حج و زیارت:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ عبانالمعظم ۱۴۰۱ھ؍۱۹۸۱ء کی چودہویں شب میں سامان عشق کے ہمراہ، تکبیر ورسالت کے فلک پیمانوں کی گونج میں مکان سے روانہ ہوئے اور تقریباً پانچ ماہ حرمین طیبین میں نور وبرکت اور رحمت و مغفرت کی بارش میں نہاکر دیار حبیب کےج لوے نگاہوں میں بسا کر اوائل محرم الحرام ۱۴۰۲ھ میں واپس تشریف لائے۔ اس مبارک سفر میں مکمل چالیس روز تک دربار رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر رہے ۔
فیض العلوم کا قیام:
شروع اکتوبر ۱۹۷۹ء؍ ۱۳۹۹ھ میں خلوص و محبت کا وہ عظیم قلعہ دار لعلوم جامہ اسلامیہ جسے مفتی عبد السلام نے بڑے خلوص اینٹوں اور خون جگر کے گارے سے تعمیر کیا تھا، ایک منظم سازش کے تحت کچھ ایسے نا مساعد اور بحرانی حالات سے دوچار ہوا۔ اور ۲۱؍اکتوبر ۱۹۷۹ء؍۱۳۹۹ھ کو مفتی عبد السلام جامعہ اسلامیہ سے مستعفی ہوئ۔ کچھ عرصہ کے بعد ۱۴۰۰ھ؍ ۱۹۸۰ء میں سرائے ترین سنبھل کے ایک بزرگ حضرت سید جلال الدین شاہ عرف بھورے شاہ میاں رحمۃ اللہ علیہ کے آستانے سے متصل مدرسہ اہلسنت عربیہ فیض العلوم کا قیام عمل میں آیا۔ تاحین حیات مفتی عبد السلام اس مدرسہ کےشیخ الحدیث مفتی اور ایک عظیم سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔
حلیۂ مبارکہ اور ملبوسات:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کا رنگ سفید مائل بہ سرخی، قد میانہ قدرے طویل، جسم بھاری مگر متناسب، چہرہ بڑا اور رعب دار، پیشانی خوب چوڑی سعادت آثار، ناک بڑی ذرا وبیز، داڑھی لمبی اور خوب گھنی، سینہ چوڑا اور قران اس کے انوار وبرکات سے بھرا ہوا۔
لباس:
لباس سادہ اکثر کپڑے کی چوڑی گوٹ والی (دوپلی) ٹوپی، کلی دار گھٹنوں سے نیچا کرتا، اس کے اوپر صدری، ٹخنوں سےاونچا پائجامہ، بہت زمانہ شلوار نما مغلیہ انداز کا استعمال فرمایا پھر سادہ علی گڑھ ی انداز کا استعمال کرنا شروع کر دیا، اور آخر تک یہی استعمال فرمایا۔ جمعہ اور سفر میں شیر وانی زیب تن اور عمامہ زیب سر فرمایا۔ اس کے علاوہ کاندھے پر رومال اور ہاتھ میں عصا مستقل رکھتے ۔ پاؤں میں جے پوری انداز کے ناگرہ جوتے اور سیدھے ہاتھ میں بریلی شریف کی نقش والی انگھوٹی استعمال فرماتے ۔
خلفاء:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کے خلفاء میں دو حضرات قابل ذکر ہیں ۔ مولانا مفتی قاری محمد انوار الحق رضوی سلامی اور مولانا زاہد علی رضوی سلامی ۔
مکرمی مولانا زاہد علی رجوی سلامی کو وصال سے صرف ۲۷، روز قبل مورخہ ۲۲؍شعبان المعظم ۲۱؍اپریل ۱۹۸۷ء ۱۴۰۸ھ میں ایک جلسہ عام میں کثیر علماء کی موجودگی میں باضابطہ رسم جانشینی اور اجازت و خلافت عطا ہوئی۔ مولانا زاہد علی صاحب علم وفضل اور حافظ قرآن ہیں۔ مفتی عبد السلام کے صحیح جانشین ہیں۔ آج کل دارالافتاء الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں نائب مفتی کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں ۔ (اللہ تعالیٰ روا افزوں ترقی عطا فرمائے ۔ آمین) ـ
چند تلامذہ:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کی پچاس سالہ تدریسی خدمات میں تلامذہ کی ایک طویل فہرست ہے ۔ ہم یہاں پر صرف ان چند خوشہ چینوں کے نام کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے مفتی عبد السلام کے خرمنِ عم سے خصوصی فیضان حاصل کیا ۔
۱۔ مولانا ضمیر حسین سلامی مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ
۲۔ مفتی قاری محمد انوار الحق رضوی دمکوی ضلع بریلی
۳۔ مولانا محمد لیاقت حسین رضوی بریلوی
۴۔ مولانا غلام یٰسین سلامی بہاری
۵۔ مولانا غلام ابو القاسم اشرفی بہاری
۶۔ مولانا محمد یوسف اشرفی راجستھانی
۷۔ مولانا زاہد علی رضوی سلامی سنبھلی
۸۔ مولانا الحاج محمد یوسف سلامی بلرام پوری
۹۔ مولانا عبد الخالق سلامی بنگالی
۱۰۔ مولانا عبد المنان سلامی بنگالی
۱۱۔ مولانا عبد الرشید قادری کشمیری
۱۲۔ مولانا سید احباب الدین قادری کشمیری
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ عبانالمعظم ۱۴۰۱ھ؍۱۹۸۱ء کی چودہویں شب میں سامان عشق کے ہمراہ، تکبیر ورسالت کے فلک پیمانوں کی گونج میں مکان سے روانہ ہوئے اور تقریباً پانچ ماہ حرمین طیبین میں نور وبرکت اور رحمت و مغفرت کی بارش میں نہاکر دیار حبیب کےج لوے نگاہوں میں بسا کر اوائل محرم الحرام ۱۴۰۲ھ میں واپس تشریف لائے۔ اس مبارک سفر میں مکمل چالیس روز تک دربار رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر رہے ۔
فیض العلوم کا قیام:
شروع اکتوبر ۱۹۷۹ء؍ ۱۳۹۹ھ میں خلوص و محبت کا وہ عظیم قلعہ دار لعلوم جامہ اسلامیہ جسے مفتی عبد السلام نے بڑے خلوص اینٹوں اور خون جگر کے گارے سے تعمیر کیا تھا، ایک منظم سازش کے تحت کچھ ایسے نا مساعد اور بحرانی حالات سے دوچار ہوا۔ اور ۲۱؍اکتوبر ۱۹۷۹ء؍۱۳۹۹ھ کو مفتی عبد السلام جامعہ اسلامیہ سے مستعفی ہوئ۔ کچھ عرصہ کے بعد ۱۴۰۰ھ؍ ۱۹۸۰ء میں سرائے ترین سنبھل کے ایک بزرگ حضرت سید جلال الدین شاہ عرف بھورے شاہ میاں رحمۃ اللہ علیہ کے آستانے سے متصل مدرسہ اہلسنت عربیہ فیض العلوم کا قیام عمل میں آیا۔ تاحین حیات مفتی عبد السلام اس مدرسہ کےشیخ الحدیث مفتی اور ایک عظیم سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔
حلیۂ مبارکہ اور ملبوسات:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کا رنگ سفید مائل بہ سرخی، قد میانہ قدرے طویل، جسم بھاری مگر متناسب، چہرہ بڑا اور رعب دار، پیشانی خوب چوڑی سعادت آثار، ناک بڑی ذرا وبیز، داڑھی لمبی اور خوب گھنی، سینہ چوڑا اور قران اس کے انوار وبرکات سے بھرا ہوا۔
لباس:
لباس سادہ اکثر کپڑے کی چوڑی گوٹ والی (دوپلی) ٹوپی، کلی دار گھٹنوں سے نیچا کرتا، اس کے اوپر صدری، ٹخنوں سےاونچا پائجامہ، بہت زمانہ شلوار نما مغلیہ انداز کا استعمال فرمایا پھر سادہ علی گڑھ ی انداز کا استعمال کرنا شروع کر دیا، اور آخر تک یہی استعمال فرمایا۔ جمعہ اور سفر میں شیر وانی زیب تن اور عمامہ زیب سر فرمایا۔ اس کے علاوہ کاندھے پر رومال اور ہاتھ میں عصا مستقل رکھتے ۔ پاؤں میں جے پوری انداز کے ناگرہ جوتے اور سیدھے ہاتھ میں بریلی شریف کی نقش والی انگھوٹی استعمال فرماتے ۔
خلفاء:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کے خلفاء میں دو حضرات قابل ذکر ہیں ۔ مولانا مفتی قاری محمد انوار الحق رضوی سلامی اور مولانا زاہد علی رضوی سلامی ۔
مکرمی مولانا زاہد علی رجوی سلامی کو وصال سے صرف ۲۷، روز قبل مورخہ ۲۲؍شعبان المعظم ۲۱؍اپریل ۱۹۸۷ء ۱۴۰۸ھ میں ایک جلسہ عام میں کثیر علماء کی موجودگی میں باضابطہ رسم جانشینی اور اجازت و خلافت عطا ہوئی۔ مولانا زاہد علی صاحب علم وفضل اور حافظ قرآن ہیں۔ مفتی عبد السلام کے صحیح جانشین ہیں۔ آج کل دارالافتاء الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں نائب مفتی کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں ۔ (اللہ تعالیٰ روا افزوں ترقی عطا فرمائے ۔ آمین) ـ
چند تلامذہ:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کی پچاس سالہ تدریسی خدمات میں تلامذہ کی ایک طویل فہرست ہے ۔ ہم یہاں پر صرف ان چند خوشہ چینوں کے نام کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے مفتی عبد السلام کے خرمنِ عم سے خصوصی فیضان حاصل کیا ۔
۱۔ مولانا ضمیر حسین سلامی مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ
۲۔ مفتی قاری محمد انوار الحق رضوی دمکوی ضلع بریلی
۳۔ مولانا محمد لیاقت حسین رضوی بریلوی
۴۔ مولانا غلام یٰسین سلامی بہاری
۵۔ مولانا غلام ابو القاسم اشرفی بہاری
۶۔ مولانا محمد یوسف اشرفی راجستھانی
۷۔ مولانا زاہد علی رضوی سلامی سنبھلی
۸۔ مولانا الحاج محمد یوسف سلامی بلرام پوری
۹۔ مولانا عبد الخالق سلامی بنگالی
۱۰۔ مولانا عبد المنان سلامی بنگالی
۱۱۔ مولانا عبد الرشید قادری کشمیری
۱۲۔ مولانا سید احباب الدین قادری کشمیری
❤2
ناسازئ طبع:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ مسلسل چند سالوں کے دوران کئی دفعہ سخت علیل ہوئے ۔ جس سے ذہنی دماغی اور اعصابی قوتوں پر خاصا اثر پڑ چکا تھا ۔ مگر پھر بھی فریضۂ پنجگانہ کی ادائگی کے لیے ہمیشہ پانچواں وقت مسجد میں تشریف لاتے، اور کھڑے ہو کر نماز ادا فرماتے، ماہ وصال رمضان المبارک میں مفتی عبد السلام نے چار روزے سے اور پانچویں روز کی مکمل بیس ۲۰ رکعت تراویح با جماعت کھڑے ہو کر ادا کیں مشئیت ایزدی کہ اسی پانچویں شب میں مرض الوصال کا آغاز ہوا ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے طبیعت سخت ناساز ہوگئی ۔ اس کے باجود مفتی عبد السلام نے پانچویں روزے کی سحری کھائی اور عزم روزہ فرما لیا ۔ سخت علالت و نقاہت کے باوجود دوپہر تک یو ہیں بہ نیت روزہ رہے مگر جب دوپہر کو اہل کانہ نے دیکھا کہ شام تک مفتی عبد السلام کا یو ہیں روزے میں رہنا زیادتی علالت، اور سخت نقاہت کا باعث ہو سکتا ہے جس پر بعد میں قابو پانا بہت دشوار ہو جائےگا ۔ تو بے حد اصرار کر کے ضرورتاً مختصر سا کھانا کھلا دیا ۔ اس کے بعد تادم وصال مسلسل چودہ روز تک اسی نازک اور امتحانی حالت میں رہے ۔ شہر کے بڑے بڑے حکیموں اور ڈاکٹروں کے علاج معالجہ کے باوجود شدت مرض میں کوئی افاقہ نہ ہوا ۔
وصال:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کا وصال ۱۹؍ رمضان المبارک ۱۸؍ مئی ۱۹۷۸ء؍ ۱۴۰۷ھ بروز دوشنبہ دوپہر ٹھیک گیارہ بج کر ۵۵ منٹ پر ہوا اور اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ فرما کر اپنے پرور دگار حقیقی سے جا ملے [1] ۔
[1]۔ مکتوب مولانا زاہد علی رجوی بنام راقم محررہ ۹؍ دسمبر ۱۹۸۹ء ۱۲، رضوی غفرلہٗ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abdul-salam-sumbhuli
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ مسلسل چند سالوں کے دوران کئی دفعہ سخت علیل ہوئے ۔ جس سے ذہنی دماغی اور اعصابی قوتوں پر خاصا اثر پڑ چکا تھا ۔ مگر پھر بھی فریضۂ پنجگانہ کی ادائگی کے لیے ہمیشہ پانچواں وقت مسجد میں تشریف لاتے، اور کھڑے ہو کر نماز ادا فرماتے، ماہ وصال رمضان المبارک میں مفتی عبد السلام نے چار روزے سے اور پانچویں روز کی مکمل بیس ۲۰ رکعت تراویح با جماعت کھڑے ہو کر ادا کیں مشئیت ایزدی کہ اسی پانچویں شب میں مرض الوصال کا آغاز ہوا ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے طبیعت سخت ناساز ہوگئی ۔ اس کے باجود مفتی عبد السلام نے پانچویں روزے کی سحری کھائی اور عزم روزہ فرما لیا ۔ سخت علالت و نقاہت کے باوجود دوپہر تک یو ہیں بہ نیت روزہ رہے مگر جب دوپہر کو اہل کانہ نے دیکھا کہ شام تک مفتی عبد السلام کا یو ہیں روزے میں رہنا زیادتی علالت، اور سخت نقاہت کا باعث ہو سکتا ہے جس پر بعد میں قابو پانا بہت دشوار ہو جائےگا ۔ تو بے حد اصرار کر کے ضرورتاً مختصر سا کھانا کھلا دیا ۔ اس کے بعد تادم وصال مسلسل چودہ روز تک اسی نازک اور امتحانی حالت میں رہے ۔ شہر کے بڑے بڑے حکیموں اور ڈاکٹروں کے علاج معالجہ کے باوجود شدت مرض میں کوئی افاقہ نہ ہوا ۔
وصال:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کا وصال ۱۹؍ رمضان المبارک ۱۸؍ مئی ۱۹۷۸ء؍ ۱۴۰۷ھ بروز دوشنبہ دوپہر ٹھیک گیارہ بج کر ۵۵ منٹ پر ہوا اور اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ فرما کر اپنے پرور دگار حقیقی سے جا ملے [1] ۔
[1]۔ مکتوب مولانا زاہد علی رجوی بنام راقم محررہ ۹؍ دسمبر ۱۹۸۹ء ۱۲، رضوی غفرلہٗ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abdul-salam-sumbhuli
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-09-1444 ᴴ | 11-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-09-1444 ᴴ | 11-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-09-1444 ᴴ | 11-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2