🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-09-1444 ᴴ | 16-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-09-1444 ᴴ | 16-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-09-1444 ᴴ | 16-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-09-1444 ᴴ | 16-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
غزالیِ زماں ، علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی علیہ الرحمہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ۔ کنیت: ابو النجم ۔ اَلقاب: غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امامِ اہلِ سنّت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سیّد احمد سعید شاہ کاظمی بن حضرت سیّد مختار احمد کاظمی بن حافظ سیّد یوسف علی شاہ چشتی قادری بن مولانا سیّد شاہ وصی اللہ نقشبندی مجددی قادری بن مولانا سیّد شاہ صبغت اللہ نقشبندی مجددی چشتی صابری بن مولانا سیّد شاہ سیف اللہ چشتی قادری بن مولانا سیّد میرمحمد اشرف دہلوی ثم امروہی اِلٰی اٰخِرِہٖ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب 44 واسطوں سے سرورِ عالم ﷺ تک پہنچتا ہے ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص:33)
آپ حضرت امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے ہیں، اس لیے ’’کاظمی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
غزالیِ زماں، رازیِ دوراں کی وجہ تسمیہ:
حضور محدثِ اعظم ہند، وحید العصر، قدوۃ العلماء حضرت سیّد محمد محدث کچھوچھوی نے علمائے کرام کی مجلس، جس میں علمائے کرام و دانشوران کی کثیر تعداد اور عوام کا ایک جم غفیر موجود تھا، میں ’’غزالیِ زماں، رازیِ دوراں‘‘ کا خطاب عطا فرمایا ۔ علمائے کرام اور عوام نے فلگ شگاف نعروں کے ساتھ حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی کے قول کی تصدیق کی، اُس وقت سے آج تک یہ اَلقاب حضرت علامہ کاظمی کا عرف قرار پائے ہیں ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص:86)
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 4 ربیع الثانی 1331ھ، مطابق 13 مارچ 1913ء بوقت صبح چار بجے، محلہ کٹکوئی شہر امروہہ، ضلع مراد آباد (انڈیا) میں ہوئی ۔ (اب امروہہ ایک مستقل ضلع بن چکا ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا)
تحصیلِ علم:
آپ ایک علمی خاندان کے روشن چراغ ہیں ۔ آپ کا خاندان علم و فضل، زہد و تقویٰ میں پورے ہندوستان میں معروف تھا ۔ بچپن میں والدِ گرامی کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا ۔ تمام تر تعلیم و تربیت اپنے برادرِ بزرگ، محدثِ جلیل حضرت علامہ مولانا سیّد محمد خلیل محدث امروہوی سے حاصل کی ۔ وہ مدرسہ بحر العلوم شاہ جہاں پور میں مدرّس تھے اور حضرت علامہ کاظمی کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ امامِ اہلِ سنّت نے 16 سال کی عمر میں 1348ھ مطابق 1929ء میں مدرسۂ محمدیہ حنفیہ امروہہ سے سندِ فراغت حاصل کی ۔ شیخ المشائخ، ہم شکلِ غوث الاعظم حضرت شاہ علی حسین اشرفی المعروف ’’اشرفی میاں‘‘ نے دستارِ فضیلت باندھی، اس تقریبِ سعید میں حضور صدر الافاضل، علامہ سیّد نعیم الدین مراد آبادی، مناظر اسلام حضرت مولانا نثار احمد کانپوری بن علامۂ زماں مولانا احمد حسن کانپوری و دیگر جیّد علماء شریک تھے، جنہوں نے آپ کو خصوصی دعاؤں سے نوازا ۔
بیعت و خلافت:
اپنے برادرِبزرگ، محدثِ شہیر، عالمِ کبیر، اُستاذ العلماء الراسخین حضرت مولانا سیّد محمد خلیل چشتی صابری محدث امروہوی کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف کیے گئے۔
شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی شفقت:
غزالیِ زماں رازیِ دوراں کو اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں قادری کی ذاتِ گرامی سے بڑی گہری عقیدت ومحبت تھی، بلکہ آپ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے عظیم مبلغ و داعی تھے۔قیام ِ پاکستان سے قبل اعلیٰ حضرت کے اَعراس میں شریک ہوتے تھے۔ایک مرتبہ اپنے مرشِدو استاذِ محترم حضرت مولانا سیّد خلیل احمد محدث امروہوی کےہمراہ عرسِ اعلیٰ حضرت میں شریک ہوئے اور عرس کی تقریب میں ہزاروں علما ومشائخ تشریف فرماتھے اور وقفے وقفے سےتقاریر کررہےتھے، شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظمِ ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں اپنے کاشانۂ اقدس کے باہر رضوی دارالافتاء میں رونق افروز تھے۔علامہ کاظمی صاحب کے خطاب کی باری آئی تو آپ نے اعلیٰ حضرت کےتجدیدی کارناموں پر فصیح وبلیغ انداز میں بیان فرمایا، دار الافتاء میں بیان کی آواز پہنچ رہی تھی،شہزادۂ اعلیٰ حضرت، اظہار ِ مسرت فرمارہےتھے۔
شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیِ اعظمِ ہند علیہ الرحمہ نے آپ کی تقریر کی جامعیت وقوتِ استدلال کی تعریف کرتےہوئے ارشادفرمایا:
’’امروہہ کے چھوٹے شاہ صاحب تقریر کر رہے ہیں۔ ماشاء اللہ خوب فصاحت وبلاغت ہے۔ بہت اچھا مطالعہ ہے،اللہ تعالیٰ برکت دے۔‘‘
حضرت مفتیِ اعظہم ہند نے نہ صرف آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت عطا فرمائی، بلکہ سندِ حدیث بھی عطاء فرمائی ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص142)
سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، سندالمحدثین، رئیس المفسرین، امام المدرسین، اُستاذالعلما، مرجع الفضلا، سیّد الاتقیا، رئیس الفقہا، ضیغمِ اسلام، متکلم اسلام، امام المنقولات والمعقولات، مجمع البحرین، قطبِ دوراں، غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امامِ اہلِ سنّت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ۔ حضرت غزالیِ زماں رازیِ دوراں بالعموم تمام علوم اور بالخصوص تفسیر وحدیث کے مسند نشیں، محراب ومنبر کی زینت، خانقاہ و درویشی کا جمال، رشد و ہدایت کا صوفیانہ اندازِ دل نشیں، لاینحل سوالات کی عقدہ کشائی، قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل اسلام کی راہ ن
نام و نسب:
اسم گرامی: سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ۔ کنیت: ابو النجم ۔ اَلقاب: غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امامِ اہلِ سنّت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سیّد احمد سعید شاہ کاظمی بن حضرت سیّد مختار احمد کاظمی بن حافظ سیّد یوسف علی شاہ چشتی قادری بن مولانا سیّد شاہ وصی اللہ نقشبندی مجددی قادری بن مولانا سیّد شاہ صبغت اللہ نقشبندی مجددی چشتی صابری بن مولانا سیّد شاہ سیف اللہ چشتی قادری بن مولانا سیّد میرمحمد اشرف دہلوی ثم امروہی اِلٰی اٰخِرِہٖ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب 44 واسطوں سے سرورِ عالم ﷺ تک پہنچتا ہے ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص:33)
آپ حضرت امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے ہیں، اس لیے ’’کاظمی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
غزالیِ زماں، رازیِ دوراں کی وجہ تسمیہ:
حضور محدثِ اعظم ہند، وحید العصر، قدوۃ العلماء حضرت سیّد محمد محدث کچھوچھوی نے علمائے کرام کی مجلس، جس میں علمائے کرام و دانشوران کی کثیر تعداد اور عوام کا ایک جم غفیر موجود تھا، میں ’’غزالیِ زماں، رازیِ دوراں‘‘ کا خطاب عطا فرمایا ۔ علمائے کرام اور عوام نے فلگ شگاف نعروں کے ساتھ حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی کے قول کی تصدیق کی، اُس وقت سے آج تک یہ اَلقاب حضرت علامہ کاظمی کا عرف قرار پائے ہیں ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص:86)
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 4 ربیع الثانی 1331ھ، مطابق 13 مارچ 1913ء بوقت صبح چار بجے، محلہ کٹکوئی شہر امروہہ، ضلع مراد آباد (انڈیا) میں ہوئی ۔ (اب امروہہ ایک مستقل ضلع بن چکا ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا)
تحصیلِ علم:
آپ ایک علمی خاندان کے روشن چراغ ہیں ۔ آپ کا خاندان علم و فضل، زہد و تقویٰ میں پورے ہندوستان میں معروف تھا ۔ بچپن میں والدِ گرامی کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا ۔ تمام تر تعلیم و تربیت اپنے برادرِ بزرگ، محدثِ جلیل حضرت علامہ مولانا سیّد محمد خلیل محدث امروہوی سے حاصل کی ۔ وہ مدرسہ بحر العلوم شاہ جہاں پور میں مدرّس تھے اور حضرت علامہ کاظمی کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ امامِ اہلِ سنّت نے 16 سال کی عمر میں 1348ھ مطابق 1929ء میں مدرسۂ محمدیہ حنفیہ امروہہ سے سندِ فراغت حاصل کی ۔ شیخ المشائخ، ہم شکلِ غوث الاعظم حضرت شاہ علی حسین اشرفی المعروف ’’اشرفی میاں‘‘ نے دستارِ فضیلت باندھی، اس تقریبِ سعید میں حضور صدر الافاضل، علامہ سیّد نعیم الدین مراد آبادی، مناظر اسلام حضرت مولانا نثار احمد کانپوری بن علامۂ زماں مولانا احمد حسن کانپوری و دیگر جیّد علماء شریک تھے، جنہوں نے آپ کو خصوصی دعاؤں سے نوازا ۔
بیعت و خلافت:
اپنے برادرِبزرگ، محدثِ شہیر، عالمِ کبیر، اُستاذ العلماء الراسخین حضرت مولانا سیّد محمد خلیل چشتی صابری محدث امروہوی کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف کیے گئے۔
شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی شفقت:
غزالیِ زماں رازیِ دوراں کو اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں قادری کی ذاتِ گرامی سے بڑی گہری عقیدت ومحبت تھی، بلکہ آپ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے عظیم مبلغ و داعی تھے۔قیام ِ پاکستان سے قبل اعلیٰ حضرت کے اَعراس میں شریک ہوتے تھے۔ایک مرتبہ اپنے مرشِدو استاذِ محترم حضرت مولانا سیّد خلیل احمد محدث امروہوی کےہمراہ عرسِ اعلیٰ حضرت میں شریک ہوئے اور عرس کی تقریب میں ہزاروں علما ومشائخ تشریف فرماتھے اور وقفے وقفے سےتقاریر کررہےتھے، شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظمِ ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں اپنے کاشانۂ اقدس کے باہر رضوی دارالافتاء میں رونق افروز تھے۔علامہ کاظمی صاحب کے خطاب کی باری آئی تو آپ نے اعلیٰ حضرت کےتجدیدی کارناموں پر فصیح وبلیغ انداز میں بیان فرمایا، دار الافتاء میں بیان کی آواز پہنچ رہی تھی،شہزادۂ اعلیٰ حضرت، اظہار ِ مسرت فرمارہےتھے۔
شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیِ اعظمِ ہند علیہ الرحمہ نے آپ کی تقریر کی جامعیت وقوتِ استدلال کی تعریف کرتےہوئے ارشادفرمایا:
’’امروہہ کے چھوٹے شاہ صاحب تقریر کر رہے ہیں۔ ماشاء اللہ خوب فصاحت وبلاغت ہے۔ بہت اچھا مطالعہ ہے،اللہ تعالیٰ برکت دے۔‘‘
حضرت مفتیِ اعظہم ہند نے نہ صرف آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت عطا فرمائی، بلکہ سندِ حدیث بھی عطاء فرمائی ۔ (حیاتِ غزالیِ زماں، ص142)
سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، سندالمحدثین، رئیس المفسرین، امام المدرسین، اُستاذالعلما، مرجع الفضلا، سیّد الاتقیا، رئیس الفقہا، ضیغمِ اسلام، متکلم اسلام، امام المنقولات والمعقولات، مجمع البحرین، قطبِ دوراں، غزالیِ زماں، رازیِ دوراں، امامِ اہلِ سنّت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ۔ حضرت غزالیِ زماں رازیِ دوراں بالعموم تمام علوم اور بالخصوص تفسیر وحدیث کے مسند نشیں، محراب ومنبر کی زینت، خانقاہ و درویشی کا جمال، رشد و ہدایت کا صوفیانہ اندازِ دل نشیں، لاینحل سوالات کی عقدہ کشائی، قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل اسلام کی راہ ن
❤1