🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مبلغ اسلام حضرت علامہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی

نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی۔لقب: فخر العلماء،مبلغ اسلام،شیخ العرب والعجم،مجاہد جنگ آزادی۔والد کااسم گرامی: مولانا خلیل الرحمن﷫۔سلسلہ نسب اکتیس واسطوں سے حضرت عثمان بن عفان ﷫ سے ملتاہے۔(مہر منیر:398)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت جمادی الاولیٰ/1233ھ،مطابق مارچ/1818ء کو’’محلہ دربار کلاں ‘‘کیرانہ ضلع مظفر نگراترپردیش (انڈیا) میں ہوئی۔(ایضا:310/مبلغ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی:2)

تحصیلِ علم:
بارہ برس کی عمر میں قرآن مجید ناظرہ مکمل کیا،اور فارسی وعربی کی ابتدائی کتب پڑھیں،پھر تحصیل علم کےشوق میں دہلی گئے،وہاں زیادہ تر حضرت مولانا محمد حیات دہلوی(خلیفہ حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی﷫) سے پڑھا،ان کے علاوہ حضرت مولانا عبدالرحمن چشتی،حضرت مولانا احمد علی مظفر نگری،حضرت مفتی سعد اللہ مرادآبادی( مرید حضرت آل احمد اچھے میاں﷫)حضرت مولانا امام بخش اصبہانی سے درس نظامی کی تکمیل کی،اور دورۂ حدیث حضرت شاہ عبدالغنی نقشبندی سے کیا۔حکیم فیض محمد سے طب اور مصنف لوگاثم سے ریاضی پڑھی۔(علیہم الرحمۃ)

بیعت و خلافت:
غوث الاسلام،فاتحِ قادیانیت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ﷫سے سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں مکۃ المکرمہ میں طالب ہوئے۔(مہرِ منیر:120/مہر انور:333)

سیرت وخصائص:
فاتحِ عیسائیت،حامیِ اہل سنت،دافعِ اہل بدعت،قاطعِ وہابیت ودیوبندیت،مبلغ اسلام،شیخ العرب والعجم،جامع شریعت وطریقت،فخرالعلماء،سندالاصفیاء،محدث ِحرم،محسنِ اہل حرم،مجاہدِجنگ آزادی حضرت علامہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫۔آپ﷫گذشتہ صدی کی اہل اسلام کی عظیم شخصیات میں سے ایک ہیں۔آپ ﷫نےساری زندگی فروغ اسلام ،اشاعتِ اسلام،اور ترقی اسلام میں گزاری۔اس وقت اہل اسلام انتہائی کرب وتکلیف کی زندگی گزاررہے تھے۔حکومت پہلے چھن گئی تھی،اورایمان پر بھی فرنگیوں نے ڈاکے ڈالنا شروع کردیئے تھے۔انگریز نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کےلئےملک کےطول وعرض میں مشن اسکولز،اور مشن ہسپتال،اور مشن فنڈز قائم کیے۔پادریوں کی جماعتیں اہل اسلام کے خلاف سرگرم ہو گئیں، بازاروں، شاہراہوں، محلوں میں اسلام کےخلاف زہر اگلتے، دل آزار لٹریچر تقسیم کرتے پھرتے ۔ پادری فنڈر شاہی مسجد دہلی کی سیڑھیوں پر کھڑا ہوکر علماء اسلام کو چیلنج کرتا کہ ’’مناظرہ کرکے مجھے مسلمان بنالو،یا خود عیسائی ہوجاؤ‘‘۔پادری فنڈر عربی فارسی اور علوم اسلامیہ میں باظابطہ مہارت رکھتا تھا،اورہندوستانی مسلمانوں کو عیسائیت سے دور کاواسطہ بھی نہیں تھا۔علماء بھی اس مذہب سے ناواقف تھے،اور انہون نے اس طرف کبھی توجہ نہیں کی تھی۔پادری مذکور نےجگہ جگہ علماء سے گفتگو کی لیکن اسےمطمئن نہ کرسکے، اور تسلی بخش جواب نہ دےسکے،جس سے عوام کےایمان کا خطرہ پیداہونے لگاتھا۔البتہ چند محققین تھےان میں حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫بھی تھے۔آپ نے عیسائیت کے رد میں ایک کتاب’’ازالۃ الاوہام‘‘ تالیف کی۔اس کتاب کی تصنیف پر خاتم النبیین، سید المرسلین ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔تاہم پادریوں کی یلغار ہندوستان کےقریہ قریہ اور بستی بستی تک پہنچ چکی تھی۔ (مہر انور:310)

فنڈر پادری سے مناظرہ اور اس کو شکست فاش: محلہ عبد المسیح آگرہ میں 11 رجب المرجب 1270ھ، مطابق 10/اپریل 1854ء کو علی الصبح مناظرہ طےہوا۔اہل اسلام کی طرف سے مناظر ِاول مولانا کیرانوی، مناظر دوم ڈاکٹر وزیر خان،اور مولانا فیض احمد بدایونی مقرر ہوئے۔ عیسائیوں کی طرف سے مناظر اول پادری فنڈر،مناظر دوم پادری فرنچ تھے۔اس مناظرے میں علماء،عوام وحکام کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔پہلے پادری فنڈر نے اسلام کےبارے میں گفتگو کی۔اس کےجواب میں مولانا کیراانوی کھڑے ہوئے اور انجیل کےنسخ وتحریف پر بڑی فاضلانہ بحث کی اور عیسائیوں کی کتب سے نسخ وتحریف ثابت کردی،چنانچہ پادری فنڈر سات آٹھ جگہ تحریف کا قائل ہوگیا۔اور اس سے تحریر لےلی گئی۔مناظرہ تین دن جاری رہا۔دوسرےدن تعداد بہت زیادہ تھی۔پادری اور اس کےحواری جواب دینےسے قاصررہے،اورٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔یہ دن بغیر اختتامی بحث کےختم ہوگیا۔تیسرے روز حتمی فیصلے کےلئےاجلاس رکھا گیا۔لیکن تیسرے روز رسول اللہﷺکےشیر کےسامنے اسے آنے کی جرأت نہیں ہوئی اور وہ ہندوستان چھوڑ کر بھاگ گیا۔

ترکی میں پادری کا فرار:
اس دور میں حجاز مقدس ترکی کی خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا اور سلطان عبد المجید خلیفہ تھے۔ ہندوستان میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫کےہاتھوں شکست کھانےوالےپادری فنڈرنےترکی کارخ کیا،اوراستنبول جو اس دور میں قسطنطنیہ کہلاتا تھا،خلافتِ عثمانیہ کا دارالخلافہ اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا تھا۔فنڈرنےوہاں یہ تاثردیاکہ ہندوستان کےعلماء اسلام کےبارے میں ان کےاعتراضات کا جواب نہیں دےسکےاس لیےوہ عالم اسلام کےمرکزقسطنطنیہ میں آئے ہیں تاکہ یہاں کےعلماءمیں سےاگرکسی میں ہمت ہوتو ان کے اعتراضات کا سامنا کرے۔
1
سلطان عبد المجید مرحوم نے حالات کی تحقیق کے لیے حرمین شریفین میں علمائےکرام کو لکھا کہ حج کے موقع پر ہندوستان سے لوگ آئے ہوں تو ان سے صورت حال معلوم کر کے انہیں صحیح رپورٹ دی جائے ۔ جب سلطان کا پیغام مکہ مکرمہ پہنچا تو مولانا کیرانوی ہجرت کرکے مکہ مکرمہ میں بسیرا کر چکے تھے ۔ علمائےکرام نے سلطان کو لکھا کہ جس ہندوستانی عالم دین سے پادری فنڈر کا مقابلہ ہوا تھا وہ مکہ مکرمہ میں موجود ہیں ۔ چنانچہ سلطان عبد المجید مرحوم نے مولانا رحمت اللہ کیرانوی کو قسطنطنیہ بلا لیا اور پادری فنڈر کو دعوت دی کہ وہ مولانا سے جس موضوع پر چاہے مناظرہ کر لیں ۔ پادری فنڈر کو جب معلوم ہوا کہ ان سے مناظرے کے لیے وہی آگرہ والے مولانا رحمت اللہ آگئے ہیں تو اس نے ترکی سے بھی راہِ فرار اختیار کرنے میں عافیت جانی اور فرار ہوگئے۔

خلیفہ سلطان عبد المجید مرحوم بہت متاثر ہوئے اور مولانا رحمت اللہ کیرانوی سے فرمائش کی کہ وہ اسلام اور مسیحیت کے حوالے سےمتعلقہ مسائل پرمبسوط کتاب لکھیں جو سرکاری خرچے پر چھپوا کر پوری دنیا میں تقسیم کی جائے گی۔ چنانچہ مولانا نے ’’اظہار الحق‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب تصنیف کی جس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر سلطان ترکی نےاسےتقسیم کرایا۔یہ آپ کابہت بڑا کارنامہ ہے،اس سےزیادہ جامع کتاب اس موضوع پر نہیں لکھی گئی۔یہ کتاب عربی زبان میں ہے۔(مہر منیر:399)

جنگِ آزادی میں روشن کردار: جہاد آزادی 1857ء میں مولانا فضل حق خیرآبادی،مولانا شاہ احمد اللہ مدراسی،مولانا کفایت علی کافی ،مفتی عنایت احمد کاکوروی،مفتی صدرالدین دہلوی،مولانا رحمت اللہ کیرانوی،حاجی امداداللہ مہاجر مکی،مولانا رضا علی خان بریلوی علیہم الرحمہ۔ان علماء کرام نے جہاد آزادی میں وہ کارنامے انجام دئیے کہ قرون اولی ٰ کے مسلمانوں کی یا د تازہ ہوگئی۔اگر ان علماء کرام کی قربانیاں نہ ہوتیں توقیام پاکستان کاخواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا۔مولانا کیرانوی﷫ کی عظمت ومقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ جب جہاد آزادی شروع ہوا تو جامع مسجد کیرانہ کی سیڑھیوں پر نقارہ پر لوگوں کوجمع کیا جاتااور یہ اعلان ہوتا۔’’ملک خداکا،اور حکُم مولانا رحمت اللہ کا‘‘۔اس کےبعد آپ کی تقریر ہوتی لوگوں کو جہاد کی ترغیب دی جاتی۔آپ نےانگریز کوناکوں چنے چبوادئیے تھےلیکن اپنوں کی مخبری وغداری،اورعدم مرکز وتنظیم کی وجہ سے ناکامی پرحجاز مقدس کی طرف ہجرت فرمائی۔آپ کےوارنٹ گرفتاری جاری ہوئےایک ہزار انعام مقررکیاگیا۔تلاش میں ناکامی پر آپ کی جائیداد نیلام کردی گئی۔(مہر انور:317)

اہل حرم پر احسان: جب آپ مکۃ المکرمہ تشریف لےگئے توآپ نےمحسوس کیا کہ یہاں ایک ایسی درسگاہ ہونی چاہیے کہ جہاں پوری دنیا سےمتلاشیانِ علم آکر علم حاصل کرسکیں،کیونکہ مکۃ المکرمہ کوئی ایسی درسگاہ موجود نہیں تھی۔چھوٹے چھوٹے مکتب تھے۔چنانچہ کلکتہ کی ایک صاحب حیثیت خاتون ’’صولت النساء بیگم‘‘کی رقم سےایک عظیم درسگاہ بنام’’مدرسہ صولتیہ‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔جہاں پوری دنیاسےتقریباً چھ،سات سو طلباء قیام وطعام کی سہولت کےساتھ مدرسے میں تعلیم حاصل کرتےتھے۔(مہرانور:318)

تلبیس ذریت ِابلیس: علماء دیوبند کاآج تک یہی پروپیگنڈہ ہے کہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ ہمارےہم نواتھے،اور ان کےنام پر لوگوں کوگمراہ کرنےکےلئےمختلف مقامات پر ان کےنام کےمدارس ومساجد بنائے ہوئے ہیں۔یہ ایک مولانا کیرانوی کیا،علماء دیوبند نےہراس شخص کو’’دیوبندیانے‘‘کی صف میں لانے کی کوشش کی جس نے کھلم کھلا ان کی تضلیل وتکفیر نہیں کی حالانکہ اس وقت حالات مختلف تھے۔چنانچہ ان کےمشہور عالم مولوی خلیل احمد سہارنپوری لکھتے ہیں:’’اس آخر وقت میں اب مولوی رحمت اللہ صاحب تمام علماء مکہ پر فائق ہیں،اور باقرار علماء ِ مکہ اعلم ہیں‘‘۔(مہر انور:321/بحوالہ براہین قاطعہ:263)۔یہ تعریف وتوصیف اس لئے کی جارہی ہے تاکہ عام مسلمانوں میں مولانا کیرانوی سےہماری وابستگی کا چرچہ رہے۔ورنہ حقیقت میں مولانا عبدالسمیع رام پوری،مولانا غلام دستگیر قصوری،مولانا کیرانوی ایک ہی صف اور عقیدہ کےآدمی ہیں۔

حقیقت: قارئین کرام!مولانا کیرانوی﷫ کاعقیدہ ان کی ان تقریضات اورہماری آنےوالی تحریرات سےخوب واضح ہوجائے گا۔جشن ِ دیوبند،جشن جمعیت وغیرہ منانےوالے،اور جشن عید میلادالنبیﷺکوشرک وبدعت کہنے والے دیکھیں! کہ حضرت مولانا کیرانوی﷫میلاد النبیﷺکےبارے میں کیامشرب رکھتےتھے۔فرمایا:’’میرے اساتذۂ کرام(آپ شاہ ولی اللہ،شاہ عبدالعزیز علیہمالرحمہ کےشاگردوں کےشاگرد ہیں)کا اور میراعقیدہ مولد شریف (میلادالنبیﷺ منانے)کےباب میں قدیم سےیہی تھااور یہی ہے بلکہ بحلف سچ سچ ظاہر کرتاہوں کہ میرا ارادہ یہ ہے کہ ؏:بریں زیستم ۔۔۔ہم بریں بگزرم‘‘۔کہ اسی پر جیوں اور اسی عقیدے پر دنیا سے جاؤں۔
2
انوار ِساطعہ  اور تقدیس الوکیل  عن توہین الرشید والخلیل پر جوآپ نےتقریظیں تحریر فرمائی ہیں۔وہ ان کےلئے ’’تازیانہ عبرت ہیں‘‘ لیکن اس کےباوجود یہ دجل وفریب،اور کذب بیانی سےعوام کو گمراہ کررہے ہیں۔چند اقتباسات پر اکتفا کرتاہوں۔آپ﷫ فرماتے ہیں:’’سو کہتاہوں کہ میں مولوی رشید کو رشید سمجھتا تھا ۔ مگر میرے گمان کےخلاف کچھ اور ہی نکلے‘‘۔پھر فرمایا:’’ میں بھی اس زمانے کے حالات اور حضرت رشید اور ان کےچیلوں چانٹوں کی تقریر اور تحریر سے پناہ مانگتاہوں‘‘۔مزید تفصیل کےلئے انوار ساطعہ،تقدیس الوکیل،اور مہر انور ،مبلغ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا مطالعہ نہایت مفید ہوگا(تونسویؔ غفرلہ)

غوث الاسلام حضرت سید نا پیر مہر علی شاہ گولڑوی ﷫سےعقیدت: مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫کےشاگرد قاری عبداللہ الہ آبادی﷫کےایک خط میں تحریرہے کہ مولانا کےوصال کےوقت میں موجود تھا۔وہ اپنی بیماری کےدوران فرماتےتھے:’’ گولڑہ جانے کوجی چاہتاہے،اور وصال سے تھوڑی دیر قبل فرمایا کہ میری آنکھوں کے سامنےپیر صاحب کاوہ سبز رومال پھر رہاہے‘‘۔اس وقت دیگر افراد آپ کی خدمت میں موجود تھے سب ان باتوں کی تصدیق کرتےتھے۔(مہر منیر:120)

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 22 رمضان المبارک 1308ھ مطابق یکم مئی 1891ءکوہوا۔ جنت المعلیٰ میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کےجوار میں دفن ہوئے۔ آپ کےساتھ مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، شیخ الدلائل مولانا شاہ عبد الحق مکی علیہم الرحمہ آرام فرماہیں۔

ماخذ و مراجع:
مہر منیر ۔ مہر انور ۔ مبلغ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-rehmatullah-kiranwi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
پیر محمد ہاشم جان سر ہندی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: پیر محمد ہاشم جان سرہندی ۔ لقب: شیخ المشائخ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پیر محمد ہاشم جان سرہندی بن شیخِ طریقت حضرت خواجہ محمد حسن جان سرہندی بن خواجہ عبد الرحمن بن خواجہ عبد القیوم بن شاہ فضل اللہ سرہندی بن شاہ غلام نبی ۔

سلسلہ نسب تیرہویں پشت میں حضرت مجدد الف ثانی سے ملتا ہے ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (سندھ کے صوفیاء نقشبند ص:152)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہ ذیقدہ 1322ھ، مطابق 1904ء کو ٹنڈو سائیں داد ضلع حیدر آباد سندھ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم ٹنڈو سائیں داد میں حاصل کی ۔ حفظ قرآن اور مہارت تجوید کیلئے حافظ احمد قادری کی خدمات حاصل کی گئی ۔ تیرہ سال کی عمر میں ’’حفظ قرآن ‘‘ کی سعادت حاصل کی اور حسن قراٗت میں نمایاں مقام پر فائزہوئے ۔ بقول حکیم عبدالعزیز سر ہندی ، اسد ملت حضرت علامہ سید اسد اللہ شاہ فدا ٹکھڑ والے نے ’’حافظ ہاشم ‘‘ سے حفظ قرآن کا مادہ تاریخ ( 1335ھ) نکالا۔ حافظ قرآن ہونے کے بعد عربی فارسی کی مزید تعلیم ٹنڈو سائیں داد میں والد ماجد کی زیر نگرانی حاصل کی ۔ اس کے بعد والد ماجد نے اعلیٰ تعلیم کے لئے اجمیر شریف بھیج دیا جہاں آپ نے علامۃ الہند مولانا معین الدین اجمیری کے ’’دارالعلوم معینیہ عثمانیہ ‘‘ سے درس نظامی کی تحصیل اور سند حاصل کی ۔ موصوف خیر آباد کے علمی خانوادہ کے ’’ارکان اربعہ ‘‘یا ’’اسطوانات اربعہ ‘‘ میں سے رابع تھے۔ امام الہند علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ کے شاگرد ارشد و فرزند ار جمند علامہ عبد الحق خیر آبادی اور ان کے شاگرد رشید حکیم الامت علامہ سید برکات احمد ٹونکی اور ان کے فاضل شاگرد علامہ معین الدین اجمیری تھے۔ مذکورہ ’’علماء اربعہ ‘‘ میں سے ہر ایک اپنے اپنے وقت میں علوم عقلیہ و نقلیہ میں ہندوستان کے افق پر ہزاروں علماء کی موجودگی میں بدور بازغہ کی طرح چمک رہا تھا۔ حکمت و طب :درس نظامی سے فراغت کے بعد آپ نے مولانا اجمیری کے بھا ئی شفاء الملک حکیم نظام الدین سے فن طب و طریق علاج میں سند حاصل کی۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ ص: 823)

بیعت و خلافت:
اپنے والد محترم حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت تھے اور حضرت محمد یعقوب بھو پالی مجددی سر ہندی قدس سرہ کی صحبت اختیا ر کی اور حضرت قبلہ محمد صادق مجددی سر ہندی کابلی مہاجر مدنی سے سلوک طے کیا ۔ (ایضاً)

سیرت و خصائص:
عالم ربانی، عارف اسرار رحمانی، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، پیر ھدیٰ، محسن اہل سنت حضرت علامہ مولانا پیر محمد ہاشم جان سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ سرہندی مجددی خاندان کے ایک روشن آفتاب و ماہتاب تھے ۔ اپنے آباؤ اجداد یعنی حضرت عمر بن خطاب اور حضرت امام ربانی کے محاسن صوری و معنوی کےآئینہ دار تھے ۔ صورت ایسی کہ نظر اٹھانے کو جی نہ چاہے ماور سیرت و صحبت ایسی کہ وہاں سے ہٹنے کو جی نہ چاہے ۔ علم و معرفت میں بحرِ ذخار، لیکن تواضع اور خوش خلقی ایسی جیسے ابر نو بہار ۔ آپ علیہ الرحمہ کو عربی فارسی اردو سندھی اور پشتو پر مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔

آپ بے حد حسین و جمیل تھے ۔ چہرہ پرنور اور متبسم ، حافظہ بے مثال، قد مناسب، خوبصورت داڑھی، ہونٹ گلاب کی پتیوں کی طرح گلابی اور نازک، دانت موتی کی لڑیاں، ہونٹوں پر دائمی مسکراہٹ، پان کھائے ہوئے غنچہ دہن سے جب گفتگو فرماتے تو فضا خوشبو سے مہک جاتی، کسی کا دل نہ دکھاتے، وضع داری، صاف گوئی، اور بہت ہی اعلیٰ صفات کے مالک تھے ۔ منقولات و معقولات میں یکساں مہارت تھی ۔ آپ کی تقریر عالمانہ وفا ضلانہ ہوا کرتی تھی ایک بار لاڑکانہ شہر میں سفید مسجد علی گوہر آباد میں سورہ کوثر پر تین گھنٹہ تقریر فرمائی۔ ہمیشہ تبلیغ ووعظ کا فریضہ فی سبیل اللہ ادا کیا۔

تحریک پاکستان کا غلغلہ بلند ہوا تو آپ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور اپنی تمام تر قوتوں کو مسلم لیگ کے لئے وقف کر دیا۔ کمیونسٹ بلاک اورسوشلزم کے خلاف تحریر و تقریر کے ذریعے مقابلہ کیا اور عوام الناس کو ان کے فریب و مکر سے بچانے کی سعی کی۔ آپ کے متبسم اور پر نور چہرہ دیکھ کر خدایا د آجاتا تھا۔ گوٹھ سائینداد، نارتھ ناظم آباد کراچی اور شابو کلہ ( کوئٹہ ) میں اکثر قیام کرتے تھے اور تینوں مقامات پر کتابوں کا ذخیرہ جمع کرایا تھا جو کہ آپ کے شوق مطالعہ و کتب بنیی کا مظہر ہے۔ لباس ، خوراک اور جائے رہائش امیر ا نہ تھی اور وضع قطع اور نشست و برخاست فقیر انہ تھی ۔ آپ کے وجود میں امیری اور فقیری آپس میں ہم آغوش نظر آتی تھی جو کہ امیری و فقیری کا حسین امتزاج کا درجہ رکھتے تھے۔
2
امام الانبیاء سید المرسلین ﷺ کی ذات گرامی سے بے انتہا عقیدت تھی ۔ آپ کا عشق کمال کی حدتک پہنچا ہوا تھا ۔ اکثر وبیشتر  درود شریف آپ کے ورد زبان ہوتا تھا ۔ جب ذات اقدس ﷺ کا نام نامی اسم گرامی زبان پر آتا یا کسی سے سن لیتے تو آپ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی۔آپ کی تقریر  اور وعظ کا اکثر موضوع محبت و عشق مصطفیٰﷺ اور سیرت ِ مبارکہ ہوتا تھا ۔ رسولِ اکرم ﷺ کی آپ پر خاص نظرِ کرم تھی ۔ جب کوئٹہ میں آپ سخت علیل ہوگئے تو سرور عالم ﷺ نے اپنے دیدار سے مشرف فرمایا ۔ جس سے اس عاشق ِ صادق کو قرار مل گیا،اورطبیعت سنبھل گئی ۔ آپ کا اکثر وقت علمی ودینی خدمات میں گزرتاتھا۔قیام کوئٹہ کےدوران ہر جمعہ اور ہفتہ کو پولیس لائن اور فوجی چھاؤنی فوجیوں سے خطاب فرماتے تھے۔آپ پولیس اور افواج پاکستان کی اسلامی تربیت لازمی سمجھتے تھے ۔ تحریکِ خلافت تحریکِ پاکستان میں بھر پور کردار ادا کیا ۔ نیشلسٹوں، سوشلزم اور نسل وقوم پرستوں کے خلاف سندھ میں آپ نے بہت بڑا جہاد کیا۔

جب سندھ میں جی ایم سید نے لسانیت وعلاقیت کا نعرہ بلند کیا اور یہ کہا کہ ہم پہلےسندھی اور بعد میں مسلمان ہیں۔تو آپ نے اس کی خوب خبر لی اس کے خلاف کتابچے ، مضامین شائع کیے اور اس فتنے کے سدباب کے لئے پورے سندھ کے درورے فرمائے ۔ ایک مرتبہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اس وقت پاکستان مختلف فتنوں میں گھرا ہوا ہے آپ کے نزدیک سب سےبڑا فتنہ کون سا ہے؟تو آپ نے فرمایا یہاں لادینیت سب سے بڑا فتنہ ہے۔اس کی پرورش کرنے والے جی ایم سید اور شیخ ایاز ہیں۔یہ قادیانیت سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔یہ قومیت ولسانیت پر امت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔(سندھ کے صوفیائے نقشبند:158)

تاریخِ وصال:
مولانا پیر محمد ہاشم جان سر ہندی 21 رمضان المبارک 1395ھ بمطابق 28 ستمبر 1975ء کو 73 سال کی عمر میں شابو کلہ نزد کوئٹہ میں انتقال کیا۔ آخری آرامگاہ سر ہندیوں کے خاندانی قبرستان مقبرہ شریف خواجہ عبدالرحمن سر ہندی قدس سرہ کوہ گنجہ (ضلع حیدرآباد سندھ) کے باہر بر آمدہ میں جنوب کی جانب سے واقع ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند ۔ اکابر تحریک پاکستان ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-peer-muhammad-hashim-jan-sarhandi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مفتی سید کفایت علی کافی شہید رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی سید کفایت علی کافیؔ۔تلخص:کافی۔لقب: مجاہد جنگ آزادی،بطل حریت،شہید اسلام،عاشقِ خیر الانام۔آپ کا نسبی تعلق ’’نگینہ،ضلع بجنور،یو پی انڈیا‘‘کے معزز خاندان سادات سے ہے۔

مولد ومسکن:
آپ کی پیدائش آپ کی ابتدائی زندگی سے متعلق معلومات بہت کم ہے ،آپ ضلع بجنور (یوپی) کے سادات گھرانے میں پیدا ہوئے اور مراد آباد کو اپنا مسکن بنالیا تھا۔

تحصیلِ علم:
علمائے بدایوں و بریلی کے اکابر علماء سے علم حاصل کیا حضرت شاہ غلام علی نقشبندی دہلوی کے خلیفہ اعظم اور شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی کے شاگرد رشید حضرت شاہ ابوسعید مجددی سے علم حدیث کی تکمیل فرمائی۔ مولانا كافی پر اپنے استاذ و مربی حضرت شاه ابو سعيد مجددی كی شخصیت كا گہرا اثر تھا۔ اسی وجہ سے آپ كو علمِ حديث اور تصوف سے بے حد شغف تھا، اور رسولِ ﷺ كي سيرت مبارکہ سے عشق كی حد تك لگاؤتھا۔ علمِ طب مولوی رحمن علی مصنف تذكره علمائے هند كے والد مولانا حكيم شير علی قادری سے حاصل كيا۔ فن شاعری شیخ مہدی علی خان ذکیؔ مراد آبادی سے فن شاعری سیکھ کر طب وشاعری میں کمال حاصل کیا۔ذکی مرادآبادی کےچار تلامذہ مشہور ہوئے۔صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کے والد مولانا معین الدین نزہتؔ،مولانا سید کفایت علی کافی ؔ مرادآبادی،مولوی محمد حسین تمناؔ،مولوی شبیر علی تنہا۔

بیعت و خلافت:
غالباً آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اپنے استاذ محترم حضرت شاہ ابو سعید مجددی علیہ الرحمہ کےمرید تھے،کیونکہ آپ کی سیرت پر ان کا گہرا اثر تھا۔بسیار کوشش کےباوجود مجھے ان کے سلسلہ طریقت کا علم نہیں ہوسکا،یہ میں نے ظن غالب سے تحریر کردیا ہے۔واللہ اعلم با الصواب۔اگر کسی کےعلم میں ہوتو ضرور مطلع کرے۔(فقیر تونسویؔ غفرلہ)

سیرت وخصائص:
بطلِ حریت،امام المجاہدین،رئیس العاشقین، سند المتقین،سید العلماء الکاملین، شہید الاسلام، فخر الاسلام، عاشقِ خیر الانام،مجاہدِ جنگِ آزادی حضرت علامہ مولانا مفتی سید کفایت علی کافیؔ رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ علیہ الرحمہ تمام علوم نقلیہ وعقلیہ کےفاضل،فن شاعری کے ماہر،علم طب میں یگانۂ وزگارتھے۔آپ اپنے وقت کے جید عالم دین،باکمال مرشد،بے مثل زاہدِ وقت اور بلند پایہ عاشق رسول ﷺ تھے۔ آپ کی حیات کا لمحہ لمحہ سنت رسولﷺ کاآئینہ دار اور محبت رسول ﷺ کا پر تو تھا۔اس لئے آپ کے کلام تصنع اور بناوٹ سے پاک ہے۔آپ کے قول وفعل کی یکسانیت اور فکر ونظر کی طہارت کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ خود مجدد دین ملت امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے آپ کے عشق رسول ﷺ کی حرارت کو محسوس کرتے ہوئے آپ کی بارگاہ میں یوں خراج عقیدت پیش کیا۔

؏:پرواز میں جب حدیث شہ میں آؤں
تا عرش پرواز فکر رساں میں جاؤں

مضمون کی بندش تو میسر ہے رضا
کافیؔ کادردِ دل کہاں سے لاؤں

علمِ حدیث سے آپ کو بے پناہ شغف و انہماک تھا۔ عشق رسولﷺ کے جذبات سے ہمہ وقت آپ کا دل لبریز رہتاتھا،اور اشعار کی صورت میں وہ دل سے زبان پر آجایا کرتا تھا۔یہی وجہ ہےکہ مولانا کافی علیہ الرحمہ نے نعتیہ اشعار بہت کہے ہیں۔اسی جذبہ مسعود اور وصف محمود سے متأ ثر ہوکر عاشق رسول امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ نے آپ کو’’سلطان نعت گویاں‘‘ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے:

؏:مہکا ہے مری بوئے دہن سے عالم
یاں نغمۂ شیریں نہیں تلخی سے بہم

کافیؔ سلطانِ نعت گویاں ہیں رضاؔ
ان شاء اللہ میں وزیر اعظم

یہ تمام حقیقتیں اپنی جگہ مگر حضرت مولانا کافی علیہ الرحمہ کےنام کو جس چیز نے امر بنایا وہ ہے ان کا جذبۂ آزادی۔مولانا کافی نے جس وقت آنکھیں کھولیں وہ انگریزوں کے جبرو استداد کےعروج کا دور تھا۔انگریز پورے ہندوستان میں اپنی مکاری کا جال پھیلا چکے تھے اور رفتہ رفتہ اپنا خونی شکنجہ کسنے کی پوری تیاری کرچکے تھے۔ہندوستان کی دھرتی پر مقامی افراد افلاس وتنگدستی پر مجبور تھے اور بیرونی غاصب عیش وعشرت میں مسرور۔دیسی نوابوں، رئیسوں ،اور خاندانی لوگوں کی عزتیں خاک میں ملائی جارہی تھیں،اور بدیسی غارت گروں کی عظمتوں کا پھریرا لہرایا جارہا تھا۔ایسے پر آشوب اور مہیب دور میں حضرت مولانا کافی علیہ الرحمہ نے جب اپنے گردو پیش پر نظر ڈالی تو آپ کی شخصیت اور مذہبی غیرت نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔پھر اس کے بعد آپ نے انگریزوں کے ناپاک وجود سے اس دھرتی کو آزاد کرانے کا عزم مصمم کرلیا۔

مولانا سید کفایت علی کافیؔ جنرل بخت خاں روہیلہ کی فوج میں کمانڈر ہو کر دہلی آئے۔بریلی،الہ آباد اور مرادآباد میں انگریز سے معرکہ آرائی رہی۔بعض علاقوں کو انگریز سے بازیاب کرانے کے بعد جب اسلامی سلطنت کا قیام عمل میں آیا تو آپ ’’صدرِ شریعت‘‘ اور ’’امیر شریعت‘‘ بنائے گئے۔ امداد صابری لکھتے ہیں: ’’انگریز مرادآباد سے بھاگ کر میرٹھ اور نینی تال چلے گئے، نواب مجو خاں حاکم مرادآباد م
3👍1
قرر ہوگئے۔ عباس علی خاں بن اسعد علی خاں ہندی توپ خانہ کے افسر معین ہوئے اورمولوی کفایت علی صاحب صدرِ شریعت بنائے گئے، انھوں نے عوام میں جہادی روح پھونک دی۔ شہر میں ہر جمعہ کو بعد نماز انگریزوں کے خلاف وعظ فرماتے جس کا بے حد اثر ہوتا تھا۔

جنگِ آزادی میں خدمات: مرادآباد میں شورش کے ایام میں مولانا کافیؔ حالات کی رپورٹ بذریعہ خط جنرل بخت خاں کو بھیجتے رہے۔ آپ نے فتاویٰ جہاد کی نقلیں مختلف مقامات پر بھیجیں۔مولانا وہاج الدین مرادآبادی (وفات 1858ء) بھی حریت پسند اور قائدینِ جہادِ آزادی1857ء میں تھے، آپ اور مولانا کافیؔ نے مل جُل کر مرادآباد میں ماحول سازی کی اور لوگوں کو جہاد کے لیے آمادہ کیا۔ انگریزی مظالم کے خلاف آواز بلند کی اور رائے عامہ ہم وار کی۔ آنولہ ضلع بریلی میں حکیم سعیداللہ قادری کے یہاں قیام پزیر رہ کر اطراف میں حریت کی صدا بلند کرتے رہے۔یہاں سے بریلی گئے اور خان بہادر خاں نبیرۂ حافظ الملک حافظ رحمت خاں روہیلہ سے ملاقات کی،ان سے جہاد کے عنوان پر تبادلۂ خیال کیا۔واضح ہو کہ روہیلہ پٹھانوں کا یہ قبیلہ بڑا جری و بہادر تھا، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کا بڑھیچ قبیلہ اوپر جا کر روہیلوں سے جا ملتا ہے۔ مولانا کافیؔ بریلی سے مرادآباد آئے اور تگ ودو میں لگے رہے۔

مقدمہ ٔو شہادت: 26 اپریل 1858ء کو جنرل مونس گورہ فوج لے کر مرادآباد پر حملہ آور ہوا۔ مجاہدین جاں نثاری سے لڑے۔نواب مجو خاں آخری وقت تک ایک مکان کی چھت پر بندوق چلاتے نظر آئے۔ آخر کار جامِ شہادت نوش کیا۔سقوطِ مرادآباد کے ساتھ ہی تمام انقلابی راہنما منتشر ہو گئے۔ جو انگریز حکومت کے ہاتھ آئے وہ تختۂ دار پر چڑھا دیے گئے یا حبسِ دوام بہ عبور دریائے شورکالاپانی کی سزا سے ہم کنار ہوئے۔مولانا کفایت علی کافیؔ کو غدار ملک وملت ،انگریز پٹھو فخرالدین کلال کی مخبری سے انگریز نے گرفتار کر لیا۔ سزاؤں کا اذیت ناک مرحلہ شروع ہوا۔ جسم پر گرم گرم استری پھیری گئی۔ زخموں پرنمک مرچ چھڑکی گئی۔ اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے انگریزوں نے ہر حربہ استعمال کیا۔ جب اس مردِ مجاہد سے انگریز مایوس ہو چکا تو برسرِ عام چوک مرادآباد میں اس عاشقِ رسول کو تختۂ دار پر لٹکا دیا۔4 /مئی 1858ء کو مقدمہ کی پیشی ہوئی اور جلد ہی پھانسی کی سزا سنائی گئی۔مسٹرجان انگلسن مجسٹریٹ کمیشن مرادآباد نے فیصلہ سنایا۔ 6 مئی 1858ء مقدمہ کی پوری کارروائی صرف دو دن میں پوری کردی گئی۔4 مئی کو پیشی ہوئی، اور 6 مئی کو پھانسی کاحکم دے دیا گیا۔اور اسی وقت پھانسی دے دی گئی۔ جب پھانسی کا حکم سنایا گیا مولانا کافیؔ بہت ہی مسرور و وارفتہ تھے۔ قتل گاہ کو جاتے ہوئے زبان پر یہ اشعار جاری تھے۔

ؔ کوئی گل باقی رہے گا نَے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دینِ حَسَنْ رہ جائے گا

ہم صفیرو! باغ میں ہے کوئی دَم کا چہچہا
بلبلیں اُڑ جائیں گی، سوٗنا چمن رہ جائے گا

اطلس و کم خواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تنِ بے جان پر خاکی کفن رہ جائے گا

جو پڑھے گا صاحبِ لولاک کے اوپر درود
گ سے محفوظ اس کا، تن بدن رہ جائے گا

سب فنا ہو جائیں گے کافیؔ ولیکن حشر تک
نعتِ حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا

اس جنگ آزادی کی ناکامی کےدوبہت پرانے اسباب تھے:اول: کوئی مرکز نہیں تھا،جوتمام معاملات کو کنٹرول میں رکھتا۔اسی طرح کوئی ایسی ملک گیر تنظیم بھی نہیں تھی جس میں اتحاد ویگانگت کی فضاء اور حالات پر گہری نظر ہوتی۔دوم: غدار بہت زیادہ تھے۔میر جعفر،میر صادق کا کردار ادا کرنے والے خبیث الفطرت،لالچی طبیعت کےافراد بہت زیادہ تھے۔آج بھی امت کےزوال میں ایسے لوگوں کا کردار ہے۔

تاریخِ شہادت:
آپ کی شہادت بروز جمعرات 22/رمضان المبارک 1274ھ،مطابق 6/مئی 1858ء کوہوئی۔

مدفن:
مولانا کافی شہید علیہ الرحمہ کو مراد آباد جیل کے سامنے مجمع عام کے روبرو پھانسی دی گئی اور وہیں کسی مقام پر رات کی تاریکی میں دفن کردیا گیا۔دفن کے سلسلے میں عوام کے درمیاں مختلف راویات گردش کرتی ہیں۔صحیح روایت: مولانا سید ظفر الدین احمد بن مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی کی ہے وہ بیان کرتے ہیں: کہ ایک سڑک اس مقام سےنکالی جارہی تھی اور مولانا کافی شہید کی قبر کانشان نمایاں نہیں تھا۔مزدور کام کررہے تھے کہ مولانا کی قبر کھل گئی اور مزدور کا پھاؤڑا مولانا کافی کی پنڈلی پر لگا۔جسم اطہر ویسا ہی تھا جیسا شہادت کے وقت تھا۔بزرگ لوگوں نے چہرہ مبارک دیکھ کر شناخت کرلیا،اور کثیر تعداد میں لوگ زیارت کرنے کےلئے جوق درجوق آنے لگے۔مزدوروں نے انجینئر سے بیان کیا اور وہ خود دیکھنے آیا،وہ میت صحیح سلامت دیکھ کرمرعوب ہوگیا اور احتراماً عوام کو ہٹاکر قبر پر دوبارہ تختے لگواکر بالکل ٹھیک کردیا اور وہیں سے سڑک کا رخ تبدیل کردیا۔جس کی وجہ سے سڑک میں آج بھی ٹیڑھاپن موجود ہے۔(چند ممتاز علمائے انقلاب:98)

ماخذ ومراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت۔چند ممتاز علمائے انقلاب۔علماء ہند کا شاندار ماضی۔

Zia e Taiba Click ضیاء طیبہ
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-09-1444 ᴴ | 13-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-09-1444 ᴴ | 14-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1