🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ نجیب الدین متوکل دہلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ

آپ حضرت شیخ فرید الحق والدین قدس سرہ کے حقیقی بھائی اور خلیفہ اعظم تھے ۔ ظاہر و باطن میں بلند رتبہ رکھتے تھے۔ نہایت متوکل انسان تھے ۔ ستر سال تک دہلی میں رہے مگر اس عرصہ میں کبھی کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے، اگرچہ آپ کے پاس نقد اور جنس سے کوئی چیز بھی نہیں تھی، مگر آپ کو یاد خدا میں اتنی مشغولیت رہتی کہ بسا اوقات یہ معلوم نہ ہوتا کہ آج کون سی تاریخ یا کون سا دن ہے، آپ کے نزدیک اپنے بیگانے غریب و امیر ایک ہی جیسے تھے، ایک دن لوگوں نے آپ سے پوچھا، مخدوم! کیا فرید شکر گنج پاک پتنی آپ کے بھائی ہیں، فرمانے لگے ہاں ظاہری تو میرے ہی بھائی ہیں مگر باطنی طور پر کسی اور کے بھائی ہیں، پھر پوچھا کہ نجیب الدین متوکل آپ ہی ہیں فرمایا نجیب الدین تو میں ہی ہوں مگر متوکل کوئی اور ہے میں متوکل نہیں ہوں ۔

اخبار الاولیاء اور اخبار الاخیار کے مصنفین نے لکھا ہے کہ اک سال عید کے دن بہت سے درویش مل کر حضرت نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ کے گھر آئے اور اصرار کیا کہ آج ہم کھانا آپ کے ساتھ کھائیں گے، آپ اندر گئے اہلیہ سے کھانا مانگا، اس نے بتایا کہ دو دنوں سے اس گھر میں کھانے کی خوشبو تک نہیں آئی، آپ نے فرمایا اگر تمہارے پاس چادر ہو تو مجھے دیں تاکہ اسے گروی رکھ کر دوستوں کو عید کے دن کھانا کھلاؤں، اس نیک بخت نے چادر لاکر دی وہ جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی ۔ وہ اس قابل نہ تھی کہ اسے کوئی گروی رکھتا، ناچار ہوکر پانی کا ایک کوزہ بھرا، اور دوستوں کے پاس لے جاکر کہنے لگے، یہی ماحضر ہے، درویش بھی بڑے اہل دل تھے، پانی کا کوزہ لیا اور کھانے کی طرح کھایا اور پیا، اورشکریہ ادا کرکے رخصت لی، چلے گئے، تو حضرت نجیب الدین بڑے شکستہ خاطر ہوئے کوٹھے پر جاکر اللہ کی یاد میں مشغول ہوگئے۔ اس کے دل میں خیال آیا آج تو عیدکا دن ہے، میرے بیوی بچوں نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا اور درویش بھی آخر محروم چلے گئے، ابھی یہ بات سوچ ہی رہے تھے کہ ایک شخص چھت سے اترا اور کہنے لگا نجیب الدین فرشتوں نے تمہارے توکل کا ڈنگا عرش کی بلندیوں میں بجایا ہے اور تم کھانے کے لیے دل میں سوچ رہے ہو، میں بھی کھانا کھانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، جاؤ، کہیں سے کھانا لاکر کھلاؤ، حضرت شیخ نجیب الدین نے معلوم کرلیا کہ یہ حضرت خضر ہیں، عرض کی، آج تو میرے گھر کھانا نہیں ہے اللہ جانتا ہے میں اپنی ذات کے لیے سوچ رہا تھا، حضرت خضر نے کہا جاؤ! اور گھر میں تلاش کرو شاید طعام مل جائے، آپ اٹھے نیچے آئے تو صحن ہر قسم کھانوں کے دستر خوان بچھے ہوئے تھے، یہ غیب کی نعمت خیال کرتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے لے گئے اور کچھ کھانا اٹھاکر چھت پر آئے دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام غائب ہیں۔

حضرت نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ کے گھر کے پاس ہی ایک تیمور نامی ترک رہتا تھا اس نے مسجد بنائی اور مسجد کے متصل اپنا مکان تعمیر کیا، تیمور اس مسجد کے متولی بھی تھے اور امام بھی، کچھ عرصہ گزرا تو تیمور نے اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہی اور اس پر ایک لاکھ تنکہ خرچ کا اندازہ لگایا، حضرت متوکل رحمۃ اللہ علیہ نے اسے سخت نصیحت کی کہ اگر اتنا روپیہ غربا و مساکین پر خرچ کردو گے تو بہتر ہوگا ایک شادی پر اتنا اسراف اچھی بات نہیں تیمور آپ کی اس بات سے رنجیدہ ہوگیا اور آپ سے بات کرنا بند کردی اور وظیفہ بھی روک دیا۔ حضرت متوکل نے دہلی کو خیر باد کہا اور پاک پتن آگئے اور تمام صورت حال حضرت خواجہ فرید شکر گنج کی خدمت میں بیان کی آپ نے فرمایا:( ماننسخ من آیۃاو ننسہا نات بخیر منہا اومشلیہا )ہم جو آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلادیتے ہیں اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس کی مثل بہم پہنچاتے ہیں فکر نہ کریں اللہ بہتر کرنے والا ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت متوکل قدس سرہ دوبارہ دہلی گئے تو اللہ نے ایک اور ترک کو آپ کی امداد و خدمت پر مامور کردیا اور وہ ساری عمر آپ کی خدمات سر انجام دیتا رہا۔

بدایوں میں ایک صاحب دل بزرگ رہا کرتے تھے۔ جن کا اسم گرامی وجیہ الدین تھا۔ حضرت توکل اس کی زیارت کے لیے دہلی سے بدایوں گئے اسے دیکھا کہ وہ ایک بوریے پر بیٹھا ہے حضرت متوکل نے ادباً اپنے جوتے اتارے اور اس کے پاس جا بیٹھے، اس شخص نے نہ تو آپ کی طرف توجہ کی اور نہ احترام بلکہ منہ بناکر بیٹھا رہا، بوریے پر ایک کتاب پڑی ہوئی تھی، حضرت متوکل نے ہاتھ بڑھا کر کتاب اٹھالی اور ایک صفحہ کھول کر پڑھا تو پہلی سطر میں لکھا ہوا تھا کہ آخری زمانہ میں متکبر درویش پیدا ہوں گے، اگر کوئی نیک شخص ان کے پاس جائے گا اور جوتے اتار کر بوریے پر بھی بیٹھ جائے گا تو وہ آتش تکبر میں جلتے رہیں گے احترام کی بجائے انہیں آزار پہنچان ےکی کوشش کریں گے۔
1
حضرت متوکل رحمۃ اللہ علیہ نے اس درویش کو کتاب دے کر کہا، اس کی پہلی سطر پڑھیں، اس کا مضمون تمہاری حالت بیان کر رہا ہے، درویش نے وہ سطر پڑھی تو بڑا شرمندہ ہوا، شیخ متوکل وہاں سے اٹھےا ور اپنی راہ لی۔

غیاث پور میں ایک صاحب کرامت عورت تھی، وہ اپنی پاک دامنی اور ریاضت کی وجہ سے رابعہ عصر تھی، اس کا نام فاطمہ سام تھا، حضرت خواجہ فرید شکر گنج اس کی تعریف کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے یہ عورت دو ولیوں کے مراتب کی مالکہ ہے اس عورت نے حضرت متوکل قدس سرہ کو اپنا منہ بولا بھائی بنایا ہوا تھا، حضرت متوکل کے گھر تین دن رات فاقہ ہوتا تو اس عورت کو کشفی طور پر معلوم ہوجاتا تھا وہ دو تین سیر کلیجی لے کر پکاتی اور حضرت متوکل کے گھر بھیج دیتی تھی۔ شیخ بھی اس کی اس نذر کو خندہ پیشانی سے قبول فرمالیا کرتے تھے۔

صاحب شجرۂ چشتی ہنے آپ کی وفات ۶۷۱ھ لکھی ہے۔

چوں نجیب الدین متوکل ولی
رفت در جنت ازیں دار ملال
راستی و نیز محمود عاقبت
ہست سال وصل آں اہل کمال

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-najeebudddin-mutawakkal
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
علامہ اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
کنیت: ابو عبد اللہ ۔ اسم گرامی: محمد ـ لقب: اکمل الدین ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو عبدا للہ محمد بن محمد بن محمود بابرتی علیہم الرحمہ ۔ ’’بابرتی‘‘ ایک قصبہ کا نام ہے جو بغداد کے نواح میں واقع ہے، اور یہی اقویٰ ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کی نسبت ’’بابرت‘‘ کی طرف ہے جو ترکی کا حصہ ہے ۔ (مقدمہ عنایہ شرح ہدایہ)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 710ھ، 1314ء کو بغداد معلیٰ عراق میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، پھر حلب شام کی طرف تشریف لے گئے، وہاں کے علماء سے استفادہ کیا ۔ پھر قاہرہ مصر میں علومِ دینیہ کی تکمیل کی ۔ آپ کے شیوخ میں قوام الدین کاکی، ابوحیان اندلسی، شمس الدین الاصفہانی، علامہ ابن الھادی، علامہ دلاصی وغیرہ ۔

سیرت و خصائص:
امام محقق، علامۂ مدقق، حافظ، ضابط، فقیہ، محدث، لغوی، صرفی، عارف، عالم ِمعانی و بیان، جامع علوم و فنون، عدیم النظیر، فقید المثال، قوی النفس، عظیم الہیبت، قوی العلم والعمل حضرت علامہ محمد بن محمد بن محمود بابرتی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ کا علماءِ ماتریدیہ حنفیہ میں ایک اہم مقام ہے ۔

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اکمل الدین محمد بن محمد بن محمود بابرتی (علیہم الرحمہ)، علامۃ المتأخرین، خاتمۃ الحققین، علم و فضل تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ علامۂ زماں، فاضلِ یگانہ، وافر العلم والعقل تھے ۔ سلاطین وامراء پر آپ کی ہیبت تھی ۔

علامہ ابن حماد حنبلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: آپ فقہ، عربی، لغت، تمام اصول و فنون، کے ماہر تھے ۔

علامہ عبد الحی لکھنوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ان کی مثل ان کے زمانے میں کسی نے نہیں دیکھا ۔ آپ حدیث اور تمام علوم میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔ نحو، صرف، لغت، بیان، معانی، تفسیر، اصول وفروع میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔

ابن یاس علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
فقہاءِ حنفیہ میں عظیم حیثیت کے مالک تھے ۔ علامۂ زماں، فرید العصر، اور زمانے کی عظیم شخصیات میں سے تھے ۔

( ماخوذ، حسن المحاضرہ فی تاریخ المصر والقاہرہ)

آپ کو علم و عمل، اور تقویٰ کی بناءپر خانقاہِ شیخونیہ کی مشیخت دی گئی اور کئی مرتبہ عہدۂ قضاء کی پیش کش کی گئی، مگر آپ نے عہدۂ قضاء قبول نہ فرمایا۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے ۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور حکمرانوں کے سامنے احقاق حق ابطالِ باطل کاخوب فریضہ انجام دیتے تھے ۔ ساری زندگی دینِ متین کی خدمت فرمائی ۔ امتِ مسلمہ کو نافع کتب کی صورت میں کتب کا ذخیرہ عطاء کیا ۔ کتب میں شرح مشارق الانوار فی علم الحدیث، عنایہ شرح ہدایہ، شرح مختصر ابن حاجب، شرح منار، شرح فرائض سراجیہ، شرح تلخیص جامع خلاطی، شرح تجرید طوسی، شرح الفیہ ابن معطی، حواشی تفسیر کشاف، شرح کتاب الوصیہ امام ابو حنیفہ، الارشاد شرح فقہ الاکبر، شرح تلخیص المفتاح،کتاب التقریر، شرح اصول بزدوی، العقیدہ، کتاب الانوار (اصول میں) اور تفسیر قرآن مجید وغیرہ کثیر کتب تصنیف فرمائیں ۔ سید المحققین ابو الحسن میر سید شریف علی جرجانی ، شمس الدین محمد بن حمزہ ، اور بدر الدین محمود وغیرہ نے ان سے اخذ علوم کیا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 19 رمضان المبارک 786ھ مطابق 05 نومبر 1384ء کو ہوا ۔ شیخونیہ مصر میں مدفون ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ حسن المحاضرہ فی تاریخ المصر والقاہرہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-bin-muhammad-akmaluddin-babarti
1