🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-09-1444 ᴴ | 18-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-09-1444 ᴴ | 18-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت جمیل شاہ داتار رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: سید عبد الہادی۔لقب: سخی داتار،جمیل شاہ گرناری۔لیکن آپ ’’جمیل شاہ داتار،اور سخی داتار‘‘ کےنام سے معروف ہیں۔’’گرناری‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ ایک ’’گرنار‘‘ نامی پہاڑ (جونا گڑھ) پر چلہ کش ہوئے تھے۔(تذکرہ اولیائے سندھ:124)۔آپ کا نسبی تعلق حسینی ساداتِ کرام سےہے۔سلسلہ ٔ نسب حضرت امام موسیٰ کاظمکے توسل سےسیدنا امام حسینتک پہنچتا ہے۔(سندھ کےصوفیائے نقشبندحصہ اول:299)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 27/ رمضان المبارک بروز جمعرات580ھ مطابق 3/جنوری 1185ء کو’’مشہد مقدس‘‘ ایران میں ہوئی۔(تذکرہ اولیاء سندھ:124)
مہد میں کلام: پیدائش کےساتویں روز جب مؤذن آذآن دے چکا،تو آپ نے فصیح زبان میں یہ کلمات اداکیے۔’’لاالہ الا اللہ لا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین‘‘۔ (صوفیائے نقشبند حصہ اول:301)
تحصیلِ علم: آپ نے صرف سات سال کی عمر میں قرآنِ پاک مکمل حفظ کرلیا۔اس کےبعد علوم دینیہ کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے،اور پندرہ سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم ِ دینیہ کی تکمیل کرلی اور تفسیر وحدیث میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔اس کےبعد علوم ِ باطنی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس میں بھی کمال حاصل کیا۔
بیعت وخلافت: آپ کے آباؤ اجداد کا مشرب سلسلہ عالیہ چشتیہ کا تھا۔لیکن آپ خاص خاص افراد کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں اور عام لوگوں کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت فرمایا کرتےتھے۔آپ کاقلبی لگاؤ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی طرف تھا۔لیکن آپ سے تمام سلاسل کےلوگ یکساں فیض حاصل کرتےتھے۔(ایضا: 300)
سیرت وخصائص: قدوۃ الصلحاء،زبدۃ الاولیاء،عمدۃ الاتقیاء،عارفِ اسرار یزدانی،حضرت سید عبدالہادی گرناری المعرف حضرت سخی جمیل شاہ داتار۔آپ کو علم و تقویٰ وراثت میں ملے تھے۔بچپن سے ہی آثارِ سعادت ظاہر تھے۔یہی وجہ ہے کہ سات سال کی قلیل عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا،اور پندرہ سال کی عمر میں علوم منقول ومعقول کی تحصیل وتکمیل کرلی۔تکمیل ِ علوم کےبعد زیارتِ حرمین شریفین کا قصد کیا۔حج کی سعادت اور روضۂ انورکی حاضری کےبعد ہندوستان کا رخ کیا۔ہند میں گرنار نامی پہاڑ پر جونا گڑھ میں ہے عبادت وریاضت میں مصروف ہوگئے۔اس غار میں آپ کی عبادت وریاضت کاصاحبِ حدیقۃ الاولیاء نےاشعار کی صورت میں خوبصورت نقشہ کھینچاہے۔اس دوران آپ اپنے چہرے پر نقاب ڈالے رہے۔جب نقاب اٹھاکر غار سے باہر آئے تو آپ کے چہرے سے چمکنے والے انوار وتجلیات کو دیکھ کرمخلوقِ خداآپ کی شیدا ہوگئی،اور دور دراز سے لوگ آپ کی زیارت کو آنے لگے،اور آپ کے فیوضات وبرکات سے مستفید ہونے لگے۔اس بات کوصاحبِ حدیقۃ الاولیاء منظوم بیان فرماتے ہیں:
بعد ازاں آں گوہر بحر مشہود۔۔۔۔۔از نقاب احتفا چہرہ کشود
زائران ِ آستانش صد ہزار۔۔۔ می رسد از ہر طرف لیل ونہار
سرفرازاں آں وخداوندانِ جاہ۔۔سروراں صاحبِ تخت وکلاہ
حجرہ شریف: اسی پہاڑی کے کنارے پر آپ نے اپنی عبادت اور مخلوقِ خدا کی فیض یابی کےلئے ایک حجرہ تعمیر کرایا،اور وہاں رشد وہدایت کا سلسلہ شروع کردیا۔جہاں بڑے بڑے تخت وتاج والے حاضری کو اپنی سعادت سمجھتےتھے۔وہ حجرہ آج بھی وہاں موجود ہے۔(ایضا: 300)
سندھ میں آمد: ٹھٹہ اس زمانے میں علم وفن کا مرکزتھا۔اس وقت حضرت شیخ محمد حسین المعروف پیر پَٹّھُو ٹھٹہ میں مقیم تھے۔آپ اکیلے تبلیغِ دین میں مصروف تھے۔جادوگروں کا زور تھا۔انہوں نے لوگوں کو زیادہ پریشان کرنا شروع کردیا تھا۔شعبدہ بازی اور جادو کے زور پر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنےلگے،تو حضرت پیر پٹھو کی استدعا پرآپ سندھ میں تشریف لائے،اور ٹھٹھہ میں قیام فرماکر مخلوقِ خدا کی رہبری اور ہدایت میں مصروف ہوگئے۔آپ کی کرامت کےآگے جادوگروں کا جادو ناکام ہوگیا۔مخلوقِ خدا جوق در جوق آپ کی خدمت میں آنے لگی۔غیر مسلم اسلام کی دولت سےمشرف ہوتے،اور فساق وفجار تقوے کےنور سےمنور ہوتے۔آپ کی برکت سے اس خطے میں اسلام کی بہاریں نظر آنےلگیں۔اخیرعمر میں آپ نے اس پہاڑ جہاں حضرت پیر پٹھو کا قیام تھا،اور اب مزار ہے،وہاں ایک چھوٹا سا حجرہ اپنے لئے تعمیر کرالیا تھا۔ جہاں آپ ہمیشہ عبادت وریاضت اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں مصروف رہتے۔
آپ صرف خانقاہ کے صوفی نہ تھے۔بلکہ ملکی حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتےتھے۔تبلیغِ دین کا فریضہ پوری قوت سے ادا کرتے،اس میں امیر وکبیر،حاکم و وزیر کاکوئی لحاظ نہ ہوتا تھا۔اگر حاکمِ وقت بھی شرع شریف سے انحراف کرتا،تو آپ اس کو فوراً تنبیہ کرتے،اور سرکش بادشاہوں کو شریعت کےآگے جھکنے پر مجبور کردیا کرتے تھے۔آپ کےزمانے میں کسی حاکم کو اسلام کے خلاف سازش کرنے کی ہمت نہ تھی۔
ٹھٹھہ میں بت پرستی کا خاتمہ: آپ کی ٹھٹہ میں تشریف آوری کےبعد جب مندروں کےپجاری بتوں کی پوجا کےلئے گئے،تو ان کےآگے جُھک نہ سکے،اور پوجا نہ کرسکے۔ہزار کوشش کےباوجود ان کے سر معبودان باطلہ کے آگے نہ جھک سکے۔لوگوں نے انہیں بتایا کہ یہ اس ولی کامل کی برکت ہے،جو ابھی ٹھٹہ میں تشریف لائے ہیں۔آپ
نام ونسب: سید عبد الہادی۔لقب: سخی داتار،جمیل شاہ گرناری۔لیکن آپ ’’جمیل شاہ داتار،اور سخی داتار‘‘ کےنام سے معروف ہیں۔’’گرناری‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ ایک ’’گرنار‘‘ نامی پہاڑ (جونا گڑھ) پر چلہ کش ہوئے تھے۔(تذکرہ اولیائے سندھ:124)۔آپ کا نسبی تعلق حسینی ساداتِ کرام سےہے۔سلسلہ ٔ نسب حضرت امام موسیٰ کاظمکے توسل سےسیدنا امام حسینتک پہنچتا ہے۔(سندھ کےصوفیائے نقشبندحصہ اول:299)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 27/ رمضان المبارک بروز جمعرات580ھ مطابق 3/جنوری 1185ء کو’’مشہد مقدس‘‘ ایران میں ہوئی۔(تذکرہ اولیاء سندھ:124)
مہد میں کلام: پیدائش کےساتویں روز جب مؤذن آذآن دے چکا،تو آپ نے فصیح زبان میں یہ کلمات اداکیے۔’’لاالہ الا اللہ لا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین‘‘۔ (صوفیائے نقشبند حصہ اول:301)
تحصیلِ علم: آپ نے صرف سات سال کی عمر میں قرآنِ پاک مکمل حفظ کرلیا۔اس کےبعد علوم دینیہ کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے،اور پندرہ سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم ِ دینیہ کی تکمیل کرلی اور تفسیر وحدیث میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔اس کےبعد علوم ِ باطنی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس میں بھی کمال حاصل کیا۔
بیعت وخلافت: آپ کے آباؤ اجداد کا مشرب سلسلہ عالیہ چشتیہ کا تھا۔لیکن آپ خاص خاص افراد کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں اور عام لوگوں کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت فرمایا کرتےتھے۔آپ کاقلبی لگاؤ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی طرف تھا۔لیکن آپ سے تمام سلاسل کےلوگ یکساں فیض حاصل کرتےتھے۔(ایضا: 300)
سیرت وخصائص: قدوۃ الصلحاء،زبدۃ الاولیاء،عمدۃ الاتقیاء،عارفِ اسرار یزدانی،حضرت سید عبدالہادی گرناری المعرف حضرت سخی جمیل شاہ داتار۔آپ کو علم و تقویٰ وراثت میں ملے تھے۔بچپن سے ہی آثارِ سعادت ظاہر تھے۔یہی وجہ ہے کہ سات سال کی قلیل عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا،اور پندرہ سال کی عمر میں علوم منقول ومعقول کی تحصیل وتکمیل کرلی۔تکمیل ِ علوم کےبعد زیارتِ حرمین شریفین کا قصد کیا۔حج کی سعادت اور روضۂ انورکی حاضری کےبعد ہندوستان کا رخ کیا۔ہند میں گرنار نامی پہاڑ پر جونا گڑھ میں ہے عبادت وریاضت میں مصروف ہوگئے۔اس غار میں آپ کی عبادت وریاضت کاصاحبِ حدیقۃ الاولیاء نےاشعار کی صورت میں خوبصورت نقشہ کھینچاہے۔اس دوران آپ اپنے چہرے پر نقاب ڈالے رہے۔جب نقاب اٹھاکر غار سے باہر آئے تو آپ کے چہرے سے چمکنے والے انوار وتجلیات کو دیکھ کرمخلوقِ خداآپ کی شیدا ہوگئی،اور دور دراز سے لوگ آپ کی زیارت کو آنے لگے،اور آپ کے فیوضات وبرکات سے مستفید ہونے لگے۔اس بات کوصاحبِ حدیقۃ الاولیاء منظوم بیان فرماتے ہیں:
بعد ازاں آں گوہر بحر مشہود۔۔۔۔۔از نقاب احتفا چہرہ کشود
زائران ِ آستانش صد ہزار۔۔۔ می رسد از ہر طرف لیل ونہار
سرفرازاں آں وخداوندانِ جاہ۔۔سروراں صاحبِ تخت وکلاہ
حجرہ شریف: اسی پہاڑی کے کنارے پر آپ نے اپنی عبادت اور مخلوقِ خدا کی فیض یابی کےلئے ایک حجرہ تعمیر کرایا،اور وہاں رشد وہدایت کا سلسلہ شروع کردیا۔جہاں بڑے بڑے تخت وتاج والے حاضری کو اپنی سعادت سمجھتےتھے۔وہ حجرہ آج بھی وہاں موجود ہے۔(ایضا: 300)
سندھ میں آمد: ٹھٹہ اس زمانے میں علم وفن کا مرکزتھا۔اس وقت حضرت شیخ محمد حسین المعروف پیر پَٹّھُو ٹھٹہ میں مقیم تھے۔آپ اکیلے تبلیغِ دین میں مصروف تھے۔جادوگروں کا زور تھا۔انہوں نے لوگوں کو زیادہ پریشان کرنا شروع کردیا تھا۔شعبدہ بازی اور جادو کے زور پر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنےلگے،تو حضرت پیر پٹھو کی استدعا پرآپ سندھ میں تشریف لائے،اور ٹھٹھہ میں قیام فرماکر مخلوقِ خدا کی رہبری اور ہدایت میں مصروف ہوگئے۔آپ کی کرامت کےآگے جادوگروں کا جادو ناکام ہوگیا۔مخلوقِ خدا جوق در جوق آپ کی خدمت میں آنے لگی۔غیر مسلم اسلام کی دولت سےمشرف ہوتے،اور فساق وفجار تقوے کےنور سےمنور ہوتے۔آپ کی برکت سے اس خطے میں اسلام کی بہاریں نظر آنےلگیں۔اخیرعمر میں آپ نے اس پہاڑ جہاں حضرت پیر پٹھو کا قیام تھا،اور اب مزار ہے،وہاں ایک چھوٹا سا حجرہ اپنے لئے تعمیر کرالیا تھا۔ جہاں آپ ہمیشہ عبادت وریاضت اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں مصروف رہتے۔
آپ صرف خانقاہ کے صوفی نہ تھے۔بلکہ ملکی حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتےتھے۔تبلیغِ دین کا فریضہ پوری قوت سے ادا کرتے،اس میں امیر وکبیر،حاکم و وزیر کاکوئی لحاظ نہ ہوتا تھا۔اگر حاکمِ وقت بھی شرع شریف سے انحراف کرتا،تو آپ اس کو فوراً تنبیہ کرتے،اور سرکش بادشاہوں کو شریعت کےآگے جھکنے پر مجبور کردیا کرتے تھے۔آپ کےزمانے میں کسی حاکم کو اسلام کے خلاف سازش کرنے کی ہمت نہ تھی۔
ٹھٹھہ میں بت پرستی کا خاتمہ: آپ کی ٹھٹہ میں تشریف آوری کےبعد جب مندروں کےپجاری بتوں کی پوجا کےلئے گئے،تو ان کےآگے جُھک نہ سکے،اور پوجا نہ کرسکے۔ہزار کوشش کےباوجود ان کے سر معبودان باطلہ کے آگے نہ جھک سکے۔لوگوں نے انہیں بتایا کہ یہ اس ولی کامل کی برکت ہے،جو ابھی ٹھٹہ میں تشریف لائے ہیں۔آپ
کے اس روحانی تصرف کی برکت کو دیکھ کر بہت سے پجاری حلقہ بگوش اسلام ہوگئے،اور آپ سے بیعت ہوکر دینِ اسلام کے سچے شیدائی بن گئے۔(ایضا:302)
عشقِ رسولﷺ: آپرسول اللہﷺ کےعاشقِ صادق تھے۔آپ کی مجلس سےرسول اللہ ﷺکی محبت کی سوغات تقسیم ہوتی تھی۔ جب آپ کے سامنے نبی مکرم ﷺ کا ذکرِ مبارک کیا جاتا تو آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھتا۔حضورﷺ سےکمالِ عشق ایسا تھا کہ اگر کسی کو خلافِ سنت کام کرتےدیکھ لیتے تو فوراً جلال میں آجاتے،اور سرزنش کرتے۔پھر اس کو رسول اللہﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے۔شریعت کے معاملے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتےتھے۔آپ کی خانقاہ میں شریعت کی حد درجہ پابندی تھی۔لیکن صد افسوس! مجھے حضرت کے مزار پرانوار پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔وہاں جواری،چرسی،اور رافضیوں نے جھنڈے گاڑ رکھےتھے۔مزار کا تقدس اور احترام ِ شریعت کا کچھ پاس نہیں۔یہ ان نفوس ِ قدسیہ کےمزار کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایسا ہورہا ہے۔منتظمین اور حکومت کو تو یہ چاہئے تھا کہ ان کے خلاف کاروائی کرتے۔لیکن وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں،اور ان کی سرپرستی کررہےہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی سیرت پر عمل پیر اہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال ماہ ربیع الاول 652ھ مطابق 1254ء کو واصل بااللہ ہوئے ۔ مزار پر انوار ٹھٹہ (سندھ) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاء سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند حصہ اول۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-hadi-jameel-shah-dataar
عشقِ رسولﷺ: آپرسول اللہﷺ کےعاشقِ صادق تھے۔آپ کی مجلس سےرسول اللہ ﷺکی محبت کی سوغات تقسیم ہوتی تھی۔ جب آپ کے سامنے نبی مکرم ﷺ کا ذکرِ مبارک کیا جاتا تو آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھتا۔حضورﷺ سےکمالِ عشق ایسا تھا کہ اگر کسی کو خلافِ سنت کام کرتےدیکھ لیتے تو فوراً جلال میں آجاتے،اور سرزنش کرتے۔پھر اس کو رسول اللہﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے۔شریعت کے معاملے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتےتھے۔آپ کی خانقاہ میں شریعت کی حد درجہ پابندی تھی۔لیکن صد افسوس! مجھے حضرت کے مزار پرانوار پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔وہاں جواری،چرسی،اور رافضیوں نے جھنڈے گاڑ رکھےتھے۔مزار کا تقدس اور احترام ِ شریعت کا کچھ پاس نہیں۔یہ ان نفوس ِ قدسیہ کےمزار کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایسا ہورہا ہے۔منتظمین اور حکومت کو تو یہ چاہئے تھا کہ ان کے خلاف کاروائی کرتے۔لیکن وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں،اور ان کی سرپرستی کررہےہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی سیرت پر عمل پیر اہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال ماہ ربیع الاول 652ھ مطابق 1254ء کو واصل بااللہ ہوئے ۔ مزار پر انوار ٹھٹہ (سندھ) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاء سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند حصہ اول۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-hadi-jameel-shah-dataar
scholars.pk
Hazrat Syed Abdul Hadi Jameel Shah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ابو الفضل حضرت علامہ مفتی عبدالرحیم سکندری
ابوالفضل مولانا مفتی عبدالرحیم سکندری بن ماسٹر محراب خان بن حاجی قادر داد، بن مولانا بخش بن محراب فقیر پاگاردی ۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۶۵ھ/ یکم ستمبر ۱۹۴۴ء بروز ہفتہ صبح پانچ بجے گوٹھ مولا بخش تحصیل میرواہ ضلع خیر پور سندھ کے مقام پر پیدا ہوئے۔
آپ جتوئی بلوچ کی شاخ، شر بلوچ سے تعلق رکھتے ہیں۔
حضرت مفتی عبدالرحیم سکندری نے پرائمری تک اُردو تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ ادیب عربی، عالم عربی اور فاضل عربی کے امتحانات سندھ تعلیمی بورڈ سے پاس کرکے سندات حاصل کیں۔
علومِ دینیہ کی تحصیل کی خاطر سندھ میں اہل سنت کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ دربارِ عالیہ پاگارہ شریف سے منسلک ہوئے۔ جہاں آپ نے علومِ عربیہ کی تمام مروجہ کتب پڑھنے کے علاوہ کتبِ احادیث کا بھی درس لیا اور ۲۷؍رجب المرجب ۱۳۸۶ھ/ ۱۱؍نومبر ۱۹۶۶ء کو سندِ فراغت حاصل کی۔
جامعہ راشدیہ میں آپ نے جن اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں: ۱۔ فقیہ کبیر حضرت مفتی محمد صاحب داد رحمہ اللہ، ۲۔ استاذالعلماء علامہ مولانا محمد صالح رحمہ اللہ، ۳ شیخ المعقولات علامہ سیّد حسین امام اختر رحمہ اللہ، ۴۔نبیرۂ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی تقدس علی خان دامت برکاتہم، ۵۔علامہ الحاج عبدالصمد رحمہ اللہ، ۶۔علامہ کریم بخش مدظلہ
آپ نے فراغت کے بعد اپنے استاذِ مکرم استاذ العلماء مولانا محمد صالح رحمہ اللہ (سابق مہتمم جامعہ راشدیہ پیرجوگوٹھ) کے مشورے سے شاہ پور چاکر ضلع سانگھڑ میں ایک دینی ادارہ صبغۃ الہدی کے نام سے قائم کیا، آپ دارالعلوم کے جملہ انتظامات کی سرانجام دہی کے علاوہ علومِ اسلامیہ کی تدریس بھی فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ جامع مسجد غوثیہ شاہ پور چاکر میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے سندھ کے اطراف و اکناف کا دورہ کیا، تقاریر کے ذریعے عوام کو ختمِ نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے علاوہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرادادیں منظور کرائیں۔
۱۹۷۷ء کی تحریکِ نظام مصطفےٰ میں ضلع سکھر، نواب شاہ، سانگھڑ اور ضلع خیر پور میں دورے کیےا ور قومی اتحاد کے نمائندوں کے حق میں مختلف جلسوں سے خطاب کرکے نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر فضا کو سازگار بنایا۔
تعلیمی، انتظامی اور تبلیغی مصروفیات کے باوجود آپ نے چند کتب تحریر فرمائیں جو مندرج ذیل ہیں:
۱۔ خلاصۃ التفاسیر، تفسیر ۲۰۰صفحات، غیر مطبوعہ
۲۔ ذکر عید میلاد النبی ۱۰۰ صفحات، انجمن پریس کراچی
۳۔ شیعانِ علی، مناظرہ ۲۵۰ صفحات، غیر مطبوعہ
۴۔ ترجمہ مکتوبات حضرت پیر سید محمد راشد روضی دھنی، غیر مطبوعہ
آپ کو سندھ کے مشہور روحانی خاندان راشدیہ قادریہ کے چشم و چراغ مجاہد ملت حضرت پیر سیّد شاہ مردان علی شاہ (پیر صاحب پاگارہ) سے ۱۹۶۳ء میں بیعت کا شرف حاصل ہوا۔
آپ کے دو فرزند بنام عبدالنبی اور نور نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں صاحبزادوں کو اسمِ باسمیٰ بنائے۔ آمین۔[۱]
[۱۔ حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب کے یہ تمام کوائف مولانا مولا بخش صاحب متعلم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے ذریعے حاصل ہوئے جس کے لیے مرتب ان کا ممنون ہے۔ (محمد صدیق ہزاری)]
( تعارف علماء اہلسنّت )
https://scholars.pk/ur/scholar/abul-fazal-hazrat-allama-mufti-abdul-rahim-sikandari
ابوالفضل مولانا مفتی عبدالرحیم سکندری بن ماسٹر محراب خان بن حاجی قادر داد، بن مولانا بخش بن محراب فقیر پاگاردی ۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۶۵ھ/ یکم ستمبر ۱۹۴۴ء بروز ہفتہ صبح پانچ بجے گوٹھ مولا بخش تحصیل میرواہ ضلع خیر پور سندھ کے مقام پر پیدا ہوئے۔
آپ جتوئی بلوچ کی شاخ، شر بلوچ سے تعلق رکھتے ہیں۔
حضرت مفتی عبدالرحیم سکندری نے پرائمری تک اُردو تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ ادیب عربی، عالم عربی اور فاضل عربی کے امتحانات سندھ تعلیمی بورڈ سے پاس کرکے سندات حاصل کیں۔
علومِ دینیہ کی تحصیل کی خاطر سندھ میں اہل سنت کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ دربارِ عالیہ پاگارہ شریف سے منسلک ہوئے۔ جہاں آپ نے علومِ عربیہ کی تمام مروجہ کتب پڑھنے کے علاوہ کتبِ احادیث کا بھی درس لیا اور ۲۷؍رجب المرجب ۱۳۸۶ھ/ ۱۱؍نومبر ۱۹۶۶ء کو سندِ فراغت حاصل کی۔
جامعہ راشدیہ میں آپ نے جن اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں: ۱۔ فقیہ کبیر حضرت مفتی محمد صاحب داد رحمہ اللہ، ۲۔ استاذالعلماء علامہ مولانا محمد صالح رحمہ اللہ، ۳ شیخ المعقولات علامہ سیّد حسین امام اختر رحمہ اللہ، ۴۔نبیرۂ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی تقدس علی خان دامت برکاتہم، ۵۔علامہ الحاج عبدالصمد رحمہ اللہ، ۶۔علامہ کریم بخش مدظلہ
آپ نے فراغت کے بعد اپنے استاذِ مکرم استاذ العلماء مولانا محمد صالح رحمہ اللہ (سابق مہتمم جامعہ راشدیہ پیرجوگوٹھ) کے مشورے سے شاہ پور چاکر ضلع سانگھڑ میں ایک دینی ادارہ صبغۃ الہدی کے نام سے قائم کیا، آپ دارالعلوم کے جملہ انتظامات کی سرانجام دہی کے علاوہ علومِ اسلامیہ کی تدریس بھی فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ جامع مسجد غوثیہ شاہ پور چاکر میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے سندھ کے اطراف و اکناف کا دورہ کیا، تقاریر کے ذریعے عوام کو ختمِ نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے علاوہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرادادیں منظور کرائیں۔
۱۹۷۷ء کی تحریکِ نظام مصطفےٰ میں ضلع سکھر، نواب شاہ، سانگھڑ اور ضلع خیر پور میں دورے کیےا ور قومی اتحاد کے نمائندوں کے حق میں مختلف جلسوں سے خطاب کرکے نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر فضا کو سازگار بنایا۔
تعلیمی، انتظامی اور تبلیغی مصروفیات کے باوجود آپ نے چند کتب تحریر فرمائیں جو مندرج ذیل ہیں:
۱۔ خلاصۃ التفاسیر، تفسیر ۲۰۰صفحات، غیر مطبوعہ
۲۔ ذکر عید میلاد النبی ۱۰۰ صفحات، انجمن پریس کراچی
۳۔ شیعانِ علی، مناظرہ ۲۵۰ صفحات، غیر مطبوعہ
۴۔ ترجمہ مکتوبات حضرت پیر سید محمد راشد روضی دھنی، غیر مطبوعہ
آپ کو سندھ کے مشہور روحانی خاندان راشدیہ قادریہ کے چشم و چراغ مجاہد ملت حضرت پیر سیّد شاہ مردان علی شاہ (پیر صاحب پاگارہ) سے ۱۹۶۳ء میں بیعت کا شرف حاصل ہوا۔
آپ کے دو فرزند بنام عبدالنبی اور نور نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں صاحبزادوں کو اسمِ باسمیٰ بنائے۔ آمین۔[۱]
[۱۔ حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب کے یہ تمام کوائف مولانا مولا بخش صاحب متعلم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے ذریعے حاصل ہوئے جس کے لیے مرتب ان کا ممنون ہے۔ (محمد صدیق ہزاری)]
( تعارف علماء اہلسنّت )
https://scholars.pk/ur/scholar/abul-fazal-hazrat-allama-mufti-abdul-rahim-sikandari
scholars.pk
Abul Fazal Hazrat Allama Mufti Abdul Rahim Sikandari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ شاہ قیام الدین اصدق علیہ الرحمۃ
محلہ قاضی پورہ قصبہ میا پور پر گنہ جہان آباد ضلع بردوان وطن، حضرت شیخ المشائخ مولانا سید شاہ ابو العباس سعید الدین الملقب بہ شاہ صادق علی قادری قمیصی چشتی فخری قدس سرہ کے فرزند ارجمند، نو ۹برس کی عمر میں والد کے مرید ہوئے، تحصیل علم والد بزرگوار سے کی، اٹھارہ برس کی عمر میں مثال خلافت پائی، نسبی علاقہ حضرت قمیص اعظم قادری المتوفی ۹۲ھ سے ہے، میر تفضل حسبن ساکن موضع جموانواں کی ارادت کے بعد اُن کی درخواست پر اُن کے گاؤں میں وسادۂ ارشاد دیکھ کر مصروف ہدایت ہوئے، سیاحت کا ذوق تھا، مزاات بزرگان پر حاجری معمولات سے تھی، والد ماجد کی معیت میں حج وزیارت سے مشرف ہوئے۔
رموز العارفین، مکتوبات اصدقی، تبحر علمی پر روشن دلیل ہے، بہار کے مشہور مشائخ میں تھے، چہار شنبہ کے دن بوقت عصر ۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۰۱ھ میں وصال ہوا، دوسرے دن اپنی خانقاہ چشتی چمن پیریگہ شریف میں بوقت عصر مدفون ہوئے، قطعۂ تاریخ رحلت یہ ہے ؎
قدوۂ عارفانِ شاہِ قیام
بحر عرفان بود، بے شک وریب
بہرِ سالِ وصال آں کامل
گفت ‘‘ الفقر فخری ’’ ہاتفِ غیب
( تحائف اصدقیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-qayamuddin-asdaq
محلہ قاضی پورہ قصبہ میا پور پر گنہ جہان آباد ضلع بردوان وطن، حضرت شیخ المشائخ مولانا سید شاہ ابو العباس سعید الدین الملقب بہ شاہ صادق علی قادری قمیصی چشتی فخری قدس سرہ کے فرزند ارجمند، نو ۹برس کی عمر میں والد کے مرید ہوئے، تحصیل علم والد بزرگوار سے کی، اٹھارہ برس کی عمر میں مثال خلافت پائی، نسبی علاقہ حضرت قمیص اعظم قادری المتوفی ۹۲ھ سے ہے، میر تفضل حسبن ساکن موضع جموانواں کی ارادت کے بعد اُن کی درخواست پر اُن کے گاؤں میں وسادۂ ارشاد دیکھ کر مصروف ہدایت ہوئے، سیاحت کا ذوق تھا، مزاات بزرگان پر حاجری معمولات سے تھی، والد ماجد کی معیت میں حج وزیارت سے مشرف ہوئے۔
رموز العارفین، مکتوبات اصدقی، تبحر علمی پر روشن دلیل ہے، بہار کے مشہور مشائخ میں تھے، چہار شنبہ کے دن بوقت عصر ۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۰۱ھ میں وصال ہوا، دوسرے دن اپنی خانقاہ چشتی چمن پیریگہ شریف میں بوقت عصر مدفون ہوئے، قطعۂ تاریخ رحلت یہ ہے ؎
قدوۂ عارفانِ شاہِ قیام
بحر عرفان بود، بے شک وریب
بہرِ سالِ وصال آں کامل
گفت ‘‘ الفقر فخری ’’ ہاتفِ غیب
( تحائف اصدقیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-qayamuddin-asdaq
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Qiyamuddin Asdaq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا عبد الغنی بدایونی علیہ الرحمہ
حضرت مولانا عبد الغنی بدایونی نہایت برگزیدہ متورع ومتقی اور یکتائے روزگار علماء میں سے تھے ـ
تعلیم:
آپ نے درسیات کی تکمیل حضرت مولانا محمد بحر العلوم بدایونی سے کی ـ
بیعت:
حضرت مولانا محمد سعید جعفری المتوفی ۱۱۶۳ھ کے مرید ہوئے، اُن کے وصال کے بعد حضرت شاہ اچھے میاں سے کسب فیض کیا ـ
وصال:
۲۷ رمضان المبارک ۱۲۰۹ھ میں آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
حضرت سید احمد المتوفی ۶۳۵ھ والد ماجد محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء قدس سرہما کے قریب ناصر شاہ دکھنی کے باڑہ میں اپنے مرشد کے پہلو میں مدفون ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-badayuni
حضرت مولانا عبد الغنی بدایونی نہایت برگزیدہ متورع ومتقی اور یکتائے روزگار علماء میں سے تھے ـ
تعلیم:
آپ نے درسیات کی تکمیل حضرت مولانا محمد بحر العلوم بدایونی سے کی ـ
بیعت:
حضرت مولانا محمد سعید جعفری المتوفی ۱۱۶۳ھ کے مرید ہوئے، اُن کے وصال کے بعد حضرت شاہ اچھے میاں سے کسب فیض کیا ـ
وصال:
۲۷ رمضان المبارک ۱۲۰۹ھ میں آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
حضرت سید احمد المتوفی ۶۳۵ھ والد ماجد محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء قدس سرہما کے قریب ناصر شاہ دکھنی کے باڑہ میں اپنے مرشد کے پہلو میں مدفون ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Ghani Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
امام ابو عبد اللہ محمد ابن ماجہ قزوینی ربعی علیہ الرحمۃ ۲۰۹ھ ۲۷۳ھ
اسم گرامی: محمد ـ کنیت ابو عبداللہ لقب حافظ
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
محمد بن یزید بن عبداللہ بن ماجہ ربعی قزوینی ماجہ آپ کے باپ کا لقب تھا جس کی تائید علامہ نووی نے تہذیب الاسماء و اللغات میں علامہ مجدد الدین فیروز آبادی نے قاموس میں علامہ ابو الحسن سندھی نے ابن ماجہ کی شرح میں شاہ عبدالعزیز نے عجالہ میں قزوین کے مشہور مورخ حافظ خلیلی نے اور محدث رافعی نےتاریخ قزوین میں اور امام ابن ماجہ کےشاگرد خاص حافظ ابو الحسن بن قطان نے کی ہے۔ شاہ عبدالعزیز عجالہ نافعہ میں لکھتے ہیں ‘‘ماجہ لقب پدر ابو عبداللہ است نہ لقب جداو نہ نام مادر او’’ (عجالۂ نافعہ، ص۲۳)
آپ کی ولادت عراق عجم کے مشہور شہر قزوین میں ۲۰۹ میں ہوئی۔ آپ نسلاً عجمی تھے قبیلہ ربیعہ کی طرف نسب ولاء کرتے ہوئے ربعی کہلاتے ہیں۔
تحصیل علم:
ابن ماجہ کا زمانہ علم حدیث کی ترقی و اشاعت کا زریں عہد تھا اس علم میں کمال پیدا کرنا ہی علمی حلقوں میں فضیلت کا معیار تھا چناں چہ امام صاحب نے ابتدائی تعلیم کے بعد دیگر بلاد و امصار کی سیاحت و سفر بغرض سماع حدیث شروع کی۔ ابن خلکان کا بیان ہے ‘‘ارتحل الی العراق والبصرۃ والکوفۃ و بغداد و مکۃ والشام و مصر لکتب الحدیث’’ ابن ماجہ نے کتاب حدیث کے لیے عراق، بصرہ، کوفہ، بغداد، مکہ، شام، مصر اور رے کا سفر کیا۔ (وفیات، ج۲، ص۳۶۳)
شاہ عبدالعزیز کے مطابق ابن ماجہ کو عراق، بصرہ، بغداد،مکہ، مدینہ، شام، مصر، واسط رے اوردوسرے اسلامی شہروں میں سفر کا اتفاق ہوا۔(بستان المحدثین، ص۱۹۱)
آپ نے کثیر شیوخ حدیث سے سماع کیا چند اساتذہ کے نام یہ ہیں:
محمد بن عبداللہ بن نمیر، حیارہ بن مفلس، ابراہیم بن منذر الخرمی، عبداللہ بن معاویہ، ہشام بن عمار، محمدبن رمح، داؤد بن رشید۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۸۹) ابو بکر بن ابی شیبہ، احمد بن عبدہ، نصرہ بن علی، ابو مروان محمد بن عباد، عباس بن عبدالعظیم، عبداللہ بن عامر، ابو خثیمہ، زبیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، عبداللہ بن احمد، اسماعیل بن بشر، یحییٰ بن حکیم۔ (تذکرۃ المحدثین سعیدی، ص۳۱۵)
حلقۂ درس اور تلامذہ:
ان اہم ترین شیوخ سے کسب فیض کے بعد ابن ماجہ نے علم حدیث میں وہ رتبہ بلند پالیا تھا جس کا تقاضا تھا کہ آپ کی بارگاہ طالبان حدیث کا مرجع بن جائ چناں چہ ایسا ہی ہوا آپ سے بے شمار لوگوں نے حدیثیں سنیں اور روایت کیں جن میں اکابر، معاصر، اصاغر، سبھی شامل ہیں۔ چند اہم نام یہ ہیں:
علی بن سعید بن عبداللہ غذانی، ابراہیم بن دینار جرشی، احمد بن ابراہیم قزوینی، ابو طیب احمد بن روح شعرانی، اسحاق بن محمد قزوینی، جعفر بن ادریس، حسین بن علی بن برانیاد، سلیمان بن یزید قزوینی محمد بن عیسیٰ صغار، ابو الحسن علی بن ابراہیم بن سلمہ قزوینی، ابو عمر واحمد بن حکیم مدنی۔ (تہذیب، ج۹، ص۴۶۸) محمد بن عیسیٰ ابہری، احمد بن مدح بغدادی، ابو بکر حامدی۔ (تذکرۃ المحدثین سعیدی، ص۳۱۵)
فضل و کمال:
امام ابن ماجہ نے حدیث، علوم حدیث، تاریخ و تفسیر میں جو کمال پیدا کرلیا تھا اس کا اعتراف علماء اور ارباب سیر نے کیا ہے۔
ابن خلکان: ‘‘کان اماماً فی الحدیث عارفا بعلومہ وجمیع مایتعلق بہ’’ ابن ماجہ حدیث کے امام تھے اور علوم حدیث کے جاننے والے اور تمام فنون کا ادراک رکھتے تھے جو حدیث سے متعلق ہیں۔
ابو یعلیٰ خلیلی: ‘‘ثقۃ کبیر متفق علیہ محتج بہ لہ معرفۃ بالحدیث و حفظ و لہ مصنفات فی السنن والتفسیر والتاریخ’’ وہ ثقہ کبیر ہیں ان کی جلالت علم پر سب کا اتفاق ہے وہ حجت ہیں اور علم حدیث میں انہیں گہری معرفت ہے اور وہ حافظ حدیث ہیں۔ سنن، تفسیر اور تاریخ میں ان کی متعدد کتابیں ہیں۔ (تہذیب، ج۹، ص۴۶۸)
حافظ ذہبی: ‘‘الحافظ الکبیر المفسر صاحب السنن والتفسیر والتاریخ و محدث تلک الدیار’’ الحافظ الکبیر امام، سنن، تفسیر اور تاریخ کے مصنف اور ملک خراسان کے محدث ہیں۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۸۹)
ابن جوزی: وہ حدیث و تاریخ اور تفسیر کے ممتاز ماہر تھے۔
ابو القاسم رافعی: ائمہ مسلمین میں ابن ماجہ بھی ایک بڑے معتبر امام ہیں۔ ان کی مقبولیت پر سب کا اتفاق ہے۔
ابن اثیر: وہ ذی عقل، صاحب علم اور امام حدیث تھے۔
جلال الدین: تغری: ابن جامہ امام حجت اور ناقدحدیث تھے۔
ابن ناصر الدین: مشہور علماء اسلام میں ایک ابن ماجہ بھی ہیں وہ حدیثوں کے حافظ اور اس میں نہایت معتبر اور بلندپایہ شخص تھے۔
تصانیف:
امام ابن ماجہ بلند پایہ مصنف بھی تھے۔ آپ کی تین اہم کتابیں مشہور ہیں۔ سنن ابن ماجہ، تفسیر ابن ماجہ، تاریخ ابن ماجہ عہد رسالت سے لے کر مصف کے زمانے تک کی مبسوط تاریخ ہے حافظ ابن طاہر مقدسی کہتے ہیں میں نے قزوین میں اس کا ایک نسخہ دیکھا تھا لیکن اب یہ کتاب ناپید ہوچکی ہے۔ یہ کتاب امام ابن ماجہ کے درک فی التاریخ کی دلیل ہے تفسیر قرآن میں ان کی ایک نادر کتاب تھی ابن کثیر لکھتے ہیں ‘‘ولا بن ماجہ تفسیر حافل’’ اب یہ کتاب ناپید ہے ا س کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن
اسم گرامی: محمد ـ کنیت ابو عبداللہ لقب حافظ
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
محمد بن یزید بن عبداللہ بن ماجہ ربعی قزوینی ماجہ آپ کے باپ کا لقب تھا جس کی تائید علامہ نووی نے تہذیب الاسماء و اللغات میں علامہ مجدد الدین فیروز آبادی نے قاموس میں علامہ ابو الحسن سندھی نے ابن ماجہ کی شرح میں شاہ عبدالعزیز نے عجالہ میں قزوین کے مشہور مورخ حافظ خلیلی نے اور محدث رافعی نےتاریخ قزوین میں اور امام ابن ماجہ کےشاگرد خاص حافظ ابو الحسن بن قطان نے کی ہے۔ شاہ عبدالعزیز عجالہ نافعہ میں لکھتے ہیں ‘‘ماجہ لقب پدر ابو عبداللہ است نہ لقب جداو نہ نام مادر او’’ (عجالۂ نافعہ، ص۲۳)
آپ کی ولادت عراق عجم کے مشہور شہر قزوین میں ۲۰۹ میں ہوئی۔ آپ نسلاً عجمی تھے قبیلہ ربیعہ کی طرف نسب ولاء کرتے ہوئے ربعی کہلاتے ہیں۔
تحصیل علم:
ابن ماجہ کا زمانہ علم حدیث کی ترقی و اشاعت کا زریں عہد تھا اس علم میں کمال پیدا کرنا ہی علمی حلقوں میں فضیلت کا معیار تھا چناں چہ امام صاحب نے ابتدائی تعلیم کے بعد دیگر بلاد و امصار کی سیاحت و سفر بغرض سماع حدیث شروع کی۔ ابن خلکان کا بیان ہے ‘‘ارتحل الی العراق والبصرۃ والکوفۃ و بغداد و مکۃ والشام و مصر لکتب الحدیث’’ ابن ماجہ نے کتاب حدیث کے لیے عراق، بصرہ، کوفہ، بغداد، مکہ، شام، مصر اور رے کا سفر کیا۔ (وفیات، ج۲، ص۳۶۳)
شاہ عبدالعزیز کے مطابق ابن ماجہ کو عراق، بصرہ، بغداد،مکہ، مدینہ، شام، مصر، واسط رے اوردوسرے اسلامی شہروں میں سفر کا اتفاق ہوا۔(بستان المحدثین، ص۱۹۱)
آپ نے کثیر شیوخ حدیث سے سماع کیا چند اساتذہ کے نام یہ ہیں:
محمد بن عبداللہ بن نمیر، حیارہ بن مفلس، ابراہیم بن منذر الخرمی، عبداللہ بن معاویہ، ہشام بن عمار، محمدبن رمح، داؤد بن رشید۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۸۹) ابو بکر بن ابی شیبہ، احمد بن عبدہ، نصرہ بن علی، ابو مروان محمد بن عباد، عباس بن عبدالعظیم، عبداللہ بن عامر، ابو خثیمہ، زبیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، عبداللہ بن احمد، اسماعیل بن بشر، یحییٰ بن حکیم۔ (تذکرۃ المحدثین سعیدی، ص۳۱۵)
حلقۂ درس اور تلامذہ:
ان اہم ترین شیوخ سے کسب فیض کے بعد ابن ماجہ نے علم حدیث میں وہ رتبہ بلند پالیا تھا جس کا تقاضا تھا کہ آپ کی بارگاہ طالبان حدیث کا مرجع بن جائ چناں چہ ایسا ہی ہوا آپ سے بے شمار لوگوں نے حدیثیں سنیں اور روایت کیں جن میں اکابر، معاصر، اصاغر، سبھی شامل ہیں۔ چند اہم نام یہ ہیں:
علی بن سعید بن عبداللہ غذانی، ابراہیم بن دینار جرشی، احمد بن ابراہیم قزوینی، ابو طیب احمد بن روح شعرانی، اسحاق بن محمد قزوینی، جعفر بن ادریس، حسین بن علی بن برانیاد، سلیمان بن یزید قزوینی محمد بن عیسیٰ صغار، ابو الحسن علی بن ابراہیم بن سلمہ قزوینی، ابو عمر واحمد بن حکیم مدنی۔ (تہذیب، ج۹، ص۴۶۸) محمد بن عیسیٰ ابہری، احمد بن مدح بغدادی، ابو بکر حامدی۔ (تذکرۃ المحدثین سعیدی، ص۳۱۵)
فضل و کمال:
امام ابن ماجہ نے حدیث، علوم حدیث، تاریخ و تفسیر میں جو کمال پیدا کرلیا تھا اس کا اعتراف علماء اور ارباب سیر نے کیا ہے۔
ابن خلکان: ‘‘کان اماماً فی الحدیث عارفا بعلومہ وجمیع مایتعلق بہ’’ ابن ماجہ حدیث کے امام تھے اور علوم حدیث کے جاننے والے اور تمام فنون کا ادراک رکھتے تھے جو حدیث سے متعلق ہیں۔
ابو یعلیٰ خلیلی: ‘‘ثقۃ کبیر متفق علیہ محتج بہ لہ معرفۃ بالحدیث و حفظ و لہ مصنفات فی السنن والتفسیر والتاریخ’’ وہ ثقہ کبیر ہیں ان کی جلالت علم پر سب کا اتفاق ہے وہ حجت ہیں اور علم حدیث میں انہیں گہری معرفت ہے اور وہ حافظ حدیث ہیں۔ سنن، تفسیر اور تاریخ میں ان کی متعدد کتابیں ہیں۔ (تہذیب، ج۹، ص۴۶۸)
حافظ ذہبی: ‘‘الحافظ الکبیر المفسر صاحب السنن والتفسیر والتاریخ و محدث تلک الدیار’’ الحافظ الکبیر امام، سنن، تفسیر اور تاریخ کے مصنف اور ملک خراسان کے محدث ہیں۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۸۹)
ابن جوزی: وہ حدیث و تاریخ اور تفسیر کے ممتاز ماہر تھے۔
ابو القاسم رافعی: ائمہ مسلمین میں ابن ماجہ بھی ایک بڑے معتبر امام ہیں۔ ان کی مقبولیت پر سب کا اتفاق ہے۔
ابن اثیر: وہ ذی عقل، صاحب علم اور امام حدیث تھے۔
جلال الدین: تغری: ابن جامہ امام حجت اور ناقدحدیث تھے۔
ابن ناصر الدین: مشہور علماء اسلام میں ایک ابن ماجہ بھی ہیں وہ حدیثوں کے حافظ اور اس میں نہایت معتبر اور بلندپایہ شخص تھے۔
تصانیف:
امام ابن ماجہ بلند پایہ مصنف بھی تھے۔ آپ کی تین اہم کتابیں مشہور ہیں۔ سنن ابن ماجہ، تفسیر ابن ماجہ، تاریخ ابن ماجہ عہد رسالت سے لے کر مصف کے زمانے تک کی مبسوط تاریخ ہے حافظ ابن طاہر مقدسی کہتے ہیں میں نے قزوین میں اس کا ایک نسخہ دیکھا تھا لیکن اب یہ کتاب ناپید ہوچکی ہے۔ یہ کتاب امام ابن ماجہ کے درک فی التاریخ کی دلیل ہے تفسیر قرآن میں ان کی ایک نادر کتاب تھی ابن کثیر لکھتے ہیں ‘‘ولا بن ماجہ تفسیر حافل’’ اب یہ کتاب ناپید ہے ا س کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن
❤1