🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-09-1444 ᴴ | 19-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-09-1444 ᴴ | 19-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-09-1444 ᴴ | 19-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-09-1444 ᴴ | 19-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی ۔ لقب: مفتی زمن، ریاض العلماء ۔ تخلص: نیر ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی بن مولانا مفتی سید عنایت علی شاہ بن مولانا مفتی سید صدر الدین جیلانی بن سید ذو الفقار علی شاہ جیلانی بن سید مداح حسن جیلانی بن سید شاہ میر احسن جیلانی بن سید مرتضیٰ حسن جیلانی بن سید کمال الدین جیلانی بن سید شاہ خلیل اللہ ناگوری جیلانی بن سید حامد بخش گیلانی بن سید عبد الرزاق جیلانی اوچی ۔ الیٰ اخرہ، علیہم الرحمہ ۔

سلسلۂ نسب 21 واسطوں سےسیدنا غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه اور 34 واسطوں سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتاہے ۔ (مقدمہ ریاض الفتاویٰ ص:41)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت شوال المکرم 1340ھ، مطابق 1922ء کو جودھپور (انڈیا) میں ہوئی ۔ (ریاض الفتاویٰ، اور انوار علمائے اہل سنت سندھ میں 1340ھ / مطابق 1914ء تحریر ہے ۔1340ھ کو 1922ء تھا ، نہ کہ 1914ء ۔ تونسویؔ غفرلہ)

تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے نانا جان مفتی سید راحت علی جیلانی اور ماموں حکیم سید اصغر علی اصغر جیلانی سے حاصل کی ۔ آپ کی تربیت میں آپ کی خالہ المعروف آپا جی (جو کہ حضرت مولانا سید حسن علی شاہ جیلانی سجادہ نشین درگاہ ناگور شریف کی اہلیہ صاحبہ تھیں) کا بڑا دخل رہا ہے ۔ آپ نے اردو، فارسی کی تعلیم مولانا بیدل بدایونی سے حاصل کی ۔ علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی، مفتی اعجاز ولی خان رضوی، مفسر اعظم ہند، حضرت مولانا ابراہیم رضا خان بریلوی، مولانا محمد اسماعیل بلند شہری، علامہ عبد الرؤف بہاری، حضرت مولانا غلام یزدانی اعظمی (تلمیذ ارشد حضرت صدر الشریعہ مصنف بہار شریعت) شیخ الحدیث جامعہ منظر الاسلام بریلی شریف سے استفادہ کیا اور 1360ھ میں جامعہ رضویہ منظر الاسلام بریلی سے فارغ التحصیل ہوئے ـ

بیعت و خلافت:
علوم ظاہری سے فارغ ہونے کے بعد علوم باطنی کے حصول کیلئے حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان صاحب بریلوی قدس سرہ العزیز کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور حجۃ الاسلام نے آپ کو 1361ھ میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے علاوہ چاروں سلاسل میں خلافت عطا فرمائی ۔ اس کے علاوہ خاندانی فیوض و برکات سے بھی مستفید ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
ریاض العلماء، شیخ الاولیاء، سلطان الاصفیاء، عمدۃ الفضلاء، فقیہ الامہ، مفتیِ زمن، سجادہ نشین درگاہ جیلانی حضرت علامہ مفتی سید محمد ریاض الحسن جیلانی ۔

آپ علیہ الرحمہ منظر اسلام بریلی کے تربیت یافتہ و فیض یافتہ تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ منظر اسلام سے چمکا اس نے فیض رضا سے ایک جہاں کو چمکا دیا ـ دین کی ایسی خدمت فرمائی کہ ہرطرف ایمان کی بہاریں نظر آنے لگیں ۔ مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی کتب اور دیوان کے مطالعے سے آپ کی تبحر علمی، ثقاہت و فقاہت واضح ہو جاتی ہے ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے مفسر، محدث، فقیہ، مناظر، واعظ، مصنف، مفکر، شاعر، پیر طریقت، پیشوائے شریعت تھے ۔

پاکستان میں قیام:
1947ء کے انقلاب کے بعد اپنے ماموں حکیم سید اصغر علی جیلانی اور برادر نسبتی اختر الحامدی و دیگر عزیزوں کے ہمراہ پاکستان وارد ہوئے اور مختلف شہروں میں قیام پزیر رہے کچھ عرصہ کراچی قیام کے بعد فرسٹ مہاجر کیمپ امریکن کوارٹرز حیدر آباد سندھ کو جائے مسکن بنایا اور یہاں مرکزی جامع مسجد کی بنیاد رکھی اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مشغول ہو گئے ۔ کچھ عرصہ آپ نے جامشورو میکنیکل کالونی کی مسجد میں امامت فرمائی ۔ ایک سال سے زائد عرصہ سلطانی ہری مسجد حیدر آباد میں امامت فرمائی ۔ ایک سال کا عرصہ حاجی ملنگ مسجد نواب شاہ میں گزارا وہاں بعد فجر و عشاء آدھا آدھا گھنٹہ درس قرآن دیا کرتے تھے اور ایک سال تک صرف الحمد اللہ رب العالمین کی تفسیر کی، الرحمن تک آپ نہیں پہنچتے تھے ۔ یہ آپ کی علمی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

قیام مسجد:
ریلوے اسٹیشن حیدرآباد، ریلوے ریسٹ ہاؤس کے برابر محمدی جامع مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ۔ رحمان مسجد ریلوے مال گودام حیدر آباد کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اور امریکن کوارٹرز جامع مسجد کی بنیاد رکھی جہاں وصال تک خطابت و ومامت اور درس و تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔

عادات و خصائل:
آپ نہایت متاضع اور خلیق تھے ۔ مسکراہٹ اور مِلن ساری آپ کی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی ۔ دین کی تبلیغ و اشاعت کے لئے آپ کو کسی بھی وقت کوئی بھی لے کر جانا چاہتا تو آپ کشادہ دلی سے بطیب خاطر تیار ہو جائے اور اگر کسی شخص کو خلاف شرع کام کرتے دیکھتے تو اسے فوراً ٹوک دیتے تھے چاہے وہ ان کا بھائی ہی کیوں نہ ہو ۔
1
تاریخِ وصال:
مولانا مفتی سید ریاض الحسن جیلانی 28 رمضان المبارک 1388ھ بمطابق 19 دسمبر 1968ء بروز جمعرات شب گیارہ بجے ذکر و اذکار کرتے ہوئے بحالت سجدہ وصال فرما گئے ۔ مفتی صاحب نے زندگی میں دعا فرمائی تھی جو کہ اللہ تعالیٰ نے پوری فرما دی ۔ حضرت قاضی عبد الغفور صاحب کے مزار کے احاطہ میں تدفین ہوئی ۔

؏: رہوں دنیا میں جب ہر طرح امن و اماں پاؤں
بسوئے آخرت پڑھتا ہوا کلمہ چلا جاؤں

محمد کے غلاموں کا کفن مَیلا نہیں ہوتا:
گیارہ سال بعد 29 مارچ 1979ء کو آپ کی قبر مبارک شق ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ کا کفن و لاش صحیح سلامت ہے اور آپ قبر میں بدستور آرام فرما ہیں، زیارت کا سلسلہ تقریباً ایک ہفتہ جاری رہا ۔ اس کے بعد دوبارہ سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں تدفین عمل میں آئی ۔

ماخذ و مراجع:
ریاض الفتاویٰ ۔ انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-riyaz-ul-hasan-jilani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
آل احمد اچھے میاں ، حضرت ابو الفضل سید شاہ شمس الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی: سید آل احمد ۔ کنیت: ابوالفضل ۔ لقب: اچھے میاں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید آل احمد اچھے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمدبن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید عبد الجلیل بن سید میر عبد الواحد بن سید ابراہیم بن سید قطب الدین بن سید ماہر بن سید شاہ بڈہ بن سید کمال بن سید قاسم بن سید حسن بن سید نصیر بن سید حسین بن  سید عمر بن محمد صغریٰ بن سید علی بن سید حسین بن سید ابو الفرح واسطی بن سید داؤد بن سید حسین بن سید یحیٰ بن سید زید سوم بن سید عمر بن سید زید دوم بن سید علی عراقی بن سید حسین بن سید علی بن سید محمد بن سید عیسیٰ بن سید زید شہید بن امام زین العابدین بن سید الشہداء حضرت امام حسین ۔ (رضی اللہ عنہم) ۔ (تاریخ خاندان برکات ص: 7)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 28 رمضان المبارک 1160ھ مطابق اکتوبر 1747ء کو مارہرہ مطہرہ (انڈیا) میں ہوئی ۔

قبل از ولادت بشارت:
حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ نے یہ بشارت دی تھی کہ مجھے بفضل الٰہی چار واسطوں کے بعد ایک لڑکا عنایت ہوگا جس سے رونقِ خاندان دو بالا ہوگی بعدہٗ حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ نے اپنا ایک خرقہ عنایت فرمایا اور حکم دیا کہ یہ اس صاحبزادے کےلیے ہے۔ حضرت سیدنا شاہ آل محمد (حضور صاحب البرکات کے بڑے شہزادے) نے حضور اچھے میاں قدس سرہ کو تسمیہ خوانی کے وقت گود میں بٹھا کر ارشاد فرمایا کہ یہ وہی شہزادے ہیں جن کی بشارت والد ماجد نے دی تھی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:358)

تحصیلِ علم:
آپ نے علومِ ظاہری و باطنی و منازل سلوک کی تکمیل اپنے والد ماجد سے فرمائی، اور آپ کے روحانی معلم حضور سیدنا غوث اعظم محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی تھے ۔ اس کے علاوہ آپ نے فنِ طب با قاعدہ کلیم نصر اللہ صاحب مارہروی سے حاصل فرمایا تھا ۔ مگر اس علم سے سوائے سِتر تصرُّفات کام نہ لیا جاتا تھا، بظاہر ہر مریض کو معمولی دوایا کسی درخت کے پتے تجویز فرماتے، مگر حقیقتاً خود چارہ سازی فرماتے ۔ (ایضا:358)

آپ علوم ظاہری و باطنی علوم  کے بہترین عالم تھے ۔ اکثر علماء و فضلاء آپ کے خدام تھے ۔ علماء کے دقیق و مشکل مسائل ایسی خوبی سے حل فرما دیتے کہ عقلیں حیران رہ جاتیں ۔ ایک بار حضرت کے آخری عہد میں حضرت  مولانا شاہ عبد المجید عین الحق بدایونی جو آپ کے اجلہ خلفاء میں سے ہیں ۔ عرض کیا کہ مسئلۂ قرطاس میں ہر چند علماء نے جواب دِئیے ہیں لیکن حضور میری تسکینِ خاطر فرما دیں؟حضرت نے دوات قلم کا حکم فرمایا معاً حضرت شاہ عین الحق پر مسائل کی تحقیق وارد ہوئی اور فرمایا کہ فقیر پر ہدایات شافی مل چکے ہیں ۔۔

ایک شخص نے حضرت نقیب الاشراف بغداد کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہو کر مسئلۂ وحدۃ الوجود سمجھنا چاہا ۔ حضرت نے ہندوستان کے سفر کی ہدایت فرمائی ۔ وہ صاحب علماء و مشائخ سے ملتے ہوئے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں پہنچے، مدعا عرض کیا، مگر تشفّی نہ ہوئی، حضرت محدث دہلوی نے فرمایا ۔ آپ مارہرہ شریف حضرت اچھے میاں کی خدمت میں جایئے، وہ آپ کی تسکینِ خاطر فرما دیں گے ۔ حضرت کے فضائل و مناقب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے ’’ ملفوظاتِ عزیزی ‘‘ میں بلند کلمات کے ساتھ موجود ہیں ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ص:17)

بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں والدِ گرامی حضرت شاہ حمزہ مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
قدوۃ الکاملین، قطب العارفین، عاشق خدا، محبوبِ سرکارِ مصطفیٰ، مظہرِ غوث الوریٰ، فخر الاولیاء، شمس الدین ابو الفضل حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رحمۃ الله تعالیٰ علیہ ۔

آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چھتیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔ آپ بڑے باکمال و عارف باللہ تھے، کرامات و تصرفات میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔علوم ظاہر و باطن میں بحرِ بے کنار تھے ۔آپ نے سخت ترین ریاضتیں کیں اور مجاہدات و سلوک میں ایک خاص شان کے حامل تھے ۔ غلاموں کی حفاظت و کفالت خود فرماتے اور اخلاقِ نبوی ﷺ کے پیکر تھے ۔

حضرت عبادت و ریاضت میں  بہت بلند رتبہ کے حامل تھے ۔ آپ ہمیشہ اکتساب اذکار و مراقبات و اشغال میں مصروف رہتے یہاں تک کہ فرائضِ پنچ وقتہ کے علاوہ حَبس کبیر، صلوۃِ معکوس و صوم و نوافل اور مجاہدات قویہ و ریاضات باطنیہ کا التزام رکھتے تھے ۔ اور طاعات پر طاعات بجا لاتے تھے ۔
1