🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آپ﷫ہرقسم کی  شہرت اور دکھاوے کےلئے’’اظہارِ کرامت‘‘کوبراسمجھتےتھے۔ایک دن ایک شخص نےآپ سےذکرکیا کہ شاہ عبدالکریم بلڑی والے﷫ (جد امجد حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی﷫)ایک دفعہ درویشوں کولے کر دریاسےاوپر چلتےہوئےہوئےدوسرےکنارےپہنچ گئےاور کسی کاکپڑابھی گیِلانہیں ہوا۔آپ نےفرمایا:’’کرامت کادن ابھی آگےہے۔مَردوں کی مردانگی کاکل قیامت کےدن پتہ چلےگاکہ اپنی جماعت کوسلامتی کےساتھ دارلسلام (جنت) تک کون  پہنچاتاہے‘‘۔(سندھ کے صوفیاء نقشبند ص:327)

تاریخِ وصال:آپ کاوصال 4/ذی قعدہ 1188ھ مطابق جنوری/1775ءکوبوقتِ چاشت ہوا۔جس حجرےمیں آپ مدفوں ہیں اس کےمتعلق بشارت دیتے ہوئے فرمایا: ’’اس حجرے کے اردگرد جوبھی مدفون ہیں وہ سب مرحوم ہیں۔اس حجرے کی خاک اگرکسی قبر میں رکھ دی جائے تواس کی نجات کی امید رکھنا۔یہاں سعادت مندکوہی بھیجاجائےگا۔جوایک بارہمارےپاس یہاں آئےگاہم اس کاہاتھ نہیں چھوڑیں گے‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبندجلداول:332)محبوب الصمد حضرت خواجہ گل محمد آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔مزارپرانوارلواری شریف ضلع بدین میں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ ومراجع: سندھ کےصوفیائے نقشبندجلد اول۔تذکرہ اولیاء سندھ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-zaman-awwal-makhdoom
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت غیاث الدین گیلانی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ سید عبد القادر گیلانی لاہوری کے صاحبزادے تھے ۔ جن کا ذکر خیر خاندان عالیہ قادریہ کے بزرگوں کے باب میں پہلے صفحات پر گزر چکا ہے۔ آپ بڑے بزرگ متقی اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔ جذب و ذوق کے مالک تھے۔ عام لوگوں میں دولت شاہ کے نام سے مشہور تھے مزنگ میں محلہ دولت آباد آپ کے نام پر آباد ہوا تھا۔ اگرچہ آپ کو اپنے والد محترم سے سلسلہ قادریہ میں خلافت حاصل تھی ۔ لیکن آپ نے دوسرے سلاسل تصوف سے بھی پورا پورا فیض پایا تھا لوگ آپ کو پیر سلاسل عظام کہا کرتے تھے۔ آپ کی آئی نسبت چند واسطوں سے حضرت غوث الاعظم محبوب سبحانی﷜ سے ملتی ہے۔

سیّد غیاث الدین دولت شاہ بن سید عبدالقادر ثانی بن سید جمال الدین بن سید جلال الدین بن سید یوسف بن سلطان رشید بن سید ادہم بن سیّد محمود بن سید اسماعیل بن سید داود بن تاج الاقطاب سید فتح نصر بن قطب الآفاق سید عبدالرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبدالقادر گیلانی قدس سرہ۔

سید غیاث الدین کی والدہ ماجدہ امیر ہمایونی سیدہ بھاکرمی۔ میر کفایت خان کی بیٹی تھیں ان کے بطن میں سے تین بیٹے سلطان اکبر غیاث الدین دولت شاہ اور سید ابوبکر حاجی پیدا ہوئے یہ تینوں حضرات مع سید غیاث الدین محبوب و بزرگ تھے۔

وفات:
آپ کی وفات بتاریخ ۲۱؍رمضان المبارک ۹۹۰ھ کو ہوئی ـ

جبکہ آپ کی عمر شریف بہتر (۷۲) سال تھی۔ آپ کے بھائی سلطان اکبر ۲۵ ذیقعدہ ۹۸۹ھ میں ہوئی ان دونوں بھائیوں کے مزارات اپنے والد کے مزار کے پہلو میں ہیں۔

سید غیاث الدین کی وفات کے بعد آپ کے بیٹے اکرام الدین المشہور برشاہ بہاگنا مسند نشین ہوئے ۲۵؍ جمادی الثانی ۹۹۳ھ پچیس سال کی عمر میں فوت ہوئے۔

شاہ دولت ولی اہل کمال
افضل الاولیا ست تاریخش
۹۹۰ھ

رفت چوں ازجہاں بعزت و جاہ
ہم خرد گفت مرد دولت شاہ
۹۹۰ھ

(خزینۃ الاصفیاء)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghayasuddin-gilani-lahori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام علی رضا رضی الله تعالیٰ عنه

نام و نسب:
اسم گرامی: امام علی بن امام موسیٰ کاظم ۔ کنیت: ابو الحسن ۔ القابات: صابر، ولی، ذکی، ضامن، مرتضیٰ اور سب سے مشہور لقب امام علی رضا ہے ۔ آپ حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے لختِ جگر اور آئمہ اہل بیت میں آٹھویں امام ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام علی رضا بن حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ) ۔

آپ کی والدہ کے ناموں میں اختلاف ہے۔مثلاً: نجمہ، ارویٰ، شمانہ، ام البنین، استقراء ۔ اصح ’’ نجمہ ‘‘ ہے ۔ یہ حضرت حمیدہ والدہ محترمہ حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں ۔ (بارہ امام ص:166)

ولادت کی بشارت:
ایک رات حضرت حمیدہ﷜ نے سرکارِ دو عالم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو آپ نے فرمایا: اپنی کنیزنجمہ کا نکاح اپنے بیٹے موسیٰ کاظم سے کردو۔ اللہ اس سے ایک ایسا بیٹا دے گا جو روئے زمین کے بہترین انسانوں میں سے ہوگا۔آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ جب میں حاملہ ہوئی تو کبھی بھی اپنے شکمِ میں گرانی محسوس نہ کی اور جب میں سوجاتی تو اپنے شکم سے سبحان اللہ،سبحان اللہ کی آواز سنتی جس سے میرے دل میں خوف کا غلبہ طاری ہوجاتا لیکن جب میں بیدار ہوجاتی تو پھر کوئی آواز سننے میں نہ آتی تھی۔(خزینۃ الاصفیاء:100/اقتباس الانوار/بارہ امام166)۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 11/ربیع الاول 153ھ،مطابق 12/مارچ 770ء کومدینۃ المنورہ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ خاندانِ نبوت کے چشم وچراغ اور ان کی علمی وروحانی وراثتوں کے مالک تھے۔اپنے والد گرامی اور فقہاء ومحدثینِ مدینہ منورہ (زادہا اللہ شرفا وتکریما)سے تمام علوم دینیہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت ہی ذہین وفطین اور اعلیٰ درجے کے عالم وفاضل تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو رب کریم نے فہمِ قرآن کی عظیم دولت سے ایسا نوازاتھا کہ آپ اکثرسوالات کے جوابات آیاتِ قرآنی سے دیا کرتےتھے۔آپ اپنے وقت کےعظیم محدث اورفقیہ تھے۔(جامع کرامات اولیاء:ج2،ص،312)

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ کےآٹھویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔آپ اپنے والد گرمی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ الرحمہ کےخلیفۂ اعظم اور اپنے وقت کےامامِ برحق تھے۔شجرہ شریف میں اس طرح منظوم ہے:

؏:صِدقِ صادق کاتصدق صادق ُالاسلام کر۔۔۔۔۔۔۔ بے غَضَب راضی ہو کاظِم اور رضا کے واسطے

سیرت و خصائص:
امام الھدیٰ، منبعِ جود و سخا، جانشینِ مرتضیٰ،وارث علوم و کمالاتِ مصطفیٰ ﷺ، لختِ جگر سیدہ فاطمۃ الزہرا، جامع کمالاتِ علمیہ و روحانیہ، عارف اسرار ورموزِ قرآنیہ حضرت امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنھما ۔

آپ رضی اللہ عنہ جامع کمالات اور عظیم اوصاف کے مالک تھے ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو صوری ومعنوی خوبیوں سے بے حساب مالامال کیا تھا ۔ پہلی مرتبہ دیکھنے والا ہی محسوس کر لیتا تھا کہ یہ خاندان نبوت کا چشم وچراغ ہیں۔جب کسی موضوع پر سخن فرماتےتوعلم کے دریا بہاتے،جب مامون کی مجلس میں ایک سوال کیا گیا،قاضیوں کی ایک جماعت جواب نہ دے سکی،جب آپ نےجواب ارشاد فرمایا تو حاضرین و سامعین عش عش کر اٹھے، اور علماء کو آپ کےعلم وفضل اور تفقہ فی الدین کا علم الیقین ہوگیا، اور خلیفہ مأمون نے آپ کےعلمی کمالات دیکھ کر اپنی صاحبزادی کا اسی وقت آپ سے نکاح کردیا ۔ (شریف التواریخ)

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قادری علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: امام ابن حجرمکی صواعق محرقہ میں نقل فرماتے ہیں : جب امام علی رضا رضی اﷲ تعالٰی عنہ نیشاپور میں تشریف لائے، چہرہ مبارک کے سامنے ایک پردہ تھا، حافظانِ حدیث امام ابوذرعہ رازی و امام محمد بن اسلم طوسی اوران کے ساتھ بیشمار طالبانِ علم وحدیث حاضرِ خدمتِ انور ہوئے اور گڑگڑا کر عرض کیا اپنا جمالِ مبارک ہمیں دکھائیےے اور اپنے آبائے کرام سے ایک حدیث ہمارے سامنے روایت فرمائیے، امام نے سواری روکی اور غلاموں کو حکم فرمایا پردہ ہٹالیں خلقِ خدا کی آنکھیں جمال مبارک کے دیدار سے ٹھنڈی ہوئیں۔ د و گیسو شانہ مبارک پر لٹک رہے تھے۔ پردہ ہٹتے ہی خلق خدا کی وہ حالت ہوئی کہ کوئی چلّاتاہے، کوئی روتا ہے، کوئی خاک پر لوٹتا ہے، کوئی سواری مقدس کا سُم چومتا ہے۔ اتنے میں علماء نے آواز دی :خاموش سب لوگ خاموش ہورہے۔
1
دونوں امام مذکور نے حضور سے کوئی حدیث روایت کرنے کو عرض کی حضور نے فرمایا: حدثنی ابوموسی الکاظم عن ابیہ جعفر الصادق عن ابیہ محمدن الباقرعن ابیہ زین العابدین عن ابیہ الحسین عن ابیہ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنھم قال حدثنی حبیبی وقرۃ عینی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال حدثنی جبریل قال سمعت رب العزۃ یقول لا الٰہ الااﷲ حصنی فمن قال دخل حصنی امن من عذابی۔ یعنی امام علی رضا امام موسٰی  کاظم وہ امام جعفر صادق وہ امام محمدباقر وہ امام زین العابدین وہ امام حسین وہ علی المرتضٰی  رضی ﷲ تعالٰی عنہم سے روایت فرماتے ہیں کہ میرے پیارے میری آنکھوں کی ٹھنڈک رسول ﷲ ﷺ نے مجھ سے حدیث بیان فرمائی کہ ان سےجبریل نے عرض کی کہ میں نے ﷲ عزوجل کو فرماتے سنا کہ لا الٰہ الا ﷲ میرا قلعہ ہے تو جس نے اسے کہا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوا، میرے عذاب سے امان میں رہا۔یہ حدیث روایت فرماکر حضور امام علی رضا رواں ہوئے اور پردہ چھوڑ دیا گیا، دواتوں والے جو ارشاد مبارک لکھ رہے تھے شمار کئے گئے ، بیس 20ہزار سے زائد تھے۔

امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا : لو قرأت ھذاالاسناد علی مجنون لبرئ من جننہ۔ یہ مبارک سند اگر مجنون پر پڑھوں تو ضرور اسے جنون سے شفا ہوجائے۔( الصواعق المحرقہ الفصل الثالث فی الاحادیث الواردۃ فی بعض اہل البیت مطبوعہ مکتبہ مجددیہ ملتان ص ۲۰۵)۔

اقول فی الواقع جب اسمائے اصحاب کہف قدست اسرارہم میں وُہ برکات ہیں، حالانکہ وُہ اولیائے عیسویین میں سے ہیں تو اولیاء محمدیین صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کا کیا کہنا، اُن کے اسمائے کرام کی برکت کیا شمار میں آسکے۔(فتاویٰ رضویہ: ج9،کتاب الجنائز)۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہر ماہ اہتمام کے ساتھ تینروزے رکھا کرتے ۔اس قدر عاجزی پسند تھے کہ غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی انفرادی کوشش نے بے شمار کفارکودامنِ اسلام سے وابستہ کیا ۔مشہور بزرگ حضرت سیدنا معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہہی کی دعوتِ اسلام پر مسلمان ہوئے اور آسمان ولایت کے روشن ستارے بن کر چمکے ۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی ومکاشفات ومغیبات کا خاص علم عطاء فرمایا تھا۔آپ آئندہ کےرونما ہونے والے واقعات کوپہلے ہی دیکھ اور معلوم کرلیا کرتے تھے۔اسی طرح جب مامون الرشید نےاپنے بعد آپ کو اپنا ولی عہد منتخب کیا،تو آپ نے اس کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے فرمایا:قبول العھدالذی کتبہ علی بن موسٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما الی المامون انک قد عرفت من حقوقنا ما لم یعرفہ اباؤک فقلبت منک عھدک الا ان الجفروالجامعۃ یدلان علی انہ لایتم۔ یعنی مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا بن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد و لیعہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا۔( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)۔(فتاویٰ رضویہ:ج29،کتاب الشتٰی)۔

تاریخِ وصال:
امام علی رضا رحمۃ رضی اللہ عنہ کو انگوروں میں زہر ملا کر دیا گیا جس سے آپ 21/ رمضان المبارک 203ھ کو شہادت سے سرفراز ہوئے۔ آپ کا مزار شریف مشہد مقدس (ایران) میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
بارہ امام ۔ جامع کرامات اولیاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ اقتباس الانوار ـ شریف التواریخ ۔ فتاویٰ رضویہ شریف ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ali-raza-bin-imam-musa-kazim
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ چہاتم، دامادِ رسول، والدِ حسنین کریمین، امیر المؤمنین، حضرت علی المرتضیٰ، شیر خدا، حیدرِ کرار رضی الله تعالیٰ عنه

نام و نسب:
اسمِ گرامی: والد نے آپ کا نام ’’علی‘‘ اور والدۂ ماجدہ نے ’’حیدر‘‘ رکھا ۔ کنیت: ابوالحسن اور ابو تراب ہے ۔ اَلقاب: امیر المومنین، امام المتقین، صاحب اللواء، اسد اللہ (شیرِ خدا)، کرار، مرتضیٰ، مولا مشکل کشا ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ۔

تاریخِ ولادت:
امیر المؤمنین سیّدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ 13 رجب المرجّب، بروز جمعۃ المبارک، عام الفیل کے 30 سال بعد، مطابق 17 مارچ 599ء کو پیدا ہوئے ۔

شیر خدا کی سب سے پہلی غذا:
آپ کی والدۂ ماجدہ سیّدہ فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:

’’جب میرے لختِ جگر علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے تو رسولِ اکر مﷺنے آپ کے مُنھ میں لُعابِ دہن ڈالا اور اور اپنی ’’مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی‘‘ والی زبانِ مبارک چوسنے کے لیے دی ،آپ حضورﷺ کی زبان چوستے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ رسولِ اکرم ﷺ کی زبانِ اقدس کو چوستے رہے اور غذا حاصل کرتے رہے۔‘‘ (السیرۃ الحلبیۃ، ج1، ص282)

فضائل و مناقب:

امام احمد فرماتے ہیں:
’’جتنی اَحادیث حضرت مولا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں وارد نہیں ہوئی ہیں ۔ ‘‘ (تاریخ الخلفاء، ص:364)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسولِ اکرمﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں ۔

بچپن سے ہی رحمتِ عالم ﷺ کے زیرِ تربیت رہے ۔

اس بات پر اجماع ہے کہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے آپ ہی ہیں ۔

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دعوتِ اسلام کے ہر مرحلے اور آزمائش میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے ۔

2ھ میں مدینۂ منوّرہ آنے کے بعد حضور ﷺ نے انھیں اپنی دامادی کا شرف بخشا ۔

ہجرتِ مدینہ کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تمام غزوات (بدر، اُحد، خندق، بنی قریظہ اور حنین، خیبر وغیرہ) میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیے ۔

متعدد سَرایا میں آپ کو کمانڈر بنا کر بھیجا گیا، جنھیں آپ نے کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچایا ۔

حضور ﷺ کے وصال کے بعد اُن کے غسل اور تجہیز و تکفین کی سعادت میں بھی آپ شریک تھے ۔

غرض آغازِ بعثت سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک آپ حضور نبی اکرم ﷺ کے دست و بازو بنے رہے ۔

حضرت صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہاور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ مَجلسِ شوریٰ کے رکن تھے ۔ حضرات شیخین کو آپ کے مفید مشوروں پر بڑا اعتماد تھا ۔

اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی آپ آخر تک حمایت کرتے رہے ۔

زبانِ نبوّت سے آپ کو ’’اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌّ بَابُہَا‘‘ کی سند ملی تھی ۔

آپ فرمایا کرتے تھے کہ قرآنِ مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق میں یہ نہ جانتا ہوں کہ وہ کس بارے میں اور کہاں اور کس کے متعلق نازل ہوئی ۔

فقہ میں آپ کی ذاتِ گرامی صحابۂ کرام کا مرجع تھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ خود مجتہد اور فقیہ تھے، لیکن آپ سے بھی استفادہ کرتے تھے حتّٰی کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اختلاف کے باوجود اکثر مواقع پر آپ کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کے فتاوٰی اور مروی اسناد پر فقہِ حنفی کی بنیاد ہے، آپ کے فیض یافتہ تھے ۔

تصوف کا سرچشمہ بھی آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے۔ صوفیا کے تمام بڑے سلاسل حضرت خواجہ حسن بصریرضی اللہ تعالٰی عنہ کے واسطے سے آپ تک پہنچتے ہیں ۔

آپ شاعری کا بھی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے ۔

علمِ نحو کی بنیاد بھی آپ ہی نے رکھی۔ سب سے پہلے ابو لاسود دؤلی کو نحو کے اصول سکھائے تھے، جس نے بعد میں ان اصولوں کی روشنی میں نحو کے قواعد مرتّب کیے ۔

آپ کی زندگی ہی میں آپ سے بغض رکھنے والے اور آپ کی تعریف میں غلو کرنے والے لوگ موجود تھے ۔ مشہور صحابی حضرت ابو سعید خدریرضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں منافقوں کو بُغضِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہسے پہچان لیتا ہوں ۔ (ترمذی)

علم کے ساتھ عمل کا یہ حال تھا کہ حضرت زبیر بن سعید رضی اللہ تعالٰی عنہکا بیان ہے کہ بنی ہاشم میں آپ سے بڑھ کے کوئی عبادت گزار نہ تھا۔ حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی تھیں کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قائم اللیل اور صائم النہار تھے ۔
1
مختصر سیرتِ مرتضوی:
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ضرار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں کچھ بیان کریں ۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو تقریر کی وہ سیرتِ مر تضوی پر ایک جامع تبصرہ ہے ۔

انھوں نے کہا:
’’حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے ۔ فیصلہ کن بات کہتے تھے، عادلانہ فیصلے کرتے تھے ۔ اُن کی ہرسمت سے علم پھوٹتا اور حکمت ٹپکتی تھی ۔ دنیا اور اس کی دل فریبیوں سے و حشت کرتے تھے ۔ رات کی تاریکی و وحشت سے محبّت کرتے تھے، عبرت پذیر اور بہت غور و فکر کرنے والے تھے ۔ معمولی لباس اور جو کا کھانا پسند کرتے تھے ۔ ہم میں ہم ہی لوگوں کی طرح رہتے تھے ۔ دین داروں کی تعظیم کرتے تھے۔ غریبوں کو مقرب بناتے تھے ۔ ان کے سامنے طاقتور باطل میں طمع نہیں کر سکتا تھا اور کمزور انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا ۔ بعض مواقع پر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات گزر رہی ہے، ستارے جھلملا رہے ہیں اور وہ اپنی داڑھی مٹھی میں دبائے ایک بے قرار اور غم رسیدہ انسان کی طرح اشک بار کہہ رہے ہیں: اے دنیا! کسی اور کو فریب دے تو مجھ سے لگاوٹ کر رہی ہے،میری مشتاق ہے۔ افسوس! افسوس! میں نے تجھے تین طلاقیں دیں۔ تیری عمر تھوڑی اور تیرا مقصد حقیر ہے۔ ہائے ہائے ،سفر طویل، راستہ و حشت ناک اور زادِ سفر تھوڑا ہے۔‘‘

دورانِ تقریر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں سے آنسوں بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے تھے، اور فرما رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہاس سے بھی بڑھ کر شان کے مالک ہیں، اور پھر ان کو انعامات سے نوازا۔

صحابۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کی آپس میں جو محبّت تھی مذکورہ واقعے سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ (عیون الحکایات، ص:25)

مولا علی کا پیغام محبین کے نام:
امیر المؤمنین سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر و افضل ابو بکر اور عمر ہیں ۔ ‘‘

پھر فرمایا:
’’لایجتمع حبی وبغض ابی بکر و عمر فی قلب مؤمن۔‘‘ ترجمہ: ’’میری محبّت اور شیخین کریمین ابو بکر و عمر کا بغض کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا ۔ ‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی، ج:۳، حدیث: ۳۹۲۰)

وصال:
امیر المؤمنین سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم 4 سال 8 ماہ نو دن تک مسندِ خلافت پر رونق افروز رہے ۔ 17 یا 19 رمضان المبارک کو ایک بدبخت کے قاتلانہ حملے سے شدید زخمی ہو گئے اور بروز اتوار21 رمضان 40ھ مطابق 27 جنوری 661ء کی رات جامِ شہادت نوش فرما گئے ۔ (تاریخ الخلفاء، ص:۱۳۲)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-ul-murtaza-biography
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-09-1444 ᴴ | 12-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-09-1444 ᴴ | 13-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1