🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-09-1444 ᴴ | 17-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-09-1444 ᴴ | 17-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
پیر قلندر شاہ قریشی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ
آپ کے والد گرامی کا نام شیخ کرم شاہ قریشی تھا، لاہور میں پیدا ہوئے، سال ولادت ۱۷۷۱ء بمطابق ۱۱۸۵ھ ہے، یہ انہتائی طوائف الملوکی کا تھا، ابتدائی تعلیم اپنے والد کے چچا پیر خدا بخش سے حاصل کی، ۱۷۸۲ء میں آپ اپنے والد کے ساتھ لکھنؤ چلے گئے تھے، بریلی میں آپ نے اپنے بردار بزرگ پیر مردا شاہ کے ساتھ حضرت بدر الدین رہتکی سے بیعت کی اور خرقہ خلافت حاصل کیا، ۱۷۸۶ء میں مرشد کی وفات کے بعد ایک سال تک اس مزار پر جاروب کشی کرتے رہے پھر رو دلی چلے گئے جہاں شیخ احمد عبد الحق کا مزار ہے وہاں سے الہ آباد پھر بنارس سے ۱۷۹۵ء میں لکھنؤ پہنچ گئے ۔
۱۷۹۵ء میں آپ لکھنؤ سے لاہور واپس آئے اور اپنی والدہ اور اخ مکرم پیر مراد شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے جو پانچ برس اپنے آبائی مکان محلہ کھاری کھوئی گذ ر چوک مانک بازار سمیا ں ٹکسالی دروازہ لاہور میں آگئے تھے، اس زمانہ میں لاہور پر بھنگی سر داروں کی حکومت تھی۔
آپ کی رہائش لاہور میں تھی، پیری مریدی کا سلسلہ تھا، ایک دفعہ ساندہ میں اپنے ایک مرید فضل شاہ کے گھر گئے، جنہوں نے آپ کی دعوت کی تھی مگر اس دعوت میں کثر ت سے آدمی آگئے اور اہل خانہ پریشان ہو گئے مگر آپ کی توجہ اور نظر سے دعوت میں کھانے وغیرہ کی کمی نہ ہوئی، سید فضل شاہ کے بھائی سید کرم شاہ سہروردی رحمتہ اللہ علیہ بھی آپ سے بیعت تھے ۔
تصانیف:
۱ دیوان قلندر شاہ ۲ حلیہ شریف اردو ۳ معراج المقبول فارسی ۴ بیان عقائد منظو مہ فارسی ۵ حلیہ شریف فارسی ۶ طور تلاوت قرآن شریف ۷ ترکیب تلاوت کلام اللہ بہ زبان فارسی ۸ آداب خلوت ۹ تعداد ار بعین ۱۰ شرط اربعین مکتو بات وغیرہ وغیرہ شاعر بھی تھے، نعت اس طرح لکھی ۔
شد برق دلم مہ روئے محمد
جان است فدا روز و شبنم روئے محمد
برمن دل خستہ زبستان مدینہ
اے باد صبا از گل بوئے محمد
از ہند قلندر چو رسم آہ بہ طیبہ
ماایم و گدائی ست درآں کوئے محمد
السلام اے صاحب عزو وقار
مثل موسیٰ بردرت صد چو بدار
السلام اے صد چوعیسیٰ چا کرت
مثل دریائے نشتہ بردرت
السلام اے جز تو کس حامی ما
لیں فی الد ارین جز خیر الوری
آہ در ہجر تو مضطر گشتہ ام
دل زکف دادہ قلندر گشتہ ام
بہر اہل بیت و اصحاب کرام
حاجت مارا روا کن والسلام
خلفا:
آپ کے سلسلہ سہروردیہ میں بے شمار خلفا تھے، آپ کی بزرگی کی وجہ سے لاہور میں بے شمار صاحبان علم و عمل اکھٹے ہوگئے تھے، نامور خلفاء درج ذیل ہیں پیر فرح بخش فرحت سہروردی، شیخ امام بخش لکھنؤ، پیر غلام محی الدین، سید فضل شاہ سہروردی، سید کرم شاہ سہروردی، سید رحیم شاہ سہروردی وغیرہ وغیرہ۔
شیخ امام بخش ناسخ لکھنوی اپنے پیرو مرشد شیخ قلندر شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں ۱۸۲۴ء مطابق ۱۲۴۰ھ میں لاہور حاضر ہوئے تھے، آپ کے فر زندوں میں شیخ غلام محی الدین قریشی نہایت مروت اور خلق والا شخص تھا، وفات شیخ غلام محی الدین کی ۱۸۶۲ء بمطابق ۱۲۷۹ھ میں ہوئی، ۱۸۲۰ء میں آپ نے اپنے چھوٹے بھائی پیر فرخ بخش کے ساتھ مل کر موضع رتہ خرید لیا اوروہاں مقیم ہوگئے یہ گاؤں تحصیل شاہد رہ میں واقع ہے، آپ نے ۱۷ فروری ۱۸۳۳ء ۱۲۴۸ھ میں رتہ پیروں میں انتقال فرمایا اور اس کے باغ واقع سمت مغرب میں مدفون ہوئے،اس زمانے میں لاہور کا حاکم مہاراجہ رنجیت سنگھ تھا۔
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-qalandar-shah-quraishi-harisi-hinkari-lahori
آپ کے والد گرامی کا نام شیخ کرم شاہ قریشی تھا، لاہور میں پیدا ہوئے، سال ولادت ۱۷۷۱ء بمطابق ۱۱۸۵ھ ہے، یہ انہتائی طوائف الملوکی کا تھا، ابتدائی تعلیم اپنے والد کے چچا پیر خدا بخش سے حاصل کی، ۱۷۸۲ء میں آپ اپنے والد کے ساتھ لکھنؤ چلے گئے تھے، بریلی میں آپ نے اپنے بردار بزرگ پیر مردا شاہ کے ساتھ حضرت بدر الدین رہتکی سے بیعت کی اور خرقہ خلافت حاصل کیا، ۱۷۸۶ء میں مرشد کی وفات کے بعد ایک سال تک اس مزار پر جاروب کشی کرتے رہے پھر رو دلی چلے گئے جہاں شیخ احمد عبد الحق کا مزار ہے وہاں سے الہ آباد پھر بنارس سے ۱۷۹۵ء میں لکھنؤ پہنچ گئے ۔
۱۷۹۵ء میں آپ لکھنؤ سے لاہور واپس آئے اور اپنی والدہ اور اخ مکرم پیر مراد شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے جو پانچ برس اپنے آبائی مکان محلہ کھاری کھوئی گذ ر چوک مانک بازار سمیا ں ٹکسالی دروازہ لاہور میں آگئے تھے، اس زمانہ میں لاہور پر بھنگی سر داروں کی حکومت تھی۔
آپ کی رہائش لاہور میں تھی، پیری مریدی کا سلسلہ تھا، ایک دفعہ ساندہ میں اپنے ایک مرید فضل شاہ کے گھر گئے، جنہوں نے آپ کی دعوت کی تھی مگر اس دعوت میں کثر ت سے آدمی آگئے اور اہل خانہ پریشان ہو گئے مگر آپ کی توجہ اور نظر سے دعوت میں کھانے وغیرہ کی کمی نہ ہوئی، سید فضل شاہ کے بھائی سید کرم شاہ سہروردی رحمتہ اللہ علیہ بھی آپ سے بیعت تھے ۔
تصانیف:
۱ دیوان قلندر شاہ ۲ حلیہ شریف اردو ۳ معراج المقبول فارسی ۴ بیان عقائد منظو مہ فارسی ۵ حلیہ شریف فارسی ۶ طور تلاوت قرآن شریف ۷ ترکیب تلاوت کلام اللہ بہ زبان فارسی ۸ آداب خلوت ۹ تعداد ار بعین ۱۰ شرط اربعین مکتو بات وغیرہ وغیرہ شاعر بھی تھے، نعت اس طرح لکھی ۔
شد برق دلم مہ روئے محمد
جان است فدا روز و شبنم روئے محمد
برمن دل خستہ زبستان مدینہ
اے باد صبا از گل بوئے محمد
از ہند قلندر چو رسم آہ بہ طیبہ
ماایم و گدائی ست درآں کوئے محمد
السلام اے صاحب عزو وقار
مثل موسیٰ بردرت صد چو بدار
السلام اے صد چوعیسیٰ چا کرت
مثل دریائے نشتہ بردرت
السلام اے جز تو کس حامی ما
لیں فی الد ارین جز خیر الوری
آہ در ہجر تو مضطر گشتہ ام
دل زکف دادہ قلندر گشتہ ام
بہر اہل بیت و اصحاب کرام
حاجت مارا روا کن والسلام
خلفا:
آپ کے سلسلہ سہروردیہ میں بے شمار خلفا تھے، آپ کی بزرگی کی وجہ سے لاہور میں بے شمار صاحبان علم و عمل اکھٹے ہوگئے تھے، نامور خلفاء درج ذیل ہیں پیر فرح بخش فرحت سہروردی، شیخ امام بخش لکھنؤ، پیر غلام محی الدین، سید فضل شاہ سہروردی، سید کرم شاہ سہروردی، سید رحیم شاہ سہروردی وغیرہ وغیرہ۔
شیخ امام بخش ناسخ لکھنوی اپنے پیرو مرشد شیخ قلندر شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں ۱۸۲۴ء مطابق ۱۲۴۰ھ میں لاہور حاضر ہوئے تھے، آپ کے فر زندوں میں شیخ غلام محی الدین قریشی نہایت مروت اور خلق والا شخص تھا، وفات شیخ غلام محی الدین کی ۱۸۶۲ء بمطابق ۱۲۷۹ھ میں ہوئی، ۱۸۲۰ء میں آپ نے اپنے چھوٹے بھائی پیر فرخ بخش کے ساتھ مل کر موضع رتہ خرید لیا اوروہاں مقیم ہوگئے یہ گاؤں تحصیل شاہد رہ میں واقع ہے، آپ نے ۱۷ فروری ۱۸۳۳ء ۱۲۴۸ھ میں رتہ پیروں میں انتقال فرمایا اور اس کے باغ واقع سمت مغرب میں مدفون ہوئے،اس زمانے میں لاہور کا حاکم مہاراجہ رنجیت سنگھ تھا۔
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-qalandar-shah-quraishi-harisi-hinkari-lahori
scholars.pk
Hazrat Sheikh Qalandar Shah Quraishi Harisi Hinkari Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#یوم_ولادت_ماہ_رمضان_المبارک #یوم_وصال_ماہ_رمضان_المبارک https://t.me/islaamic_Knowledge/47789
حضرت مولانا آلِ احمد پھلواری رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا آل احمد ابن مولانا شاہ محمد ابام (۱۱۹۴ھ/۱۲۵۵) ابن مولانا حضرت نعمت اللہ پھلواری ـ
تاریخ ولادت:
۷ رمضان المبارک ۱۲۲۳ھ
تعلیم:
درسیات کی تکمیل اپنے والد مولانا شاہ محمد امام سے کی،اور وہ مولانا احمد پھلواری کے تلمیذ رشید تھے، ۱۷ برس کی عمر میں ۲۰ جمادی الاولیٰ ۱۲۴۰ھ میں اپنے دادا بزرگوار سے بیعت کی،
۱۲۴۳ھ میں حرمین شریفین کے ارادے سے گھر سے نکلے، ایک سال کلکتہ میں قیام کیا، ۲۷ رجب المرجب ۱۲۴۲ھ میں حرمین مکرمین میں حاضر ہوئے، وہاں پر آپ نے تین سال تک قیام گیا ـ
حضرت شیخ الاسلام سید احمد زینی وحلان وغیرہ سے آپ نے سندات حدیث حاص کیں، ۱۳۴۷ھ میں ہندوستان آئے، اور حیدر آباد میں مولانا میر شجاع الدین مرحوم کے مدرسہ میں مدرس ہو گئے،
۱۲۵۱ھ میں پھلواری وطن پہونچے، اس وقت مسند ارشاد پر حضرت فرد فائز تھے، ان سے استفادۂ باطنی کیا، ایک سال بعد قصدِ بنارس کیا، مزارات مقدسہ کی زیارت کرتے ہوئے جَون پُور پہونچے، حضرت استاذ العلماء امام الحکماء مولانا ہدایت اللہ خاں قادری رام پوری المتوفی ۱۳۲۶ھ نے آپ سے سند حدیث حاصل کی ـ
۱۲۶۴ھ میں پھر عرب کے قصد سے سفر کیا بغداد مقدس، کاظمین، نجب اشرف کی زیارت کرتے ہوئے مکہ معظمہ حاضر ہوئے، ۱۲۷۲ھ تا ۱۲۸۵ھ مدینہ طیبہ میں درس حدیث میں مشغول رہے، ۱۲۸۵ھ میں حضرت شاہ علی حبیب نصر ابن حضرت فرد نے تحصیل حدیث کے لیے پھلواری بلایا، اور سبقاً سبقاً تمام کتب صحاح و مسانید پڑھ کر سند حاصل کی ۱۲۸۸ھ میں واپس تشریف لے گئے۔
مولانا شاہ آل احمد زحد وارفتہ حال تھے، بادۂ حُبّ نبی سے سرشار رہتے، مولانا شاہ علی حبیب نصر نے جب تحصیل حدیث کی غرض سے آپ کو بلایا، آپ نے تامل فرمایا، اور عرض کیا، کہ ڈرتا ہوں، کہ کہیں وہاں کا پیوند خاک نہ ہو جاؤں، سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کے سر پر دستِ مبارک پھیرتے ہوئے فرمایا ‘‘تم پھر مدینہ واپس آجاؤ گے’’ اُس روز سے آپ نے اُتنے حصے کے بالوں کو نہیں کٹوایا ـ
وصال:
۲۶ رمضان المبارک ۱۲۹۵ھ میں مولانا کا انتقال ہوا، جنت البقیع مدفن ہے۔
( آثارات پھلواری شریف )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-aal-e-ahmad-phulwari
حضرت مولانا آل احمد ابن مولانا شاہ محمد ابام (۱۱۹۴ھ/۱۲۵۵) ابن مولانا حضرت نعمت اللہ پھلواری ـ
تاریخ ولادت:
۷ رمضان المبارک ۱۲۲۳ھ
تعلیم:
درسیات کی تکمیل اپنے والد مولانا شاہ محمد امام سے کی،اور وہ مولانا احمد پھلواری کے تلمیذ رشید تھے، ۱۷ برس کی عمر میں ۲۰ جمادی الاولیٰ ۱۲۴۰ھ میں اپنے دادا بزرگوار سے بیعت کی،
۱۲۴۳ھ میں حرمین شریفین کے ارادے سے گھر سے نکلے، ایک سال کلکتہ میں قیام کیا، ۲۷ رجب المرجب ۱۲۴۲ھ میں حرمین مکرمین میں حاضر ہوئے، وہاں پر آپ نے تین سال تک قیام گیا ـ
حضرت شیخ الاسلام سید احمد زینی وحلان وغیرہ سے آپ نے سندات حدیث حاص کیں، ۱۳۴۷ھ میں ہندوستان آئے، اور حیدر آباد میں مولانا میر شجاع الدین مرحوم کے مدرسہ میں مدرس ہو گئے،
۱۲۵۱ھ میں پھلواری وطن پہونچے، اس وقت مسند ارشاد پر حضرت فرد فائز تھے، ان سے استفادۂ باطنی کیا، ایک سال بعد قصدِ بنارس کیا، مزارات مقدسہ کی زیارت کرتے ہوئے جَون پُور پہونچے، حضرت استاذ العلماء امام الحکماء مولانا ہدایت اللہ خاں قادری رام پوری المتوفی ۱۳۲۶ھ نے آپ سے سند حدیث حاصل کی ـ
۱۲۶۴ھ میں پھر عرب کے قصد سے سفر کیا بغداد مقدس، کاظمین، نجب اشرف کی زیارت کرتے ہوئے مکہ معظمہ حاضر ہوئے، ۱۲۷۲ھ تا ۱۲۸۵ھ مدینہ طیبہ میں درس حدیث میں مشغول رہے، ۱۲۸۵ھ میں حضرت شاہ علی حبیب نصر ابن حضرت فرد نے تحصیل حدیث کے لیے پھلواری بلایا، اور سبقاً سبقاً تمام کتب صحاح و مسانید پڑھ کر سند حاصل کی ۱۲۸۸ھ میں واپس تشریف لے گئے۔
مولانا شاہ آل احمد زحد وارفتہ حال تھے، بادۂ حُبّ نبی سے سرشار رہتے، مولانا شاہ علی حبیب نصر نے جب تحصیل حدیث کی غرض سے آپ کو بلایا، آپ نے تامل فرمایا، اور عرض کیا، کہ ڈرتا ہوں، کہ کہیں وہاں کا پیوند خاک نہ ہو جاؤں، سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کے سر پر دستِ مبارک پھیرتے ہوئے فرمایا ‘‘تم پھر مدینہ واپس آجاؤ گے’’ اُس روز سے آپ نے اُتنے حصے کے بالوں کو نہیں کٹوایا ـ
وصال:
۲۶ رمضان المبارک ۱۲۹۵ھ میں مولانا کا انتقال ہوا، جنت البقیع مدفن ہے۔
( آثارات پھلواری شریف )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-aal-e-ahmad-phulwari
scholars.pk
Hazrat Molana Aal e Ahmad Phulwari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سند الکاملین، حضرت سید شاہ آلِ برکات ستھرے میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی: ستھرے میاں ۔
اَلقاب: سند الکاملین، شاہ، آلِ برکات ۔
والد ماجد:
اسد العارفین حضرت سیّد شاہ حمزہ عینیؔ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔
ولادت:
سند الکاملین حضرت سیّد شاہ آلِ برکات ستھرے میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیدائش 10 رجب المرجب 1163ھ کو ہوئی ۔
تقویٰ:
آپ کو مسجد میں نماز پڑھنے اور یادِ الٰہی کا بہت شوق تھا ۔ مارہرہ شریف میں رہتے ہوئے سخت بیماری کے سبب صرف تین روز آپ مسجد میں نہ جا سکے جس کا عمر بھر قلق رہا ۔
شاعری سے شغف:
آپ شاعر بھی تھے اور ’’ آشفتہ ‘‘ تخلص رکھتے تھے ۔
اَولاد و امجاد:
آپ کے چار (4) صاحبزادے ہیں:
❶ حضرت سیّد شاہ آل امام جما میاں قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❷ حضرت سیّد شاہ آلِ رسول احمدی قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❸ حضرت سیّد شاہ اولادِ رسول قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❹ حضرت سیّد شاہ غلام محی الدین امیر عالم قُدِّسَ سِرُّہٗ۔
مشہور خلفا:
❶ حضرت سیّد شاہ آلِ رسول احمدی قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❷ حضرت سیّد شاہ اولادِ رسول قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❸ حضرت سیّد شاہ غلام محی الدین امیر عالم قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❹ حضرت حافظ نصیر الدین قُدِّسَ سِرُّہٗ۔
خاص کار نامہ:
آپ کو تعمیرات کا بہت شوق تھا، عبادت و ریاضت سے جو بھی وقت ملتا تھا درگاہ و خانقاہ کی تعمیر کے لیے وقف فرماتے تھے۔ در گاہ شریف میں جامع مسجد کی تعمیر جس کا سن تاسیس 1217ھ ہے آپ کا یادگار کار نامہ ہے ۔ یہ مسجد اب بھی خانقاہِ برکاتیہ میں موجود ہے ۔
وصال:
آپ نے 26 رمضان المبارک بروز سنیچر(ہفتہ) 1251ھ کو بوقتِ ظہر داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ ۔
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aal-e-barkaat-suthray-miyan-barkati-qadri-marehravi
اسمِ گرامی: ستھرے میاں ۔
اَلقاب: سند الکاملین، شاہ، آلِ برکات ۔
والد ماجد:
اسد العارفین حضرت سیّد شاہ حمزہ عینیؔ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔
ولادت:
سند الکاملین حضرت سیّد شاہ آلِ برکات ستھرے میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیدائش 10 رجب المرجب 1163ھ کو ہوئی ۔
تقویٰ:
آپ کو مسجد میں نماز پڑھنے اور یادِ الٰہی کا بہت شوق تھا ۔ مارہرہ شریف میں رہتے ہوئے سخت بیماری کے سبب صرف تین روز آپ مسجد میں نہ جا سکے جس کا عمر بھر قلق رہا ۔
شاعری سے شغف:
آپ شاعر بھی تھے اور ’’ آشفتہ ‘‘ تخلص رکھتے تھے ۔
اَولاد و امجاد:
آپ کے چار (4) صاحبزادے ہیں:
❶ حضرت سیّد شاہ آل امام جما میاں قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❷ حضرت سیّد شاہ آلِ رسول احمدی قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❸ حضرت سیّد شاہ اولادِ رسول قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❹ حضرت سیّد شاہ غلام محی الدین امیر عالم قُدِّسَ سِرُّہٗ۔
مشہور خلفا:
❶ حضرت سیّد شاہ آلِ رسول احمدی قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❷ حضرت سیّد شاہ اولادِ رسول قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❸ حضرت سیّد شاہ غلام محی الدین امیر عالم قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❹ حضرت حافظ نصیر الدین قُدِّسَ سِرُّہٗ۔
خاص کار نامہ:
آپ کو تعمیرات کا بہت شوق تھا، عبادت و ریاضت سے جو بھی وقت ملتا تھا درگاہ و خانقاہ کی تعمیر کے لیے وقف فرماتے تھے۔ در گاہ شریف میں جامع مسجد کی تعمیر جس کا سن تاسیس 1217ھ ہے آپ کا یادگار کار نامہ ہے ۔ یہ مسجد اب بھی خانقاہِ برکاتیہ میں موجود ہے ۔
وصال:
آپ نے 26 رمضان المبارک بروز سنیچر(ہفتہ) 1251ھ کو بوقتِ ظہر داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ ۔
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aal-e-barkaat-suthray-miyan-barkati-qadri-marehravi
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Aal e Barkaat Suthray Miyan Barkati Qadri Marehravi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles…
شارح بخاری، شیخ الاسلام، حضرت امام بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمود ۔ کنیت: ابو محمد ـ لقب: بدر الدین، امام عینی، قاضی الشام ۔ عرفی نام: شارحِ بخاری امام بدر الدین عینی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمود بن احمد بن موسیٰ بن احمد بن حسین بن یوسف بن محمود عینی حنفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ کے والد اور دادا دونوں قاضی تھے ۔ آپ کے اجداد میں حسین بن یوسف بہت ہی معروف " مفسرِ قرآن " تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26 رمضان 762ھ، مطابق 30 جولائی 1361ء کو قلعہ " عین تاب " حلب، شام میں ہوئی ۔ اسی عین تاب کی نسبت سے آپ کو "عینی " کہا جاتا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن اپنے والدِ گرامی سے کیا ۔ فقہِ حنفی جمال الدین یوسف بن موسی ملطی، اور ملک العلماء علاؤ الدین سیرامی، شیخ تقی الدین، اور شیخ زین الدین عراقی، شیخ سراج الدین بلقینی، وغیرہ جید علماء سے علمی استفادہ کیا ۔ علم کے لئے آپ نے دور دراز علاقوں کا سفر کیا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ المحدثین، امام المتکلمین، رأس المفسرین، مؤید الحنفیین، قاضی الاسلام والمسلمین، حافظ و شارح الاحادیثِ سید المرسلین، استاذ الفقہاء الکاملین، جامع المنقولاتِ والمعقولات، شارحِ بخاری حضرت امام بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ ۔
امام فاضل، محدث کامل، فقیہ بے عدیل، علامہ بے تمثیل، عارف عربیت و تصریف، حافظ لغت، سریع الکتابت، تخریج احادیث اور اور ان کے کشف معانی میں وسعت کامل رکھتے تھے ۔
آپ کے تبحرِ علمی کا اندازہ آپ کی " عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری " سے لگایا جا سکتا ہے ۔
شیخ ابو المعالی حسینی فرماتے ہیں:
امام، عالم، علامہ، حافظ، متقی، وحیدِ زمانہ، استاذ الکل، امام المحدثین، منفرد فی الروایۃ والدرایۃ، معاندین پر اللہ کی حجت، اور بدمذہبوں پر قاہر، امام بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ نے صحیح بخاری کی ایسی شرح لکھی جس کی مثال ہمیں نہیں ملتی ۔ اپنے معاصرین میں علم و عمل تقویٰ و دیانت، فقہ اور حدیث میں بِالخصوص اور جملہ علوم میں بالعموم یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ (مقدمہ عمدۃ القاری ص:14)
آپ کو عہدۂ قضا بغیر طلب کے دیا گیا، آپ نے عدل و انصاف کی مثال قائم کر دی تھی ۔ اس کے علاوہ دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ لیکن آپ نے درس و تدریس، تصنیف و تالیف کو ہمیشہ جاری و ساری رکھا ۔
بستان المحدثین میں ہے:
کہ جب سلطان نے " مدرسہ مؤیدیہ " کو بنوایا اس کے مناروں میں سے ایک منارہ جو بُرج شمالی پر بنا ہوا تھا ٹیڑھا ہو کر گرنے کے قریب ہو گیا ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو گرا کر از سر نو تیار کرایا جائے ۔ اتفاقاً اس وقت " علامہ عینی " اس کے سایہ میں بیٹھے ہوئے درس دے رہے تھے ۔ علامہ ابنِ حجر اور حافظ عینی میں معاصرانہ چشمک تھی ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے مندرجہ ذیل اشعار لکھ کر بادشاہ کے حضور میں پڑھے:
لجامع مولانا المؤید رونق
منارتہ تزھو بالحسن وبالزین
تقول و قدمالت علیہھم امہلوا
فلیس علیٰ حسنی اضر من العین
ترجمہ:
جامع مؤید بڑی با رونق ہے، اس کا منارہ بہت حسین و جمیل تھا، وہ جھکتے وقت زبانِ حال سے کہ رہا تھا کہ مجھے چھوڑ دو کیونکہ میرے جمال کے لئے اصل نقصان دہ " عین " یعنی نظرِ بد ہے ۔ عین سے انہوں نے تعریض کی ۔
علامہ عینی کو جب ان اشعار کا معلوم ہوا تو علامہ ابنِ حجر کی طرف یہ اشعار لکھ بھیجے ۔
منارۃ کعروس الحسن قد حلیت
وھد مھا بقضاء اللہ والقدر
قالوا اصیبت بعین قلت ذاغلط
ما اوجب اٰفۃ الحجر الا خسۃ الحجر
ترجمہ:
وہ منارہ دلہن کی طرح حسین اور خوبصورت تھا ۔ جس کا گرنا حقیقت میں قضا و قدر کے سبب سے تھا ۔ لوگوں نے کہا: اس کو نظر لگ گئی، میں کہتا ہوں: وہ غلط ہیں ۔ لیکن اس کو گرانے کا سبب " حجر " کی خستہ حالی تھی ۔
آپ نے اپنی کتاب عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں احناف کی وکالت کا حق ادا کر دیا ہے ۔ جہاں امام بخاری علیہ الرحمہ نے بعض مقامات پر " بعض الناس " سے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کیے ہیں، ایسے مقامات پر امام المحدثین حافظ عینی علیہ الرحمہ نے امام اعظم کے دفاع کا حق ادا کر دیا ہے ۔ یہ آپ کا احناف پر بہت بڑ احسان ہے ۔ تمام علماءِ احناف کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مقلدین آپ کی شرح پر غیر مہذبانہ الزام لگاتے ہیں، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
وصال:
آپ کا وصال 4 ذوالحج 855ھ، 28 دسمبر 1451ء کو ہوا ۔ اپنی مسجد اور مدرسے کے صحن میں دفن کیے گئے ۔ آپ کی قبر " قاہرہ " مصر میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ مقدمہ عمدۃ القاری مطبوعہ بیروت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/shareh-bukhari-hazrat-allama-imam-badruddin-aini
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمود ۔ کنیت: ابو محمد ـ لقب: بدر الدین، امام عینی، قاضی الشام ۔ عرفی نام: شارحِ بخاری امام بدر الدین عینی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمود بن احمد بن موسیٰ بن احمد بن حسین بن یوسف بن محمود عینی حنفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ کے والد اور دادا دونوں قاضی تھے ۔ آپ کے اجداد میں حسین بن یوسف بہت ہی معروف " مفسرِ قرآن " تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26 رمضان 762ھ، مطابق 30 جولائی 1361ء کو قلعہ " عین تاب " حلب، شام میں ہوئی ۔ اسی عین تاب کی نسبت سے آپ کو "عینی " کہا جاتا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن اپنے والدِ گرامی سے کیا ۔ فقہِ حنفی جمال الدین یوسف بن موسی ملطی، اور ملک العلماء علاؤ الدین سیرامی، شیخ تقی الدین، اور شیخ زین الدین عراقی، شیخ سراج الدین بلقینی، وغیرہ جید علماء سے علمی استفادہ کیا ۔ علم کے لئے آپ نے دور دراز علاقوں کا سفر کیا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ المحدثین، امام المتکلمین، رأس المفسرین، مؤید الحنفیین، قاضی الاسلام والمسلمین، حافظ و شارح الاحادیثِ سید المرسلین، استاذ الفقہاء الکاملین، جامع المنقولاتِ والمعقولات، شارحِ بخاری حضرت امام بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ ۔
امام فاضل، محدث کامل، فقیہ بے عدیل، علامہ بے تمثیل، عارف عربیت و تصریف، حافظ لغت، سریع الکتابت، تخریج احادیث اور اور ان کے کشف معانی میں وسعت کامل رکھتے تھے ۔
آپ کے تبحرِ علمی کا اندازہ آپ کی " عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری " سے لگایا جا سکتا ہے ۔
شیخ ابو المعالی حسینی فرماتے ہیں:
امام، عالم، علامہ، حافظ، متقی، وحیدِ زمانہ، استاذ الکل، امام المحدثین، منفرد فی الروایۃ والدرایۃ، معاندین پر اللہ کی حجت، اور بدمذہبوں پر قاہر، امام بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ نے صحیح بخاری کی ایسی شرح لکھی جس کی مثال ہمیں نہیں ملتی ۔ اپنے معاصرین میں علم و عمل تقویٰ و دیانت، فقہ اور حدیث میں بِالخصوص اور جملہ علوم میں بالعموم یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ (مقدمہ عمدۃ القاری ص:14)
آپ کو عہدۂ قضا بغیر طلب کے دیا گیا، آپ نے عدل و انصاف کی مثال قائم کر دی تھی ۔ اس کے علاوہ دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ لیکن آپ نے درس و تدریس، تصنیف و تالیف کو ہمیشہ جاری و ساری رکھا ۔
بستان المحدثین میں ہے:
کہ جب سلطان نے " مدرسہ مؤیدیہ " کو بنوایا اس کے مناروں میں سے ایک منارہ جو بُرج شمالی پر بنا ہوا تھا ٹیڑھا ہو کر گرنے کے قریب ہو گیا ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو گرا کر از سر نو تیار کرایا جائے ۔ اتفاقاً اس وقت " علامہ عینی " اس کے سایہ میں بیٹھے ہوئے درس دے رہے تھے ۔ علامہ ابنِ حجر اور حافظ عینی میں معاصرانہ چشمک تھی ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے مندرجہ ذیل اشعار لکھ کر بادشاہ کے حضور میں پڑھے:
لجامع مولانا المؤید رونق
منارتہ تزھو بالحسن وبالزین
تقول و قدمالت علیہھم امہلوا
فلیس علیٰ حسنی اضر من العین
ترجمہ:
جامع مؤید بڑی با رونق ہے، اس کا منارہ بہت حسین و جمیل تھا، وہ جھکتے وقت زبانِ حال سے کہ رہا تھا کہ مجھے چھوڑ دو کیونکہ میرے جمال کے لئے اصل نقصان دہ " عین " یعنی نظرِ بد ہے ۔ عین سے انہوں نے تعریض کی ۔
علامہ عینی کو جب ان اشعار کا معلوم ہوا تو علامہ ابنِ حجر کی طرف یہ اشعار لکھ بھیجے ۔
منارۃ کعروس الحسن قد حلیت
وھد مھا بقضاء اللہ والقدر
قالوا اصیبت بعین قلت ذاغلط
ما اوجب اٰفۃ الحجر الا خسۃ الحجر
ترجمہ:
وہ منارہ دلہن کی طرح حسین اور خوبصورت تھا ۔ جس کا گرنا حقیقت میں قضا و قدر کے سبب سے تھا ۔ لوگوں نے کہا: اس کو نظر لگ گئی، میں کہتا ہوں: وہ غلط ہیں ۔ لیکن اس کو گرانے کا سبب " حجر " کی خستہ حالی تھی ۔
آپ نے اپنی کتاب عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں احناف کی وکالت کا حق ادا کر دیا ہے ۔ جہاں امام بخاری علیہ الرحمہ نے بعض مقامات پر " بعض الناس " سے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کیے ہیں، ایسے مقامات پر امام المحدثین حافظ عینی علیہ الرحمہ نے امام اعظم کے دفاع کا حق ادا کر دیا ہے ۔ یہ آپ کا احناف پر بہت بڑ احسان ہے ۔ تمام علماءِ احناف کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مقلدین آپ کی شرح پر غیر مہذبانہ الزام لگاتے ہیں، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
وصال:
آپ کا وصال 4 ذوالحج 855ھ، 28 دسمبر 1451ء کو ہوا ۔ اپنی مسجد اور مدرسے کے صحن میں دفن کیے گئے ۔ آپ کی قبر " قاہرہ " مصر میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ مقدمہ عمدۃ القاری مطبوعہ بیروت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/shareh-bukhari-hazrat-allama-imam-badruddin-aini
scholars.pk
Hazrat Imam Badruddin Aini
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا الیاس عطار قادری رضوی ضیائی، امیر دعوت اسلامی دامت برکاتہم العالیہ
شیخ طریقت، اَمیر اَہلسنّت، بانئ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی دامت برکاتہم العالیہ
ولادت:
آپ کی ولادت مبارکہ ۲۶ رَمَضانُ المبارَک ۱۳۶۹ھ بمطابق ۱۹۵۰ء میں پاکستان کے مشہور شہر باب المدینہ کراچی میں ہوئی ۔
آپ کے آباء و اجداد:
امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے آباء و اجداد ہند کے گاؤں" کُتیانہ (جُونا گڑھ، گجرات) " میں مقیم تھے ۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ کے دادا جان عبد الرحيم علیہ رحمۃ اللہ الکریم کی نيک نامی اور پارسائی پورے "" کتیانہ "" ميں مشہور تھی ۔ جب پاکستان مَعْرِضِ وُجود میں آیا تو امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے والدین ماجدین ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے ۔ ابتدا میں بابُ الاسلام (سندھ) کے مشہور شہر حیدر آباد میں قِیام فرمایا ۔ کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد بابُ الْمدینہ (کراچی) میں تشریف لائے اور یہیں سُکُونَتْ پذیر ہوئے ۔
والدِ محترم:
امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے والدِ بُزُرگوار حاجی عبد الرَحمن قادِری علیہ رحمۃ اللہ الھادی باشرع اور پرہیز گار آدمی تھے ۔ اکثر نگاہیں نیچی رکھ کر چلا کرتے تھے، انہیں بہت سی احادیث زبانی یاد تھیں ۔ دنیاوی مال و دولت جمع کرنے کا لالچ نہیں تھا ۔ آپ علیہ رحمۃ اللہ الھادی سلسلۂ عالیہ قادِریہ میں بیعت تھے ۔
( تعارفِ امیرِ اہلِسنّت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ilyas-attar-qadri
شیخ طریقت، اَمیر اَہلسنّت، بانئ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی دامت برکاتہم العالیہ
ولادت:
آپ کی ولادت مبارکہ ۲۶ رَمَضانُ المبارَک ۱۳۶۹ھ بمطابق ۱۹۵۰ء میں پاکستان کے مشہور شہر باب المدینہ کراچی میں ہوئی ۔
آپ کے آباء و اجداد:
امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے آباء و اجداد ہند کے گاؤں" کُتیانہ (جُونا گڑھ، گجرات) " میں مقیم تھے ۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ کے دادا جان عبد الرحيم علیہ رحمۃ اللہ الکریم کی نيک نامی اور پارسائی پورے "" کتیانہ "" ميں مشہور تھی ۔ جب پاکستان مَعْرِضِ وُجود میں آیا تو امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے والدین ماجدین ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے ۔ ابتدا میں بابُ الاسلام (سندھ) کے مشہور شہر حیدر آباد میں قِیام فرمایا ۔ کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد بابُ الْمدینہ (کراچی) میں تشریف لائے اور یہیں سُکُونَتْ پذیر ہوئے ۔
والدِ محترم:
امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے والدِ بُزُرگوار حاجی عبد الرَحمن قادِری علیہ رحمۃ اللہ الھادی باشرع اور پرہیز گار آدمی تھے ۔ اکثر نگاہیں نیچی رکھ کر چلا کرتے تھے، انہیں بہت سی احادیث زبانی یاد تھیں ۔ دنیاوی مال و دولت جمع کرنے کا لالچ نہیں تھا ۔ آپ علیہ رحمۃ اللہ الھادی سلسلۂ عالیہ قادِریہ میں بیعت تھے ۔
( تعارفِ امیرِ اہلِسنّت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ilyas-attar-qadri
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Ilyas Attar Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا سید ایوب علی رضوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید ایوب علی رضوی ۔ لقب: عاشقِ اعلیٰ حضرت، مخدومِ ملت، فدائے رضویت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا سید ایوب علی رضوی بن سید شجاعت علی بن سید تراب علی بن سید ببر علی (علیہم الرحمہ) ۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1295ھ، مطابق 1875ء کو " بریلی شریف " (انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم بریلی شریف میں حاصل کی، مڈل تک اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارسی کے قواعد سیکھے، کچھ عرصہ اسلامیہ اسکول بریلی شریف میں پڑھاتے رہے، پھر جب اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بیعت کا شرف حاصل ہوا تو اپنے آپ کو بارگاہ رضویت کے لئے وقف کر دیا ۔ لکھائی کا جو کام آپ کے سپرد کیا جاتا اسے احسن اہتمام سے انجام دیتے، رمضان شریف میں سحری اور افطاری کے نقشے مرتب فرماتے ـ
علم ریاضی میں مہارت:
دیگر علوم کے علاوہ " ریاضی " میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے خوب خوب استفادہ کیا ۔ آپ کی ریاضی میں مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الدین مرحوم جو کہ "یورپ" کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرکے آئے تھے، اور ریاضی میں ڈاکٹریٹ کیا تھا ۔ جب ایک مسئلے کے حل کے لئے اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو مولانا سید ایوب علی رضوی علیہ الرحمہ ڈاکٹر ضیاء الدین وائس چانسلر مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ کے بریلی شریف حاضر ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " کہ کسور اعشاریہ متوالیہ کی قوت کا تذکرہ آیا، ڈاکٹر صاحب نے بھی وہی فرمایا کہ تیسری قوت تک ہے، اس پر حضور (اعلیٰ حضرت قدس سرہ) نے میرے (مولانا سید ایوب علی رضوی) اور میرے برادر قناعت علی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میرے یہ دو بچے بیٹھے ہیں، انہیں جس قوت کا آپ سوال دے دیں یہ حل کر دیں گے، ڈاکٹر صاحب متحیر ہو کر ہم دونوں کو دیکھنے لگے " ۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
خادمِ اعلیٰ حضرت، مخدومِ اہلِ سنت، فدائے رضویت، حامیِ سنیت، دافعِ وہابیت و نجدیت، عالمِ کتاب و سنت حضرت علامہ مولانا سید ایوب علی رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے تقویٰ و پرہیزگاری، اور دینِ اسلام کی خدمت سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو " وقف بارگاہِ رضویت " کر دیا تھا ۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کی صحبت کا اثر تھا کہ آپ بھی بہت متقی و پرہیزگار تھے ۔
سید صاحب کربلائے معلی، بغداد شریف، نجف اشرف اور بصرہ میں بزرگان دین کے مزارات پر حاضری سے مشرف ہوئے ۔ تین دفعہ حج و زیارت کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے ۔ اڑھائی سال تک مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے وصال کے دو سال بعد بریلی شریف میں رضوی کتب خانہ قائم کیا اور اعلیٰ حضرت کے متعدد رسائل شائع کئے ۔ امام احمد رضا قدس سرہ کے وصال کے بعد ان کی سوانح حیات مرتب کرنے کی تحریک آپ ہی نے شروع کی تھی ۔ " حیات اعلیٰ حضرت " مؤلفہ ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری قدس سرہ کے اکثر و بیشتر واقعات آپ ہی کی روایت پر مبنی ہیں ۔ مولانا ظفر الدین بہاری لکھتے ہیں : " ہم رضویوں کو جناب حاجی مولوی سید ایوب علی صاحب رضوی بریلوی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس کی طرف سب سے پہلے توجہ فرمائی اور برادران طریقت کو توجہ دلائی ۔ ان کی تحریک سے بعض احباب نے کچھ حالات ان کے پاس لکھ بھیجے اور زیادہ حصہ خود سید صاحب موصوف نے لکھا ۔ جب ان کو میرے حیات اعلیٰ حضرت لکھنے کی خبر ہوئی تو جو کچھ مواد ان کے پاس تھا، سب مجھے عنایت فرما دیا " ۔
مولانا سید ایوب علی رضوی، اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے فیض صحبت سے حد درجہ متاثر تھے، تقویٰ و پرہیز گاری میں اپنی مثال آپ تھے، معاملات اس قدر محتاط تھے کہ جب تک ایک ایک پیسے کا حساب نہ چکا دیتے، مطمئن نہ ہوتے ۔ 1370ھ 1950ء میں پاکستان آکر لاہور میں قیام پذیر ہو گئے ۔ یہاں بھی " رضوی کتب خانہ " قائم کر کے متعدد رسائل شائع کئے ۔
قدرت نے آپ کو شعر و سخن کا پاکیزہ ذوق عطا کیا تھا ۔ حمد و نعت اور منقبت ایسے محبوب موضوعات پر عام فہم اور دلنشیں انداز میں اظہار خیال کیا کرتے تھے ۔ مجموعۂ کلام " باغ فردوس " کے نام سے ہے ۔ اس کے علاوہ " شقاوۃ النجدیہ علیٰ دیار القدسیۃ العربیہ " اور " رفیق زائرین " حجاج اور زائرین کے لئے ہدایت کا مجموعہ وغیرہ رسائل بھی آپ نے تحریر فرمائے ۔
تاریخِ وصال:
بروز جمعۃ الوداع 26 رمضان المبارک 1390ھ، مطابق 26 نومبر 1970ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کی تدفین " قبرستان میانی صاحب " لاہور میں ہوئی ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ayub-ali-rizvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید ایوب علی رضوی ۔ لقب: عاشقِ اعلیٰ حضرت، مخدومِ ملت، فدائے رضویت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا سید ایوب علی رضوی بن سید شجاعت علی بن سید تراب علی بن سید ببر علی (علیہم الرحمہ) ۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1295ھ، مطابق 1875ء کو " بریلی شریف " (انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم بریلی شریف میں حاصل کی، مڈل تک اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارسی کے قواعد سیکھے، کچھ عرصہ اسلامیہ اسکول بریلی شریف میں پڑھاتے رہے، پھر جب اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بیعت کا شرف حاصل ہوا تو اپنے آپ کو بارگاہ رضویت کے لئے وقف کر دیا ۔ لکھائی کا جو کام آپ کے سپرد کیا جاتا اسے احسن اہتمام سے انجام دیتے، رمضان شریف میں سحری اور افطاری کے نقشے مرتب فرماتے ـ
علم ریاضی میں مہارت:
دیگر علوم کے علاوہ " ریاضی " میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے خوب خوب استفادہ کیا ۔ آپ کی ریاضی میں مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الدین مرحوم جو کہ "یورپ" کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرکے آئے تھے، اور ریاضی میں ڈاکٹریٹ کیا تھا ۔ جب ایک مسئلے کے حل کے لئے اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو مولانا سید ایوب علی رضوی علیہ الرحمہ ڈاکٹر ضیاء الدین وائس چانسلر مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ کے بریلی شریف حاضر ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " کہ کسور اعشاریہ متوالیہ کی قوت کا تذکرہ آیا، ڈاکٹر صاحب نے بھی وہی فرمایا کہ تیسری قوت تک ہے، اس پر حضور (اعلیٰ حضرت قدس سرہ) نے میرے (مولانا سید ایوب علی رضوی) اور میرے برادر قناعت علی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میرے یہ دو بچے بیٹھے ہیں، انہیں جس قوت کا آپ سوال دے دیں یہ حل کر دیں گے، ڈاکٹر صاحب متحیر ہو کر ہم دونوں کو دیکھنے لگے " ۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
خادمِ اعلیٰ حضرت، مخدومِ اہلِ سنت، فدائے رضویت، حامیِ سنیت، دافعِ وہابیت و نجدیت، عالمِ کتاب و سنت حضرت علامہ مولانا سید ایوب علی رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے تقویٰ و پرہیزگاری، اور دینِ اسلام کی خدمت سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو " وقف بارگاہِ رضویت " کر دیا تھا ۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کی صحبت کا اثر تھا کہ آپ بھی بہت متقی و پرہیزگار تھے ۔
سید صاحب کربلائے معلی، بغداد شریف، نجف اشرف اور بصرہ میں بزرگان دین کے مزارات پر حاضری سے مشرف ہوئے ۔ تین دفعہ حج و زیارت کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے ۔ اڑھائی سال تک مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے وصال کے دو سال بعد بریلی شریف میں رضوی کتب خانہ قائم کیا اور اعلیٰ حضرت کے متعدد رسائل شائع کئے ۔ امام احمد رضا قدس سرہ کے وصال کے بعد ان کی سوانح حیات مرتب کرنے کی تحریک آپ ہی نے شروع کی تھی ۔ " حیات اعلیٰ حضرت " مؤلفہ ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری قدس سرہ کے اکثر و بیشتر واقعات آپ ہی کی روایت پر مبنی ہیں ۔ مولانا ظفر الدین بہاری لکھتے ہیں : " ہم رضویوں کو جناب حاجی مولوی سید ایوب علی صاحب رضوی بریلوی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس کی طرف سب سے پہلے توجہ فرمائی اور برادران طریقت کو توجہ دلائی ۔ ان کی تحریک سے بعض احباب نے کچھ حالات ان کے پاس لکھ بھیجے اور زیادہ حصہ خود سید صاحب موصوف نے لکھا ۔ جب ان کو میرے حیات اعلیٰ حضرت لکھنے کی خبر ہوئی تو جو کچھ مواد ان کے پاس تھا، سب مجھے عنایت فرما دیا " ۔
مولانا سید ایوب علی رضوی، اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے فیض صحبت سے حد درجہ متاثر تھے، تقویٰ و پرہیز گاری میں اپنی مثال آپ تھے، معاملات اس قدر محتاط تھے کہ جب تک ایک ایک پیسے کا حساب نہ چکا دیتے، مطمئن نہ ہوتے ۔ 1370ھ 1950ء میں پاکستان آکر لاہور میں قیام پذیر ہو گئے ۔ یہاں بھی " رضوی کتب خانہ " قائم کر کے متعدد رسائل شائع کئے ۔
قدرت نے آپ کو شعر و سخن کا پاکیزہ ذوق عطا کیا تھا ۔ حمد و نعت اور منقبت ایسے محبوب موضوعات پر عام فہم اور دلنشیں انداز میں اظہار خیال کیا کرتے تھے ۔ مجموعۂ کلام " باغ فردوس " کے نام سے ہے ۔ اس کے علاوہ " شقاوۃ النجدیہ علیٰ دیار القدسیۃ العربیہ " اور " رفیق زائرین " حجاج اور زائرین کے لئے ہدایت کا مجموعہ وغیرہ رسائل بھی آپ نے تحریر فرمائے ۔
تاریخِ وصال:
بروز جمعۃ الوداع 26 رمضان المبارک 1390ھ، مطابق 26 نومبر 1970ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کی تدفین " قبرستان میانی صاحب " لاہور میں ہوئی ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ayub-ali-rizvi
scholars.pk
Hazrat Molana Syed Ayub Ali Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1