ناسازئ طبع:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ مسلسل چند سالوں کے دوران کئی دفعہ سخت علیل ہوئے ۔ جس سے ذہنی دماغی اور اعصابی قوتوں پر خاصا اثر پڑ چکا تھا ۔ مگر پھر بھی فریضۂ پنجگانہ کی ادائگی کے لیے ہمیشہ پانچواں وقت مسجد میں تشریف لاتے، اور کھڑے ہو کر نماز ادا فرماتے، ماہ وصال رمضان المبارک میں مفتی عبد السلام نے چار روزے سے اور پانچویں روز کی مکمل بیس ۲۰ رکعت تراویح با جماعت کھڑے ہو کر ادا کیں مشئیت ایزدی کہ اسی پانچویں شب میں مرض الوصال کا آغاز ہوا ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے طبیعت سخت ناساز ہوگئی ۔ اس کے باجود مفتی عبد السلام نے پانچویں روزے کی سحری کھائی اور عزم روزہ فرما لیا ۔ سخت علالت و نقاہت کے باوجود دوپہر تک یو ہیں بہ نیت روزہ رہے مگر جب دوپہر کو اہل کانہ نے دیکھا کہ شام تک مفتی عبد السلام کا یو ہیں روزے میں رہنا زیادتی علالت، اور سخت نقاہت کا باعث ہو سکتا ہے جس پر بعد میں قابو پانا بہت دشوار ہو جائےگا ۔ تو بے حد اصرار کر کے ضرورتاً مختصر سا کھانا کھلا دیا ۔ اس کے بعد تادم وصال مسلسل چودہ روز تک اسی نازک اور امتحانی حالت میں رہے ۔ شہر کے بڑے بڑے حکیموں اور ڈاکٹروں کے علاج معالجہ کے باوجود شدت مرض میں کوئی افاقہ نہ ہوا ۔
وصال:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کا وصال ۱۹؍ رمضان المبارک ۱۸؍ مئی ۱۹۷۸ء؍ ۱۴۰۷ھ بروز دوشنبہ دوپہر ٹھیک گیارہ بج کر ۵۵ منٹ پر ہوا اور اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ فرما کر اپنے پرور دگار حقیقی سے جا ملے [1] ۔
[1]۔ مکتوب مولانا زاہد علی رجوی بنام راقم محررہ ۹؍ دسمبر ۱۹۸۹ء ۱۲، رضوی غفرلہٗ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abdul-salam-sumbhuli
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ مسلسل چند سالوں کے دوران کئی دفعہ سخت علیل ہوئے ۔ جس سے ذہنی دماغی اور اعصابی قوتوں پر خاصا اثر پڑ چکا تھا ۔ مگر پھر بھی فریضۂ پنجگانہ کی ادائگی کے لیے ہمیشہ پانچواں وقت مسجد میں تشریف لاتے، اور کھڑے ہو کر نماز ادا فرماتے، ماہ وصال رمضان المبارک میں مفتی عبد السلام نے چار روزے سے اور پانچویں روز کی مکمل بیس ۲۰ رکعت تراویح با جماعت کھڑے ہو کر ادا کیں مشئیت ایزدی کہ اسی پانچویں شب میں مرض الوصال کا آغاز ہوا ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے طبیعت سخت ناساز ہوگئی ۔ اس کے باجود مفتی عبد السلام نے پانچویں روزے کی سحری کھائی اور عزم روزہ فرما لیا ۔ سخت علالت و نقاہت کے باوجود دوپہر تک یو ہیں بہ نیت روزہ رہے مگر جب دوپہر کو اہل کانہ نے دیکھا کہ شام تک مفتی عبد السلام کا یو ہیں روزے میں رہنا زیادتی علالت، اور سخت نقاہت کا باعث ہو سکتا ہے جس پر بعد میں قابو پانا بہت دشوار ہو جائےگا ۔ تو بے حد اصرار کر کے ضرورتاً مختصر سا کھانا کھلا دیا ۔ اس کے بعد تادم وصال مسلسل چودہ روز تک اسی نازک اور امتحانی حالت میں رہے ۔ شہر کے بڑے بڑے حکیموں اور ڈاکٹروں کے علاج معالجہ کے باوجود شدت مرض میں کوئی افاقہ نہ ہوا ۔
وصال:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کا وصال ۱۹؍ رمضان المبارک ۱۸؍ مئی ۱۹۷۸ء؍ ۱۴۰۷ھ بروز دوشنبہ دوپہر ٹھیک گیارہ بج کر ۵۵ منٹ پر ہوا اور اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ فرما کر اپنے پرور دگار حقیقی سے جا ملے [1] ۔
[1]۔ مکتوب مولانا زاہد علی رجوی بنام راقم محررہ ۹؍ دسمبر ۱۹۸۹ء ۱۲، رضوی غفرلہٗ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abdul-salam-sumbhuli
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-09-1444 ᴴ | 11-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-09-1444 ᴴ | 11-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-09-1444 ᴴ | 11-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2