آپ نے کتنے ہندو مسلمان کیے اس کا اندازہ آپ کے قریبی رشتے دار حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن پھپھوندی علیہ الرحمہ کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ فرماتے تھے: کہ مولانا کے پاس دوبڑے بورے ان ہندوؤں کی چوٹیوں کے تھے جو آپ کے دست پر حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔ مولانا فرمایا کرتے تھے کہ یہ ہماری نجات کا ذریعہ ہیں، ان کو میری قبر کے تختے کے اوپر رکھ دینا، چنانچہ ان کی وصیت پوری کر دی گئی ۔ (ایضا ً:388) ـ
حضرت مولانا قطب الدین علیہ الرحمہ کے وطن میں مودودی سادات کا خاصہ وہابی ہوگیا تھا ۔ آئے دن مولانا کا ان سے مباحثہ جاری رہتا تھا، کبھی ڈنڈوں سے بھی ان کی خبر لیتے تھے۔ کبھی کبھی یہ بھی فرماتے: کہ ’’میں مر بھی جاؤںگا پھر بھی وہابیوں کو پیٹنا نہیں چھوڑوںگا، حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن فرماتے تھے کہ ان کی قبر کے پاس سے جو وہابی گزرا، اسے ٹھوکر ضرور لگی، اس کی وجہ سے وہابیوں نےاس طرف سے آمد و رفت ہی ترک کر دی تھی‘‘ ۔ (ایضاً:388) ـ
سید مصباح الحسن فرماتے تھے کہ موصوف نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ مولانا مصباح الحسن پڑھائیںگے ـ
چنانچہ میں بغیر کسی ارادے و اطلاع کے اچانک سہسوان پہنچا، وہاں یہ معاملہ دیکھا کہ حضرت کا وصال ہو گیا نماز پڑھائی، تدفین میں شریک رہا۔
مولانا شاہ مصباح الحسن علیہ الرحمہ آپ کے خالہ زاد بھائی تھے، اور رئیس المحققین آفتاب ہند حضرت علامہ مولانا امام سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ آپ کےحقیقی بھتیجے تھے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا غلام زین العابدین حضرت صدر الشریعہ کے شاگرد اور جید عالم دین تھے ۔ (ایضا :388) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 رمضان المبارک 1350ھ، مطابق اخیر جنوری 1932ء کو اپنے آبائی وطن سہسوان، ضلع بدایوں میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ و علمائے اہل سنت۔ حیات مخدوم الاولیاء محبوب ربانی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ghulam-qutubuddin-ashrafi
حضرت مولانا قطب الدین علیہ الرحمہ کے وطن میں مودودی سادات کا خاصہ وہابی ہوگیا تھا ۔ آئے دن مولانا کا ان سے مباحثہ جاری رہتا تھا، کبھی ڈنڈوں سے بھی ان کی خبر لیتے تھے۔ کبھی کبھی یہ بھی فرماتے: کہ ’’میں مر بھی جاؤںگا پھر بھی وہابیوں کو پیٹنا نہیں چھوڑوںگا، حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن فرماتے تھے کہ ان کی قبر کے پاس سے جو وہابی گزرا، اسے ٹھوکر ضرور لگی، اس کی وجہ سے وہابیوں نےاس طرف سے آمد و رفت ہی ترک کر دی تھی‘‘ ۔ (ایضاً:388) ـ
سید مصباح الحسن فرماتے تھے کہ موصوف نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ مولانا مصباح الحسن پڑھائیںگے ـ
چنانچہ میں بغیر کسی ارادے و اطلاع کے اچانک سہسوان پہنچا، وہاں یہ معاملہ دیکھا کہ حضرت کا وصال ہو گیا نماز پڑھائی، تدفین میں شریک رہا۔
مولانا شاہ مصباح الحسن علیہ الرحمہ آپ کے خالہ زاد بھائی تھے، اور رئیس المحققین آفتاب ہند حضرت علامہ مولانا امام سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ آپ کےحقیقی بھتیجے تھے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا غلام زین العابدین حضرت صدر الشریعہ کے شاگرد اور جید عالم دین تھے ۔ (ایضا :388) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 رمضان المبارک 1350ھ، مطابق اخیر جنوری 1932ء کو اپنے آبائی وطن سہسوان، ضلع بدایوں میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ و علمائے اہل سنت۔ حیات مخدوم الاولیاء محبوب ربانی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ghulam-qutubuddin-ashrafi
scholars.pk
Hazrat Molana Ghulam Qutubuddin Ashrafi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-09-1444 ᴴ | 09-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-09-1444 ᴴ | 10-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2