حضرت جمیل شاہ داتار رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: سید عبد الہادی۔لقب: سخی داتار،جمیل شاہ گرناری۔لیکن آپ ’’جمیل شاہ داتار،اور سخی داتار‘‘ کےنام سے معروف ہیں۔’’گرناری‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ ایک ’’گرنار‘‘ نامی پہاڑ (جونا گڑھ) پر چلہ کش ہوئے تھے۔(تذکرہ اولیائے سندھ:124)۔آپ کا نسبی تعلق حسینی ساداتِ کرام سےہے۔سلسلہ ٔ نسب حضرت امام موسیٰ کاظمکے توسل سےسیدنا امام حسینتک پہنچتا ہے۔(سندھ کےصوفیائے نقشبندحصہ اول:299)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 27/ رمضان المبارک بروز جمعرات580ھ مطابق 3/جنوری 1185ء کو’’مشہد مقدس‘‘ ایران میں ہوئی۔(تذکرہ اولیاء سندھ:124)
مہد میں کلام: پیدائش کےساتویں روز جب مؤذن آذآن دے چکا،تو آپ نے فصیح زبان میں یہ کلمات اداکیے۔’’لاالہ الا اللہ لا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین‘‘۔ (صوفیائے نقشبند حصہ اول:301)
تحصیلِ علم: آپ نے صرف سات سال کی عمر میں قرآنِ پاک مکمل حفظ کرلیا۔اس کےبعد علوم دینیہ کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے،اور پندرہ سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم ِ دینیہ کی تکمیل کرلی اور تفسیر وحدیث میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔اس کےبعد علوم ِ باطنی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس میں بھی کمال حاصل کیا۔
بیعت وخلافت: آپ کے آباؤ اجداد کا مشرب سلسلہ عالیہ چشتیہ کا تھا۔لیکن آپ خاص خاص افراد کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں اور عام لوگوں کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت فرمایا کرتےتھے۔آپ کاقلبی لگاؤ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی طرف تھا۔لیکن آپ سے تمام سلاسل کےلوگ یکساں فیض حاصل کرتےتھے۔(ایضا: 300)
سیرت وخصائص: قدوۃ الصلحاء،زبدۃ الاولیاء،عمدۃ الاتقیاء،عارفِ اسرار یزدانی،حضرت سید عبدالہادی گرناری المعرف حضرت سخی جمیل شاہ داتار۔آپ کو علم و تقویٰ وراثت میں ملے تھے۔بچپن سے ہی آثارِ سعادت ظاہر تھے۔یہی وجہ ہے کہ سات سال کی قلیل عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا،اور پندرہ سال کی عمر میں علوم منقول ومعقول کی تحصیل وتکمیل کرلی۔تکمیل ِ علوم کےبعد زیارتِ حرمین شریفین کا قصد کیا۔حج کی سعادت اور روضۂ انورکی حاضری کےبعد ہندوستان کا رخ کیا۔ہند میں گرنار نامی پہاڑ پر جونا گڑھ میں ہے عبادت وریاضت میں مصروف ہوگئے۔اس غار میں آپ کی عبادت وریاضت کاصاحبِ حدیقۃ الاولیاء نےاشعار کی صورت میں خوبصورت نقشہ کھینچاہے۔اس دوران آپ اپنے چہرے پر نقاب ڈالے رہے۔جب نقاب اٹھاکر غار سے باہر آئے تو آپ کے چہرے سے چمکنے والے انوار وتجلیات کو دیکھ کرمخلوقِ خداآپ کی شیدا ہوگئی،اور دور دراز سے لوگ آپ کی زیارت کو آنے لگے،اور آپ کے فیوضات وبرکات سے مستفید ہونے لگے۔اس بات کوصاحبِ حدیقۃ الاولیاء منظوم بیان فرماتے ہیں:
بعد ازاں آں گوہر بحر مشہود۔۔۔۔۔از نقاب احتفا چہرہ کشود
زائران ِ آستانش صد ہزار۔۔۔ می رسد از ہر طرف لیل ونہار
سرفرازاں آں وخداوندانِ جاہ۔۔سروراں صاحبِ تخت وکلاہ
حجرہ شریف: اسی پہاڑی کے کنارے پر آپ نے اپنی عبادت اور مخلوقِ خدا کی فیض یابی کےلئے ایک حجرہ تعمیر کرایا،اور وہاں رشد وہدایت کا سلسلہ شروع کردیا۔جہاں بڑے بڑے تخت وتاج والے حاضری کو اپنی سعادت سمجھتےتھے۔وہ حجرہ آج بھی وہاں موجود ہے۔(ایضا: 300)
سندھ میں آمد: ٹھٹہ اس زمانے میں علم وفن کا مرکزتھا۔اس وقت حضرت شیخ محمد حسین المعروف پیر پَٹّھُو ٹھٹہ میں مقیم تھے۔آپ اکیلے تبلیغِ دین میں مصروف تھے۔جادوگروں کا زور تھا۔انہوں نے لوگوں کو زیادہ پریشان کرنا شروع کردیا تھا۔شعبدہ بازی اور جادو کے زور پر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنےلگے،تو حضرت پیر پٹھو کی استدعا پرآپ سندھ میں تشریف لائے،اور ٹھٹھہ میں قیام فرماکر مخلوقِ خدا کی رہبری اور ہدایت میں مصروف ہوگئے۔آپ کی کرامت کےآگے جادوگروں کا جادو ناکام ہوگیا۔مخلوقِ خدا جوق در جوق آپ کی خدمت میں آنے لگی۔غیر مسلم اسلام کی دولت سےمشرف ہوتے،اور فساق وفجار تقوے کےنور سےمنور ہوتے۔آپ کی برکت سے اس خطے میں اسلام کی بہاریں نظر آنےلگیں۔اخیرعمر میں آپ نے اس پہاڑ جہاں حضرت پیر پٹھو کا قیام تھا،اور اب مزار ہے،وہاں ایک چھوٹا سا حجرہ اپنے لئے تعمیر کرالیا تھا۔ جہاں آپ ہمیشہ عبادت وریاضت اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں مصروف رہتے۔
آپ صرف خانقاہ کے صوفی نہ تھے۔بلکہ ملکی حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتےتھے۔تبلیغِ دین کا فریضہ پوری قوت سے ادا کرتے،اس میں امیر وکبیر،حاکم و وزیر کاکوئی لحاظ نہ ہوتا تھا۔اگر حاکمِ وقت بھی شرع شریف سے انحراف کرتا،تو آپ اس کو فوراً تنبیہ کرتے،اور سرکش بادشاہوں کو شریعت کےآگے جھکنے پر مجبور کردیا کرتے تھے۔آپ کےزمانے میں کسی حاکم کو اسلام کے خلاف سازش کرنے کی ہمت نہ تھی۔
ٹھٹھہ میں بت پرستی کا خاتمہ: آپ کی ٹھٹہ میں تشریف آوری کےبعد جب مندروں کےپجاری بتوں کی پوجا کےلئے گئے،تو ان کےآگے جُھک نہ سکے،اور پوجا نہ کرسکے۔ہزار کوشش کےباوجود ان کے سر معبودان باطلہ کے آگے نہ جھک سکے۔لوگوں نے انہیں بتایا کہ یہ اس ولی کامل کی برکت ہے،جو ابھی ٹھٹہ میں تشریف لائے ہیں۔آپ
نام ونسب: سید عبد الہادی۔لقب: سخی داتار،جمیل شاہ گرناری۔لیکن آپ ’’جمیل شاہ داتار،اور سخی داتار‘‘ کےنام سے معروف ہیں۔’’گرناری‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ ایک ’’گرنار‘‘ نامی پہاڑ (جونا گڑھ) پر چلہ کش ہوئے تھے۔(تذکرہ اولیائے سندھ:124)۔آپ کا نسبی تعلق حسینی ساداتِ کرام سےہے۔سلسلہ ٔ نسب حضرت امام موسیٰ کاظمکے توسل سےسیدنا امام حسینتک پہنچتا ہے۔(سندھ کےصوفیائے نقشبندحصہ اول:299)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 27/ رمضان المبارک بروز جمعرات580ھ مطابق 3/جنوری 1185ء کو’’مشہد مقدس‘‘ ایران میں ہوئی۔(تذکرہ اولیاء سندھ:124)
مہد میں کلام: پیدائش کےساتویں روز جب مؤذن آذآن دے چکا،تو آپ نے فصیح زبان میں یہ کلمات اداکیے۔’’لاالہ الا اللہ لا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین‘‘۔ (صوفیائے نقشبند حصہ اول:301)
تحصیلِ علم: آپ نے صرف سات سال کی عمر میں قرآنِ پاک مکمل حفظ کرلیا۔اس کےبعد علوم دینیہ کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے،اور پندرہ سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم ِ دینیہ کی تکمیل کرلی اور تفسیر وحدیث میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔اس کےبعد علوم ِ باطنی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس میں بھی کمال حاصل کیا۔
بیعت وخلافت: آپ کے آباؤ اجداد کا مشرب سلسلہ عالیہ چشتیہ کا تھا۔لیکن آپ خاص خاص افراد کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں اور عام لوگوں کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت فرمایا کرتےتھے۔آپ کاقلبی لگاؤ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی طرف تھا۔لیکن آپ سے تمام سلاسل کےلوگ یکساں فیض حاصل کرتےتھے۔(ایضا: 300)
سیرت وخصائص: قدوۃ الصلحاء،زبدۃ الاولیاء،عمدۃ الاتقیاء،عارفِ اسرار یزدانی،حضرت سید عبدالہادی گرناری المعرف حضرت سخی جمیل شاہ داتار۔آپ کو علم و تقویٰ وراثت میں ملے تھے۔بچپن سے ہی آثارِ سعادت ظاہر تھے۔یہی وجہ ہے کہ سات سال کی قلیل عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا،اور پندرہ سال کی عمر میں علوم منقول ومعقول کی تحصیل وتکمیل کرلی۔تکمیل ِ علوم کےبعد زیارتِ حرمین شریفین کا قصد کیا۔حج کی سعادت اور روضۂ انورکی حاضری کےبعد ہندوستان کا رخ کیا۔ہند میں گرنار نامی پہاڑ پر جونا گڑھ میں ہے عبادت وریاضت میں مصروف ہوگئے۔اس غار میں آپ کی عبادت وریاضت کاصاحبِ حدیقۃ الاولیاء نےاشعار کی صورت میں خوبصورت نقشہ کھینچاہے۔اس دوران آپ اپنے چہرے پر نقاب ڈالے رہے۔جب نقاب اٹھاکر غار سے باہر آئے تو آپ کے چہرے سے چمکنے والے انوار وتجلیات کو دیکھ کرمخلوقِ خداآپ کی شیدا ہوگئی،اور دور دراز سے لوگ آپ کی زیارت کو آنے لگے،اور آپ کے فیوضات وبرکات سے مستفید ہونے لگے۔اس بات کوصاحبِ حدیقۃ الاولیاء منظوم بیان فرماتے ہیں:
بعد ازاں آں گوہر بحر مشہود۔۔۔۔۔از نقاب احتفا چہرہ کشود
زائران ِ آستانش صد ہزار۔۔۔ می رسد از ہر طرف لیل ونہار
سرفرازاں آں وخداوندانِ جاہ۔۔سروراں صاحبِ تخت وکلاہ
حجرہ شریف: اسی پہاڑی کے کنارے پر آپ نے اپنی عبادت اور مخلوقِ خدا کی فیض یابی کےلئے ایک حجرہ تعمیر کرایا،اور وہاں رشد وہدایت کا سلسلہ شروع کردیا۔جہاں بڑے بڑے تخت وتاج والے حاضری کو اپنی سعادت سمجھتےتھے۔وہ حجرہ آج بھی وہاں موجود ہے۔(ایضا: 300)
سندھ میں آمد: ٹھٹہ اس زمانے میں علم وفن کا مرکزتھا۔اس وقت حضرت شیخ محمد حسین المعروف پیر پَٹّھُو ٹھٹہ میں مقیم تھے۔آپ اکیلے تبلیغِ دین میں مصروف تھے۔جادوگروں کا زور تھا۔انہوں نے لوگوں کو زیادہ پریشان کرنا شروع کردیا تھا۔شعبدہ بازی اور جادو کے زور پر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنےلگے،تو حضرت پیر پٹھو کی استدعا پرآپ سندھ میں تشریف لائے،اور ٹھٹھہ میں قیام فرماکر مخلوقِ خدا کی رہبری اور ہدایت میں مصروف ہوگئے۔آپ کی کرامت کےآگے جادوگروں کا جادو ناکام ہوگیا۔مخلوقِ خدا جوق در جوق آپ کی خدمت میں آنے لگی۔غیر مسلم اسلام کی دولت سےمشرف ہوتے،اور فساق وفجار تقوے کےنور سےمنور ہوتے۔آپ کی برکت سے اس خطے میں اسلام کی بہاریں نظر آنےلگیں۔اخیرعمر میں آپ نے اس پہاڑ جہاں حضرت پیر پٹھو کا قیام تھا،اور اب مزار ہے،وہاں ایک چھوٹا سا حجرہ اپنے لئے تعمیر کرالیا تھا۔ جہاں آپ ہمیشہ عبادت وریاضت اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں مصروف رہتے۔
آپ صرف خانقاہ کے صوفی نہ تھے۔بلکہ ملکی حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتےتھے۔تبلیغِ دین کا فریضہ پوری قوت سے ادا کرتے،اس میں امیر وکبیر،حاکم و وزیر کاکوئی لحاظ نہ ہوتا تھا۔اگر حاکمِ وقت بھی شرع شریف سے انحراف کرتا،تو آپ اس کو فوراً تنبیہ کرتے،اور سرکش بادشاہوں کو شریعت کےآگے جھکنے پر مجبور کردیا کرتے تھے۔آپ کےزمانے میں کسی حاکم کو اسلام کے خلاف سازش کرنے کی ہمت نہ تھی۔
ٹھٹھہ میں بت پرستی کا خاتمہ: آپ کی ٹھٹہ میں تشریف آوری کےبعد جب مندروں کےپجاری بتوں کی پوجا کےلئے گئے،تو ان کےآگے جُھک نہ سکے،اور پوجا نہ کرسکے۔ہزار کوشش کےباوجود ان کے سر معبودان باطلہ کے آگے نہ جھک سکے۔لوگوں نے انہیں بتایا کہ یہ اس ولی کامل کی برکت ہے،جو ابھی ٹھٹہ میں تشریف لائے ہیں۔آپ
کے اس روحانی تصرف کی برکت کو دیکھ کر بہت سے پجاری حلقہ بگوش اسلام ہوگئے،اور آپ سے بیعت ہوکر دینِ اسلام کے سچے شیدائی بن گئے۔(ایضا:302)
عشقِ رسولﷺ: آپرسول اللہﷺ کےعاشقِ صادق تھے۔آپ کی مجلس سےرسول اللہ ﷺکی محبت کی سوغات تقسیم ہوتی تھی۔ جب آپ کے سامنے نبی مکرم ﷺ کا ذکرِ مبارک کیا جاتا تو آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھتا۔حضورﷺ سےکمالِ عشق ایسا تھا کہ اگر کسی کو خلافِ سنت کام کرتےدیکھ لیتے تو فوراً جلال میں آجاتے،اور سرزنش کرتے۔پھر اس کو رسول اللہﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے۔شریعت کے معاملے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتےتھے۔آپ کی خانقاہ میں شریعت کی حد درجہ پابندی تھی۔لیکن صد افسوس! مجھے حضرت کے مزار پرانوار پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔وہاں جواری،چرسی،اور رافضیوں نے جھنڈے گاڑ رکھےتھے۔مزار کا تقدس اور احترام ِ شریعت کا کچھ پاس نہیں۔یہ ان نفوس ِ قدسیہ کےمزار کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایسا ہورہا ہے۔منتظمین اور حکومت کو تو یہ چاہئے تھا کہ ان کے خلاف کاروائی کرتے۔لیکن وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں،اور ان کی سرپرستی کررہےہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی سیرت پر عمل پیر اہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال ماہ ربیع الاول 652ھ مطابق 1254ء کو واصل بااللہ ہوئے ۔ مزار پر انوار ٹھٹہ (سندھ) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاء سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند حصہ اول۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-hadi-jameel-shah-dataar
عشقِ رسولﷺ: آپرسول اللہﷺ کےعاشقِ صادق تھے۔آپ کی مجلس سےرسول اللہ ﷺکی محبت کی سوغات تقسیم ہوتی تھی۔ جب آپ کے سامنے نبی مکرم ﷺ کا ذکرِ مبارک کیا جاتا تو آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھتا۔حضورﷺ سےکمالِ عشق ایسا تھا کہ اگر کسی کو خلافِ سنت کام کرتےدیکھ لیتے تو فوراً جلال میں آجاتے،اور سرزنش کرتے۔پھر اس کو رسول اللہﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے۔شریعت کے معاملے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتےتھے۔آپ کی خانقاہ میں شریعت کی حد درجہ پابندی تھی۔لیکن صد افسوس! مجھے حضرت کے مزار پرانوار پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔وہاں جواری،چرسی،اور رافضیوں نے جھنڈے گاڑ رکھےتھے۔مزار کا تقدس اور احترام ِ شریعت کا کچھ پاس نہیں۔یہ ان نفوس ِ قدسیہ کےمزار کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایسا ہورہا ہے۔منتظمین اور حکومت کو تو یہ چاہئے تھا کہ ان کے خلاف کاروائی کرتے۔لیکن وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں،اور ان کی سرپرستی کررہےہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی سیرت پر عمل پیر اہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال ماہ ربیع الاول 652ھ مطابق 1254ء کو واصل بااللہ ہوئے ۔ مزار پر انوار ٹھٹہ (سندھ) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاء سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند حصہ اول۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-hadi-jameel-shah-dataar
scholars.pk
Hazrat Syed Abdul Hadi Jameel Shah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ابو الفضل حضرت علامہ مفتی عبدالرحیم سکندری
ابوالفضل مولانا مفتی عبدالرحیم سکندری بن ماسٹر محراب خان بن حاجی قادر داد، بن مولانا بخش بن محراب فقیر پاگاردی ۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۶۵ھ/ یکم ستمبر ۱۹۴۴ء بروز ہفتہ صبح پانچ بجے گوٹھ مولا بخش تحصیل میرواہ ضلع خیر پور سندھ کے مقام پر پیدا ہوئے۔
آپ جتوئی بلوچ کی شاخ، شر بلوچ سے تعلق رکھتے ہیں۔
حضرت مفتی عبدالرحیم سکندری نے پرائمری تک اُردو تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ ادیب عربی، عالم عربی اور فاضل عربی کے امتحانات سندھ تعلیمی بورڈ سے پاس کرکے سندات حاصل کیں۔
علومِ دینیہ کی تحصیل کی خاطر سندھ میں اہل سنت کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ دربارِ عالیہ پاگارہ شریف سے منسلک ہوئے۔ جہاں آپ نے علومِ عربیہ کی تمام مروجہ کتب پڑھنے کے علاوہ کتبِ احادیث کا بھی درس لیا اور ۲۷؍رجب المرجب ۱۳۸۶ھ/ ۱۱؍نومبر ۱۹۶۶ء کو سندِ فراغت حاصل کی۔
جامعہ راشدیہ میں آپ نے جن اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں: ۱۔ فقیہ کبیر حضرت مفتی محمد صاحب داد رحمہ اللہ، ۲۔ استاذالعلماء علامہ مولانا محمد صالح رحمہ اللہ، ۳ شیخ المعقولات علامہ سیّد حسین امام اختر رحمہ اللہ، ۴۔نبیرۂ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی تقدس علی خان دامت برکاتہم، ۵۔علامہ الحاج عبدالصمد رحمہ اللہ، ۶۔علامہ کریم بخش مدظلہ
آپ نے فراغت کے بعد اپنے استاذِ مکرم استاذ العلماء مولانا محمد صالح رحمہ اللہ (سابق مہتمم جامعہ راشدیہ پیرجوگوٹھ) کے مشورے سے شاہ پور چاکر ضلع سانگھڑ میں ایک دینی ادارہ صبغۃ الہدی کے نام سے قائم کیا، آپ دارالعلوم کے جملہ انتظامات کی سرانجام دہی کے علاوہ علومِ اسلامیہ کی تدریس بھی فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ جامع مسجد غوثیہ شاہ پور چاکر میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے سندھ کے اطراف و اکناف کا دورہ کیا، تقاریر کے ذریعے عوام کو ختمِ نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے علاوہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرادادیں منظور کرائیں۔
۱۹۷۷ء کی تحریکِ نظام مصطفےٰ میں ضلع سکھر، نواب شاہ، سانگھڑ اور ضلع خیر پور میں دورے کیےا ور قومی اتحاد کے نمائندوں کے حق میں مختلف جلسوں سے خطاب کرکے نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر فضا کو سازگار بنایا۔
تعلیمی، انتظامی اور تبلیغی مصروفیات کے باوجود آپ نے چند کتب تحریر فرمائیں جو مندرج ذیل ہیں:
۱۔ خلاصۃ التفاسیر، تفسیر ۲۰۰صفحات، غیر مطبوعہ
۲۔ ذکر عید میلاد النبی ۱۰۰ صفحات، انجمن پریس کراچی
۳۔ شیعانِ علی، مناظرہ ۲۵۰ صفحات، غیر مطبوعہ
۴۔ ترجمہ مکتوبات حضرت پیر سید محمد راشد روضی دھنی، غیر مطبوعہ
آپ کو سندھ کے مشہور روحانی خاندان راشدیہ قادریہ کے چشم و چراغ مجاہد ملت حضرت پیر سیّد شاہ مردان علی شاہ (پیر صاحب پاگارہ) سے ۱۹۶۳ء میں بیعت کا شرف حاصل ہوا۔
آپ کے دو فرزند بنام عبدالنبی اور نور نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں صاحبزادوں کو اسمِ باسمیٰ بنائے۔ آمین۔[۱]
[۱۔ حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب کے یہ تمام کوائف مولانا مولا بخش صاحب متعلم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے ذریعے حاصل ہوئے جس کے لیے مرتب ان کا ممنون ہے۔ (محمد صدیق ہزاری)]
( تعارف علماء اہلسنّت )
https://scholars.pk/ur/scholar/abul-fazal-hazrat-allama-mufti-abdul-rahim-sikandari
ابوالفضل مولانا مفتی عبدالرحیم سکندری بن ماسٹر محراب خان بن حاجی قادر داد، بن مولانا بخش بن محراب فقیر پاگاردی ۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۶۵ھ/ یکم ستمبر ۱۹۴۴ء بروز ہفتہ صبح پانچ بجے گوٹھ مولا بخش تحصیل میرواہ ضلع خیر پور سندھ کے مقام پر پیدا ہوئے۔
آپ جتوئی بلوچ کی شاخ، شر بلوچ سے تعلق رکھتے ہیں۔
حضرت مفتی عبدالرحیم سکندری نے پرائمری تک اُردو تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ ادیب عربی، عالم عربی اور فاضل عربی کے امتحانات سندھ تعلیمی بورڈ سے پاس کرکے سندات حاصل کیں۔
علومِ دینیہ کی تحصیل کی خاطر سندھ میں اہل سنت کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ دربارِ عالیہ پاگارہ شریف سے منسلک ہوئے۔ جہاں آپ نے علومِ عربیہ کی تمام مروجہ کتب پڑھنے کے علاوہ کتبِ احادیث کا بھی درس لیا اور ۲۷؍رجب المرجب ۱۳۸۶ھ/ ۱۱؍نومبر ۱۹۶۶ء کو سندِ فراغت حاصل کی۔
جامعہ راشدیہ میں آپ نے جن اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں: ۱۔ فقیہ کبیر حضرت مفتی محمد صاحب داد رحمہ اللہ، ۲۔ استاذالعلماء علامہ مولانا محمد صالح رحمہ اللہ، ۳ شیخ المعقولات علامہ سیّد حسین امام اختر رحمہ اللہ، ۴۔نبیرۂ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی تقدس علی خان دامت برکاتہم، ۵۔علامہ الحاج عبدالصمد رحمہ اللہ، ۶۔علامہ کریم بخش مدظلہ
آپ نے فراغت کے بعد اپنے استاذِ مکرم استاذ العلماء مولانا محمد صالح رحمہ اللہ (سابق مہتمم جامعہ راشدیہ پیرجوگوٹھ) کے مشورے سے شاہ پور چاکر ضلع سانگھڑ میں ایک دینی ادارہ صبغۃ الہدی کے نام سے قائم کیا، آپ دارالعلوم کے جملہ انتظامات کی سرانجام دہی کے علاوہ علومِ اسلامیہ کی تدریس بھی فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ جامع مسجد غوثیہ شاہ پور چاکر میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے سندھ کے اطراف و اکناف کا دورہ کیا، تقاریر کے ذریعے عوام کو ختمِ نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے علاوہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرادادیں منظور کرائیں۔
۱۹۷۷ء کی تحریکِ نظام مصطفےٰ میں ضلع سکھر، نواب شاہ، سانگھڑ اور ضلع خیر پور میں دورے کیےا ور قومی اتحاد کے نمائندوں کے حق میں مختلف جلسوں سے خطاب کرکے نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر فضا کو سازگار بنایا۔
تعلیمی، انتظامی اور تبلیغی مصروفیات کے باوجود آپ نے چند کتب تحریر فرمائیں جو مندرج ذیل ہیں:
۱۔ خلاصۃ التفاسیر، تفسیر ۲۰۰صفحات، غیر مطبوعہ
۲۔ ذکر عید میلاد النبی ۱۰۰ صفحات، انجمن پریس کراچی
۳۔ شیعانِ علی، مناظرہ ۲۵۰ صفحات، غیر مطبوعہ
۴۔ ترجمہ مکتوبات حضرت پیر سید محمد راشد روضی دھنی، غیر مطبوعہ
آپ کو سندھ کے مشہور روحانی خاندان راشدیہ قادریہ کے چشم و چراغ مجاہد ملت حضرت پیر سیّد شاہ مردان علی شاہ (پیر صاحب پاگارہ) سے ۱۹۶۳ء میں بیعت کا شرف حاصل ہوا۔
آپ کے دو فرزند بنام عبدالنبی اور نور نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں صاحبزادوں کو اسمِ باسمیٰ بنائے۔ آمین۔[۱]
[۱۔ حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب کے یہ تمام کوائف مولانا مولا بخش صاحب متعلم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے ذریعے حاصل ہوئے جس کے لیے مرتب ان کا ممنون ہے۔ (محمد صدیق ہزاری)]
( تعارف علماء اہلسنّت )
https://scholars.pk/ur/scholar/abul-fazal-hazrat-allama-mufti-abdul-rahim-sikandari
scholars.pk
Abul Fazal Hazrat Allama Mufti Abdul Rahim Sikandari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ شاہ قیام الدین اصدق علیہ الرحمۃ
محلہ قاضی پورہ قصبہ میا پور پر گنہ جہان آباد ضلع بردوان وطن، حضرت شیخ المشائخ مولانا سید شاہ ابو العباس سعید الدین الملقب بہ شاہ صادق علی قادری قمیصی چشتی فخری قدس سرہ کے فرزند ارجمند، نو ۹برس کی عمر میں والد کے مرید ہوئے، تحصیل علم والد بزرگوار سے کی، اٹھارہ برس کی عمر میں مثال خلافت پائی، نسبی علاقہ حضرت قمیص اعظم قادری المتوفی ۹۲ھ سے ہے، میر تفضل حسبن ساکن موضع جموانواں کی ارادت کے بعد اُن کی درخواست پر اُن کے گاؤں میں وسادۂ ارشاد دیکھ کر مصروف ہدایت ہوئے، سیاحت کا ذوق تھا، مزاات بزرگان پر حاجری معمولات سے تھی، والد ماجد کی معیت میں حج وزیارت سے مشرف ہوئے۔
رموز العارفین، مکتوبات اصدقی، تبحر علمی پر روشن دلیل ہے، بہار کے مشہور مشائخ میں تھے، چہار شنبہ کے دن بوقت عصر ۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۰۱ھ میں وصال ہوا، دوسرے دن اپنی خانقاہ چشتی چمن پیریگہ شریف میں بوقت عصر مدفون ہوئے، قطعۂ تاریخ رحلت یہ ہے ؎
قدوۂ عارفانِ شاہِ قیام
بحر عرفان بود، بے شک وریب
بہرِ سالِ وصال آں کامل
گفت ‘‘ الفقر فخری ’’ ہاتفِ غیب
( تحائف اصدقیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-qayamuddin-asdaq
محلہ قاضی پورہ قصبہ میا پور پر گنہ جہان آباد ضلع بردوان وطن، حضرت شیخ المشائخ مولانا سید شاہ ابو العباس سعید الدین الملقب بہ شاہ صادق علی قادری قمیصی چشتی فخری قدس سرہ کے فرزند ارجمند، نو ۹برس کی عمر میں والد کے مرید ہوئے، تحصیل علم والد بزرگوار سے کی، اٹھارہ برس کی عمر میں مثال خلافت پائی، نسبی علاقہ حضرت قمیص اعظم قادری المتوفی ۹۲ھ سے ہے، میر تفضل حسبن ساکن موضع جموانواں کی ارادت کے بعد اُن کی درخواست پر اُن کے گاؤں میں وسادۂ ارشاد دیکھ کر مصروف ہدایت ہوئے، سیاحت کا ذوق تھا، مزاات بزرگان پر حاجری معمولات سے تھی، والد ماجد کی معیت میں حج وزیارت سے مشرف ہوئے۔
رموز العارفین، مکتوبات اصدقی، تبحر علمی پر روشن دلیل ہے، بہار کے مشہور مشائخ میں تھے، چہار شنبہ کے دن بوقت عصر ۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۰۱ھ میں وصال ہوا، دوسرے دن اپنی خانقاہ چشتی چمن پیریگہ شریف میں بوقت عصر مدفون ہوئے، قطعۂ تاریخ رحلت یہ ہے ؎
قدوۂ عارفانِ شاہِ قیام
بحر عرفان بود، بے شک وریب
بہرِ سالِ وصال آں کامل
گفت ‘‘ الفقر فخری ’’ ہاتفِ غیب
( تحائف اصدقیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-qayamuddin-asdaq
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Qiyamuddin Asdaq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا عبد الغنی بدایونی علیہ الرحمہ
حضرت مولانا عبد الغنی بدایونی نہایت برگزیدہ متورع ومتقی اور یکتائے روزگار علماء میں سے تھے ـ
تعلیم:
آپ نے درسیات کی تکمیل حضرت مولانا محمد بحر العلوم بدایونی سے کی ـ
بیعت:
حضرت مولانا محمد سعید جعفری المتوفی ۱۱۶۳ھ کے مرید ہوئے، اُن کے وصال کے بعد حضرت شاہ اچھے میاں سے کسب فیض کیا ـ
وصال:
۲۷ رمضان المبارک ۱۲۰۹ھ میں آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
حضرت سید احمد المتوفی ۶۳۵ھ والد ماجد محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء قدس سرہما کے قریب ناصر شاہ دکھنی کے باڑہ میں اپنے مرشد کے پہلو میں مدفون ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-badayuni
حضرت مولانا عبد الغنی بدایونی نہایت برگزیدہ متورع ومتقی اور یکتائے روزگار علماء میں سے تھے ـ
تعلیم:
آپ نے درسیات کی تکمیل حضرت مولانا محمد بحر العلوم بدایونی سے کی ـ
بیعت:
حضرت مولانا محمد سعید جعفری المتوفی ۱۱۶۳ھ کے مرید ہوئے، اُن کے وصال کے بعد حضرت شاہ اچھے میاں سے کسب فیض کیا ـ
وصال:
۲۷ رمضان المبارک ۱۲۰۹ھ میں آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
حضرت سید احمد المتوفی ۶۳۵ھ والد ماجد محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء قدس سرہما کے قریب ناصر شاہ دکھنی کے باڑہ میں اپنے مرشد کے پہلو میں مدفون ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Ghani Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
امام ابو عبد اللہ محمد ابن ماجہ قزوینی ربعی علیہ الرحمۃ ۲۰۹ھ ۲۷۳ھ
اسم گرامی: محمد ـ کنیت ابو عبداللہ لقب حافظ
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
محمد بن یزید بن عبداللہ بن ماجہ ربعی قزوینی ماجہ آپ کے باپ کا لقب تھا جس کی تائید علامہ نووی نے تہذیب الاسماء و اللغات میں علامہ مجدد الدین فیروز آبادی نے قاموس میں علامہ ابو الحسن سندھی نے ابن ماجہ کی شرح میں شاہ عبدالعزیز نے عجالہ میں قزوین کے مشہور مورخ حافظ خلیلی نے اور محدث رافعی نےتاریخ قزوین میں اور امام ابن ماجہ کےشاگرد خاص حافظ ابو الحسن بن قطان نے کی ہے۔ شاہ عبدالعزیز عجالہ نافعہ میں لکھتے ہیں ‘‘ماجہ لقب پدر ابو عبداللہ است نہ لقب جداو نہ نام مادر او’’ (عجالۂ نافعہ، ص۲۳)
آپ کی ولادت عراق عجم کے مشہور شہر قزوین میں ۲۰۹ میں ہوئی۔ آپ نسلاً عجمی تھے قبیلہ ربیعہ کی طرف نسب ولاء کرتے ہوئے ربعی کہلاتے ہیں۔
تحصیل علم:
ابن ماجہ کا زمانہ علم حدیث کی ترقی و اشاعت کا زریں عہد تھا اس علم میں کمال پیدا کرنا ہی علمی حلقوں میں فضیلت کا معیار تھا چناں چہ امام صاحب نے ابتدائی تعلیم کے بعد دیگر بلاد و امصار کی سیاحت و سفر بغرض سماع حدیث شروع کی۔ ابن خلکان کا بیان ہے ‘‘ارتحل الی العراق والبصرۃ والکوفۃ و بغداد و مکۃ والشام و مصر لکتب الحدیث’’ ابن ماجہ نے کتاب حدیث کے لیے عراق، بصرہ، کوفہ، بغداد، مکہ، شام، مصر اور رے کا سفر کیا۔ (وفیات، ج۲، ص۳۶۳)
شاہ عبدالعزیز کے مطابق ابن ماجہ کو عراق، بصرہ، بغداد،مکہ، مدینہ، شام، مصر، واسط رے اوردوسرے اسلامی شہروں میں سفر کا اتفاق ہوا۔(بستان المحدثین، ص۱۹۱)
آپ نے کثیر شیوخ حدیث سے سماع کیا چند اساتذہ کے نام یہ ہیں:
محمد بن عبداللہ بن نمیر، حیارہ بن مفلس، ابراہیم بن منذر الخرمی، عبداللہ بن معاویہ، ہشام بن عمار، محمدبن رمح، داؤد بن رشید۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۸۹) ابو بکر بن ابی شیبہ، احمد بن عبدہ، نصرہ بن علی، ابو مروان محمد بن عباد، عباس بن عبدالعظیم، عبداللہ بن عامر، ابو خثیمہ، زبیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، عبداللہ بن احمد، اسماعیل بن بشر، یحییٰ بن حکیم۔ (تذکرۃ المحدثین سعیدی، ص۳۱۵)
حلقۂ درس اور تلامذہ:
ان اہم ترین شیوخ سے کسب فیض کے بعد ابن ماجہ نے علم حدیث میں وہ رتبہ بلند پالیا تھا جس کا تقاضا تھا کہ آپ کی بارگاہ طالبان حدیث کا مرجع بن جائ چناں چہ ایسا ہی ہوا آپ سے بے شمار لوگوں نے حدیثیں سنیں اور روایت کیں جن میں اکابر، معاصر، اصاغر، سبھی شامل ہیں۔ چند اہم نام یہ ہیں:
علی بن سعید بن عبداللہ غذانی، ابراہیم بن دینار جرشی، احمد بن ابراہیم قزوینی، ابو طیب احمد بن روح شعرانی، اسحاق بن محمد قزوینی، جعفر بن ادریس، حسین بن علی بن برانیاد، سلیمان بن یزید قزوینی محمد بن عیسیٰ صغار، ابو الحسن علی بن ابراہیم بن سلمہ قزوینی، ابو عمر واحمد بن حکیم مدنی۔ (تہذیب، ج۹، ص۴۶۸) محمد بن عیسیٰ ابہری، احمد بن مدح بغدادی، ابو بکر حامدی۔ (تذکرۃ المحدثین سعیدی، ص۳۱۵)
فضل و کمال:
امام ابن ماجہ نے حدیث، علوم حدیث، تاریخ و تفسیر میں جو کمال پیدا کرلیا تھا اس کا اعتراف علماء اور ارباب سیر نے کیا ہے۔
ابن خلکان: ‘‘کان اماماً فی الحدیث عارفا بعلومہ وجمیع مایتعلق بہ’’ ابن ماجہ حدیث کے امام تھے اور علوم حدیث کے جاننے والے اور تمام فنون کا ادراک رکھتے تھے جو حدیث سے متعلق ہیں۔
ابو یعلیٰ خلیلی: ‘‘ثقۃ کبیر متفق علیہ محتج بہ لہ معرفۃ بالحدیث و حفظ و لہ مصنفات فی السنن والتفسیر والتاریخ’’ وہ ثقہ کبیر ہیں ان کی جلالت علم پر سب کا اتفاق ہے وہ حجت ہیں اور علم حدیث میں انہیں گہری معرفت ہے اور وہ حافظ حدیث ہیں۔ سنن، تفسیر اور تاریخ میں ان کی متعدد کتابیں ہیں۔ (تہذیب، ج۹، ص۴۶۸)
حافظ ذہبی: ‘‘الحافظ الکبیر المفسر صاحب السنن والتفسیر والتاریخ و محدث تلک الدیار’’ الحافظ الکبیر امام، سنن، تفسیر اور تاریخ کے مصنف اور ملک خراسان کے محدث ہیں۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۸۹)
ابن جوزی: وہ حدیث و تاریخ اور تفسیر کے ممتاز ماہر تھے۔
ابو القاسم رافعی: ائمہ مسلمین میں ابن ماجہ بھی ایک بڑے معتبر امام ہیں۔ ان کی مقبولیت پر سب کا اتفاق ہے۔
ابن اثیر: وہ ذی عقل، صاحب علم اور امام حدیث تھے۔
جلال الدین: تغری: ابن جامہ امام حجت اور ناقدحدیث تھے۔
ابن ناصر الدین: مشہور علماء اسلام میں ایک ابن ماجہ بھی ہیں وہ حدیثوں کے حافظ اور اس میں نہایت معتبر اور بلندپایہ شخص تھے۔
تصانیف:
امام ابن ماجہ بلند پایہ مصنف بھی تھے۔ آپ کی تین اہم کتابیں مشہور ہیں۔ سنن ابن ماجہ، تفسیر ابن ماجہ، تاریخ ابن ماجہ عہد رسالت سے لے کر مصف کے زمانے تک کی مبسوط تاریخ ہے حافظ ابن طاہر مقدسی کہتے ہیں میں نے قزوین میں اس کا ایک نسخہ دیکھا تھا لیکن اب یہ کتاب ناپید ہوچکی ہے۔ یہ کتاب امام ابن ماجہ کے درک فی التاریخ کی دلیل ہے تفسیر قرآن میں ان کی ایک نادر کتاب تھی ابن کثیر لکھتے ہیں ‘‘ولا بن ماجہ تفسیر حافل’’ اب یہ کتاب ناپید ہے ا س کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن
اسم گرامی: محمد ـ کنیت ابو عبداللہ لقب حافظ
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
محمد بن یزید بن عبداللہ بن ماجہ ربعی قزوینی ماجہ آپ کے باپ کا لقب تھا جس کی تائید علامہ نووی نے تہذیب الاسماء و اللغات میں علامہ مجدد الدین فیروز آبادی نے قاموس میں علامہ ابو الحسن سندھی نے ابن ماجہ کی شرح میں شاہ عبدالعزیز نے عجالہ میں قزوین کے مشہور مورخ حافظ خلیلی نے اور محدث رافعی نےتاریخ قزوین میں اور امام ابن ماجہ کےشاگرد خاص حافظ ابو الحسن بن قطان نے کی ہے۔ شاہ عبدالعزیز عجالہ نافعہ میں لکھتے ہیں ‘‘ماجہ لقب پدر ابو عبداللہ است نہ لقب جداو نہ نام مادر او’’ (عجالۂ نافعہ، ص۲۳)
آپ کی ولادت عراق عجم کے مشہور شہر قزوین میں ۲۰۹ میں ہوئی۔ آپ نسلاً عجمی تھے قبیلہ ربیعہ کی طرف نسب ولاء کرتے ہوئے ربعی کہلاتے ہیں۔
تحصیل علم:
ابن ماجہ کا زمانہ علم حدیث کی ترقی و اشاعت کا زریں عہد تھا اس علم میں کمال پیدا کرنا ہی علمی حلقوں میں فضیلت کا معیار تھا چناں چہ امام صاحب نے ابتدائی تعلیم کے بعد دیگر بلاد و امصار کی سیاحت و سفر بغرض سماع حدیث شروع کی۔ ابن خلکان کا بیان ہے ‘‘ارتحل الی العراق والبصرۃ والکوفۃ و بغداد و مکۃ والشام و مصر لکتب الحدیث’’ ابن ماجہ نے کتاب حدیث کے لیے عراق، بصرہ، کوفہ، بغداد، مکہ، شام، مصر اور رے کا سفر کیا۔ (وفیات، ج۲، ص۳۶۳)
شاہ عبدالعزیز کے مطابق ابن ماجہ کو عراق، بصرہ، بغداد،مکہ، مدینہ، شام، مصر، واسط رے اوردوسرے اسلامی شہروں میں سفر کا اتفاق ہوا۔(بستان المحدثین، ص۱۹۱)
آپ نے کثیر شیوخ حدیث سے سماع کیا چند اساتذہ کے نام یہ ہیں:
محمد بن عبداللہ بن نمیر، حیارہ بن مفلس، ابراہیم بن منذر الخرمی، عبداللہ بن معاویہ، ہشام بن عمار، محمدبن رمح، داؤد بن رشید۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۸۹) ابو بکر بن ابی شیبہ، احمد بن عبدہ، نصرہ بن علی، ابو مروان محمد بن عباد، عباس بن عبدالعظیم، عبداللہ بن عامر، ابو خثیمہ، زبیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، عبداللہ بن احمد، اسماعیل بن بشر، یحییٰ بن حکیم۔ (تذکرۃ المحدثین سعیدی، ص۳۱۵)
حلقۂ درس اور تلامذہ:
ان اہم ترین شیوخ سے کسب فیض کے بعد ابن ماجہ نے علم حدیث میں وہ رتبہ بلند پالیا تھا جس کا تقاضا تھا کہ آپ کی بارگاہ طالبان حدیث کا مرجع بن جائ چناں چہ ایسا ہی ہوا آپ سے بے شمار لوگوں نے حدیثیں سنیں اور روایت کیں جن میں اکابر، معاصر، اصاغر، سبھی شامل ہیں۔ چند اہم نام یہ ہیں:
علی بن سعید بن عبداللہ غذانی، ابراہیم بن دینار جرشی، احمد بن ابراہیم قزوینی، ابو طیب احمد بن روح شعرانی، اسحاق بن محمد قزوینی، جعفر بن ادریس، حسین بن علی بن برانیاد، سلیمان بن یزید قزوینی محمد بن عیسیٰ صغار، ابو الحسن علی بن ابراہیم بن سلمہ قزوینی، ابو عمر واحمد بن حکیم مدنی۔ (تہذیب، ج۹، ص۴۶۸) محمد بن عیسیٰ ابہری، احمد بن مدح بغدادی، ابو بکر حامدی۔ (تذکرۃ المحدثین سعیدی، ص۳۱۵)
فضل و کمال:
امام ابن ماجہ نے حدیث، علوم حدیث، تاریخ و تفسیر میں جو کمال پیدا کرلیا تھا اس کا اعتراف علماء اور ارباب سیر نے کیا ہے۔
ابن خلکان: ‘‘کان اماماً فی الحدیث عارفا بعلومہ وجمیع مایتعلق بہ’’ ابن ماجہ حدیث کے امام تھے اور علوم حدیث کے جاننے والے اور تمام فنون کا ادراک رکھتے تھے جو حدیث سے متعلق ہیں۔
ابو یعلیٰ خلیلی: ‘‘ثقۃ کبیر متفق علیہ محتج بہ لہ معرفۃ بالحدیث و حفظ و لہ مصنفات فی السنن والتفسیر والتاریخ’’ وہ ثقہ کبیر ہیں ان کی جلالت علم پر سب کا اتفاق ہے وہ حجت ہیں اور علم حدیث میں انہیں گہری معرفت ہے اور وہ حافظ حدیث ہیں۔ سنن، تفسیر اور تاریخ میں ان کی متعدد کتابیں ہیں۔ (تہذیب، ج۹، ص۴۶۸)
حافظ ذہبی: ‘‘الحافظ الکبیر المفسر صاحب السنن والتفسیر والتاریخ و محدث تلک الدیار’’ الحافظ الکبیر امام، سنن، تفسیر اور تاریخ کے مصنف اور ملک خراسان کے محدث ہیں۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۸۹)
ابن جوزی: وہ حدیث و تاریخ اور تفسیر کے ممتاز ماہر تھے۔
ابو القاسم رافعی: ائمہ مسلمین میں ابن ماجہ بھی ایک بڑے معتبر امام ہیں۔ ان کی مقبولیت پر سب کا اتفاق ہے۔
ابن اثیر: وہ ذی عقل، صاحب علم اور امام حدیث تھے۔
جلال الدین: تغری: ابن جامہ امام حجت اور ناقدحدیث تھے۔
ابن ناصر الدین: مشہور علماء اسلام میں ایک ابن ماجہ بھی ہیں وہ حدیثوں کے حافظ اور اس میں نہایت معتبر اور بلندپایہ شخص تھے۔
تصانیف:
امام ابن ماجہ بلند پایہ مصنف بھی تھے۔ آپ کی تین اہم کتابیں مشہور ہیں۔ سنن ابن ماجہ، تفسیر ابن ماجہ، تاریخ ابن ماجہ عہد رسالت سے لے کر مصف کے زمانے تک کی مبسوط تاریخ ہے حافظ ابن طاہر مقدسی کہتے ہیں میں نے قزوین میں اس کا ایک نسخہ دیکھا تھا لیکن اب یہ کتاب ناپید ہوچکی ہے۔ یہ کتاب امام ابن ماجہ کے درک فی التاریخ کی دلیل ہے تفسیر قرآن میں ان کی ایک نادر کتاب تھی ابن کثیر لکھتے ہیں ‘‘ولا بن ماجہ تفسیر حافل’’ اب یہ کتاب ناپید ہے ا س کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن
❤1
ماجہ کو تفسیر اور علوم قرآنیہ میں دستگاہ حاصل تھی۔ مگر ان کا خاص میدان علم حدیث تھا اور اسی فن میں انہیں شہر دوام حاصل ہوئی آپ کی سنن کے سامنے بہت سی حدیثی مجموعے پھیکے پڑگئے، سنن ابن ماجہ میں ایک ہزار پانچ سو ابواب ہیں جس میں چار ہزار احادیث ہیں جب امام ابن ماجہ کتاب کی تصنیف میں ایک ہزار پانچ سو ابواب ہیں جس میں چار ہزار احادیث ہیں جب امام ابن ماجہ اس کتاب کی تصنیف سے فارغ ہوئے تو اسے حافظ ابو زرعہ کے سامنے پیش کیا وہ اسے دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھے کہ اگر یہ کتاب لوگوں کے ہاتھ میں پہونچ گئی تو اس دور کی اکثر جوامع مصنفات بے کارو معطل ہوکر رہ جائیں گی۔ ابن ماجہ فرماتے ہیں:
عرضت ھذہ السنن علی ابی زرعۃ فنظر فیہ وقال اظن ان وقع ھذا فی ایدی الناس تعطلت ھذہ الجوامع اواکثرھا۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۸۹)
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: ‘‘کتابہ فی ؛ السنن جامع جید کثیر الابواب والغرائب وفیہ احادیث ضعیفۃ جدا’’ ابن ماجہ کی کتاب سنن میں جامع، عمدہ، کثیر الابواب ولغرائب ہے اور اس میں بہت سی ضعیف حدیثیں ہیں۔ (تہذیب، ج۹، ص۴۶۸)
ابن کثیر کہتے ہیں: صاحب کتاب السنن المشہورۃ ‘‘وھی دالۃ علی عملہ و تبحر واطلاعہ واتباعہ للسنۃ فی الاصول والفروع’’ ابن ماجہ مشہور کتاب سنن کے مصنف ہیں اور یہ کتاب ان کے عمل، علم، تبحر اور اطلاع اور اصول و فروغ میں ان کے اتباع سنت کی دلیل ہے۔ (ابن کثیر، ج۱۱، ص۵۲)
سنن ابن ماجہ کی قبولیت کا بنیادی سبب روایات کا حسن انتخاب ہے۔
ابواب کی فقہی رعایت سے اور ترتیب احادیث سے مسائل کو واضح کرتے ہیں استنباط اور تراجم ابواب کی احادیث سے بغیر کسی پیچیدگی کے مطابقت نے بھی سنن ابن ماجہ کے حسن کو نکھارا ہے۔
سنن ابن ماجہ کی بعض اہم خصوصیات حسب ذیل ہیں۔
سنن ابن ماجہ میں بہت سی ایسی حدیثیں ہیں جو دیگر کتب صحاح میں موجود ہیں ہیں۔
حسن ترتیب میں وہ تمام کتب صحاح پر فائز ہے۔
عدم تکرار اور اختصار کے باوصف وہ انتہائی جامع کتا ہے اور دوسری کتابوں کے مقابل زیادہ مسائل و معلومات پر مشتمل ہے بعض مقامات پر حدیث کی فنی حدیثیت پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔
اس کی مرویات مسائل و احکام سے متعلق ہیں فضائل و مناقب سے متعلق احادیث نہیں سنن ابن ماجہ کا شمار صحاح ستہ میں ہیں یا نہیں؟ اس باب میں علماء اسلام کے درمیان اختلاف رہا ہے پانچویں صدی کے اخرت تک صحاح کی بنیادی کتابوں میں صرف پانچ کتابیں، بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داؤد، نسائی کا شمار ہوتا تھا۔ شیخ بن صلاح اور علامہ نووی نے بھی انہیں پانچوں کا شمار صحاح میں کیا ہے۔ سب سے پہلے۔ حافظ ابو الفضل محمد بن ماجہ کی شروط سے بھی بحث کی اور ان کی سنن کو بھی بنیادی کتابو کے ساتھ ملا کر صحاح کی اصل چھ کتابیں قرار دیں اسیدور میں حافظ طاہر کے معاصرے محدث رزین بن معاویہ مالکی نے اپنی کتاب التحرید الصحاح والسنن میں کتب خمسہ کے ساتھ سنن ابن ماجہ اور مؤطا امام مالک کو لاحق کردیا اس کے بعد اختلاف رہا کہ صحاح ستہ کی چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ ہے یا مؤطا امام مالک۔ اہل مغرب مؤطا کو ترجیح دیتے تھے اور اہل مشرق سنن ابن ماجہ کو لیکن متاخرین نے سنن ابن ماجہ کے حق میں اتفاق کرلیا اور اب علماء ملت کی غالب اکثریت صحاح ستہ کی چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ ہی قرار دیتی ہے (تذکرۃ المحدثین سعیدی، ص۳۲۴)
علامہ ابو الحسن سندھی لکھتے ہے اور متاخرین کی غالب اکثریت اس بات پر ہے کہ سنن ابن ماجہ صحاح ستہ کی چھٹی کتاب ہے۔
سنن ابن ماجہ پر دیگر صحاح کی طرح پر دور میں شروح و حواشی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کا کتام ہوتا رہا ہے جو اس کتاب کی مقبولیت و اہمیت اور افادیت کا واضح ثبوت ہے شرح سنن ابن ماجہ حافظ علاء الدین مغلطائی۔ شرح ابن ماجہ حافظ برہان الدین حلبی، الدیباچہ علی سنن ابن ماجہ شیخ کمال بن محمد بن موسیٰ، مصباح الجاجہ حافظ جلال الدین سیوطی۔ شرح سنن ابن ماجہ، حافظ ابو الحسن محمد بن عبدالباری، شرح ابن ماجہ شیخ سراج احمد فاروقی سرہندی بالخصوص قابل ذکر ہیں۔
اخلاق و کردار:
امام ابن ماجہ فضل وکمال کی طرح تدین و تقویٰ اور زہد و صلاح کے بھی جامع تھے احکام شریعت کی شدت کے ساتھ پابندی کرتے تھے اور اصول و فروغ میں پورے طور پر متبع سنت تھے اس پر خود ان کی سنن شاہد ہے۔
وصال:
ابن ماجہ نے دوشنبہ رمضان المبارک ۲۷۳ھ کو ۶۴ سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا دوسرے دن سہ شنبہ کو تجہیز و تکفین ہوئی آپ کے بھائی ابو بکر نے نماز جنازہ پڑھائی بیٹے عبد اللہ اور آپ کے دو بھائیوں نے لحد میں اتارا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abu-abdullah-muhammad-ibn-majah
عرضت ھذہ السنن علی ابی زرعۃ فنظر فیہ وقال اظن ان وقع ھذا فی ایدی الناس تعطلت ھذہ الجوامع اواکثرھا۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۸۹)
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: ‘‘کتابہ فی ؛ السنن جامع جید کثیر الابواب والغرائب وفیہ احادیث ضعیفۃ جدا’’ ابن ماجہ کی کتاب سنن میں جامع، عمدہ، کثیر الابواب ولغرائب ہے اور اس میں بہت سی ضعیف حدیثیں ہیں۔ (تہذیب، ج۹، ص۴۶۸)
ابن کثیر کہتے ہیں: صاحب کتاب السنن المشہورۃ ‘‘وھی دالۃ علی عملہ و تبحر واطلاعہ واتباعہ للسنۃ فی الاصول والفروع’’ ابن ماجہ مشہور کتاب سنن کے مصنف ہیں اور یہ کتاب ان کے عمل، علم، تبحر اور اطلاع اور اصول و فروغ میں ان کے اتباع سنت کی دلیل ہے۔ (ابن کثیر، ج۱۱، ص۵۲)
سنن ابن ماجہ کی قبولیت کا بنیادی سبب روایات کا حسن انتخاب ہے۔
ابواب کی فقہی رعایت سے اور ترتیب احادیث سے مسائل کو واضح کرتے ہیں استنباط اور تراجم ابواب کی احادیث سے بغیر کسی پیچیدگی کے مطابقت نے بھی سنن ابن ماجہ کے حسن کو نکھارا ہے۔
سنن ابن ماجہ کی بعض اہم خصوصیات حسب ذیل ہیں۔
سنن ابن ماجہ میں بہت سی ایسی حدیثیں ہیں جو دیگر کتب صحاح میں موجود ہیں ہیں۔
حسن ترتیب میں وہ تمام کتب صحاح پر فائز ہے۔
عدم تکرار اور اختصار کے باوصف وہ انتہائی جامع کتا ہے اور دوسری کتابوں کے مقابل زیادہ مسائل و معلومات پر مشتمل ہے بعض مقامات پر حدیث کی فنی حدیثیت پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔
اس کی مرویات مسائل و احکام سے متعلق ہیں فضائل و مناقب سے متعلق احادیث نہیں سنن ابن ماجہ کا شمار صحاح ستہ میں ہیں یا نہیں؟ اس باب میں علماء اسلام کے درمیان اختلاف رہا ہے پانچویں صدی کے اخرت تک صحاح کی بنیادی کتابوں میں صرف پانچ کتابیں، بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داؤد، نسائی کا شمار ہوتا تھا۔ شیخ بن صلاح اور علامہ نووی نے بھی انہیں پانچوں کا شمار صحاح میں کیا ہے۔ سب سے پہلے۔ حافظ ابو الفضل محمد بن ماجہ کی شروط سے بھی بحث کی اور ان کی سنن کو بھی بنیادی کتابو کے ساتھ ملا کر صحاح کی اصل چھ کتابیں قرار دیں اسیدور میں حافظ طاہر کے معاصرے محدث رزین بن معاویہ مالکی نے اپنی کتاب التحرید الصحاح والسنن میں کتب خمسہ کے ساتھ سنن ابن ماجہ اور مؤطا امام مالک کو لاحق کردیا اس کے بعد اختلاف رہا کہ صحاح ستہ کی چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ ہے یا مؤطا امام مالک۔ اہل مغرب مؤطا کو ترجیح دیتے تھے اور اہل مشرق سنن ابن ماجہ کو لیکن متاخرین نے سنن ابن ماجہ کے حق میں اتفاق کرلیا اور اب علماء ملت کی غالب اکثریت صحاح ستہ کی چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ ہی قرار دیتی ہے (تذکرۃ المحدثین سعیدی، ص۳۲۴)
علامہ ابو الحسن سندھی لکھتے ہے اور متاخرین کی غالب اکثریت اس بات پر ہے کہ سنن ابن ماجہ صحاح ستہ کی چھٹی کتاب ہے۔
سنن ابن ماجہ پر دیگر صحاح کی طرح پر دور میں شروح و حواشی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کا کتام ہوتا رہا ہے جو اس کتاب کی مقبولیت و اہمیت اور افادیت کا واضح ثبوت ہے شرح سنن ابن ماجہ حافظ علاء الدین مغلطائی۔ شرح ابن ماجہ حافظ برہان الدین حلبی، الدیباچہ علی سنن ابن ماجہ شیخ کمال بن محمد بن موسیٰ، مصباح الجاجہ حافظ جلال الدین سیوطی۔ شرح سنن ابن ماجہ، حافظ ابو الحسن محمد بن عبدالباری، شرح ابن ماجہ شیخ سراج احمد فاروقی سرہندی بالخصوص قابل ذکر ہیں۔
اخلاق و کردار:
امام ابن ماجہ فضل وکمال کی طرح تدین و تقویٰ اور زہد و صلاح کے بھی جامع تھے احکام شریعت کی شدت کے ساتھ پابندی کرتے تھے اور اصول و فروغ میں پورے طور پر متبع سنت تھے اس پر خود ان کی سنن شاہد ہے۔
وصال:
ابن ماجہ نے دوشنبہ رمضان المبارک ۲۷۳ھ کو ۶۴ سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا دوسرے دن سہ شنبہ کو تجہیز و تکفین ہوئی آپ کے بھائی ابو بکر نے نماز جنازہ پڑھائی بیٹے عبد اللہ اور آپ کے دو بھائیوں نے لحد میں اتارا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abu-abdullah-muhammad-ibn-majah
scholars.pk
Imam Abu Abdullah Muhammad Ibn e Maja Quzwaini Rubee
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سخی شاہ سلیمان نوری علیہ الرحمۃ
اوصافِ جمیلہ
آپ سلطان الراسخین، دلیل العارفین، زبدۃ الاولیاء والمتقین، عمدۃ الاصفیا والموحدین، خزینۃ العلوم و الانوار، سفینۃ الارشاد و الاسرار، قطب الواصلین، غوث العالمین، سید الاوتاد، امام الافراد، صاحب جودو کرم جذب و عشق و محبت و سکر و وجد و سماع تھے۔ حضرت مخدوم شاہ معروف چشتی خوشابی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔
نام و نسب
آپ کا نام نامی سلیمان، لقب گرامی سخی بادشاہ، سخی پیر، [۱] [۱۔ حدیث شریف میں سخی کے بڑے فضایل مروی ہیں چنانچہ السخی حبیب اللہ۔ اور السخی قریب اللہ قریب من الجنۃ قریب من الناس (گنجینہ عرفان)] نوری، حضوری، شیخ صاحب، شاہِ شاہاں تھا۔
آپ معزز خاندان قریشی کے چشم و چراغ تھے، اور آبا و اجداد سے نعمتِ فقر موروثی رکھتے تھے، والد بزرگوار کا نام شیخ عبد اللہ المعروف میاں منگو صاحب تھا، ابن جلال الدین بن شمس الدین بن محمد مراد بن محمد صالح بن شیخ حسین بن عبد الخالق بن خدایار بن سلطان علی بن عَون بن قاسِم بن اسمٰعیل بن مظہر بن ادم بن عبد الشکور بن عبد العلی بن مطرف بن خزیمہ بن خادم بن مطرف بن عبد الرحیم بن عبد الرحمٰن بن عیار صحابی بن اسد بن مطلب بن اسد بن عبد العزّٰی بن قصَیّ بن کِلاب بن مُرّہ بن کعب القرشی [۱] [۱۔ خلاصۃ العارفین ۱۲ شرافت] آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت مائی بھاگ بھری صاحبہ رحمۃ اللہ علیہ تھا۔
ولادت
آپ کی ولادت با سعادت [۱] [۱۔ تقویم ہجری و عیسوی کے رُو سے وہ جمعہ کا دن تھا اور ۷؍ جولائی ۱۵۰۸ء ماہ؍ ہاطِ ۱۵۶۵ ب تاریخ تھی ۱۲ شرافت] بتاریخ ہشتم (۸) ربیع الاول ۹۱۴ھ نو سو چودہ ہجری [۱] [۱۔ مناقباتِ نوشاہیہ ۱۲] مطابق ۱۵۰۸ء ایک ہزار پانسو آٹھ عیسوی میں بمقام بھلوال شریف ہوئی۔
تربیتِ ظاہری و باطنی
آپ نے اپنے پدر بزرگوار کے آغوش عاطفت میں پرورش پائی شروع سے طبیعت میں سکریہ جذبات تھے، جب چار سالہ [۱] [۱۔ خزینۃ الاصفیا جلد اول ص ۱۶۹] ہوئے تو ایک دن حضرت شاہ معروف خوشابی رحمۃ اللہ علیہ سیر فرماتے ہوئے بھلوال شریف پہنچے، اور آپ کے والد رحمۃ اللہ علیہ کے گھر شب باش ہوئے، صبح آپ کو صحن خانہ میں کھیلتے دیکھ کر کمال خوش ہوئے، اور بُشرہ سے پہچان لیا کہ یہی وہ انسان ہے، جس کے لیے ہمیں اِس علاقہ میں بھیجا گیا ہے نہایت محبت سے آپ کے چہرہ پر ہاتھ پھیرا، اور پیشانی پر بوسہ دیا، اور آپ کے باپ کو فرمایا میاں منگو! یہ لڑکا ہماری امانت ہے، اس کو بحفاظت رکھنا، یہ ایسامرد ہوگا کہ تمام جہان اس سے مستفیض ہوگا، اگر اس کو کسی وقت بیہوشی ہوجایا کرے تو آسیب یا بیماری نہ خیال کرنا، یہ ہماری توجہ کی علامت ہوگی، اور ہم بھی اس کے حال سے غافل نہیں رہیں گے، چنانچہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نہایت مہربانی فرما کر رخصت ہوگئے، اور بعد ازاں گاہے گاہے بھلوال شریف آکر خبر گیری اور تربیت روحانی کرتے رہے۔ [۱] [۱۔ الاعجاز (رسالہ احمد بیگ قلمی ص ۲۴)]
عالمِ بیخودی
جیسا کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا، آپ پر بیخودی طاری ہو جاتی، مدہوشی میں زمین پر گر پڑتے، منہ سے کف ظاہرہوتی، اعضا ٹیڑھے ہوجاتے سر مبارک پھر جاتا، چہرہ مونڈہوں پر جا لگتا۔ [۱] [۱۔ ایضًا ص ۲۵]
واقعہ بیعت
اسی طرح جب آپ جوان ہوئے تو جذبہ الٰہی نے کشش کی، تلاش ہادی میں صحرا نور دی کرتے ہوئے خوشاب شریف میں حضرت شیخ المشایخ مجمع البحرین مخدوم شاہ معروف فارقی چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے، اور اُن کے دستِ حق پرست پر بیعت طریقت کی۔ [۱] [۱۔ ایضًا ص ۲۷ شرافت]
خلافت و اجازت
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کچھ عرصہ آپ کو اپنے پاس رکھا، اور توجہات کیں، آپ کا شوق دن بدن بڑھتا گیا، اور ہر گھڑی و ہر لمحہ مراتب و درجات میں ترقی ہوتی رہی یہاں تک کہ مقصد حقیقی کو پالیا، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے علو مرتبت اور سمّوِ مناصب کو دیکھ کر آپ کو خلعت خلافت و اجازت سے مفتخر کیا اور فرمایا اے فرزند! جو امانت ہم کو قبلۃ العارفین حضرت مخدوم سید مبارک حقانی اوچی رحمۃ اللہ علیہ سے ملی تھی، اور اُن کو سلسلہ وار اپنے آبا و اجداد سے موصول ہوئی تھی، وہ سب تم کو دے دی ہے، اب دو تلواریں ایک نیام میں گنجائش نہیں رکھتیں، تم یہاں سے جا کر کچھ عرصہ ملکِ الٰہی کا سیر کرو، اور پھر وطنِ مالوف مقیم ہوکر لوگوں کو خدا کی طرف راہ نمائی کرو۔ [۱] [۱۔ رسالہ احمد بیگ ص ۲۸ شرافت]
مکمل پڑھنے کے لئے یہاں ↓ جائیں!
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sakhi-shah-suleman-noori
اوصافِ جمیلہ
آپ سلطان الراسخین، دلیل العارفین، زبدۃ الاولیاء والمتقین، عمدۃ الاصفیا والموحدین، خزینۃ العلوم و الانوار، سفینۃ الارشاد و الاسرار، قطب الواصلین، غوث العالمین، سید الاوتاد، امام الافراد، صاحب جودو کرم جذب و عشق و محبت و سکر و وجد و سماع تھے۔ حضرت مخدوم شاہ معروف چشتی خوشابی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔
نام و نسب
آپ کا نام نامی سلیمان، لقب گرامی سخی بادشاہ، سخی پیر، [۱] [۱۔ حدیث شریف میں سخی کے بڑے فضایل مروی ہیں چنانچہ السخی حبیب اللہ۔ اور السخی قریب اللہ قریب من الجنۃ قریب من الناس (گنجینہ عرفان)] نوری، حضوری، شیخ صاحب، شاہِ شاہاں تھا۔
آپ معزز خاندان قریشی کے چشم و چراغ تھے، اور آبا و اجداد سے نعمتِ فقر موروثی رکھتے تھے، والد بزرگوار کا نام شیخ عبد اللہ المعروف میاں منگو صاحب تھا، ابن جلال الدین بن شمس الدین بن محمد مراد بن محمد صالح بن شیخ حسین بن عبد الخالق بن خدایار بن سلطان علی بن عَون بن قاسِم بن اسمٰعیل بن مظہر بن ادم بن عبد الشکور بن عبد العلی بن مطرف بن خزیمہ بن خادم بن مطرف بن عبد الرحیم بن عبد الرحمٰن بن عیار صحابی بن اسد بن مطلب بن اسد بن عبد العزّٰی بن قصَیّ بن کِلاب بن مُرّہ بن کعب القرشی [۱] [۱۔ خلاصۃ العارفین ۱۲ شرافت] آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت مائی بھاگ بھری صاحبہ رحمۃ اللہ علیہ تھا۔
ولادت
آپ کی ولادت با سعادت [۱] [۱۔ تقویم ہجری و عیسوی کے رُو سے وہ جمعہ کا دن تھا اور ۷؍ جولائی ۱۵۰۸ء ماہ؍ ہاطِ ۱۵۶۵ ب تاریخ تھی ۱۲ شرافت] بتاریخ ہشتم (۸) ربیع الاول ۹۱۴ھ نو سو چودہ ہجری [۱] [۱۔ مناقباتِ نوشاہیہ ۱۲] مطابق ۱۵۰۸ء ایک ہزار پانسو آٹھ عیسوی میں بمقام بھلوال شریف ہوئی۔
تربیتِ ظاہری و باطنی
آپ نے اپنے پدر بزرگوار کے آغوش عاطفت میں پرورش پائی شروع سے طبیعت میں سکریہ جذبات تھے، جب چار سالہ [۱] [۱۔ خزینۃ الاصفیا جلد اول ص ۱۶۹] ہوئے تو ایک دن حضرت شاہ معروف خوشابی رحمۃ اللہ علیہ سیر فرماتے ہوئے بھلوال شریف پہنچے، اور آپ کے والد رحمۃ اللہ علیہ کے گھر شب باش ہوئے، صبح آپ کو صحن خانہ میں کھیلتے دیکھ کر کمال خوش ہوئے، اور بُشرہ سے پہچان لیا کہ یہی وہ انسان ہے، جس کے لیے ہمیں اِس علاقہ میں بھیجا گیا ہے نہایت محبت سے آپ کے چہرہ پر ہاتھ پھیرا، اور پیشانی پر بوسہ دیا، اور آپ کے باپ کو فرمایا میاں منگو! یہ لڑکا ہماری امانت ہے، اس کو بحفاظت رکھنا، یہ ایسامرد ہوگا کہ تمام جہان اس سے مستفیض ہوگا، اگر اس کو کسی وقت بیہوشی ہوجایا کرے تو آسیب یا بیماری نہ خیال کرنا، یہ ہماری توجہ کی علامت ہوگی، اور ہم بھی اس کے حال سے غافل نہیں رہیں گے، چنانچہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نہایت مہربانی فرما کر رخصت ہوگئے، اور بعد ازاں گاہے گاہے بھلوال شریف آکر خبر گیری اور تربیت روحانی کرتے رہے۔ [۱] [۱۔ الاعجاز (رسالہ احمد بیگ قلمی ص ۲۴)]
عالمِ بیخودی
جیسا کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا، آپ پر بیخودی طاری ہو جاتی، مدہوشی میں زمین پر گر پڑتے، منہ سے کف ظاہرہوتی، اعضا ٹیڑھے ہوجاتے سر مبارک پھر جاتا، چہرہ مونڈہوں پر جا لگتا۔ [۱] [۱۔ ایضًا ص ۲۵]
واقعہ بیعت
اسی طرح جب آپ جوان ہوئے تو جذبہ الٰہی نے کشش کی، تلاش ہادی میں صحرا نور دی کرتے ہوئے خوشاب شریف میں حضرت شیخ المشایخ مجمع البحرین مخدوم شاہ معروف فارقی چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے، اور اُن کے دستِ حق پرست پر بیعت طریقت کی۔ [۱] [۱۔ ایضًا ص ۲۷ شرافت]
خلافت و اجازت
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کچھ عرصہ آپ کو اپنے پاس رکھا، اور توجہات کیں، آپ کا شوق دن بدن بڑھتا گیا، اور ہر گھڑی و ہر لمحہ مراتب و درجات میں ترقی ہوتی رہی یہاں تک کہ مقصد حقیقی کو پالیا، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے علو مرتبت اور سمّوِ مناصب کو دیکھ کر آپ کو خلعت خلافت و اجازت سے مفتخر کیا اور فرمایا اے فرزند! جو امانت ہم کو قبلۃ العارفین حضرت مخدوم سید مبارک حقانی اوچی رحمۃ اللہ علیہ سے ملی تھی، اور اُن کو سلسلہ وار اپنے آبا و اجداد سے موصول ہوئی تھی، وہ سب تم کو دے دی ہے، اب دو تلواریں ایک نیام میں گنجائش نہیں رکھتیں، تم یہاں سے جا کر کچھ عرصہ ملکِ الٰہی کا سیر کرو، اور پھر وطنِ مالوف مقیم ہوکر لوگوں کو خدا کی طرف راہ نمائی کرو۔ [۱] [۱۔ رسالہ احمد بیگ ص ۲۸ شرافت]
مکمل پڑھنے کے لئے یہاں ↓ جائیں!
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sakhi-shah-suleman-noori
scholars.pk
Hazrat Sakhi Shah Suleman Noori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
تراب الحق قادری ، علامہ سید شاہ، رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام ونسب:اسمِ گرامی: اسمِ گرامی: شاہ تراب الحق۔آپ کانام ایک عظیم بزرگ حضرت ’’شاہ تراب الحق‘‘ علیہ الرحمۃکے نام پر رکھا گیا، جن کا مزار حید آباد دکن ہندوستان میں ہے۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت سیّدشاہ تراب الحق قادری بن حضرت سیّد شاہ حسین قادری بن سیّد شاہ محی الدین قادری بن سیّد شاہ عبداللہ قادری بن سیّد شاہ میراں قادری اور والدۂ ماجد کی طرف سے آٓپ کا سلسلۂ نسب فضیلت جنگ، بانیِ جامعہ نظامیہ حیدرآباددکن،شیخ الاسلام حضرت امام انواراللہ فاروقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے واسطے سے امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جا کرملتاہے۔(رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادتِ باسعادت 27؍رمضان المبارک 1363ھ/15؍ستمبر1944ء کو موضع کلمبر شہرناندھیڑ(ریاست حیدرآباددکن،انڈیا)میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم مدرسۂ تحتانیہ دودھ بولی بیرون دروازہ نزد جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن ہندوستان سے حاصل کی۔ پاکستان تشریف آوری کے بعد پی آئی بی کالونی کراچی میں فیضِ عام ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے رشتے کے خالو اور سسر پیر ِطریقت رہبرِ شریعت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدّیقی علیہ الرحمۃ سے گھر پر کتابیں پڑھیں اور پھر دارالعلوم امجدیہ کراچی میں داخلہ لیا؛ لیکن زیادہ تر اَسباق شیخِِ طریقت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدّیقی رضوی علیہ الرحمۃ سے پڑھے۔ سندِ حدیث صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ کے صاحبزادے حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری علیہ الرحمۃ، جو اُس وقت دارالعلوم امجدیہ کراچی کے شیخ الحدیث تھے،سےحاصل کی، جب کہ اعزازی سند وقارِ ملّت، سرمایۂ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی علیہ الرحمۃ (مفتیِ اعظم پاکستان)سے حاصل کی۔
بیعت وخلافت: 1962ء میں بذریعۂ خط اور 1968ء میں بریلی شریف جاکرمفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا۔حضرت مفتیِ اعظم ہند، حضرت قاری محمد مصلح الدین صدّیقی ،حضرت شیخ فضل الرحمٰن مدنی(علیھم الرحمۃ) نے اجازت وخلافت سے نوازا۔
سیرت وخصائص: بقیۃ السلف،حجۃ الخلف، شیخِ طریقت ،امیرِ جماعتِ اہلِ سنّت،مردِ مومن مردِحق حضرت علامہ سیّدشاہ تراب الحق قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔آپ علیہ الرحمۃ کانام جیسے ہی ذہن میں آتاہے،توایک جامعِ شریعت وطریقت شخصیت کا خاکہ ہمارے سامنے آجاتاہے، جن کی زندگی کوتامل کیے بغیرایک مردِ مجاہداورمردِ مومن کی زندگی قراردیاجاسکتا ہے۔ آپ علیہ الرحمۃ اِن حالات میں اہلِ سنّت کےلیے ایک شجرِسایہ داراورعظیم نعمت تھے۔آپ بلاشبہ مسلکِ حق اہلِ سنّت وجماعت کےسچے ترجمان،اور تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کےپاسبان تھے۔ دینی خدمات، تنظیماتِ اہلِ سنّت اورمساجد ومدارسِ اہلِ سنّت کی سرپرستی،متوسّلین کاتزکیۂ نفس،عوامِ اہلِ سنّت کےایمان کی حفاظت کےلیے درس و بیان، دُکھیاری اُمّت کاروحانی وجسمانی علاج اور ان کے مسائل کاحل، اندرون و بیرونِ ملک تبلیغی دورے، پھرمصروفیات میں سے وقت نکال کر تالیف وتصنیف، بدمذہبوں کااخبارات وجرائدمیں علمی تعاقب، یہ سب کچھ، اِس پُرفتن اورنفسا نفسی کے دور میں قبلہ شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی ذاتِ مبارکہ کاخاصّہ تھا، جواتنے کام فی سبیل اللہ سرانجام دیتے تھے۔ آپ ’’عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَنۡۢبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْل‘‘ کامِصداق اور ’’اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا‘‘ کی تعبیراور’’اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ‘‘ کی تفسیر تھے۔حضرت خطابت میں اپنی مثال آپ تھے۔مخصوص اندازولہجے میں جب بیان فرماتے تو دل و دماغ منوّر ہو جاتے تھے۔آپ کی دینی و سیاسی خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بالخصوص
“C-295” کے تحت گستاخِ رسولﷺکی سزائےموت آپ کاایک عظیم کارنامہ ہے۔ (ویسے تو ہمارے کرپٹ حکمران ’’قانون‘‘، ’’قانون‘‘ کہتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں؛ لیکن اس قانون پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہواہے، اِس وقت(2016ء) تک تقریباً 1400کیسز توہینِ رسالت کے درج کیے گئے، عدالتوں کےپاس ثبوت بھی موجود ہیں، لیکن کسی کوسزائے موت نہیں ملی۔ اگر معاملات ایسے ہی چلتے رہے، تو حکمرانوں کے ذہن میں غازیِ ملّت ملک ممتازحسین قادری شہیدعلیہ الرحمۃ کا ضرورتصورہوناچاہیے کہ ناموسِ رسالت کے مسئلےپر ہر سنّی ممتاز قادری ہے)۔ اِس فقیر(تونسوی غُفِرَلَہٗ)نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ جب جامع مسجداقصیٰ نزد عوامی مرکز میں تحفّظِ ناموسِ مصطفیٰﷺ کےسلسلے میں ’’علما کنونشن‘‘ منعقد ہوا، اُس وقت شاہ صاحب نہایت علیل تھے، لیکن شاہ صاحب نے علالت کے باوجود شرکت فرمائی، اورخطاب فرمایا،اورآپ کی جرأت وشجاعت اور دینِ متین کےلیے کُڑھن دیکھ کر سب
نام ونسب:اسمِ گرامی: اسمِ گرامی: شاہ تراب الحق۔آپ کانام ایک عظیم بزرگ حضرت ’’شاہ تراب الحق‘‘ علیہ الرحمۃکے نام پر رکھا گیا، جن کا مزار حید آباد دکن ہندوستان میں ہے۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت سیّدشاہ تراب الحق قادری بن حضرت سیّد شاہ حسین قادری بن سیّد شاہ محی الدین قادری بن سیّد شاہ عبداللہ قادری بن سیّد شاہ میراں قادری اور والدۂ ماجد کی طرف سے آٓپ کا سلسلۂ نسب فضیلت جنگ، بانیِ جامعہ نظامیہ حیدرآباددکن،شیخ الاسلام حضرت امام انواراللہ فاروقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے واسطے سے امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جا کرملتاہے۔(رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادتِ باسعادت 27؍رمضان المبارک 1363ھ/15؍ستمبر1944ء کو موضع کلمبر شہرناندھیڑ(ریاست حیدرآباددکن،انڈیا)میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم مدرسۂ تحتانیہ دودھ بولی بیرون دروازہ نزد جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن ہندوستان سے حاصل کی۔ پاکستان تشریف آوری کے بعد پی آئی بی کالونی کراچی میں فیضِ عام ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے رشتے کے خالو اور سسر پیر ِطریقت رہبرِ شریعت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدّیقی علیہ الرحمۃ سے گھر پر کتابیں پڑھیں اور پھر دارالعلوم امجدیہ کراچی میں داخلہ لیا؛ لیکن زیادہ تر اَسباق شیخِِ طریقت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدّیقی رضوی علیہ الرحمۃ سے پڑھے۔ سندِ حدیث صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ کے صاحبزادے حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری علیہ الرحمۃ، جو اُس وقت دارالعلوم امجدیہ کراچی کے شیخ الحدیث تھے،سےحاصل کی، جب کہ اعزازی سند وقارِ ملّت، سرمایۂ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی علیہ الرحمۃ (مفتیِ اعظم پاکستان)سے حاصل کی۔
بیعت وخلافت: 1962ء میں بذریعۂ خط اور 1968ء میں بریلی شریف جاکرمفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا۔حضرت مفتیِ اعظم ہند، حضرت قاری محمد مصلح الدین صدّیقی ،حضرت شیخ فضل الرحمٰن مدنی(علیھم الرحمۃ) نے اجازت وخلافت سے نوازا۔
سیرت وخصائص: بقیۃ السلف،حجۃ الخلف، شیخِ طریقت ،امیرِ جماعتِ اہلِ سنّت،مردِ مومن مردِحق حضرت علامہ سیّدشاہ تراب الحق قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔آپ علیہ الرحمۃ کانام جیسے ہی ذہن میں آتاہے،توایک جامعِ شریعت وطریقت شخصیت کا خاکہ ہمارے سامنے آجاتاہے، جن کی زندگی کوتامل کیے بغیرایک مردِ مجاہداورمردِ مومن کی زندگی قراردیاجاسکتا ہے۔ آپ علیہ الرحمۃ اِن حالات میں اہلِ سنّت کےلیے ایک شجرِسایہ داراورعظیم نعمت تھے۔آپ بلاشبہ مسلکِ حق اہلِ سنّت وجماعت کےسچے ترجمان،اور تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کےپاسبان تھے۔ دینی خدمات، تنظیماتِ اہلِ سنّت اورمساجد ومدارسِ اہلِ سنّت کی سرپرستی،متوسّلین کاتزکیۂ نفس،عوامِ اہلِ سنّت کےایمان کی حفاظت کےلیے درس و بیان، دُکھیاری اُمّت کاروحانی وجسمانی علاج اور ان کے مسائل کاحل، اندرون و بیرونِ ملک تبلیغی دورے، پھرمصروفیات میں سے وقت نکال کر تالیف وتصنیف، بدمذہبوں کااخبارات وجرائدمیں علمی تعاقب، یہ سب کچھ، اِس پُرفتن اورنفسا نفسی کے دور میں قبلہ شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی ذاتِ مبارکہ کاخاصّہ تھا، جواتنے کام فی سبیل اللہ سرانجام دیتے تھے۔ آپ ’’عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَنۡۢبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْل‘‘ کامِصداق اور ’’اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا‘‘ کی تعبیراور’’اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ‘‘ کی تفسیر تھے۔حضرت خطابت میں اپنی مثال آپ تھے۔مخصوص اندازولہجے میں جب بیان فرماتے تو دل و دماغ منوّر ہو جاتے تھے۔آپ کی دینی و سیاسی خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بالخصوص
“C-295” کے تحت گستاخِ رسولﷺکی سزائےموت آپ کاایک عظیم کارنامہ ہے۔ (ویسے تو ہمارے کرپٹ حکمران ’’قانون‘‘، ’’قانون‘‘ کہتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں؛ لیکن اس قانون پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہواہے، اِس وقت(2016ء) تک تقریباً 1400کیسز توہینِ رسالت کے درج کیے گئے، عدالتوں کےپاس ثبوت بھی موجود ہیں، لیکن کسی کوسزائے موت نہیں ملی۔ اگر معاملات ایسے ہی چلتے رہے، تو حکمرانوں کے ذہن میں غازیِ ملّت ملک ممتازحسین قادری شہیدعلیہ الرحمۃ کا ضرورتصورہوناچاہیے کہ ناموسِ رسالت کے مسئلےپر ہر سنّی ممتاز قادری ہے)۔ اِس فقیر(تونسوی غُفِرَلَہٗ)نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ جب جامع مسجداقصیٰ نزد عوامی مرکز میں تحفّظِ ناموسِ مصطفیٰﷺ کےسلسلے میں ’’علما کنونشن‘‘ منعقد ہوا، اُس وقت شاہ صاحب نہایت علیل تھے، لیکن شاہ صاحب نے علالت کے باوجود شرکت فرمائی، اورخطاب فرمایا،اورآپ کی جرأت وشجاعت اور دینِ متین کےلیے کُڑھن دیکھ کر سب
❤1