🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-09-1444 ᴴ | 12-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-09-1444 ᴴ | 12-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم فتح مکہ | 20 رمضان 8 ھ
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-09-1444 ᴴ | 12-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-09-1444 ᴴ | 12-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ محمد زمان مخدوم اول رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ محمد زماں ۔ لقب: مخدوم زماں، مخدوم اول، سلطان الاولیاء ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زمان بن شیخ حاجی عبد اللطیف نقشبندی بن شیخ طیب بن شیخ ابراہم بن شیخ عبد الواحد بن شیخ عبد اللطیف بن شیخ احمد بن شیخ بقا بن شیخ محمد بن شیخ فقرا للہ بن شیخ عابد بن شیخ عبد اللہ بن شیخ طاؤس بن شیخ علی بن شیخ مصطفیٰ بن شیخ مالک بن شیخ محمد بن ابو الحسن بن محمد بن طیار بن عبد الباری بن عزیز بن فضل بن علی بن اسحاق بن ابراہیم ابو بکر بن قائم بن عقیق بن محمد بن عبد الرحمٰن بن امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق ۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔

آپ کا تعلق نسب نامہ کی ’’بکری شاخ‘‘ سے ہے ۔ جو مؤرخین کے نزدیک سب سے صحیح ترین اور حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے سب سے قریب ترین شاخ ہے ۔ آپ کے اجداد بعہد خلیفہ ہارون الرشید 786ء کے لگ بھگ ترک وطن کرکے سندھ تشریف لائے ۔ اس وقت سندھ میں عربوں کی حکومت تھی اس لئے یہاں اس خاندان کو بڑی عزت و احترام حاصل ملا ۔ یہ حضرات واقعہ کربلا کے بعد اس قدر محتاط ہو گئے کہ ہر قسم کے حکومتی عہدوں سے دور رہے ۔ سندھ میں یہ حضرات ٹھٹھ کے قریب ’’ننگر‘‘ میں قیام پذیر ہوئے ۔ حضرت مخدوم کے تمام آباؤ اجداد سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت وارشاد کا سلسلہ رکھتے تھے ۔ آپ کے والدِ گرامی شیخ حاجی عبد اللطیف نقشبندی پہلے شخص ہیں، جنہوں نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی اشاعت فرمائی ۔ (سندھ کے صوفیائے نقشبند جلد اول ص:305 / تذکرہ اولیائے سندھ ص:282)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت21/رمضان المبارک1125ھ مطابق اکتوبر/1713ءکو’’لواری شریف‘‘ضلع بدین میں ہوئی۔آپ کا سن ولادت ’’من عبادنا المخلصین‘‘سے نکلتا ہے۔(تذکرہ اولیاء سندھ:282/سندھ کےصوفیائے نقشبند:315)

قبل از ولادت بشارتیں:
آپ کی ولادت سےقبل بڑےبڑےمشائخ اور صوفیاء نےآپ کی تشریف آوری کی خوشخبریاں دی تھیں۔چنانچہ مخدوم آدم ٹھٹوی﷫نےفرمایاتھا:’’میرےاس ٹھٹہ کی اس خانقاہ میں ایک دن ایساآئے گا کہ یہاں ایک دیہاتی آکرتعلیم وتربیت حاصل کرےگا۔جس میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی تمام لیاقتیں کمال کو پہنچی ہوئی ہونگی‘‘۔اسی طرح شیخ فیض اللہ (مخدوم آدم کے صاحبزادے) جب سرہندسےواپس آئےتومخدوم محمد زماں کےوالدکومخاطب کرکےفرمایا:’’جب ہم نےآپ کی سفارش خواجۂ سرہند حضرت امام ربانی ﷫سےکی تو وہاں سےآوازآئی کہ ہم ان کوبشارت دیتےہیں کہ ان کی پشت سےایک ایسافرزند پیداہوگا جس میں ہمارےسلسلہ کی تمام لیاقتیں اورنور موجود ہوگا۔اس کےعلاوہ خواجہ ابوالقاسم نقشبندی﷫نےبشارت دی تھی کہ ’’تمھارےہاں ایسا فرزند ہوگا جومرجع الخلائق ہوگا‘‘۔صاحبِ لطیفۃ التحقیق لکھتےہیں:جب غوث العالمین حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی﷫ کالوری کی طرف سےگزرہواایک مقام پرآپ سواری سےنیچےتشریف لائے،اور پیدل چلنےلگے۔آپ کےمریدین نےاس کی وجہ دریافت کی توآپ نےفرمایا:’’اس جگہ پرآسمان سےانوار الہی کی بارش ہورہی ہے۔اسی وجہ سےمیں ادباً اترگیاہوں۔اسی جگہ حضرت مخدوم زماں کی ولادت باسعادت ہوئی‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:314/315)

تحصیلِ علم:
بچپن میں اپنےوالدِ گرامی سےقرآن مجید مکمل کیا۔والدصاحب سےمزیدتحصیل علم کاشوق تھا،اور ان کی زیادہ توجہ نےبھائیوں کوحسد میں مبتلاکردیا۔مجبوراً گھرچھوڑنا پڑا۔’’ننگر ٹھٹے‘‘میں مولانا محمد صادق جیسےفاضل متبحرکےمدرسےمیں داخل ہوکرحصولِ علم میں مشغول ہوگئے۔اپنی ذکاوت وذہانت کےباعث اپنےہم سبق ساتھیوں سےسبقت لےگئے۔آپ نےبہت جلد عربی زبان اور دیگر علوم دینیہ پرعبورحاصل کرلیا۔(ایضا:316)

بیعت و خلافت:
آپ﷫سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ ابوالمساکین محمدٹھٹوی﷫ کے دستِ بیعت ہوئے،انہوں نے دیکھتےہی پہچان لیا کہ یہ وہی مردِ خدا ہےجس کی بشارت حضرت مجدد﷫نےدی تھی،اوران کی پیش گوئی میرےمرشدحضرت شیخ ابوالقاسم نقشبندی﷫نےفرمائی تھی۔وہ آپ پرخصوصی توجہ دینےلگے۔قلیل مدت میں ریاضات ومجاہدات کےبعدحضرت خواجہ ابوالمساکین﷫نےاپنےمریدین متوسلین اور عوام وخواص میں اس طرح اعلان فرمایا:’’کہ مخدوم زماں کو اپنی مسندپربٹھایا اپنی دستار ان کےسرپررکھی،اوران کےپاپوش اپنےہاتھ سےدرست کرکےسب کوحکم دیاکہ ان کےقدموں میں جھک کر ان سےبیعت کریں،آج کےبعد یہی تمھارے مرشد ہیں،جوہماراہےوہ ان سےانحراف نہیں کرےگا۔پھر فرمایا: واللہ!اس وقت قطبِ وقت ،اور قطب ارشاد یہ ہیں۔اس وقت روئے زمین پرکوئی ولی ان جیسانہیں۔پھر حضرت خواجہ ابوالمساکین تمام امور آپ کےسپرد کرکےخود عزلت نشین ہوگئے‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:317)
1