🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-09-1444 ᴴ | 12-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-09-1444 ᴴ | 12-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ محمد زمان مخدوم اول رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ محمد زماں ۔ لقب: مخدوم زماں، مخدوم اول، سلطان الاولیاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زمان بن شیخ حاجی عبد اللطیف نقشبندی بن شیخ طیب بن شیخ ابراہم بن شیخ عبد الواحد بن شیخ عبد اللطیف بن شیخ احمد بن شیخ بقا بن شیخ محمد بن شیخ فقرا للہ بن شیخ عابد بن شیخ عبد اللہ بن شیخ طاؤس بن شیخ علی بن شیخ مصطفیٰ بن شیخ مالک بن شیخ محمد بن ابو الحسن بن محمد بن طیار بن عبد الباری بن عزیز بن فضل بن علی بن اسحاق بن ابراہیم ابو بکر بن قائم بن عقیق بن محمد بن عبد الرحمٰن بن امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق ۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔
آپ کا تعلق نسب نامہ کی ’’بکری شاخ‘‘ سے ہے ۔ جو مؤرخین کے نزدیک سب سے صحیح ترین اور حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے سب سے قریب ترین شاخ ہے ۔ آپ کے اجداد بعہد خلیفہ ہارون الرشید 786ء کے لگ بھگ ترک وطن کرکے سندھ تشریف لائے ۔ اس وقت سندھ میں عربوں کی حکومت تھی اس لئے یہاں اس خاندان کو بڑی عزت و احترام حاصل ملا ۔ یہ حضرات واقعہ کربلا کے بعد اس قدر محتاط ہو گئے کہ ہر قسم کے حکومتی عہدوں سے دور رہے ۔ سندھ میں یہ حضرات ٹھٹھ کے قریب ’’ننگر‘‘ میں قیام پذیر ہوئے ۔ حضرت مخدوم کے تمام آباؤ اجداد سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت وارشاد کا سلسلہ رکھتے تھے ۔ آپ کے والدِ گرامی شیخ حاجی عبد اللطیف نقشبندی پہلے شخص ہیں، جنہوں نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی اشاعت فرمائی ۔ (سندھ کے صوفیائے نقشبند جلد اول ص:305 / تذکرہ اولیائے سندھ ص:282)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت21/رمضان المبارک1125ھ مطابق اکتوبر/1713ءکو’’لواری شریف‘‘ضلع بدین میں ہوئی۔آپ کا سن ولادت ’’من عبادنا المخلصین‘‘سے نکلتا ہے۔(تذکرہ اولیاء سندھ:282/سندھ کےصوفیائے نقشبند:315)
قبل از ولادت بشارتیں:
آپ کی ولادت سےقبل بڑےبڑےمشائخ اور صوفیاء نےآپ کی تشریف آوری کی خوشخبریاں دی تھیں۔چنانچہ مخدوم آدم ٹھٹوینےفرمایاتھا:’’میرےاس ٹھٹہ کی اس خانقاہ میں ایک دن ایساآئے گا کہ یہاں ایک دیہاتی آکرتعلیم وتربیت حاصل کرےگا۔جس میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی تمام لیاقتیں کمال کو پہنچی ہوئی ہونگی‘‘۔اسی طرح شیخ فیض اللہ (مخدوم آدم کے صاحبزادے) جب سرہندسےواپس آئےتومخدوم محمد زماں کےوالدکومخاطب کرکےفرمایا:’’جب ہم نےآپ کی سفارش خواجۂ سرہند حضرت امام ربانی سےکی تو وہاں سےآوازآئی کہ ہم ان کوبشارت دیتےہیں کہ ان کی پشت سےایک ایسافرزند پیداہوگا جس میں ہمارےسلسلہ کی تمام لیاقتیں اورنور موجود ہوگا۔اس کےعلاوہ خواجہ ابوالقاسم نقشبندینےبشارت دی تھی کہ ’’تمھارےہاں ایسا فرزند ہوگا جومرجع الخلائق ہوگا‘‘۔صاحبِ لطیفۃ التحقیق لکھتےہیں:جب غوث العالمین حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کالوری کی طرف سےگزرہواایک مقام پرآپ سواری سےنیچےتشریف لائے،اور پیدل چلنےلگے۔آپ کےمریدین نےاس کی وجہ دریافت کی توآپ نےفرمایا:’’اس جگہ پرآسمان سےانوار الہی کی بارش ہورہی ہے۔اسی وجہ سےمیں ادباً اترگیاہوں۔اسی جگہ حضرت مخدوم زماں کی ولادت باسعادت ہوئی‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:314/315)
تحصیلِ علم:
بچپن میں اپنےوالدِ گرامی سےقرآن مجید مکمل کیا۔والدصاحب سےمزیدتحصیل علم کاشوق تھا،اور ان کی زیادہ توجہ نےبھائیوں کوحسد میں مبتلاکردیا۔مجبوراً گھرچھوڑنا پڑا۔’’ننگر ٹھٹے‘‘میں مولانا محمد صادق جیسےفاضل متبحرکےمدرسےمیں داخل ہوکرحصولِ علم میں مشغول ہوگئے۔اپنی ذکاوت وذہانت کےباعث اپنےہم سبق ساتھیوں سےسبقت لےگئے۔آپ نےبہت جلد عربی زبان اور دیگر علوم دینیہ پرعبورحاصل کرلیا۔(ایضا:316)
بیعت و خلافت:
آپسلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ ابوالمساکین محمدٹھٹوی کے دستِ بیعت ہوئے،انہوں نے دیکھتےہی پہچان لیا کہ یہ وہی مردِ خدا ہےجس کی بشارت حضرت مجددنےدی تھی،اوران کی پیش گوئی میرےمرشدحضرت شیخ ابوالقاسم نقشبندینےفرمائی تھی۔وہ آپ پرخصوصی توجہ دینےلگے۔قلیل مدت میں ریاضات ومجاہدات کےبعدحضرت خواجہ ابوالمساکیننےاپنےمریدین متوسلین اور عوام وخواص میں اس طرح اعلان فرمایا:’’کہ مخدوم زماں کو اپنی مسندپربٹھایا اپنی دستار ان کےسرپررکھی،اوران کےپاپوش اپنےہاتھ سےدرست کرکےسب کوحکم دیاکہ ان کےقدموں میں جھک کر ان سےبیعت کریں،آج کےبعد یہی تمھارے مرشد ہیں،جوہماراہےوہ ان سےانحراف نہیں کرےگا۔پھر فرمایا: واللہ!اس وقت قطبِ وقت ،اور قطب ارشاد یہ ہیں۔اس وقت روئے زمین پرکوئی ولی ان جیسانہیں۔پھر حضرت خواجہ ابوالمساکین تمام امور آپ کےسپرد کرکےخود عزلت نشین ہوگئے‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:317)
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ محمد زماں ۔ لقب: مخدوم زماں، مخدوم اول، سلطان الاولیاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زمان بن شیخ حاجی عبد اللطیف نقشبندی بن شیخ طیب بن شیخ ابراہم بن شیخ عبد الواحد بن شیخ عبد اللطیف بن شیخ احمد بن شیخ بقا بن شیخ محمد بن شیخ فقرا للہ بن شیخ عابد بن شیخ عبد اللہ بن شیخ طاؤس بن شیخ علی بن شیخ مصطفیٰ بن شیخ مالک بن شیخ محمد بن ابو الحسن بن محمد بن طیار بن عبد الباری بن عزیز بن فضل بن علی بن اسحاق بن ابراہیم ابو بکر بن قائم بن عقیق بن محمد بن عبد الرحمٰن بن امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق ۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔
آپ کا تعلق نسب نامہ کی ’’بکری شاخ‘‘ سے ہے ۔ جو مؤرخین کے نزدیک سب سے صحیح ترین اور حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے سب سے قریب ترین شاخ ہے ۔ آپ کے اجداد بعہد خلیفہ ہارون الرشید 786ء کے لگ بھگ ترک وطن کرکے سندھ تشریف لائے ۔ اس وقت سندھ میں عربوں کی حکومت تھی اس لئے یہاں اس خاندان کو بڑی عزت و احترام حاصل ملا ۔ یہ حضرات واقعہ کربلا کے بعد اس قدر محتاط ہو گئے کہ ہر قسم کے حکومتی عہدوں سے دور رہے ۔ سندھ میں یہ حضرات ٹھٹھ کے قریب ’’ننگر‘‘ میں قیام پذیر ہوئے ۔ حضرت مخدوم کے تمام آباؤ اجداد سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت وارشاد کا سلسلہ رکھتے تھے ۔ آپ کے والدِ گرامی شیخ حاجی عبد اللطیف نقشبندی پہلے شخص ہیں، جنہوں نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی اشاعت فرمائی ۔ (سندھ کے صوفیائے نقشبند جلد اول ص:305 / تذکرہ اولیائے سندھ ص:282)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت21/رمضان المبارک1125ھ مطابق اکتوبر/1713ءکو’’لواری شریف‘‘ضلع بدین میں ہوئی۔آپ کا سن ولادت ’’من عبادنا المخلصین‘‘سے نکلتا ہے۔(تذکرہ اولیاء سندھ:282/سندھ کےصوفیائے نقشبند:315)
قبل از ولادت بشارتیں:
آپ کی ولادت سےقبل بڑےبڑےمشائخ اور صوفیاء نےآپ کی تشریف آوری کی خوشخبریاں دی تھیں۔چنانچہ مخدوم آدم ٹھٹوینےفرمایاتھا:’’میرےاس ٹھٹہ کی اس خانقاہ میں ایک دن ایساآئے گا کہ یہاں ایک دیہاتی آکرتعلیم وتربیت حاصل کرےگا۔جس میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی تمام لیاقتیں کمال کو پہنچی ہوئی ہونگی‘‘۔اسی طرح شیخ فیض اللہ (مخدوم آدم کے صاحبزادے) جب سرہندسےواپس آئےتومخدوم محمد زماں کےوالدکومخاطب کرکےفرمایا:’’جب ہم نےآپ کی سفارش خواجۂ سرہند حضرت امام ربانی سےکی تو وہاں سےآوازآئی کہ ہم ان کوبشارت دیتےہیں کہ ان کی پشت سےایک ایسافرزند پیداہوگا جس میں ہمارےسلسلہ کی تمام لیاقتیں اورنور موجود ہوگا۔اس کےعلاوہ خواجہ ابوالقاسم نقشبندینےبشارت دی تھی کہ ’’تمھارےہاں ایسا فرزند ہوگا جومرجع الخلائق ہوگا‘‘۔صاحبِ لطیفۃ التحقیق لکھتےہیں:جب غوث العالمین حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کالوری کی طرف سےگزرہواایک مقام پرآپ سواری سےنیچےتشریف لائے،اور پیدل چلنےلگے۔آپ کےمریدین نےاس کی وجہ دریافت کی توآپ نےفرمایا:’’اس جگہ پرآسمان سےانوار الہی کی بارش ہورہی ہے۔اسی وجہ سےمیں ادباً اترگیاہوں۔اسی جگہ حضرت مخدوم زماں کی ولادت باسعادت ہوئی‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:314/315)
تحصیلِ علم:
بچپن میں اپنےوالدِ گرامی سےقرآن مجید مکمل کیا۔والدصاحب سےمزیدتحصیل علم کاشوق تھا،اور ان کی زیادہ توجہ نےبھائیوں کوحسد میں مبتلاکردیا۔مجبوراً گھرچھوڑنا پڑا۔’’ننگر ٹھٹے‘‘میں مولانا محمد صادق جیسےفاضل متبحرکےمدرسےمیں داخل ہوکرحصولِ علم میں مشغول ہوگئے۔اپنی ذکاوت وذہانت کےباعث اپنےہم سبق ساتھیوں سےسبقت لےگئے۔آپ نےبہت جلد عربی زبان اور دیگر علوم دینیہ پرعبورحاصل کرلیا۔(ایضا:316)
بیعت و خلافت:
آپسلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ ابوالمساکین محمدٹھٹوی کے دستِ بیعت ہوئے،انہوں نے دیکھتےہی پہچان لیا کہ یہ وہی مردِ خدا ہےجس کی بشارت حضرت مجددنےدی تھی،اوران کی پیش گوئی میرےمرشدحضرت شیخ ابوالقاسم نقشبندینےفرمائی تھی۔وہ آپ پرخصوصی توجہ دینےلگے۔قلیل مدت میں ریاضات ومجاہدات کےبعدحضرت خواجہ ابوالمساکیننےاپنےمریدین متوسلین اور عوام وخواص میں اس طرح اعلان فرمایا:’’کہ مخدوم زماں کو اپنی مسندپربٹھایا اپنی دستار ان کےسرپررکھی،اوران کےپاپوش اپنےہاتھ سےدرست کرکےسب کوحکم دیاکہ ان کےقدموں میں جھک کر ان سےبیعت کریں،آج کےبعد یہی تمھارے مرشد ہیں،جوہماراہےوہ ان سےانحراف نہیں کرےگا۔پھر فرمایا: واللہ!اس وقت قطبِ وقت ،اور قطب ارشاد یہ ہیں۔اس وقت روئے زمین پرکوئی ولی ان جیسانہیں۔پھر حضرت خواجہ ابوالمساکین تمام امور آپ کےسپرد کرکےخود عزلت نشین ہوگئے‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:317)
❤1
سیرت و خصائص:
جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ،صاحبِ اوصافِ کثیرہ،مخدومِ جہاں حضرت خواجہ محمد زماں مخدوم اول۔آپمادرزاد ولی کامل تھے۔آپ کی ولادت سےقبل اولیاء وصوفیاء نےبشارتیں دیں۔آپ کاخاندان علم وفضل زہدوتقویٰ میں مرجعِ خلائق تھا۔بڑےبڑےصوفیاء واولیاء اس خاندان میں گزرےہیں،لیکن حضرت مخدوم ِ زماں خواجہ محمد زماں جیسا صاحبِ فضل پیدانہیں ہوا۔آپکی ذات شریعت وطریقت کےتمام فضائل وکمالات سےمزین تھی۔آپ کی زبان سےکبھی کوئی ناشائستہ لفظ نہیں نکلا۔شریعتِ محمدیہ پراستقامت سےعمل پیراتھے۔کبھی اہل دنیا سےکوئی غرض وابستہ نہیں کی۔بلکہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے: ’’کہ ہم ان پیروں میں سےنہیں ہیں جومریدوں کےدروازوں سےخیرات مانگتےہیں‘‘۔استغنااوربےنیازی کایہ عالم تھاکہ کبھی کسی سےکوئی سوال نہیں کیا۔ایک مرتبہ وقت کےحکمران میاں غلام علی شاہ کلہوڑونےبڑی منت وسماجت کرکےجاگیریں خانقاہ کےلئے پیش کیں تو وہ بھی قبول کرنےسےانکار کردیا اور فرمایایا:’’جودنیاوی بادشاہ کادوست ہوتا ہےوہ مستغنی عن الرزق ہوتاہے۔پھرجواحکم الحاکمین جل جلالہ کادست ہووہ بھلاکب محتاج اور مسکین رہ سکتاہے۔بلکہ وہ تو ایسا شہنشاہ ہوتاہے کہ غلام شاہ جیسےسینکڑوں حاکم اس کےغلام ہوتےہیں‘‘۔(ایضا:325)
اللہ کی ذات پر ایساکامل توکل تھاکہ روزانہ سینکڑوں آدمی اور بعض مرتبہ یہ تعداد ہزاروں تک جاپہنچتی آپ کےلنگرسےفیض یاب ہوتےتھے۔کبھی کسی سےکچھ نہیں مانگا۔بلکہ یہ فرمایا کرتےتھے:’’ہمیں کسی چیز کی احتیاج نہیں،ہمارارب نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارےمتوسلین کورزق پہنچارہاہے۔اللہ جل شانہ نےخزانوں کی چابیاں ہمارےہاتھ میں دیدیں،اگر ہم چاہیں توعمدہ عمدہ کھانےپکواکر لنگر میں کھلائیں لیکن اس میں تصنع کاخوف ہے،اس سےاجتناب کرتےہوئے ہم روکھی سوکھی پراکتفاء کرتےہیں‘‘۔(ایضا:326)
اللہ جل شانہ نےآپ کوتمام اعلیٰ اوصاف اور اخلاقِ محمدیﷺسےوافر حصہ عطاء کیا تھا۔ایک حجام بڑا دیہاتی اور اجڈقسم کاآدمی تھا۔وہ آپ کےناخن اور بال تراشتےوقت انگلیاں زخمی کردیتاتھااورکبھی سرپربھی کٹ لگابیٹھتاتھا۔مریدین نےعرض کیا کہ اس ظالم کونکال کرکسی اورکوبُلائیں۔لیکن آپ ہربار منع کرتےاور فرماتے:’’یہ بیچارہ کئی سال سےہماری خدمت کررہاہے۔اب اس کونکال کرکسی اور حجام کورکھنا بےمروتی ہوگی اور یہ آیت تلاوت کرتےتھے:والسابقون السابقون ۔اولئک ھم المقربون۔یعنی جنہوں نےپہل کی ہے وہ ہی مقرب ہے‘‘۔سندھ کےمشہور صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف آپ سےبڑی عقیدت رکھتےتھے۔جب ملاقات کےلئےتشریف لےگئےتواتنےمتأثر ہوئے کہ کہنےلگےمیری خواہش ہےکہ میں آپ کامریدہوجاؤں۔اس کےبعد بہت دیرتک اسرا ر ومعارف کی باتیں ہوتی رہیں ۔جب شاہ صاحب نےجانےکےلئےاجازت طلب کی تو آپ نےانہیں ’’خلافت کی چادر‘‘پہنائی اور اور الوداع کیا۔وہ چادر شاہ صاحب کو اس قدر محبوب تھی کہ انہوں نےوصیت فرمائی کہ جب میں مرجاؤں یہ چادر میرےکفن کےساتھ بطورتبرک رکھ دینا۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(ایضا:324) آپ مریدین کی دینی اور روحانی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے، موسم گرما میں صبح کے حلقہ کے بعد دالان میں تشریف فرما ہوتے، لوگ کھچا کھچ بھر جاتے، پھرآپ اور آپ کے مرید مراقبے میں مشغول ہوجاتے اور محویت کا یہ عالم ہوتا کہ ان حضرات کا دھوپ کی سخت تمازت بھی استغراق کی کیفیت سے واپس نہیں لاسکتی تھی، جب لوگ چاشت کے وقت مراقبہ ختم کرتے تو زمین پسینہ سے تر ہوتی تھی، آپ کی خانقاہ میں شب بیداری کا خاص اہتمام تھا اس کے لیے ایک شخص مقرر تھا جو لوگوں کو عبادت کے لیے بیدار کرتا تھا۔(تذکرہ اولیائےسندھ:283)
حضرت مخدوم اتباع شریعت کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے۔ اور مریدوں کی تربیت میں بھی ہمیشہ اس کی کوشش فرماتے کہ احکام شریعت پر اور سنت نبوی پر پورا پورا عمل کیا جائے۔ایک دفعہ حافظ صدالدین سے مخدوم کی وفات کےبعد کسی نے آپ کے اوصاف کے متعلق پوچھا۔ فرمایاکیا پو چھتے ہو،حضرت مخدوم تو اتباع رسول اکرمﷺ کا مجسم پیکر تھے اور آپ کے مرید بھی اتباع رسول اکرمﷺ میں آپ کے نقش قدر پر تھے۔پھر اس کے بعد فرمایا : جب آپ بیت الخلاء کے لیے تشریف لے جاتے تو میں آپ کے ساتھ جاتا۔ اتفاقاً ایک دفعہ راستہ میں ایک پیسہ پڑا ہوا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس کو اٹھا لوں،آپ نے مجھے منع فرمایا۔ میں نے عرض کیا کہ اس کے اٹھالینے میں کیا حرج ہے۔ فقہاء کا فتویٰ تو یہ ہے کہ اگر پڑی ہوئی چیز کا مالک نہ ملا تو میں خیرات کروں گا۔فرمایا یہ صحیح ہے لیکن اس کا اٹھانا خلاف ِمستحب ہے۔ آج ترک مستحب کروگے،کل ترک سنت پر آمادہ ہوجاؤگے۔اس کے بعد ترک فرض کی نوبت آئے گی اور ترک فرض بعض مرتبہ انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔(ایضا:284)
جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ،صاحبِ اوصافِ کثیرہ،مخدومِ جہاں حضرت خواجہ محمد زماں مخدوم اول۔آپمادرزاد ولی کامل تھے۔آپ کی ولادت سےقبل اولیاء وصوفیاء نےبشارتیں دیں۔آپ کاخاندان علم وفضل زہدوتقویٰ میں مرجعِ خلائق تھا۔بڑےبڑےصوفیاء واولیاء اس خاندان میں گزرےہیں،لیکن حضرت مخدوم ِ زماں خواجہ محمد زماں جیسا صاحبِ فضل پیدانہیں ہوا۔آپکی ذات شریعت وطریقت کےتمام فضائل وکمالات سےمزین تھی۔آپ کی زبان سےکبھی کوئی ناشائستہ لفظ نہیں نکلا۔شریعتِ محمدیہ پراستقامت سےعمل پیراتھے۔کبھی اہل دنیا سےکوئی غرض وابستہ نہیں کی۔بلکہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے: ’’کہ ہم ان پیروں میں سےنہیں ہیں جومریدوں کےدروازوں سےخیرات مانگتےہیں‘‘۔استغنااوربےنیازی کایہ عالم تھاکہ کبھی کسی سےکوئی سوال نہیں کیا۔ایک مرتبہ وقت کےحکمران میاں غلام علی شاہ کلہوڑونےبڑی منت وسماجت کرکےجاگیریں خانقاہ کےلئے پیش کیں تو وہ بھی قبول کرنےسےانکار کردیا اور فرمایایا:’’جودنیاوی بادشاہ کادوست ہوتا ہےوہ مستغنی عن الرزق ہوتاہے۔پھرجواحکم الحاکمین جل جلالہ کادست ہووہ بھلاکب محتاج اور مسکین رہ سکتاہے۔بلکہ وہ تو ایسا شہنشاہ ہوتاہے کہ غلام شاہ جیسےسینکڑوں حاکم اس کےغلام ہوتےہیں‘‘۔(ایضا:325)
اللہ کی ذات پر ایساکامل توکل تھاکہ روزانہ سینکڑوں آدمی اور بعض مرتبہ یہ تعداد ہزاروں تک جاپہنچتی آپ کےلنگرسےفیض یاب ہوتےتھے۔کبھی کسی سےکچھ نہیں مانگا۔بلکہ یہ فرمایا کرتےتھے:’’ہمیں کسی چیز کی احتیاج نہیں،ہمارارب نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارےمتوسلین کورزق پہنچارہاہے۔اللہ جل شانہ نےخزانوں کی چابیاں ہمارےہاتھ میں دیدیں،اگر ہم چاہیں توعمدہ عمدہ کھانےپکواکر لنگر میں کھلائیں لیکن اس میں تصنع کاخوف ہے،اس سےاجتناب کرتےہوئے ہم روکھی سوکھی پراکتفاء کرتےہیں‘‘۔(ایضا:326)
اللہ جل شانہ نےآپ کوتمام اعلیٰ اوصاف اور اخلاقِ محمدیﷺسےوافر حصہ عطاء کیا تھا۔ایک حجام بڑا دیہاتی اور اجڈقسم کاآدمی تھا۔وہ آپ کےناخن اور بال تراشتےوقت انگلیاں زخمی کردیتاتھااورکبھی سرپربھی کٹ لگابیٹھتاتھا۔مریدین نےعرض کیا کہ اس ظالم کونکال کرکسی اورکوبُلائیں۔لیکن آپ ہربار منع کرتےاور فرماتے:’’یہ بیچارہ کئی سال سےہماری خدمت کررہاہے۔اب اس کونکال کرکسی اور حجام کورکھنا بےمروتی ہوگی اور یہ آیت تلاوت کرتےتھے:والسابقون السابقون ۔اولئک ھم المقربون۔یعنی جنہوں نےپہل کی ہے وہ ہی مقرب ہے‘‘۔سندھ کےمشہور صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف آپ سےبڑی عقیدت رکھتےتھے۔جب ملاقات کےلئےتشریف لےگئےتواتنےمتأثر ہوئے کہ کہنےلگےمیری خواہش ہےکہ میں آپ کامریدہوجاؤں۔اس کےبعد بہت دیرتک اسرا ر ومعارف کی باتیں ہوتی رہیں ۔جب شاہ صاحب نےجانےکےلئےاجازت طلب کی تو آپ نےانہیں ’’خلافت کی چادر‘‘پہنائی اور اور الوداع کیا۔وہ چادر شاہ صاحب کو اس قدر محبوب تھی کہ انہوں نےوصیت فرمائی کہ جب میں مرجاؤں یہ چادر میرےکفن کےساتھ بطورتبرک رکھ دینا۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(ایضا:324) آپ مریدین کی دینی اور روحانی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے، موسم گرما میں صبح کے حلقہ کے بعد دالان میں تشریف فرما ہوتے، لوگ کھچا کھچ بھر جاتے، پھرآپ اور آپ کے مرید مراقبے میں مشغول ہوجاتے اور محویت کا یہ عالم ہوتا کہ ان حضرات کا دھوپ کی سخت تمازت بھی استغراق کی کیفیت سے واپس نہیں لاسکتی تھی، جب لوگ چاشت کے وقت مراقبہ ختم کرتے تو زمین پسینہ سے تر ہوتی تھی، آپ کی خانقاہ میں شب بیداری کا خاص اہتمام تھا اس کے لیے ایک شخص مقرر تھا جو لوگوں کو عبادت کے لیے بیدار کرتا تھا۔(تذکرہ اولیائےسندھ:283)
حضرت مخدوم اتباع شریعت کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے۔ اور مریدوں کی تربیت میں بھی ہمیشہ اس کی کوشش فرماتے کہ احکام شریعت پر اور سنت نبوی پر پورا پورا عمل کیا جائے۔ایک دفعہ حافظ صدالدین سے مخدوم کی وفات کےبعد کسی نے آپ کے اوصاف کے متعلق پوچھا۔ فرمایاکیا پو چھتے ہو،حضرت مخدوم تو اتباع رسول اکرمﷺ کا مجسم پیکر تھے اور آپ کے مرید بھی اتباع رسول اکرمﷺ میں آپ کے نقش قدر پر تھے۔پھر اس کے بعد فرمایا : جب آپ بیت الخلاء کے لیے تشریف لے جاتے تو میں آپ کے ساتھ جاتا۔ اتفاقاً ایک دفعہ راستہ میں ایک پیسہ پڑا ہوا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس کو اٹھا لوں،آپ نے مجھے منع فرمایا۔ میں نے عرض کیا کہ اس کے اٹھالینے میں کیا حرج ہے۔ فقہاء کا فتویٰ تو یہ ہے کہ اگر پڑی ہوئی چیز کا مالک نہ ملا تو میں خیرات کروں گا۔فرمایا یہ صحیح ہے لیکن اس کا اٹھانا خلاف ِمستحب ہے۔ آج ترک مستحب کروگے،کل ترک سنت پر آمادہ ہوجاؤگے۔اس کے بعد ترک فرض کی نوبت آئے گی اور ترک فرض بعض مرتبہ انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔(ایضا:284)
❤1
آپہرقسم کی شہرت اور دکھاوے کےلئے’’اظہارِ کرامت‘‘کوبراسمجھتےتھے۔ایک دن ایک شخص نےآپ سےذکرکیا کہ شاہ عبدالکریم بلڑی والے (جد امجد حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی)ایک دفعہ درویشوں کولے کر دریاسےاوپر چلتےہوئےہوئےدوسرےکنارےپہنچ گئےاور کسی کاکپڑابھی گیِلانہیں ہوا۔آپ نےفرمایا:’’کرامت کادن ابھی آگےہے۔مَردوں کی مردانگی کاکل قیامت کےدن پتہ چلےگاکہ اپنی جماعت کوسلامتی کےساتھ دارلسلام (جنت) تک کون پہنچاتاہے‘‘۔(سندھ کے صوفیاء نقشبند ص:327)
تاریخِ وصال:آپ کاوصال 4/ذی قعدہ 1188ھ مطابق جنوری/1775ءکوبوقتِ چاشت ہوا۔جس حجرےمیں آپ مدفوں ہیں اس کےمتعلق بشارت دیتے ہوئے فرمایا: ’’اس حجرے کے اردگرد جوبھی مدفون ہیں وہ سب مرحوم ہیں۔اس حجرے کی خاک اگرکسی قبر میں رکھ دی جائے تواس کی نجات کی امید رکھنا۔یہاں سعادت مندکوہی بھیجاجائےگا۔جوایک بارہمارےپاس یہاں آئےگاہم اس کاہاتھ نہیں چھوڑیں گے‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبندجلداول:332)محبوب الصمد حضرت خواجہ گل محمد آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔مزارپرانوارلواری شریف ضلع بدین میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ ومراجع: سندھ کےصوفیائے نقشبندجلد اول۔تذکرہ اولیاء سندھ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-zaman-awwal-makhdoom
تاریخِ وصال:آپ کاوصال 4/ذی قعدہ 1188ھ مطابق جنوری/1775ءکوبوقتِ چاشت ہوا۔جس حجرےمیں آپ مدفوں ہیں اس کےمتعلق بشارت دیتے ہوئے فرمایا: ’’اس حجرے کے اردگرد جوبھی مدفون ہیں وہ سب مرحوم ہیں۔اس حجرے کی خاک اگرکسی قبر میں رکھ دی جائے تواس کی نجات کی امید رکھنا۔یہاں سعادت مندکوہی بھیجاجائےگا۔جوایک بارہمارےپاس یہاں آئےگاہم اس کاہاتھ نہیں چھوڑیں گے‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبندجلداول:332)محبوب الصمد حضرت خواجہ گل محمد آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔مزارپرانوارلواری شریف ضلع بدین میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ ومراجع: سندھ کےصوفیائے نقشبندجلد اول۔تذکرہ اولیاء سندھ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-zaman-awwal-makhdoom
scholars.pk
Hazrat Muhammad Zaman Awwal Makhdoom
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت غیاث الدین گیلانی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ سید عبد القادر گیلانی لاہوری کے صاحبزادے تھے ۔ جن کا ذکر خیر خاندان عالیہ قادریہ کے بزرگوں کے باب میں پہلے صفحات پر گزر چکا ہے۔ آپ بڑے بزرگ متقی اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔ جذب و ذوق کے مالک تھے۔ عام لوگوں میں دولت شاہ کے نام سے مشہور تھے مزنگ میں محلہ دولت آباد آپ کے نام پر آباد ہوا تھا۔ اگرچہ آپ کو اپنے والد محترم سے سلسلہ قادریہ میں خلافت حاصل تھی ۔ لیکن آپ نے دوسرے سلاسل تصوف سے بھی پورا پورا فیض پایا تھا لوگ آپ کو پیر سلاسل عظام کہا کرتے تھے۔ آپ کی آئی نسبت چند واسطوں سے حضرت غوث الاعظم محبوب سبحانی سے ملتی ہے۔
سیّد غیاث الدین دولت شاہ بن سید عبدالقادر ثانی بن سید جمال الدین بن سید جلال الدین بن سید یوسف بن سلطان رشید بن سید ادہم بن سیّد محمود بن سید اسماعیل بن سید داود بن تاج الاقطاب سید فتح نصر بن قطب الآفاق سید عبدالرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبدالقادر گیلانی قدس سرہ۔
سید غیاث الدین کی والدہ ماجدہ امیر ہمایونی سیدہ بھاکرمی۔ میر کفایت خان کی بیٹی تھیں ان کے بطن میں سے تین بیٹے سلطان اکبر غیاث الدین دولت شاہ اور سید ابوبکر حاجی پیدا ہوئے یہ تینوں حضرات مع سید غیاث الدین محبوب و بزرگ تھے۔
وفات:
آپ کی وفات بتاریخ ۲۱؍رمضان المبارک ۹۹۰ھ کو ہوئی ـ
جبکہ آپ کی عمر شریف بہتر (۷۲) سال تھی۔ آپ کے بھائی سلطان اکبر ۲۵ ذیقعدہ ۹۸۹ھ میں ہوئی ان دونوں بھائیوں کے مزارات اپنے والد کے مزار کے پہلو میں ہیں۔
سید غیاث الدین کی وفات کے بعد آپ کے بیٹے اکرام الدین المشہور برشاہ بہاگنا مسند نشین ہوئے ۲۵؍ جمادی الثانی ۹۹۳ھ پچیس سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
شاہ دولت ولی اہل کمال
افضل الاولیا ست تاریخش
۹۹۰ھ
رفت چوں ازجہاں بعزت و جاہ
ہم خرد گفت مرد دولت شاہ
۹۹۰ھ
(خزینۃ الاصفیاء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghayasuddin-gilani-lahori
آپ سید عبد القادر گیلانی لاہوری کے صاحبزادے تھے ۔ جن کا ذکر خیر خاندان عالیہ قادریہ کے بزرگوں کے باب میں پہلے صفحات پر گزر چکا ہے۔ آپ بڑے بزرگ متقی اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔ جذب و ذوق کے مالک تھے۔ عام لوگوں میں دولت شاہ کے نام سے مشہور تھے مزنگ میں محلہ دولت آباد آپ کے نام پر آباد ہوا تھا۔ اگرچہ آپ کو اپنے والد محترم سے سلسلہ قادریہ میں خلافت حاصل تھی ۔ لیکن آپ نے دوسرے سلاسل تصوف سے بھی پورا پورا فیض پایا تھا لوگ آپ کو پیر سلاسل عظام کہا کرتے تھے۔ آپ کی آئی نسبت چند واسطوں سے حضرت غوث الاعظم محبوب سبحانی سے ملتی ہے۔
سیّد غیاث الدین دولت شاہ بن سید عبدالقادر ثانی بن سید جمال الدین بن سید جلال الدین بن سید یوسف بن سلطان رشید بن سید ادہم بن سیّد محمود بن سید اسماعیل بن سید داود بن تاج الاقطاب سید فتح نصر بن قطب الآفاق سید عبدالرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبدالقادر گیلانی قدس سرہ۔
سید غیاث الدین کی والدہ ماجدہ امیر ہمایونی سیدہ بھاکرمی۔ میر کفایت خان کی بیٹی تھیں ان کے بطن میں سے تین بیٹے سلطان اکبر غیاث الدین دولت شاہ اور سید ابوبکر حاجی پیدا ہوئے یہ تینوں حضرات مع سید غیاث الدین محبوب و بزرگ تھے۔
وفات:
آپ کی وفات بتاریخ ۲۱؍رمضان المبارک ۹۹۰ھ کو ہوئی ـ
جبکہ آپ کی عمر شریف بہتر (۷۲) سال تھی۔ آپ کے بھائی سلطان اکبر ۲۵ ذیقعدہ ۹۸۹ھ میں ہوئی ان دونوں بھائیوں کے مزارات اپنے والد کے مزار کے پہلو میں ہیں۔
سید غیاث الدین کی وفات کے بعد آپ کے بیٹے اکرام الدین المشہور برشاہ بہاگنا مسند نشین ہوئے ۲۵؍ جمادی الثانی ۹۹۳ھ پچیس سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
شاہ دولت ولی اہل کمال
افضل الاولیا ست تاریخش
۹۹۰ھ
رفت چوں ازجہاں بعزت و جاہ
ہم خرد گفت مرد دولت شاہ
۹۹۰ھ
(خزینۃ الاصفیاء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghayasuddin-gilani-lahori
scholars.pk
Hazrat Ghayasuddin Gilani Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت امام علی رضا رضی الله تعالیٰ عنه
نام و نسب:
اسم گرامی: امام علی بن امام موسیٰ کاظم ۔ کنیت: ابو الحسن ۔ القابات: صابر، ولی، ذکی، ضامن، مرتضیٰ اور سب سے مشہور لقب امام علی رضا ہے ۔ آپ حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے لختِ جگر اور آئمہ اہل بیت میں آٹھویں امام ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام علی رضا بن حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ) ۔
آپ کی والدہ کے ناموں میں اختلاف ہے۔مثلاً: نجمہ، ارویٰ، شمانہ، ام البنین، استقراء ۔ اصح ’’ نجمہ ‘‘ ہے ۔ یہ حضرت حمیدہ والدہ محترمہ حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں ۔ (بارہ امام ص:166)
ولادت کی بشارت:
ایک رات حضرت حمیدہ نے سرکارِ دو عالم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو آپ نے فرمایا: اپنی کنیزنجمہ کا نکاح اپنے بیٹے موسیٰ کاظم سے کردو۔ اللہ اس سے ایک ایسا بیٹا دے گا جو روئے زمین کے بہترین انسانوں میں سے ہوگا۔آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ جب میں حاملہ ہوئی تو کبھی بھی اپنے شکمِ میں گرانی محسوس نہ کی اور جب میں سوجاتی تو اپنے شکم سے سبحان اللہ،سبحان اللہ کی آواز سنتی جس سے میرے دل میں خوف کا غلبہ طاری ہوجاتا لیکن جب میں بیدار ہوجاتی تو پھر کوئی آواز سننے میں نہ آتی تھی۔(خزینۃ الاصفیاء:100/اقتباس الانوار/بارہ امام166)۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 11/ربیع الاول 153ھ،مطابق 12/مارچ 770ء کومدینۃ المنورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ خاندانِ نبوت کے چشم وچراغ اور ان کی علمی وروحانی وراثتوں کے مالک تھے۔اپنے والد گرامی اور فقہاء ومحدثینِ مدینہ منورہ (زادہا اللہ شرفا وتکریما)سے تمام علوم دینیہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت ہی ذہین وفطین اور اعلیٰ درجے کے عالم وفاضل تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو رب کریم نے فہمِ قرآن کی عظیم دولت سے ایسا نوازاتھا کہ آپ اکثرسوالات کے جوابات آیاتِ قرآنی سے دیا کرتےتھے۔آپ اپنے وقت کےعظیم محدث اورفقیہ تھے۔(جامع کرامات اولیاء:ج2،ص،312)
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ کےآٹھویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔آپ اپنے والد گرمی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ الرحمہ کےخلیفۂ اعظم اور اپنے وقت کےامامِ برحق تھے۔شجرہ شریف میں اس طرح منظوم ہے:
؏:صِدقِ صادق کاتصدق صادق ُالاسلام کر۔۔۔۔۔۔۔ بے غَضَب راضی ہو کاظِم اور رضا کے واسطے
سیرت و خصائص:
امام الھدیٰ، منبعِ جود و سخا، جانشینِ مرتضیٰ،وارث علوم و کمالاتِ مصطفیٰ ﷺ، لختِ جگر سیدہ فاطمۃ الزہرا، جامع کمالاتِ علمیہ و روحانیہ، عارف اسرار ورموزِ قرآنیہ حضرت امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنھما ۔
آپ رضی اللہ عنہ جامع کمالات اور عظیم اوصاف کے مالک تھے ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو صوری ومعنوی خوبیوں سے بے حساب مالامال کیا تھا ۔ پہلی مرتبہ دیکھنے والا ہی محسوس کر لیتا تھا کہ یہ خاندان نبوت کا چشم وچراغ ہیں۔جب کسی موضوع پر سخن فرماتےتوعلم کے دریا بہاتے،جب مامون کی مجلس میں ایک سوال کیا گیا،قاضیوں کی ایک جماعت جواب نہ دے سکی،جب آپ نےجواب ارشاد فرمایا تو حاضرین و سامعین عش عش کر اٹھے، اور علماء کو آپ کےعلم وفضل اور تفقہ فی الدین کا علم الیقین ہوگیا، اور خلیفہ مأمون نے آپ کےعلمی کمالات دیکھ کر اپنی صاحبزادی کا اسی وقت آپ سے نکاح کردیا ۔ (شریف التواریخ)
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قادری علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: امام ابن حجرمکی صواعق محرقہ میں نقل فرماتے ہیں : جب امام علی رضا رضی اﷲ تعالٰی عنہ نیشاپور میں تشریف لائے، چہرہ مبارک کے سامنے ایک پردہ تھا، حافظانِ حدیث امام ابوذرعہ رازی و امام محمد بن اسلم طوسی اوران کے ساتھ بیشمار طالبانِ علم وحدیث حاضرِ خدمتِ انور ہوئے اور گڑگڑا کر عرض کیا اپنا جمالِ مبارک ہمیں دکھائیےے اور اپنے آبائے کرام سے ایک حدیث ہمارے سامنے روایت فرمائیے، امام نے سواری روکی اور غلاموں کو حکم فرمایا پردہ ہٹالیں خلقِ خدا کی آنکھیں جمال مبارک کے دیدار سے ٹھنڈی ہوئیں۔ د و گیسو شانہ مبارک پر لٹک رہے تھے۔ پردہ ہٹتے ہی خلق خدا کی وہ حالت ہوئی کہ کوئی چلّاتاہے، کوئی روتا ہے، کوئی خاک پر لوٹتا ہے، کوئی سواری مقدس کا سُم چومتا ہے۔ اتنے میں علماء نے آواز دی :خاموش سب لوگ خاموش ہورہے۔
نام و نسب:
اسم گرامی: امام علی بن امام موسیٰ کاظم ۔ کنیت: ابو الحسن ۔ القابات: صابر، ولی، ذکی، ضامن، مرتضیٰ اور سب سے مشہور لقب امام علی رضا ہے ۔ آپ حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے لختِ جگر اور آئمہ اہل بیت میں آٹھویں امام ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام علی رضا بن حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ) ۔
آپ کی والدہ کے ناموں میں اختلاف ہے۔مثلاً: نجمہ، ارویٰ، شمانہ، ام البنین، استقراء ۔ اصح ’’ نجمہ ‘‘ ہے ۔ یہ حضرت حمیدہ والدہ محترمہ حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں ۔ (بارہ امام ص:166)
ولادت کی بشارت:
ایک رات حضرت حمیدہ نے سرکارِ دو عالم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو آپ نے فرمایا: اپنی کنیزنجمہ کا نکاح اپنے بیٹے موسیٰ کاظم سے کردو۔ اللہ اس سے ایک ایسا بیٹا دے گا جو روئے زمین کے بہترین انسانوں میں سے ہوگا۔آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ جب میں حاملہ ہوئی تو کبھی بھی اپنے شکمِ میں گرانی محسوس نہ کی اور جب میں سوجاتی تو اپنے شکم سے سبحان اللہ،سبحان اللہ کی آواز سنتی جس سے میرے دل میں خوف کا غلبہ طاری ہوجاتا لیکن جب میں بیدار ہوجاتی تو پھر کوئی آواز سننے میں نہ آتی تھی۔(خزینۃ الاصفیاء:100/اقتباس الانوار/بارہ امام166)۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 11/ربیع الاول 153ھ،مطابق 12/مارچ 770ء کومدینۃ المنورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ خاندانِ نبوت کے چشم وچراغ اور ان کی علمی وروحانی وراثتوں کے مالک تھے۔اپنے والد گرامی اور فقہاء ومحدثینِ مدینہ منورہ (زادہا اللہ شرفا وتکریما)سے تمام علوم دینیہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت ہی ذہین وفطین اور اعلیٰ درجے کے عالم وفاضل تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو رب کریم نے فہمِ قرآن کی عظیم دولت سے ایسا نوازاتھا کہ آپ اکثرسوالات کے جوابات آیاتِ قرآنی سے دیا کرتےتھے۔آپ اپنے وقت کےعظیم محدث اورفقیہ تھے۔(جامع کرامات اولیاء:ج2،ص،312)
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ کےآٹھویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔آپ اپنے والد گرمی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ الرحمہ کےخلیفۂ اعظم اور اپنے وقت کےامامِ برحق تھے۔شجرہ شریف میں اس طرح منظوم ہے:
؏:صِدقِ صادق کاتصدق صادق ُالاسلام کر۔۔۔۔۔۔۔ بے غَضَب راضی ہو کاظِم اور رضا کے واسطے
سیرت و خصائص:
امام الھدیٰ، منبعِ جود و سخا، جانشینِ مرتضیٰ،وارث علوم و کمالاتِ مصطفیٰ ﷺ، لختِ جگر سیدہ فاطمۃ الزہرا، جامع کمالاتِ علمیہ و روحانیہ، عارف اسرار ورموزِ قرآنیہ حضرت امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنھما ۔
آپ رضی اللہ عنہ جامع کمالات اور عظیم اوصاف کے مالک تھے ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو صوری ومعنوی خوبیوں سے بے حساب مالامال کیا تھا ۔ پہلی مرتبہ دیکھنے والا ہی محسوس کر لیتا تھا کہ یہ خاندان نبوت کا چشم وچراغ ہیں۔جب کسی موضوع پر سخن فرماتےتوعلم کے دریا بہاتے،جب مامون کی مجلس میں ایک سوال کیا گیا،قاضیوں کی ایک جماعت جواب نہ دے سکی،جب آپ نےجواب ارشاد فرمایا تو حاضرین و سامعین عش عش کر اٹھے، اور علماء کو آپ کےعلم وفضل اور تفقہ فی الدین کا علم الیقین ہوگیا، اور خلیفہ مأمون نے آپ کےعلمی کمالات دیکھ کر اپنی صاحبزادی کا اسی وقت آپ سے نکاح کردیا ۔ (شریف التواریخ)
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قادری علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: امام ابن حجرمکی صواعق محرقہ میں نقل فرماتے ہیں : جب امام علی رضا رضی اﷲ تعالٰی عنہ نیشاپور میں تشریف لائے، چہرہ مبارک کے سامنے ایک پردہ تھا، حافظانِ حدیث امام ابوذرعہ رازی و امام محمد بن اسلم طوسی اوران کے ساتھ بیشمار طالبانِ علم وحدیث حاضرِ خدمتِ انور ہوئے اور گڑگڑا کر عرض کیا اپنا جمالِ مبارک ہمیں دکھائیےے اور اپنے آبائے کرام سے ایک حدیث ہمارے سامنے روایت فرمائیے، امام نے سواری روکی اور غلاموں کو حکم فرمایا پردہ ہٹالیں خلقِ خدا کی آنکھیں جمال مبارک کے دیدار سے ٹھنڈی ہوئیں۔ د و گیسو شانہ مبارک پر لٹک رہے تھے۔ پردہ ہٹتے ہی خلق خدا کی وہ حالت ہوئی کہ کوئی چلّاتاہے، کوئی روتا ہے، کوئی خاک پر لوٹتا ہے، کوئی سواری مقدس کا سُم چومتا ہے۔ اتنے میں علماء نے آواز دی :خاموش سب لوگ خاموش ہورہے۔
❤1
دونوں امام مذکور نے حضور سے کوئی حدیث روایت کرنے کو عرض کی حضور نے فرمایا: حدثنی ابوموسی الکاظم عن ابیہ جعفر الصادق عن ابیہ محمدن الباقرعن ابیہ زین العابدین عن ابیہ الحسین عن ابیہ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنھم قال حدثنی حبیبی وقرۃ عینی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال حدثنی جبریل قال سمعت رب العزۃ یقول لا الٰہ الااﷲ حصنی فمن قال دخل حصنی امن من عذابی۔ یعنی امام علی رضا امام موسٰی کاظم وہ امام جعفر صادق وہ امام محمدباقر وہ امام زین العابدین وہ امام حسین وہ علی المرتضٰی رضی ﷲ تعالٰی عنہم سے روایت فرماتے ہیں کہ میرے پیارے میری آنکھوں کی ٹھنڈک رسول ﷲ ﷺ نے مجھ سے حدیث بیان فرمائی کہ ان سےجبریل نے عرض کی کہ میں نے ﷲ عزوجل کو فرماتے سنا کہ لا الٰہ الا ﷲ میرا قلعہ ہے تو جس نے اسے کہا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوا، میرے عذاب سے امان میں رہا۔یہ حدیث روایت فرماکر حضور امام علی رضا رواں ہوئے اور پردہ چھوڑ دیا گیا، دواتوں والے جو ارشاد مبارک لکھ رہے تھے شمار کئے گئے ، بیس 20ہزار سے زائد تھے۔
امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا : لو قرأت ھذاالاسناد علی مجنون لبرئ من جننہ۔ یہ مبارک سند اگر مجنون پر پڑھوں تو ضرور اسے جنون سے شفا ہوجائے۔( الصواعق المحرقہ الفصل الثالث فی الاحادیث الواردۃ فی بعض اہل البیت مطبوعہ مکتبہ مجددیہ ملتان ص ۲۰۵)۔
اقول فی الواقع جب اسمائے اصحاب کہف قدست اسرارہم میں وُہ برکات ہیں، حالانکہ وُہ اولیائے عیسویین میں سے ہیں تو اولیاء محمدیین صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کا کیا کہنا، اُن کے اسمائے کرام کی برکت کیا شمار میں آسکے۔(فتاویٰ رضویہ: ج9،کتاب الجنائز)۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہر ماہ اہتمام کے ساتھ تینروزے رکھا کرتے ۔اس قدر عاجزی پسند تھے کہ غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی انفرادی کوشش نے بے شمار کفارکودامنِ اسلام سے وابستہ کیا ۔مشہور بزرگ حضرت سیدنا معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہہی کی دعوتِ اسلام پر مسلمان ہوئے اور آسمان ولایت کے روشن ستارے بن کر چمکے ۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی ومکاشفات ومغیبات کا خاص علم عطاء فرمایا تھا۔آپ آئندہ کےرونما ہونے والے واقعات کوپہلے ہی دیکھ اور معلوم کرلیا کرتے تھے۔اسی طرح جب مامون الرشید نےاپنے بعد آپ کو اپنا ولی عہد منتخب کیا،تو آپ نے اس کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے فرمایا:قبول العھدالذی کتبہ علی بن موسٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما الی المامون انک قد عرفت من حقوقنا ما لم یعرفہ اباؤک فقلبت منک عھدک الا ان الجفروالجامعۃ یدلان علی انہ لایتم۔ یعنی مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا بن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد و لیعہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا۔( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)۔(فتاویٰ رضویہ:ج29،کتاب الشتٰی)۔
تاریخِ وصال:
امام علی رضا رحمۃ رضی اللہ عنہ کو انگوروں میں زہر ملا کر دیا گیا جس سے آپ 21/ رمضان المبارک 203ھ کو شہادت سے سرفراز ہوئے۔ آپ کا مزار شریف مشہد مقدس (ایران) میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
بارہ امام ۔ جامع کرامات اولیاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ اقتباس الانوار ـ شریف التواریخ ۔ فتاویٰ رضویہ شریف ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ali-raza-bin-imam-musa-kazim
امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا : لو قرأت ھذاالاسناد علی مجنون لبرئ من جننہ۔ یہ مبارک سند اگر مجنون پر پڑھوں تو ضرور اسے جنون سے شفا ہوجائے۔( الصواعق المحرقہ الفصل الثالث فی الاحادیث الواردۃ فی بعض اہل البیت مطبوعہ مکتبہ مجددیہ ملتان ص ۲۰۵)۔
اقول فی الواقع جب اسمائے اصحاب کہف قدست اسرارہم میں وُہ برکات ہیں، حالانکہ وُہ اولیائے عیسویین میں سے ہیں تو اولیاء محمدیین صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کا کیا کہنا، اُن کے اسمائے کرام کی برکت کیا شمار میں آسکے۔(فتاویٰ رضویہ: ج9،کتاب الجنائز)۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہر ماہ اہتمام کے ساتھ تینروزے رکھا کرتے ۔اس قدر عاجزی پسند تھے کہ غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی انفرادی کوشش نے بے شمار کفارکودامنِ اسلام سے وابستہ کیا ۔مشہور بزرگ حضرت سیدنا معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہہی کی دعوتِ اسلام پر مسلمان ہوئے اور آسمان ولایت کے روشن ستارے بن کر چمکے ۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی ومکاشفات ومغیبات کا خاص علم عطاء فرمایا تھا۔آپ آئندہ کےرونما ہونے والے واقعات کوپہلے ہی دیکھ اور معلوم کرلیا کرتے تھے۔اسی طرح جب مامون الرشید نےاپنے بعد آپ کو اپنا ولی عہد منتخب کیا،تو آپ نے اس کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے فرمایا:قبول العھدالذی کتبہ علی بن موسٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما الی المامون انک قد عرفت من حقوقنا ما لم یعرفہ اباؤک فقلبت منک عھدک الا ان الجفروالجامعۃ یدلان علی انہ لایتم۔ یعنی مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا بن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد و لیعہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا۔( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)۔(فتاویٰ رضویہ:ج29،کتاب الشتٰی)۔
تاریخِ وصال:
امام علی رضا رحمۃ رضی اللہ عنہ کو انگوروں میں زہر ملا کر دیا گیا جس سے آپ 21/ رمضان المبارک 203ھ کو شہادت سے سرفراز ہوئے۔ آپ کا مزار شریف مشہد مقدس (ایران) میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
بارہ امام ۔ جامع کرامات اولیاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ اقتباس الانوار ـ شریف التواریخ ۔ فتاویٰ رضویہ شریف ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ali-raza-bin-imam-musa-kazim
scholars.pk
Hazrat Imam Ali Raza Bin Imam Musa Kazim
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1