🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ نجیب الدین متوکل دہلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
آپ حضرت شیخ فرید الحق والدین قدس سرہ کے حقیقی بھائی اور خلیفہ اعظم تھے ۔ ظاہر و باطن میں بلند رتبہ رکھتے تھے۔ نہایت متوکل انسان تھے ۔ ستر سال تک دہلی میں رہے مگر اس عرصہ میں کبھی کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے، اگرچہ آپ کے پاس نقد اور جنس سے کوئی چیز بھی نہیں تھی، مگر آپ کو یاد خدا میں اتنی مشغولیت رہتی کہ بسا اوقات یہ معلوم نہ ہوتا کہ آج کون سی تاریخ یا کون سا دن ہے، آپ کے نزدیک اپنے بیگانے غریب و امیر ایک ہی جیسے تھے، ایک دن لوگوں نے آپ سے پوچھا، مخدوم! کیا فرید شکر گنج پاک پتنی آپ کے بھائی ہیں، فرمانے لگے ہاں ظاہری تو میرے ہی بھائی ہیں مگر باطنی طور پر کسی اور کے بھائی ہیں، پھر پوچھا کہ نجیب الدین متوکل آپ ہی ہیں فرمایا نجیب الدین تو میں ہی ہوں مگر متوکل کوئی اور ہے میں متوکل نہیں ہوں ۔
اخبار الاولیاء اور اخبار الاخیار کے مصنفین نے لکھا ہے کہ اک سال عید کے دن بہت سے درویش مل کر حضرت نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ کے گھر آئے اور اصرار کیا کہ آج ہم کھانا آپ کے ساتھ کھائیں گے، آپ اندر گئے اہلیہ سے کھانا مانگا، اس نے بتایا کہ دو دنوں سے اس گھر میں کھانے کی خوشبو تک نہیں آئی، آپ نے فرمایا اگر تمہارے پاس چادر ہو تو مجھے دیں تاکہ اسے گروی رکھ کر دوستوں کو عید کے دن کھانا کھلاؤں، اس نیک بخت نے چادر لاکر دی وہ جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی ۔ وہ اس قابل نہ تھی کہ اسے کوئی گروی رکھتا، ناچار ہوکر پانی کا ایک کوزہ بھرا، اور دوستوں کے پاس لے جاکر کہنے لگے، یہی ماحضر ہے، درویش بھی بڑے اہل دل تھے، پانی کا کوزہ لیا اور کھانے کی طرح کھایا اور پیا، اورشکریہ ادا کرکے رخصت لی، چلے گئے، تو حضرت نجیب الدین بڑے شکستہ خاطر ہوئے کوٹھے پر جاکر اللہ کی یاد میں مشغول ہوگئے۔ اس کے دل میں خیال آیا آج تو عیدکا دن ہے، میرے بیوی بچوں نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا اور درویش بھی آخر محروم چلے گئے، ابھی یہ بات سوچ ہی رہے تھے کہ ایک شخص چھت سے اترا اور کہنے لگا نجیب الدین فرشتوں نے تمہارے توکل کا ڈنگا عرش کی بلندیوں میں بجایا ہے اور تم کھانے کے لیے دل میں سوچ رہے ہو، میں بھی کھانا کھانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، جاؤ، کہیں سے کھانا لاکر کھلاؤ، حضرت شیخ نجیب الدین نے معلوم کرلیا کہ یہ حضرت خضر ہیں، عرض کی، آج تو میرے گھر کھانا نہیں ہے اللہ جانتا ہے میں اپنی ذات کے لیے سوچ رہا تھا، حضرت خضر نے کہا جاؤ! اور گھر میں تلاش کرو شاید طعام مل جائے، آپ اٹھے نیچے آئے تو صحن ہر قسم کھانوں کے دستر خوان بچھے ہوئے تھے، یہ غیب کی نعمت خیال کرتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے لے گئے اور کچھ کھانا اٹھاکر چھت پر آئے دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام غائب ہیں۔
حضرت نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ کے گھر کے پاس ہی ایک تیمور نامی ترک رہتا تھا اس نے مسجد بنائی اور مسجد کے متصل اپنا مکان تعمیر کیا، تیمور اس مسجد کے متولی بھی تھے اور امام بھی، کچھ عرصہ گزرا تو تیمور نے اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہی اور اس پر ایک لاکھ تنکہ خرچ کا اندازہ لگایا، حضرت متوکل رحمۃ اللہ علیہ نے اسے سخت نصیحت کی کہ اگر اتنا روپیہ غربا و مساکین پر خرچ کردو گے تو بہتر ہوگا ایک شادی پر اتنا اسراف اچھی بات نہیں تیمور آپ کی اس بات سے رنجیدہ ہوگیا اور آپ سے بات کرنا بند کردی اور وظیفہ بھی روک دیا۔ حضرت متوکل نے دہلی کو خیر باد کہا اور پاک پتن آگئے اور تمام صورت حال حضرت خواجہ فرید شکر گنج کی خدمت میں بیان کی آپ نے فرمایا:( ماننسخ من آیۃاو ننسہا نات بخیر منہا اومشلیہا )ہم جو آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلادیتے ہیں اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس کی مثل بہم پہنچاتے ہیں فکر نہ کریں اللہ بہتر کرنے والا ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت متوکل قدس سرہ دوبارہ دہلی گئے تو اللہ نے ایک اور ترک کو آپ کی امداد و خدمت پر مامور کردیا اور وہ ساری عمر آپ کی خدمات سر انجام دیتا رہا۔
بدایوں میں ایک صاحب دل بزرگ رہا کرتے تھے۔ جن کا اسم گرامی وجیہ الدین تھا۔ حضرت توکل اس کی زیارت کے لیے دہلی سے بدایوں گئے اسے دیکھا کہ وہ ایک بوریے پر بیٹھا ہے حضرت متوکل نے ادباً اپنے جوتے اتارے اور اس کے پاس جا بیٹھے، اس شخص نے نہ تو آپ کی طرف توجہ کی اور نہ احترام بلکہ منہ بناکر بیٹھا رہا، بوریے پر ایک کتاب پڑی ہوئی تھی، حضرت متوکل نے ہاتھ بڑھا کر کتاب اٹھالی اور ایک صفحہ کھول کر پڑھا تو پہلی سطر میں لکھا ہوا تھا کہ آخری زمانہ میں متکبر درویش پیدا ہوں گے، اگر کوئی نیک شخص ان کے پاس جائے گا اور جوتے اتار کر بوریے پر بھی بیٹھ جائے گا تو وہ آتش تکبر میں جلتے رہیں گے احترام کی بجائے انہیں آزار پہنچان ےکی کوشش کریں گے۔
آپ حضرت شیخ فرید الحق والدین قدس سرہ کے حقیقی بھائی اور خلیفہ اعظم تھے ۔ ظاہر و باطن میں بلند رتبہ رکھتے تھے۔ نہایت متوکل انسان تھے ۔ ستر سال تک دہلی میں رہے مگر اس عرصہ میں کبھی کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے، اگرچہ آپ کے پاس نقد اور جنس سے کوئی چیز بھی نہیں تھی، مگر آپ کو یاد خدا میں اتنی مشغولیت رہتی کہ بسا اوقات یہ معلوم نہ ہوتا کہ آج کون سی تاریخ یا کون سا دن ہے، آپ کے نزدیک اپنے بیگانے غریب و امیر ایک ہی جیسے تھے، ایک دن لوگوں نے آپ سے پوچھا، مخدوم! کیا فرید شکر گنج پاک پتنی آپ کے بھائی ہیں، فرمانے لگے ہاں ظاہری تو میرے ہی بھائی ہیں مگر باطنی طور پر کسی اور کے بھائی ہیں، پھر پوچھا کہ نجیب الدین متوکل آپ ہی ہیں فرمایا نجیب الدین تو میں ہی ہوں مگر متوکل کوئی اور ہے میں متوکل نہیں ہوں ۔
اخبار الاولیاء اور اخبار الاخیار کے مصنفین نے لکھا ہے کہ اک سال عید کے دن بہت سے درویش مل کر حضرت نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ کے گھر آئے اور اصرار کیا کہ آج ہم کھانا آپ کے ساتھ کھائیں گے، آپ اندر گئے اہلیہ سے کھانا مانگا، اس نے بتایا کہ دو دنوں سے اس گھر میں کھانے کی خوشبو تک نہیں آئی، آپ نے فرمایا اگر تمہارے پاس چادر ہو تو مجھے دیں تاکہ اسے گروی رکھ کر دوستوں کو عید کے دن کھانا کھلاؤں، اس نیک بخت نے چادر لاکر دی وہ جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی ۔ وہ اس قابل نہ تھی کہ اسے کوئی گروی رکھتا، ناچار ہوکر پانی کا ایک کوزہ بھرا، اور دوستوں کے پاس لے جاکر کہنے لگے، یہی ماحضر ہے، درویش بھی بڑے اہل دل تھے، پانی کا کوزہ لیا اور کھانے کی طرح کھایا اور پیا، اورشکریہ ادا کرکے رخصت لی، چلے گئے، تو حضرت نجیب الدین بڑے شکستہ خاطر ہوئے کوٹھے پر جاکر اللہ کی یاد میں مشغول ہوگئے۔ اس کے دل میں خیال آیا آج تو عیدکا دن ہے، میرے بیوی بچوں نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا اور درویش بھی آخر محروم چلے گئے، ابھی یہ بات سوچ ہی رہے تھے کہ ایک شخص چھت سے اترا اور کہنے لگا نجیب الدین فرشتوں نے تمہارے توکل کا ڈنگا عرش کی بلندیوں میں بجایا ہے اور تم کھانے کے لیے دل میں سوچ رہے ہو، میں بھی کھانا کھانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، جاؤ، کہیں سے کھانا لاکر کھلاؤ، حضرت شیخ نجیب الدین نے معلوم کرلیا کہ یہ حضرت خضر ہیں، عرض کی، آج تو میرے گھر کھانا نہیں ہے اللہ جانتا ہے میں اپنی ذات کے لیے سوچ رہا تھا، حضرت خضر نے کہا جاؤ! اور گھر میں تلاش کرو شاید طعام مل جائے، آپ اٹھے نیچے آئے تو صحن ہر قسم کھانوں کے دستر خوان بچھے ہوئے تھے، یہ غیب کی نعمت خیال کرتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے لے گئے اور کچھ کھانا اٹھاکر چھت پر آئے دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام غائب ہیں۔
حضرت نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ کے گھر کے پاس ہی ایک تیمور نامی ترک رہتا تھا اس نے مسجد بنائی اور مسجد کے متصل اپنا مکان تعمیر کیا، تیمور اس مسجد کے متولی بھی تھے اور امام بھی، کچھ عرصہ گزرا تو تیمور نے اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہی اور اس پر ایک لاکھ تنکہ خرچ کا اندازہ لگایا، حضرت متوکل رحمۃ اللہ علیہ نے اسے سخت نصیحت کی کہ اگر اتنا روپیہ غربا و مساکین پر خرچ کردو گے تو بہتر ہوگا ایک شادی پر اتنا اسراف اچھی بات نہیں تیمور آپ کی اس بات سے رنجیدہ ہوگیا اور آپ سے بات کرنا بند کردی اور وظیفہ بھی روک دیا۔ حضرت متوکل نے دہلی کو خیر باد کہا اور پاک پتن آگئے اور تمام صورت حال حضرت خواجہ فرید شکر گنج کی خدمت میں بیان کی آپ نے فرمایا:( ماننسخ من آیۃاو ننسہا نات بخیر منہا اومشلیہا )ہم جو آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلادیتے ہیں اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس کی مثل بہم پہنچاتے ہیں فکر نہ کریں اللہ بہتر کرنے والا ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت متوکل قدس سرہ دوبارہ دہلی گئے تو اللہ نے ایک اور ترک کو آپ کی امداد و خدمت پر مامور کردیا اور وہ ساری عمر آپ کی خدمات سر انجام دیتا رہا۔
بدایوں میں ایک صاحب دل بزرگ رہا کرتے تھے۔ جن کا اسم گرامی وجیہ الدین تھا۔ حضرت توکل اس کی زیارت کے لیے دہلی سے بدایوں گئے اسے دیکھا کہ وہ ایک بوریے پر بیٹھا ہے حضرت متوکل نے ادباً اپنے جوتے اتارے اور اس کے پاس جا بیٹھے، اس شخص نے نہ تو آپ کی طرف توجہ کی اور نہ احترام بلکہ منہ بناکر بیٹھا رہا، بوریے پر ایک کتاب پڑی ہوئی تھی، حضرت متوکل نے ہاتھ بڑھا کر کتاب اٹھالی اور ایک صفحہ کھول کر پڑھا تو پہلی سطر میں لکھا ہوا تھا کہ آخری زمانہ میں متکبر درویش پیدا ہوں گے، اگر کوئی نیک شخص ان کے پاس جائے گا اور جوتے اتار کر بوریے پر بھی بیٹھ جائے گا تو وہ آتش تکبر میں جلتے رہیں گے احترام کی بجائے انہیں آزار پہنچان ےکی کوشش کریں گے۔
❤1
حضرت متوکل رحمۃ اللہ علیہ نے اس درویش کو کتاب دے کر کہا، اس کی پہلی سطر پڑھیں، اس کا مضمون تمہاری حالت بیان کر رہا ہے، درویش نے وہ سطر پڑھی تو بڑا شرمندہ ہوا، شیخ متوکل وہاں سے اٹھےا ور اپنی راہ لی۔
غیاث پور میں ایک صاحب کرامت عورت تھی، وہ اپنی پاک دامنی اور ریاضت کی وجہ سے رابعہ عصر تھی، اس کا نام فاطمہ سام تھا، حضرت خواجہ فرید شکر گنج اس کی تعریف کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے یہ عورت دو ولیوں کے مراتب کی مالکہ ہے اس عورت نے حضرت متوکل قدس سرہ کو اپنا منہ بولا بھائی بنایا ہوا تھا، حضرت متوکل کے گھر تین دن رات فاقہ ہوتا تو اس عورت کو کشفی طور پر معلوم ہوجاتا تھا وہ دو تین سیر کلیجی لے کر پکاتی اور حضرت متوکل کے گھر بھیج دیتی تھی۔ شیخ بھی اس کی اس نذر کو خندہ پیشانی سے قبول فرمالیا کرتے تھے۔
صاحب شجرۂ چشتی ہنے آپ کی وفات ۶۷۱ھ لکھی ہے۔
چوں نجیب الدین متوکل ولی
رفت در جنت ازیں دار ملال
راستی و نیز محمود عاقبت
ہست سال وصل آں اہل کمال
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-najeebudddin-mutawakkal
غیاث پور میں ایک صاحب کرامت عورت تھی، وہ اپنی پاک دامنی اور ریاضت کی وجہ سے رابعہ عصر تھی، اس کا نام فاطمہ سام تھا، حضرت خواجہ فرید شکر گنج اس کی تعریف کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے یہ عورت دو ولیوں کے مراتب کی مالکہ ہے اس عورت نے حضرت متوکل قدس سرہ کو اپنا منہ بولا بھائی بنایا ہوا تھا، حضرت متوکل کے گھر تین دن رات فاقہ ہوتا تو اس عورت کو کشفی طور پر معلوم ہوجاتا تھا وہ دو تین سیر کلیجی لے کر پکاتی اور حضرت متوکل کے گھر بھیج دیتی تھی۔ شیخ بھی اس کی اس نذر کو خندہ پیشانی سے قبول فرمالیا کرتے تھے۔
صاحب شجرۂ چشتی ہنے آپ کی وفات ۶۷۱ھ لکھی ہے۔
چوں نجیب الدین متوکل ولی
رفت در جنت ازیں دار ملال
راستی و نیز محمود عاقبت
ہست سال وصل آں اہل کمال
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-najeebudddin-mutawakkal
scholars.pk
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
علامہ اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
کنیت: ابو عبد اللہ ۔ اسم گرامی: محمد ـ لقب: اکمل الدین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو عبدا للہ محمد بن محمد بن محمود بابرتی علیہم الرحمہ ۔ ’’بابرتی‘‘ ایک قصبہ کا نام ہے جو بغداد کے نواح میں واقع ہے، اور یہی اقویٰ ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کی نسبت ’’بابرت‘‘ کی طرف ہے جو ترکی کا حصہ ہے ۔ (مقدمہ عنایہ شرح ہدایہ)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 710ھ، 1314ء کو بغداد معلیٰ عراق میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، پھر حلب شام کی طرف تشریف لے گئے، وہاں کے علماء سے استفادہ کیا ۔ پھر قاہرہ مصر میں علومِ دینیہ کی تکمیل کی ۔ آپ کے شیوخ میں قوام الدین کاکی، ابوحیان اندلسی، شمس الدین الاصفہانی، علامہ ابن الھادی، علامہ دلاصی وغیرہ ۔
سیرت و خصائص:
امام محقق، علامۂ مدقق، حافظ، ضابط، فقیہ، محدث، لغوی، صرفی، عارف، عالم ِمعانی و بیان، جامع علوم و فنون، عدیم النظیر، فقید المثال، قوی النفس، عظیم الہیبت، قوی العلم والعمل حضرت علامہ محمد بن محمد بن محمود بابرتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کا علماءِ ماتریدیہ حنفیہ میں ایک اہم مقام ہے ۔
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اکمل الدین محمد بن محمد بن محمود بابرتی (علیہم الرحمہ)، علامۃ المتأخرین، خاتمۃ الحققین، علم و فضل تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ علامۂ زماں، فاضلِ یگانہ، وافر العلم والعقل تھے ۔ سلاطین وامراء پر آپ کی ہیبت تھی ۔
علامہ ابن حماد حنبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: آپ فقہ، عربی، لغت، تمام اصول و فنون، کے ماہر تھے ۔
علامہ عبد الحی لکھنوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ان کی مثل ان کے زمانے میں کسی نے نہیں دیکھا ۔ آپ حدیث اور تمام علوم میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔ نحو، صرف، لغت، بیان، معانی، تفسیر، اصول وفروع میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔
ابن یاس علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
فقہاءِ حنفیہ میں عظیم حیثیت کے مالک تھے ۔ علامۂ زماں، فرید العصر، اور زمانے کی عظیم شخصیات میں سے تھے ۔
( ماخوذ، حسن المحاضرہ فی تاریخ المصر والقاہرہ)
آپ کو علم و عمل، اور تقویٰ کی بناءپر خانقاہِ شیخونیہ کی مشیخت دی گئی اور کئی مرتبہ عہدۂ قضاء کی پیش کش کی گئی، مگر آپ نے عہدۂ قضاء قبول نہ فرمایا۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے ۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور حکمرانوں کے سامنے احقاق حق ابطالِ باطل کاخوب فریضہ انجام دیتے تھے ۔ ساری زندگی دینِ متین کی خدمت فرمائی ۔ امتِ مسلمہ کو نافع کتب کی صورت میں کتب کا ذخیرہ عطاء کیا ۔ کتب میں شرح مشارق الانوار فی علم الحدیث، عنایہ شرح ہدایہ، شرح مختصر ابن حاجب، شرح منار، شرح فرائض سراجیہ، شرح تلخیص جامع خلاطی، شرح تجرید طوسی، شرح الفیہ ابن معطی، حواشی تفسیر کشاف، شرح کتاب الوصیہ امام ابو حنیفہ، الارشاد شرح فقہ الاکبر، شرح تلخیص المفتاح،کتاب التقریر، شرح اصول بزدوی، العقیدہ، کتاب الانوار (اصول میں) اور تفسیر قرآن مجید وغیرہ کثیر کتب تصنیف فرمائیں ۔ سید المحققین ابو الحسن میر سید شریف علی جرجانی ، شمس الدین محمد بن حمزہ ، اور بدر الدین محمود وغیرہ نے ان سے اخذ علوم کیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 19 رمضان المبارک 786ھ مطابق 05 نومبر 1384ء کو ہوا ۔ شیخونیہ مصر میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ حسن المحاضرہ فی تاریخ المصر والقاہرہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-bin-muhammad-akmaluddin-babarti
نام و نسب:
کنیت: ابو عبد اللہ ۔ اسم گرامی: محمد ـ لقب: اکمل الدین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو عبدا للہ محمد بن محمد بن محمود بابرتی علیہم الرحمہ ۔ ’’بابرتی‘‘ ایک قصبہ کا نام ہے جو بغداد کے نواح میں واقع ہے، اور یہی اقویٰ ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کی نسبت ’’بابرت‘‘ کی طرف ہے جو ترکی کا حصہ ہے ۔ (مقدمہ عنایہ شرح ہدایہ)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 710ھ، 1314ء کو بغداد معلیٰ عراق میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، پھر حلب شام کی طرف تشریف لے گئے، وہاں کے علماء سے استفادہ کیا ۔ پھر قاہرہ مصر میں علومِ دینیہ کی تکمیل کی ۔ آپ کے شیوخ میں قوام الدین کاکی، ابوحیان اندلسی، شمس الدین الاصفہانی، علامہ ابن الھادی، علامہ دلاصی وغیرہ ۔
سیرت و خصائص:
امام محقق، علامۂ مدقق، حافظ، ضابط، فقیہ، محدث، لغوی، صرفی، عارف، عالم ِمعانی و بیان، جامع علوم و فنون، عدیم النظیر، فقید المثال، قوی النفس، عظیم الہیبت، قوی العلم والعمل حضرت علامہ محمد بن محمد بن محمود بابرتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کا علماءِ ماتریدیہ حنفیہ میں ایک اہم مقام ہے ۔
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اکمل الدین محمد بن محمد بن محمود بابرتی (علیہم الرحمہ)، علامۃ المتأخرین، خاتمۃ الحققین، علم و فضل تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ علامۂ زماں، فاضلِ یگانہ، وافر العلم والعقل تھے ۔ سلاطین وامراء پر آپ کی ہیبت تھی ۔
علامہ ابن حماد حنبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: آپ فقہ، عربی، لغت، تمام اصول و فنون، کے ماہر تھے ۔
علامہ عبد الحی لکھنوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ان کی مثل ان کے زمانے میں کسی نے نہیں دیکھا ۔ آپ حدیث اور تمام علوم میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔ نحو، صرف، لغت، بیان، معانی، تفسیر، اصول وفروع میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔
ابن یاس علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
فقہاءِ حنفیہ میں عظیم حیثیت کے مالک تھے ۔ علامۂ زماں، فرید العصر، اور زمانے کی عظیم شخصیات میں سے تھے ۔
( ماخوذ، حسن المحاضرہ فی تاریخ المصر والقاہرہ)
آپ کو علم و عمل، اور تقویٰ کی بناءپر خانقاہِ شیخونیہ کی مشیخت دی گئی اور کئی مرتبہ عہدۂ قضاء کی پیش کش کی گئی، مگر آپ نے عہدۂ قضاء قبول نہ فرمایا۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے ۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور حکمرانوں کے سامنے احقاق حق ابطالِ باطل کاخوب فریضہ انجام دیتے تھے ۔ ساری زندگی دینِ متین کی خدمت فرمائی ۔ امتِ مسلمہ کو نافع کتب کی صورت میں کتب کا ذخیرہ عطاء کیا ۔ کتب میں شرح مشارق الانوار فی علم الحدیث، عنایہ شرح ہدایہ، شرح مختصر ابن حاجب، شرح منار، شرح فرائض سراجیہ، شرح تلخیص جامع خلاطی، شرح تجرید طوسی، شرح الفیہ ابن معطی، حواشی تفسیر کشاف، شرح کتاب الوصیہ امام ابو حنیفہ، الارشاد شرح فقہ الاکبر، شرح تلخیص المفتاح،کتاب التقریر، شرح اصول بزدوی، العقیدہ، کتاب الانوار (اصول میں) اور تفسیر قرآن مجید وغیرہ کثیر کتب تصنیف فرمائیں ۔ سید المحققین ابو الحسن میر سید شریف علی جرجانی ، شمس الدین محمد بن حمزہ ، اور بدر الدین محمود وغیرہ نے ان سے اخذ علوم کیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 19 رمضان المبارک 786ھ مطابق 05 نومبر 1384ء کو ہوا ۔ شیخونیہ مصر میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ حسن المحاضرہ فی تاریخ المصر والقاہرہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-bin-muhammad-akmaluddin-babarti
scholars.pk
Hazrat Allama Muhammad Bin Muhammad Akmaluddin Babarti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مخدوم ملت مفتی محمد عبد السلام رضوی سنبھلی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ بانی فیض العلوم سرائے ترین سنبھل مراد آباد
ولادت:
مخدوم ملت حضرت الشاہ مولانا مفتی محمد عبد السلام قادری رضوی بن الشیخ احمد بن اللہ ابن الشیخ حافظ حکیم اللہ بن الشیخ عظیم اللہ بن الشیخ مکارم کی ولادت شمالی ہند کے مشہور و معروف مرودم خیز علاقہ سنبھل ضلع مراد آباد کی ایک صنعتی بستی سرائے ٹرین کے محلہ نواب خیل میں ایک علمی و روحانی گھرانے کے اندر غالباً ۱۳۲۳ھ؍ ۱۹۰۵ء میں ہوئی ۔
تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ ابھی دو ہی سال کے تھے کہ سر سے والد ماجد کا سایۂ عاطفت اُٹھ گیا اور پرورش کا بار والدہ ماجدہ کے زیر سایہ بڑے بڑے بھائیوں نے برداشت کیا، اور نہ صرف پرورش ہی کا بار اٹھایا بلکہ عمدہ تربیت اور اس کے ساتھ ساتھ زیور علم سے آراستہ کرنے میں بڑی جانفشانی سے کام لیا ۔
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کی تعلیم کا آغاز عم مکرم الشیخ حافظ عصمت اللہ سے ہوا ۔ انہوں نے اپنے ہونہار حوصلہ مند بھتیجے کو بچپن ہی میں ظاہری تعلیم کے ساتھ سلوک کے مقامات بھی طے کرا دئیے تھے ۔ ناظرہ قرآن کریم کے دوران مفتی عبد السلام کے دفور شوق کو دیکھ کر عم مکرم نے حافظ شروع کرا دیا ۔ چونکہ اس وقت خانگی حالات مالی طور پر بہت بہتر نہ تھے اس لے اوقات درس کے علاوہ بقیہ اوقات میں مفتی عبد السلام اپنے بھائیوں کے ساتھ کام کرتے اور ان کا ہاتھ بٹاتے ۔ اس وقت مفتی عبد السلام کا آبائی پیشہ سینگ کی کنگھیاں بنانا اور انکی تجارت کرنا تھا ۔ تکمیل حفظ کے بعد بستی ہی کے ایک مکتب میں مولوی عبد اللہ سے فارسی شروع کر دی ۔ کچھ عرصہ کے بعد عربی کا آغاز بھی یہیں سے کر دیا ۔
حصول تعلیم میں ذوق سلیم اور غیر معمولی و فور شوق کو دیکھ کر مفتی عبد السلام کے بڑے بھائی شیخ عبد الرحمٰن (بھتیاجی) شیخ عبد الصمد اور خسر شیخ کلن نیز محلہ کے چند دیگر مغزز حضرات آپ کو مدرسہ اجمل العلوم سنبھل میں اجمل العلماء حضرت مفتی محمد اجمل شاہ قادری رضوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ۔ اور عرض کیا حضور ان کا داخلہ فرمالیں ۔ اور ان کی طرف خصوصی توجہ فرمائیں ۔ چنانچہ اسی روز مفتی محمد اجمل شاہ نعیمی رضوی نے مفتی عبد السلام کو داخل درس فرمالیا ۔ اور مکمل نو سال تک علوم ظاہری و باطنی کی تشنگی شوق کی سیرابی عطا فرمائی اور پھر ان عنایات کو صرف درس گاہ حدوں تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ کارج از درس اقوات میں بھی اپنی نظر کیمیا اثر سے علم وفن اور عشق وعرفان کے وہ جام پلائے جو مفتی عبد السلام کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمیہ بن گئے ۔
فراغت:
۲۰؍شعبان المعظم ۱۳۵۵ھ؍ ۱۹۳۶ء کے عظیم الشان سالانہ جلسہ دستار فضیلت میں قوم و ملت کے بیشمار اجلۂ علماء و مشائخ عطام کے مقدس ہاتھوں تکمیل علوم نبویہ کا تاج زریں مفتی عبد السلام کے زیب سر ہوا ۔
جامعہ اسلامیہ کا قیام:
وہابیت کدۂ سرائے ترین سنبھل کو شنیت کی ضیا پاشیوں سے منور کرنے اور اجتماعی زندگی کو اعتقادی رنگ دینے کے لیے فعال ادارہ کی سخت ضرورت کے پیش نظر فراغت کے دوسرےہی سال ۱۳۵۶ھ؍ ۱۹۳۷ء میں مفتی عبد السلام نے محلہ کی ایک وسیع مسجد رستم سے متصل ایک مکتب کی بنیاد ڈالی ۔ جس میں مفتی عبدالسلام کے محسن ومشفق استاذ اجمل العلماء مفتی محمد اجمل شاہ رضوی کی خواہش و دعوت پر تقریباً پندرہ سے زائد جلۂ علماء کرام نے شرکت فرمائی ۔ اس مکتب کی سب سے پہلی اینٹ عارف باللہ الحاج الشاہ عبد المجید آنولوی (والد ماجد حضرت علامہ عبد الحفیظ مفتی آگرہ) نے رکھی، پھر حسبِ ترتیب و مراتب دوسرے جلیل القدر علماء و مشائخ نے ۔
آغاز درس و تدریس:
چونکہ مفتی عبد السلام کی بستی آپ کی خدمت کی زیادہ مستحق تھی ۔ اس لیے قیام جامعہ سلامیہ کے بعد جامعہ سلامیہ ہی میں بحیثیت صدر المدرسین اور شیخ الحدیث کام کرنے لگے، اور تقریباً چودہ سال مسلسل جم کر تدریسی، تبلیغی اور فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دیں ۔ اس طرح مفتی عبد السلام کے درس وتدریس کا آغاز اسی دار العلوم جامعہ سلامیہ سرائے ترین سنبھل ہی سے ہوتا ہے ۔
دینی وملی خدمات:
بد عقیدہ علماء وہابیہ نے سرائے ترین کو اپنی فکر کو اپنی تحریک کی آماجگاہ اور وہاں کی اعتقادی فجا کو مسموم کر رکھا تھا ۔ مفتی عبد السلام نے اس ظلمت کدہ کو سنیت کی ضیاء پاشیوں سے منور کرنے کےلیےدن و رات ایک کر دیا ۔ سب سے پہلے ایک ادارہ قائم فرمایا جس سے علماء و فضلاء پیدا ہوئے، جگہ جگہ جلسے منعقد ہوئے قدم قدم پر وعظم و تبلیغ کی بز میں سجائیں، مواعظ حسنیہ کے ذریعہ عوام کے تاریک سن یوں کو نور سنیت سے روشن و منور فرمایا۔ جلوس عید میلاد النبی ﷺ کو جاری فرمایا۔ ایصال ثواب کی مردہ سنت کو زندہ فرمایا۔ مکانوں مسجدوں میں گیارہویں شریف بارہویں شریف وغیرہ کو رواج دیا۔
ولادت:
مخدوم ملت حضرت الشاہ مولانا مفتی محمد عبد السلام قادری رضوی بن الشیخ احمد بن اللہ ابن الشیخ حافظ حکیم اللہ بن الشیخ عظیم اللہ بن الشیخ مکارم کی ولادت شمالی ہند کے مشہور و معروف مرودم خیز علاقہ سنبھل ضلع مراد آباد کی ایک صنعتی بستی سرائے ٹرین کے محلہ نواب خیل میں ایک علمی و روحانی گھرانے کے اندر غالباً ۱۳۲۳ھ؍ ۱۹۰۵ء میں ہوئی ۔
تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ ابھی دو ہی سال کے تھے کہ سر سے والد ماجد کا سایۂ عاطفت اُٹھ گیا اور پرورش کا بار والدہ ماجدہ کے زیر سایہ بڑے بڑے بھائیوں نے برداشت کیا، اور نہ صرف پرورش ہی کا بار اٹھایا بلکہ عمدہ تربیت اور اس کے ساتھ ساتھ زیور علم سے آراستہ کرنے میں بڑی جانفشانی سے کام لیا ۔
مفتی عبد السلام علیہ الرحمہ کی تعلیم کا آغاز عم مکرم الشیخ حافظ عصمت اللہ سے ہوا ۔ انہوں نے اپنے ہونہار حوصلہ مند بھتیجے کو بچپن ہی میں ظاہری تعلیم کے ساتھ سلوک کے مقامات بھی طے کرا دئیے تھے ۔ ناظرہ قرآن کریم کے دوران مفتی عبد السلام کے دفور شوق کو دیکھ کر عم مکرم نے حافظ شروع کرا دیا ۔ چونکہ اس وقت خانگی حالات مالی طور پر بہت بہتر نہ تھے اس لے اوقات درس کے علاوہ بقیہ اوقات میں مفتی عبد السلام اپنے بھائیوں کے ساتھ کام کرتے اور ان کا ہاتھ بٹاتے ۔ اس وقت مفتی عبد السلام کا آبائی پیشہ سینگ کی کنگھیاں بنانا اور انکی تجارت کرنا تھا ۔ تکمیل حفظ کے بعد بستی ہی کے ایک مکتب میں مولوی عبد اللہ سے فارسی شروع کر دی ۔ کچھ عرصہ کے بعد عربی کا آغاز بھی یہیں سے کر دیا ۔
حصول تعلیم میں ذوق سلیم اور غیر معمولی و فور شوق کو دیکھ کر مفتی عبد السلام کے بڑے بھائی شیخ عبد الرحمٰن (بھتیاجی) شیخ عبد الصمد اور خسر شیخ کلن نیز محلہ کے چند دیگر مغزز حضرات آپ کو مدرسہ اجمل العلوم سنبھل میں اجمل العلماء حضرت مفتی محمد اجمل شاہ قادری رضوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ۔ اور عرض کیا حضور ان کا داخلہ فرمالیں ۔ اور ان کی طرف خصوصی توجہ فرمائیں ۔ چنانچہ اسی روز مفتی محمد اجمل شاہ نعیمی رضوی نے مفتی عبد السلام کو داخل درس فرمالیا ۔ اور مکمل نو سال تک علوم ظاہری و باطنی کی تشنگی شوق کی سیرابی عطا فرمائی اور پھر ان عنایات کو صرف درس گاہ حدوں تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ کارج از درس اقوات میں بھی اپنی نظر کیمیا اثر سے علم وفن اور عشق وعرفان کے وہ جام پلائے جو مفتی عبد السلام کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمیہ بن گئے ۔
فراغت:
۲۰؍شعبان المعظم ۱۳۵۵ھ؍ ۱۹۳۶ء کے عظیم الشان سالانہ جلسہ دستار فضیلت میں قوم و ملت کے بیشمار اجلۂ علماء و مشائخ عطام کے مقدس ہاتھوں تکمیل علوم نبویہ کا تاج زریں مفتی عبد السلام کے زیب سر ہوا ۔
جامعہ اسلامیہ کا قیام:
وہابیت کدۂ سرائے ترین سنبھل کو شنیت کی ضیا پاشیوں سے منور کرنے اور اجتماعی زندگی کو اعتقادی رنگ دینے کے لیے فعال ادارہ کی سخت ضرورت کے پیش نظر فراغت کے دوسرےہی سال ۱۳۵۶ھ؍ ۱۹۳۷ء میں مفتی عبد السلام نے محلہ کی ایک وسیع مسجد رستم سے متصل ایک مکتب کی بنیاد ڈالی ۔ جس میں مفتی عبدالسلام کے محسن ومشفق استاذ اجمل العلماء مفتی محمد اجمل شاہ رضوی کی خواہش و دعوت پر تقریباً پندرہ سے زائد جلۂ علماء کرام نے شرکت فرمائی ۔ اس مکتب کی سب سے پہلی اینٹ عارف باللہ الحاج الشاہ عبد المجید آنولوی (والد ماجد حضرت علامہ عبد الحفیظ مفتی آگرہ) نے رکھی، پھر حسبِ ترتیب و مراتب دوسرے جلیل القدر علماء و مشائخ نے ۔
آغاز درس و تدریس:
چونکہ مفتی عبد السلام کی بستی آپ کی خدمت کی زیادہ مستحق تھی ۔ اس لیے قیام جامعہ سلامیہ کے بعد جامعہ سلامیہ ہی میں بحیثیت صدر المدرسین اور شیخ الحدیث کام کرنے لگے، اور تقریباً چودہ سال مسلسل جم کر تدریسی، تبلیغی اور فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دیں ۔ اس طرح مفتی عبد السلام کے درس وتدریس کا آغاز اسی دار العلوم جامعہ سلامیہ سرائے ترین سنبھل ہی سے ہوتا ہے ۔
دینی وملی خدمات:
بد عقیدہ علماء وہابیہ نے سرائے ترین کو اپنی فکر کو اپنی تحریک کی آماجگاہ اور وہاں کی اعتقادی فجا کو مسموم کر رکھا تھا ۔ مفتی عبد السلام نے اس ظلمت کدہ کو سنیت کی ضیاء پاشیوں سے منور کرنے کےلیےدن و رات ایک کر دیا ۔ سب سے پہلے ایک ادارہ قائم فرمایا جس سے علماء و فضلاء پیدا ہوئے، جگہ جگہ جلسے منعقد ہوئے قدم قدم پر وعظم و تبلیغ کی بز میں سجائیں، مواعظ حسنیہ کے ذریعہ عوام کے تاریک سن یوں کو نور سنیت سے روشن و منور فرمایا۔ جلوس عید میلاد النبی ﷺ کو جاری فرمایا۔ ایصال ثواب کی مردہ سنت کو زندہ فرمایا۔ مکانوں مسجدوں میں گیارہویں شریف بارہویں شریف وغیرہ کو رواج دیا۔
❤1