🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-09-1444 ᴴ | 11-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-09-1444 ᴴ | 11-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا سراج الحق بدایونی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا نام سراج الحق والد کا نام فیض احمد بدایونی، آپ کا تاریخی ناماظہار الحق ہے۔
تاریخ ولادت:
آپ 20 رمضان المبارک 1246 ھ بدایوں میں پیدا ہوئے۔
بیعت:
آپ علیہ الرحمہ حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول قدس سرہ کے دست پر مرید ہوئے۔
سیرت و خصائص:
آپ نے اکثر کتبِ مروجہ اپنے والد سے پڑھیں، والدِ ماجد کے بعد استاذ العلماء نور احمد قدس سرہ سے درسیات کی تکمیل کی۔ والد کے ماموں حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول قدس سرہ سے عملاً طب حاصل کی۔ اکثر دان پور، دھرم پور میں قیام رہتا تھا۔ دستِ شفا کی خاص شہرت تھی۔ عربی ادب میں والد صاحب کی طرح ماہر تھے۔ نظم و نثر دونوں پر قدرت تھی۔ دو بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔مخلوق کے افاضہ و افادہ میں ہمہ تی مصروف رہتے تھے۔ اس وقت جب علم کتابوں میں اور علماء اپنے مزاروں میں تھے اس وقت ان کی ذات کو غنیمت تصور کیا جاتا تھا۔ تصانیف میں علمِ میراث اور علمِ کلام سے خصوصی شغف تھا۔ باطل مذاہب خصوصاً وہابیہ کی رد میں کئی رسائل لکھے۔
وصال:
آپ کا وصال 28 ذو القعدہ 1322 ھ/بمطابق 2 فروری 1905ء میں بمقام دان پور وقتِ سحر واصل الی اللہ ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علمائے ہند، تذکرۂ علمائے اہلِ سنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-siraj-ul-haq-badayuni
نام و نسب:
آپ کا نام سراج الحق والد کا نام فیض احمد بدایونی، آپ کا تاریخی ناماظہار الحق ہے۔
تاریخ ولادت:
آپ 20 رمضان المبارک 1246 ھ بدایوں میں پیدا ہوئے۔
بیعت:
آپ علیہ الرحمہ حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول قدس سرہ کے دست پر مرید ہوئے۔
سیرت و خصائص:
آپ نے اکثر کتبِ مروجہ اپنے والد سے پڑھیں، والدِ ماجد کے بعد استاذ العلماء نور احمد قدس سرہ سے درسیات کی تکمیل کی۔ والد کے ماموں حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول قدس سرہ سے عملاً طب حاصل کی۔ اکثر دان پور، دھرم پور میں قیام رہتا تھا۔ دستِ شفا کی خاص شہرت تھی۔ عربی ادب میں والد صاحب کی طرح ماہر تھے۔ نظم و نثر دونوں پر قدرت تھی۔ دو بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔مخلوق کے افاضہ و افادہ میں ہمہ تی مصروف رہتے تھے۔ اس وقت جب علم کتابوں میں اور علماء اپنے مزاروں میں تھے اس وقت ان کی ذات کو غنیمت تصور کیا جاتا تھا۔ تصانیف میں علمِ میراث اور علمِ کلام سے خصوصی شغف تھا۔ باطل مذاہب خصوصاً وہابیہ کی رد میں کئی رسائل لکھے۔
وصال:
آپ کا وصال 28 ذو القعدہ 1322 ھ/بمطابق 2 فروری 1905ء میں بمقام دان پور وقتِ سحر واصل الی اللہ ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علمائے ہند، تذکرۂ علمائے اہلِ سنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-siraj-ul-haq-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Hakeem Siraj-ul-Haq Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ حبیب الرحمٰن کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
والد ماجد / ولادت:
حضرت مولانا ستاہ محمد عادل کانپوری کے بڑے صاحبزادے، ۱۲۹۲ھ میں محلہ ناچ گھر کانپور میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
قرآن پاک پڑھنے کے بعد والد ماجد سے فارسی اور عربی درس نظامی متوسط کتابوں تک پڑھی ۔ ان کی رحلت کے بعد باقی ماندہ کتب کی تکمیل اور صحاح ستّہ کا دور حضرت مولانا قاضی عبد الرزاق کانپوری سے کیا ۔ ۱۳۲۷ھ میں دستار بندی ہوئی، اور سند فراغت مرحمت ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا شاہ سراج الحق محمد عمر دہلوی سے مرید ہوکر سلوک طےکیا اور خلیفہ ہوئے ۔
سیرت و خصائل:
اخلاق حسنہ سے متصف، اور خندہ رو، اور دوست آشنا تھے۔
وفات:
۲۰ رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ میں انتقال کیا ۔
قبر مبارک:
والد ماجد کے پہلو میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-habib-ur-rehman-kanpuri
والد ماجد / ولادت:
حضرت مولانا ستاہ محمد عادل کانپوری کے بڑے صاحبزادے، ۱۲۹۲ھ میں محلہ ناچ گھر کانپور میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
قرآن پاک پڑھنے کے بعد والد ماجد سے فارسی اور عربی درس نظامی متوسط کتابوں تک پڑھی ۔ ان کی رحلت کے بعد باقی ماندہ کتب کی تکمیل اور صحاح ستّہ کا دور حضرت مولانا قاضی عبد الرزاق کانپوری سے کیا ۔ ۱۳۲۷ھ میں دستار بندی ہوئی، اور سند فراغت مرحمت ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا شاہ سراج الحق محمد عمر دہلوی سے مرید ہوکر سلوک طےکیا اور خلیفہ ہوئے ۔
سیرت و خصائل:
اخلاق حسنہ سے متصف، اور خندہ رو، اور دوست آشنا تھے۔
وفات:
۲۰ رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ میں انتقال کیا ۔
قبر مبارک:
والد ماجد کے پہلو میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-habib-ur-rehman-kanpuri
scholars.pk
Hazrat Shah Habib-ur-Rehman Kanpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
محدث اجل ، فقیہ کامل حضرت علامہ شیخ علی بن معبد بن شداد الرقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
علی بن معبد بن شداد الرقی:
امام محمد کے اصحاب میں سے محدث اجل ، فقیہ کامل ، شیخ ثقہ، مستقیم الحدیث ، حنفی المذہب امام احمد کے طبقہ میں سے تھے ۔
آپ کی ابو الحسن اور ابو محمد دو کنیتیں تھیِ مرو سے اپنے باپ کے ساتھ مصر میں آئے اور وہیں سکونت اختیار کی حدیث کو امام محمد اور عبد اللہ بن عمرو الرقی و ابن مبارک و عبد اللہ بن عمر والرقی وابن مبارک و عتاب بن بشیر و مالک ولیث وابن عینیہ و عباد وابن وہب وعبد الوہا ب ثقفی و جریر و اسمٰعیل بن عیاش و ابی الاحوص کوفی و عیسٰی بن یونس و امام شافعی و موسٰی بن اعین و ہشیم اور وکیع وغیرہم سے سُنا اور روایت کیا ـ
اور نیز امام محمد سے ان کی جامع کبیر اور جامع صغیر کو روایت کیا اور آپ سے اسحاق بن منصور و خشیش بن اصرم و عبد الرحمٰن بن عبداللہ بن عبد الحکیم و عبد العزیز بن یحییٰ مدینی و یحییٰ بن معین و یونس بن عبد الاعلیٰ و محمد بن اسحٰق و محمد بن عبد الملک بن زلجویہ و یحییٰ بن سلیمان جعفی و یعقوب بن سفیان و وحیم و ابو عبید القاسم بن سلام و بجر بن نصر وعلی بن سعبد بن نوح و اسمٰعیل سمویہ مقدام بن داؤد ہارون بن کامل مصری نے روایت کی ـ
اور نیز صاحب ترمذی اور نسائی نے اپنی اپنی صحیح میں آپ سے تخریج کی ۔
وصال:
وفات آپ کی ۲۰ رمضان ۲۱۸ھ میں ہوئی ’’قطب زمین ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sheikh-ali-bin-mabad-ur-raqi
علی بن معبد بن شداد الرقی:
امام محمد کے اصحاب میں سے محدث اجل ، فقیہ کامل ، شیخ ثقہ، مستقیم الحدیث ، حنفی المذہب امام احمد کے طبقہ میں سے تھے ۔
آپ کی ابو الحسن اور ابو محمد دو کنیتیں تھیِ مرو سے اپنے باپ کے ساتھ مصر میں آئے اور وہیں سکونت اختیار کی حدیث کو امام محمد اور عبد اللہ بن عمرو الرقی و ابن مبارک و عبد اللہ بن عمر والرقی وابن مبارک و عتاب بن بشیر و مالک ولیث وابن عینیہ و عباد وابن وہب وعبد الوہا ب ثقفی و جریر و اسمٰعیل بن عیاش و ابی الاحوص کوفی و عیسٰی بن یونس و امام شافعی و موسٰی بن اعین و ہشیم اور وکیع وغیرہم سے سُنا اور روایت کیا ـ
اور نیز امام محمد سے ان کی جامع کبیر اور جامع صغیر کو روایت کیا اور آپ سے اسحاق بن منصور و خشیش بن اصرم و عبد الرحمٰن بن عبداللہ بن عبد الحکیم و عبد العزیز بن یحییٰ مدینی و یحییٰ بن معین و یونس بن عبد الاعلیٰ و محمد بن اسحٰق و محمد بن عبد الملک بن زلجویہ و یحییٰ بن سلیمان جعفی و یعقوب بن سفیان و وحیم و ابو عبید القاسم بن سلام و بجر بن نصر وعلی بن سعبد بن نوح و اسمٰعیل سمویہ مقدام بن داؤد ہارون بن کامل مصری نے روایت کی ـ
اور نیز صاحب ترمذی اور نسائی نے اپنی اپنی صحیح میں آپ سے تخریج کی ۔
وصال:
وفات آپ کی ۲۰ رمضان ۲۱۸ھ میں ہوئی ’’قطب زمین ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sheikh-ali-bin-mabad-ur-raqi
scholars.pk
Hazrat Allama Sheikh Ali Bin Mabad-ur-Raqi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
بانی دار العلوم امجدیہ کراچی، حضرت علامہ مفتی ظفر علی نعمانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی ظفر علی نعمانی ۔ لقب: سید نا امام اعظم ابو حنیفہ سے محبت و نسبت کے سبب ’’نعمانی‘‘ اپنے نام کے ساتھ لکھتے تھے جو کہ نام کا حصہ بن گیا ۔
والد کا اسم گرامی:
مولانا محمد ادریس علیہ الرحمہ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 15 نومبر 1917ء، مطابق ماہ صفر 1336ھ، کو ’’سید پور‘‘ ضلع بلیا، یو پی انڈیا میں ہوئی ۔ (روشن دریچے ص:201)
تحصیلِ علم:
آپ نے پرائمری تعلیم سید پور میں حاصل کی ۔ اس کے بعد خلیفہ اعلیٰ حضرت، مولانا رحیم بخش رضوی کے مدرسہ ’’ فیض الغرباء ‘‘ شاہ پور صوبہ بہار میں داخلہ لیا ، قابل ترین اساتذہ سے اکتساب فیض کیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں شرح جامی تک کتابیں پڑھ لیں ـ
اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے اہل سنت و جماعت کی نامور دینی درسگاہ جامعہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارکپور ضلع اعظم گڑھ کا رخ کیا، وہیں داخلہ لے کر نصابی کتب کی تکمیل کے بعد 1351ھ ؍ 1942ء کو فارغ التحصیل ہوئے ۔
اس درسگاہ میں دیگر علماء کے علاوہ حضور حافظ ملت، علامہ حافظ عبد العزیز محدث مبارکپوری سے خصوصی طور پر استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت :
آپ خلیفہ اعلیٰ حضرت ، صدر الشریعۃ علامہ مفتی امجد علی اعظمی ( صاحبِ ِبہار شریعت ) سے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں دست بیعت ہوئے اور بعد میں خلافت سے نوازے گئے ۔
اسی طرح حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا حامد رضا خاں علیہ الرحمہ کے خلیفہ بھی تھے ۔ (فقہاء سندھ کی علمی خدمات ص:279)
سیرت و خصائص:
مفتیِ اہل سنت، محسن اہل سنت، استاذ العلماء والفضلاء، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، خلیفۂ صدر الشریعہ، مفتیِ اعظم پاکستان، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ظفر علی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ۔
مفتی صاحب علیہ الرحمہ یادگارِ اسلاف اور ایک علمی و روحانی شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ کی زندگی جد و جہد اور دینِ متین کی خدمت میں گزری۔
دارالعلوم امجدیہ کا قیام:
حضرت صدر الشریعہ کے حکم پر 1948ء کو کراچی تشریف لے آئے ۔ یہاں امامت و خطابت درس و تدریس اور اشاعت دین کے اہم کام میں مصروف و مشغول ہو گئے ۔ اس کے ساتھ اسی سال گاڑی کھاتہ فیروز اسٹریٹ آرام باغ میں ایک مکان خرید کر مرشد کی یاد میں مدرسہ قائم کر کے ’’دار العلوم امجدیہ ‘‘ کا ایک بورڈ لگا دیا، چنانچہ ابتدا میں آپ خود ہی مہتمم ، مدرس ، منتظم اور نگران سب کچھ تھے ۔
ایک عرصہ تک یہ مدرسہ اسی مکان میں مذہبی خدمات انجام دیتا رہا مگر یہ جگہ نا کافی ہونے کی وجہ سے مفتی صاحب نے حاجی ہارون میمن صاحب سے عالم گیر روڈ پر جگہ حاصل کر کے دار العلوم امجدیہ وہاں منتقل کر دیا، بعد میں مزید جگہ لی گئی ـ
جستہ جستہ تعمیر ہوتی رہی۔ آج دار العلوم کی پر شکوہ عمارت خوبصورت شکل میں مسجد امجدی کے متصل کراچی کے دل میں موجود ہے ۔ جہاں سے سینکڑوں علماء خطباء حفاظ اور قراٗ حضرات فارغ ہو کر ملک اور بیرون ملک میں تبلیغ و اشاعت دین کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔
آپ نے دارالعلوم امجدیہ کے علاوہ پنجاب کے شہر سانگلہ ہل (ضلع شیخو پورہ ) میں ایک بہت بڑی قطعہ اراضی لے کر ’’ مدرسہ اسلامیہ برکات القرآن ‘‘ کی داغ بیل ڈال دی ، آج جس کی عمارت کئی کمروں اور کانفرنس ہال پر مشتمل ہے ۔ جہاں درس و تدریس کی شمع روشن ہے۔ مدرسہ کے تمام اخراجات مفتی صاحب اور آپ کے بھائی محترم مظہر علی نعمانی اپنی جیب سے برداشت کرتے رہے ۔
درس و تدریس:
فارغ التحصیل ہوتے ہی مادر علمی جامعہ اشرفیہ میں بحیثیت مدرس مقرر ہوئے ۔ تقریباً ڈیڑ سال اساتذہ کرام کی نگرانی میں تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔
اس کے بعد پیر و مرشد حضرت صدر الشریعۃ کے حکم پر کاٹھیا واڑ چلے گئے جہاں مدرسہ دار العلوم اہل سنت میں صدر مدرس اور مفتی کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے لگے ۔ تقریباً ساڑھے چار سال کامیابی سے خدمات انجام دینے کے بعد پاکستان تشریف لے آئے ۔ کراچی میں ساری زندگی ’’ دار العلوم امجدیہ ’’ میں بحیثیت مہتمم خدمات عظیمہ سر انجام دیتے رہے ۔
شادی و اولاد:
مفتی ظفر علی نعمانی کا نکاح حضرت کے بڑے صاحبزادے مولانا حکیم شمس الہدیٰ اعظمی کی صاحبزادی سے 1951ء ؍ 1370ھ کو کراچی میں انعقاد پذیر ہوا ۔ قاضی نکاح خواں کے فرائض برادر نسبتی علامہ عبد المصطفیٰ الازہری نے انجام دیئے ۔ اس محفل میں کراچی کے علماء کرام مشائخ عظام اور نامور شخصیات نے شرکت کی ۔
ذریعۂ معاش:
تمام دینی مصروفیات کے باوجود آپ کا رپٹ ایکسپورٹر کا کاروبار اپنے بھائی کے ساتھ کرتے تھے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی ظفر علی نعمانی ۔ لقب: سید نا امام اعظم ابو حنیفہ سے محبت و نسبت کے سبب ’’نعمانی‘‘ اپنے نام کے ساتھ لکھتے تھے جو کہ نام کا حصہ بن گیا ۔
والد کا اسم گرامی:
مولانا محمد ادریس علیہ الرحمہ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 15 نومبر 1917ء، مطابق ماہ صفر 1336ھ، کو ’’سید پور‘‘ ضلع بلیا، یو پی انڈیا میں ہوئی ۔ (روشن دریچے ص:201)
تحصیلِ علم:
آپ نے پرائمری تعلیم سید پور میں حاصل کی ۔ اس کے بعد خلیفہ اعلیٰ حضرت، مولانا رحیم بخش رضوی کے مدرسہ ’’ فیض الغرباء ‘‘ شاہ پور صوبہ بہار میں داخلہ لیا ، قابل ترین اساتذہ سے اکتساب فیض کیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں شرح جامی تک کتابیں پڑھ لیں ـ
اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے اہل سنت و جماعت کی نامور دینی درسگاہ جامعہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارکپور ضلع اعظم گڑھ کا رخ کیا، وہیں داخلہ لے کر نصابی کتب کی تکمیل کے بعد 1351ھ ؍ 1942ء کو فارغ التحصیل ہوئے ۔
اس درسگاہ میں دیگر علماء کے علاوہ حضور حافظ ملت، علامہ حافظ عبد العزیز محدث مبارکپوری سے خصوصی طور پر استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت :
آپ خلیفہ اعلیٰ حضرت ، صدر الشریعۃ علامہ مفتی امجد علی اعظمی ( صاحبِ ِبہار شریعت ) سے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں دست بیعت ہوئے اور بعد میں خلافت سے نوازے گئے ۔
اسی طرح حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا حامد رضا خاں علیہ الرحمہ کے خلیفہ بھی تھے ۔ (فقہاء سندھ کی علمی خدمات ص:279)
سیرت و خصائص:
مفتیِ اہل سنت، محسن اہل سنت، استاذ العلماء والفضلاء، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، خلیفۂ صدر الشریعہ، مفتیِ اعظم پاکستان، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ظفر علی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ۔
مفتی صاحب علیہ الرحمہ یادگارِ اسلاف اور ایک علمی و روحانی شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ کی زندگی جد و جہد اور دینِ متین کی خدمت میں گزری۔
دارالعلوم امجدیہ کا قیام:
حضرت صدر الشریعہ کے حکم پر 1948ء کو کراچی تشریف لے آئے ۔ یہاں امامت و خطابت درس و تدریس اور اشاعت دین کے اہم کام میں مصروف و مشغول ہو گئے ۔ اس کے ساتھ اسی سال گاڑی کھاتہ فیروز اسٹریٹ آرام باغ میں ایک مکان خرید کر مرشد کی یاد میں مدرسہ قائم کر کے ’’دار العلوم امجدیہ ‘‘ کا ایک بورڈ لگا دیا، چنانچہ ابتدا میں آپ خود ہی مہتمم ، مدرس ، منتظم اور نگران سب کچھ تھے ۔
ایک عرصہ تک یہ مدرسہ اسی مکان میں مذہبی خدمات انجام دیتا رہا مگر یہ جگہ نا کافی ہونے کی وجہ سے مفتی صاحب نے حاجی ہارون میمن صاحب سے عالم گیر روڈ پر جگہ حاصل کر کے دار العلوم امجدیہ وہاں منتقل کر دیا، بعد میں مزید جگہ لی گئی ـ
جستہ جستہ تعمیر ہوتی رہی۔ آج دار العلوم کی پر شکوہ عمارت خوبصورت شکل میں مسجد امجدی کے متصل کراچی کے دل میں موجود ہے ۔ جہاں سے سینکڑوں علماء خطباء حفاظ اور قراٗ حضرات فارغ ہو کر ملک اور بیرون ملک میں تبلیغ و اشاعت دین کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔
آپ نے دارالعلوم امجدیہ کے علاوہ پنجاب کے شہر سانگلہ ہل (ضلع شیخو پورہ ) میں ایک بہت بڑی قطعہ اراضی لے کر ’’ مدرسہ اسلامیہ برکات القرآن ‘‘ کی داغ بیل ڈال دی ، آج جس کی عمارت کئی کمروں اور کانفرنس ہال پر مشتمل ہے ۔ جہاں درس و تدریس کی شمع روشن ہے۔ مدرسہ کے تمام اخراجات مفتی صاحب اور آپ کے بھائی محترم مظہر علی نعمانی اپنی جیب سے برداشت کرتے رہے ۔
درس و تدریس:
فارغ التحصیل ہوتے ہی مادر علمی جامعہ اشرفیہ میں بحیثیت مدرس مقرر ہوئے ۔ تقریباً ڈیڑ سال اساتذہ کرام کی نگرانی میں تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔
اس کے بعد پیر و مرشد حضرت صدر الشریعۃ کے حکم پر کاٹھیا واڑ چلے گئے جہاں مدرسہ دار العلوم اہل سنت میں صدر مدرس اور مفتی کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے لگے ۔ تقریباً ساڑھے چار سال کامیابی سے خدمات انجام دینے کے بعد پاکستان تشریف لے آئے ۔ کراچی میں ساری زندگی ’’ دار العلوم امجدیہ ’’ میں بحیثیت مہتمم خدمات عظیمہ سر انجام دیتے رہے ۔
شادی و اولاد:
مفتی ظفر علی نعمانی کا نکاح حضرت کے بڑے صاحبزادے مولانا حکیم شمس الہدیٰ اعظمی کی صاحبزادی سے 1951ء ؍ 1370ھ کو کراچی میں انعقاد پذیر ہوا ۔ قاضی نکاح خواں کے فرائض برادر نسبتی علامہ عبد المصطفیٰ الازہری نے انجام دیئے ۔ اس محفل میں کراچی کے علماء کرام مشائخ عظام اور نامور شخصیات نے شرکت کی ۔
ذریعۂ معاش:
تمام دینی مصروفیات کے باوجود آپ کا رپٹ ایکسپورٹر کا کاروبار اپنے بھائی کے ساتھ کرتے تھے ۔
❤1
دینی وسیاسی سر گرمیاں:
تحریک پاکستان میں اپنے اساتذہ کے ساتھ خدمات انجام دیں بعد میں استحکام پاکستان کیلئے سر گرم رہے ۔ فیصل آباد میں دار العلوم رضویہ مظہر الاسلام اور سنی رضوی جامع مسجد کی تعمیر و ترقی میں مفتی صاحب اور کراچی کے برکاتی رضوی میمن سیٹھ صاحبان نے بھر پور تعاون کیا ۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقد عظیم الشان سنی کانفرنس میں دامے قدمے سخنے تعاون فرمایا ۔ تحریک ختم نبوت کے دوران آپ نے علماء اہل سنت کے ساتھ قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔
کراچی میں ’’ تنظیم ائمۂ مساجد اہل سنت ‘‘ قائم فرمائی اس کے بعد تنظیم سازی کا عمل جاری رکھا ۔ جمعیت علماء پاکستان کے پلیٹ فارم سے دو بار انتخابات میں حصہ لیا ۔ 1972ء میں ایک بار سینٹ کا انتخاب لڑا جس میں کامیابی ہوئی اور سینیٹر منتخب ہوئے ۔ سینٹ کے ریکارڈ میں ان کی تقاریر انتہائی جامع اور مدلل ہوا کرتی تھیں ، انتہائی خدا ترس انسان تھے دین کے ساتھ ساتھ سیاست پر بھی گہری نظر تھی ۔ اسلامی نظریاتی کونسل آف پاکستان کے ممبر بھی رہے ۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین بھی رہے ۔ جماعت اہل سنت پاکستان ، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان ، تحریک نفاذفقہ حنفیہ ، تحریک نظام مصطفیٰ، نظام مصطفی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے ۔
نشر و اشاعت:
آپ نے ابتدائی دنوں میں لٹر یچر کی اشاعت کی ضرورت محسوس کی جس کے سبب آپ نے کراچی سے مکتبہ رضویہ سے اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے مشہور زمانہ نعتیہ کلام پر مشتمل کتاب ’’حدائق بخشش ‘‘ کو پاکستان میں پہلی بار شائع کیا ۔ فاضل بریلوی کے شہر آفاق ترجمہ قرآن کنز الایمان پاکستان میں سب سے پہلے مفتی صاحب کو طبع کرانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری کی تصنیف ’’ حیات اعلیٰ حضرت ‘‘ (جلد اول) بھی سب سے پہلے آپ نے 1960ء کو شائع کرائی ۔ پاکستان میں ’’ عرس اعلیٰ حضرت ‘‘ کی ابتداء کراچی میں مفتی صاحب نے فرمائی ۔
صحافت:
مفتی صاحب نے ابتدائی دور میں ایک ماہنامہ ’’ الاسلام ‘‘ آرام باغ سے جاری کیا تھا جس میں ملک کے جید علماء اور قلم کار دانشوروں کے پر مغز تحقیقی مضامین شائع ہوتے تھے ۔ ملک بھر سے آنے والے استفار کے جوابات بھی ماہنامہ الاسلام میں شائع ہوتے تھے ۔ استفار کے جوابات وقت کے مایہ ناز عالم دین، مفتی اعظم پاکستان علامہ مفتی محمد صاحب داد خان جمالی کے رشحات قلم کے مرہون منت تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 20 رمضان المبارک 1424ھ، مطابق 16 نومبر 2003ء بروز اتوار صبح 5 بجے انتقال فرمایا ۔
مدفن / مزار مبارک:
دار العلوم امجدیہ میں علامہ عبد المصطفیٰ الازہری ، مفتی وقار الدین قادری کی مزارات کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ روشن دریچے ۔ فقہاء سندھ کی علمی خدمات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-zafar-ali-nomani
تحریک پاکستان میں اپنے اساتذہ کے ساتھ خدمات انجام دیں بعد میں استحکام پاکستان کیلئے سر گرم رہے ۔ فیصل آباد میں دار العلوم رضویہ مظہر الاسلام اور سنی رضوی جامع مسجد کی تعمیر و ترقی میں مفتی صاحب اور کراچی کے برکاتی رضوی میمن سیٹھ صاحبان نے بھر پور تعاون کیا ۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقد عظیم الشان سنی کانفرنس میں دامے قدمے سخنے تعاون فرمایا ۔ تحریک ختم نبوت کے دوران آپ نے علماء اہل سنت کے ساتھ قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔
کراچی میں ’’ تنظیم ائمۂ مساجد اہل سنت ‘‘ قائم فرمائی اس کے بعد تنظیم سازی کا عمل جاری رکھا ۔ جمعیت علماء پاکستان کے پلیٹ فارم سے دو بار انتخابات میں حصہ لیا ۔ 1972ء میں ایک بار سینٹ کا انتخاب لڑا جس میں کامیابی ہوئی اور سینیٹر منتخب ہوئے ۔ سینٹ کے ریکارڈ میں ان کی تقاریر انتہائی جامع اور مدلل ہوا کرتی تھیں ، انتہائی خدا ترس انسان تھے دین کے ساتھ ساتھ سیاست پر بھی گہری نظر تھی ۔ اسلامی نظریاتی کونسل آف پاکستان کے ممبر بھی رہے ۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین بھی رہے ۔ جماعت اہل سنت پاکستان ، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان ، تحریک نفاذفقہ حنفیہ ، تحریک نظام مصطفیٰ، نظام مصطفی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے ۔
نشر و اشاعت:
آپ نے ابتدائی دنوں میں لٹر یچر کی اشاعت کی ضرورت محسوس کی جس کے سبب آپ نے کراچی سے مکتبہ رضویہ سے اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے مشہور زمانہ نعتیہ کلام پر مشتمل کتاب ’’حدائق بخشش ‘‘ کو پاکستان میں پہلی بار شائع کیا ۔ فاضل بریلوی کے شہر آفاق ترجمہ قرآن کنز الایمان پاکستان میں سب سے پہلے مفتی صاحب کو طبع کرانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری کی تصنیف ’’ حیات اعلیٰ حضرت ‘‘ (جلد اول) بھی سب سے پہلے آپ نے 1960ء کو شائع کرائی ۔ پاکستان میں ’’ عرس اعلیٰ حضرت ‘‘ کی ابتداء کراچی میں مفتی صاحب نے فرمائی ۔
صحافت:
مفتی صاحب نے ابتدائی دور میں ایک ماہنامہ ’’ الاسلام ‘‘ آرام باغ سے جاری کیا تھا جس میں ملک کے جید علماء اور قلم کار دانشوروں کے پر مغز تحقیقی مضامین شائع ہوتے تھے ۔ ملک بھر سے آنے والے استفار کے جوابات بھی ماہنامہ الاسلام میں شائع ہوتے تھے ۔ استفار کے جوابات وقت کے مایہ ناز عالم دین، مفتی اعظم پاکستان علامہ مفتی محمد صاحب داد خان جمالی کے رشحات قلم کے مرہون منت تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 20 رمضان المبارک 1424ھ، مطابق 16 نومبر 2003ء بروز اتوار صبح 5 بجے انتقال فرمایا ۔
مدفن / مزار مبارک:
دار العلوم امجدیہ میں علامہ عبد المصطفیٰ الازہری ، مفتی وقار الدین قادری کی مزارات کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ روشن دریچے ۔ فقہاء سندھ کی علمی خدمات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-zafar-ali-nomani
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Zafar Ali Nomani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1