Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
✨شرعی عدالت (میلاد النبی اسپیشل)✨
(اس پیغام کو صرف فاروڈ کریں کاپی پیسٹ نہیں)
شرعی عدالت مجلس شوری کی طرف سے آپ تمام سنی بھائیوں بہنوں کو یہ ماہ مبارک یعنی آقا ﷺ کی پیدائش کا مہینہ بہت بہت مبارک ہو . اللهﷻ آپ تمام کے لئے یہ ماہ خوشیوں، رحمتوں اور برکتوں والا بنائے رکھے.
🌷 آمین یا رب العالمین وبجاہ سید المرسلین
ذیل میں عید میلاد النبی ﷺ کے تعلق سے ضروری عنوانات کی فہرست لکھی گئی ہے. آپ تمام مطالعہ فرمائیں، احباب کو مطلع کریں اورثواب دارین حاصل کریں. تا کہ آپ بدعت وشرک کا نعرہ لگانے والے خارجی وہابیوں اور دیوبندیوں کو منہ توڑ جواب دے سکیں.
⚡️ بدعت کی تعریف
⚡️ بدعت کے اقسام
⚡️ شرح حدیث: کل بدعة ضلالة
⚡️کیا ہر بدعت گمراہی ہے؟
⚡️ بدعت حسنہ کے ثبوت میں
⚡️ منع کی دلیل دیجئے! (اصول)
⚡️ نبی کریم ﷺ نے یوم موسی منایا
⚡️ میلاد النبی ﷺ اور امام عسقلانی
⚡️ جو صحابہ نے نہ کِیا بدعت ہے؟
⚡️ ہم میلاد کیسے منائیں؟
⚡️ مجلس میلاد میں حضور کا آنا؟
🌷 جزاك الله خيرا (مسلک اعلی حضرت سلامت رہے)
اس فہرست میں ان شاء اللهﷻ اضافہ کیا جاتا رہے گا. اس پیغام میں ہونے والے اضافوں سے باخبر رہنے کے لئے وقتا فوقتا یہاں کلک کریں. یہ شرعی عدالت چینل کا ایک پیغام ہے ترمیم اور اضافہ صرف اس واحد پیغام میں ہی کیا جائے گا. گروپ سے جڑنے کے لئے یہاں کلک کریں.
(اس پیغام کو صرف فاروڈ کریں کاپی پیسٹ نہیں)
شرعی عدالت مجلس شوری کی طرف سے آپ تمام سنی بھائیوں بہنوں کو یہ ماہ مبارک یعنی آقا ﷺ کی پیدائش کا مہینہ بہت بہت مبارک ہو . اللهﷻ آپ تمام کے لئے یہ ماہ خوشیوں، رحمتوں اور برکتوں والا بنائے رکھے.
🌷 آمین یا رب العالمین وبجاہ سید المرسلین
ذیل میں عید میلاد النبی ﷺ کے تعلق سے ضروری عنوانات کی فہرست لکھی گئی ہے. آپ تمام مطالعہ فرمائیں، احباب کو مطلع کریں اورثواب دارین حاصل کریں. تا کہ آپ بدعت وشرک کا نعرہ لگانے والے خارجی وہابیوں اور دیوبندیوں کو منہ توڑ جواب دے سکیں.
⚡️ بدعت کی تعریف
⚡️ بدعت کے اقسام
⚡️ شرح حدیث: کل بدعة ضلالة
⚡️کیا ہر بدعت گمراہی ہے؟
⚡️ بدعت حسنہ کے ثبوت میں
⚡️ منع کی دلیل دیجئے! (اصول)
⚡️ نبی کریم ﷺ نے یوم موسی منایا
⚡️ میلاد النبی ﷺ اور امام عسقلانی
⚡️ جو صحابہ نے نہ کِیا بدعت ہے؟
⚡️ ہم میلاد کیسے منائیں؟
⚡️ مجلس میلاد میں حضور کا آنا؟
🌷 جزاك الله خيرا (مسلک اعلی حضرت سلامت رہے)
اس فہرست میں ان شاء اللهﷻ اضافہ کیا جاتا رہے گا. اس پیغام میں ہونے والے اضافوں سے باخبر رہنے کے لئے وقتا فوقتا یہاں کلک کریں. یہ شرعی عدالت چینل کا ایک پیغام ہے ترمیم اور اضافہ صرف اس واحد پیغام میں ہی کیا جائے گا. گروپ سے جڑنے کے لئے یہاں کلک کریں.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
وعلیکم السلام و رحمة الله تعالى وبركاته
⚡ خواتین اور خضاب⚡
(سئل) عورتوں کا بالوں میں رنگ لگانا کیسا؟
سائل: حافظ محمد توحید، پٹنہ؛
⚡⚡⚡⚡⚡
(فأجاب) اس میں حرج نہیں کے عورت شریعت کے دامن کو تھام کر بالوں میں رنگ لگائے. کسی بھی مناسب رنگ سے ضرورتا بالوں کو رنگ لے علاوہ سیاہ رنگ کے. سیاہ خضاب کا استعمال مرد وعورت دونوں پر حرام ہے خواہ وہ دو غیر سیاہ رنگوں کے ملنے کے سبب سیاہ ہوگیا ہو. یعنی پہلی دفعہ بالوں میں ایک رنگ لگایا اور اس پر دوسرا رنگ پھیرا جس سے بال سیاہ ہوگئے، حرام وممنوع ہے. اگر کوئی رنگ لگانے سے کافر قوموں سے مشابہت ہوتی ہے تو احتیاطا اسے نہ لگائے. بہتر ہے وسمہ مہندی وغیرہ سے بالوں کو زرد یا سرخ رنگ رکھے.
امام اہل سنت فرماتے ہیں:
سیاہ خضاب خواہ مازو ووہلیلہ ونیل کا ہو خواہ نیل وحنا مخلوط خواہ کسی چیز کا سوا مجاہدین کے سب کو مطلقا حرام ہے۔ اور صرف مہندی کا سرخ خضاب یا اس میں نیل کی کچھ پتیاں اتنی ملا کر جس سے سرخی میں پختگی آجائے اور رنگ سیاہ نہ ہونے پائے سنت مستحبہ ہے۔
شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ الشریف اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں فرماتے ہیں: خضاب بسواد حرام ست وصحابہ وغیرہم خضاب سرخ می کردند گاہے زرد نیز اھـ ملخصا. (اشعۃ اللمعات، کتاب اللباس باب الترجل، ۳/ ۵۶۹)
سیاہ خضاب لگاناحرام ہے صحابہ اور دوسرے بزرگوں سے سرخ خضاب کا استعمال منقول ہے اور کبھی کبھار زرد رنگ کا خضاب بھی اھ ملخصا۔ (فتاوی رضویہ، ٤٨٤/٢٣)
حدیث میں ہے حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں:
الصفرة خضاب المؤمن، والحمرة خضاب المسلم، والسواد خضاب الكافر. (المستدرک، م: ٦٢٣٩؛ المعجم الکبیر، م: ١٤١١٩؛ ضعیف)
زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اسلام والوں کا اور سیاہ خضاب کافروں کا.
اسے ابن شبہ نے امیرالمومنین عمر فاروق رضی الله تعالى عنه سے موقوفا روایت کیا. (تاریخ المدینة لابن شبة، ص: ٨٥٤)
عن الحكم بن عمرو الغفاري قال دخلت أنا وأخي رافع بن عمرو على أمير المؤمنين عمر بن الخطاب وأنا مخضوب بالحناء وأخي مخضوب بالصفرة فقال لي عمر بن الخطاب هذا خضاب الإسلام وقال لأخي رافع هذا خضاب الإيمان. (مسند احمد، ٢٠٦٦٠)
حضرت حکم بن عمرو سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور میرا بھائی رافع بن عمر و امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے مہندی کا خضاب کیا ہوا تھا اور میرے بھائی نے زرد رنگ کا تو حضرت عمر نے مجھ سے فرمایا یہ اسلام کا خضاب ہے اور میرے بھائی رافع سے فرمایا کہ یہ ایمان کا خضاب ہے۔
دیلمی نے عبد الله بن ھداج سے روایت کیا کہ فرمایا نبی کریم ﷺ: خضاب الإسلام الصفرة، وخضاب الإيمان الحمرة. (کنز العمال، م: ١٧٣٢٣)
زرد خضاب اسلام والوں کا ہے اور سرخ خضاب اہل ایمان کا.
سنن ابی داؤد میں حضرت عبد الله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے ہے:
مر علی النبي صلی الله عليه وسلم رجل قد خضب بالحناء فقال ما أحسن هذا قال فمر آخر قد خضب بالحناء والکتم فقال هذا أحسن من هذا قال فمر آخر قد خضب بالصفرة فقال هذا أحسن من هذا کله. (سنن أبی داود، م: ٤٢١١؛ سنن ابن ماجه، م: ٣٦٢٧؛ معجم الکبیر، م: ١٠٩٢٢؛ ضعیف)
یعنی حضور سید عالم ﷺ کے سامنے ایک صاحب مہندی کا خضاب کئے گزرے فرمایا یہ کیا خوب ہے۔ پھر دوسرے گزرے انھوں نے مہندی اور کتم ملا کر خضاب کیا تھا فرمایا: یہ اس سے بہتر ہے، پھر تیسرے زرد خضاب کئے گزرے فرمایا: یہ ان سب سے بہتر ہے۔
اور ابن عمر رضی الله تعالى عنه سے روایت ہے.
أن النبي ﷺ رأى رجلا قد خضب بالحمرة فقال: ما أحسن هذا. ورأى رجلا قد خضب بالصفرة فقال: هذا حسن. (حلیة الاولیاء، ١٣/٥)
یعنی حضور سید عالم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو سرخ خضاب لگائے ہوئے تھا. فرمایا: یہ کیا خوب ہے. اور ایک شخص کو دیکھا زرد خضاب لگائے ہوئے فرمایا: یہ حسن ہے.
وقال المجدد: تنہا مہندی مستحب ہے اور اس میں کتم کی پتیاں ملاکر کہ ایک گھاس مشابہ برگ زیتون ہے جس کا رنگ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے اس سے بہتر اور زرد رنگ سب سے بہتر، اور سیاہ وسمے کا ہو خواہ کسی چیز کامطلقا حرام ہے۔ مگر مجاہدین کو. والله اعلم.
⚡⚡⚡⚡⚡
🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
⚡ خواتین اور خضاب⚡
(سئل) عورتوں کا بالوں میں رنگ لگانا کیسا؟
سائل: حافظ محمد توحید، پٹنہ؛
⚡⚡⚡⚡⚡
(فأجاب) اس میں حرج نہیں کے عورت شریعت کے دامن کو تھام کر بالوں میں رنگ لگائے. کسی بھی مناسب رنگ سے ضرورتا بالوں کو رنگ لے علاوہ سیاہ رنگ کے. سیاہ خضاب کا استعمال مرد وعورت دونوں پر حرام ہے خواہ وہ دو غیر سیاہ رنگوں کے ملنے کے سبب سیاہ ہوگیا ہو. یعنی پہلی دفعہ بالوں میں ایک رنگ لگایا اور اس پر دوسرا رنگ پھیرا جس سے بال سیاہ ہوگئے، حرام وممنوع ہے. اگر کوئی رنگ لگانے سے کافر قوموں سے مشابہت ہوتی ہے تو احتیاطا اسے نہ لگائے. بہتر ہے وسمہ مہندی وغیرہ سے بالوں کو زرد یا سرخ رنگ رکھے.
امام اہل سنت فرماتے ہیں:
سیاہ خضاب خواہ مازو ووہلیلہ ونیل کا ہو خواہ نیل وحنا مخلوط خواہ کسی چیز کا سوا مجاہدین کے سب کو مطلقا حرام ہے۔ اور صرف مہندی کا سرخ خضاب یا اس میں نیل کی کچھ پتیاں اتنی ملا کر جس سے سرخی میں پختگی آجائے اور رنگ سیاہ نہ ہونے پائے سنت مستحبہ ہے۔
شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ الشریف اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں فرماتے ہیں: خضاب بسواد حرام ست وصحابہ وغیرہم خضاب سرخ می کردند گاہے زرد نیز اھـ ملخصا. (اشعۃ اللمعات، کتاب اللباس باب الترجل، ۳/ ۵۶۹)
سیاہ خضاب لگاناحرام ہے صحابہ اور دوسرے بزرگوں سے سرخ خضاب کا استعمال منقول ہے اور کبھی کبھار زرد رنگ کا خضاب بھی اھ ملخصا۔ (فتاوی رضویہ، ٤٨٤/٢٣)
حدیث میں ہے حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں:
الصفرة خضاب المؤمن، والحمرة خضاب المسلم، والسواد خضاب الكافر. (المستدرک، م: ٦٢٣٩؛ المعجم الکبیر، م: ١٤١١٩؛ ضعیف)
زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اسلام والوں کا اور سیاہ خضاب کافروں کا.
اسے ابن شبہ نے امیرالمومنین عمر فاروق رضی الله تعالى عنه سے موقوفا روایت کیا. (تاریخ المدینة لابن شبة، ص: ٨٥٤)
عن الحكم بن عمرو الغفاري قال دخلت أنا وأخي رافع بن عمرو على أمير المؤمنين عمر بن الخطاب وأنا مخضوب بالحناء وأخي مخضوب بالصفرة فقال لي عمر بن الخطاب هذا خضاب الإسلام وقال لأخي رافع هذا خضاب الإيمان. (مسند احمد، ٢٠٦٦٠)
حضرت حکم بن عمرو سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور میرا بھائی رافع بن عمر و امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے مہندی کا خضاب کیا ہوا تھا اور میرے بھائی نے زرد رنگ کا تو حضرت عمر نے مجھ سے فرمایا یہ اسلام کا خضاب ہے اور میرے بھائی رافع سے فرمایا کہ یہ ایمان کا خضاب ہے۔
دیلمی نے عبد الله بن ھداج سے روایت کیا کہ فرمایا نبی کریم ﷺ: خضاب الإسلام الصفرة، وخضاب الإيمان الحمرة. (کنز العمال، م: ١٧٣٢٣)
زرد خضاب اسلام والوں کا ہے اور سرخ خضاب اہل ایمان کا.
سنن ابی داؤد میں حضرت عبد الله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے ہے:
مر علی النبي صلی الله عليه وسلم رجل قد خضب بالحناء فقال ما أحسن هذا قال فمر آخر قد خضب بالحناء والکتم فقال هذا أحسن من هذا قال فمر آخر قد خضب بالصفرة فقال هذا أحسن من هذا کله. (سنن أبی داود، م: ٤٢١١؛ سنن ابن ماجه، م: ٣٦٢٧؛ معجم الکبیر، م: ١٠٩٢٢؛ ضعیف)
یعنی حضور سید عالم ﷺ کے سامنے ایک صاحب مہندی کا خضاب کئے گزرے فرمایا یہ کیا خوب ہے۔ پھر دوسرے گزرے انھوں نے مہندی اور کتم ملا کر خضاب کیا تھا فرمایا: یہ اس سے بہتر ہے، پھر تیسرے زرد خضاب کئے گزرے فرمایا: یہ ان سب سے بہتر ہے۔
اور ابن عمر رضی الله تعالى عنه سے روایت ہے.
أن النبي ﷺ رأى رجلا قد خضب بالحمرة فقال: ما أحسن هذا. ورأى رجلا قد خضب بالصفرة فقال: هذا حسن. (حلیة الاولیاء، ١٣/٥)
یعنی حضور سید عالم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو سرخ خضاب لگائے ہوئے تھا. فرمایا: یہ کیا خوب ہے. اور ایک شخص کو دیکھا زرد خضاب لگائے ہوئے فرمایا: یہ حسن ہے.
وقال المجدد: تنہا مہندی مستحب ہے اور اس میں کتم کی پتیاں ملاکر کہ ایک گھاس مشابہ برگ زیتون ہے جس کا رنگ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے اس سے بہتر اور زرد رنگ سب سے بہتر، اور سیاہ وسمے کا ہو خواہ کسی چیز کامطلقا حرام ہے۔ مگر مجاہدین کو. والله اعلم.
⚡⚡⚡⚡⚡
🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
💥بغیرحیلہ شرعی مدارس میں زکوۃ کا حکم 💥
💫السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلے میں کہ کچھ مدارس ایسے ہیں جہاں زکوٰۃ،صدقات،فطرات،خیرات اور ایصال ثواب کی رقم بغیر حیلۂ شرعی کے استعمال کی جاتی ہے تو کیا ایسے مدارس میں زکوٰۃ،صدقات،فطرات،خیرات اور ایصال ثواب کی رقم دینا جائز ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
سائل :- محمد صغیر احمد رضوی نیپال
✨✨✨✨✨✨
الجواب-صدقات واجبہ زکوۃ,صدقہ فطر اور عشر مدارس دینیہ میں بغیر حیلہ شرعی صرف کرناجائز نہیں زکوۃ میں تملیک فقیر شرط ہے لہذا جن مدارس میں صدقات واجبہ کو بغیر حیلہ شرعی صرف کیا جاتا ہو وہاں صدقات واجبہ دینے سے ادا نہ ہوں گے اور جب تک وہ حیلہ شرعی کا پختہ وعدہ نہ کریں اس وقت تک ایسے مدارس میں صدقات واجبہ دینا ہرگز جائز نہ ہوگا اور اب تک صدقات واجبہ کی جو رقم ذمہ داران مدرسہ نے بغیر حیلہ شرعی صرف کی ہے اس کا تاوان ان پر لازم ہے ورنہ گنہ گار ہوں گے
قال اللہ تعالی "انما الصدقات للفقراء والمساکین" ہندیہ میں ہے " ھی تملیک المال من فقیر مسلم"اھ(ج۱,ص۱۷۰)
اور اب تک جو رقم بغیر حیلہ شرعی صرف کی ہے اس کا تاوان ذمہ داران مدرسہ پر لازم ہے
البتہ ان مدارس میں صدقات نافلہ دینا جائز ہے کہ نافلہ کے لئے حیلہ شرعی شرط نہیں
واللہ تعالی اعلم
✍شان محمد المصباحی القادری
۱۲نومبر/۲۰۱۸
💫السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلے میں کہ کچھ مدارس ایسے ہیں جہاں زکوٰۃ،صدقات،فطرات،خیرات اور ایصال ثواب کی رقم بغیر حیلۂ شرعی کے استعمال کی جاتی ہے تو کیا ایسے مدارس میں زکوٰۃ،صدقات،فطرات،خیرات اور ایصال ثواب کی رقم دینا جائز ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
سائل :- محمد صغیر احمد رضوی نیپال
✨✨✨✨✨✨
الجواب-صدقات واجبہ زکوۃ,صدقہ فطر اور عشر مدارس دینیہ میں بغیر حیلہ شرعی صرف کرناجائز نہیں زکوۃ میں تملیک فقیر شرط ہے لہذا جن مدارس میں صدقات واجبہ کو بغیر حیلہ شرعی صرف کیا جاتا ہو وہاں صدقات واجبہ دینے سے ادا نہ ہوں گے اور جب تک وہ حیلہ شرعی کا پختہ وعدہ نہ کریں اس وقت تک ایسے مدارس میں صدقات واجبہ دینا ہرگز جائز نہ ہوگا اور اب تک صدقات واجبہ کی جو رقم ذمہ داران مدرسہ نے بغیر حیلہ شرعی صرف کی ہے اس کا تاوان ان پر لازم ہے ورنہ گنہ گار ہوں گے
قال اللہ تعالی "انما الصدقات للفقراء والمساکین" ہندیہ میں ہے " ھی تملیک المال من فقیر مسلم"اھ(ج۱,ص۱۷۰)
اور اب تک جو رقم بغیر حیلہ شرعی صرف کی ہے اس کا تاوان ذمہ داران مدرسہ پر لازم ہے
البتہ ان مدارس میں صدقات نافلہ دینا جائز ہے کہ نافلہ کے لئے حیلہ شرعی شرط نہیں
واللہ تعالی اعلم
✍شان محمد المصباحی القادری
۱۲نومبر/۲۰۱۸
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
⚡️ بچا ہوا چندہ خود رکھ لینا⚡️
کیا فرماتے ہین علما کرام اس مسئلہ میں کہ گیارویں کے بچے ہوئے پیسے امام لے سکتا ہے یا نہیں؟
سائل: نصر الدین عزیزی
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
یہ پیسے نفلی صدقہ ہیں، جس خاص غرض کے لیے لیا گیا ہے اس کے غیر میں صرف نہیں کیا جا سکتا. اگر وہ غرض پوری ہوچکی ہو تو جس نے چندہ دیا ہے اس کو واپس کیا جائے یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں خرچ کیا جائے. اگر چندہ دہندگان موجود نہ ہو تو اس کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصے کے قدر میں معتبر ہوگی صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا، اور اگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں، وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں، غرض بے اجازت مالکان امام کا اپنے لئے خرچ کرنا جائز نہیں چاہے مفلس ہو چاہے غنی. اسی طرح فتاوی رضویہ (١٣٤/١٦) اور فتاوی امجدیہ (٣٩/٣) پر ہے.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
🌷 کتبہ: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٤/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
کیا فرماتے ہین علما کرام اس مسئلہ میں کہ گیارویں کے بچے ہوئے پیسے امام لے سکتا ہے یا نہیں؟
سائل: نصر الدین عزیزی
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
یہ پیسے نفلی صدقہ ہیں، جس خاص غرض کے لیے لیا گیا ہے اس کے غیر میں صرف نہیں کیا جا سکتا. اگر وہ غرض پوری ہوچکی ہو تو جس نے چندہ دیا ہے اس کو واپس کیا جائے یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں خرچ کیا جائے. اگر چندہ دہندگان موجود نہ ہو تو اس کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصے کے قدر میں معتبر ہوگی صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا، اور اگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں، وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں، غرض بے اجازت مالکان امام کا اپنے لئے خرچ کرنا جائز نہیں چاہے مفلس ہو چاہے غنی. اسی طرح فتاوی رضویہ (١٣٤/١٦) اور فتاوی امجدیہ (٣٩/٣) پر ہے.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
🌷 کتبہ: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٤/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
⚡ کیا ہر دیوبندی کافر ہے؟ ⚡
کیا ہر دیوبندی کافر ہے یا صرف وہ لوگ جو ان علماء کے عقائد درست مانتے ہیں جن پر اعلیحضرت نے کفر کا فتوی لگایا ہے. گاؤں کےکچھ لوگوں کومعلوم نہیں کہ انکے عقائد کیا ہیں اگر ان سے بتایا جاتا ہے تو وہ توبہ واستغفار کرتےہیں اور کہتے ہیں جو ایسے عقائد رکھے وہ مسلمان نہیں تو ایسے لوگوں سےکاروبار کرنا انکے پاس اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا میل جول رکھنا کیسا ہے؟
سائل: صلاح الدین قادری
⚡⚡⚡⚡⚡
الجواب: چار دیوبندی اکابرین (تھانوی، نانوتوی، گنگوہی، انبیٹھوی) جن پر امام اہل سنت اور متعدد علمائے حرمین شریفین نے کفر کا فتوی صادر فرمایا تھا، کافر ہیں. جو ان کی کفریات پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان یا کم سے کم بہتر جانے یا ان کے کفر یا عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے. مثلا زید ان دیوبندی اکابرین کو مسلمان جانے کافر ہے. عمرو اگر زید کے اس کفر پر مطلع ہو کر اسے مسلمان یا اچھا جانے، کافر ہے. اور جو عمرو کے کفر پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے خود کافر ہے. یہ دیوبندی کفر کا سلسلہ ہے. اگر کوئی نام کا دیوبندی ان تمام سے بَری ہو اور ضروریات دین کا انکار نہ کرے تو وہ کافر نہیں ہے اور اس طرح کے اکثر دیوبندی ہیں جو اپنے اکابرین کا نام بھی نہیں جانتے کفریات پر مطلع ہونا ایک پرے بات ہے. سوال میں جس طرح کے لوگوں کا ذکر کیا ہے ان سے بیع درست ہے، اور ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھا ان کے عقائد کی پختگی کے لئے یا بغیر وجہ، جائز ہے لیکن جو ان گستاخیوں پر سکوت اختیار کرتے ہیں یا اتحادی باتیں گڑھناشروع کر دیتے ہیں ان سے بچیں، دوری اختیار کریں، دوری اختیار کریں کہ دیوبندی دل ودماغ فریبی ہوتے ہیں دین ودنیا دونوں کے لیے.
🌷 کتبہ: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٣/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
کیا ہر دیوبندی کافر ہے یا صرف وہ لوگ جو ان علماء کے عقائد درست مانتے ہیں جن پر اعلیحضرت نے کفر کا فتوی لگایا ہے. گاؤں کےکچھ لوگوں کومعلوم نہیں کہ انکے عقائد کیا ہیں اگر ان سے بتایا جاتا ہے تو وہ توبہ واستغفار کرتےہیں اور کہتے ہیں جو ایسے عقائد رکھے وہ مسلمان نہیں تو ایسے لوگوں سےکاروبار کرنا انکے پاس اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا میل جول رکھنا کیسا ہے؟
سائل: صلاح الدین قادری
⚡⚡⚡⚡⚡
الجواب: چار دیوبندی اکابرین (تھانوی، نانوتوی، گنگوہی، انبیٹھوی) جن پر امام اہل سنت اور متعدد علمائے حرمین شریفین نے کفر کا فتوی صادر فرمایا تھا، کافر ہیں. جو ان کی کفریات پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان یا کم سے کم بہتر جانے یا ان کے کفر یا عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے. مثلا زید ان دیوبندی اکابرین کو مسلمان جانے کافر ہے. عمرو اگر زید کے اس کفر پر مطلع ہو کر اسے مسلمان یا اچھا جانے، کافر ہے. اور جو عمرو کے کفر پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے خود کافر ہے. یہ دیوبندی کفر کا سلسلہ ہے. اگر کوئی نام کا دیوبندی ان تمام سے بَری ہو اور ضروریات دین کا انکار نہ کرے تو وہ کافر نہیں ہے اور اس طرح کے اکثر دیوبندی ہیں جو اپنے اکابرین کا نام بھی نہیں جانتے کفریات پر مطلع ہونا ایک پرے بات ہے. سوال میں جس طرح کے لوگوں کا ذکر کیا ہے ان سے بیع درست ہے، اور ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھا ان کے عقائد کی پختگی کے لئے یا بغیر وجہ، جائز ہے لیکن جو ان گستاخیوں پر سکوت اختیار کرتے ہیں یا اتحادی باتیں گڑھناشروع کر دیتے ہیں ان سے بچیں، دوری اختیار کریں، دوری اختیار کریں کہ دیوبندی دل ودماغ فریبی ہوتے ہیں دین ودنیا دونوں کے لیے.
🌷 کتبہ: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٣/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
⚡دیوبندی مدرسہ میں پڑھانا⚡
(سئل) زید جو سنی صحیح العقیدہ ہے اور اسکا قول وعمل مسلک اعلیحضرت کےمطابق ہے پر وہ دیوبندی مدرسہ میں پڑھتا ہے حافظ بھی ہے اسکا کہنا ہے کہ چند سال بعد سنی اداروں میں عالم فاضل کا مکمل کورس کرونگا پڑھونگا. تو زید کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ زید پر فتویء کفر لگانا اور یہ کہنا کہ زید کا پورا خاندان دیوبندی ہے کیسا ہے؟ اور فتوی لگانے والے پر کیا حکم شریعت عائد ہوگا؟ کیا تمام دیوبندی کافر ہیں؟
سائل: صلاح الدین قادری.
⚡⚡⚡⚡⚡
الجواب: دیوبندیوں کے مدرسہ میں پڑھانا جائز نہیں اور یہ اعلانیہ گناہ کرنا ہے لہذا جب تک بد مذہبوں کو تعلیم دے یا کم سے کم ان کے ساتھ اٹھے بیٹھے اس کی اقتداء کسی چیز میں بھی جائز نہیں. زید (یا اس کے خاندان افراد میں سے کسی) کی ایسی بات پر جس سے ظاہر ہو کہ وہ ان دیوبند اکابرین کو اچھا سمجھتا ہے جن پر علمائے حرمین شریفین نے کفر کا فتوی لگایا تھا یا اگر ان کے کفر میں شک کرتا ہے یا ان کے کفر میں شک کرنے والوں کے کفر میں شک کرتا ہے، کفر کا فتاوی لگانا صحیح ہے. ورنہ کافر کہنے والے پر فتوی پلٹ آئے گا. زید کے خاندان کو طنزا یا گالی کے طور پر کسی نے دیوبندی کہا جبکہ وہ صحیح العقیدہ سنی تھے تو اس نے بڑا برا کیا لیکن اس سے وہ خود کافر نہیں ہوگا. دیوبندیوں میں عام ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی گمراہیوں کے جال میں پھنسانے کے لئے سنی بننے کا ڈھونگ تک رچا لیتے ہیں یا اگر گمراہ نہ کر سکیں تو اوپری طور پر اپنے اکابرین کو بھی برا بھلا کہہ کر دلوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں لہذا ہر طرح سے احتیاط لازم اور اہل محلہ کے صحیح العقیدہ لوگوں کو ان کی کفریات پر مطلع کرنا واجب کے کہیں وہ انہیں بھی گمراہ نہ کر دیں.
⚡⚡⚡⚡⚡
🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٤/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
(سئل) زید جو سنی صحیح العقیدہ ہے اور اسکا قول وعمل مسلک اعلیحضرت کےمطابق ہے پر وہ دیوبندی مدرسہ میں پڑھتا ہے حافظ بھی ہے اسکا کہنا ہے کہ چند سال بعد سنی اداروں میں عالم فاضل کا مکمل کورس کرونگا پڑھونگا. تو زید کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ زید پر فتویء کفر لگانا اور یہ کہنا کہ زید کا پورا خاندان دیوبندی ہے کیسا ہے؟ اور فتوی لگانے والے پر کیا حکم شریعت عائد ہوگا؟ کیا تمام دیوبندی کافر ہیں؟
سائل: صلاح الدین قادری.
⚡⚡⚡⚡⚡
الجواب: دیوبندیوں کے مدرسہ میں پڑھانا جائز نہیں اور یہ اعلانیہ گناہ کرنا ہے لہذا جب تک بد مذہبوں کو تعلیم دے یا کم سے کم ان کے ساتھ اٹھے بیٹھے اس کی اقتداء کسی چیز میں بھی جائز نہیں. زید (یا اس کے خاندان افراد میں سے کسی) کی ایسی بات پر جس سے ظاہر ہو کہ وہ ان دیوبند اکابرین کو اچھا سمجھتا ہے جن پر علمائے حرمین شریفین نے کفر کا فتوی لگایا تھا یا اگر ان کے کفر میں شک کرتا ہے یا ان کے کفر میں شک کرنے والوں کے کفر میں شک کرتا ہے، کفر کا فتاوی لگانا صحیح ہے. ورنہ کافر کہنے والے پر فتوی پلٹ آئے گا. زید کے خاندان کو طنزا یا گالی کے طور پر کسی نے دیوبندی کہا جبکہ وہ صحیح العقیدہ سنی تھے تو اس نے بڑا برا کیا لیکن اس سے وہ خود کافر نہیں ہوگا. دیوبندیوں میں عام ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی گمراہیوں کے جال میں پھنسانے کے لئے سنی بننے کا ڈھونگ تک رچا لیتے ہیں یا اگر گمراہ نہ کر سکیں تو اوپری طور پر اپنے اکابرین کو بھی برا بھلا کہہ کر دلوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں لہذا ہر طرح سے احتیاط لازم اور اہل محلہ کے صحیح العقیدہ لوگوں کو ان کی کفریات پر مطلع کرنا واجب کے کہیں وہ انہیں بھی گمراہ نہ کر دیں.
⚡⚡⚡⚡⚡
🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٤/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*قصہ مذکر موئنث کا ۔۔۔۔*
1۔ بھاری بھرکم اور بڑے سائز کی چیزوں کو اُردو میں عام طور پر مذکر کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے جبکہ چھوٹی، نرم و نازک اور نفیس چیزیں عموماً موئنث گردانی جاتی ہیں۔
مثلاً موٹا اور مضبوط ہو تو رسّا (مذکر) اور پتلی اور نسبتاً کمزور ہو تو رسّی (موئنث)، اسی طرح بڑا اور وزنی ہو تو گولا (مذکر) لیکن چھوٹی اور ہلکی پھُلکی ہو تو گولی (موئنث)۔ یہی صورتِ حال َپگّڑ اور پگڑی، ٹوپ اور ٹوپی، گھڑیال اور گھڑی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
لیکن یہ کوئی مستند اصول نہیں ہے کیونکہ اسکے بالکل برعکس کوٹھا محض ایک کمرے کا تاثر دیتا ہے جبکہ کوٹھی ایک وسیع و عریض عمارت ہوتی ہے جس میں بہت سے کمرے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ’توا‘ ایک چھوٹے سائز کی چیز ہے جس پر ایک وقت میں صرف ایک روٹی پکتی ہے لیکن ’توی‘ ایک بہت بڑا توا ہوتا ہے جس پر لنگر کے لئے بہت سی روٹیاں بیک وقت پکائی جا سکتی ہیں۔
پھر یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ ’موتی‘ چھوٹی ’ی‘ پر ختم ہونے کے باوجود ایک مذکر لفظ ہے اور بہت بڑے موتی کے لئے ہمارے پاس ’موتا‘ جیسا کوئی لفظ نہیں ہے۔
2۔ اُردو میں استعمال ہونے والے ایسے دیسی الفاظ جِن کے آخر میں الف یا گول ’ہ‘ ہو عموماً مذکر ہوتے ہیں مثلاً رسّا، گھڑی، جوتا، مٹکا، نِوالہ، حُقّہ، چولہا، ڈِبّا وغیرہ لیکن وہ دیسی الفاظ جِن کے آخر میں علامتِ تصغیر کے طور پر الف لگایا گیا ہو، موئنث ہوتے ہیں مثلاً ڈِبیّا، چُوہیا، پُلیا، پُڑیا وغیرہ۔
3۔ سنسکرت سے آنے والے کچھ الفاظ جو اپنی ہندی صورت میں ہمارے یہاں مستعمل ہیں اُن میں آخری الف یقیناً علامتِ ثانیت ہوتی ہے چنانچہ یہ الفاظ اُردو میں موئنث ہی بولے جائیں گے مثلاً مالا، گنگا، جمنا، پُروا، پچھوا، سبھا، جٹا، پوجا وغیرہ۔
4۔ عربی کہ وہ سہ حرفی الفاظ جِن کے آخر میں الف ہو ہمارے یہاں موئنث بولے جائیں گے مثلاً دعا، ادا، بقا، فنا، بلا، وفا، قضا، صدا، دوا، قبا، سزا، جزا یہ سب موئنث ہیں البتہ چند الفاظ اس سے مُستشنیٰ ہیں مثلاً زِنا، عصا، طِلا وغیرہ۔
5۔ ہندی سے آنے والے الفاظ جِن کے آخر میں چھوٹی 'ی' ہوتی ہے انھیں ہمارے یہاں بطور موئنث قبول کیا جاتاہے مثلاً روٹی، بوٹی، نالی، جالی، گالی، تھالی، چکّی، ڈولی، مُولی، سُولی، کٹوری، موری وغیرہ لیکن پانی، دہی، گھی، جی (دِل) اور ہاتھی وغیرہ چھوٹی 'ی' پر ختم ہونے کے باوجود مذکر ہیں۔
6۔ اللہ اور اسکے متبادِل نام سب مذکر ہیں مثلاً خُدا، مولا وغیرہ۔
7۔ صحائفِ آسمانی موئنث ہیں مثلاً انجیل، توریت، زبور وغیرہ مگر قرآن مذکر ہے۔ ہندوؤں کی مقدس کتابیں گیتا اور رامائن بھی موئنث ہیں۔
8۔ شراب موئنث ہے اور دیگر مُنشّی اشیاء بھی مثلاً بھنگ، افیون، چرس، کوکین وغیرہ بھی موئنث ہے۔ شراب کی تمام ولائتی اقسام موئنث ہیں مثلاً وہسکی، جِن، واڈ کا، شمپین، شیری، مارٹینی، بیئر البتہ شراب کی ایک قسم مذکر ہے: ٹھّرا!۔۔۔
لیکن ُرکئے، فارسی کا ’بادہ‘ بھی تو مذکر ہے! سگریٹ اور بیڑی اگر بڑے سائز کی بھی ہو تو موئنث ہی کہلائے گی لیکن سگار ہر صورت میں مذکر ہے، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔
9۔ ستارہ چونکہ مذکر ہے اس لئے اکثر ستاروں کے نام مذکر ہیں لیکن زہرہ، ناہید اور مُشتری موئنث شمار ہوتے ہیں۔
10۔ کالا، پیلا، نیلا، مٹیالا وغیرہ سب رنگ بُنیادی طور پر تو مذکر ہیں لیکن چونکہ صِفت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اس لئے مذکر اسم کے ساتھ مذکر اور موئنث اسم کے ساتھ موئنث ہو جاتے ہیں۔ مثلاً کالا گولا، نیلی چھتری، ہرا پان، پیلی پتّی، مٹیالا بادل، روپہلی دھوپ وغیرہ۔
11۔ زبان اور بولی موئنث ہیں اور تمام زبانوں کے نام بھی موئنث ہیں مثلاً فارسی، عربی، بلوچی، سندھی، یونانی، عبرانی وغیرہ۔ تاہم اِن کے آخر میں جو چھوٹی ’ی‘ ہے وہ علامتِ تانیث نہیں بلکہ علاقے یا قوم کی نسبت کو ظاہر کرتی ہے اور جِن زبانوں کے نام چھوٹی 'ی' پر ختم نہیں ہوتے مثلاً پشتو، سنسکرت اُردو، ہندکو، فرنچ، جرمن، ڈچ، وہ سب بھی موئنث ہی شُمار ہوتی ہیں۔
لفظ اُردو اپنے قدیم معانی میں (لشکرگاہ، فوجی پڑاؤ، شاہی دربار) مذکر تھا لیکن اب زبان کے مفہوم میں موئنث ہے۔
12۔ آواز کی نقل میں بنے ہوئے الفاظ سب موئنث ہیں مثلاً چھم چھم، رِم جھِم، سائیں سائیں، ٹِپ ٹِپ، سنسناہٹ، گڑ گڑاہٹ، دھم دھم وغیرہ۔
13۔ سال یا سن اُردو میں ہمیشہ مذکر استعمال ہوتا ہے مثلاً 1965 ان کی زندگی میں بڑا اہم تھا۔
تمام اسلامی، دیسی اور انگریزی مہینوں کے نام مذکر ہوتے ہیں جیسے نومبر گزر گیا، محرم آنے والا ہے۔ البتہ کچھ لوگ جنوری، فروری، مئی اور جولائی کو (آخر میں چھوٹی ’ی‘ ہونے کی وجہ سے) موئنث کے طور پر لیتے ہیں مثلاً جنوری گزر گئی فروری آگئی ۔
جمعرات کے سوا ہفتے کے تمام دِن مذکر ہیں۔ وقت کی تقسیم کے لئے مقرّر تمام اِکائیاں مذکر ہیں یعنی گھنٹہ، منٹ، سکینڈ، لمحہ، لحظہ، دقیقہ وغیرہ سب مذکر ہیں۔
14۔ چاندی کے سوا تمام دھاتیں اور قیمتی پتھر مذکر ہوتے ہیں مثلاً سونا، لوہا، تانبا، پیتل، ٹِین، جَست او
1۔ بھاری بھرکم اور بڑے سائز کی چیزوں کو اُردو میں عام طور پر مذکر کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے جبکہ چھوٹی، نرم و نازک اور نفیس چیزیں عموماً موئنث گردانی جاتی ہیں۔
مثلاً موٹا اور مضبوط ہو تو رسّا (مذکر) اور پتلی اور نسبتاً کمزور ہو تو رسّی (موئنث)، اسی طرح بڑا اور وزنی ہو تو گولا (مذکر) لیکن چھوٹی اور ہلکی پھُلکی ہو تو گولی (موئنث)۔ یہی صورتِ حال َپگّڑ اور پگڑی، ٹوپ اور ٹوپی، گھڑیال اور گھڑی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
لیکن یہ کوئی مستند اصول نہیں ہے کیونکہ اسکے بالکل برعکس کوٹھا محض ایک کمرے کا تاثر دیتا ہے جبکہ کوٹھی ایک وسیع و عریض عمارت ہوتی ہے جس میں بہت سے کمرے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ’توا‘ ایک چھوٹے سائز کی چیز ہے جس پر ایک وقت میں صرف ایک روٹی پکتی ہے لیکن ’توی‘ ایک بہت بڑا توا ہوتا ہے جس پر لنگر کے لئے بہت سی روٹیاں بیک وقت پکائی جا سکتی ہیں۔
پھر یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ ’موتی‘ چھوٹی ’ی‘ پر ختم ہونے کے باوجود ایک مذکر لفظ ہے اور بہت بڑے موتی کے لئے ہمارے پاس ’موتا‘ جیسا کوئی لفظ نہیں ہے۔
2۔ اُردو میں استعمال ہونے والے ایسے دیسی الفاظ جِن کے آخر میں الف یا گول ’ہ‘ ہو عموماً مذکر ہوتے ہیں مثلاً رسّا، گھڑی، جوتا، مٹکا، نِوالہ، حُقّہ، چولہا، ڈِبّا وغیرہ لیکن وہ دیسی الفاظ جِن کے آخر میں علامتِ تصغیر کے طور پر الف لگایا گیا ہو، موئنث ہوتے ہیں مثلاً ڈِبیّا، چُوہیا، پُلیا، پُڑیا وغیرہ۔
3۔ سنسکرت سے آنے والے کچھ الفاظ جو اپنی ہندی صورت میں ہمارے یہاں مستعمل ہیں اُن میں آخری الف یقیناً علامتِ ثانیت ہوتی ہے چنانچہ یہ الفاظ اُردو میں موئنث ہی بولے جائیں گے مثلاً مالا، گنگا، جمنا، پُروا، پچھوا، سبھا، جٹا، پوجا وغیرہ۔
4۔ عربی کہ وہ سہ حرفی الفاظ جِن کے آخر میں الف ہو ہمارے یہاں موئنث بولے جائیں گے مثلاً دعا، ادا، بقا، فنا، بلا، وفا، قضا، صدا، دوا، قبا، سزا، جزا یہ سب موئنث ہیں البتہ چند الفاظ اس سے مُستشنیٰ ہیں مثلاً زِنا، عصا، طِلا وغیرہ۔
5۔ ہندی سے آنے والے الفاظ جِن کے آخر میں چھوٹی 'ی' ہوتی ہے انھیں ہمارے یہاں بطور موئنث قبول کیا جاتاہے مثلاً روٹی، بوٹی، نالی، جالی، گالی، تھالی، چکّی، ڈولی، مُولی، سُولی، کٹوری، موری وغیرہ لیکن پانی، دہی، گھی، جی (دِل) اور ہاتھی وغیرہ چھوٹی 'ی' پر ختم ہونے کے باوجود مذکر ہیں۔
6۔ اللہ اور اسکے متبادِل نام سب مذکر ہیں مثلاً خُدا، مولا وغیرہ۔
7۔ صحائفِ آسمانی موئنث ہیں مثلاً انجیل، توریت، زبور وغیرہ مگر قرآن مذکر ہے۔ ہندوؤں کی مقدس کتابیں گیتا اور رامائن بھی موئنث ہیں۔
8۔ شراب موئنث ہے اور دیگر مُنشّی اشیاء بھی مثلاً بھنگ، افیون، چرس، کوکین وغیرہ بھی موئنث ہے۔ شراب کی تمام ولائتی اقسام موئنث ہیں مثلاً وہسکی، جِن، واڈ کا، شمپین، شیری، مارٹینی، بیئر البتہ شراب کی ایک قسم مذکر ہے: ٹھّرا!۔۔۔
لیکن ُرکئے، فارسی کا ’بادہ‘ بھی تو مذکر ہے! سگریٹ اور بیڑی اگر بڑے سائز کی بھی ہو تو موئنث ہی کہلائے گی لیکن سگار ہر صورت میں مذکر ہے، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔
9۔ ستارہ چونکہ مذکر ہے اس لئے اکثر ستاروں کے نام مذکر ہیں لیکن زہرہ، ناہید اور مُشتری موئنث شمار ہوتے ہیں۔
10۔ کالا، پیلا، نیلا، مٹیالا وغیرہ سب رنگ بُنیادی طور پر تو مذکر ہیں لیکن چونکہ صِفت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اس لئے مذکر اسم کے ساتھ مذکر اور موئنث اسم کے ساتھ موئنث ہو جاتے ہیں۔ مثلاً کالا گولا، نیلی چھتری، ہرا پان، پیلی پتّی، مٹیالا بادل، روپہلی دھوپ وغیرہ۔
11۔ زبان اور بولی موئنث ہیں اور تمام زبانوں کے نام بھی موئنث ہیں مثلاً فارسی، عربی، بلوچی، سندھی، یونانی، عبرانی وغیرہ۔ تاہم اِن کے آخر میں جو چھوٹی ’ی‘ ہے وہ علامتِ تانیث نہیں بلکہ علاقے یا قوم کی نسبت کو ظاہر کرتی ہے اور جِن زبانوں کے نام چھوٹی 'ی' پر ختم نہیں ہوتے مثلاً پشتو، سنسکرت اُردو، ہندکو، فرنچ، جرمن، ڈچ، وہ سب بھی موئنث ہی شُمار ہوتی ہیں۔
لفظ اُردو اپنے قدیم معانی میں (لشکرگاہ، فوجی پڑاؤ، شاہی دربار) مذکر تھا لیکن اب زبان کے مفہوم میں موئنث ہے۔
12۔ آواز کی نقل میں بنے ہوئے الفاظ سب موئنث ہیں مثلاً چھم چھم، رِم جھِم، سائیں سائیں، ٹِپ ٹِپ، سنسناہٹ، گڑ گڑاہٹ، دھم دھم وغیرہ۔
13۔ سال یا سن اُردو میں ہمیشہ مذکر استعمال ہوتا ہے مثلاً 1965 ان کی زندگی میں بڑا اہم تھا۔
تمام اسلامی، دیسی اور انگریزی مہینوں کے نام مذکر ہوتے ہیں جیسے نومبر گزر گیا، محرم آنے والا ہے۔ البتہ کچھ لوگ جنوری، فروری، مئی اور جولائی کو (آخر میں چھوٹی ’ی‘ ہونے کی وجہ سے) موئنث کے طور پر لیتے ہیں مثلاً جنوری گزر گئی فروری آگئی ۔
جمعرات کے سوا ہفتے کے تمام دِن مذکر ہیں۔ وقت کی تقسیم کے لئے مقرّر تمام اِکائیاں مذکر ہیں یعنی گھنٹہ، منٹ، سکینڈ، لمحہ، لحظہ، دقیقہ وغیرہ سب مذکر ہیں۔
14۔ چاندی کے سوا تمام دھاتیں اور قیمتی پتھر مذکر ہوتے ہیں مثلاً سونا، لوہا، تانبا، پیتل، ٹِین، جَست او
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
ر ہیرا، جوہر، لعل، زمرد، یاقوت، نیلم پکھراج وغیرہ سب مذکر ہیں۔
15۔ سب پہاڑوں کے نام مذکر ہوتے ہیں البتہ دریاؤں کے مذکر اور موئنث دونوں ہوتے ہیں۔ راوی، ستلج، چناب، جہلم، سندھ مذکر ہیں لیکن گنگا، جمنا وغیرہ موئنث ہیں۔
اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اُردو میں دریا بذاتِ خود مذکر ہے لیکن ہندی میں ندی موئنث ہے چنانچہ اُردو کے تمام مذکر دریا ہندی میں جا کر موئنث ہو جاتے ہیں (راوی ندی لاہور کے پاس بہتی ہے)
16۔ 'ت' پر ختم ہونے والے عربی اور فارسی کے اسماء(جبکہ ت سے پہلے والے حرف پر زبر ہو) موئنث بولے جاتے ہیں مثلاً شوکت، حشمت، رحمت، زحمت، حُرمت، حیرت، دولت، ثروت، صولت، عصمت، خدمت وغیرہ اور انھی کے نمونے پر ہندی سے آنے والے اسماء بھی موئنث بن گئے، مثلاً چلت پھرت، بچت، ُجگت، چاہت، چپت (تھپڑ) رنگت، سنگت، کہاوت، کھنڈت، کھپت، لاگت وغیرہ سب موئنث ہیں لیکن ’ شربت‘ مذکر ہے۔
اُردو میں تذکیرو ثانیت کے مسئلے کو گزشتہ ڈیڑھ سو سال کے دوران شعر و شاعری کے باعث بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ انیسویں صدی کے وسط سے بیسویں صدی کے آغاز تک مذکر موئنث کے جھگڑے پر سینکڑوں رسالے کتابچے اور مقالے لکھے گئے۔
اِن مضمون نگاروں کا بُنیادی مقصد غزل میں الفاظ کی درست تذکیرو ثانیت کو یقینی بنانا تھا۔ دہلی سکول اور لکھنؤ سکول کے ماہرینِ عُروض میں اس موضوع پر ساٹھ ستر برس تک گرما گرم بحثیں جاری رہیں اور مذکر موئنث کے مسئلے پر شعراء میں کئی ذیلی مکاتبِ فکر بھی پیدا ہو گئے۔
چونکہ غیر جاندار چیزوں کی جِنس کوئی فطری امر نہیں ہے بلکہ ہماری خود ساختہ چیز ہےاس لئے حتمی طور پر یہ مسئلہ ابھی حل نہیں ہو سکا اور شاید مستقبل میں بھی حل نہیں ہو سکے گا۔
*منقول۔۔۔*
15۔ سب پہاڑوں کے نام مذکر ہوتے ہیں البتہ دریاؤں کے مذکر اور موئنث دونوں ہوتے ہیں۔ راوی، ستلج، چناب، جہلم، سندھ مذکر ہیں لیکن گنگا، جمنا وغیرہ موئنث ہیں۔
اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اُردو میں دریا بذاتِ خود مذکر ہے لیکن ہندی میں ندی موئنث ہے چنانچہ اُردو کے تمام مذکر دریا ہندی میں جا کر موئنث ہو جاتے ہیں (راوی ندی لاہور کے پاس بہتی ہے)
16۔ 'ت' پر ختم ہونے والے عربی اور فارسی کے اسماء(جبکہ ت سے پہلے والے حرف پر زبر ہو) موئنث بولے جاتے ہیں مثلاً شوکت، حشمت، رحمت، زحمت، حُرمت، حیرت، دولت، ثروت، صولت، عصمت، خدمت وغیرہ اور انھی کے نمونے پر ہندی سے آنے والے اسماء بھی موئنث بن گئے، مثلاً چلت پھرت، بچت، ُجگت، چاہت، چپت (تھپڑ) رنگت، سنگت، کہاوت، کھنڈت، کھپت، لاگت وغیرہ سب موئنث ہیں لیکن ’ شربت‘ مذکر ہے۔
اُردو میں تذکیرو ثانیت کے مسئلے کو گزشتہ ڈیڑھ سو سال کے دوران شعر و شاعری کے باعث بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ انیسویں صدی کے وسط سے بیسویں صدی کے آغاز تک مذکر موئنث کے جھگڑے پر سینکڑوں رسالے کتابچے اور مقالے لکھے گئے۔
اِن مضمون نگاروں کا بُنیادی مقصد غزل میں الفاظ کی درست تذکیرو ثانیت کو یقینی بنانا تھا۔ دہلی سکول اور لکھنؤ سکول کے ماہرینِ عُروض میں اس موضوع پر ساٹھ ستر برس تک گرما گرم بحثیں جاری رہیں اور مذکر موئنث کے مسئلے پر شعراء میں کئی ذیلی مکاتبِ فکر بھی پیدا ہو گئے۔
چونکہ غیر جاندار چیزوں کی جِنس کوئی فطری امر نہیں ہے بلکہ ہماری خود ساختہ چیز ہےاس لئے حتمی طور پر یہ مسئلہ ابھی حل نہیں ہو سکا اور شاید مستقبل میں بھی حل نہیں ہو سکے گا۔
*منقول۔۔۔*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بے وضو اذان پڑھنے کا مسئلہ
غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کرکٹ میچ کھیلنا کیسا ہے؟
فتاویٰ بحرالعلوم جِـ⁵ صَـ⁵⁷⁸
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سوال:
کرکٹ جو آج کل ہند و پاک میں رائج ہے، ❶ اس کا کھیلنا اور دیکھنا کیسا ہے؟ ❷ نیز ان کی اقتدا میں نماز درست ہے یا نہیں؟ ❸ اور ان کا امامت کرنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب:
کھیل کی غرض سے جو افعال کئے جائیں شریعت میں حرام و ناجائز ہیں ـ حدیث شریف میں ہے: کل لھو المسلم حرام الامن الثلث ـ بِالخصوص آج کل کا کرکٹ کا کھیل جو بے شمار برائیوں کا ذریعہ ہے، اس کھیل کے عادیوں کے پیچھے نماز ضرور مکروہ ہے، چاہے کھیلنے والے ہوں یا دیکھنے والے ہوں ـ
https://t.me/islaamic_Knowledge/4901
فتاوٰی بحر العلوم، جِ⁵ ص⁵⁷⁸تا⁵⁷⁹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ بحرالعلوم جِـ⁵ صَـ⁵⁷⁸
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سوال:
کرکٹ جو آج کل ہند و پاک میں رائج ہے، ❶ اس کا کھیلنا اور دیکھنا کیسا ہے؟ ❷ نیز ان کی اقتدا میں نماز درست ہے یا نہیں؟ ❸ اور ان کا امامت کرنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب:
کھیل کی غرض سے جو افعال کئے جائیں شریعت میں حرام و ناجائز ہیں ـ حدیث شریف میں ہے: کل لھو المسلم حرام الامن الثلث ـ بِالخصوص آج کل کا کرکٹ کا کھیل جو بے شمار برائیوں کا ذریعہ ہے، اس کھیل کے عادیوں کے پیچھے نماز ضرور مکروہ ہے، چاہے کھیلنے والے ہوں یا دیکھنے والے ہوں ـ
https://t.me/islaamic_Knowledge/4901
فتاوٰی بحر العلوم، جِ⁵ ص⁵⁷⁸تا⁵⁷⁹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬