🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی ❶ ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ @islaamic_Knowledge پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال تاریخ شہادت : 21 رمضان ۰۴؁ ھ مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی
ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ
@islaamic_Knowledge
پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال
تاریخ شہادت  :  21 رمضان 40 ھ
مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شاہ ابو سعید مجددی رام پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: عارف باللہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
آپ کا سلسلہ نسب حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے بایں طور ملتا ہے: حضرت مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (تذکرہ کاملان رام پور ص:14)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 2 ذیقعد 1196ھ، مطابق اکتوبر 1782ء کو رام پور (انڈیا) میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
تقریباً دس سال کی عمر میں آپ نے قرآن شریف حفظ کر لیا بعد ازاں قاری نسیم سے علم تجوید حاصل کیا ۔ آپ قرآن مجید ایسی ترتیل سے پڑھا کرتے تھے کہ سننے والے محو ہو جایا کرتے ۔ حتیٰ کہ جب آپ حرم مکہ معظّمہ میں وارد ہوئے تو اہلِ عرب نے آپ کی قرأت سُن کر تعریف و تحسین کی ۔ حفظ قرآن کے بعد علوم عقلیہ و نقلیہ مفتی شرف الدین اور مولانا رفیع الدین بن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حاصل کیے ۔ حدیث کی سند اپنے مرشد سے اور حضرت شاہ سراج احمد بن حضرت محمد مرشد مجددی اور شاہ عبد العزیز دہلوی سے حاصل کی ۔ (تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ص:439)

بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی سے آبائی طریقے پر مرید ہوئے، اور والد صاحب کےایماء پر حضرت شاہ درگاہی سے بیعت ہوئے ۔ حضرت شاہ صاحب درگاہی نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ابھی تشنگی باقی تھی آپ نےحضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی﷫ کوخط لکھا، انہوں نےجواب میں ارشاد فرمایا: کہ اس وقت میری نظر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی﷫ سے بہتر کوئی نہیں ۔ پھر آپ حضرت شاہ غلام علی دہلوی﷫ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بتفصیل وکمال ان سے حاصل کیا۔شاہ صاحب﷫نے خاص عنایت فرماکر خلافت سےمشرف فرمایا،اور اپنی خانقاہ میں اپنا قائم مقام بنایا۔(ایضا:439)

سیرت و خصائص:
امام العلماء والعارفین، سند المتقین، آفتاب شریعت، ماہتاب طریقت، مجمع البحرین حضرت شاہ ابو سعید مجددی رام پوری ۔ آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےاہم شیخ طریقت اور عارف باللہ مجددوقت حضرت شاہ غلام علی دہلوی ﷫کےخلیفۂ اعظم تھے ۔ آپ ﷫تمام علوم و معارف کے جامع تھے اور حضرت امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی ﷫کے خاندان کےفرد فرید تھے۔ابتدائے عمر ہی سے آثارِسعید آپ میں پائے جاتے تھے۔ فرماتے تھے کہ مجھے اوائل عمر میں شہر لکھنؤ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم ایک مکان میں اُترے راستے میں ایک درویش ستر برہنہ بیٹھا ہوتا مگر جب وہ مجھے دیکھتا تو ستر درست کرلیتا۔ کسی نے اُس سے سبب دریافت کیا۔ اُس نے جواب دیا کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ ان کو ایسا منصب حاصل ہوگا کہ اپنے اقارب کے مرجع ہوں گے چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:438)

عین تحصیل علم میں خدا طلبی کا شوق پیدا ہو۔ پہلے اپنے والد بزرگوار سے ارادت کی جو اپنے آبائے کرام کے طریقہ پر مستقیم اور تارک دنیا اور ہر وقت اوراد و اشغال میں مشغول رہتے تھے پھر اُن کی اجازت سے حضرت شاہ درگاہی کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کا سلسلہ دو واسطہ سے حضرت خواجہ محمد زبیر قدس سرہ سے ملتا ہے۔ حضرت شاہ درگاہی کو استغراق اس قدر رہتا تھا کہ نماز کے وقت مرید آپ کو آگاہ کردیا کرتے تھے اور توجہ ایسی تیز تھی کہ اگر ایک وقت میں سو آدمیوں کی طرف متوجہ ہوتے تو سب بیہوش ہوجایا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ آپ کے بہت سے مرید ہوگئے اور حلقہ میں بیہوشی و وجد اور صَیحہ (چیخ)و نعرہ ہوا کرتا۔ چوں کہ نسبت مجددیہ میں یہ امور مرتفع ہوجاتے ہیں اور صحابہ کرام کی مثل کمال افسردگی اور آسودگی میں عمر گزرتی ہے۔ایک مرتبہ رامپور میں حضرت شاہ غلام علی﷫ کی بھی زیارت کی تھی اس لیے ابھی طلبِ خدا باقی تھی آپ رامپور سے دہلی تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قاضی ثناء اللہ پانی پتی کو اپنی خدا طلبی کے بارے میں ایک خط لکھا۔ جس کے جواب میں حضرت قاضی صاحب نے نہایت تعظیم سے آپ کو تحریر فرمایا کہ اس وقت شاہ غلام علی سے بہتر کوئی نہیں۔ پس آپ بتاریخ 7 محرم الحرام 1225ھ میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بکمال تفصیل حاصل کیا۔
1
خاص عنایت:
حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ آپ کے حال پر خاص عنایت فرماتے تھے چنانچہ ماہ صفر 1230ھ میں حضرت نے آپ کو اپنے سینے سے لگایا اور دیر تک توجہ فرمائی اور اپنی ضمنیت سے مشرف فرمایا اور 11/ جمادی الاول 1231ھ میں فرمایا:’’میرے بعد اس مکان میں میاں ابو سعید بیٹھیں اور حلقہ و مراقبہ اور درس حدیث وتفسیر میں مشغول ہوں‘‘۔ حضرت کی ایسی عنایات بعض لوگوں پر ناگوار گزرتی تھیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے حال پر اس قدر عنایت کس واسطے ہے وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میاں ابو سعید اپنے پانچ سو مریدوں کو چھوڑ کر میرے پاس آیا ہے اور اس سے پہلے وہ خرقہ خلافت دوسرے مشائخ سے لے چکے ہیں پس اپنے مرشد کی عین حیات میں انہوں نے خلافت و اجازت کو چھوڑ کر میری بیعت کا حلقہ اپنے اخلاص کی گردن میں ڈالا اور پیری کو چھوڑ کر مریدی کی طرف آگئے وہ کس طرح مورد عنایت اور مصدر ہمت نہ ہوں‘‘۔جمادی الاولیٰ 1233ھ میں حضرت نے آپ کو قیومیت کی بشارت دی اور فرمایا: ’’مجھے الہام ہوا ہے اس لیے تجھ سے ارشاد کیا گیا‘‘۔الغرض آپ پندرہ سال حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں رہے حضرت نے اپنے مرض موت میں آپ کو بذریعہ خط لکھنو سے بلایا اور خانقاہ کا نظام آپ کےسپرد کیا۔ حضرت شاہ صاحب کے انتقال کے بعد آپ قریباً نو سال تک مسندِ ارشاد پر ہے۔ اور طالبانِ خدا نے بکثرت آپ سے استفادہ کیا۔ اس عرصے میں آپ نے تلخی و سختی اور فقر و فاقہ اور تمام تکالیف جو اولیاء اللہ کاشیوہ ہیں خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔(ایضا:440)

فضل وکمال: آپ کےایک مرید میاں محمد اصغر کا بیان ہے کہ کبھی کبھی نمازِ تہجد مجھ سے فوت ہوجاتی تھی میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا۔ فرمایا کہ ہمارے خادم سے کہہ دو کہ تہجد کے وقت ہمیں یاد دلا دیا کرے۔ اُٹھا کر بٹھادینا ہمارا ذمہ ہے باقی تمہارا اختیار ہے چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ گویا کوئی مجھے تہجد کےوقت اٹھاکر بٹھا دیتا ہے۔اسی طرح آپ کے ایک اور مرید پر ایسا استغراق غالب ہوا کہ خلوت میں نماز کے وقت قبلہ کی پہچان نہ رہتی اُس نے مجبور ہوکر آپ سے عرض کیا آپ نے فرمایا کہ تحریمہ کے وقت میری طرف متوجہ ہوا کر میں تجھے قبلہ کی طرف متوجہ کردیا کروں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا کہ جب وہ تحریمہ کے وقت آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ ظاہر ہوکر قبلہ کی طرف اشارہ کردیتے اور یہ اتفاق مدتوں تک رہا۔یہی مرید صاحب استغراق بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ اہلِ خانقاہ میں جھگڑا پیدا ہوا۔ اور بہت شور و شغب ہوا رات کے وقت میں نے خواب دیکھا کہ جناب سرور عالم ﷺ خانقاہ میں تشریف لائے اور خفا ہوکر فرماتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص کو خانقاہ سے نکال دو اِس خوف سے کہ کہیں میرا نام بھی نہ لے لیں اُس مرید کی آنکھ کھل گئی۔ یہ حیران و پریشان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اُس وقت تہجد کےلئے وضو فرما رہے تھے اُس کو دیکھ کر فرمایا کہ تم کیوں گھبراتے ہو۔ تمہارا نام تو نہیں لیا نمازِ صبح کے بعد آپ نے اُن اشخاص کو جن کا نام جناب رسالت مآب ﷺ نے لیا تھا خانقاہ سے نکال دیا۔(ایضا:441)

تاریخِ وصال: 22/رمضان کو ریاست ٹونک میں علیل ہوئے،صاحبزادہ حضرت شاہ عبد الغنی محدث شہیر ہمراہ تھے،سکرات موت شروع ہوئی تو ان کو وصیت فرمائی کہ اتباع سُنّت کرنا،اور اہل دنیا سے پرہیز کرنا،اگر دنیا داروں کے پاس جاؤگےتو ذلیل وخوار ہوجاؤگے،ورنہ دُنیا دار کُتّوں کی طرح تمہارے دروازے پر چکر لگائیں گے۔ پھر حافظ سے سورۂ یٰسین کی تلاوت کے لیے فرمایا،تین بار سُن کر فرمایا۔اب نہ پڑھو،بہت تھوڑاٹائم باقی ہے۔عید الفطر بروز ہفتہ 1250ھ مطابق 31/جنوری 1835ءکوعصر و مغرب کے درمیان انگشت شہادت کو حرکت دیتے ہوئے واصل بااللہ ہوئے۔لاش تابوت میں رکھ کر دہلی لائی گئی۔چالیس روز بعد حضرت شاہ غلام علی قدس سرہٗ کے پہلو میں دفن کیے گئے۔اتنی مدت گذرنے کے بعد بھی معلومہوتا تھا کہ ابھی غسل دیا گیا ہےروئی سے خوشبو آتی تھی،جسے لوگ بطور تبرک لے گئے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:13)

ماخذ ومراجع:تذکرہ کاملان رام پور۔تذکرہ مشائخ نقشبندیہ۔تذکرہ علمائے اہل سنت۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abu-saeed-mujadidi-rampuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مبلغ اسلام حضرت علامہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی

نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی۔لقب: فخر العلماء،مبلغ اسلام،شیخ العرب والعجم،مجاہد جنگ آزادی۔والد کااسم گرامی: مولانا خلیل الرحمن﷫۔سلسلہ نسب اکتیس واسطوں سے حضرت عثمان بن عفان ﷫ سے ملتاہے۔(مہر منیر:398)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت جمادی الاولیٰ/1233ھ،مطابق مارچ/1818ء کو’’محلہ دربار کلاں ‘‘کیرانہ ضلع مظفر نگراترپردیش (انڈیا) میں ہوئی۔(ایضا:310/مبلغ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی:2)

تحصیلِ علم:
بارہ برس کی عمر میں قرآن مجید ناظرہ مکمل کیا،اور فارسی وعربی کی ابتدائی کتب پڑھیں،پھر تحصیل علم کےشوق میں دہلی گئے،وہاں زیادہ تر حضرت مولانا محمد حیات دہلوی(خلیفہ حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی﷫) سے پڑھا،ان کے علاوہ حضرت مولانا عبدالرحمن چشتی،حضرت مولانا احمد علی مظفر نگری،حضرت مفتی سعد اللہ مرادآبادی( مرید حضرت آل احمد اچھے میاں﷫)حضرت مولانا امام بخش اصبہانی سے درس نظامی کی تکمیل کی،اور دورۂ حدیث حضرت شاہ عبدالغنی نقشبندی سے کیا۔حکیم فیض محمد سے طب اور مصنف لوگاثم سے ریاضی پڑھی۔(علیہم الرحمۃ)

بیعت و خلافت:
غوث الاسلام،فاتحِ قادیانیت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ﷫سے سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں مکۃ المکرمہ میں طالب ہوئے۔(مہرِ منیر:120/مہر انور:333)

سیرت وخصائص:
فاتحِ عیسائیت،حامیِ اہل سنت،دافعِ اہل بدعت،قاطعِ وہابیت ودیوبندیت،مبلغ اسلام،شیخ العرب والعجم،جامع شریعت وطریقت،فخرالعلماء،سندالاصفیاء،محدث ِحرم،محسنِ اہل حرم،مجاہدِجنگ آزادی حضرت علامہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫۔آپ﷫گذشتہ صدی کی اہل اسلام کی عظیم شخصیات میں سے ایک ہیں۔آپ ﷫نےساری زندگی فروغ اسلام ،اشاعتِ اسلام،اور ترقی اسلام میں گزاری۔اس وقت اہل اسلام انتہائی کرب وتکلیف کی زندگی گزاررہے تھے۔حکومت پہلے چھن گئی تھی،اورایمان پر بھی فرنگیوں نے ڈاکے ڈالنا شروع کردیئے تھے۔انگریز نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کےلئےملک کےطول وعرض میں مشن اسکولز،اور مشن ہسپتال،اور مشن فنڈز قائم کیے۔پادریوں کی جماعتیں اہل اسلام کے خلاف سرگرم ہو گئیں، بازاروں، شاہراہوں، محلوں میں اسلام کےخلاف زہر اگلتے، دل آزار لٹریچر تقسیم کرتے پھرتے ۔ پادری فنڈر شاہی مسجد دہلی کی سیڑھیوں پر کھڑا ہوکر علماء اسلام کو چیلنج کرتا کہ ’’مناظرہ کرکے مجھے مسلمان بنالو،یا خود عیسائی ہوجاؤ‘‘۔پادری فنڈر عربی فارسی اور علوم اسلامیہ میں باظابطہ مہارت رکھتا تھا،اورہندوستانی مسلمانوں کو عیسائیت سے دور کاواسطہ بھی نہیں تھا۔علماء بھی اس مذہب سے ناواقف تھے،اور انہون نے اس طرف کبھی توجہ نہیں کی تھی۔پادری مذکور نےجگہ جگہ علماء سے گفتگو کی لیکن اسےمطمئن نہ کرسکے، اور تسلی بخش جواب نہ دےسکے،جس سے عوام کےایمان کا خطرہ پیداہونے لگاتھا۔البتہ چند محققین تھےان میں حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫بھی تھے۔آپ نے عیسائیت کے رد میں ایک کتاب’’ازالۃ الاوہام‘‘ تالیف کی۔اس کتاب کی تصنیف پر خاتم النبیین، سید المرسلین ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔تاہم پادریوں کی یلغار ہندوستان کےقریہ قریہ اور بستی بستی تک پہنچ چکی تھی۔ (مہر انور:310)

فنڈر پادری سے مناظرہ اور اس کو شکست فاش: محلہ عبد المسیح آگرہ میں 11 رجب المرجب 1270ھ، مطابق 10/اپریل 1854ء کو علی الصبح مناظرہ طےہوا۔اہل اسلام کی طرف سے مناظر ِاول مولانا کیرانوی، مناظر دوم ڈاکٹر وزیر خان،اور مولانا فیض احمد بدایونی مقرر ہوئے۔ عیسائیوں کی طرف سے مناظر اول پادری فنڈر،مناظر دوم پادری فرنچ تھے۔اس مناظرے میں علماء،عوام وحکام کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔پہلے پادری فنڈر نے اسلام کےبارے میں گفتگو کی۔اس کےجواب میں مولانا کیراانوی کھڑے ہوئے اور انجیل کےنسخ وتحریف پر بڑی فاضلانہ بحث کی اور عیسائیوں کی کتب سے نسخ وتحریف ثابت کردی،چنانچہ پادری فنڈر سات آٹھ جگہ تحریف کا قائل ہوگیا۔اور اس سے تحریر لےلی گئی۔مناظرہ تین دن جاری رہا۔دوسرےدن تعداد بہت زیادہ تھی۔پادری اور اس کےحواری جواب دینےسے قاصررہے،اورٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔یہ دن بغیر اختتامی بحث کےختم ہوگیا۔تیسرے روز حتمی فیصلے کےلئےاجلاس رکھا گیا۔لیکن تیسرے روز رسول اللہﷺکےشیر کےسامنے اسے آنے کی جرأت نہیں ہوئی اور وہ ہندوستان چھوڑ کر بھاگ گیا۔

ترکی میں پادری کا فرار:
اس دور میں حجاز مقدس ترکی کی خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا اور سلطان عبد المجید خلیفہ تھے۔ ہندوستان میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫کےہاتھوں شکست کھانےوالےپادری فنڈرنےترکی کارخ کیا،اوراستنبول جو اس دور میں قسطنطنیہ کہلاتا تھا،خلافتِ عثمانیہ کا دارالخلافہ اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا تھا۔فنڈرنےوہاں یہ تاثردیاکہ ہندوستان کےعلماء اسلام کےبارے میں ان کےاعتراضات کا جواب نہیں دےسکےاس لیےوہ عالم اسلام کےمرکزقسطنطنیہ میں آئے ہیں تاکہ یہاں کےعلماءمیں سےاگرکسی میں ہمت ہوتو ان کے اعتراضات کا سامنا کرے۔
1
سلطان عبد المجید مرحوم نے حالات کی تحقیق کے لیے حرمین شریفین میں علمائےکرام کو لکھا کہ حج کے موقع پر ہندوستان سے لوگ آئے ہوں تو ان سے صورت حال معلوم کر کے انہیں صحیح رپورٹ دی جائے ۔ جب سلطان کا پیغام مکہ مکرمہ پہنچا تو مولانا کیرانوی ہجرت کرکے مکہ مکرمہ میں بسیرا کر چکے تھے ۔ علمائےکرام نے سلطان کو لکھا کہ جس ہندوستانی عالم دین سے پادری فنڈر کا مقابلہ ہوا تھا وہ مکہ مکرمہ میں موجود ہیں ۔ چنانچہ سلطان عبد المجید مرحوم نے مولانا رحمت اللہ کیرانوی کو قسطنطنیہ بلا لیا اور پادری فنڈر کو دعوت دی کہ وہ مولانا سے جس موضوع پر چاہے مناظرہ کر لیں ۔ پادری فنڈر کو جب معلوم ہوا کہ ان سے مناظرے کے لیے وہی آگرہ والے مولانا رحمت اللہ آگئے ہیں تو اس نے ترکی سے بھی راہِ فرار اختیار کرنے میں عافیت جانی اور فرار ہوگئے۔

خلیفہ سلطان عبد المجید مرحوم بہت متاثر ہوئے اور مولانا رحمت اللہ کیرانوی سے فرمائش کی کہ وہ اسلام اور مسیحیت کے حوالے سےمتعلقہ مسائل پرمبسوط کتاب لکھیں جو سرکاری خرچے پر چھپوا کر پوری دنیا میں تقسیم کی جائے گی۔ چنانچہ مولانا نے ’’اظہار الحق‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب تصنیف کی جس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر سلطان ترکی نےاسےتقسیم کرایا۔یہ آپ کابہت بڑا کارنامہ ہے،اس سےزیادہ جامع کتاب اس موضوع پر نہیں لکھی گئی۔یہ کتاب عربی زبان میں ہے۔(مہر منیر:399)

جنگِ آزادی میں روشن کردار: جہاد آزادی 1857ء میں مولانا فضل حق خیرآبادی،مولانا شاہ احمد اللہ مدراسی،مولانا کفایت علی کافی ،مفتی عنایت احمد کاکوروی،مفتی صدرالدین دہلوی،مولانا رحمت اللہ کیرانوی،حاجی امداداللہ مہاجر مکی،مولانا رضا علی خان بریلوی علیہم الرحمہ۔ان علماء کرام نے جہاد آزادی میں وہ کارنامے انجام دئیے کہ قرون اولی ٰ کے مسلمانوں کی یا د تازہ ہوگئی۔اگر ان علماء کرام کی قربانیاں نہ ہوتیں توقیام پاکستان کاخواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا۔مولانا کیرانوی﷫ کی عظمت ومقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ جب جہاد آزادی شروع ہوا تو جامع مسجد کیرانہ کی سیڑھیوں پر نقارہ پر لوگوں کوجمع کیا جاتااور یہ اعلان ہوتا۔’’ملک خداکا،اور حکُم مولانا رحمت اللہ کا‘‘۔اس کےبعد آپ کی تقریر ہوتی لوگوں کو جہاد کی ترغیب دی جاتی۔آپ نےانگریز کوناکوں چنے چبوادئیے تھےلیکن اپنوں کی مخبری وغداری،اورعدم مرکز وتنظیم کی وجہ سے ناکامی پرحجاز مقدس کی طرف ہجرت فرمائی۔آپ کےوارنٹ گرفتاری جاری ہوئےایک ہزار انعام مقررکیاگیا۔تلاش میں ناکامی پر آپ کی جائیداد نیلام کردی گئی۔(مہر انور:317)

اہل حرم پر احسان: جب آپ مکۃ المکرمہ تشریف لےگئے توآپ نےمحسوس کیا کہ یہاں ایک ایسی درسگاہ ہونی چاہیے کہ جہاں پوری دنیا سےمتلاشیانِ علم آکر علم حاصل کرسکیں،کیونکہ مکۃ المکرمہ کوئی ایسی درسگاہ موجود نہیں تھی۔چھوٹے چھوٹے مکتب تھے۔چنانچہ کلکتہ کی ایک صاحب حیثیت خاتون ’’صولت النساء بیگم‘‘کی رقم سےایک عظیم درسگاہ بنام’’مدرسہ صولتیہ‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔جہاں پوری دنیاسےتقریباً چھ،سات سو طلباء قیام وطعام کی سہولت کےساتھ مدرسے میں تعلیم حاصل کرتےتھے۔(مہرانور:318)

تلبیس ذریت ِابلیس: علماء دیوبند کاآج تک یہی پروپیگنڈہ ہے کہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ ہمارےہم نواتھے،اور ان کےنام پر لوگوں کوگمراہ کرنےکےلئےمختلف مقامات پر ان کےنام کےمدارس ومساجد بنائے ہوئے ہیں۔یہ ایک مولانا کیرانوی کیا،علماء دیوبند نےہراس شخص کو’’دیوبندیانے‘‘کی صف میں لانے کی کوشش کی جس نے کھلم کھلا ان کی تضلیل وتکفیر نہیں کی حالانکہ اس وقت حالات مختلف تھے۔چنانچہ ان کےمشہور عالم مولوی خلیل احمد سہارنپوری لکھتے ہیں:’’اس آخر وقت میں اب مولوی رحمت اللہ صاحب تمام علماء مکہ پر فائق ہیں،اور باقرار علماء ِ مکہ اعلم ہیں‘‘۔(مہر انور:321/بحوالہ براہین قاطعہ:263)۔یہ تعریف وتوصیف اس لئے کی جارہی ہے تاکہ عام مسلمانوں میں مولانا کیرانوی سےہماری وابستگی کا چرچہ رہے۔ورنہ حقیقت میں مولانا عبدالسمیع رام پوری،مولانا غلام دستگیر قصوری،مولانا کیرانوی ایک ہی صف اور عقیدہ کےآدمی ہیں۔

حقیقت: قارئین کرام!مولانا کیرانوی﷫ کاعقیدہ ان کی ان تقریضات اورہماری آنےوالی تحریرات سےخوب واضح ہوجائے گا۔جشن ِ دیوبند،جشن جمعیت وغیرہ منانےوالے،اور جشن عید میلادالنبیﷺکوشرک وبدعت کہنے والے دیکھیں! کہ حضرت مولانا کیرانوی﷫میلاد النبیﷺکےبارے میں کیامشرب رکھتےتھے۔فرمایا:’’میرے اساتذۂ کرام(آپ شاہ ولی اللہ،شاہ عبدالعزیز علیہمالرحمہ کےشاگردوں کےشاگرد ہیں)کا اور میراعقیدہ مولد شریف (میلادالنبیﷺ منانے)کےباب میں قدیم سےیہی تھااور یہی ہے بلکہ بحلف سچ سچ ظاہر کرتاہوں کہ میرا ارادہ یہ ہے کہ ؏:بریں زیستم ۔۔۔ہم بریں بگزرم‘‘۔کہ اسی پر جیوں اور اسی عقیدے پر دنیا سے جاؤں۔
2
انوار ِساطعہ  اور تقدیس الوکیل  عن توہین الرشید والخلیل پر جوآپ نےتقریظیں تحریر فرمائی ہیں۔وہ ان کےلئے ’’تازیانہ عبرت ہیں‘‘ لیکن اس کےباوجود یہ دجل وفریب،اور کذب بیانی سےعوام کو گمراہ کررہے ہیں۔چند اقتباسات پر اکتفا کرتاہوں۔آپ﷫ فرماتے ہیں:’’سو کہتاہوں کہ میں مولوی رشید کو رشید سمجھتا تھا ۔ مگر میرے گمان کےخلاف کچھ اور ہی نکلے‘‘۔پھر فرمایا:’’ میں بھی اس زمانے کے حالات اور حضرت رشید اور ان کےچیلوں چانٹوں کی تقریر اور تحریر سے پناہ مانگتاہوں‘‘۔مزید تفصیل کےلئے انوار ساطعہ،تقدیس الوکیل،اور مہر انور ،مبلغ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا مطالعہ نہایت مفید ہوگا(تونسویؔ غفرلہ)

غوث الاسلام حضرت سید نا پیر مہر علی شاہ گولڑوی ﷫سےعقیدت: مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫کےشاگرد قاری عبداللہ الہ آبادی﷫کےایک خط میں تحریرہے کہ مولانا کےوصال کےوقت میں موجود تھا۔وہ اپنی بیماری کےدوران فرماتےتھے:’’ گولڑہ جانے کوجی چاہتاہے،اور وصال سے تھوڑی دیر قبل فرمایا کہ میری آنکھوں کے سامنےپیر صاحب کاوہ سبز رومال پھر رہاہے‘‘۔اس وقت دیگر افراد آپ کی خدمت میں موجود تھے سب ان باتوں کی تصدیق کرتےتھے۔(مہر منیر:120)

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 22 رمضان المبارک 1308ھ مطابق یکم مئی 1891ءکوہوا۔ جنت المعلیٰ میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کےجوار میں دفن ہوئے۔ آپ کےساتھ مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، شیخ الدلائل مولانا شاہ عبد الحق مکی علیہم الرحمہ آرام فرماہیں۔

ماخذ و مراجع:
مہر منیر ۔ مہر انور ۔ مبلغ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-rehmatullah-kiranwi
1