🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Good News

Abde Mustafa Official Ab YouTube Par Bhi!
Jald Hi Videos Upload Ki Jayengi

Niche Di Gayi Link Par Click Karein Aur Channel Ko Subscribe Karein

https://youtu.be/BGfsiFWmC2o
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
ایک سنی عالم نے ایک دیوبندی لڑکے کا نکاح ایک سنی لڑکی سے کر دیا تو زید کہتا کہ نکاح پڑھانے والے کا نکاح ٹوٹ گیا اب وہ تجدید ایمان کرے اور تجدید نکاح کرے اور بکر کہتا ہے دیوبندی لڑکے سے سنی لڑکی کا نکاح پڑھنا یہ ایک عظیم گناہ ہے لیکن یہ کفر نہیں کیونکہ نکاح پڑھاتے وقت کلمہ پڑھایا جاتا ہے نہ کل کفریہ الفاظ آپ مفتیان کرام کی بارگاہ میں عرض ہیکہ تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں کہ کس وجہ دیوبندی کا نکاح پڑھانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور کس وجہ سے ایمان ختم ہو جاتا اس میں علت کیا ہے قرآن وحدیث و معتبر کتابوں سے حوالہ بتائیں
Forwarded from عدیل احمد قادری مصباحی
:-الجوابـــــــــــ: اس زمانے میں جب کہ دیوبندیت عام ہو رہی ہے تو نکاح خواں حضرات پر ضروری ہے کہ پہلے لڑکا، لڑکی کے مذہب کی تحقیق کرلیں پھر نکاح پڑھائیں ، اگر امام نے ایسا نہیں کیا اور ایسا دیوبندی شخص جو دیوبندی مذہب کے کفریات پر مطلع ہوکر بھی ان کتابوں کے مصنفین کو مسلمان جانے، اپنا پیشوا مانے، جن عبارتوں کے کفریہ ہونے پر علمائے عرب وعجم متفق ہیں، اس کا بے خبری میں نکاح پڑھا دیا۔۔
یا پھراس کی بدعقیدگی کو جاننے کے باوجود لوگوں کے ڈر سے،یا نذرانہ کے لالچ میں، یاملامت کے خوف سے مگر دل میں اس کی نفرت موجود تھی، تو وہ مرتد نہیں ہوا نہ اس کے نکاح سے اس کی بیوی نکلی مگر امام پر ضروری ہے کہ علانیہ توبہ و استغفار کرے، نکاح کے ناجائز ہونے کا اعلان کرےاورنکاحانہ پیسہ بھی واپس کر ےاوروکیل وگواہان بھی توبہ کریں۔۔
اور اگر امام نے اس کے کفری عقائد کو درست وصحیح جانتے ہوئے نکاح پڑھا دیا تو یہ امام اسلام سے نکل گیا، اب تجديد ایمان اور بیوی والاہے تو تجديد نکاح دونوں ضروری ہے.ایسا ہی📚 فتاوی فیض الرسول، ج 1ص 609، 610 کتاب النکاح، فصل فی المحرمات. میں ہے. واللہ تعالٰی اعلم۔
📝کتبہ:- اشرف نورانی مصباحی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الجواب صحیح۔۔۔*

اورمیں کہتاہوں کہ جب مرتدکانکاح مسلم سے نہیں ہوسکتا۔چناں فتاوی رضویہ میں ہے:
"جوعورت ایسے عقیدہ کی ہو مرتدہ ہے کہ نکاح نہ کسی مسلم سے ہوسکتا ہے نہ کافر سے نہ مرتد سے نہ اس کے ہم مذہب سے۔ جس سے نکاح ہوگازنائے محض ہوگا اور اولاد ولدالزنا۔"📚(11/47)

بلکہ مرتدکانکاح کسی سے بھی نہیں ہوسکتا۔اعلی حضرت اس کی تصریح فرماتےہیں:

"مرتد ومرتدہ کاحکم شرعی یہی ہے کہ ان کا نکاح نہ کسی مسلم و مسلمہ سے ہوسکتا ہے نہ کافر وکافرہ سے،نہ مرتد ومرتدہ سے ان کے ہم مذہب خواہ مخالف مذہب سے، ٖغرض تمام جہاں میں کہیں نہیں ہوسکتا۔مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی پھرفتاوٰی ہندیہ میں ہے: لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدہ ولامسلمۃ لاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المر تدۃ مع احد"📚(11/48)

توواضح ہوگیاکہ جس مرتدشخص کانکاح جو سنی لڑکی سے پڑھایاگیا،نکاح ہواہی نہیں تواب جوبھی قربت ہوزنائےبدنام وبدانجام ہوگااوراس گناہ عظیم وسروروفرحت باعث شیطان لعین میں نکاح خواں بھی شریک وسہیم ہوگاکہ اب وہ ان دونوں کا دلال ٹھہرا،چناں چہ حدیث شریف ہے:

١٠- "الدالُّ على الشرِّ كفاعلِهِ"

📚السبكي (الابن) (٧٧١ هـ)، طبقات الشافعية الكبرى ٦/٣٧٧ • [لم أجد له إسنادا]

اورلڑکی کاباپ دیوث ہوگا،چناں چہ فتاوی شارح بخاری میں ہے:

"ایسی صورت میں جس شخص نےاپنی لڑکی کا نکاح ان باطل فرقےوالوں سےکسی سےکیاتووہ دیوث ہوااوربحم حدیث جہنم کا مستحق"📚(ج:3ص:288)
لہذایہ شخص بھی توبہ کرکےیہ رشتہ ختم کرےاوراللہ ورسول جل وعلاوصلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے رشتہ مضبوط کرے۔
واللہ تعالی اعلم۔
کتبہ: عدیل احمدقادری رضوی
۵من ذی الحجہ۱۴۳۹
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
💫 شرح حدیث ”کل بدعة ضلالة“ 💫

⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

اکثر احمق، وہابیہ میں سے یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
کل بدعة ضلالة. یعنی ہر بدعت گمراہی ہے لہذا کوئی بھی بدعت حسنہ نہیں. (نعوذ بالله)
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

اس حدیث میں بدعت سے مراد شرعی بدعت یعنی بدعت سیئہ ہے. حدیث کا مفہوم ہوگا ہر بدعت سیئہ گمراہی ہے یعنی دین میں ہر وہ نیا امر جو کسی سنت کے خلاف ہو گمراہی ہے.
کسی نئے کام کے شرعی بدعت ہونے کی شرط ہے کہ وہ امر قرآن و سنت واجماع کے مخالفت کرتا ہو یا اس سے سنت ترک ہو ورنہ وہ اپنی اصل میں شرعی بدعت نہیں بلکہ بدعت لغویہ ہے. اور بدعت لغویہ مباح بھی ہوتی مستحب بھی، مندوب بھی کبھی حرام اور بعض دفعہ واجب بھی. اس کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں حضور نے اپنی سنت، خلفاء کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کی ترغیب دی، فرمایا:
فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين المھدیین. اگر ہر نیا کام مطلقا بدعت ہی ہوتا تو اس کے مقابلے میں سنت کی پیروی کی ترغیب نہیں دی جاتی. سنت پر مضبوطی کی ترغیب تو تب ہی ہے جب اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا عمل پیدا کر لیا جائے اور یہی ترغیب ثابت کرتی ہے کہ بدعت وہ امر ہے جو سنت کے مخالف ہو. اس کی توضیح میں ابن حبان رحمہ الله نے بھی یہی کہا: ولم یعرج علی غیرھا من لاراء، یعنی اس سنت کے علاوہ دوسری آراء کو آگے نہیں کرے گا. لہذا بدعت وہ عمل ہے جو کسی سنت کے خلاف ہو.

علامہ ابن اثیر جزری فرماتے ہیں:
وعلی ھذا التاویل یحمل الحدیث الآخر کل محدثة بدعة انما يريد ما خالف اصول الشریعة و يوافق السنة. (النہایہ فی غریب الحدیث والاثر، 106/1)
یعنی ان دلائل کے بناء پر حدیث "کل محدثة بدعة" کی وضاحت یوں ہوگی کہ اس سے مراد وہ نیا کام ہوگا جو اصول شریعت کے خلاف ہو اور سنت سے کوئی مطابقت نہ رکھتا ہو.

اِمام ملا علی قاری حدیث مبارکہ کل بدعة ضلالة کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
أی کل بدعة سيئة ضلالة، لقوله عليه الصلوة والسلام : من سن فی الاسلام سنّة حسنة فله اجرها وأجر من عمل بها وجمع أبوبکر وعمر القرآن و کتبه زيد فی المصحف وجدد فی عهد عثمان. (مرقاة المفاتيح شرح مشکاة المصابيح، 216/1)
یعنی ہر بری بدعت گمراہی ہے کیوں کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : ’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اس عمل کا اور اس پر عمل کرنے والے کا اجر ملے گا.“ اور یہ کہ حضرت شیخین ابوبکر رضی الله عنہ اور عمر رضی الله عنہ نے قرآن کریم کو جمع کیا اور حصرت زید رضی الله عنہ نے اس کو صحیفہ میں لکھا اور عہد عثمانی میں اس کی تجدید کی گئی.

امام ابن حجر مکی فرماتے ہیں:

المراد من قوله صلی الله تعالی عليه وآله وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه ماینا فیه اولا یشھد له قواعد الشرع والادلة العامة. (مجموعہ فتاوٰی، کتاب الحظر والاباحة، 2/9)
یعنی حدیث کی مراد یہ ہے کہ وہی نو پیدا چیز بدعت سیئہ ہے جو دین وسنت کا رد کرے یا شریعت کے قواعد اطلاق ودلائل عموم تک اس کی گواہی نہ دیں۔

وفی الحديث کل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار وهو محمول علی المحرمة لا غير. (الفتاوی الحديثيه، ص: 130)
یعنی حدیث میں ہے کہ ’’ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی“ اس حدیث کو بدعتِ محرمہ پر محمول کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اور کسی پر نہیں۔

محمد بن علوی المالکی فرماتے ہیں: ان المراد بذلك بدعة السیئة التی لاتدخل تحت اصل شرعی. (مفاھیم یجب ان تصحح، ص: 102)
یعنی اس سے مراد وہ بدعت سیئہ ہے جو اصول شرعی کے تحت داخل نہ ہو.

مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی لکھتے ہیں:
قال علی قاری قال فی الازھار أی کل بدعة سیئة ضلالة لقوله علیه الصلوۃ والسلام [من سن فی الاسلام سنة حسنة فله اجرها واجر من عمل بها] (فتح الملھم، 406/2)
یعنی ملا علی قاری الازھار میں بیان فرماتے ہیں "کل بدعة ضلالة“ سے ہر بدعت سئیہ کا گمراہی ہونا مراد ہے اس پر حضور ﷺ کا یہ قول دلیل ہے [جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کا اجر بھی اسے ملے گا۔
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
🌷🌷 اقسام بدعت 🌷🌷



🌷 بدعات کو دو درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ. بدعت واجبہ، بدعت مباحہ، مندوب یہ بدعت حسنہ کی ضمنی قسمیں ہیں. اسی طرح بدعت مکروہہ اور حرام بدعتیں، یہ تقسیم بدعات سئیہ میں داخل ہیں.

🌷امام نووی فرماتے ہیں کہ بنیادی طور پر بدعت کی دو اقسام ہیں:
البدعة فی الشرع هی إحداث ما لم يکن فی عهد رسول الله ﷺ وهی منقسمة إلی حسنة و قبيحة. (تهذيب الأسماء واللغات، 22/3؛ المنهاج، 286/1؛ حسن المقصد فی عمل المولد، ص: 51)
یعنی شریعت میں بدعت سے مراد وہ نئے اُمور ہیں جو حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وآله وسلم کے زمانے میں نہ تھے، اور یہ بدعت، حسنہ اور قبیحہ میں تقسیم ہوتی ہے۔

براعته ابو محمد عبدالعزيز بن عبدالسلام فی آخر ”کتاب القواعد“ البدعة منقسمة إلی واجبة و محرمة و مندوبة و مکروهة و مباحة قال والطريق فی ذلک أن تعرض البدعة علی قواعد الشريعة فان دخلت فی قواعد الايجاب فهی واجبة و إن دخلت فی قواعد التحريم فهی محرمة و إن دخلت فی قواعد المندوب فهی مندوبه و ان دخلت فی قواعد المکروه فهی مکروهة و ان دخلت فی قواعد المباح فهی مباحة. (تهذيب الأسماء واللغات، 22/3)
یعنی شیخ عبدالعزیز بن عبدالسلام ”کتاب القواعد“ میں فرماتے ہیں۔ بدعت کو بدعت واجبہ، محرمہ، مندوبہ، مکروہہ اور مباحہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کے جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ بدعت کا قواعدِ شرعیہ سے موازنہ کیا جائے، اگر وہ بدعت قواعد ایجاب کے تحت داخل ہے تو واجب ہے اور اگر قواعدِ تحریم کے تحت داخل ہے تو حرام ہے اور اگر قواعدِ استحباب کے تحت داخل ہے تو مستحب ہے اور اگر کراھت کے قاعدہ کے تحت داخل ہے تو مکروہ اور اگر اباحت کے قاعدہ میں داخل ہے تو مباح ہے۔

🌷شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
قال العلماء: البدعة خمسة أقسام واجبة ومندوبة ومحرمة ومکروهة ومباحة فمن الواجبة نظم أدلة المتکلمين للرد علی الملاحدة والمبتدعين وشبه ذلک ومن المندوبة تصنيف کتب العلم و بناء المدارس والربط و غير ذلک و من المباح التبسط في ألوان الأطعمة و غير ذلک والحرام والمکروه ظاهران. (المنهاج بشرح صحيح مسلم بن الحجاج، 154/7)
یعنی علماء نے بدعت کی پانچ اقسام بدعت واجبہ، مندوبہ، محرمہ، مکروہہ اور مباحہ بیان کی ہیں۔ بدعت واجبہ کی مثال متکلمین کے دلائل کو ملحدین، مبتدعین اور اس جیسے دیگر اُمور کے رد کے لئے استعمال کرنا ہے اور بدعتِ مستحبہ کی مثال جیسے کتب تصنیف کرنا، مدارس، سرائے اور اس جیسی دیگر چیزیں تعمیر کرنا۔ بدعتِ مباح کی مثال یہ ہے کہ مختلف انواع کے کھانے اور اس جیسی چیزوں کو اپنانا ہے جبکہ بدعت حرام اور مکروہ واضح ہیں.

🌷علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: والبدعة أصلها ما أحدث علی غير مثال سابق، وتطلق فی الشرع فی مقابل السنة فتکون مذمومة، والتحقيق أنها إن کانت مما تندرج تحت مستحسن فی الشرع فهی حسنة، وإن کانت مما تندرج مستقبح فی الشرع فهی مستقبحة، وإلَّا فهی من قسم المباح. (فتح الباری شرح صحیح البخاری، 253/4)
یعنی بدعت سے مراد ایسے نئے اُمور کا پیدا کیا جانا ہے جن کی مثال سابقہ دور میں نہ ملے اور ان اُمور کا اطلاق شریعت میں سنت کے خلاف ہو پس یہ ناپسندیدہ عمل ہے، اور بالتحقیق اگر وہ بدعت شریعت میں مستحسن ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے اور اگر وہ بدعت شریعت میں ناپسندیدہ ہو تو وہ بدعت مستقبحہ یعنی بری بدعت کہلائے گی اور اگر ایسی نہ ہو تو اس کا شمار بدعت مباحہ میں ہوگا۔

🌷حضرت امام شافعی سے روایت ہے:
المحدثات من الامور ضربان احدھما احدث مما یخالف کتاباً اوسنةً اواثراً اواجماعاً فھٰذہ البدعة ضالة والثانی ما احدث من الخیر ولاخلاف فیه لواحد من ھذا وھی غیر مذمومة. (القول المفید للشوکانی، 78/1)
نوپیدا باتیں دوقسم کی ہیں، ایک وہ ہیں کہ قرآن یا احادیث یا آثار اجماع کے خلاف نکالی جائیں یہ تو بدعت وگمراہی ہے، دوسرے وہ اچھی بات کہ احداث کی جائے اوراس میں ان چیزوں کاخلاف نہ ہو تو وہ بری نہیں.

🌷علامہ جمال الدین ابن منظور افریقی، علامہ ابن اثیر جزری کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: البدعة بدعتان : بدعة هدًي، و بدعة ضلال، فما کان في خلاف ما أمر الله به ورسوله ﷺ فهو في حيز الذّم والإنکار، وما کان واقعا تحت عموم ما ندب ﷲ إليه و حض عليه الله أو رسوله فهو في حيز المدح، وما لم يکن له مثال موجود کنوع من الجود والسّخاء و فعل المعروف فهو من الأفعال المحمودة، ولا يجوز أن يکون ذلک في خلاف ما ورد الشرع به؛ لأن النبي ﷺ قد جعل له في ذلک ثوابا فقال : [من سنّ سُنة حسنة کان له أجرها و أجر من عمل بها] وقال في ضده: [من سنّ سنة سيّئة کان عليه وزرُها ووِزرُ من عمل بها] وذلک إذا کان في خلاف ما أمر الله به ورسوله ﷺ ، قال : ومن هذا النوع قول عمر رضی الله عنه : نعمت البدعة هذه، لمَّا کانت من أفعال الخير وداخلة في حيز المدح سماها بدعة ومدحها. (لسان العرب، 6/8)
Read more
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
بقیہ...
ابن اثیر کہتے ہیں بدعت کی دو قسمیں ہیں، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ. جو کام الله اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے خلاف ہو وہ مذموم اور ممنوع ہے، اور جو کام کسی ایسے عام حکم کا فرد ہو جس کو الله تعالى نے مستحب قرار دیا ہو یا الله تعالى اور رسول الله ﷺ نے اس حکم پر برانگیختہ کیا ہو تو یہ امر محمود ہے اور جن کاموں کی مثال پہلے موجود نہ ہو جیسے سخاوت کی اقسام اور دوسرے نیک کام، وہ اچھے کام ہیں بشرطیکہ وہ خلاف شرع نہ ہوں کیونکہ رسول الله ﷺ نے ایسے کاموں پر ثواب کی بشارت دی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: [من سن فی الاسلام... الخاور یہ اس وقت ہے جب وہ کام الله تعالى اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے خلاف ہو۔ اور اِسی قسم یعنی بدعتِ حسنہ میں سے سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ کا یہ قول ’’نعمت البدعة ھذہ‘ہے پس جب کوئی کام افعالِ خیر میں سے ہو اور مقام مدح میں داخل ہو تو اسے لغوی اعتبار سے تو بدعت کہاجائے گا مگر اس کی تحسین کی جائے گی.

🌷 اِمام شہاب الدین احمد بن ادریس القرافی بدعت کی اقسام بیان کرتے ہوئے میں رقم طراز ہیں:
البدعة خمسة أقسام: واجب و محرم و مندوب ومکروهة والمباحة. (انوار البروق فی انوار الفروق، 202/5)
یعنی بدعت کی پانچ اقسام ہیں: وہ بدعت واجبہ، بدعت محرمہ، بدعت مستحبہ، بدعت مکروہہ اور بدعت مباحہ ہیں۔

🌷غیر مقلد عالم شوکانی، فتح الباری کے حوالے سے بدعت کی پانچ اَقسام بیان کرتے ہیں: البدعة أصلها ما أحدث علی غير مثال سابق و تطلق فی الشرع علی مقابلة السنة فتکون مذمومة والتحقيق إنها إن کانت مما يندرج تحت مستحسن فی الشرع فهی حسنة وإن کانت مما يندرج تحت مستقبح فی الشرع فهی مستقبحة و إلَّا فهی من قسم المباح و قد تنقسم إلی الأحکام الخمسة. (نيل الاوطار شرح منتقی الأخبار، 63/3)
یعنی لغت میں بدعت اس کام کو کہتے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو اور اصطلاح شرع میں سنت کے مقابلہ میں بدعت کا اطلاق ہوتا ہے اس لیے یہ مذموم ہے اور تحقیق یہ ہے کہ بدعت اگر کسی ایسے اصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں مستحسن ہے تو یہ بدعت حسنہ ہے اور اگر ایسے اصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں قبیح ہے تو یہ بدعت سیئہ ہے ورنہ بدعت مباحہ ہے اور بلا شبہ بدعت کی پانچ قسمیں ہیں.

🌷امام الوہابیہ مولوی وحیدالزماں لکھتے ہیں:
اما البدعة اللغویة فھی تنقسم الی مباحة ومکروھة وحسنة و سیئه. (هدية المهدی، ص: 117)
یعنی با اعتبار لغت بدعت کی درج ذیل اقسام ہیں، بدعت مباحہ، بدعت مکروہہ،بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ.



🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
💥 بدعت کی تعریف 💥



⚡️ بدعت کی دو اقسام ہیں؛
١. بدعت حسنہ: اسے بدعت لغویہ بھی کہتے ہیں.
٢. بدعت سیئہ: اسے بدعت شریعہ بھی کہتے ہیں.

⚡️ بدعت لغویہ (حسنہ) کی تعریف:
⚡️علامہ بدر الدین محمد بن عبدالله زرکشی  بدعت لغویہ اور بدعت شرعیہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فأما في الشرع فموضوعة للحادث المذموم، و إذا أريد الممدوح قُيّدَتْ و يکون ذالک مجازًا شرعياً حقيقة لغوية. (المنثور في القواعد، 217/1)
یعنی شرع میں عام طور پر لفظ بدعت، محدثہ مذمومہ کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن جب بدعت ممدوحہ مراد ہو تو اسے مقید کیا جائے گا لہٰذا یہ بدعت ممدوحہ مجازاً شرعی ہوگی اور حقیقتاً لغوی ہوگی.

⚡️ علامہ ابن رجب حنبلی المتوفی لکھتے ہیں: المراد بالبدعة ما أحدث مما لا أصل له فی الشريعة يدلّ عليه، وأما ما کان له أصل من الشرع يدلّ عليه فليس ببدعة شرعاً وإن کان بدعة لغة. (جامع العلوم والحکم، 252/1)
یعنی بدعت سے مراد ہر وہ نیا کام ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو جو اس پر دلالت کرے لیکن ہر وہ معاملہ جس کی اصل شریعت میں موجود ہو وہ شرعاً بدعت نہیں اگرچہ وہ لغوی اعتبار سے بدعت ہوگا.

⚡️ ابن کثیر اپنی تفسیر ’’تفسیر القرآن العظیم‘‘ میں بدعت کی تقسیم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: والبدعة علي قسمين تارة تکون بدعة شرعية کقوله [فإن کل محدثة بدعة و کل بدعة ضلالة] و تارة تکون بدعة لغوية کقول أمير المؤمنين عمر بن الخطاب عن جمعه إيّاهم علي صلاة التراويح واستمرارهم : نعمت البدعة هذه. (تفسير القرآن العظيم، ١٦١/١)
یعنی بدعت کی دو قسمیں ہیں بعض اوقات یہ بدعت شرعیۃ ہوتی ہے جیسا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ [فان کل محدثة بدعة و کل بدعة ضلالة] اور بعض اوقات یہ بدعت لغویہ ہوتی ہے جیسا کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق کا لوگوں کو نماز تراویح پر جمع کرتے اور دوام کی ترغیب دیتے وقت فرمان ’’نعمت البدعة هذہ‘‘ ہے۔


⚡️ بدعت شرعیہ (سیئہ) کی تعریف:
⚡️بدعت شرعیہ: اختراع شدہ وہ امر جو سنت ثابتہ کے خلاف ہو اور اس کی اصل شرع میں ثابت نہ ہو.


⚡️ امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ امام شافعی رحمہ الله کا قول بیان فرماتے ہیں: المحدثات من الأمور ضربان: أحدهما ما أحدث مما يخالف کتاباً أوسنة أو اثرًا أو إجماعاً فهذه البدعة ضلالة، و الثانية ما أحدث من الخير لا خلاف فيه لواحد من هذا فهذه محدثة غير مذمومة. (بيهقي، المدخل الي السنن الکبري، 206/1؛ سير أعلام النبلاء، 408/8؛ تهذيب الاسماء واللغات، 21/3)
یعنی محدثات میں دو قسم کے امور پر مشتمل ہیں: پہلی قسم میں وہ نئے امور شامل ہیں جو قرآن و سنت یا اثریا اجماع امت کے خلاف ہوں وہ بدعت ضلالہ ہے، اور دوسری قسم میں وہ نئے امور شامل ہیں جن کو بھلائی کے لیے ایجاد کیا گیا ہو اور ان میں سے کوئی کسی ادلہ شرعی کی مخالفت نہ کرتا ہو پس یہ امور یعنی نئے کام محدثہ غیر مذمومہ ہیں.

⚡️ امام غزالی فرماتے ہیں: فلیس کل ما ابدع منھیا بل المنھی بدعة تضاد سنة ثابتة وترفع امرا من الشرع بقاء علته. (احیاء العلوم دین، 3/2)
یعنی ہر بدعت منع نہیں ہوتی بلکہ منع صرف وہی بدعت ہوتی ہے جو سنت ثابتہ کی الٹ ہو اور سنت کی علت کے ہوتے ہوئے امر شریعت کو ختم کر دے.

⚡️ ابن حزم اندلسی بدعت کی تعریف اور تقسیم بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: والبدعة کل ما قيل أو فعل مما ليس له أصل فيما نسب إليه صلي الله عليه وآله وسلم و هو في الدين کل مالم يأت في القرآن ولا عن رسول الله ﷺ إلا أن منها ما يؤجر عليه صاحبه و يعذر بما قصد إليه من الخير و منها ما يؤجر عليه صاحبه و يکون حسنا و هو ماکان أصله الإباحة. (الاحکام في اُصول الاحکام، 47/1)
یعنی بدعت ہر اس قول اور فعل کو کہتے ہیں جس کی دین میں کوئی اصل یا دلیل نہ ہو اور اس کی نسبت حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف کی جائے لہٰذا دین میں ہر وہ بات بدعت ہے جس کی بنیاد کتاب و سنت پر نہ ہو مگر جس نئے کام کی بنیاد خیر پر ہو تو اس کے کرنے والے کو اس کے اِرادہء خیر کی وجہ سے اَجر دیا جاتا ہے اور یہ بدعتِ حسنہ ہوتی ہے اور یہ ایسی بدعت ہے جس کی اصل اباحت ہے۔

⚡️ علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں: أن البدعة هی الفعلة المخترعة فی الدين علی خلاف ما کان عليه النبی ﷺ وکانت عليه الصحابة والتابعون. (تفسير روح البيان، 24/9)
یعنی بدعت اس فعل کو کہا جاتا ہے جو نبی ﷺ کی سنت کے خلاف گھڑا جائے ایسے ہی وہ عمل صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کے طریقے کے بھی مخالف ہو.

⚡️ سر فراز خان دیوبندی لکھتا ہے: آپ ﷺ کے اس بہترین اسوہ اور ہدی و سیرت کی اتباع کا نام سنت اور خلاف ورزی کا نام بدعت ہے....آپ ﷺ کے سیرت و نمونہ کے خلاف جو کچھ ایجاد کیا جائے گا بدعت ہے (راہ سنت، ص: 70)


🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
شرعی عدالت (میلاد النبی اسپیشل)
(اس پیغام کو صرف فاروڈ کریں کاپی پیسٹ نہیں)
شرعی عدالت مجلس شوری کی طرف سے آپ تمام سنی بھائیوں بہنوں کو یہ ماہ مبارک یعنی آقا ﷺ کی پیدائش کا مہینہ بہت بہت مبارک ہو . اللهﷻ آپ تمام کے لئے یہ ماہ خوشیوں، رحمتوں اور برکتوں والا بنائے رکھے.
🌷 آمین یا رب العالمین وبجاہ سید المرسلین
ذیل میں عید میلاد النبی ﷺ کے تعلق سے ضروری عنوانات کی فہرست لکھی گئی ہے. آپ تمام مطالعہ فرمائیں، احباب کو مطلع کریں اورثواب دارین حاصل کریں. تا کہ آپ بدعت وشرک کا نعرہ لگانے والے خارجی وہابیوں اور دیوبندیوں کو منہ توڑ جواب دے سکیں.
⚡️ بدعت کی تعریف
⚡️ بدعت کے اقسام
⚡️ شرح حدیث: کل بدعة ضلالة
⚡️کیا ہر بدعت گمراہی ہے؟
⚡️ بدعت حسنہ کے ثبوت میں
⚡️ منع کی دلیل دیجئے! (اصول)
⚡️ نبی کریم ﷺ نے یوم موسی منایا
⚡️ میلاد النبی ﷺ اور امام عسقلانی
⚡️ جو صحابہ نے نہ کِیا بدعت ہے؟
⚡️ ہم میلاد کیسے منائیں؟
⚡️ مجلس میلاد میں حضور کا آنا؟
🌷 جزاك الله خيرا (مسلک اعلی حضرت سلامت رہے)
اس فہرست میں ان شاء اللهﷻ اضافہ کیا جاتا رہے گا. اس پیغام میں ہونے والے اضافوں سے باخبر رہنے کے لئے وقتا فوقتا یہاں کلک کریں. یہ شرعی عدالت چینل کا ایک پیغام ہے ترمیم اور اضافہ صرف اس واحد پیغام میں ہی کیا جائے گا. گروپ سے جڑنے کے لئے یہاں کلک کریں.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
وعلیکم السلام و رحمة الله تعالى وبركاته

خواتین اور خضاب
(سئل) عورتوں کا بالوں میں رنگ لگانا کیسا؟
سائل: حافظ محمد توحید، پٹنہ؛


(فأجاب) اس میں حرج نہیں کے عورت شریعت کے دامن کو تھام کر بالوں میں رنگ لگائے. کسی بھی مناسب رنگ سے ضرورتا بالوں کو رنگ لے علاوہ سیاہ رنگ کے. سیاہ خضاب کا استعمال مرد وعورت دونوں پر حرام ہے خواہ وہ دو غیر سیاہ رنگوں کے ملنے کے سبب سیاہ ہوگیا ہو. یعنی پہلی دفعہ بالوں میں ایک رنگ لگایا اور اس پر دوسرا رنگ پھیرا جس سے بال سیاہ ہوگئے، حرام وممنوع ہے. اگر کوئی رنگ لگانے سے کافر قوموں سے مشابہت ہوتی ہے تو احتیاطا اسے نہ لگائے. بہتر ہے وسمہ مہندی وغیرہ سے بالوں کو زرد یا سرخ رنگ رکھے.
امام اہل سنت فرماتے ہیں:
سیاہ خضاب خواہ مازو ووہلیلہ ونیل کا ہو خواہ نیل وحنا مخلوط خواہ کسی چیز کا سوا مجاہدین کے سب کو مطلقا حرام ہے۔ اور صرف مہندی کا سرخ خضاب یا اس میں نیل کی کچھ پتیاں اتنی ملا کر جس سے سرخی میں پختگی آجائے اور رنگ سیاہ نہ ہونے پائے سنت مستحبہ ہے۔
شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ الشریف اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں فرماتے ہیں: خضاب بسواد حرام ست وصحابہ وغیرہم خضاب سرخ می کردند گاہے زرد نیز اھـ ملخصا. (اشعۃ اللمعات، کتاب اللباس باب الترجل، ۳/ ۵۶۹)
سیاہ خضاب لگاناحرام ہے صحابہ اور دوسرے بزرگوں سے سرخ خضاب کا استعمال منقول ہے اور کبھی کبھار زرد رنگ کا خضاب بھی اھ ملخصا۔ (فتاوی رضویہ، ٤٨٤/٢٣)
حدیث میں ہے حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں:
الصفرة خضاب المؤمن، والحمرة خضاب المسلم، والسواد خضاب الكافر. (المستدرک، م: ٦٢٣٩؛ المعجم الکبیر، م: ١٤١١٩؛ ضعیف)
زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اسلام والوں کا اور سیاہ خضاب کافروں کا.
اسے ابن شبہ نے امیرالمومنین عمر فاروق رضی الله تعالى عنه سے موقوفا روایت کیا. (تاریخ المدینة لابن شبة، ص: ٨٥٤)
عن الحكم بن عمرو الغفاري قال دخلت أنا وأخي رافع بن عمرو على أمير المؤمنين عمر بن الخطاب وأنا مخضوب بالحناء وأخي مخضوب بالصفرة فقال لي عمر بن الخطاب هذا خضاب الإسلام وقال لأخي رافع هذا خضاب الإيمان. (مسند احمد، ٢٠٦٦٠)
حضرت حکم بن عمرو سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور میرا بھائی رافع بن عمر و امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے مہندی کا خضاب کیا ہوا تھا اور میرے بھائی نے زرد رنگ کا تو حضرت عمر نے مجھ سے فرمایا یہ اسلام کا خضاب ہے اور میرے بھائی رافع سے فرمایا کہ یہ ایمان کا خضاب ہے۔
دیلمی نے عبد الله بن ھداج سے روایت کیا کہ فرمایا نبی کریم ﷺ: خضاب الإسلام الصفرة، وخضاب الإيمان الحمرة. (کنز العمال، م: ١٧٣٢٣)
زرد خضاب اسلام والوں کا ہے اور سرخ خضاب اہل ایمان کا.
سنن ابی داؤد میں حضرت عبد الله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے ہے:
مر علی النبي صلی الله عليه وسلم رجل قد خضب  بالحناء فقال ما أحسن هذا قال فمر آخر قد خضب بالحناء والکتم فقال هذا أحسن من هذا قال فمر آخر قد خضب بالصفرة فقال هذا أحسن من هذا کله. (سنن أبی داود، م: ٤٢١١؛ سنن ابن ماجه، م: ٣٦٢٧؛ معجم الکبیر، م: ١٠٩٢٢؛ ضعیف)
یعنی حضور سید عالم ﷺ کے سامنے ایک صاحب مہندی کا خضاب کئے گزرے فرمایا یہ کیا خوب ہے۔ پھر دوسرے گزرے انھوں نے مہندی اور کتم ملا کر خضاب کیا تھا فرمایا: یہ اس سے بہتر ہے، پھر تیسرے زرد خضاب کئے گزرے فرمایا: یہ ان سب سے بہتر ہے۔
اور ابن عمر رضی الله تعالى عنه سے روایت ہے.
أن النبي ﷺ رأى رجلا قد خضب بالحمرة فقال: ما أحسن هذا. ورأى رجلا قد خضب بالصفرة فقال: هذا حسن. (حلیة الاولیاء، ١٣/٥)
یعنی حضور سید عالم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو سرخ خضاب لگائے ہوئے تھا. فرمایا: یہ کیا خوب ہے. اور ایک شخص کو دیکھا زرد خضاب لگائے ہوئے فرمایا: یہ حسن ہے.
وقال المجدد: تنہا مہندی مستحب ہے اور اس میں کتم کی پتیاں ملاکر کہ ایک گھاس مشابہ برگ زیتون ہے جس کا رنگ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے اس سے بہتر اور زرد رنگ سب سے بہتر، اور سیاہ وسمے کا ہو خواہ کسی چیز کامطلقا حرام ہے۔ مگر مجاہدین کو. والله اعلم.


🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
💥بغیرحیلہ شرعی مدارس میں زکوۃ کا حکم 💥

💫السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلے میں کہ کچھ مدارس ایسے ہیں جہاں زکوٰۃ،صدقات،فطرات،خیرات اور ایصال ثواب کی رقم بغیر حیلۂ شرعی کے استعمال کی جاتی ہے تو کیا ایسے مدارس میں زکوٰۃ،صدقات،فطرات،خیرات اور ایصال ثواب کی رقم دینا جائز ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
سائل :- محمد صغیر احمد رضوی نیپال


الجواب-صدقات واجبہ زکوۃ,صدقہ فطر اور عشر مدارس دینیہ میں بغیر حیلہ شرعی صرف کرناجائز نہیں زکوۃ میں تملیک فقیر شرط ہے لہذا جن مدارس میں صدقات واجبہ کو بغیر حیلہ شرعی صرف کیا جاتا ہو وہاں صدقات واجبہ دینے سے ادا نہ ہوں گے اور جب تک وہ حیلہ شرعی کا پختہ وعدہ نہ کریں اس وقت تک ایسے مدارس میں صدقات واجبہ دینا ہرگز جائز نہ ہوگا اور اب تک صدقات واجبہ کی جو رقم ذمہ داران مدرسہ نے بغیر حیلہ شرعی صرف کی ہے اس کا تاوان ان پر لازم ہے ورنہ گنہ گار ہوں گے
قال اللہ تعالی "انما الصدقات للفقراء والمساکین" ہندیہ میں ہے " ھی تملیک المال من فقیر مسلم"اھ(ج۱,ص۱۷۰)
اور اب تک جو رقم بغیر حیلہ شرعی صرف کی ہے اس کا تاوان ذمہ داران مدرسہ پر لازم ہے
البتہ ان مدارس میں صدقات نافلہ دینا جائز ہے کہ نافلہ کے لئے حیلہ شرعی شرط نہیں

واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
۱۲نومبر/۲۰۱۸
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
⚡️ بچا ہوا چندہ خود رکھ لینا⚡️

کیا فرماتے ہین علما کرام اس مسئلہ میں کہ گیارویں کے بچے ہوئے پیسے امام لے سکتا ہے یا نہیں؟
سائل: نصر الدین عزیزی
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

یہ پیسے نفلی صدقہ ہیں، جس خاص غرض کے لیے لیا گیا ہے اس کے غیر میں صرف نہیں کیا جا سکتا. اگر وہ غرض پوری ہوچکی ہو تو جس نے چندہ دیا ہے اس کو واپس کیا جائے یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں خرچ کیا جائے. اگر چندہ دہندگان موجود نہ ہو تو اس کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصے کے قدر میں معتبر ہوگی صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا، اور اگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں، وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں، غرض بے اجازت مالکان امام کا اپنے لئے خرچ کرنا جائز نہیں چاہے مفلس ہو چاہے غنی. اسی طرح فتاوی رضویہ (١٣٤/١٦) اور فتاوی امجدیہ (٣٩/٣) پر ہے.

⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

🌷 کتبہ: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٤/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM