🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی ❶ ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ @islaamic_Knowledge پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال تاریخ شہادت : 21 رمضان ۰۴؁ ھ مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
#فیضان_حضرت_علی_مرتضی
ولادت حضرت مولا علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ
@islaamic_Knowledge
پَیدائِش ¹³رجب المرجب عُمر ⁶³سَال
تاریخ شہادت  :  21 رمضان 40 ھ
مدت خلافت : ❹برس ❽ماہ ❾دِن
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شاہ ابو سعید مجددی رام پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: عارف باللہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
آپ کا سلسلہ نسب حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے بایں طور ملتا ہے: حضرت مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (تذکرہ کاملان رام پور ص:14)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 2 ذیقعد 1196ھ، مطابق اکتوبر 1782ء کو رام پور (انڈیا) میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
تقریباً دس سال کی عمر میں آپ نے قرآن شریف حفظ کر لیا بعد ازاں قاری نسیم سے علم تجوید حاصل کیا ۔ آپ قرآن مجید ایسی ترتیل سے پڑھا کرتے تھے کہ سننے والے محو ہو جایا کرتے ۔ حتیٰ کہ جب آپ حرم مکہ معظّمہ میں وارد ہوئے تو اہلِ عرب نے آپ کی قرأت سُن کر تعریف و تحسین کی ۔ حفظ قرآن کے بعد علوم عقلیہ و نقلیہ مفتی شرف الدین اور مولانا رفیع الدین بن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حاصل کیے ۔ حدیث کی سند اپنے مرشد سے اور حضرت شاہ سراج احمد بن حضرت محمد مرشد مجددی اور شاہ عبد العزیز دہلوی سے حاصل کی ۔ (تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ص:439)

بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی سے آبائی طریقے پر مرید ہوئے، اور والد صاحب کےایماء پر حضرت شاہ درگاہی سے بیعت ہوئے ۔ حضرت شاہ صاحب درگاہی نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ابھی تشنگی باقی تھی آپ نےحضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی﷫ کوخط لکھا، انہوں نےجواب میں ارشاد فرمایا: کہ اس وقت میری نظر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی﷫ سے بہتر کوئی نہیں ۔ پھر آپ حضرت شاہ غلام علی دہلوی﷫ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بتفصیل وکمال ان سے حاصل کیا۔شاہ صاحب﷫نے خاص عنایت فرماکر خلافت سےمشرف فرمایا،اور اپنی خانقاہ میں اپنا قائم مقام بنایا۔(ایضا:439)

سیرت و خصائص:
امام العلماء والعارفین، سند المتقین، آفتاب شریعت، ماہتاب طریقت، مجمع البحرین حضرت شاہ ابو سعید مجددی رام پوری ۔ آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےاہم شیخ طریقت اور عارف باللہ مجددوقت حضرت شاہ غلام علی دہلوی ﷫کےخلیفۂ اعظم تھے ۔ آپ ﷫تمام علوم و معارف کے جامع تھے اور حضرت امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی ﷫کے خاندان کےفرد فرید تھے۔ابتدائے عمر ہی سے آثارِسعید آپ میں پائے جاتے تھے۔ فرماتے تھے کہ مجھے اوائل عمر میں شہر لکھنؤ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم ایک مکان میں اُترے راستے میں ایک درویش ستر برہنہ بیٹھا ہوتا مگر جب وہ مجھے دیکھتا تو ستر درست کرلیتا۔ کسی نے اُس سے سبب دریافت کیا۔ اُس نے جواب دیا کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ ان کو ایسا منصب حاصل ہوگا کہ اپنے اقارب کے مرجع ہوں گے چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:438)

عین تحصیل علم میں خدا طلبی کا شوق پیدا ہو۔ پہلے اپنے والد بزرگوار سے ارادت کی جو اپنے آبائے کرام کے طریقہ پر مستقیم اور تارک دنیا اور ہر وقت اوراد و اشغال میں مشغول رہتے تھے پھر اُن کی اجازت سے حضرت شاہ درگاہی کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کا سلسلہ دو واسطہ سے حضرت خواجہ محمد زبیر قدس سرہ سے ملتا ہے۔ حضرت شاہ درگاہی کو استغراق اس قدر رہتا تھا کہ نماز کے وقت مرید آپ کو آگاہ کردیا کرتے تھے اور توجہ ایسی تیز تھی کہ اگر ایک وقت میں سو آدمیوں کی طرف متوجہ ہوتے تو سب بیہوش ہوجایا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ آپ کے بہت سے مرید ہوگئے اور حلقہ میں بیہوشی و وجد اور صَیحہ (چیخ)و نعرہ ہوا کرتا۔ چوں کہ نسبت مجددیہ میں یہ امور مرتفع ہوجاتے ہیں اور صحابہ کرام کی مثل کمال افسردگی اور آسودگی میں عمر گزرتی ہے۔ایک مرتبہ رامپور میں حضرت شاہ غلام علی﷫ کی بھی زیارت کی تھی اس لیے ابھی طلبِ خدا باقی تھی آپ رامپور سے دہلی تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قاضی ثناء اللہ پانی پتی کو اپنی خدا طلبی کے بارے میں ایک خط لکھا۔ جس کے جواب میں حضرت قاضی صاحب نے نہایت تعظیم سے آپ کو تحریر فرمایا کہ اس وقت شاہ غلام علی سے بہتر کوئی نہیں۔ پس آپ بتاریخ 7 محرم الحرام 1225ھ میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بکمال تفصیل حاصل کیا۔
1