🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
کیا ہر دیوبندی کافر ہے؟

کیا ہر دیوبندی کافر ہے یا صرف وہ لوگ جو ان علماء کے عقائد درست مانتے ہیں جن پر اعلیحضرت نے کفر کا فتوی لگایا ہے. گاؤں کےکچھ لوگوں کومعلوم نہیں کہ انکے عقائد کیا ہیں اگر ان سے بتایا جاتا ہے تو وہ توبہ واستغفار کرتےہیں اور کہتے ہیں جو ایسے عقائد رکھے وہ مسلمان نہیں تو ایسے لوگوں سےکاروبار کرنا انکے پاس اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا میل جول رکھنا کیسا ہے؟
سائل: صلاح الدین قادری


الجواب: چار دیوبندی اکابرین (تھانوی، نانوتوی، گنگوہی، انبیٹھوی) جن پر امام اہل سنت اور متعدد علمائے حرمین شریفین نے کفر کا فتوی صادر فرمایا تھا، کافر ہیں. جو ان کی کفریات پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان یا کم سے کم بہتر جانے یا ان کے کفر یا عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے. مثلا زید ان دیوبندی اکابرین کو مسلمان جانے کافر ہے. عمرو اگر زید کے اس کفر پر مطلع ہو کر اسے مسلمان یا اچھا جانے، کافر ہے. اور جو عمرو کے کفر پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے خود کافر ہے. یہ دیوبندی کفر کا سلسلہ ہے. اگر کوئی نام کا دیوبندی ان تمام سے بَری ہو اور ضروریات دین کا انکار نہ کرے تو وہ کافر نہیں ہے اور اس طرح کے اکثر دیوبندی ہیں جو اپنے اکابرین کا نام بھی نہیں جانتے کفریات پر مطلع ہونا ایک پرے بات ہے. سوال میں جس طرح کے لوگوں کا ذکر کیا ہے ان سے بیع درست ہے، اور ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھا ان کے عقائد کی پختگی کے لئے یا بغیر وجہ، جائز ہے لیکن جو ان گستاخیوں پر سکوت اختیار کرتے ہیں یا اتحادی باتیں گڑھناشروع کر دیتے ہیں ان سے بچیں، دوری اختیار کریں، دوری اختیار کریں کہ دیوبندی دل ودماغ فریبی ہوتے ہیں دین ودنیا دونوں کے لیے.

🌷 کتبہ: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٣/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
دیوبندی مدرسہ میں پڑھانا

(سئل) زید جو سنی صحیح العقیدہ ہے اور اسکا قول وعمل مسلک اعلیحضرت کےمطابق ہے پر وہ دیوبندی مدرسہ میں پڑھتا ہے حافظ بھی ہے اسکا کہنا ہے کہ چند سال بعد سنی اداروں میں عالم فاضل کا مکمل کورس کرونگا پڑھونگا. تو زید کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ زید پر فتویء کفر لگانا اور یہ کہنا کہ زید کا پورا خاندان دیوبندی ہے کیسا ہے؟ اور فتوی لگانے والے پر کیا حکم شریعت عائد ہوگا؟ کیا تمام دیوبندی کافر ہیں؟
سائل: صلاح الدین قادری.


الجواب: دیوبندیوں کے مدرسہ میں پڑھانا جائز نہیں اور یہ اعلانیہ گناہ کرنا ہے لہذا جب تک بد مذہبوں کو تعلیم دے یا کم سے کم ان کے ساتھ اٹھے بیٹھے اس کی اقتداء کسی چیز میں بھی جائز نہیں. زید (یا اس کے خاندان افراد میں سے کسی) کی ایسی بات پر جس سے ظاہر ہو کہ وہ ان دیوبند اکابرین کو اچھا سمجھتا ہے جن پر علمائے حرمین شریفین نے کفر کا فتوی لگایا تھا یا اگر ان کے کفر میں شک کرتا ہے یا ان کے کفر میں شک کرنے والوں کے کفر میں شک کرتا ہے، کفر کا فتاوی لگانا صحیح ہے. ورنہ کافر کہنے والے پر فتوی پلٹ آئے گا. زید کے خاندان کو طنزا یا گالی کے طور پر کسی نے دیوبندی کہا جبکہ وہ صحیح العقیدہ سنی تھے تو اس نے بڑا برا کیا لیکن اس سے وہ خود کافر نہیں ہوگا. دیوبندیوں میں عام ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی گمراہیوں کے جال میں پھنسانے کے لئے سنی بننے کا ڈھونگ تک رچا لیتے ہیں یا اگر گمراہ نہ کر سکیں تو اوپری طور پر اپنے اکابرین کو بھی برا بھلا کہہ کر دلوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں لہذا ہر طرح سے احتیاط لازم اور اہل محلہ کے صحیح العقیدہ لوگوں کو ان کی کفریات پر مطلع کرنا واجب کے کہیں وہ انہیں بھی گمراہ نہ کر دیں.


🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٤/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*قصہ مذکر موئنث کا ۔۔۔۔*

1۔ بھاری بھرکم اور بڑے سائز کی چیزوں کو اُردو میں عام طور پر مذکر کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے جبکہ چھوٹی، نرم و نازک اور نفیس چیزیں عموماً موئنث گردانی جاتی ہیں۔

مثلاً موٹا اور مضبوط ہو تو رسّا (مذکر) اور پتلی اور نسبتاً کمزور ہو تو رسّی (موئنث)، اسی طرح بڑا اور وزنی ہو تو گولا (مذکر) لیکن چھوٹی اور ہلکی پھُلکی ہو تو گولی (موئنث)۔ یہی صورتِ حال َپگّڑ اور پگڑی، ٹوپ اور ٹوپی، گھڑیال اور گھڑی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

لیکن یہ کوئی مستند اصول نہیں ہے کیونکہ اسکے بالکل برعکس کوٹھا محض ایک کمرے کا تاثر دیتا ہے جبکہ کوٹھی ایک وسیع و عریض عمارت ہوتی ہے جس میں بہت سے کمرے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ’توا‘ ایک چھوٹے سائز کی چیز ہے جس پر ایک وقت میں صرف ایک روٹی پکتی ہے لیکن ’توی‘ ایک بہت بڑا توا ہوتا ہے جس پر لنگر کے لئے بہت سی روٹیاں بیک وقت پکائی جا سکتی ہیں۔

پھر یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ ’موتی‘ چھوٹی ’ی‘ پر ختم ہونے کے باوجود ایک مذکر لفظ ہے اور بہت بڑے موتی کے لئے ہمارے پاس ’موتا‘ جیسا کوئی لفظ نہیں ہے۔

2۔ اُردو میں استعمال ہونے والے ایسے دیسی الفاظ جِن کے آخر میں الف یا گول ’ہ‘ ہو عموماً مذکر ہوتے ہیں مثلاً رسّا، گھڑی، جوتا، مٹکا، نِوالہ، حُقّہ، چولہا، ڈِبّا وغیرہ لیکن وہ دیسی الفاظ جِن کے آخر میں علامتِ تصغیر کے طور پر الف لگایا گیا ہو، موئنث ہوتے ہیں مثلاً ڈِبیّا، چُوہیا، پُلیا، پُڑیا وغیرہ۔

3۔ سنسکرت سے آنے والے کچھ الفاظ جو اپنی ہندی صورت میں ہمارے یہاں مستعمل ہیں اُن میں آخری الف یقیناً علامتِ ثانیت ہوتی ہے چنانچہ یہ الفاظ اُردو میں موئنث ہی بولے جائیں گے مثلاً مالا، گنگا، جمنا، پُروا، پچھوا، سبھا، جٹا، پوجا وغیرہ۔

4۔ عربی کہ وہ سہ حرفی الفاظ جِن کے آخر میں الف ہو ہمارے یہاں موئنث بولے جائیں گے مثلاً دعا، ادا، بقا، فنا، بلا، وفا، قضا، صدا، دوا، قبا، سزا، جزا یہ سب موئنث ہیں البتہ چند الفاظ اس سے مُستشنیٰ ہیں مثلاً زِنا، عصا، طِلا وغیرہ۔

5۔ ہندی سے آنے والے الفاظ جِن کے آخر میں چھوٹی 'ی' ہوتی ہے انھیں ہمارے یہاں بطور موئنث قبول کیا جاتاہے مثلاً روٹی، بوٹی، نالی، جالی، گالی، تھالی، چکّی، ڈولی، مُولی، سُولی، کٹوری، موری وغیرہ لیکن پانی، دہی، گھی، جی (دِل) اور ہاتھی وغیرہ چھوٹی 'ی' پر ختم ہونے کے باوجود مذکر ہیں۔

6۔ اللہ اور اسکے متبادِل نام سب مذکر ہیں مثلاً خُدا، مولا وغیرہ۔

7۔ صحائفِ آسمانی موئنث ہیں مثلاً انجیل، توریت، زبور وغیرہ مگر قرآن مذکر ہے۔ ہندوؤں کی مقدس کتابیں گیتا اور رامائن بھی موئنث ہیں۔

8۔ شراب موئنث ہے اور دیگر مُنشّی اشیاء بھی مثلاً بھنگ، افیون، چرس، کوکین وغیرہ بھی موئنث ہے۔ شراب کی تمام ولائتی اقسام موئنث ہیں مثلاً وہسکی، جِن، واڈ کا، شمپین، شیری، مارٹینی، بیئر البتہ شراب کی ایک قسم مذکر ہے: ٹھّرا!۔۔۔

لیکن ُرکئے، فارسی کا ’بادہ‘ بھی تو مذکر ہے! سگریٹ اور بیڑی اگر بڑے سائز کی بھی ہو تو موئنث ہی کہلائے گی لیکن سگار ہر صورت میں مذکر ہے، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔

9۔ ستارہ چونکہ مذکر ہے اس لئے اکثر ستاروں کے نام مذکر ہیں لیکن زہرہ، ناہید اور مُشتری موئنث شمار ہوتے ہیں۔

10۔ کالا، پیلا، نیلا، مٹیالا وغیرہ سب رنگ بُنیادی طور پر تو مذکر ہیں لیکن چونکہ صِفت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اس لئے مذکر اسم کے ساتھ مذکر اور موئنث اسم کے ساتھ موئنث ہو جاتے ہیں۔ مثلاً کالا گولا، نیلی چھتری، ہرا پان، پیلی پتّی، مٹیالا بادل، روپہلی دھوپ وغیرہ۔

11۔ زبان اور بولی موئنث ہیں اور تمام زبانوں کے نام بھی موئنث ہیں مثلاً فارسی، عربی، بلوچی، سندھی، یونانی، عبرانی وغیرہ۔ تاہم اِن کے آخر میں جو چھوٹی ’ی‘ ہے وہ علامتِ تانیث نہیں بلکہ علاقے یا قوم کی نسبت کو ظاہر کرتی ہے اور جِن زبانوں کے نام چھوٹی 'ی' پر ختم نہیں ہوتے مثلاً پشتو، سنسکرت اُردو، ہندکو، فرنچ، جرمن، ڈچ، وہ سب بھی موئنث ہی شُمار ہوتی ہیں۔

لفظ اُردو اپنے قدیم معانی میں (لشکرگاہ، فوجی پڑاؤ، شاہی دربار) مذکر تھا لیکن اب زبان کے مفہوم میں موئنث ہے۔

12۔ آواز کی نقل میں بنے ہوئے الفاظ سب موئنث ہیں مثلاً چھم چھم، رِم جھِم، سائیں سائیں، ٹِپ ٹِپ، سنسناہٹ، گڑ گڑاہٹ، دھم دھم وغیرہ۔

13۔ سال یا سن اُردو میں ہمیشہ مذکر استعمال ہوتا ہے مثلاً 1965 ان کی زندگی میں بڑا اہم تھا۔

تمام اسلامی، دیسی اور انگریزی مہینوں کے نام مذکر ہوتے ہیں جیسے نومبر گزر گیا، محرم آنے والا ہے۔ البتہ کچھ لوگ جنوری، فروری، مئی اور جولائی کو (آخر میں چھوٹی ’ی‘ ہونے کی وجہ سے) موئنث کے طور پر لیتے ہیں مثلاً جنوری گزر گئی فروری آگئی ۔

جمعرات کے سوا ہفتے کے تمام دِن مذکر ہیں۔ وقت کی تقسیم کے لئے مقرّر تمام اِکائیاں مذکر ہیں یعنی گھنٹہ، منٹ، سکینڈ، لمحہ، لحظہ، دقیقہ وغیرہ سب مذکر ہیں۔

14۔ چاندی کے سوا تمام دھاتیں اور قیمتی پتھر مذکر ہوتے ہیں مثلاً سونا، لوہا، تانبا، پیتل، ٹِین، جَست او
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
ر ہیرا، جوہر، لعل، زمرد، یاقوت، نیلم پکھراج وغیرہ سب مذکر ہیں۔

15۔ سب پہاڑوں کے نام مذکر ہوتے ہیں البتہ دریاؤں کے مذکر اور موئنث دونوں ہوتے ہیں۔ راوی، ستلج، چناب، جہلم، سندھ مذکر ہیں لیکن گنگا، جمنا وغیرہ موئنث ہیں۔

اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اُردو میں دریا بذاتِ خود مذکر ہے لیکن ہندی میں ندی موئنث ہے چنانچہ اُردو کے تمام مذکر دریا ہندی میں جا کر موئنث ہو جاتے ہیں (راوی ندی لاہور کے پاس بہتی ہے)

16۔ 'ت' پر ختم ہونے والے عربی اور فارسی کے اسماء(جبکہ ت سے پہلے والے حرف پر زبر ہو) موئنث بولے جاتے ہیں مثلاً شوکت، حشمت، رحمت، زحمت، حُرمت، حیرت، دولت، ثروت، صولت، عصمت، خدمت وغیرہ اور انھی کے نمونے پر ہندی سے آنے والے اسماء بھی موئنث بن گئے، مثلاً چلت پھرت، بچت، ُجگت، چاہت، چپت (تھپڑ) رنگت، سنگت، کہاوت، کھنڈت، کھپت، لاگت وغیرہ سب موئنث ہیں لیکن ’ شربت‘ مذکر ہے۔

اُردو میں تذکیرو ثانیت کے مسئلے کو گزشتہ ڈیڑھ سو سال کے دوران شعر و شاعری کے باعث بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ انیسویں صدی کے وسط سے بیسویں صدی کے آغاز تک مذکر موئنث کے جھگڑے پر سینکڑوں رسالے کتابچے اور مقالے لکھے گئے۔

اِن مضمون نگاروں کا بُنیادی مقصد غزل میں الفاظ کی درست تذکیرو ثانیت کو یقینی بنانا تھا۔ دہلی سکول اور لکھنؤ سکول کے ماہرینِ عُروض میں اس موضوع پر ساٹھ ستر برس تک گرما گرم بحثیں جاری رہیں اور مذکر موئنث کے مسئلے پر شعراء میں کئی ذیلی مکاتبِ فکر بھی پیدا ہو گئے۔

چونکہ غیر جاندار چیزوں کی جِنس کوئی فطری امر نہیں ہے بلکہ ہماری خود ساختہ چیز ہےاس لئے حتمی طور پر یہ مسئلہ ابھی حل نہیں ہو سکا اور شاید مستقبل میں بھی حل نہیں ہو سکے گا۔

*منقول۔۔۔*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بے وضو اذان پڑھنے کا مسئلہ
غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کرکٹ میچ کھیلنا کیسا ہے؟
فتاویٰ بحرالعلوم جِـ⁵ صَـ⁵⁷⁸
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سوال:
کرکٹ جو آج کل ہند و پاک میں رائج ہے، ❶ اس کا کھیلنا اور دیکھنا کیسا ہے؟ ❷ نیز ان کی اقتدا میں نماز درست ہے یا نہیں؟ ❸ اور ان کا امامت کرنا درست ہے یا نہیں؟

الجواب:
کھیل کی غرض سے جو افعال کئے جائیں شریعت میں حرام و ناجائز ہیں ـ حدیث شریف میں ہے: کل لھو المسلم حرام الامن الثلث ـ بِالخصوص آج کل کا کرکٹ کا کھیل جو بے شمار برائیوں کا ذریعہ ہے، اس کھیل کے عادیوں کے پیچھے نماز ضرور مکروہ ہے، چاہے کھیلنے والے ہوں یا دیکھنے والے ہوں ـ
https://t.me/islaamic_Knowledge/4901
فتاوٰی بحر العلوم، جِ⁵ ص⁵⁷⁸تا⁵⁷⁹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مسبوق کی نماز
فتاویٰ رضویہ قدیم جِـ³ صَـ³⁹³
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
تصانیف حضور نظمی میاں
آل رسول سید حسنین میاں
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
فقہائے سبعہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ افریقہ صفحہ¹⁷³
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
طٰهٰ طٰہٰ | طه طہ + یٰس یاسین
نام رکھنا کیسا ہے ؟
حوالہ : نام کیسے رکھے جائیں
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ارشادات حضور فیض ملت
#علامہ_فیض_احمد_اویسی
علم کے موتی
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
📃 شراب کی تباہ کاریاں 📃
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
*🌹غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی تاریخ وصال اور اقوال ائمہ🌹*


*السلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ*
*علماء کرام و مفتیان عظام کیا فرماتے ہیں مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ بڑے پیر روشن ضمیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا وصال کی تاریخ کیا ہے۔*
*ابھی تک میں نے یہی پڑھا تھا کہ تاریخ وصال 11ربیع الاخر 561ہجری ہے*
*لیکن جمعہ کے دن دوران تقریر امام صاحب نے فرمایا کہ ان کی وصال کی تاریخ نہیں ہے بلکہ غوث پاک رضی اللہ عنہ وجہ تخلیق کائنات جناب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا فاتحہ اس تاریخ کو دلایا کرتے تھے اسی سبب سے اس تاریخ کو فاتحہ خوانی مشہور ہو گئی*
*حضرت کی بارگاہ میں گذارش ہے کہ مع حوالہ وضاحت فرمائیں ۔*


*🌹سائل محمد ریاض گریڈیہ جھارکھنڈ🌹*


*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*📝الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایہ الحق والصواب*
*صورت مسئولہ میں عرض ہے کہ سن و ماہ میں کوئی اختلاف نہیں البتہ تاریخ میں اختلاف ہے-*

*📖جیساکہ " سیرت غوثیہ صفحہ ٢٤١ " پر ہے کہ :*
*"تاریخ وصال و بروایات بسطہ ابن جوزی ابن رجب حنبلی ، حافظ ابن نجار ، حافظ ذہبی و علی القادری وغیرہم، تاریخ ١٠ ماہ ربیع الثانی سن ٥٦١ ہجری اور بعضوں نے ٩ ربیع الثانی لکھی ہے -*
*جن لوگوں نے ٣٠ کا چاند دیکھا انھوں نے ٩ فرمایا اور جن حضرات نے ٢٩ کا چاند دیکھا ١٠ تحریر فرمایا -*
*دو چار لوگوں نے ١١ بھی تحریر فرمایا ہے ، جو آپ کے دفن کی تاریخ تھی -*
*مگر محدثین کی کثرت ١٠ ربیع الثانی سن ٥٦١ پر ہے -*
*یوم وصال لیلتہ السبت یعنی وہ رات جس کی صبح ہونے پرشنبہ تھا - سن وصال ٥٦١ روز دفن لیلتہ الاحد یعنی وہ رات جس کی صبح یکشنبہ تھا اور ربیع الثانی کی ١١ تاریخ تھی -*
*سال وصال با الاتفاق سن ٥٦١ ھ ہے - امام حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے " البدایہ والنہایہ" میں اور امام یافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے " مراتہ الجنان " میں حضور سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال صرف سال تحریر فرمایا ہے جو ٥٦١ ھ ہے - دن اور مہینہ کا ذکر نہیں کیاہے -*
*حضرت علامہ جامی علیہ الرحمہ نے بھی " نفحات الانس " میں حضور ٥٦١ ھ کا ذکر کیا ہے - اور "کمال عشق " کے اعداد سے ٥٦١ ہی نکلتا ہے -*
*بقول ابن نجار شنبہ کی شپ بعد نماز عشاء بتاریخ ١٠ ربیع الثانی اور بروایت شب شنبہ ٩ ربیع الثانی کو حضرت واصل بحق ہوئے -*
*البتہ ! آگے چل کرامات کے بیان*
*میں حضور سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ارجمند حضرت شیخ عبدالوہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول لکھا ہے کہ "ماہ ربیع الثانی میں آپ نے وصال فرمایا - "*
*بظاہر مولانا جامی علیہ الرحمہ کے اس طرح مہینہ کا تعین کرنے )سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں کسی متفق علیہ روایت کا آپ کو علم نہیں ہؤا ہے -*
*بہر کیف ! سال وصال بالاتفاق ٥٦١ھ ہی ہے عمر شریف ٩٠ سال ٧ ماہ کی ہوءی - ماہ ربیع الثانی بھی سب کو مسلم ہے - البتہ تاریخ میں تاریخ میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے -*
*تاریخ کے سلسلہ میں ٨ ، ١٠ ، ١١ ، ١٣ اور ١٧ ربیع الثانی مختلف روایات منقول ہیں -*
*دارا شکوہ کی تحقیق میں قول اصح ٩ ربیع الثانی ٥٦١ ھ ہے -*
*بعض روایتوں میں آپ کی تاریخ وصال٨ یا ٩ ربیع الثانی بیان کی گئی ہے - اور بعض میں ١١ یا ١٣ اور ١٧ بیان کی گئی ہے -*
*پاکستان میں آپ کا عرس اور فاتحہ ١١ ربیع الثانی کو ہی* *خصوصیت کے ساتھ منایا جاتا ہے - جبکہ بغداد شریف میں ١٧ ربیع الثانی کو عرس ہوتا ہے -*
*بعض علماء و مؤرخین ٩ ربیع الثانی کو حضور سرکار بغداد کی صحیح تاریخ وصال بتاتے ہیں -*
*سید ابوالمعالی خیر الدین المتوفی علیہ الرحمہ سن ١٠٢٤*

*📄اپنی کتاب " تحفہ قادریہ " میں لکھتے ہیں ١٧ ربیع الثانی ٥٦١ ھ میں آپ نے رحلت فرمائی -*
*بعض رسالوں میں ١٣ اور ١١ ربیع الثانی بھی لکھی ہے - لیکن پہلا قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے -*
*بغداد شریف کے بعض معتبر اشخاص کا بیان ہے کہ :*
*" وہاں آپ کا عرس شریف ١٧ ربیع الثانی کو ہی ہوتا ہے - "*
*حضور سرکار بغداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ وصال کی تحقیق کے سلسلے میں بعض اور کتابیں بھی پیش نظر ہیں -*
*مثلاً عبدالرحمن چشتی علیہ الرحمہ کی کتاب" مراتہ الاسرار" اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی کتاب " اخبارالاخیار "* *میں ، لیکن ان کی موجودگی سے بھی صحیح تاریخ کے حتمی یقین میں کوئی خاص مدد نہیں ملتی -*
*البتہ ہندوستان میں بھی ہر سال ربیع الثانی کے مبارک مہینہ میں حضور غوث پاک کا عرس گیارہویں شریف کے نام بڑی شان و شوکت اور ادب و احترام سے منایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری وساری رہے گا - ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔!!!*
*کیونکہ ایک روایت کے مطابق یہ گیارہویں شریف حضور سرکار مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حضور غوث پاک کو دیا ہواعطیہ و انمول تحفہ ہے - جیسا کہ آپ حضرات نے بارہا جاء الحق بحوالہ کتاب " یازدہ مجلس" پڑھا اور سنا بھی ہوگا-*

*🌹واللہ
👍1