غزالیِ زماں ، علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی علیہ الرحمہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ۔ کنیت: ابو النجم ۔ اَلقاب: غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امامِ اہلِ سنّت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سیّد احمد سعید شاہ کاظمی بن حضرت سیّد مختار احمد کاظمی بن حافظ سیّد یوسف علی شاہ چشتی قادری بن مولانا سیّد شاہ وصی اللہ نقشبندی مجددی قادری بن مولانا سیّد شاہ صبغت اللہ نقشبندی مجددی چشتی صابری بن مولانا سیّد شاہ سیف اللہ چشتی قادری بن مولانا سیّد میرمحمد اشرف دہلوی ثم امروہی اِلٰی اٰخِرِہٖ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب 44 واسطوں سے سرورِ عالم ﷺ تک پہنچتا ہے ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص:33)
آپ حضرت امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے ہیں، اس لیے ’’کاظمی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
غزالیِ زماں، رازیِ دوراں کی وجہ تسمیہ:
حضور محدثِ اعظم ہند، وحید العصر، قدوۃ العلماء حضرت سیّد محمد محدث کچھوچھوی نے علمائے کرام کی مجلس، جس میں علمائے کرام و دانشوران کی کثیر تعداد اور عوام کا ایک جم غفیر موجود تھا، میں ’’غزالیِ زماں، رازیِ دوراں‘‘ کا خطاب عطا فرمایا ۔ علمائے کرام اور عوام نے فلگ شگاف نعروں کے ساتھ حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی کے قول کی تصدیق کی، اُس وقت سے آج تک یہ اَلقاب حضرت علامہ کاظمی کا عرف قرار پائے ہیں ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص:86)
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 4 ربیع الثانی 1331ھ، مطابق 13 مارچ 1913ء بوقت صبح چار بجے، محلہ کٹکوئی شہر امروہہ، ضلع مراد آباد (انڈیا) میں ہوئی ۔ (اب امروہہ ایک مستقل ضلع بن چکا ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا)
تحصیلِ علم:
آپ ایک علمی خاندان کے روشن چراغ ہیں ۔ آپ کا خاندان علم و فضل، زہد و تقویٰ میں پورے ہندوستان میں معروف تھا ۔ بچپن میں والدِ گرامی کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا ۔ تمام تر تعلیم و تربیت اپنے برادرِ بزرگ، محدثِ جلیل حضرت علامہ مولانا سیّد محمد خلیل محدث امروہوی سے حاصل کی ۔ وہ مدرسہ بحر العلوم شاہ جہاں پور میں مدرّس تھے اور حضرت علامہ کاظمی کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ امامِ اہلِ سنّت نے 16 سال کی عمر میں 1348ھ مطابق 1929ء میں مدرسۂ محمدیہ حنفیہ امروہہ سے سندِ فراغت حاصل کی ۔ شیخ المشائخ، ہم شکلِ غوث الاعظم حضرت شاہ علی حسین اشرفی المعروف ’’اشرفی میاں‘‘ نے دستارِ فضیلت باندھی، اس تقریبِ سعید میں حضور صدر الافاضل، علامہ سیّد نعیم الدین مراد آبادی، مناظر اسلام حضرت مولانا نثار احمد کانپوری بن علامۂ زماں مولانا احمد حسن کانپوری و دیگر جیّد علماء شریک تھے، جنہوں نے آپ کو خصوصی دعاؤں سے نوازا ۔
بیعت و خلافت:
اپنے برادرِبزرگ، محدثِ شہیر، عالمِ کبیر، اُستاذ العلماء الراسخین حضرت مولانا سیّد محمد خلیل چشتی صابری محدث امروہوی کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف کیے گئے۔
شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی شفقت:
غزالیِ زماں رازیِ دوراں کو اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں قادری کی ذاتِ گرامی سے بڑی گہری عقیدت ومحبت تھی، بلکہ آپ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے عظیم مبلغ و داعی تھے۔قیام ِ پاکستان سے قبل اعلیٰ حضرت کے اَعراس میں شریک ہوتے تھے۔ایک مرتبہ اپنے مرشِدو استاذِ محترم حضرت مولانا سیّد خلیل احمد محدث امروہوی کےہمراہ عرسِ اعلیٰ حضرت میں شریک ہوئے اور عرس کی تقریب میں ہزاروں علما ومشائخ تشریف فرماتھے اور وقفے وقفے سےتقاریر کررہےتھے، شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظمِ ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں اپنے کاشانۂ اقدس کے باہر رضوی دارالافتاء میں رونق افروز تھے۔علامہ کاظمی صاحب کے خطاب کی باری آئی تو آپ نے اعلیٰ حضرت کےتجدیدی کارناموں پر فصیح وبلیغ انداز میں بیان فرمایا، دار الافتاء میں بیان کی آواز پہنچ رہی تھی،شہزادۂ اعلیٰ حضرت، اظہار ِ مسرت فرمارہےتھے۔
شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیِ اعظمِ ہند علیہ الرحمہ نے آپ کی تقریر کی جامعیت وقوتِ استدلال کی تعریف کرتےہوئے ارشادفرمایا:
’’امروہہ کے چھوٹے شاہ صاحب تقریر کر رہے ہیں۔ ماشاء اللہ خوب فصاحت وبلاغت ہے۔ بہت اچھا مطالعہ ہے،اللہ تعالیٰ برکت دے۔‘‘
حضرت مفتیِ اعظہم ہند نے نہ صرف آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت عطا فرمائی، بلکہ سندِ حدیث بھی عطاء فرمائی ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص142)
سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، سندالمحدثین، رئیس المفسرین، امام المدرسین، اُستاذالعلما، مرجع الفضلا، سیّد الاتقیا، رئیس الفقہا، ضیغمِ اسلام، متکلم اسلام، امام المنقولات والمعقولات، مجمع البحرین، قطبِ دوراں، غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امامِ اہلِ سنّت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ۔ حضرت غزالیِ زماں رازیِ دوراں بالعموم تمام علوم اور بالخصوص تفسیر وحدیث کے مسند نشیں، محراب ومنبر کی زینت، خانقاہ و درویشی کا جمال، رشد و ہدایت کا صوفیانہ اندازِ دل نشیں، لاینحل سوالات کی عقدہ کشائی، قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل اسلام کی راہ ن
نام و نسب:
اسم گرامی: سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ۔ کنیت: ابو النجم ۔ اَلقاب: غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امامِ اہلِ سنّت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سیّد احمد سعید شاہ کاظمی بن حضرت سیّد مختار احمد کاظمی بن حافظ سیّد یوسف علی شاہ چشتی قادری بن مولانا سیّد شاہ وصی اللہ نقشبندی مجددی قادری بن مولانا سیّد شاہ صبغت اللہ نقشبندی مجددی چشتی صابری بن مولانا سیّد شاہ سیف اللہ چشتی قادری بن مولانا سیّد میرمحمد اشرف دہلوی ثم امروہی اِلٰی اٰخِرِہٖ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب 44 واسطوں سے سرورِ عالم ﷺ تک پہنچتا ہے ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص:33)
آپ حضرت امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے ہیں، اس لیے ’’کاظمی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
غزالیِ زماں، رازیِ دوراں کی وجہ تسمیہ:
حضور محدثِ اعظم ہند، وحید العصر، قدوۃ العلماء حضرت سیّد محمد محدث کچھوچھوی نے علمائے کرام کی مجلس، جس میں علمائے کرام و دانشوران کی کثیر تعداد اور عوام کا ایک جم غفیر موجود تھا، میں ’’غزالیِ زماں، رازیِ دوراں‘‘ کا خطاب عطا فرمایا ۔ علمائے کرام اور عوام نے فلگ شگاف نعروں کے ساتھ حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی کے قول کی تصدیق کی، اُس وقت سے آج تک یہ اَلقاب حضرت علامہ کاظمی کا عرف قرار پائے ہیں ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص:86)
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 4 ربیع الثانی 1331ھ، مطابق 13 مارچ 1913ء بوقت صبح چار بجے، محلہ کٹکوئی شہر امروہہ، ضلع مراد آباد (انڈیا) میں ہوئی ۔ (اب امروہہ ایک مستقل ضلع بن چکا ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا)
تحصیلِ علم:
آپ ایک علمی خاندان کے روشن چراغ ہیں ۔ آپ کا خاندان علم و فضل، زہد و تقویٰ میں پورے ہندوستان میں معروف تھا ۔ بچپن میں والدِ گرامی کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا ۔ تمام تر تعلیم و تربیت اپنے برادرِ بزرگ، محدثِ جلیل حضرت علامہ مولانا سیّد محمد خلیل محدث امروہوی سے حاصل کی ۔ وہ مدرسہ بحر العلوم شاہ جہاں پور میں مدرّس تھے اور حضرت علامہ کاظمی کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ امامِ اہلِ سنّت نے 16 سال کی عمر میں 1348ھ مطابق 1929ء میں مدرسۂ محمدیہ حنفیہ امروہہ سے سندِ فراغت حاصل کی ۔ شیخ المشائخ، ہم شکلِ غوث الاعظم حضرت شاہ علی حسین اشرفی المعروف ’’اشرفی میاں‘‘ نے دستارِ فضیلت باندھی، اس تقریبِ سعید میں حضور صدر الافاضل، علامہ سیّد نعیم الدین مراد آبادی، مناظر اسلام حضرت مولانا نثار احمد کانپوری بن علامۂ زماں مولانا احمد حسن کانپوری و دیگر جیّد علماء شریک تھے، جنہوں نے آپ کو خصوصی دعاؤں سے نوازا ۔
بیعت و خلافت:
اپنے برادرِبزرگ، محدثِ شہیر، عالمِ کبیر، اُستاذ العلماء الراسخین حضرت مولانا سیّد محمد خلیل چشتی صابری محدث امروہوی کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف کیے گئے۔
شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی شفقت:
غزالیِ زماں رازیِ دوراں کو اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں قادری کی ذاتِ گرامی سے بڑی گہری عقیدت ومحبت تھی، بلکہ آپ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے عظیم مبلغ و داعی تھے۔قیام ِ پاکستان سے قبل اعلیٰ حضرت کے اَعراس میں شریک ہوتے تھے۔ایک مرتبہ اپنے مرشِدو استاذِ محترم حضرت مولانا سیّد خلیل احمد محدث امروہوی کےہمراہ عرسِ اعلیٰ حضرت میں شریک ہوئے اور عرس کی تقریب میں ہزاروں علما ومشائخ تشریف فرماتھے اور وقفے وقفے سےتقاریر کررہےتھے، شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظمِ ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں اپنے کاشانۂ اقدس کے باہر رضوی دارالافتاء میں رونق افروز تھے۔علامہ کاظمی صاحب کے خطاب کی باری آئی تو آپ نے اعلیٰ حضرت کےتجدیدی کارناموں پر فصیح وبلیغ انداز میں بیان فرمایا، دار الافتاء میں بیان کی آواز پہنچ رہی تھی،شہزادۂ اعلیٰ حضرت، اظہار ِ مسرت فرمارہےتھے۔
شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیِ اعظمِ ہند علیہ الرحمہ نے آپ کی تقریر کی جامعیت وقوتِ استدلال کی تعریف کرتےہوئے ارشادفرمایا:
’’امروہہ کے چھوٹے شاہ صاحب تقریر کر رہے ہیں۔ ماشاء اللہ خوب فصاحت وبلاغت ہے۔ بہت اچھا مطالعہ ہے،اللہ تعالیٰ برکت دے۔‘‘
حضرت مفتیِ اعظہم ہند نے نہ صرف آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت عطا فرمائی، بلکہ سندِ حدیث بھی عطاء فرمائی ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص142)
سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، سندالمحدثین، رئیس المفسرین، امام المدرسین، اُستاذالعلما، مرجع الفضلا، سیّد الاتقیا، رئیس الفقہا، ضیغمِ اسلام، متکلم اسلام، امام المنقولات والمعقولات، مجمع البحرین، قطبِ دوراں، غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امامِ اہلِ سنّت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ۔ حضرت غزالیِ زماں رازیِ دوراں بالعموم تمام علوم اور بالخصوص تفسیر وحدیث کے مسند نشیں، محراب ومنبر کی زینت، خانقاہ و درویشی کا جمال، رشد و ہدایت کا صوفیانہ اندازِ دل نشیں، لاینحل سوالات کی عقدہ کشائی، قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل اسلام کی راہ ن
❤1
مائی،اور دین اسلام کی سربلندی کےلیے سوزوگداز کی مجسم کیفیت والی عظیم شخصیت تھے۔آپ جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ تھے۔ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، اسلامی علوم وفنون کے یکتائے روزگار، ماہر اور اَسرارِ معرفت کادبستان تھے۔
عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ تدریس، تصنیف، خطابت، اور مقامِ فقرو معرفت، یہ اوصاف کسی ایک شخصیت میں جمع نہیں ہوتے۔کوئی اگر عظیم خطیب ہوتا ہے تو اس درجے کا مصنف نہیں ہوتا،اور اگر میدانِ تصنیف میں بام عروج کو پہنچ جائے،تو تدریس میں اس بلند مقام کاحامل نہیں ہوتا،لیکن حضرت غزالیِ زماں، رازیِ دوراں کی شخصیت اس عمومی قاعدےسےمستثنیٰ تھی،آپ بَہ یک وقت بہترین مدرس و محدث، بلند پایہ مصنّف،جادو بیاں خطیب،اور صاحبِ کمال شیخِ طریقت تھے۔یہی سبب تھا کہ مخالفین نے آپ کاراستہ روکنے کی بارہا کوششیں کیں،یہاں تک کہ آپ پر قاتلانہ حملے کیے،مگر آپ کےپائے استقلال میں جنبش نہ آئی،اور آپ کا ہر قدم منزل کی طرف آگے ہی بڑھتا رہا اور ایک وہ وقت آیا کہ آپ ’’اہلِ سنّت وجماعت‘‘ کی آبرواور پہچان بن گئے۔
غزالیِ زماں اور علامہ اقبال:
جن دنوں آپ جامعہ نعمانیہ لاہور میں مدرّس تھے، زندہ دلانِ لاہور نے موچی دروازے کےباغ میں ’’عید میلاد النبیﷺ‘‘ کےسلسلے میں ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا۔ مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کرسی ِ صدارت پر بیٹھے ہوئے محویت کےعالم میں علامہ کاظمیکاخطابِ لاجواب سن رہے تھے۔آپ نے صرف نبی مکرم ﷺ کےاسم گرامی’’محمد‘‘ﷺ کی عظمت میں ایک گھنٹہ تقریر فرمائی۔تقریر کےبعد علامہ اقبال نے آپ کوسینے سےلگایا اور کہا:
؏: ایسی چنگاری بھی، یا رب! اپنی خاکستر میں ہے
اور پھر مسکرا کر تھپکی دیتے ہوئے اور فرمایا:
’’برخوردار! لگتا ہے بہت نام پیدا کروگے ۔ ‘‘ (نور نور چہرے، ص16؛ حیاتِ غزالی زماں، ص40)
قومی و ملّی خدمات:
ملّتِ اسلامیہ کو جب بھی کوئی مشکل مرحلہ پیش آیا۔حضرت غزالی زماں نے ہمیشہ قائدانہ کردار اداکیا۔ 1946ء میں ’’آل انڈیا سنّی کانفرنس‘‘میں علما ومشائخ کے وفد کے ہمراہ شریک ہوئے اور مطالبۂ پاکستان کی پرزور حمایت کی۔ یاد رہے کہ یہ کانفرنس تحریک ِ پاکستان کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔علما ومشائخ اہل سنّت کی پر زور حمایت کی بدولت قیام پاکستان کاخواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔قائدِ اعظم محمد علی جناح مرحوم سے خط وکتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ آپ نے تحریکِ پاکستان،تحریکِ ختمِ نبوّت، اور تحریکِ نظام مصطفیٰﷺمیں قائدانہ حصہ لیا۔ تمام عمر مقامِ مصطفیٰﷺ کےتحفّظ، اور نظامِ مصطفیٰﷺ کےنفاذ کےلیے جدوجہد کرتےرہے۔ قیامِ پاکستان کےبعد1948ء میں انوارالعلوم ملتان میں علمائے اہلِ سنّت کااجلاس بلایا،اور آل انڈیا سنّی کانفرنس کا نام تبدیل کرکے’’جمیعت علمائے پاکستان‘‘ کی تشکیل کی گئی۔ 1960ء میں اہلِ سنّت کےمدارس کو منظّم کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ’’تنظیم المدارس‘‘ قائم کی۔ 1978ء کو ملتان قلعہ قاسم باغ میں فقید المثال ’’کل پاکستان سنّی کانفرنس‘‘ منعقد کرائی، جس میں اخباری اطلاع کےمطابق دس ہزار سے زیادہ علما و مشائخ،اور بیس سے پچیس لاکھ تک عوامِ اہلِ سنّت کا اجتماع تھا۔ اِسی موقع پر ’’جماعت ِاہلِ سنّت‘‘ کی تشکیل ہوئی۔آپ اس کےصدر منتخب کیے گئے۔تبلیغی جماعت کے مقابلے میں ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تشکیل میں بھی آپ کااہم کردار ہے۔ انوارالعلوم کی صورت میں اہلِ سنّت وجماعت کو ایک عظیم ادارہ دیا، جہاں سےہزاروں علما وفضلا اپنی علمی پیاس بجھاکر پوری دنیا کوعُلوم ِ مصطفیٰﷺسے سیراب کر رہے ہیں۔
آپ تمام عظمتوں، فضیلتوں،اور کثیر تلامذہ ومریدین کے باوجود تواضع وانکساری کاپیکر تھے۔آپ کی بارگاہ میں کوئی بھی آدمی معمولی نہیں تھا، بلکہ عوام اور غریبوں سے زیادہ محبت واُنس رکھتےتھے۔معمولی آدمی سے بڑی محبت اور احترام سے ملتے تھے۔جو دینی مدارس کی خدمت،یا جامعہ انوارالعلوم کےلیے عطیات کی صورت میں خدمت کرتا اسے بہت ہی دعاؤں سےنوازتےتھے۔ جوشخص آپ کی خدمت میں ایک دفعہ بھی حاضر ہوا، وہ ہمیشہ کےلیے آپ کی عقیدت ومحبت لے کر واپس آیا۔
ماشاء اللہ! یہ اوصاف آپ کے صاحبزادگان میں بھی ہیں، تمام صاحبزادگان حتی المقدور مسلکِ اہلِ سنّت کے فروغ میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اس مختصر تذکرے میں آپ کی خدمات ِ جلیلہ کا احاطہ ناممکن ہے ۔ (فقیر تونسویؔ غُفِرَلَہٗ)
وصال:
بروز بدھ، 25 رمضان المبارک 1406ھ، مطابق 4 جون 1986ء کو اِفطاری کے بعد واصل بااللہ ہوئے ۔ شاہی عید گاہ ملتان میں مزارِ پُر اَنوار مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مَراجع:
1. تعارف علمائے اہلِ سنّت ۔
2. نور نور چہرے ۔
3. حیاتِ غزالیِ زماں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-ahmed-saeed-kazmi
عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ تدریس، تصنیف، خطابت، اور مقامِ فقرو معرفت، یہ اوصاف کسی ایک شخصیت میں جمع نہیں ہوتے۔کوئی اگر عظیم خطیب ہوتا ہے تو اس درجے کا مصنف نہیں ہوتا،اور اگر میدانِ تصنیف میں بام عروج کو پہنچ جائے،تو تدریس میں اس بلند مقام کاحامل نہیں ہوتا،لیکن حضرت غزالیِ زماں، رازیِ دوراں کی شخصیت اس عمومی قاعدےسےمستثنیٰ تھی،آپ بَہ یک وقت بہترین مدرس و محدث، بلند پایہ مصنّف،جادو بیاں خطیب،اور صاحبِ کمال شیخِ طریقت تھے۔یہی سبب تھا کہ مخالفین نے آپ کاراستہ روکنے کی بارہا کوششیں کیں،یہاں تک کہ آپ پر قاتلانہ حملے کیے،مگر آپ کےپائے استقلال میں جنبش نہ آئی،اور آپ کا ہر قدم منزل کی طرف آگے ہی بڑھتا رہا اور ایک وہ وقت آیا کہ آپ ’’اہلِ سنّت وجماعت‘‘ کی آبرواور پہچان بن گئے۔
غزالیِ زماں اور علامہ اقبال:
جن دنوں آپ جامعہ نعمانیہ لاہور میں مدرّس تھے، زندہ دلانِ لاہور نے موچی دروازے کےباغ میں ’’عید میلاد النبیﷺ‘‘ کےسلسلے میں ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا۔ مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کرسی ِ صدارت پر بیٹھے ہوئے محویت کےعالم میں علامہ کاظمیکاخطابِ لاجواب سن رہے تھے۔آپ نے صرف نبی مکرم ﷺ کےاسم گرامی’’محمد‘‘ﷺ کی عظمت میں ایک گھنٹہ تقریر فرمائی۔تقریر کےبعد علامہ اقبال نے آپ کوسینے سےلگایا اور کہا:
؏: ایسی چنگاری بھی، یا رب! اپنی خاکستر میں ہے
اور پھر مسکرا کر تھپکی دیتے ہوئے اور فرمایا:
’’برخوردار! لگتا ہے بہت نام پیدا کروگے ۔ ‘‘ (نور نور چہرے، ص16؛ حیاتِ غزالی زماں، ص40)
قومی و ملّی خدمات:
ملّتِ اسلامیہ کو جب بھی کوئی مشکل مرحلہ پیش آیا۔حضرت غزالی زماں نے ہمیشہ قائدانہ کردار اداکیا۔ 1946ء میں ’’آل انڈیا سنّی کانفرنس‘‘میں علما ومشائخ کے وفد کے ہمراہ شریک ہوئے اور مطالبۂ پاکستان کی پرزور حمایت کی۔ یاد رہے کہ یہ کانفرنس تحریک ِ پاکستان کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔علما ومشائخ اہل سنّت کی پر زور حمایت کی بدولت قیام پاکستان کاخواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔قائدِ اعظم محمد علی جناح مرحوم سے خط وکتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ آپ نے تحریکِ پاکستان،تحریکِ ختمِ نبوّت، اور تحریکِ نظام مصطفیٰﷺمیں قائدانہ حصہ لیا۔ تمام عمر مقامِ مصطفیٰﷺ کےتحفّظ، اور نظامِ مصطفیٰﷺ کےنفاذ کےلیے جدوجہد کرتےرہے۔ قیامِ پاکستان کےبعد1948ء میں انوارالعلوم ملتان میں علمائے اہلِ سنّت کااجلاس بلایا،اور آل انڈیا سنّی کانفرنس کا نام تبدیل کرکے’’جمیعت علمائے پاکستان‘‘ کی تشکیل کی گئی۔ 1960ء میں اہلِ سنّت کےمدارس کو منظّم کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ’’تنظیم المدارس‘‘ قائم کی۔ 1978ء کو ملتان قلعہ قاسم باغ میں فقید المثال ’’کل پاکستان سنّی کانفرنس‘‘ منعقد کرائی، جس میں اخباری اطلاع کےمطابق دس ہزار سے زیادہ علما و مشائخ،اور بیس سے پچیس لاکھ تک عوامِ اہلِ سنّت کا اجتماع تھا۔ اِسی موقع پر ’’جماعت ِاہلِ سنّت‘‘ کی تشکیل ہوئی۔آپ اس کےصدر منتخب کیے گئے۔تبلیغی جماعت کے مقابلے میں ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تشکیل میں بھی آپ کااہم کردار ہے۔ انوارالعلوم کی صورت میں اہلِ سنّت وجماعت کو ایک عظیم ادارہ دیا، جہاں سےہزاروں علما وفضلا اپنی علمی پیاس بجھاکر پوری دنیا کوعُلوم ِ مصطفیٰﷺسے سیراب کر رہے ہیں۔
آپ تمام عظمتوں، فضیلتوں،اور کثیر تلامذہ ومریدین کے باوجود تواضع وانکساری کاپیکر تھے۔آپ کی بارگاہ میں کوئی بھی آدمی معمولی نہیں تھا، بلکہ عوام اور غریبوں سے زیادہ محبت واُنس رکھتےتھے۔معمولی آدمی سے بڑی محبت اور احترام سے ملتے تھے۔جو دینی مدارس کی خدمت،یا جامعہ انوارالعلوم کےلیے عطیات کی صورت میں خدمت کرتا اسے بہت ہی دعاؤں سےنوازتےتھے۔ جوشخص آپ کی خدمت میں ایک دفعہ بھی حاضر ہوا، وہ ہمیشہ کےلیے آپ کی عقیدت ومحبت لے کر واپس آیا۔
ماشاء اللہ! یہ اوصاف آپ کے صاحبزادگان میں بھی ہیں، تمام صاحبزادگان حتی المقدور مسلکِ اہلِ سنّت کے فروغ میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اس مختصر تذکرے میں آپ کی خدمات ِ جلیلہ کا احاطہ ناممکن ہے ۔ (فقیر تونسویؔ غُفِرَلَہٗ)
وصال:
بروز بدھ، 25 رمضان المبارک 1406ھ، مطابق 4 جون 1986ء کو اِفطاری کے بعد واصل بااللہ ہوئے ۔ شاہی عید گاہ ملتان میں مزارِ پُر اَنوار مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مَراجع:
1. تعارف علمائے اہلِ سنّت ۔
2. نور نور چہرے ۔
3. حیاتِ غزالیِ زماں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-ahmed-saeed-kazmi
scholars.pk
Hazrat Allama Syed Ahmed Saeed Kazmi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سراج الہند شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی :شاہ عبد العزیز ۔ لقب: سراج الہند ۔ تاریخی نام: غلام حلیم ۔
سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
شاہ عبد العزیز بن شاہ ولی اللہ بن شاہ عبد الرحیم بن شاہ وجیہ الدین شہید ۔ (علیہم الرحمہ)
آپ کاسلسلہ نسب 34 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
25 رمضان المبارک1159ھ بمطابق10 اکتوبر1746ء بروز جمعۃ المبارک بوقتِ سحر،دہلی میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے گھرپیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
جمیع علومِ عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والدِ ماجد اور انکے خلفاء سے ہوئی۔ان میں سے باالخصوص شیخ اجل شاہ محمد عاشق پھلتی اور مولانا محمد امین سے استفادہ کیا۔بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کرلیا تھا،اورپندرہ سال کی عمر میں جمیع علوم سے فراغت حاصل کرلی تھی۔
ختمِ قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی آمد: ختمِ قرآن کے بعد جب آپ نے پہلی مرتبہ تراویح میں قرآن میں سنایا ۔تراویح کی نماز مکمل ہوئی توایک شخص عربی لباس میں تشریف لائے اورفرمایا:رسول اللہ ﷺکہاں تشریف فرماہیں؟جولوگ وہاں موجود تھے سب دوڑتےہوئے آئے اور اس شخص کو گھیرلیااور پوچھاحضرت آپ کیافرمارہے ہیں اور آپ کانام کیا ہے؟،انہوں نے فرمایا!میرانام ابوہریرہ ہے۔جناب ِ سیدالمرسلین ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھاکہ عبدالعزیز دہلوی کا قرآن ِمجید سننے چلیں گےاورپھرمجھے کسی کام کیلئے بھیج دیا اس لئے مجھے دیر ہوگئی۔یہ فرمایا اور تشریف لے گئے۔(کمالتِ عزیزی ص:19)
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت وخلافت حاصل تھی۔ سترہ سال کی عمر میں والد کے جانشین مقرر ہوئے۔شاہ ولی ا للہ علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد ان کے سوئم میں حضرت مولانا شاہ محمد فخرالدین دہلوی چشتی علیہ الرحمہ نے آپ کی دستاربندی کی اوربطوربزرگانہ ارشادفرمایا:"آپ کے والد سے بعض مقامات پر جوتسامحات واقع ہوئے ہیں انکو مٹانے کی کوشش کیجئے گا۔"(تذکرہ علمائے اہل سنت ص:140)
سیرت و خصائص:
خطۂ ہند میں استاذ الاساتذہ ، امام جہابذہ ،بقیۃ السلف،حجۃ الخلف،خاتم المفسرین والمحدثین ،جامع علومِ نقلیہ وعقلیہ ،مرجع الفریقین،مجمع الطریقین،حبرِ شریعت،بحرِ طریقت۔حضرت شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ۔آپ داراز قد ،لاغر جسم ، گندمی رنگ ،وجیہ شکل، خوبصورت سنت کے مطابق گول داڑھی ، اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔آپ ظاہری اورباطنی علوم کے جامع، علم وعمل کے پیکر اور زہد وتقویٰ کے سچے نمونہ تھے۔آپ نرم طبیعت ، خوش اخلاق ،اورہر چیز میں ستھرا مذاق رکھتے تھے۔ اپنے وقت کے علماء ومشائخ آپ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ تمام علوم متداولہ اور غیر متداولہ کے علاوہ بہت سے فنون عقلیہ ونقلیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ حافظہ آپ کا بہت قوی تھا۔ ہزاروں احادیث اور عربی اشعار ازبر تھے۔ تعبیر الرؤیا میں بڑا ملکہ تھا۔ آپ کا وعظ بڑا پر مغزاورپراثر ہوتا تھا۔ فقہ وحدیث اور علم تفسیر میں یکتائے زمانہ تھے۔ سب لوگ کیا موافق اورکیامخالف آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ تفسیر عزیزی کے نام سے ان کی تفسیر کا کچھ حصہ آج موجود ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اہل تشیع کے رد میں تحفہ اثناعشریہ ایسی کتاب لکھی کہ آج تک شیعہ علماء اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ تمام عمر درس وتدریس اوردینی خدمات میں گزاری۔خصوصاً حدیث کا فیض ہندوستان میں عام کیا۔ہندوستان کے اکثر محدثین کا سلسلہ اسناد آپ تک اور آپ کے ذریعے شاہ ولی اللہ تک پہنچتا ہے۔کوئی علم اور فن ایسا نہ تھا جس میں آپ کو ملکہ حاصل نہ ہو۔
مولانا ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب ۱۱۵۹ھ تا ۱۲۳۹ھ میں اس لیے کہ مجد د کی صفات ان میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ آپ بارہویں صدی کے آخر میں صاحب علم و فضل و زہد و تقویٰ مشہور دیار و اطراف تھے۔ اور تیرہویں صدی کے آغاز میں ان کا طوطی ہندوستان میں بولتا تھا اور ساری عمر دینی خدمت درس و تدریس افتاء تصنیف وعظ و سند، حمایت دین اورردمفسدین میں صرف اوقات فرماتے رہے۔ (مجدد اعظم ص:42)
نام و نسب:
اسمِ گرامی :شاہ عبد العزیز ۔ لقب: سراج الہند ۔ تاریخی نام: غلام حلیم ۔
سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
شاہ عبد العزیز بن شاہ ولی اللہ بن شاہ عبد الرحیم بن شاہ وجیہ الدین شہید ۔ (علیہم الرحمہ)
آپ کاسلسلہ نسب 34 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
25 رمضان المبارک1159ھ بمطابق10 اکتوبر1746ء بروز جمعۃ المبارک بوقتِ سحر،دہلی میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے گھرپیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
جمیع علومِ عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والدِ ماجد اور انکے خلفاء سے ہوئی۔ان میں سے باالخصوص شیخ اجل شاہ محمد عاشق پھلتی اور مولانا محمد امین سے استفادہ کیا۔بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کرلیا تھا،اورپندرہ سال کی عمر میں جمیع علوم سے فراغت حاصل کرلی تھی۔
ختمِ قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی آمد: ختمِ قرآن کے بعد جب آپ نے پہلی مرتبہ تراویح میں قرآن میں سنایا ۔تراویح کی نماز مکمل ہوئی توایک شخص عربی لباس میں تشریف لائے اورفرمایا:رسول اللہ ﷺکہاں تشریف فرماہیں؟جولوگ وہاں موجود تھے سب دوڑتےہوئے آئے اور اس شخص کو گھیرلیااور پوچھاحضرت آپ کیافرمارہے ہیں اور آپ کانام کیا ہے؟،انہوں نے فرمایا!میرانام ابوہریرہ ہے۔جناب ِ سیدالمرسلین ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھاکہ عبدالعزیز دہلوی کا قرآن ِمجید سننے چلیں گےاورپھرمجھے کسی کام کیلئے بھیج دیا اس لئے مجھے دیر ہوگئی۔یہ فرمایا اور تشریف لے گئے۔(کمالتِ عزیزی ص:19)
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت وخلافت حاصل تھی۔ سترہ سال کی عمر میں والد کے جانشین مقرر ہوئے۔شاہ ولی ا للہ علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد ان کے سوئم میں حضرت مولانا شاہ محمد فخرالدین دہلوی چشتی علیہ الرحمہ نے آپ کی دستاربندی کی اوربطوربزرگانہ ارشادفرمایا:"آپ کے والد سے بعض مقامات پر جوتسامحات واقع ہوئے ہیں انکو مٹانے کی کوشش کیجئے گا۔"(تذکرہ علمائے اہل سنت ص:140)
سیرت و خصائص:
خطۂ ہند میں استاذ الاساتذہ ، امام جہابذہ ،بقیۃ السلف،حجۃ الخلف،خاتم المفسرین والمحدثین ،جامع علومِ نقلیہ وعقلیہ ،مرجع الفریقین،مجمع الطریقین،حبرِ شریعت،بحرِ طریقت۔حضرت شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ۔آپ داراز قد ،لاغر جسم ، گندمی رنگ ،وجیہ شکل، خوبصورت سنت کے مطابق گول داڑھی ، اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔آپ ظاہری اورباطنی علوم کے جامع، علم وعمل کے پیکر اور زہد وتقویٰ کے سچے نمونہ تھے۔آپ نرم طبیعت ، خوش اخلاق ،اورہر چیز میں ستھرا مذاق رکھتے تھے۔ اپنے وقت کے علماء ومشائخ آپ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ تمام علوم متداولہ اور غیر متداولہ کے علاوہ بہت سے فنون عقلیہ ونقلیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ حافظہ آپ کا بہت قوی تھا۔ ہزاروں احادیث اور عربی اشعار ازبر تھے۔ تعبیر الرؤیا میں بڑا ملکہ تھا۔ آپ کا وعظ بڑا پر مغزاورپراثر ہوتا تھا۔ فقہ وحدیث اور علم تفسیر میں یکتائے زمانہ تھے۔ سب لوگ کیا موافق اورکیامخالف آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ تفسیر عزیزی کے نام سے ان کی تفسیر کا کچھ حصہ آج موجود ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اہل تشیع کے رد میں تحفہ اثناعشریہ ایسی کتاب لکھی کہ آج تک شیعہ علماء اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ تمام عمر درس وتدریس اوردینی خدمات میں گزاری۔خصوصاً حدیث کا فیض ہندوستان میں عام کیا۔ہندوستان کے اکثر محدثین کا سلسلہ اسناد آپ تک اور آپ کے ذریعے شاہ ولی اللہ تک پہنچتا ہے۔کوئی علم اور فن ایسا نہ تھا جس میں آپ کو ملکہ حاصل نہ ہو۔
مولانا ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب ۱۱۵۹ھ تا ۱۲۳۹ھ میں اس لیے کہ مجد د کی صفات ان میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ آپ بارہویں صدی کے آخر میں صاحب علم و فضل و زہد و تقویٰ مشہور دیار و اطراف تھے۔ اور تیرہویں صدی کے آغاز میں ان کا طوطی ہندوستان میں بولتا تھا اور ساری عمر دینی خدمت درس و تدریس افتاء تصنیف وعظ و سند، حمایت دین اورردمفسدین میں صرف اوقات فرماتے رہے۔ (مجدد اعظم ص:42)
❤1
رسول اللہ ﷺ حاضر و ناظر ہیں:
شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی "ویکون الرسول علیکم شہیدا" کے تحت تفسیرعزیزی میں فرماتےہیں:
ترجمہ:یعنی رسول تم پر گواہ ہیں۔کیونکہ حضور ﷺ نورِ نبوت سے ہردین دار کے اس رتبہ پر مطلع ہیں،کہ جس تک وہ پہنچاہواہے۔اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے،اور اس حجاب سے بھی واقف ہیں کی جو اس کے ترقیِ درجات میں رکاوٹ ہے۔سو حضور ﷺ تمہارے گناہوں اور تمہارے ایمان کے درجات کو،اور تمہارے نیک اور بد اعمال کواور تمہاتے خلوص ونفاق کوجانتے اور پہنچانتے ہیں ۔اسی لئے حضور ﷺ کی شہادت دنیا وآخرت میں بحکمِ شرع امت کے حق میں مقبول اور واجب العمل ہیں۔(تفسیرِ عزیزی،پارہ 2)
نوٹ:
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی تصنیفات میں اسلام دشمن قوتیں ، روافض، خوارج،غیر مقلدین نے بہت تحریفات کردی ہیں،اور تحریفات کا سلسلہ قبلہ شاہ صاحب کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ جیساکہ بہت سی کتب میں اس بات کو علماء حق بیان کر دیا ہے ۔ (شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان)
وصال:
اسی سال کی عمر میں 9 شوال المکرم 1239ھ بمطابق 5 جون 1823ء بروز ہفتہ کو وصال فرمایا ۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-aziz-muhaddis-dehlvi
شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی "ویکون الرسول علیکم شہیدا" کے تحت تفسیرعزیزی میں فرماتےہیں:
ترجمہ:یعنی رسول تم پر گواہ ہیں۔کیونکہ حضور ﷺ نورِ نبوت سے ہردین دار کے اس رتبہ پر مطلع ہیں،کہ جس تک وہ پہنچاہواہے۔اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے،اور اس حجاب سے بھی واقف ہیں کی جو اس کے ترقیِ درجات میں رکاوٹ ہے۔سو حضور ﷺ تمہارے گناہوں اور تمہارے ایمان کے درجات کو،اور تمہارے نیک اور بد اعمال کواور تمہاتے خلوص ونفاق کوجانتے اور پہنچانتے ہیں ۔اسی لئے حضور ﷺ کی شہادت دنیا وآخرت میں بحکمِ شرع امت کے حق میں مقبول اور واجب العمل ہیں۔(تفسیرِ عزیزی،پارہ 2)
نوٹ:
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی تصنیفات میں اسلام دشمن قوتیں ، روافض، خوارج،غیر مقلدین نے بہت تحریفات کردی ہیں،اور تحریفات کا سلسلہ قبلہ شاہ صاحب کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ جیساکہ بہت سی کتب میں اس بات کو علماء حق بیان کر دیا ہے ۔ (شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان)
وصال:
اسی سال کی عمر میں 9 شوال المکرم 1239ھ بمطابق 5 جون 1823ء بروز ہفتہ کو وصال فرمایا ۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-aziz-muhaddis-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Aziz Muhaddis Dehelvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت قاضی سید عبدالملک شاہ اجمل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت قاضی سیدعبدالملک المعروف بہ شاہ اجمل کئی سلسلوں سےوابستہ تھے۔آپ سلسلہ چشتیہ جہانیہ وقادریہ وسہروردیہ میں حضرت سیدجلال الدین بخاری المعروف بہ مخدوم جہانیاں جہاں گشت کےمریداورخلیفہ تھے۔آپ نےحضرت قاضی شیخ قوام الدین دہلوی سےبھی خرقہ خلافت پایا۔ حضرت قاضی شیخ قوام الدین دہلوی کوحضرت نصیرالدین چراغ دہلی کامریداورخلیفہ ہونےکا شرف حاصل تھا۔
وفات:
آپ نے ۲۵ رمضان ۸۶۴ھ کو وفات پائی ۔ آپ کا مزار بہرائش میں مولوی شاہ نعیم اللہ کے مزار کے قریب واقع ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-syed-abdul-malik-shah-ajmal
#یوم_وصال_ماہ_رمضان_المبارک
https://t.me/islaamic_Knowledge/49038
حضرت قاضی سیدعبدالملک المعروف بہ شاہ اجمل کئی سلسلوں سےوابستہ تھے۔آپ سلسلہ چشتیہ جہانیہ وقادریہ وسہروردیہ میں حضرت سیدجلال الدین بخاری المعروف بہ مخدوم جہانیاں جہاں گشت کےمریداورخلیفہ تھے۔آپ نےحضرت قاضی شیخ قوام الدین دہلوی سےبھی خرقہ خلافت پایا۔ حضرت قاضی شیخ قوام الدین دہلوی کوحضرت نصیرالدین چراغ دہلی کامریداورخلیفہ ہونےکا شرف حاصل تھا۔
وفات:
آپ نے ۲۵ رمضان ۸۶۴ھ کو وفات پائی ۔ آپ کا مزار بہرائش میں مولوی شاہ نعیم اللہ کے مزار کے قریب واقع ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-syed-abdul-malik-shah-ajmal
#یوم_وصال_ماہ_رمضان_المبارک
https://t.me/islaamic_Knowledge/49038
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-09-1444 ᴴ | 16-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-09-1444 ᴴ | 17-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1