Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-09-1444 ᴴ | 14-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-09-1444 ᴴ | 14-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مسلک کی شہزادیاں
FaceBook ↷
https://www.facebook.com/profile.php?id=100086451916615&mibextid=ZbWKwL
Twitter ↷
https://twitter.com/KaneezUlAzhari?t=AnxcUkQN3RxW_G08dgjFSA&s=09
instagram ↷
https://instagram.com/maslak_ki_shehzadiyan?igshid=ZWIzMWE5ZmU3Zg==
YouTube ↷
https://youtube.com/@MaslakKiShehzadiyan8059
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مسلک کی شہزادیاں
FaceBook ↷
https://www.facebook.com/profile.php?id=100086451916615&mibextid=ZbWKwL
Twitter ↷
https://twitter.com/KaneezUlAzhari?t=AnxcUkQN3RxW_G08dgjFSA&s=09
instagram ↷
https://instagram.com/maslak_ki_shehzadiyan?igshid=ZWIzMWE5ZmU3Zg==
YouTube ↷
https://youtube.com/@MaslakKiShehzadiyan8059
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
تاج العلماء ، اولادِ رسول سید شاہ محمد میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
نوٹ: حضرت تاج العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ’’تاریخ خاندانِ برکات‘‘ میں جو اپنی سوانحِ حیات خود تحریر فرمائی ہے، اُسی کو بطورِ تبرک من و عن نقل کرتا ہوں ۔ ان کے الفاظ میں جو خیرِ کثیر ہے، وہ اس عاصی کے پاس کہاں ؟ ( فقیر تونسوی غفرلہ )
تاج العلماء حضرت سیّد شاہ اولادِ رسول محمد میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
ولادت:
’’فقیر کی ولادت 23 رمضان المبارک 1309 ھ میں اپنے حضرت جدِّ امجد قُدِّسَ سِرُّہٗ کے دولت خانے واقع محلہ تا مسین گنج ضلع سیتاپور میں ہوئی ۔
اسم گرامی:
’’اولادِ رسول فخر العالم محمد‘‘ پر عقیقہ کیا گیا بعد کو ’’محمد‘‘ کےساتھ بوجہ مطابق نام پاک حضور صاحبِ لولاک ﷺ بنظرِ تعظیم لفظ ’’میاں‘‘ کا اضافہ ہو کر ’’محمد میاں‘‘ نام زیادہ متعارف ہوا، اور فقیر بھی اپنا یہی نام اکثر استعمال کرتا ہے ۔ اور چوں کہ فقیر کے برادرِ معظّم کا نام فقیر عالم تھا؛ لہٰذا، بعض بزرگ اس کی مطابقت وزن سے فقیر کو محمد عالم کہتے تھے ۔
تعلیم:
درسیات مروجہ مختصر فارسی اپنے حضرت والدِ ماجد دامت برکاتہم العالیۃ اور منشی فرزند حسن صاحب ساکن قصبہ پانی ضلع ہردوئی اور مولوی میا ں جی رحمت اللہ صاحب مارہروی سے پڑھیں اور انہیں تینوں اور اپنے برادرِ معظّم سیّد شاہ غلام الدین فقیر عالم مرحوم سے مشق خط کی اور درسیاتِ مروجہ درسِ نظامی عربی فقہ و اصولِ فقہ و نحو و صرف و معانی و بیان و منطق و فلسفہ و عقائد و کلام تفسیر و حدیث وغیرہ اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ و کعبہ دامت برکاتہم العالیۃ و مولوی سیّد حیدر شاہ صاحب پشاوری و مولوی غلام رحمانی صاحب ولایتی و حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی و مولانا عبد المقتدر صاحب بدایونی سے پڑھیں اور بعض دیگر سے بھی چند اسباق پڑھے۔ ان درسیات کا غالب حصہ مولوی حیدر شاہ صاحب پشاوری سے پڑھا ۔ درسیات کی آخری کتب پڑھانے کے بعد ان کا ارادہ حسبِ دستورِ زمانہ سندِ تکمیل دینے کا تھا مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہ اپنے وطن چلے گئے اور پھر ان سے سندِ تحریری کی نوبت نہ آئی ۔
علمِ حدیث وغیرہ کی سند فقیر کو اپنے خاندانی تسلسل، اپنے حضر ت والدِ ماجد قبلہ و حضرت نانا صاحب قبلہ سیّد شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب سے بِحَمْدِہٖ تَعَالٰی حاصل ہے ۔ قرآنِ مجید فقیر نے اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ اور برادرِ معظّم سیّد شاہ غلام محی الدین فقیر عالم و ہمشیرۂ معظّمہ اہلیۂ سیّد مہدی حسن صاحب اور جناب استادِ مکرم حافظ عبد الکریم صاحب ملک پوری مرحوم سے حفظ کیا اور حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی اور بعض دیگر سے بھی چند سبق پڑھے اور کچھ دور کیا ہے ۔
اعلیٰ حضرت علیہالرحمہ سے عقیدت:
اور فقیر کو اگرچہ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ سے تلمذِ رسمی حاصل نہیں مگر فقیر ان کو اپنے اکثر اساتذہ سے بہتر و برتر اپنا استاد جانتا ہے ۔ ان کی تقریرات و تحریرات سے فقیر کو بہت کثیر فوائدِ دینی و عملی حاصل ہوئے اور چوں کہ تقریر و تحریر میں ان کا طریقہ بے لوث اور مواخذاتِ صوری و معنوی شرعی و عرفی سے منزّہ و مبرا ثابت و محقق ہوا لہٰذا فقیر بھی تا بہ وسعت ان کے طریقے کا اتباع کرنا پسند کرتا ہے ۔اللّٰھم و فقنا لما تحب و ترضٰی ۔ آمین یا رب العالمین ۔
بیعت طریقۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ میں اور اس سلسلہ و نیز دیگر سلاسلِ عالیہ نقشبندیہ ابو العلائیہ و چشتیہ نظامیہ و سہروردیہ جدیدہ و قدیمہ میں اجازت و خلافت اور بعض دیگر سلاسل و جملہ اوراد و اذکار و اشغال و اعمال و وظائف و احادیثِ شریفہ و قرآنِ مجید و مصافحات وغیرہ برکات کی اجازت اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ و کعبہ و دامت برکاتہم العالیۃ حضرت سیّد شاہ محمد اسماعیل حسن صاحب اور اپنے نانا صاحب زبدۃ الواصلین حضرت سیّد شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب قُدِّسَ سِرُّہٗ سے حاصل ہے۔‘‘ (تاریخ خاندان برکات، صفحہ65)
تاریخِ وصال:
24 جمادی الآخرہ 1375ھ مطابق 7 فروری 1956ء، بعد نماز عشا، 8 بج کر 48 منٹ پر آپ نے وصال فرمایا ۔ مارہرہ مطہرہ میں مرقدِ مبارک ہے ۔
نوٹ: حضرت تاج العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ’’تاریخ خاندانِ برکات‘‘ میں جو اپنی سوانحِ حیات خود تحریر فرمائی ہے، اُسی کو بطورِ تبرک من و عن نقل کرتا ہوں ۔ ان کے الفاظ میں جو خیرِ کثیر ہے، وہ اس عاصی کے پاس کہاں ؟ ( فقیر تونسوی غفرلہ )
تاج العلماء حضرت سیّد شاہ اولادِ رسول محمد میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
ولادت:
’’فقیر کی ولادت 23 رمضان المبارک 1309 ھ میں اپنے حضرت جدِّ امجد قُدِّسَ سِرُّہٗ کے دولت خانے واقع محلہ تا مسین گنج ضلع سیتاپور میں ہوئی ۔
اسم گرامی:
’’اولادِ رسول فخر العالم محمد‘‘ پر عقیقہ کیا گیا بعد کو ’’محمد‘‘ کےساتھ بوجہ مطابق نام پاک حضور صاحبِ لولاک ﷺ بنظرِ تعظیم لفظ ’’میاں‘‘ کا اضافہ ہو کر ’’محمد میاں‘‘ نام زیادہ متعارف ہوا، اور فقیر بھی اپنا یہی نام اکثر استعمال کرتا ہے ۔ اور چوں کہ فقیر کے برادرِ معظّم کا نام فقیر عالم تھا؛ لہٰذا، بعض بزرگ اس کی مطابقت وزن سے فقیر کو محمد عالم کہتے تھے ۔
تعلیم:
درسیات مروجہ مختصر فارسی اپنے حضرت والدِ ماجد دامت برکاتہم العالیۃ اور منشی فرزند حسن صاحب ساکن قصبہ پانی ضلع ہردوئی اور مولوی میا ں جی رحمت اللہ صاحب مارہروی سے پڑھیں اور انہیں تینوں اور اپنے برادرِ معظّم سیّد شاہ غلام الدین فقیر عالم مرحوم سے مشق خط کی اور درسیاتِ مروجہ درسِ نظامی عربی فقہ و اصولِ فقہ و نحو و صرف و معانی و بیان و منطق و فلسفہ و عقائد و کلام تفسیر و حدیث وغیرہ اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ و کعبہ دامت برکاتہم العالیۃ و مولوی سیّد حیدر شاہ صاحب پشاوری و مولوی غلام رحمانی صاحب ولایتی و حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی و مولانا عبد المقتدر صاحب بدایونی سے پڑھیں اور بعض دیگر سے بھی چند اسباق پڑھے۔ ان درسیات کا غالب حصہ مولوی حیدر شاہ صاحب پشاوری سے پڑھا ۔ درسیات کی آخری کتب پڑھانے کے بعد ان کا ارادہ حسبِ دستورِ زمانہ سندِ تکمیل دینے کا تھا مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہ اپنے وطن چلے گئے اور پھر ان سے سندِ تحریری کی نوبت نہ آئی ۔
علمِ حدیث وغیرہ کی سند فقیر کو اپنے خاندانی تسلسل، اپنے حضر ت والدِ ماجد قبلہ و حضرت نانا صاحب قبلہ سیّد شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب سے بِحَمْدِہٖ تَعَالٰی حاصل ہے ۔ قرآنِ مجید فقیر نے اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ اور برادرِ معظّم سیّد شاہ غلام محی الدین فقیر عالم و ہمشیرۂ معظّمہ اہلیۂ سیّد مہدی حسن صاحب اور جناب استادِ مکرم حافظ عبد الکریم صاحب ملک پوری مرحوم سے حفظ کیا اور حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی اور بعض دیگر سے بھی چند سبق پڑھے اور کچھ دور کیا ہے ۔
اعلیٰ حضرت علیہالرحمہ سے عقیدت:
اور فقیر کو اگرچہ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ سے تلمذِ رسمی حاصل نہیں مگر فقیر ان کو اپنے اکثر اساتذہ سے بہتر و برتر اپنا استاد جانتا ہے ۔ ان کی تقریرات و تحریرات سے فقیر کو بہت کثیر فوائدِ دینی و عملی حاصل ہوئے اور چوں کہ تقریر و تحریر میں ان کا طریقہ بے لوث اور مواخذاتِ صوری و معنوی شرعی و عرفی سے منزّہ و مبرا ثابت و محقق ہوا لہٰذا فقیر بھی تا بہ وسعت ان کے طریقے کا اتباع کرنا پسند کرتا ہے ۔اللّٰھم و فقنا لما تحب و ترضٰی ۔ آمین یا رب العالمین ۔
بیعت طریقۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ میں اور اس سلسلہ و نیز دیگر سلاسلِ عالیہ نقشبندیہ ابو العلائیہ و چشتیہ نظامیہ و سہروردیہ جدیدہ و قدیمہ میں اجازت و خلافت اور بعض دیگر سلاسل و جملہ اوراد و اذکار و اشغال و اعمال و وظائف و احادیثِ شریفہ و قرآنِ مجید و مصافحات وغیرہ برکات کی اجازت اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ و کعبہ و دامت برکاتہم العالیۃ حضرت سیّد شاہ محمد اسماعیل حسن صاحب اور اپنے نانا صاحب زبدۃ الواصلین حضرت سیّد شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب قُدِّسَ سِرُّہٗ سے حاصل ہے۔‘‘ (تاریخ خاندان برکات، صفحہ65)
تاریخِ وصال:
24 جمادی الآخرہ 1375ھ مطابق 7 فروری 1956ء، بعد نماز عشا، 8 بج کر 48 منٹ پر آپ نے وصال فرمایا ۔ مارہرہ مطہرہ میں مرقدِ مبارک ہے ۔
❤2
تعلیماتِ حضور تاج العلماء:
1. اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کا سچا پکا مطیع و فرماں بردار محب و محبوب بندہ پہلے بنا کر اس طرح اپنی فریاد سنی جانے کے لائق اپنے آپ کو ٹھہرا کر اپنی فریاد فریا درس حقیقی ربِّ عزت تبارک و تعالیٰ اور اس کی عطا سے اور اس کے حکم سے اس کے محبوب اپنے آقا محمد مصطفٰی ﷺ ہی کے دربار میں ہم پیش کریں ۔ یاد رکھیے! ہم غربائے مسلمین کی حقیقی پائیدار کامل اکمل داد رسی اور اعدا و دشمنان دین کی مکمل و مستقل قطعی سرکو بی وہیں سے اور صرف وہیں سے ہوگی۔
2. یہ دنیا عالم اسباب ہے۔ حقیقی بھروسا تو اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلاۃ و السلام پر رکھیے ظاہری اسبابی لحاظ سے خود اپنے قوتِ بازو اور قوتِ عمل پر بھروسہ کیجیے۔ ہرگز ہرگز کسی بےدین و بددین فرد اور جمعیت کی طر ف دستِ التجا نہ پھیلائیے۔ ان میں سے کسی کو بھی خواہ وہ وہابیہ کی جمعیت العلما ہو یا لیگ و کانگریس سوشلسٹ و کمیونسٹ و مہا سبھا وغیرہ اسی قماش کی دوسری جمعیتیں اور انجمنیں اور ان کے اہلکاران و کار کنان کو ہرگز ہرگز اپنا مخلص چارہ گر اوربے لوث ہمدرد ہرگز نہ جانیے۔
3. لیڈری چالوں سے بہت ہوشیار رہیے۔ تجربے نے خوب ظاہر کردیا ہے کہ لیڈری چالوں میں وقتی اظہارِ جوش و خروش،شور و غوغا،اشتعالِ بےسود بلکہ مضر تو بہت ہوتا ہے مگر ٹھوس اور پائیدار مفید نتیجہ کچھ نہیں نکلتا؛ بلکہ اور غریب مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوجاتے ہیں۔
4. اہلِ سنّت باہمی اتحاد اور تنظیم کریں۔ ایک دوسرے کے دُکھ درد و ر نج وراحت کے شریکِ حال بنیں۔
5. بُری رسمیں اور محرمات اور کھیل کود لغویات میں اپنے اوقات اور اموال کو ضائع کرنے سے بچا کر اپنی معیشت اور دنیوی مالی حالت درست کریں، سینما قطعاً دیکھنا چھوڑ دیں (فی زمانہ فلمیں، ڈرامے، غیرِشرعی پروگرامز، انٹرنیٹ و موبائل کا بے جا استعمال) ۔
6. کاہلی اور بے عملی کو چھوڑ دیں۔ شریعتِ مطہرہ کو اپنا دستور العمل زندگی ظاہری و باطنی قولی و عملی بنائیں۔ طاعت و عبادت کے بعد جو اوقات بچیں وہ جائز تجارت مفید زراعت کار آمد اور سود مند صنعت و حرفت غرض اُن اُمور میں صرف کریں جن سے دنیا سنبھلے اور دین کو بھی اُس سے قوت ملے۔
7. صبر و قناعت اور تقویٰ سے گزر اوقات کرنا اور انہیں سے اعدا و مخالفین کا مقابلہ کرنا سیکھیں۔
8. بقدرِ ضرورت علمِ دین ضرور حاصل کریں تو ان شآء اللہ العزیز الکریم و بفضل رسولہ العظیم ﷺ بیڑا پاررہے اور یہی اغیارو کفّار و اشرار جو آج ہماری بد عملی اور بے عملی سے ہمارے جان و مال عزت و ناموس ہی پر نہیں بلکہ ہمارے مقدس دین اسلام اور پیارے مذہب اہل سنّت اور ہمارے معظّمانِ دین کی مقدّس بارگاہوں اور رفیع شانوں میں گستاخ خیرہ سردار دردیدہ دہن ہیں کل ہمارا لوہا مانیں گے اور ہمارے سامنے سپر انداختہ ہوں گے۔ لیڈرانِ قوم کے خود ساختہ پروگرام تو آج کل کے مدّعیانِ اسلام نے بہت آزما لیے اور اُن کے سخت مضر اور مہلک نتیجے بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ فقیر کے برادرانِ دین و طریقت اب اس شرعی دینی اسلامی سہل و مختصر بے شورو شردستور العمل پر بھی عمل کرکےدیکھیں۔ان شآء اللہ تعالٰی وہ اِس ارشادِ رحمانی کے جلوے اپنی آنکھوں دیکھ لیں گے کہ
وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیۡمًا﴿۷۱﴾ (الاحزاب:۷۱)
ترجمہ:
جس نے اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلاۃ والسلام کا کہنا مانا، بے شک وہ عظیم کامیابی کو پہنچا۔
(اہلِ سنّت کی آواز، 2010ء، ص250)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aulad-e-rasool-muhammad-mian-maharvi
1. اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کا سچا پکا مطیع و فرماں بردار محب و محبوب بندہ پہلے بنا کر اس طرح اپنی فریاد سنی جانے کے لائق اپنے آپ کو ٹھہرا کر اپنی فریاد فریا درس حقیقی ربِّ عزت تبارک و تعالیٰ اور اس کی عطا سے اور اس کے حکم سے اس کے محبوب اپنے آقا محمد مصطفٰی ﷺ ہی کے دربار میں ہم پیش کریں ۔ یاد رکھیے! ہم غربائے مسلمین کی حقیقی پائیدار کامل اکمل داد رسی اور اعدا و دشمنان دین کی مکمل و مستقل قطعی سرکو بی وہیں سے اور صرف وہیں سے ہوگی۔
2. یہ دنیا عالم اسباب ہے۔ حقیقی بھروسا تو اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلاۃ و السلام پر رکھیے ظاہری اسبابی لحاظ سے خود اپنے قوتِ بازو اور قوتِ عمل پر بھروسہ کیجیے۔ ہرگز ہرگز کسی بےدین و بددین فرد اور جمعیت کی طر ف دستِ التجا نہ پھیلائیے۔ ان میں سے کسی کو بھی خواہ وہ وہابیہ کی جمعیت العلما ہو یا لیگ و کانگریس سوشلسٹ و کمیونسٹ و مہا سبھا وغیرہ اسی قماش کی دوسری جمعیتیں اور انجمنیں اور ان کے اہلکاران و کار کنان کو ہرگز ہرگز اپنا مخلص چارہ گر اوربے لوث ہمدرد ہرگز نہ جانیے۔
3. لیڈری چالوں سے بہت ہوشیار رہیے۔ تجربے نے خوب ظاہر کردیا ہے کہ لیڈری چالوں میں وقتی اظہارِ جوش و خروش،شور و غوغا،اشتعالِ بےسود بلکہ مضر تو بہت ہوتا ہے مگر ٹھوس اور پائیدار مفید نتیجہ کچھ نہیں نکلتا؛ بلکہ اور غریب مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوجاتے ہیں۔
4. اہلِ سنّت باہمی اتحاد اور تنظیم کریں۔ ایک دوسرے کے دُکھ درد و ر نج وراحت کے شریکِ حال بنیں۔
5. بُری رسمیں اور محرمات اور کھیل کود لغویات میں اپنے اوقات اور اموال کو ضائع کرنے سے بچا کر اپنی معیشت اور دنیوی مالی حالت درست کریں، سینما قطعاً دیکھنا چھوڑ دیں (فی زمانہ فلمیں، ڈرامے، غیرِشرعی پروگرامز، انٹرنیٹ و موبائل کا بے جا استعمال) ۔
6. کاہلی اور بے عملی کو چھوڑ دیں۔ شریعتِ مطہرہ کو اپنا دستور العمل زندگی ظاہری و باطنی قولی و عملی بنائیں۔ طاعت و عبادت کے بعد جو اوقات بچیں وہ جائز تجارت مفید زراعت کار آمد اور سود مند صنعت و حرفت غرض اُن اُمور میں صرف کریں جن سے دنیا سنبھلے اور دین کو بھی اُس سے قوت ملے۔
7. صبر و قناعت اور تقویٰ سے گزر اوقات کرنا اور انہیں سے اعدا و مخالفین کا مقابلہ کرنا سیکھیں۔
8. بقدرِ ضرورت علمِ دین ضرور حاصل کریں تو ان شآء اللہ العزیز الکریم و بفضل رسولہ العظیم ﷺ بیڑا پاررہے اور یہی اغیارو کفّار و اشرار جو آج ہماری بد عملی اور بے عملی سے ہمارے جان و مال عزت و ناموس ہی پر نہیں بلکہ ہمارے مقدس دین اسلام اور پیارے مذہب اہل سنّت اور ہمارے معظّمانِ دین کی مقدّس بارگاہوں اور رفیع شانوں میں گستاخ خیرہ سردار دردیدہ دہن ہیں کل ہمارا لوہا مانیں گے اور ہمارے سامنے سپر انداختہ ہوں گے۔ لیڈرانِ قوم کے خود ساختہ پروگرام تو آج کل کے مدّعیانِ اسلام نے بہت آزما لیے اور اُن کے سخت مضر اور مہلک نتیجے بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ فقیر کے برادرانِ دین و طریقت اب اس شرعی دینی اسلامی سہل و مختصر بے شورو شردستور العمل پر بھی عمل کرکےدیکھیں۔ان شآء اللہ تعالٰی وہ اِس ارشادِ رحمانی کے جلوے اپنی آنکھوں دیکھ لیں گے کہ
وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیۡمًا﴿۷۱﴾ (الاحزاب:۷۱)
ترجمہ:
جس نے اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلاۃ والسلام کا کہنا مانا، بے شک وہ عظیم کامیابی کو پہنچا۔
(اہلِ سنّت کی آواز، 2010ء، ص250)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aulad-e-rasool-muhammad-mian-maharvi
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Aulad-e-Rasool Muhammad Mian Maharvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت فاضل جلیل مولانا قاضی غلام محمود ہزاروی کھلا بٹ (ہزارہ) علیہ الرحمہ
ولادت:
عمدۃ المدّرسین حضرت علامہ ابو الفح قاضی غلام محمود بن جامع معقول و منقول قاضی محمد عبد السبحان بن مولانا قاضی مظہر جمیل بن مولانا مفتی محمد غوث تقریباً ۱۹۲۰ء میں بمقام کھلابٹ [۱] (ہزارہ) میں پیدا ہوئے ۔
[۱۔ موضع کھلابٹ، ہری پور شہر سے چھ میل کے فاصلے پر آباد تھا اب تربیلہ بند کی وجہ سے پانی میں آگیا اور اب ہری پور کے قریب کھلابٹ کالونی تعمیر ہو گئی ہے۔]
آپ کے جدِّ اعلیٰ مولانا قاضی محمد غوث ریاست بھوپال کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) تھے ۔ آپ نے تین سال مدینہ منّورہ میں درسِ حدیث دیا ۔
مولانا مفتی مظہر جمیل (جدِّ امجد قاضی غلام محمود صاحب) علم و فقہ میں ماہر اور ظاہری و باطنی کمالات کے حامل تھے ان کے بھائی مولانا محمد خلیل، حضرت مولانا محمد خلیل، حضرت مولانا احمد علی سہانپوری کے شاگرد تھے ار مکّہ مکرمہ میں ان کا انتقال ہوا ۔ [۱]
[۱ٍ۔ حضرت مولانا قاضی غلام محمود کی راقم سے گفتگو۔]
حضرت مولانا قاضی غلام محمود ہزاروی کے والد غلام محمود ہزاری کے والد ماجد حضرت مولانا قاضی محمد عبد السبحان علومِ عقلیہ و نقلیہ کے بحرِ ذخّار ار مناظرِ اسلام تھے۔ مناظرہ میں آپ کو دیدِ طولیٰ حاصل تھا اور صرف ایک ہی بات میں مدِّ مقابل کو لاجواب کردیا کرتے تھے اور بڑے بڑے مناظرے آپ کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے ۔ [۱]
[۱۔ محمد عبد الحکیم شرف قادری، مولانا: ’’تذکرۃ اکابر اہل سنت‘‘، ص ۲۳۰]
حضرت مولانا قاضی غلام محمود ہزاری نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں والد ماجد علیہ الرحمہ سے حاصل کی، دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں بھی والد صاحب سے میر زاہد وغیرہ کتب کا درس لیا۔ مولانا قطب الدین غور غشتوی سے میبذی، ہدیۂ سعیدیہ اور اقلیدس وغیرہ کتب پڑھیں اور پھر مدرسہ خیر آبادیہ دہلی (ہندوستان) میں مولانا عبد الجلیل ٹونکی (تلمیذ رشید مولانا حکیم برکات احمد ٹونکی) سے شرح تجرید جدید للقو شجی، افق المبین، فصوص الحکم، نقد النصوص، خلاصات، قباصات اور ایماضات وغیرہ کتب کا درس لیا۔
حدیث شریف کی بعض کتب اپنے والد ماجد اور بعض مدرسہ خیر آبادیہ (دہلی) میں پڑھ کر وہیں سے سندِ فراغت حاصل کی۔
علادیں ازیں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات پاس کیے اور محکمہ اوقاف کے تحت درجہ اوّل کا محکمانہ امتحان پاس کیا ۔
حضرت علّامہ قاضی غلام محمود ہزاروی نے تدریس زندگی کا آغاز اپنے آبائی گاؤں سے کیا، پانچ سال دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ پور (ہزارہ) میں پڑھاتے رہے کچھ عرصہ جامع مسجد غلّہ منڈی پاکپتن شریف سے ملحق دارالعلوم اہل سنّت وجماعت میں اور کچھ مدت جامعہ حنفیہ اشرف المدارس اوکاڑہ میں مسندِ تدریس پر فائز رہے عرصہ دس سال دارالعلوم اہل سنّت و جماعت جہلم میں بطورِ مدرّس فرائض متعلقہ سر انجام دیتے رہے اور پھر جامعہ اشاعت الاسلام کے نام سے جہلم میں ہی ایک ادارہ قائم کرکے اس کے جملہ انتظامات اور تدریسی فرائض انجام دینے شروع کیے ۔
۱۰؍ اکتوبر ۱۹۷۵ء کو آپ اپنے گھر کھلابٹ کالونی تشریف لے گئے اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگئے ۔ علاوہ ازیں آپ چھ ماہ تک واہ فیکٹری (ٹیکسلا) کی جامع مسجد میں فرائضِ خطابت بھی سر انجام دیتے رہے ۔
اس سے قبل آپ جامع مسجد کھلابٹ، فوارہ مسجد ہری پور، جامع مسجد غلّہ منڈی پاکپتن شریف اور جہلم میں بھی امامت و خطابت اور تبلیغی و ارشاد کے منصب پر فائز رہے ۔
شوال المکرّم ۱۳۹۷ھ سے آپ اہل سنّت و جماعت کی مرکزی درس گاہ جامعہ نعیمیہ لاہور میں شیخ الحدیث مقرر ہوئے ارو تاحال تعلیمِ حدیث کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔
حضرت مولانا قاضی غلام محمود ہزاروی مدظلہ کو سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں حضرت بابو جی رحمہ اللہ (گولڑہ شریف) سے بیعت اور سلسلۂ نقشبندیہ میں حضرت پیر غلام محی الدّین نقشبندی نیاریاں شریف (آزاد کشمیر) کی طرف سے خلافت کا شرف حاصل ہے ۔
۱۹۷۰ء کو آپ حج بیت اللہ شریف اور گنبدِ خضراء کی زیارت سے مشرّف ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدیم مکان اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان کی زیارت بھی کی ۔
حضرت قاضی صاحب مدظلہ کو علم و فضل سے وافر حصّہ عطا ہوا۔ آپ علمی خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے علاوہ خود علومِ نقلیہ کے ماہر میدانِ تدریس و تقریر کے شہسوار اور بحرِ تصنیف و تالیف کے غوّاص ہیں۔
مختلف علوم و فنون پر آپ نے خامہ فرسائی فرمائی ہے۔ چند کتب کی فہرست درج ذیل ہے:
۱۔ سُنّتِ مصطفےٰ ﷺ
۲۔ تفسیر مطالب القرآن
۳۔ فضائلِ قرآن
۴۔ عمدۃ الاصول فی حدیث الرسول
۵۔ توضیح کلمات اللہ فی تفسیر ما اھل بہ بغیر اللہ
۶۔ مسجد میں ذکر و اذکار
۷۔ فیوضاتِ غوثیہ [۱]
[۱۔ عبد الستّار نظامی، مولانا: ’’تعارف تصانیف علماء اہل سنّت‘‘ (غیر مطبوعہ)]
ولادت:
عمدۃ المدّرسین حضرت علامہ ابو الفح قاضی غلام محمود بن جامع معقول و منقول قاضی محمد عبد السبحان بن مولانا قاضی مظہر جمیل بن مولانا مفتی محمد غوث تقریباً ۱۹۲۰ء میں بمقام کھلابٹ [۱] (ہزارہ) میں پیدا ہوئے ۔
[۱۔ موضع کھلابٹ، ہری پور شہر سے چھ میل کے فاصلے پر آباد تھا اب تربیلہ بند کی وجہ سے پانی میں آگیا اور اب ہری پور کے قریب کھلابٹ کالونی تعمیر ہو گئی ہے۔]
آپ کے جدِّ اعلیٰ مولانا قاضی محمد غوث ریاست بھوپال کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) تھے ۔ آپ نے تین سال مدینہ منّورہ میں درسِ حدیث دیا ۔
مولانا مفتی مظہر جمیل (جدِّ امجد قاضی غلام محمود صاحب) علم و فقہ میں ماہر اور ظاہری و باطنی کمالات کے حامل تھے ان کے بھائی مولانا محمد خلیل، حضرت مولانا محمد خلیل، حضرت مولانا احمد علی سہانپوری کے شاگرد تھے ار مکّہ مکرمہ میں ان کا انتقال ہوا ۔ [۱]
[۱ٍ۔ حضرت مولانا قاضی غلام محمود کی راقم سے گفتگو۔]
حضرت مولانا قاضی غلام محمود ہزاروی کے والد غلام محمود ہزاری کے والد ماجد حضرت مولانا قاضی محمد عبد السبحان علومِ عقلیہ و نقلیہ کے بحرِ ذخّار ار مناظرِ اسلام تھے۔ مناظرہ میں آپ کو دیدِ طولیٰ حاصل تھا اور صرف ایک ہی بات میں مدِّ مقابل کو لاجواب کردیا کرتے تھے اور بڑے بڑے مناظرے آپ کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے ۔ [۱]
[۱۔ محمد عبد الحکیم شرف قادری، مولانا: ’’تذکرۃ اکابر اہل سنت‘‘، ص ۲۳۰]
حضرت مولانا قاضی غلام محمود ہزاری نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں والد ماجد علیہ الرحمہ سے حاصل کی، دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں بھی والد صاحب سے میر زاہد وغیرہ کتب کا درس لیا۔ مولانا قطب الدین غور غشتوی سے میبذی، ہدیۂ سعیدیہ اور اقلیدس وغیرہ کتب پڑھیں اور پھر مدرسہ خیر آبادیہ دہلی (ہندوستان) میں مولانا عبد الجلیل ٹونکی (تلمیذ رشید مولانا حکیم برکات احمد ٹونکی) سے شرح تجرید جدید للقو شجی، افق المبین، فصوص الحکم، نقد النصوص، خلاصات، قباصات اور ایماضات وغیرہ کتب کا درس لیا۔
حدیث شریف کی بعض کتب اپنے والد ماجد اور بعض مدرسہ خیر آبادیہ (دہلی) میں پڑھ کر وہیں سے سندِ فراغت حاصل کی۔
علادیں ازیں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات پاس کیے اور محکمہ اوقاف کے تحت درجہ اوّل کا محکمانہ امتحان پاس کیا ۔
حضرت علّامہ قاضی غلام محمود ہزاروی نے تدریس زندگی کا آغاز اپنے آبائی گاؤں سے کیا، پانچ سال دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ پور (ہزارہ) میں پڑھاتے رہے کچھ عرصہ جامع مسجد غلّہ منڈی پاکپتن شریف سے ملحق دارالعلوم اہل سنّت وجماعت میں اور کچھ مدت جامعہ حنفیہ اشرف المدارس اوکاڑہ میں مسندِ تدریس پر فائز رہے عرصہ دس سال دارالعلوم اہل سنّت و جماعت جہلم میں بطورِ مدرّس فرائض متعلقہ سر انجام دیتے رہے اور پھر جامعہ اشاعت الاسلام کے نام سے جہلم میں ہی ایک ادارہ قائم کرکے اس کے جملہ انتظامات اور تدریسی فرائض انجام دینے شروع کیے ۔
۱۰؍ اکتوبر ۱۹۷۵ء کو آپ اپنے گھر کھلابٹ کالونی تشریف لے گئے اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگئے ۔ علاوہ ازیں آپ چھ ماہ تک واہ فیکٹری (ٹیکسلا) کی جامع مسجد میں فرائضِ خطابت بھی سر انجام دیتے رہے ۔
اس سے قبل آپ جامع مسجد کھلابٹ، فوارہ مسجد ہری پور، جامع مسجد غلّہ منڈی پاکپتن شریف اور جہلم میں بھی امامت و خطابت اور تبلیغی و ارشاد کے منصب پر فائز رہے ۔
شوال المکرّم ۱۳۹۷ھ سے آپ اہل سنّت و جماعت کی مرکزی درس گاہ جامعہ نعیمیہ لاہور میں شیخ الحدیث مقرر ہوئے ارو تاحال تعلیمِ حدیث کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔
حضرت مولانا قاضی غلام محمود ہزاروی مدظلہ کو سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں حضرت بابو جی رحمہ اللہ (گولڑہ شریف) سے بیعت اور سلسلۂ نقشبندیہ میں حضرت پیر غلام محی الدّین نقشبندی نیاریاں شریف (آزاد کشمیر) کی طرف سے خلافت کا شرف حاصل ہے ۔
۱۹۷۰ء کو آپ حج بیت اللہ شریف اور گنبدِ خضراء کی زیارت سے مشرّف ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدیم مکان اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان کی زیارت بھی کی ۔
حضرت قاضی صاحب مدظلہ کو علم و فضل سے وافر حصّہ عطا ہوا۔ آپ علمی خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے علاوہ خود علومِ نقلیہ کے ماہر میدانِ تدریس و تقریر کے شہسوار اور بحرِ تصنیف و تالیف کے غوّاص ہیں۔
مختلف علوم و فنون پر آپ نے خامہ فرسائی فرمائی ہے۔ چند کتب کی فہرست درج ذیل ہے:
۱۔ سُنّتِ مصطفےٰ ﷺ
۲۔ تفسیر مطالب القرآن
۳۔ فضائلِ قرآن
۴۔ عمدۃ الاصول فی حدیث الرسول
۵۔ توضیح کلمات اللہ فی تفسیر ما اھل بہ بغیر اللہ
۶۔ مسجد میں ذکر و اذکار
۷۔ فیوضاتِ غوثیہ [۱]
[۱۔ عبد الستّار نظامی، مولانا: ’’تعارف تصانیف علماء اہل سنّت‘‘ (غیر مطبوعہ)]
❤1
حضرت قاضی صاحب مدظلہ کے تلامذہ کا سلسلہ نہایت وسیع ہے، تاہم چند مشہور اور فاضل تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا گل رحمان ہزاری، راولپنڈی
۲۔ مولانا محمد یعقوب ہزاری، راولپنڈی
۳۔ مولانا محمد ایّوب کوٹلی (آزاد کشمیر)
۴۔ مولانا عنایت احمد لاہور
۵۔ مولانا حافظ محمد انور لاہور
۶۔ مالانا احمد یار صدر مدرس اشرف المدارس اوکاڑہ
۷۔ مولانا محمد حسین لالہ موسیٰ، حال مدرس اوکاڑہ(سکول)
۸۔ مولانا خادم حسین دورابی چکوال
۹۔ حافظ صغیر احمد گجراتی انگلینڈ
۱۰۔ قاری محمد یوسف کشمیری انگلینڈ
۱۱۔ صوفی محمد نجیب جہلمی انگلینڈ
۱۲۔ مولانا عبد الحمید جہلمی انگلینڈ
۱۳۔ مولانا محمد اسحاق انگلینڈ
۱۴۔ صاحبزادہ پیر علاؤ الدّین صدیقی نیاریاں شریف
روحانی اولاد کے علاوہ آپ کے دو صاحبزادے، صاحبزادہ حبیب الرحمان اور صاحبزادہ الطاف الرحمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ صاحبزادگان کو آپ کا صحیح جانشین بنائے۔ آمین!
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-qazi-ghulam-mahmood-hazarvi
۱۔ مولانا گل رحمان ہزاری، راولپنڈی
۲۔ مولانا محمد یعقوب ہزاری، راولپنڈی
۳۔ مولانا محمد ایّوب کوٹلی (آزاد کشمیر)
۴۔ مولانا عنایت احمد لاہور
۵۔ مولانا حافظ محمد انور لاہور
۶۔ مالانا احمد یار صدر مدرس اشرف المدارس اوکاڑہ
۷۔ مولانا محمد حسین لالہ موسیٰ، حال مدرس اوکاڑہ(سکول)
۸۔ مولانا خادم حسین دورابی چکوال
۹۔ حافظ صغیر احمد گجراتی انگلینڈ
۱۰۔ قاری محمد یوسف کشمیری انگلینڈ
۱۱۔ صوفی محمد نجیب جہلمی انگلینڈ
۱۲۔ مولانا عبد الحمید جہلمی انگلینڈ
۱۳۔ مولانا محمد اسحاق انگلینڈ
۱۴۔ صاحبزادہ پیر علاؤ الدّین صدیقی نیاریاں شریف
روحانی اولاد کے علاوہ آپ کے دو صاحبزادے، صاحبزادہ حبیب الرحمان اور صاحبزادہ الطاف الرحمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ صاحبزادگان کو آپ کا صحیح جانشین بنائے۔ آمین!
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-qazi-ghulam-mahmood-hazarvi
scholars.pk
Molana Ghulam Mehmood
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-09-1444 ᴴ | 14-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-09-1444 ᴴ | 15-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1