🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ نجیب الدین متوکل دہلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ

آپ حضرت شیخ فرید الحق والدین قدس سرہ کے حقیقی بھائی اور خلیفہ اعظم تھے ۔ ظاہر و باطن میں بلند رتبہ رکھتے تھے۔ نہایت متوکل انسان تھے ۔ ستر سال تک دہلی میں رہے مگر اس عرصہ میں کبھی کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے، اگرچہ آپ کے پاس نقد اور جنس سے کوئی چیز بھی نہیں تھی، مگر آپ کو یاد خدا میں اتنی مشغولیت رہتی کہ بسا اوقات یہ معلوم نہ ہوتا کہ آج کون سی تاریخ یا کون سا دن ہے، آپ کے نزدیک اپنے بیگانے غریب و امیر ایک ہی جیسے تھے، ایک دن لوگوں نے آپ سے پوچھا، مخدوم! کیا فرید شکر گنج پاک پتنی آپ کے بھائی ہیں، فرمانے لگے ہاں ظاہری تو میرے ہی بھائی ہیں مگر باطنی طور پر کسی اور کے بھائی ہیں، پھر پوچھا کہ نجیب الدین متوکل آپ ہی ہیں فرمایا نجیب الدین تو میں ہی ہوں مگر متوکل کوئی اور ہے میں متوکل نہیں ہوں ۔

اخبار الاولیاء اور اخبار الاخیار کے مصنفین نے لکھا ہے کہ اک سال عید کے دن بہت سے درویش مل کر حضرت نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ کے گھر آئے اور اصرار کیا کہ آج ہم کھانا آپ کے ساتھ کھائیں گے، آپ اندر گئے اہلیہ سے کھانا مانگا، اس نے بتایا کہ دو دنوں سے اس گھر میں کھانے کی خوشبو تک نہیں آئی، آپ نے فرمایا اگر تمہارے پاس چادر ہو تو مجھے دیں تاکہ اسے گروی رکھ کر دوستوں کو عید کے دن کھانا کھلاؤں، اس نیک بخت نے چادر لاکر دی وہ جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی ۔ وہ اس قابل نہ تھی کہ اسے کوئی گروی رکھتا، ناچار ہوکر پانی کا ایک کوزہ بھرا، اور دوستوں کے پاس لے جاکر کہنے لگے، یہی ماحضر ہے، درویش بھی بڑے اہل دل تھے، پانی کا کوزہ لیا اور کھانے کی طرح کھایا اور پیا، اورشکریہ ادا کرکے رخصت لی، چلے گئے، تو حضرت نجیب الدین بڑے شکستہ خاطر ہوئے کوٹھے پر جاکر اللہ کی یاد میں مشغول ہوگئے۔ اس کے دل میں خیال آیا آج تو عیدکا دن ہے، میرے بیوی بچوں نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا اور درویش بھی آخر محروم چلے گئے، ابھی یہ بات سوچ ہی رہے تھے کہ ایک شخص چھت سے اترا اور کہنے لگا نجیب الدین فرشتوں نے تمہارے توکل کا ڈنگا عرش کی بلندیوں میں بجایا ہے اور تم کھانے کے لیے دل میں سوچ رہے ہو، میں بھی کھانا کھانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، جاؤ، کہیں سے کھانا لاکر کھلاؤ، حضرت شیخ نجیب الدین نے معلوم کرلیا کہ یہ حضرت خضر ہیں، عرض کی، آج تو میرے گھر کھانا نہیں ہے اللہ جانتا ہے میں اپنی ذات کے لیے سوچ رہا تھا، حضرت خضر نے کہا جاؤ! اور گھر میں تلاش کرو شاید طعام مل جائے، آپ اٹھے نیچے آئے تو صحن ہر قسم کھانوں کے دستر خوان بچھے ہوئے تھے، یہ غیب کی نعمت خیال کرتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے لے گئے اور کچھ کھانا اٹھاکر چھت پر آئے دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام غائب ہیں۔

حضرت نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ کے گھر کے پاس ہی ایک تیمور نامی ترک رہتا تھا اس نے مسجد بنائی اور مسجد کے متصل اپنا مکان تعمیر کیا، تیمور اس مسجد کے متولی بھی تھے اور امام بھی، کچھ عرصہ گزرا تو تیمور نے اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہی اور اس پر ایک لاکھ تنکہ خرچ کا اندازہ لگایا، حضرت متوکل رحمۃ اللہ علیہ نے اسے سخت نصیحت کی کہ اگر اتنا روپیہ غربا و مساکین پر خرچ کردو گے تو بہتر ہوگا ایک شادی پر اتنا اسراف اچھی بات نہیں تیمور آپ کی اس بات سے رنجیدہ ہوگیا اور آپ سے بات کرنا بند کردی اور وظیفہ بھی روک دیا۔ حضرت متوکل نے دہلی کو خیر باد کہا اور پاک پتن آگئے اور تمام صورت حال حضرت خواجہ فرید شکر گنج کی خدمت میں بیان کی آپ نے فرمایا:( ماننسخ من آیۃاو ننسہا نات بخیر منہا اومشلیہا )ہم جو آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلادیتے ہیں اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس کی مثل بہم پہنچاتے ہیں فکر نہ کریں اللہ بہتر کرنے والا ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت متوکل قدس سرہ دوبارہ دہلی گئے تو اللہ نے ایک اور ترک کو آپ کی امداد و خدمت پر مامور کردیا اور وہ ساری عمر آپ کی خدمات سر انجام دیتا رہا۔

بدایوں میں ایک صاحب دل بزرگ رہا کرتے تھے۔ جن کا اسم گرامی وجیہ الدین تھا۔ حضرت توکل اس کی زیارت کے لیے دہلی سے بدایوں گئے اسے دیکھا کہ وہ ایک بوریے پر بیٹھا ہے حضرت متوکل نے ادباً اپنے جوتے اتارے اور اس کے پاس جا بیٹھے، اس شخص نے نہ تو آپ کی طرف توجہ کی اور نہ احترام بلکہ منہ بناکر بیٹھا رہا، بوریے پر ایک کتاب پڑی ہوئی تھی، حضرت متوکل نے ہاتھ بڑھا کر کتاب اٹھالی اور ایک صفحہ کھول کر پڑھا تو پہلی سطر میں لکھا ہوا تھا کہ آخری زمانہ میں متکبر درویش پیدا ہوں گے، اگر کوئی نیک شخص ان کے پاس جائے گا اور جوتے اتار کر بوریے پر بھی بیٹھ جائے گا تو وہ آتش تکبر میں جلتے رہیں گے احترام کی بجائے انہیں آزار پہنچان ےکی کوشش کریں گے۔
1
حضرت متوکل رحمۃ اللہ علیہ نے اس درویش کو کتاب دے کر کہا، اس کی پہلی سطر پڑھیں، اس کا مضمون تمہاری حالت بیان کر رہا ہے، درویش نے وہ سطر پڑھی تو بڑا شرمندہ ہوا، شیخ متوکل وہاں سے اٹھےا ور اپنی راہ لی۔

غیاث پور میں ایک صاحب کرامت عورت تھی، وہ اپنی پاک دامنی اور ریاضت کی وجہ سے رابعہ عصر تھی، اس کا نام فاطمہ سام تھا، حضرت خواجہ فرید شکر گنج اس کی تعریف کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے یہ عورت دو ولیوں کے مراتب کی مالکہ ہے اس عورت نے حضرت متوکل قدس سرہ کو اپنا منہ بولا بھائی بنایا ہوا تھا، حضرت متوکل کے گھر تین دن رات فاقہ ہوتا تو اس عورت کو کشفی طور پر معلوم ہوجاتا تھا وہ دو تین سیر کلیجی لے کر پکاتی اور حضرت متوکل کے گھر بھیج دیتی تھی۔ شیخ بھی اس کی اس نذر کو خندہ پیشانی سے قبول فرمالیا کرتے تھے۔

صاحب شجرۂ چشتی ہنے آپ کی وفات ۶۷۱ھ لکھی ہے۔

چوں نجیب الدین متوکل ولی
رفت در جنت ازیں دار ملال
راستی و نیز محمود عاقبت
ہست سال وصل آں اہل کمال

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-najeebudddin-mutawakkal
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
علامہ اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
کنیت: ابو عبد اللہ ۔ اسم گرامی: محمد ـ لقب: اکمل الدین ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو عبدا للہ محمد بن محمد بن محمود بابرتی علیہم الرحمہ ۔ ’’بابرتی‘‘ ایک قصبہ کا نام ہے جو بغداد کے نواح میں واقع ہے، اور یہی اقویٰ ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کی نسبت ’’بابرت‘‘ کی طرف ہے جو ترکی کا حصہ ہے ۔ (مقدمہ عنایہ شرح ہدایہ)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 710ھ، 1314ء کو بغداد معلیٰ عراق میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، پھر حلب شام کی طرف تشریف لے گئے، وہاں کے علماء سے استفادہ کیا ۔ پھر قاہرہ مصر میں علومِ دینیہ کی تکمیل کی ۔ آپ کے شیوخ میں قوام الدین کاکی، ابوحیان اندلسی، شمس الدین الاصفہانی، علامہ ابن الھادی، علامہ دلاصی وغیرہ ۔

سیرت و خصائص:
امام محقق، علامۂ مدقق، حافظ، ضابط، فقیہ، محدث، لغوی، صرفی، عارف، عالم ِمعانی و بیان، جامع علوم و فنون، عدیم النظیر، فقید المثال، قوی النفس، عظیم الہیبت، قوی العلم والعمل حضرت علامہ محمد بن محمد بن محمود بابرتی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ کا علماءِ ماتریدیہ حنفیہ میں ایک اہم مقام ہے ۔

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اکمل الدین محمد بن محمد بن محمود بابرتی (علیہم الرحمہ)، علامۃ المتأخرین، خاتمۃ الحققین، علم و فضل تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ علامۂ زماں، فاضلِ یگانہ، وافر العلم والعقل تھے ۔ سلاطین وامراء پر آپ کی ہیبت تھی ۔

علامہ ابن حماد حنبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: آپ فقہ، عربی، لغت، تمام اصول و فنون، کے ماہر تھے ۔

علامہ عبد الحی لکھنوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ان کی مثل ان کے زمانے میں کسی نے نہیں دیکھا ۔ آپ حدیث اور تمام علوم میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔ نحو، صرف، لغت، بیان، معانی، تفسیر، اصول وفروع میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔

ابن یاس علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
فقہاءِ حنفیہ میں عظیم حیثیت کے مالک تھے ۔ علامۂ زماں، فرید العصر، اور زمانے کی عظیم شخصیات میں سے تھے ۔

( ماخوذ، حسن المحاضرہ فی تاریخ المصر والقاہرہ)

آپ کو علم و عمل، اور تقویٰ کی بناءپر خانقاہِ شیخونیہ کی مشیخت دی گئی اور کئی مرتبہ عہدۂ قضاء کی پیش کش کی گئی، مگر آپ نے عہدۂ قضاء قبول نہ فرمایا۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے ۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور حکمرانوں کے سامنے احقاق حق ابطالِ باطل کاخوب فریضہ انجام دیتے تھے ۔ ساری زندگی دینِ متین کی خدمت فرمائی ۔ امتِ مسلمہ کو نافع کتب کی صورت میں کتب کا ذخیرہ عطاء کیا ۔ کتب میں شرح مشارق الانوار فی علم الحدیث، عنایہ شرح ہدایہ، شرح مختصر ابن حاجب، شرح منار، شرح فرائض سراجیہ، شرح تلخیص جامع خلاطی، شرح تجرید طوسی، شرح الفیہ ابن معطی، حواشی تفسیر کشاف، شرح کتاب الوصیہ امام ابو حنیفہ، الارشاد شرح فقہ الاکبر، شرح تلخیص المفتاح،کتاب التقریر، شرح اصول بزدوی، العقیدہ، کتاب الانوار (اصول میں) اور تفسیر قرآن مجید وغیرہ کثیر کتب تصنیف فرمائیں ۔ سید المحققین ابو الحسن میر سید شریف علی جرجانی ، شمس الدین محمد بن حمزہ ، اور بدر الدین محمود وغیرہ نے ان سے اخذ علوم کیا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 19 رمضان المبارک 786ھ مطابق 05 نومبر 1384ء کو ہوا ۔ شیخونیہ مصر میں مدفون ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ حسن المحاضرہ فی تاریخ المصر والقاہرہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-bin-muhammad-akmaluddin-babarti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مخدوم ملت مفتی محمد عبد السلام رضوی سنبھلی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ بانی فیض العلوم سرائے ترین سنبھل مراد آباد

ولادت:
مخدوم ملت حضرت الشاہ مولانا مفتی محمد عبد السلام قادری رضوی بن الشیخ احمد بن اللہ ابن الشیخ حافظ حکیم اللہ بن الشیخ عظیم اللہ بن الشیخ مکارم کی ولادت شمالی ہند کے مشہور و معروف مرودم خیز علاقہ سنبھل ضلع مراد آباد کی ایک صنعتی بستی سرائے ٹرین کے محلہ نواب خیل میں ایک علمی و روحانی گھرانے کے اندر غالباً ۱۳۲۳ھ؍ ۱۹۰۵ء میں ہوئی ۔

تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ ابھی دو ہی سال کے تھے کہ سر سے والد ماجد کا سایۂ عاطفت اُٹھ گیا اور پرورش کا بار والدہ ماجدہ کے زیر سایہ بڑے بڑے بھائیوں نے برداشت کیا، اور نہ صرف پرورش ہی کا بار اٹھایا بلکہ عمدہ تربیت اور اس کے ساتھ ساتھ زیور علم سے آراستہ کرنے میں بڑی جانفشانی سے کام لیا ۔

مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کی تعلیم کا آغاز عم مکرم الشیخ حافظ عصمت اللہ سے ہوا ۔ انہوں نے اپنے ہونہار حوصلہ مند بھتیجے کو بچپن ہی میں ظاہری تعلیم کے ساتھ سلوک کے مقامات بھی طے کرا دئیے تھے ۔ ناظرہ قرآن کریم کے دوران مفتی عبد السلام کے دفور شوق کو دیکھ کر عم مکرم نے حافظ شروع کرا دیا ۔ چونکہ اس وقت خانگی حالات مالی طور پر بہت بہتر نہ تھے اس لے اوقات درس کے علاوہ بقیہ اوقات میں مفتی عبد السلام اپنے بھائیوں کے ساتھ کام کرتے اور ان کا ہاتھ بٹاتے ۔ اس وقت مفتی عبد السلام کا آبائی پیشہ سینگ کی کنگھیاں بنانا اور انکی تجارت کرنا تھا ۔ تکمیل حفظ کے بعد بستی ہی کے ایک مکتب میں مولوی عبد اللہ سے فارسی شروع کر دی ۔ کچھ عرصہ کے بعد عربی کا آغاز بھی یہیں سے کر دیا ۔

حصول تعلیم میں ذوق سلیم اور غیر معمولی و فور شوق کو دیکھ کر مفتی عبد السلام کے بڑے بھائی شیخ عبد الرحمٰن (بھتیاجی) شیخ عبد الصمد اور خسر شیخ کلن نیز محلہ کے چند دیگر مغزز حضرات آپ کو مدرسہ اجمل العلوم سنبھل میں اجمل العلماء حضرت مفتی محمد اجمل شاہ قادری رضوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ۔ اور عرض کیا حضور ان کا داخلہ فرمالیں ۔ اور ان کی طرف خصوصی توجہ فرمائیں ۔ چنانچہ اسی روز مفتی محمد اجمل شاہ نعیمی رضوی نے مفتی عبد السلام کو داخل درس فرمالیا ۔ اور مکمل نو سال تک علوم ظاہری و باطنی کی تشنگی شوق کی سیرابی عطا فرمائی اور پھر ان عنایات کو صرف درس گاہ حدوں تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ کارج از درس اقوات میں بھی اپنی نظر کیمیا اثر سے علم وفن اور عشق وعرفان کے وہ جام پلائے جو مفتی عبد السلام کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمیہ بن گئے ۔

فراغت:
۲۰؍شعبان المعظم ۱۳۵۵ھ؍ ۱۹۳۶ء کے عظیم الشان سالانہ جلسہ دستار فضیلت میں قوم و ملت کے بیشمار اجلۂ علماء و مشائخ عطام کے مقدس ہاتھوں تکمیل علوم نبویہ کا تاج زریں مفتی عبد السلام کے زیب سر ہوا ۔

جامعہ اسلامیہ کا قیام:
وہابیت کدۂ سرائے ترین سنبھل کو شنیت کی ضیا پاشیوں سے منور کرنے اور اجتماعی زندگی کو اعتقادی رنگ دینے کے لیے فعال ادارہ کی سخت ضرورت کے پیش نظر فراغت کے دوسرےہی سال ۱۳۵۶ھ؍ ۱۹۳۷ء میں مفتی عبد السلام نے محلہ کی ایک وسیع مسجد رستم سے متصل ایک مکتب کی بنیاد ڈالی ۔ جس میں مفتی عبدالسلام کے محسن ومشفق استاذ اجمل العلماء مفتی محمد اجمل شاہ رضوی کی خواہش و دعوت پر تقریباً پندرہ سے زائد جلۂ علماء کرام نے شرکت فرمائی ۔ اس مکتب کی سب سے پہلی اینٹ عارف باللہ الحاج الشاہ عبد المجید آنولوی (والد ماجد حضرت علامہ عبد الحفیظ مفتی آگرہ) نے رکھی، پھر حسبِ ترتیب و مراتب دوسرے جلیل القدر علماء و مشائخ نے ۔

آغاز درس و تدریس:
چونکہ مفتی عبد السلام کی بستی آپ کی خدمت کی زیادہ مستحق تھی ۔ اس لیے قیام جامعہ سلامیہ کے بعد جامعہ سلامیہ ہی میں بحیثیت صدر المدرسین اور شیخ الحدیث کام کرنے لگے، اور تقریباً چودہ سال مسلسل جم کر تدریسی، تبلیغی اور فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دیں ۔ اس طرح مفتی عبد السلام کے درس وتدریس کا آغاز اسی دار العلوم جامعہ سلامیہ سرائے ترین سنبھل ہی سے ہوتا ہے ۔

دینی وملی خدمات:
بد عقیدہ علماء وہابیہ نے سرائے ترین کو اپنی فکر کو اپنی تحریک کی آماجگاہ اور وہاں کی اعتقادی فجا کو مسموم کر رکھا تھا ۔ مفتی عبد السلام نے اس ظلمت کدہ کو سنیت کی ضیاء پاشیوں سے منور کرنے کےلیےدن و رات ایک کر دیا ۔ سب سے پہلے ایک ادارہ قائم فرمایا جس سے علماء و فضلاء پیدا ہوئے، جگہ جگہ جلسے منعقد ہوئے قدم قدم پر وعظم و تبلیغ کی بز میں سجائیں، مواعظ حسنیہ کے ذریعہ عوام کے تاریک سن یوں کو نور سنیت سے روشن و منور فرمایا۔ جلوس عید میلاد النبی ﷺ کو جاری فرمایا۔ ایصال ثواب کی مردہ سنت کو زندہ فرمایا۔ مکانوں مسجدوں میں گیارہویں شریف بارہویں شریف وغیرہ کو رواج دیا۔
1
(صلوٰۃ) کی تحریک چلائی اور بیشمار مسجدوں کو نبوت و رسالت کے عشق پر ور نعروں سے مالا مال فرمایا، اذان قبر کو جاری فرمایا، میلاد قیام اور صلاۃ و سلام کو زیادہ سے زیادہ فروغ بخشا، یہ مفتی عبد السلام کی انتھک کوششوں ہی کا نتیجہ تھا کہ اس وہابیت و جہالت کدہ میں ورِ علم و سن یت کی بیشمار قندیلیں روشن ہوگئیں۔

میرٹھ روانگی:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمۃ ۱۳۷۰ھ؍۱۹۵۱ء کے اوائل میں امام النحو صدر العلماء مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ کی دعوت اور اصرار پر میرٹھ مدرسہ اسلامیہ قومیہ میں بحیثیت صدر المدرسین تشریف لے گئے ۔ اور ۱۳۷۸ھ؍ ۱۹۵۸ء تک تقریباً آٹھ سال بیگانوں، بد اعتقادون کے جھُرمٹ میں انتہائی ہمت و عزیمیت اور عظمت وقار کے ساتھ تدریس ، تبلیغی اور فتویٰ نویسی کی خدمات میں مصروف رہے۔

پالن پور روانگی:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ ۱۳۷۸ھ؍ ۱۹۵۸ء میں نواب اہلِ پالن پور کی خواہش و عوت پر پالن پور گجرات مدرسہ اسلامیہ میں بحیثیت صدر المدرسین تشریف لے گئے ۔ اور تقریباً چھ ماہ تدریس خدمات کے ساتھ فتویٰ نویسی کی خدمات انجام دیں ۔ پالن پور میں ابھی چند ماہ ہی گذرے تھے کہ مفتی عبد السلام کو آشوب چشم کا عارضہ ایسا لاحق ہوا کہ ممکن علاج کے باوجود وہاں ثابت قدم رہنا ایک دشوارمسئلہ بن گیا ۔

نواب صاحب کی طرف سے ایک بہترین ڈاکٹر صرف مفتی عبد السلام کے لیے رکھا گیا۔ جو ہفتہ میں متعدد بار چیک کرتا حتیٰ کہ کھانا تک چیک کرتا، مگر چونکہ مشیت الٰہی نے مفتی عبد السلام کو کہیں اور ہی کی خدمت کے لیے پیدا فرمایا تھا ۔ اس لیے ہر طرح علاج وآسائش کے باوجود افاقہ نہ ہوا، بالآخر ۱۳۷۸ھ؍ ۱۹۵۸ء ہی میں اپنے وطن تشریف لے آئے، اور مکان پر رہ کر مستقل علاج کرایا۔

پاکبڑہ روانگی:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمۃ ۱۳۷۹ھ؍ ۱۹۵۹ء کے اوائل میں پاکبڑہ مراد آباد تشریف لے گئے ۔ اور ۱۳۸۱ھ؍۱۹۶۱ء تک تقریباً ڈھائی سال رہے ۔ اس دوران وہاں کے لوگ میں دینی جذبہ اور م ذہبی اسپرٹ پیدا کرنے کے لیے مفتی عبد السلام نے جامع مسجد سے متصل مدرسہ اہلسنت غفور العلوم کے نام سے ایک علمی باغ لگایا ۔ اور لگاتار محنت و جانفشانی کر کے اسے بامِ عروج تک پہونچانا ۔

جامعہ سلامیہ کی نشاط ثانیہ:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ ۱۳۸۱ھ ۱۹۶۱ء میں اہل بستی کے بے پناہ خواہش اور بے حد اصرار پر باکبڑہ مراد آباد سے پھر سرائے ترین سنبھل تشریف لے آئے۔ اور ۴؍اگست ۱۹۶۱ء؍ ۱۳۸۱ھ سے اسی دار العلوم جامعہ اسلامیہ کا آغاز فرمایا، مفتی عبدالسلام کے آنے سے دوبارہ اس میں جان پڑ گئی ۔

جلوس محمدی ﷺ کا آغاز:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ نے اسی سال ۱۳۸۱ھ؍ ۱۹۶۱ء میں جلوس محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تحریک شروع کی۔ ہر چند کہ بد اعتقاد وعلماء وہابیہ اور بڑے بڑے سر کردہ لوگوں نے اس تحریک میں مفتی عبد السلام کی سخت مخالفت کی ۔ مگر انجام کار مخالفین کی ساری مخالفتیں اور کوششیں سعی لاحاصل سے آگے نہ بڑھ سکیں، اور جلوس محمدی ﷺ کا آغاز ہونا تھا ہو کر رہا ۔

سیاسی بصیرت:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ اگر ایک طرف شریعت و طریقت آشنا مردِ درویش ایک عظیم فقیہہ راسخ العقیدہ عالم دین تھے، تو دوسری طرف سیاسی تدبر میں بھی درجۂ کمال رکھتے تھے، علمی لیاقت کے ساتھ ساتھ سیاسی بصیرت پر بھی مفتی عبد السلام کو کامل عبور حاصل تھا ۔ تاہم ظاہری طور پر کبھی سیاسی میدان میں نہیں آئے ۔ ظاہری اور گندی سیاست سے ہمیشہ کناورہ کش رہے۔ البتہ تحریک آزادی کی لہر میں اپریل ۱۹۴۶ء؍ ۱۳۶۵ھ کی آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں شریک و مشیر رہے ۔ مفتی عبد السلام کے اندر اپنی رائے کی حکمت و افادیت اور صحت و معقولیت سے مخاطب کو ہم آہنگ کر کےاپنا ہمنوا بنا لینے والی ہیں ۔ وہ صلاحیت تھی جس کی بنیاد پر اگر ایک طرف دار العلوم جامعہ اسلامیہ کی نظامت علیا کی زمام سنبھالے ہوئے تھے تو دوسری طرف مدرسہ اہل سنت اجمل العلوم سنبھل کے بھی نائب ناظم اعلیٰ کے فرائض بحسن و خوبی انجام دے رہے تھے ۔

کردار و اخلاق اور عادات و خصائل:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ نےانتہائی سادہ، نیک، با وضع اور باخلاق مزاج پایا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ظاہر و باطن کی ہم آہنگی لفظ و معنی کی ہم آہنگی، صورت وسیرت کی یکسانیت غرضیکہ مفتی عبد السلام حسن وصورت اور جمال سیرت دونوں کے پر کشش امتزاج کی نظیر تھے ۔
2
مفتی عبد السلام علیہ الرحمۃ کی عادات و خصائل کا بیان کرنا اتباع اور اطاعت رسول کی جیتی جاگتی تصوریر کا کھینچنا ہے ۔ اپنے  بیگانے بھی تسلیم کیے بغیر نہ رہ سکے ۔ خود داروں کے سامنے طبیعت میں بے حد خود داری اور بے نیازی تھی۔ جن امراء ورؤسا میں تمکنت کاشائبہ پاتے ان سے بوقت ملاقات خود داری کا اظہار فرماتے۔ لیکن جب عوام سے ملتے تو بڑی انکساری  وبشاشت سے ملتے۔ بزرگوں سے بڑے نیاز مندانہ، احباب سے نہایت مخلصانہ، طلبہ  اور شاگردوں سے بڑے ہی  ہمدرد نہ طور پر ملتے علمائے  کرام کی بے پایاں عزت وتکریم کرتے تھے۔

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
بچے مومن کا حقیقی سرمایہ در حقیقت  عشق رسول ہی ہے ۔ صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین  تمام اولیاء، عظام کی مبارک زندگی کے مطالعہ  کے بعد نظر اسی نکتہ پر رُکتی ہے کہ ان سب حضرات کی زندگی ہمیشہ عشق رسول ﷺ کے محو پر گھومتی رہی ۔ مفتی عبد السلام کی زندگی کی سب سے قیمتی متاع یہی عشق رسول تھا۔ تادمِ حیات ظاہری وباطنی زندگی میں عشق نبوی علیہ السلام کی روشنی برابر جگمگاتی رہی۔ یہ عشق صادق ہی کا نتیجہ تھا کہ درس حدیث کے وقت اکثر آنکھیں بے اختیار اشکبار ہوجاتیں۔

معمولات:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمۃ قرآن کریم سے خاص شغف رکھتے، اور اس کی بکثرت تلاوت فرماتے، جب کبھی کسی طرح کی کوئی پریشانی یا دشواری آتی۔ فوری تلاوت شروع فرما دیتے اور اس طرح سے تلاوت فرماتے کہ دوسرے تیسرے روز میں پورا قرآن پاک ختم فرمالیتے شب براءت ، شب قدر کے شبینوں میں بہ شوق شرکت فرماتے اور خوب پڑھتے ۔ کبھی کبھی دس دس پندرہ پارے ایک ہی رکعت میں پڑھ دیتے۔ بار ہا شبینوں میں ایسا ہوا کہ مفتی عبد السلام نے صرف اپنے اُستاد ذادے حافظ کرامت اللہ اور اپنے برادر زادے حافظ محمد ظہور کولے کر ایک ہی شب میں پورا قرآن کریم ختم فرمایا۔ مفتی عبدالسلام نے مسلسل تیس ۳۰ سال رمضان المبارک میں نماز تراویح میں قرآن پاک ختم فرمایا ۔ آپ عابد شب زندہ دار ا ور تہجد گذار تھے ۔

مرغوبات:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کھانے میں حلوہ، رساول، دودھ کی کھیر اور امرود کی چاٹ بے حد پسند فرماتے۔ تقریباً ہر میٹھی جائز چیز پسند فرماتے، پھلوں میں آم، کیلا، اور خربوزہ بہت مرغوب رکھتے تھے چائے سے حد درجہ شوق رکھتے تھے۔ نشہ آور چیزوں سے سخت اجتناب کرتے اور کھانا کھانے کے بعد اکثر سفوف استعمال فرماتے۔

تصانیف:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کی دینی وملی خدمات صرف درس وتدریس اور ارشاد تبلیغ ہی میں محصور نہیں، بلکہ ان سب کے ساتھ قلمی جہاد بھی فرمایا، کثرت کارکی بنا پر مفتی عبدالسلام اس سلسلہ کو دراز نہ کر سکے، تاہم متعدد کتابیں ضرور تصنیف فرمائیں۔ لیکن افسوس کہ اب تک کوئی تصنیف منظر عام پر نہ آسکی۔

۱۔ شرح نور الانوار:
یہ درس نظامی میں داخل نصاب کتاب نور الانور کی شرح اور اصول فقہ سے متعلق کچھ ضروری نہایت مفید نوٹ ہیں۔ یہ مفتی عبد السلام کی علمی وفنی صلاحیتوں کا ایک عظیم شاہکار ہے۔

۲۔ نور الایمان:
اس میں نماز، روزہ، زکوٰۃ حج اور دیگر عبادات نیز جملہ معاملات میں روز مرہ پیش آنے والے مسائل، ان کے علاوہ کچھ علمی مباحث آیات قرآنیہ احادیث نبویہ، اور اقوال علما مجتہدین کی روشنی میں نہایت آسان پیرائے میں پیش کیے گئے ہیں۔

۳۔ رد شریعت یا جہالت:
یہ وہابی، دیوبندی جماعتی کے مبلغ اعطم نام نہاد مولوی پالن حقانی گجراتی کی رسوائے زمانہ کتاب شریعت یا جہالت کا حقائق کی روشی میں بڑا علمی اور معلوماتی ردو جواب ہے۔

ان کے علاوہ مختلف علوم و فنون کی متعدد کتابوں پر مفتی عبدالسلام کے بڑے مفید اورمعلوماتی ح واشی پائےجاتےہیں۔

بیعت و خلافت:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ نے علمی تشنگی کے ساتھ ساتھ روھانی تشنگی کو بھی زمانۂ طالب علمی ہی میں محسوس فرمالیا تھا ۔ چنانچہ اس کو سیرابی میں تبدیل کرنے لیے اُستاذ محرم اجمل العلماء مولانا محمد اجمل شاہ نعیمی رضوی کے ہمراہ مرکز علم وعقیدت بریلی شریف حاضر ہو کر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کے خلف اکبر حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کے دست حق پر سلسلۂ قادریہ رضویہ سے منسلک ہوئے، اس کے کچھ عرصہ کے بعد مفتی عبدالسلام کے محسن مفتی محمد اجمل شاہ نعیمی علیہ الرحمہ نے خصوصی کرم فرمایا ار اجازت وخلافت عطا فرمائی۔ جو ان کو اعلیٰحضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی، قدس سرہٗ سے حاصل ہوئی تھی۔

اس کے بعد ۱۷؍جمادی الآخرہ ۱۳۹۷ھ؍ ۱۹۷۷ء کو حضرت مولانا شاہ ساجد علی خاں رضوی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء پر حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نےمفتی عبدالسلام کو یاد فرمایا۔ اور سند خلافت واجازت عطا فرمائی۔ اس کے علاوہ کچھ دیگر مخصوص تعویذات کی اجازت سرائےترین سنبھل کےایک سفر میں خود حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نےمفتی عبد السلام کے مکانپر زبانی عطا فرمائی ۔
2
حج و زیارت:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ عبانالمعظم ۱۴۰۱ھ؍۱۹۸۱ء کی چودہویں شب میں سامان عشق کے ہمراہ، تکبیر ورسالت کے فلک  پیمانوں کی گونج میں مکان سے روانہ ہوئے اور تقریباً پانچ ماہ حرمین طیبین میں نور وبرکت اور رحمت و مغفرت کی بارش میں نہاکر دیار حبیب کےج لوے نگاہوں میں بسا کر اوائل محرم الحرام ۱۴۰۲ھ میں واپس تشریف لائے۔ اس مبارک سفر میں مکمل چالیس روز تک دربار رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر رہے ۔

فیض العلوم کا قیام:
شروع اکتوبر ۱۹۷۹ء؍ ۱۳۹۹ھ میں خلوص  و محبت کا وہ عظیم قلعہ دار لعلوم جامہ اسلامیہ جسے مفتی عبد السلام نے بڑے خلوص اینٹوں اور خون  جگر کے گارے سے تعمیر کیا تھا، ایک منظم سازش کے تحت کچھ ایسے نا مساعد اور بحرانی  حالات  سے دوچار ہوا۔ اور ۲۱؍اکتوبر ۱۹۷۹ء؍۱۳۹۹ھ کو مفتی عبد السلام جامعہ اسلامیہ سے مستعفی ہوئ۔ کچھ عرصہ کے بعد ۱۴۰۰ھ؍ ۱۹۸۰ء میں سرائے ترین سنبھل کے ایک بزرگ حضرت سید جلال الدین شاہ عرف بھورے شاہ میاں رحمۃ اللہ علیہ کے آستانے سے متصل مدرسہ اہلسنت عربیہ فیض العلوم کا قیام عمل میں آیا۔ تاحین حیات مفتی عبد السلام اس مدرسہ کےشیخ الحدیث مفتی اور ایک عظیم سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔

حلیۂ مبارکہ اور ملبوسات:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کا رنگ سفید مائل بہ سرخی، قد میانہ قدرے طویل، جسم بھاری مگر متناسب، چہرہ بڑا اور رعب دار، پیشانی خوب چوڑی سعادت آثار، ناک بڑی ذرا وبیز، داڑھی لمبی اور خوب گھنی، سینہ چوڑا اور قران اس کے انوار وبرکات سے بھرا ہوا۔

لباس:
لباس سادہ اکثر کپڑے کی چوڑی گوٹ والی (دوپلی) ٹوپی، کلی دار گھٹنوں سے نیچا کرتا، اس کے اوپر صدری، ٹخنوں سےاونچا پائجامہ، بہت زمانہ شلوار نما مغلیہ انداز کا استعمال فرمایا پھر سادہ علی گڑھ ی انداز کا استعمال کرنا شروع کر دیا، اور آخر تک یہی استعمال فرمایا۔ جمعہ اور سفر میں شیر وانی زیب تن اور عمامہ زیب سر فرمایا۔ اس کے علاوہ کاندھے پر رومال اور ہاتھ میں عصا مستقل رکھتے ۔ پاؤں میں جے پوری انداز کے ناگرہ جوتے اور سیدھے ہاتھ میں بریلی شریف کی نقش والی انگھوٹی استعمال فرماتے ۔

خلفاء:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کے خلفاء میں دو حضرات قابل ذکر ہیں ۔ مولانا مفتی قاری محمد انوار الحق رضوی سلامی اور مولانا زاہد علی رضوی سلامی ۔

مکرمی مولانا زاہد علی رجوی سلامی کو وصال سے صرف ۲۷، روز قبل مورخہ ۲۲؍شعبان المعظم ۲۱؍اپریل ۱۹۸۷ء ۱۴۰۸ھ میں ایک جلسہ عام میں کثیر علماء کی موجودگی میں باضابطہ رسم جانشینی اور اجازت و خلافت عطا ہوئی۔ مولانا زاہد علی صاحب علم وفضل اور حافظ قرآن ہیں۔ مفتی عبد السلام کے صحیح جانشین ہیں۔ آج کل دارالافتاء الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں نائب مفتی کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں ۔ (اللہ تعالیٰ روا افزوں ترقی عطا فرمائے ۔ آمین) ـ

چند تلامذہ:
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کی پچاس سالہ تدریسی خدمات میں تلامذہ کی ایک طویل فہرست ہے ۔ ہم یہاں پر صرف ان چند خوشہ چینوں کے نام کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے مفتی عبد السلام کے خرمنِ عم سے خصوصی فیضان حاصل کیا ۔

۱۔ مولانا ضمیر حسین سلامی مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ
۲۔ مفتی قاری محمد انوار الحق رضوی دمکوی ضلع بریلی
۳۔ مولانا محمد لیاقت حسین رضوی بریلوی
۴۔ مولانا غلام یٰسین سلامی بہاری
۵۔ مولانا غلام ابو القاسم اشرفی بہاری
۶۔ مولانا محمد یوسف اشرفی راجستھانی
۷۔ مولانا زاہد علی رضوی سلامی سنبھلی
۸۔ مولانا الحاج محمد یوسف سلامی بلرام پوری
۹۔ مولانا عبد الخالق سلامی بنگالی
۱۰۔ مولانا عبد المنان سلامی بنگالی
۱۱۔ مولانا عبد الرشید قادری کشمیری
۱۲۔ مولانا سید احباب الدین قادری کشمیری
2