تحریک کے کنویئر اور اراکین گشت کر رہے تھے، اکابر علماء اہل سنت، قائد اعظم اور مسلم لیگ کے خلاف خوب پروپیگنڈہ کیا جا رہا تھا ۔ گمراہ کن لٹریچر کی بھر مار تھی، اس دور میں مفتی صاحب نے اس تحریک کے چوبیس نکات کی شدید گرفت کی اور ان کے رد میں رسالہ ’’ خنجر آبدار بر فرقہ خاکسار ‘‘ تحریر فرما کر قوم کو خبر دار کیا اور ان سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ۔ (ایضا ص:860)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 28 رمضان المبارک 1405ھ، مطابق 18 جون 1985ء، بروز منگل، وقتِ مغرب 65 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا ۔ حضرت مفتی وقار الدین قادری نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ 29 رمضان المبارک کو ظہر کے وقت عارف کامل حضرت سخی سید عبد الوہاب شاہ جیلانی قدس سرہ کی درگاہ ِعالی کے صحن میں آپ کو مدفن نصیب ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ فقہاء سندھ کی علمی خدمات کا تحقیقی جائزہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-khalil-khan-barkati
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Khalil Khan Barkati
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1