🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مولانا الیاس عطار قادری رضوی ضیائی، امیر دعوت اسلامی دامت برکاتہم العالیہ

شیخ طریقت، اَمیر اَہلسنّت، بانئ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی دامت برکاتہم العالیہ

ولادت:
آپ کی ولادت مبارکہ ۲۶ رَمَضانُ المبارَک ۱۳۶۹ھ بمطابق ۱۹۵۰ء میں پاکستان کے مشہور شہر باب المدینہ کراچی میں ہوئی ۔

آپ کے آباء و اجداد:
امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے آباء و اجداد ہند کے گاؤں" کُتیانہ (جُونا گڑھ، گجرات) " میں مقیم تھے ۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ کے دادا جان عبد الرحيم علیہ رحمۃ اللہ الکریم کی نيک نامی اور پارسائی پورے "" کتیانہ "" ميں مشہور تھی ۔ جب پاکستان مَعْرِضِ وُجود میں آیا تو امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے والدین ماجدین ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے ۔ ابتدا میں بابُ الاسلام (سندھ) کے مشہور شہر حیدر آباد میں قِیام فرمایا ۔ کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد بابُ الْمدینہ (کراچی) میں تشریف لائے اور یہیں سُکُونَتْ پذیر ہوئے ۔

والدِ محترم:
امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے والدِ بُزُرگوار حاجی عبد الرَحمن قادِری علیہ رحمۃ اللہ الھادی باشرع اور پرہیز گار آدمی تھے ۔ اکثر نگاہیں نیچی رکھ کر چلا کرتے تھے، انہیں بہت سی احادیث زبانی یاد تھیں ۔ دنیاوی مال و دولت جمع کرنے کا لالچ نہیں تھا ۔ آپ علیہ رحمۃ اللہ الھادی سلسلۂ عالیہ قادِریہ میں بیعت تھے ۔

( تعارفِ امیرِ اہلِسنّت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ilyas-attar-qadri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا سید ایوب علی رضوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید ایوب علی رضوی ۔ لقب: عاشقِ اعلیٰ حضرت، مخدومِ ملت، فدائے رضویت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا سید ایوب علی رضوی بن سید شجاعت علی بن سید تراب علی بن سید ببر علی (علیہم الرحمہ) ۔

تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1295ھ، مطابق 1875ء کو " بریلی شریف " (انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم بریلی شریف میں حاصل کی، مڈل تک اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارسی کے قواعد سیکھے، کچھ عرصہ اسلامیہ اسکول بریلی شریف میں پڑھاتے رہے، پھر جب اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بیعت کا شرف حاصل ہوا تو اپنے آپ کو بارگاہ رضویت کے لئے وقف کر دیا ۔ لکھائی کا جو کام آپ کے سپرد کیا جاتا اسے احسن اہتمام سے انجام دیتے، رمضان شریف میں سحری اور افطاری کے نقشے مرتب فرماتے ـ

علم ریاضی میں مہارت:
دیگر علوم کے علاوہ " ریاضی " میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے خوب خوب استفادہ کیا ۔ آپ کی ریاضی میں مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الدین مرحوم جو کہ "یورپ" کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرکے آئے تھے، اور ریاضی میں ڈاکٹریٹ کیا تھا ۔ جب ایک مسئلے کے حل کے لئے اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو مولانا سید ایوب علی رضوی علیہ الرحمہ ڈاکٹر ضیاء الدین وائس چانسلر مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ کے بریلی شریف حاضر ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " کہ کسور اعشاریہ متوالیہ کی قوت کا تذکرہ آیا، ڈاکٹر صاحب نے بھی وہی فرمایا کہ تیسری قوت تک ہے، اس پر حضور (اعلیٰ حضرت قدس سرہ) نے میرے (مولانا سید ایوب علی رضوی) اور میرے برادر قناعت علی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میرے یہ دو بچے بیٹھے ہیں، انہیں جس قوت کا آپ سوال دے دیں یہ حل کر دیں گے، ڈاکٹر صاحب متحیر ہو کر ہم دونوں کو دیکھنے لگے " ۔

بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
خادمِ اعلیٰ حضرت، مخدومِ اہلِ سنت، فدائے رضویت، حامیِ سنیت، دافعِ وہابیت و نجدیت، عالمِ کتاب و سنت حضرت علامہ مولانا سید ایوب علی رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے تقویٰ و پرہیزگاری، اور دینِ اسلام کی خدمت سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو " وقف بارگاہِ رضویت " کر دیا تھا ۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کی صحبت کا اثر تھا کہ آپ بھی بہت متقی و پرہیزگار تھے ۔

سید صاحب کربلائے معلی، بغداد شریف، نجف اشرف اور بصرہ میں بزرگان دین کے مزارات پر حاضری سے مشرف ہوئے ۔ تین دفعہ حج و زیارت کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے ۔ اڑھائی سال تک مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے وصال کے دو سال بعد بریلی شریف میں رضوی کتب خانہ قائم کیا اور اعلیٰ حضرت کے متعدد رسائل شائع کئے ۔ امام احمد رضا قدس سرہ کے وصال کے بعد ان کی سوانح حیات مرتب کرنے کی تحریک آپ ہی نے شروع کی تھی ۔ " حیات اعلیٰ حضرت " مؤلفہ ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری قدس سرہ کے اکثر و بیشتر واقعات آپ ہی کی روایت پر مبنی ہیں ۔ مولانا ظفر الدین بہاری لکھتے ہیں : " ہم رضویوں کو جناب حاجی مولوی سید ایوب علی صاحب رضوی بریلوی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس کی طرف سب سے پہلے توجہ فرمائی اور برادران طریقت کو توجہ دلائی ۔ ان کی تحریک سے بعض احباب نے کچھ حالات ان کے پاس لکھ بھیجے اور زیادہ حصہ خود سید صاحب موصوف نے لکھا ۔ جب ان کو میرے حیات اعلیٰ حضرت لکھنے کی خبر ہوئی تو جو کچھ مواد ان کے پاس تھا، سب مجھے عنایت فرما دیا " ۔

مولانا سید ایوب علی رضوی، اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے فیض صحبت سے حد درجہ متاثر تھے، تقویٰ و پرہیز گاری میں اپنی مثال آپ تھے، معاملات اس قدر محتاط تھے کہ جب تک ایک ایک پیسے کا حساب نہ چکا دیتے، مطمئن نہ ہوتے ۔ 1370ھ 1950ء میں پاکستان آکر لاہور میں قیام پذیر ہو گئے ۔ یہاں بھی " رضوی کتب خانہ " قائم کر کے متعدد رسائل شائع کئے ۔

قدرت نے آپ کو شعر و سخن کا پاکیزہ ذوق عطا کیا تھا ۔ حمد و نعت اور منقبت ایسے محبوب موضوعات پر عام فہم اور دلنشیں انداز میں اظہار خیال کیا کرتے تھے ۔ مجموعۂ کلام " باغ فردوس " کے نام سے ہے ۔ اس کے علاوہ " شقاوۃ النجدیہ علیٰ دیار القدسیۃ العربیہ " اور " رفیق زائرین " حجاج اور زائرین کے لئے ہدایت کا مجموعہ وغیرہ رسائل بھی آپ نے تحریر فرمائے ۔

تاریخِ وصال:
بروز جمعۃ الوداع 26 رمضان المبارک 1390ھ، مطابق 26 نومبر 1970ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کی تدفین " قبرستان میانی صاحب " لاہور میں ہوئی ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ayub-ali-rizvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-09-1444 ᴴ | 17-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-09-1444 ᴴ | 18-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-09-1444 ᴴ | 18-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-09-1444 ᴴ | 18-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2